Skip to main content

Full text of "Boltay Haqaiq By Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi"

See other formats


ہا ہطہ 


رو کت 
5 
ون یھن 
2 و 


2 نٹ لابا نے ' فاماوں 


مار ۴ص 


0 مکوڈ یلاو پلضال< 7 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


بل یتقو ق بین ناش توب ہس 


الاپ : بتتن 


سف. .ں۔ مَمففلال ان ایض 
اخُاعت چر نار ری ۰۰۹ 


اکر مفلبلی 


کل ای 
٠ 18‏ لا اکپ ارکیٹ ریا یکنا بی 


رو تب بس ت زا ازائئض انا ےناج دو ڈ کرای 
1 :0321-2445595 ,0321-2115502 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۵۷۳۳۱۱٢٣ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


7 سم سد وُنسُتعیْنة رَنَرڈ باللہ من 
2۰۲ھ ا : سس 8 ےر“ لج سے ھ گا ُ2 
شرور انفہس4نا من یھدہ الله فلا مضل لهء ومَن یضلله 
فلا هَادِیَ لَەُء وَْشْهَد اَنْ لا إِلَٰه الا الٴَحْدَۂ لا شرِییْک 


لَهء وَنَشْهَد ا میدن مُحمَدَا عَيْذۂ وَرَسُوْلَهَ اَرْسَلَ ال 

تَعَالٰی إِلی کاقة الناس بَخِيیْرَا وَنَلِيْرَاء وَدَاعی لی اللہ 

نہ وَِرَاجُا مُیِیْرًاء صَلّى اللٴتَعَالی عَلَيْه وَعَلَی الہ 

وَاصْحَابه ول یت كَفِیْرٌاء اما بدا 

کھت ین خلا لی بندروشجہ اوسف عفا ال رعنہدعافاوہ برادران اسلا مکی خدمت شی 
عئ دسا ےک اس نا کا رہ نے ۱۳۹۹ھ میس ایک سوال کے جواب میں رسال ”ا خلاف 
امت اورص رای یندا تم نس میں ای تسا فو ٹ ‏ شی کن ا خاش “تھی تھا۔ااس 
ہیں شیع رہب کا و نما دی ع نما سیکا زکرتھاجوز بان زدعام دنا ہل ء اور :وشیمہ 
رہب کےممسکمرات اور ا صصول موضو کی حیقیت رھت ژن۔ مزال شائح ہوا تو جناب 
مو نا عیب الد ڈائصل رشیدیی مرحم نے یتصہماہنا ”ا یکس انال یی شا تک زوا 
اس برتعثرات شبعہ نے سا وا ا لکی عدالت مل اسیا ڈدا زکردیا _ ال رشیدی موم 
نے مد ےکاخ اور یٹ یکی جا راس نا ککار ہکویجنواکی ء رام ال روف نے شیب کنب کے 
ضا نے یھ کر ک ےم رتا رت بعر 3 یس جیی ںکمرو یج عداللت ے جال جا تکو لا حظظہ 
نے کے بعد ذوگی تاری خکرو ا اوزمعاب ل رطت ور شت ہوا_ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


عو سس عم ر ےن جنا بترم میسن الا ای صاحب نے 
ا ینظھرنوٹ پر ایک طول عناحیت نامرا ا لوف کےا تر ایا انان یں چٹ ےکی 
رم پر بببت سے منافشات فمرماے اع ہنا فا کا عنم رسما زاب دا حاصلتا کن 
شیال ہواک ہم صوف کے یی ںکردہ ثکات پر بقر رضرورت یل ای۴ ےئن لئے 
فيداف: زف اف کیک ورس ضز کا یا اعتکاف کے لد المرب 
ہوا۔ا سے امیا بکی خمدمت میس بطور ارمفان می کر تے ہو دست بدعا ہو یک و 
توالی اپنے عبییبپ مت ریا رسول اوذد ی٥ی‏ اون علیہ ریلم اورآ پک یآک ہار اور اسحاب 
اخیار(رئشی اش رنٹھم )کے مد اس بضاعحت مرجا تکوشر فقول سے سشر ففر ما خی ء 
اوراہلی وائش پیم سے الت یرتا ہو ںکہ ا سکوجظ مر انصاف ملا حظف اکر جچہاں ا سکوتا لم 
کےکلم ےل غزنشس ہوٹی ہوا لک اصلاح سے درںن و ایی 
ِ أُرِيْڈ الا الإضْلاع مَا اسْمَطَعْبُ وَمَا تَوفیْقی ال باللہ 
َلَيْهِ تَوَكُلت وَاليه اََیْبُ 
متصو روغ کر نے سے بے چندامورکالطورظر جب نک سک ارکرنا م اسب ہوگا۔ 
ا:.. شی کی ا خلا فکا دائر ہہت وع ے اوردوفول طرف سے ال پر ڈاے 
بڑے دفاتر ھجب و دقن ئے جاے ہیں جن را م١‏ وف ےا شاف امت اور 
عرا یا مٹیم کےٹحولہ پالا وٹ میں بنیادی طور ب رین مسمائل ےت کیا تھا نیقی ہ 
اماممت :مصھا گرا ء اورق رآ ن کرت _ ز نم عانے می سبھ یبھویشن بی تین موضسوع ر ےہ 
اوائلائؤس حف کر تاب زکتا دی ساس زان ےھ یتر جاک رس 
ہوا ءاسں لے اس رسما کو جا رآہواب تیج کنا ڑا: 


ابا ل  ...:‏ ماحث ا امت 
اب دوم :... ماحفہ تضفلقے حا ہکرام 
ای جو مباحثف تنعل ہق رآز نکر 


پاب ارم :... ممروات 


 .‏ ا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


۴...أ وی رعش لک یا کیااک ہف لین کے اخلا فکا دارٌہ بای ے٤‏ اور دولوں 
کے تنا ز غ فیمسائل عدشمار سے باہ ہیں ہکان ان میں بیادئی امو رصر ف تین میں ہین بی 
”ا ختلاف مت اورع را یامصت شی می ںخقرسا نو ٹککھا گیا تھا ۔ گر اس دائر٤ٗ‏ اختا فکو 
مر یل رکمبیٹا جا ۓ مو بذیادکی تصرف ایک رہ جاتا سے اوروہ بے رآ یا صحا کرام من جیث 
لماعت لال اعناد ہیں پانیس؟اگراس سک کا تصغہہوجاے و ا ضا نات کے شی یرود 
نعل ان داحد ‏ سسٹ کت ہیں ء اور دونوں فرب ضط ومتجید ہو سکت ہیں مناسب ہہوگا 
کمراس سک کی ودضاحت کے لئ اپٹی ‏ آپ ہق کیک واقع ور جکرژوں: 

الب ۱۹۲۹ءکا لص ےء ینا کارہ در تام العلوم فقی دای شع ہاو ل گر ٹیش 
را اشن کے در ہج ےکا طال یع امن وسمال می یکوگی ۱۹-۱۸ کے درمیان دب ہہوگا۔ 
اتک پیر ہواءجٹس ے اظا کلم می خل لآ مگیاء وال مرح مکواٹ ٹیش ہوک ءال تھا لی ان 
کی پال پال مغفرتفرما یں اورا نکوکر و ٹکر وٹ جنت عیب فرماحیں: 

روں پدرم شادکہ ب گت پاستاذ 
مخ بماموز - 3 

انہوں نے نر مایاکہ: میا ں تن شاو صا حب اش یب ہیں :اع سے مو رمک رلیا 
جائے ۔ بی ہماردے ملا تے کے ایک اش اش ری ہز رگ تے ہار ےگا وں سے نکیل کے 
فاعلے پر ہمارےعزیزو لکا ای گا وں تھا ءمیاں صاحب نے ا لگا کو ںکوم رک زع بنا رکھا 
تھا۔ نک سی بادشاہ تے؛ اس لے بلانف رب ملک ومشرب بھی لوگ ا نکا ار اممکرتے 
تھے اورموخصوف اپٹی دجہت سے فامدہ أُٹھاتے ہو ئے د بیہالی عوام یس (جو رہب کے 
اصول وفروع ےگھو] واق فکیں ہوتے ) ابنے مل کک خو بن واشماععت ٢ر‏ مات -_ 
تن تعالی شائہ نے ز پان د بیان اور افمام دش مکا اتا ملک رعطا فرمایا تھاءققدب صحابےا نکا 
سب سے لب اور و لکل موضورغ رہ اکر تھاءاورددصسھا ک٢‏ ےعیوب ونالئش با نکر کے 
عوام کےکلو بک ز مین ؛شیعہ نہب کے لے تیر مرنے میں بیطولی رککتے تھے ۔ 

میال صاحب وال موم ے وائف تھے نان اس اکا ہکوشاہ صاح بک 


۱۷۷۷۷۷۷ 0ا‎ 6100۲١۱۵۷۳۱۰۵۰ ۹.۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


جم ولتتا کا شرف اص نہیں تقاء اس گے ول مرحم نے میرے بی تھی زار ال 
جا ے مور ا شیع بین عرتو مکومیرے سا تج ھکردیاء اور ف ہہوئۓ لد راگ مبداعت 
فرٗاگ یی ”'ماں ضا ہب مڑے جناںد یدہہزارک ہیں اور ابی کے ہوء و یھو ا ان ے 
برڈی یگنتنک و کر ہا“ 'وال دم رحو مکوا مد یی تھا ل١‏ لرمیاں صاحب نے ای کو ٗی انگ 
یش بنرکردیاتةعمزیزوں میں ہما یکپ ہوگی۔ 

الفریش یم دونوںء میاں صاحب ٭ ین ا سی رکف لآ رات شی ء اورمیاں 
اجب ان ککیعندرشجین خر غلیں ایک کے بپع داز گکایا:او حا شن رک یفا :اع رشن 
کیا میاں صاحب نے حا طرکی پر انظہھا سرت فر مایا کان ہمارےمممردتے برق جرف مانے 
کے بجائے ندب بجھت پچھیٹ نی ء اور ڑے سومان انداز ٹیش فرما ماک اخا یں ہوا 
جیا وہ نتقیتی ری + وی۶ نی 17 دٹ یمیس ء ام تکو الا غات نے فار تک۷ردیا سے تاہ 
کرد یاےءائن ا شا فا تکاعل لن جا ئۓ دو دم یکک ای لی تکی 0 
ہار ایی فشرہ وہ رات ر ےک پھ فی یہ وبی ہیں ھی دٹی یں ہ ان فا کو تم 
وناج گے وی رہ وظیرہ۔ یہنا کارودالمۂم رتو مک نہ رئش کے مطااق مہ راب دبا جب خاصی 
دز ہوگئی و یں ن محسو ںک یا کہ شاء صا ح کی لمحت و ا خلا کا عملہ شب ہاور 
اف یحو بکی طط رب دراز ہواجا تا ےءاس لے مناسب ہوگاک وضو ج کن کو بد لا جا - 
چنا ٹین کیاکہ:”غمیاں صاحب ! آ پک اختلا فک با تکرر ہے ہیں؟ می رےخیال 
ہم یں اورآپ می کوئی ا ختلاف ہیں 'میاں صاحب نے ف ماک :”کی ں بھی ا 
اختلاف اب بنا ککارہاصرارکرد ہا ےکہہمارے درمیاا نکوٹی ا ختلا فک کیل اورمیاں 
صاحب ہار جار ڈہرارے ہی ںکہ اختلاف نو ے۔ ا سگگرار و اععرا رک نکرقمام حاض بین 
نے گ ےک اس ہ ےکو بھی معلوم یی ںکہان دونوں فر یقوں کے ورمیان اختلاف ے۔ 
چند مھ بہگرارو اصھرار جادگیار باءو شش ن ےکہا:”'ہاں اذ راس ا لاف دونوں کے ورمیان 
ضرور ے: !یس ذراسا ا حتاف میاں صاحب نے چم ککرفرمایا:” و کیا؟““ 

ںیا نکیا 32 ث_ رک آفحضرت ھررسول الیڈشکی الٹرعلے وآ مم الله 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


تواٹی کے خ ری ئیہیں؟“ ''زایا: ای کے خرتی شی س۴ را نے کی٢‏ 

رین کی ای میا 3 8ء پ می لعل لم کے لا ئۓ ہہوئۓ وی یکو 
آپم٥کی‏ ال علیہ مکی لائی ہوک یکنا بکواو رپ کی اشرعلیہ ول مکی لا کی ہوکی دای تکو 
قام تک ک ام ددائم ر ہنا ے؟“' فر مایا :”ےترک !“ 

خر اکیاکہ: ہمارےاورآپ کے درمیا ن اخلاف کی بی ےآ ض ضیح 
انرعلیہ د لہ لم نے۳۳ سا لکی عحنت وجافنشاٹی سے جو جماععت تیارکی ہآ پ مکی اللدعلیہ 
سکم اپنے وین ءاپن کاب اور اتی لا لی ہوکی ہدرای تکوںس جماععت کے سپ ردکر کے نیا سے 
تشریف نے ءاورآ پ سی اید علیہ مکی تیارکی ہوکی بیس ججماع ت کو پ سکیل علیہ 
لم کے درمیان اود بعد ی۲ سآ نے والی یلم تک کک امت کے درمیان امن واسطہ بنایا 
گیا ۹م کے ہیں کہیہجماعحت ال اعمادےء اورپ فرماتے نی سک تخرت مھ رسول اللہ 
صلی ال علیہ س مکی تیارکی ہوکی ہہ اعت لال اخخما یں اب اگر یہ باعحت لال اعتاد 
ہے یھی اک ہمارا مولف ےو انع رات نے جو ےنگ یکیا و ہے اوران پہ امختزاش 
اورنت: تی فضول ہے۔ می !ای سے خلا ف تکا بھگٹڑابھی تی ہوگیاء اور با فو ککا قضیہ 
اوروم تام ات ثی ما لپھیپئل ہو گگئ۔ ۱ 

اوراگر ہہ جماععت لال اعم وی گی جیا )0ھ ہیں :ٹوا کے جج 
کےطور بی میں مکی کر نا جا ہے 2 

الف:.. آحض رت لی ال علیہ ےل مکی٣٣‏ سا حنت . تو بانکہ..برائیگا ںگئی۔ 

ب... آحضرت صلی الشرحعلیہ ول مکی لعشت.. تو بابلہ... ب تو لبھہریی۔ 

ج..آفحضر سی او علیہ لم کے یں بندکرتۓ بی. وذ بائنہ... گن اسلام 
کاخ تس ہوگیاء وین الا مآ پ مکی ارشرعلیہ وسلم کےسا تھی نہ وکیا دہ پصکی او علیہ 
عم کے بحدایک دو نکیا ایک گی یآ کے میس چلا- 

رتا آتحضررتملی اللہ علیہ ول مکی تیارکی ہوئی جماعت لان اع وی ںی نو 
اس نا تقابل اعد جاعت کے ذر ایس جوق رآن چیا و بھی ال اناد یر با ہآحضرت 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١٢۱۷۳۱٥۵٢۹ ۸۷۱۸۲۹6۴ ۰۷ 


می شی سیا س یں جو جس بت سا - 
بر ؟ئخحضرت ٥ل‏ ال علی مل مکامتاب :پل ا علی مک وت اود می 
علیہ لم کے لا ہد ے دب نکیا ایک ایک ب “می ای جماعحعت یور سے“ 

تر مو ل یھی ال لئ سان ال سے مث ہوئۓ ؛ اورمیاں صاحب نے 
۲ ه۷ 3 كك۷۳۷۷ض۷ضي۸يھ+‪۷7) ۔اس کے بعد مز یدکنھنککھی ہوئی وج کی دس پگ ءاور 
نے بالا خر شاو صاح ب قب کو ضوع اذ بر لے بپآیاد۔ کردا ہنگ را س کا یما لتق لکرا 
غی تلق ہوگاءاس لئ ا ےلم زوک رتا ہوں_ 

خ اھ ںات کی بڑگی تچ نکی یا دخہا یت سع و ہہوکی ےمک نآ خاروضاغ 
پڑےرودرترل ہواکر تے ہیں : منلا برگد کے درخ تکوو یھ کیا تنآ وراورکجنا بڈاے اور 
ا سکی شائی سکہا ںکہا ں مک بپڑیی ہوئی نظ ”نی ہیں ہمکراس کے کو د یھو دہ رائی کے 
دانے سے بھی شرمند ولظھ رآ ےگا۔ می مثال ا ختطا فکی ے٤‏ ا کا تل ہآغاز نہاعت 
مصممول بللہ نی رمرکی ہواکرتا سے مان رفتد رف اختا فک یف دن سے دو تر ہوئی رنتقی 
ے۔ می قصے ”شیع کی اخلاف کو ںیآیا۔ ہونے والوں نے مت کےقلوب میں 
لد ماک ول ظالیںاررفر رفا یکا گر لس وو وھ پوسیاس 
نے ایک ایےے جنگ لکیشکل ایا رک ہبی بین کےکا نے کے گے شا یرم فوع بن یکاٹی نہ 
پ۶ ی۔جی خواپا ن مت اس :ایند ید ہا شتلاف اوراس نا خوش شگوارفرقہ واربیت سے پر یٹان 
ونالاں اورتھگرنظ رآ تے ہیں اس کےخلاف ہرطرف سے صدائےۓ' الا تھاد! ال تھادا “بر 
ہونی ہہولی سنائی د بی سے متا نک یک ی بھی س می سآ کہا ا ختا فکاکیاعل اکا جا ے ؟ 
اوراس در د بے در دا یکا کیاعلا ‏ کیا جا ئۓے ؟ رذ ر٤‏ بے مقدارممیخوابا نت اوردردمترالن 
و کی فمدععت شی نع رص رع ےک اس خظرہ ایل کاعل بی ےکہ اس ناش یگوار 
شا فکی جڑو ںکو ُمت کے فلوب سے اُکھاڑ بھا جا ء اور ال ججماعح تکوہ جو 
آحضرت صلی ارڈ علیہ مل مکی ٣۳‏ سا محنت اور فیضالن ت بیت سے تیار ہو گی لال اعت یاور 
کیا جاۓ ‏ ہکوہ اللہ تعالیٰ نے ای کلام مقدریل بی ای جماععت کے بارے می ہار بار 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲6۴ ۷ 


اعلان کر بایاے: زُضی سی الوم زَرَسراغ ئک“ راصی ہہوااندان ےءاورووراشی 


0وس 

بنتن نا ی شا نے یضرف سے ”دوطرفرضامندی“' کااعلان ےے۔ ای اعلال عکا 
اث ےکعا مور سے ای ایمان جب کی سال یکا نام لے ہی تو ےسا شی نشی الع ںہ 
کے الفاظہ ا نکی نز بان پر ارگ بوجاتے ہیں :تن تھا لی شاث کے اس اعلااع رشا مندگی کے 
پو کی فشک جوا تھالی راودا کے رسول سی الشعلی یم بر یمان را ہو ھا .کرام 
0پ ا وا 0 اور جوشس اس کے بحدی نارائ وہ و وگویاا لان خداوخ رگ 
یمان ئیں رگتا۔ 

الاسلام عا و امن ہچ رکس تا فی رح رالل نے ”الاصابۃ“ کے یباچ مل 
امام اپوزرعددازکی رح ال کاقو لف لکیاے: 

”اذا رایت ال رجل ینتقص أَحذدًا من أاصحاب 

رسول اللہ صلى اللہ علیے وسلم فاعلم أنه زندیقء 

وڈلک أن الرسول حق والقرآن حقء وما جاء بە حقء 

وانما ای الینا لک کلە الصحابةء وھؤلاء یریدون ان 

یجرحوا شھودناء لیبطلوا الکتاب والسٌنةء والجرح بھم 

اأولیء وھم زنادقة.“ (الاصابۃ :ا ۴ص:٭٠)‏ 

ترج:.. بن م سی سکودیکھ وک دورسول اد کی الد 

علیہ 2لم کے اصحاب میں ےکس یکی فی سکرجا سے ل کچل کہ وہ 

ند لی ے۔ وجہ ا ںکی یہ ےک رسول اللص٥لی‏ اش علیہ وسلم رسول 

بر ہیں ف ران برک ہے اورج ینآ نحضرت “سی انٹرعلی لم 

لاۓء دہ بر ہے اود یر سمادگی یبس پ مک صا نے پچیائی 

یں ء لبذدا حا ہھارے لی رسا لت مھ مہ( ٦‏ صاجہا الف الف 

صلوۃ وسلام) ےوہ ں: اور لوک ہار ۓےگواہو کو روح 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢١٠۴۹۰۷۷۵۱۸۲۹م6‎ 7۷ 


وسوت روہ جیا ہیں 

بجر ہیں اود وین لق ؤں۔'' 

خلاصہ ب ےک جماراوی نت تعا ی ا ٢‏ جاب ے نازل ہوا ے اور چتر 
واسعلوں کے ذر یب مبک پیا ہے وین پر اعقماداسی صصورت می من ےک وہب مک 
ال اعختادواسطوں سے پہہیا ہوء اور حضرت صلی الل ہا کلم کے درمیالن اور دک امت 
کے درمیان سب سے پہلا وا ط یی ہرک راغ ہیں ہاگ ہلال اعت وی سذ وی نیک یکوگی چ بھی 
لال اخناونییں رہتی ءا ہنا صا بکراغ کے اعا کو رو ںکرناء درتقیقت وین کے اخ کو 
چھر و غ کنا جے۔ 

۵ .بی نتھالی ایر نے آتحضرت مکی اود علیہ وم مکو و رکی کا تیات ٹیس سے 
7ا اس لن جآ پ می اود علیہ وسلم زبدء کا نات ہیں سی البشرہ خر الہش ر اور 
اولایآیم یں ہیں ءآ پ صلی ال علیہ یل مکی کاب ” تخ را تب ے٤‏ آ آپ صلی ال علیہ لمکا 
وین' تراما دیانے؟آ پسکی اولدعلیہ ےم مکی اُمت' ۸ھ ے٤‏ اور پل 
علیہ وعلم کا زمانہ” جرالقرون'ے۔ لاڑا نپ ۳ن الد علیہ ومم سر 
” خی رالاصحاب ہیں ری اتمم ہ چنا خی مت درک عاکم می ند آحضرت لی الد 
علیہ مکاارشا نول ہے: 

اس سرہ ہق سا رس لخد اق رموونا 

الله صلی اللہ عليه وسلم قال: ان الله تبارک وتعالی 

اختارنیء واختار لی اأصحاباء فجعل لی منھم وزراء 

وأنصارًا وأصهارٌّاء فمن سبّھم فعليه لعنة اللہ والملائکة 
والناس اجمعین لا یقبل مہ یقوم القیامة صرف ولا 

عدل. ھٰذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہء وقال 

الذھبی: صحیح.“ (مت رر کل عائم :۳ ص:٣۳٦)‏ 

7 ”نر کو می بن سا عد ہ رصی ا رع نآ تحضرت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


سر سوا ارارک وتعالیٰ 

نے کے جک نلمیاء اورمیرے لے اصحا بکوج نلیا ء نیش ان می سمش 

وو ےو می؛میرے محددگا راو رمی رے سسرالی رشتت دار ناد یا ء مل 

ونس ا نلوئ ا ہنا سے اس پر اتا ی کی نت ءفرشتو ںکی لصنت 

اورسارے انا وں یائتے قیامت کے دنع نہ ا کاکوٹی فرش 

یر نا نف ہہ 

اس حدبیٹغ سے معلوم ہواکرجس ط رع آخحضرتمصلی اود علیہ یل مکو ال تی 
نے قمام اولا وآدم ٹس سے پان فک رتپ فرمایاءاسی رح لال تین اف را وکو جوا فکر 
آ تحضر ت “کی اول علیہ و مکی صحبت کے لے تخب فرمایا۔ اس استاب قداوخدکی کے نت 
یس ریتففرات ءش نکویحبت نبوگی کے لئے چناگریاء انی علإستعداداوراپنے جھ ہرک یکمالات 
کےفباظط سے انھیان ۓکرا مہم السلام کے بعدقمام و نساوں سے انل تھےءاسی بنا را نکو 
اتا ی لئے نی تا الاب .بین اک ضا کا ہنا :زان لک اور 
انسان ہو تے ابد تھی اپنے یوب صلی اوڈرعلی دس مکی رفاقت ولحبت کے لئ ا نکو 
محپ ف مات ء اس لے صھا رگ را شی نیع صرف صحبت کی کی تفر کہیںہ برای 
کے سا تھحتقی نضاکی شا یر کے اسحقا بک یبھی فو ین ونضیعص سے 0 9ئ0 
تحقیراور ا جقاب خداوندگ کی شیع کرتا ہوء اس کے پارے می شد بد سے شید یی 
شر ریا فیا رے۔ 

1 . صحبت نوک یک یعظمست ما زم یک نے اد ےڈنا تال 
شا ن ےآ تحضر صلی ایل علیہ ول مکی ذات فق ری صفا تکوڑ سار عضی ہن اک ربھییاء نشی 
تکا دہ قب عا لم تابء جع اند ارد ہدرایت پرتا قیامت درخثال ر ےگا :آبم٣‏ ی 
اش علیہ لم سے کے اور حا ل مکفروضلال تکی جا ریکیوں می وبا ہواتھاءبکا سیک فارا نکی 
چوٹیوں سے یآ اب لو ہوا تا ںک یکرنیں ا طراف عال مکویط ہنی :ہزم عال جا 
ھی ءاورسماراچمان بی نو رب گیا پم٥لی‏ الشعلیہ ول مکی ذات رسمالت ابو رکا گر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


تیج سک یکشیش ئل نے سعیرر جو ںکوارتی طرف اس رح کنا سط سے 
آ ئن پارد کش ارآ پیل لعل یلم کے اجاز مت نے ان کےقلو بک 
فوقی العادرت جلا وضیا شی اوران ڈ ڈو ںکوآ اب بنادیا۔انہوں نے چمالل چہا ںآ راۓ 
تو بوایماجذ بگی اکا ان کا سابل نیو بکا رٹم ب نگمیاء اوران کے رگ و بے سے 
تن کیو بک خو شب ہیں گھرن یس +اودددز ان حالی دمقال ے پکا را ٹے: 
2 
مرا ول چم مست ناز اتی کا تحار 
07 گنی 7 شوی نظارہ 
تا بات نظر سے بھوٹ للا سن جانانہ 


بہارنسن ک۷ یوں چز بکرلوں دیرہ و ول ٹل 
عبت میں مرا ذو نظر معیار ہہوچاۓ 
بی ہگھموں میں تم مستوساتی کا دہ عا لم سے 
نظ ربھرکر جج ےبھی دکیہ لوں سے خوار بہوچائۓ 
وآ فرب محدگی جٛ‌ سک ضیاپاشیا ںآ نج بھی مت کے عشخاقی کے دلو ںکوگ را 
اور پکاری ہیں :فو رک رشن کےگھروں میس یآ اب ےت فو رک یک نی تھب رر باہوگاء 
ا نکی فوراخیت وتا بای کاکیا ال ہہوگا...؟ سان ارڈ ! ہتشان ری ای خہہا کی خیش 
9 وسعا د تک اک یاکہنا الد ہآ نع تک روضم مق دسہ میں جو رر پراماں میں ء او رفا مت تک 
اس دوامت کہ ری سے رہ اندوزر ہیں گے: 
ا اک دامناں شکن دنن ات راز 
تس بااغاب خفتہ پیک سز ٦۔‏ 
صعٹرات ہشن رشی اوڈۂنہا؛ جن کے پہلو می سآ جم کآ تاب خیقت ( صلی ال 
علیہ لم ۲درخشاں ے اور ام ت کک شروزال ر ےگا ء ان کی وراخیت وتاا ی کاانرازہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳۱۱٢١٣۹ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


کو نک رکا ے...؟ اود بی سعادت .. جن کے مقا بے می سکونی نک یت بھی بے ہیں ...ان 
دوڈٹوں پذرگوں کے سوا فر ویش ررکے صے می سآ کی. .۰ فطربی لَهْمَا تم طُوْبٰی لَهْمَا! 

<عفراری “ین ریضی اولکرا ہآ حض رت یی ٹر علیہ لم کے روضر ےرہ ومق رہ 
شی ٹون میں ء اور بر روغ شر یف و بقع مقر 'رشلصر جنت' ے اور ضرا نان 
ای رر کصرجت می ںو استزاحت وآ سو خواب ہیں ۔اور جن تک شان بی ےک ہج 
تس مرتے کے ابعدان می ایک پادائگل پا نے ات وبان این انتا پیل 
جبآ تحضر تملی الع ہملم نے ان اکا کومدت الخ را کی معی کا شرف عطاظربایاءادر 
پرزغ مس بھی ا نکواٹنے ہو ۓ مبارک ٹیس ہہ د ےکر بقع میا رک اور روش مقم ٹل 
ا نکوشرف معیت بناءفو لقن ےک فرداۓ قیامت اور جنت النفمردوس می بھی ا نکو 
شرف می تعیب ہوگاوَلَوْ کرة الْكافْرُوْنَ...! 

زا ں کہ منظر خمان را کیا کننر 
آا یو کہ وشن چچنے با کمنند 
صلی اللَعَالٰی عَلی عَبه وَآلہ وَاصْحَابہ 
وَاتباء وَبَارَکَ وَسَلَمَ 

ے:.. شیع نات شعن اکا رک مہ ائل عبت کھت ہیںہ ہمارے نز دیک وہ 
اٹل سنت کے اکا ہیں ۔ححخرت یکر اید وج کا شمارخلنفاۓ راش در یع یجن 
جماعح ت تا بل سب ےا ال ہیں, او رات نین رشی الما ءآ آتحضرییتلی اللھ 
علیہ وعلم کے پھول اور جوا نان ال جنت کے مسردار ہیں اع کے بعد کے اکاربھی اپ 
ان دور کے اکا بر وافاصل ائلسنت ےہ اہ سنت کے نز دکیک ان تما اکا برک محبت جتزو 
ایھان ہے۔اسس ناکیارہ نے ا ختلاف امت اورع رای تئم میس ”نشی سی اختلا فک“ کی 
ثکوان الفا ات مکی تھا: 

نیس نما مکل و صا بکی عبت وس تکو جزد یمان 
تا ہوںء اور ان شی س ےکی ایک بر کک تعضی سکوہ خواہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 0610۲١٢۱۷۳۱٥٢۱٣۹ .۸۷۸۲۹۹6۴ ۷ 


اشار ےکناۓے کے رنک یں ہہوہ سلب !بیمان کی عامم ت تا 

ہوں۔ بمیراعتقیردےء اور یں ای عقیرے بر دای بارگاہ شش 

ما۶ بوناچا تاہوں۔' 

زیم رسا لے میں شیع روایات ‏ گنگ وکرتۓے ہو ے اگ رکوئی الیالف نظ رڑے 
بیس سے الن اکا بر ےن ادنی سوعواد ب بھی مغ ہو ہوہن کھ لوزا جا ےک نو 
شمبعدروایات کے مطارٹی ہے ورنہ یہنا کا رو ای س سو ہار برا مت کا ا ظا رکرتا ے۔ 

۸ . اکپ نا کارہنے ہ رت میں جنا بسن الاجتادئی صاحب کے طط کے 
متعلقہ اقتباس در خگکردچیے تھے اس کے باوجودمناسب بچھاگیاکہران کے ورے جو اکا 
یس رمیا نے کش ورڈ شن در دبا لی ات کان شا ےزین فی نکی 
تر یگنن دکی جاۓ ءا لک یت رکا ود امن تقا رین کے سان ےآ جائے۔ اس لئ پل 
آپ اجتادی صا 07 697.0 گے انس کے بعد اس تا کارہ 
گی مت ملا تظھا لی ےکم ر ےکی تن تعالی شا ھن ابنے لطف سے ا سکیا نےکو 
تل فر مال اوزا پنیا رضاوعبت اور ا وب ومقبول بنرو ںکی رناقت وم تیب 
فر اک راپنے اس ارشادکامصدراقی ہناد بیں: 

”یھ الَفْسٔ المُطُمَیْتَةُ ارْجعیٔ إلی رَبَکب 
را أ رح َاخلیٰ فی عناوی وَاذخيی تی 


سے قزر ے ے 8ت و نے تر ےىے ھے چ ڑے ہن وے را کچ 
وآخر دُغوانا ان الحمذ لھ رَبّ العالمِین والصلوۃ 


سب ہر یڈہ 2ئ کا ویو سی وہ یت کس و - ہو 
والسلام غلی سَیّدِ المر سَلین وُعَلی اِخوانہ مِن النبیینء 
وَعَلی آلە وَاَصْحَابهِ الطِیِیْنَ الطاهِریٰنَ. 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ری بنٹگ: عقیدة مامت :خیصی تک اصل بنیارے 

خقشیروإ امت زی گ ینکش لا ڈافٹر..................... 
عقی رآ مامت متام امیا تفہ لیا گیا ...............ہہہ 
مان سکقیر مات ای کے ملف لیا ...................ہ 


شی کی !ضز ا یکا مقط ہآ ا زمتل مامت ےو وسر وج 0 
شیعیت کےنما ما صول وفرو کا دا را مامت بے یس رییاوجہ 7 


شی کا اقب امام ۶۰ دے 01یژ‪ی۹پ9پ->- ب5 4ٗ: >> ؛:++: 9 
وسرکی بکے: عحقیدٗ امام تکا مو چدائڈ یراد جن سا یہد تھا 
کیا ع بدا بن سپا کاو جودف گی ے؟ رات 


ےج ٭-٭٭٭ 


این سپا ک نظ ریات اورا کی نحلصہات 027 


سان سے اف ات و ساے موا یسمسوست 
یسر حٹ: خقیر مامت ہت نت کے منائی سے 


سا حقیرہ: ام۷ نمیا مالسلا کی طر موم ہوتے ہیں ‌‌ ِ0 


۷۷۷۷۷۷ 506 10۲١٢۱۵۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


۲٢۵ 


ُوہرا عقیرو: ۶ افاے کرام میم السلا مکی طرح منص وص من اللد 
ہو ئے میں ماس رومفصصصہیہصسمسو موسوم سسوسکوت 
یس راعخقیدو: انمیا /ش مالسلا مکی رع اماموں پگھی !یمان لا نا فرش ے اور 
ا نکا ا نک رکفرے جوسسوُوہوو‫وسودپیش٭دآووجدوچھمرسہوصصصست 
جو مقر ہ أئُ کی غیبرمش روط اطاعح تگھی ‏ رسول ارڈیصلی ارڈ وا وس کی ط رح 
ری 0 , 96ۃ۔5(+-+++.:.بب.ب-ب- 
ا جوا ںعنقید: اماموں کےمجھزرے 9۶ 0 -ۃ 
چچعٹاعقیرہ: آئحمہ پروگیکانزول ایسپمسجصح سن 
بازن کشر 2ل رگ افقازات 9000990 9 


آ ٹھوا ںعقرو: وا نام کےمفسور کر نے کےاخخزی رات 00 
نوا ںمقرو: 2+ مم 
الام ے پالاڑ ے ٰٗومووادےیسچچھوسہوٗہو ورموس 
پا زا ورس گی انی سپ ڑگر 
یشہادت:گامدل الٹحرٹ گا ... 

ڈوص یی شبادت:شاہعپدالزبزمحرث دبلوی ...... - 
تی کی شازت:علاض پافر یا.......... جج بت 
ا ا 9٣٤ ۳٤‏ 0 
یھی پینٹ: نہ کےقرت انلم یکما لات 

اہ کے یاکمالات کے پادے ج شا خ لایر ہ۔ہ......ہ.....- 


ا سو ىا وو وو وع و و وو وے٤و٤ازو٤واعو‏ وہ 


تو و و نا لا ود ال سد بس ہو بب لو اب و ال مدع بل ماع اب تو بب قب ابو و بت وط وو و وو وا وافع و و و٤عع‏ ےو عو ”وع وٌوواوعا عو عا اع 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۵۷۳۱٥٢۱۹۹ ۰۸۷۸۲۹۹6۴ ۹۷ 


پا روا وراز اق ۷۶7 س9ت ۱ 
ا نمی بجنٹ: ا کن رای ےر اص ہدج ے؟ 

لاڈ لج کاب وسنت سوجکھمیجٗموٗٔوسمٗمىوافجوشْریکھموکھّہت 
ڈوسراذر لج :کتیسا اٹہ ا ا 7 2 


میس اذر لج :رو القنں جٛػٛمًممیس سس مسبت 
چھازریب:زوں لم 7 7ہ 0201 
انچواں ذر ہہ :اصحریت الا مد 7 000" 
چھٹاز رای یکم جفر 0 99- 
سیاناں ڈراہ :صحف فاطہ 0-001 


آھواں ذرلجہ: و رکاستو(ع... 


لام 


لوال ؤڈرلج: ھرشتوں سے با متا ؤہ ا قات 097 


وسواں ذ ریہ :فرشتو کی طرف ے الہام والقاء...... 

09 ہفددارراح 02 جج0 
بارہواں ذزاجہ :شب لم رجیل نازل ہونے وا یکماب .. 

گر ہواں ڈرلجہ: 2 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٥٢١٣۹. ۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


می بت :اماصتء جات نات سے یا ش۰فات ے پالا 2ز ؟ 
شیع نمرہب کے نما لیا تعقا دراو ر تح رات خلفماۓ راشد رم نک یکمراممت -- 
سا لؤ: :اٹ یا ےرا ہلل ہیں 2ص / 
ڈو اخلق: آئءانھیا کرام میم السلام سے زیاد عم رکتے ہیں سس 
تی لق انا ےگرام می السلام اور دن رسارینخو ققک لی ق اخ کی خاط ہو ... 
چوتھاخؤ: انا کرام مہم السلام سے بادو اما مو کی اماص ت کا عبدلیاگیا... 
ا یا ں نلق: نمیا ۓکرا میم السا کون '""كٰٹئ ۶ ۶ 92 
ھٹا او: اد تعالی نے ایا کر مہم السلام ے اور وروی ے طو و 
گر ولا تا ۶ے إقراریا.............. مضشسمٌٗٗمٗست 
سا ںغلؤ: اٹاف ےکرا ملسا ماق کور ےی عائ لکرتے ھھ ... 

آنٹھواں غا: قامت کے ون ححضر تلع تام امیا ۓکراھ ىش ہم السلام سے 


نواں غاے: قیامت کے دن حعفر تک یکر یع ایا کے دا میں جاحب اور 
یا یکرسیاں با نہیں جانب ہو ںگی 17ء ء98 3ى 
وسوا لغ : ایا ۓےگرام> مالسلا مکی ھا خیس ا وں سشق ل قول ہوک 
گیارہواں نلو: ححضر تآ دم علیہ السلا مکو امامول یم قزر مر سان 
لئے ا نکوسزاىگی اورأولوالزم اخمیا کی فہرست سے ا نکا نام نار کرد یاگیا.. 
اروا ل و نضرت اب را کیم عل ا لیے کت :خلت .اٹ 


کی شر کیم الک اسدفا' امو نکی ولا تک وہ رے 


وپ 


وا ٹاو رو و٤اوأاوا‏ عو ا ع٤عوقةّوو‏ و وودووواوعھ وب و ظءعج) قتۃواۓ ‏ اپ ڑو٤وءوواوء‏ وا وو و۴ وصعوعواودوعع و مہثۂ×ؤوووعیوویوبجڈۓج 


یم ریخ لی ہد ےافا اق کی عطاقت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٢٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


۸۸۳ 


۵ 


۸,٦ 


ۓء۸۸ 


۹ 


ے۹ 


۹۸۹ 


۹۸ 


خر ررہوان تا تحضرت ایب علیرالسلام نے حر تم نکی اماصت میں شیک 


گیاء اس لئ یکا رگی نیل تنا ہہ ے... 


سواہواں عو : رت وأ یئام نے و نے ایال لی سے 
پیش ای کے کا..سا....: 77201 21 جب ار اتآ اوت 
سر ہواں نلو: انسموغممأٗکمتہ 


یں دتا. 


ا سس سی لا کا ے۔ ت ۳- سس 


)نیسوا ںغلو: کر بلک یی یک شر یف سے پیل ہوٹی -- 
سای بجٹ: !مامت یل الو ہی تکی بھللیاں 


ا:.. رھ یکن ال گی سے پا اج کی ؟ 11 


۳..۔ چا نااور مارتا.. 


...ال و رقاہتائن۔۔ 


...اکا اک و و وہ 


۷ یی الج والژار 20 -- 9 
ے:.. کا جات کے نے ڑے کو بی عکومت 7 01 


آٹھویں بکٹ: کیا عقیر؟ ا مامت دن وط کی ال تکاذ ر لے بتا؟ 
شیع کےنز دک ابوالائ ۓبھی و بن وع فکی طفائطت نہ گی... 


وسر ےا خ کی اماممت وس صصسصوممسی 


موس یکٹش: ھمًہو سی 
ای وو سے ارد 


الما بیتی''خیزیرق“۔ ۴ 0 
وم:... ام اع دی تاور“ 0 - - - 0 


(( ۹.۷۸۷۱۲6۴>٥٥٣۱۷۳١0۲ا]6‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


۹ 


٢۲۰۳ 


۲٢ے‎ 


۲۰۸ 


۲۳ 


۲ 


۲۲۵ 


وم :.. امام بعک صاحب افار نل ری :یہ 
وو ٣ن‏ صیت گالراطال باب ھے.......۔ 
٭.. خلیفکا ‏ تاب اب ل٥ل‏ دعتقدکی ہیععت سے وتاے ....... 20 
* .: مام ال حضرت ابوگر صربق تھے حضر تی میں 06 
خلفا ۓ راشدبیمسلرانوں ک ےپ امام اداد تی کے موفودغلقاء ھے..... 
ا مظلوم ہا ج ری نکویژن ٹی الانش نعییب ہوگی اوروہ إقامتِ 
وی یکا فانحا مد یں گے ,0ص0" 
ڈوس ری ٹپی لگوگ ی: ال ٴا ئا نع ے ا فلا کاوقو.................. 

چڑھی بی ںکوئی: خلذا ۓ ملا بے کےتقن میس 00 1 ك- -ب9ب- 
ق ری یی ںگوئیو ںکی جا مدآ حاد ییش نو بے ٔٛوہسممعکفٴوحومسسسُتت 
ان یی لںگوئیو ںکی تا تریس جناب امیر کے ارشادات سم کت 
خلافت راشدہکی ٹپ یگوئیا کت ساب ٹش 070007 
:.. جظرتصع لیو کے بارے میں ہیی ںکوکی ہب صىووصسٗو‌تت 
۳٣‏ معطرم تگم رشح اقدعن کا ایک کنیب واقحہ ممچجھوستدسھو سیت 
ویش بٹ: امام طاحب بمااظھریے پرایکاظر 

اض گیا کے ہار ٹس اسلایاکورممورسوتہ: سوووکت 


گیا رہو بل بککٹ: عقید ہا مامت بلق کا شامیانہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹ .۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


باب دوم 


حا پک رام رضسوان اہم 


کٹازل: اجار حاب 


میرک یا تکا خلاصہ 2 
اھک گرا مس سعحدٗمحکسسہ مس 


”رانیم حانج راس ےءااس کے من یدرد لال : 
ملآیت ... 

وسر یآییت 

00 

صعھا ہگ رام نع جیث القوم ... 

خلفاۓ راشد یکا اجمارع... ۱ 
خلفاۓ راشد مخ کے شی ھی ا جما رم یں... 

خلفاے راش دخ کےفیصلوں کے بریف ہون ‏ کا ق رآ لی شموت 
مجاگرامواجپ الاتاراً ژا... - 
ہی بحث: 0 0/] 
اھا کول ..... 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳۳۱٥٢۱۹۹ .۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


۳۶۳٣ 


۳۲۵ 
۳۲ 
۳-٦ 
۳۲٣ 
۲۰ 
۳+ 
را‎ 
۳٣۳٢۸ 
۳۳٣ 
۳۸۸ 
اکتھ‎ 
۳۳۲ 
۳۵۳۴ 
۵ 
۵ 


نظ سلتقا ابی بنقیر 901-990 
قفش کش اع کی الا ائے سیپس جو مصوصحد سس دامح لی 
خر تبرش اطع نہکی او لکاوات سممسعصعوٌج 
ابوا ایل رشی ار کا ات تص... .ہت 
ضر تیھلی رشی انح کا غذ گی سج وڈ وووووووووووووووجہت._ 
ووسری ٹث: صسحا برا واجب ب الاجا میں ءاسن کےعی درانل 

سی جس سس 

1 


اب 
چھ ٭ّ“ 
0 
شی اب ھا تارق بل بر وا و لا تھ و واعوا عو وھ و٤ام‏ و ماد ماو وو و وو واوواوواظووکجواجووعو وعععہ و جع مہ واع وو٤ولھوو+ً٭-٭ھ٭‏ 


0 ا اک کک کک کک ا کک ا ا ا ان000 0۵0۵ا 
ہخرتپیلی رنھی الڈدعتکاارشاد... جووسسسی 
مجر کب الد نمس جو وکا ارشاد مو و وسص۰وصحسفٌجٌوٌ٘مجچ ہت 
نر تکھ ری یعبد ال ز مرکا ارشاد 22 0گ ک۷ ۷ک 7 
ترک بٹ: انار صھا کے وجوب پی دلانل 

شی متلی دنیل پيمنوسووسرسسجأمست 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١ ۱۵۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


سے ہے 
کی اورشبفکقیرہ 

اک کے با ر ےکا الوضت ریوصت 
صحا کرام رضسوان ائڈی]ہم کے پارے میں ائل کا نظري .... 
ال تی کو بنقا نا خالی.... 
عچروطااو اف کاو ی۔ممسمص‪وّو‫م‫ مسھت 
صا ہکرام کے بارے می شیع کےآ ھا صول ووسومو 
ا: .ھا ہرکرا شاو رمنانفین ... 
7 لفاما سیرھ ال وظارے۔ 
یاشافت:. 


یشارت 

ای یس مراتے۔ 07 جج _ +,- 0 
یرس راقافرا وق شافلنا۔ 20صىە“4892+>ۃ>:80804010 8 ۃ 
ضرت اع آحضرت صلی ال علیہ لم کے دست مبارک سے ہمت 
را اظا اس سموسہ 0 
جن ن مھا نے ماں وجالنع کےساتھ جہمادکیادہ ار اد سے تفوظظ تھے .... 
نی مت 07ض صص ە>-ں/ 
پہلاوائعے ... 

وُوصراوافچ ع 

خر اوائین۔۔ اکا 


7( ۹.۷۸۷۱۲۹6>٥٥٣۱۷۳١0۲ا61‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


صی پشمد عس تقر گت بے تہ 


۳٭غا تھا ویووچو 7 
0090 الصحاب کلہم عدول' ا 


7 :ماس سا از می خم مج یپ 5772 ا کا 0000۵۵۵ 


دی سی 
ایم 


یر اورٹ رآن 


می شی کا ق رآئن پر اما ننئٹس ہن ودککتاہے ...ا لکی قنع وج ہ.. 


ای و راو ان ف رآ ن..لتوڈ بالقد... مچھوئے تھ... 


شیعوں کے رآ نپ یمان شون ےکی وس ریی وج کی ا ا 
نول کےکش ران یہ یمان نون ےکی تس ری وج :-::--0+ ,90 


رآ نک ریم میں یئ جان کیا دوایات 7 
ق رکنش ریف شی بڑ ہا جال ےکی دو اتیل ...... 


ق رآ نشج ریف کے توف والفاظ کے بد نے جان ےکی روانتتیں موی 
علرا ےئ شیدسہ کےممڑوں اھ رار مس لمنسیمکٌی ‏ ٘س يہ یت 
شمھوں کے مار ار یع جوٹریف کے محر ہیں ضوسممسست 
اان شیع اکا برکاا کا رف ربی جح کیہ مپٹنی سے سمسممبٛٔسسسی 


اک دہند کے شیع اکاب رکا عقیدہ 5 

تر جیم ولوی مقبول اجردبلوئی... 

تج لف را نگا........ 

.یت ررتنتہو برکات مج لگ لے .... 


نو ایح اگل ت... 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳٣٥٢٥٢٥۹. ۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ظ 


ریف شر قرل نک حا ترادا ۳ئ ...۔ 
۵آ یت' الا لک لو“ میں ریف پیم سیت 


ا سے 'هٰذا صِرَاط عَلَیٌ مُسْتَقِیْم کی 0722ا ڈ9 
تر جھ خر مان لی کے اقتباسما تکاخلاعے .... سیت 


ق رآ نکر میس شیک پاضن ماد یاا 0-090 007۴+ 


”رآ الا نوا زے اشن ی ادگ کے چنڑھوئے .... 


جناب اہتتادی صاحب کے چنراطا نف 09:1111,0111170 2 


ک ھف حھ ظ× - ٦‏ 
ا:...عرےث'”'اضحابی کالنجوھ“..... 
..۴٣‏ حریث''اختلاف امّتی رحمة“... 


۳ ۔نظرا ٰ اخلاف... 


چ 


رت 


00 7 


-: 


۱۷۷۷۷۷۷ 0610۲٢۱۵۷۳٢٥٢٠٣۹ ۰۸۷۸۲۹۹6۴ ۷ 


ارت اپکرص ۰۶۷ ڑ کل 7 ست0019 
:حر ےگل کاارشان”خیر غلذہ المّة بعد تبیّھا آبوبکر ٹم عمر“ ... 


ام 


۸ 


٦٣۳ 


٦٠ 


رت یکم ادوچ کا ارشاد 


حخر تی شی شعن ےلات کے سا تھ ایت ےک 
آپ نے اپنے دو رخطافت می اوردارا لف فرکوفہ ٹس خطبددیاءجشں 
یف مایاکہ:” لوکوا بے کی کآخحضرت مکی او علیہ یلم کے بداس 
امت یل سب ے لوزن ارت اوک تیر وکا 
نام لینا جا ہو ںتے نل متا ہیں“ 

اورپ سے بیمگی مرکا ےک نہر سے ات تے ہو نے 
فرمایا: ”پچ رشان ء پچ رشان (ال دای داتہای ع:۸ ص:١٠)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


سس 
رلپیئحکںئحی الِمُمماوی -- مب تدالإسلام 
سے سلااالسسلااالہا ارام لیب بت زی السا دک لا 
اسم افلکہارطنارمیم تی نسح 


کے ا سی وہ زع سی یں ہل 
دنرت مرہ تا لم پر سف ار سیا ڑل صاحب تپد 
ست مویہ این مخ بت کم شرف ۔ فحصم می ررحتہ سم ٠‏ 
اس کہ سا بڑظر: مہ نیس گا اض اش کپ کے اید مع دح ہم اس کا !الم نی سم وہ 
نے( نس“ باد ہل ےھ پڑ فا ہب ہے ےا پگ ضے موی, تمتزاناء ١‏ بر یس ہیں یتین تا 
آپ ہیا ىائم رہ ؤں ااں ب رقیتر :یق رمیق اھ اہ گرم دح )گر وب قت یکا حصر را خحشار عم ھ 
سال سے سڈ تسسات سح ضز ٭ سپ نا چا چیا گن رط ت۲ راک سر دال ےگا لم سی دک سپ ے اہن ریئا ب٭ بنڈٹرات 
سورس قممتہریی۔ عم ون یریک مطلعہ رد مکوہ با ۔ ہب ١سرتجت‏ بہ سضر ہکےہ سر ابا - ۱ 
سا ٹ ےکم گاب کا کال یڑ عگحلرجر قرمدت آپ مھے تد اث ما تھے رہ ال نع داہت ٤ ٣‏ ارہ رم کم یں ما سد 
غ نا 2ک ضی تپ نم سپ ٭ سردیا تی سے ذر ےگ ےگ ےب ڈانمد :یا - ا۸ء سام درد کاپ م راب ل یرٹ اکر 
بب بب یر سے سے ب تتے پچ سن یں سس ف سس 
ص: :ںہ ب پا اب تر محۃ پ پک صددئے اہو سنت من ہیک ا حا یر صسہ بر رضیدد تچ جن آ کن ضل* گی سیش لف راربا ہد 
مم لامائش میں یہ مر دس ےکا جامس * ینہ اون اعت داست میں متلادت سپرنے کہ مث سناحیثٹ لہ م کا تما ع کا عم مفلق نپ ہماسا 
اچ در رر ناب ہشام ۵+ یا اص اپ ائغہدم ٠.۰‏ “کی فمقیل سید اتی نس یں 1پ نٹ دن عم خبر زس بے طاص ہر 
بد٤‏ عو مہ بات ا شس نے ریگ مو لیف ببرن تید قدم میدن راس یہن ء نز رحقال لس زموے خت باب ۸م پرنغرت )٦۷ ء٥ ٥(‏ 
رںٹ‌ئف ا درتب / ھا ئا بآم ہا فو صنح دسر عیب بسعدم ڈر لاخ ران ۱ا ہر فرا نھا نے رہ دگیزب مس عاء یر جارندن 
ار ڈو انال نے نیا کرش با فل امت ضئ الع المشح رک مد مبرزہ وت گن سرن مدیل علسلوم پآ سر تام مائدأ حر 
ملا ہس نے تس یرٹ یم یرے بر سا مر لی 
تر نکی شرف پپٹا جاجا لیگ سد ڈنو دشرباع وہ عذا و گی درگ چا گا اد لت رددمیت بب دا تہ سرن لھا ایس سشت کے مز ریہ مات ے 
٤‏ رہ نکمم پچ کمر؟ پ دس کیہ قردپہ شا بعد سکم لے گرا ہا رت برسیں۔ اضماج ام٦‏ تما تاب مطدتا' ظ تی مار ٤ے‏ اہ گیا نەت 
من نیا سا تہ ربے ہیں۔ بیے حم کر مہ حیر نت سد کہ دضلوف استع رعحقہ“ ول بجع کپ مل نے مرک اسم رھ مم گیا اوہ 
اہ مت ہے2 لرفی گا مرک ضر ت مو میس می ۔ اض لالم رد تب ضبہل | تال ١‏ ولس کرٹ رنہ الدرشن رم 
ا تن تح سنہ ھی عدد ضیف مود سید < برا دہے ”نے زئرڈائونسفرف میقم مل تشیرافمیڈامل زق 17۹۳) تال ارڈ 


لے فرکام ۳۴ یم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6۴ 7 


اما عزم ل نئرلام نل (سرف انُملام )٥٤۸۶(‏ ہن سنُْم إِل ١ل‏ لیس ہمیٹ :و دا من اش ٹول مرن + ۷وأئٴہ نرفاںا 
او غشر ت یڈ کان دلو تم ٣فاو‏ سڑا مفویئرد دس ۰ی لہ یس ہ١ل‏ ى را توب رلہں:؛ بچورح سارہ 
و تی بد .ص۳ و رس بت سوہ با میں پ ینا اث سیک بے قتین کا داسن پا رہ حرف راس سومات سپا رط لی را رش عیرت ہك ارر 
رٹ ا ضس م کک اب یہ اط ٹنم سآ فی خیہ تیگ تن وا پں رم ہر سو قہرکہ بای ںکنز دنر دق أکھ بٰي س٤‏ ۔ 
وب گر سر نمت اہ مر آیے کر تار ہے سس پتپضرت ہب ۔ اب کہ لیر ائمات ١ی‏ سرمل غر لم گے یں 
و سم ےمم وع ما مس ستمنکہہ مری کرس جن وضیںک ‏ کگز ش لن رک دی ہیا - 
۱ را نپ لیہ مرا میں ھا ,صعانردا مھ مم رسب سریدد بے مک یہ وت گر نظ رعدت ویر مان تتح یکا پپپیدے ۔ 
ضرکری ور سط علٌ دہ عیہ دآدم مع کے زرشدددات جد سن عچی اب ہو قرآماو بی ہک ذرع عبت ارہ داہتجا گیا 
۔:حادر ےآ لہ مود سی دم 8ڈ لی فلس مر درا جیپ :) پ دم کی اعا وی ہر لد | اس بک ھت جن سح عاتا ہہ سیب رولیلت 
رس حمنارددا جب بعد نباج یرہ جا الہ بب متضماد جا انف تح ا عدو یڈہ گا فضری ت۴ کا عفرا و یی ترمن اعلویٹ *" ظر؟ ملالیہ 
0ت بر برا تا ٦‏ ارہ ضیط آپ اع ری / :ما رات ٭ 
۔ جرحویث مرو ہبہ ح سن بهج یہ نماہت پر مکی ریہ تل مسرد؟ھ مم رن بیس ۔ 
مد (حسم ز .کو ص ند چک پ رانک نرزت عرنےھف نان رسمید ‏ احترا جرے سو مک7 
نشم بے بن دعٹر و غز سس مدابنت رگري سر دہ متبود ارہ مدان 7 ۔ بج (مصراہ رتا شرسي مس لد دا چ ور مت سام یس . 
ون مل لیا ت مہ ہلوٹ ے مجعر س1 پ مے بے ات کیو تنک خرف من مم پ ٹر 8ي؛ ۔ 
اہے یک ب امت وضو وعت ایم سیا ستَیٔم سب ترسرہ ط چ رص دہ ر٭پر) گ راغذرت ٣‏ ار رعطرا ت ارہ 7 ررش ×ط سس کے 
ہرس دعدحہ وس حمہ نفر ا اٹہ مات لفائ رک مرھد ز نا ۹ رد لھپ رلاتی (ضفد ما ت گی ا مترادعطرت وٹن مرضعظ ہنم گے لیر سے پر يٴ ' 
کم جج اص رفا“ پر سب پک سیہ بے سم پ یکن تہ مد لع زت ممیت ح ےگ گا رردائی صطیطہ رسامرہ سیا بر جز 
زین رض نٹ سن گے مر شت ارہ نف رک رضتقھذات پراپ سطع ٹم ں یر عوسی سییہ لہ سے 6ا نھد نات ھا سو ل 
تر نز ید میں ۔حدیت مھ دلیمڈ ویک و چر یک بھ شرف لبون سی اد ضتدف ٢م‏ ودب الب ارمض دی مل یں : اتبیہ می 
دم ہو امش ؛ رجبت اب رضطرف مہا اسدئ لیا ےش رملد حسم را تما ماق اڑى سڈ بے سی الپلیرک ؛ رٹ اللام من اِأئّد 
لع عفد نا نآ سے ۔ے فرط خرن تین افرعصنی دہ سکع ار شکریں ٹا دم لی ہس .گی انگ صہ ضرو رم را بجی ۔ ای ععل س میں ار 
تعاس قد سی گی غ1 صزیث ومک رع :ور ضاعرت وش روف لیک بے ا) تا فو سر ٹچ ھی سب اعت ار زف رق اضف ما ت کر تنصظ بی“ 
پپ جے رد فا دہ مدع ملین گے مم ریدم یا حنناب لی مر صضر ہگ پر ان تام امرگ ارد 1 بدا ڑییا ‌- مدکی ےا 
رد تم سج سہا برقعبن بر بمدبواَ۔ 
آ پ اق مر رف ۹٣ح‏ پ بہت پے نا شردینے یگرش لک چہگھ عوا گرا م ردان ول نیم حطر اوک رٹ موکھیٹٹ 
نہ ےہ متا برق برقت زرل گر حر رکا بنا وید ضس١‏ تیزہ لد آ لت ۳ سے ظر بہ گناہ زگرہ پا ملا مال لگ مار درم 
تا مب راس د ریہ وو نٹ کہ حضرتہ ع رورض وع دن مھ حضرت ھک نٹ گی تا بن وا مس بہت مرن وتت صرف ود ۰ دیٹیں پی گا 
قیں ا می خر ترنی یک ریہ دنت( ضس ا تا ز ےت 2و شی عیب قد مکرے ت ایر ور آغدت ۴ سترت رمبرپ ای٠‏ میں نر کا 
کر بن بش وید ہ۷س کسی من ہکن سبہ سنا سے کیا دا کن چا۔ عضرتدم ہرظو مہ نٹ نے سید محعد مم بس دی ”اف ”گا مھ بب 
اب نے أُٹھارہ (ںد عیشت ل سرد کے عبوطرم آ پ نے اس ہا نگیڑھ ۳ ۰ئ کا ام و شبات و ستا سب ساصہ 
تح سنیدہس طحرضت > گیٹ زر رٹ شمل رم ز دس کسر حطرت ارم رط اما تمس میں سڈ با ضا ج انتماب چس اسرل پر درب 
لع مک سے و یکو ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٥۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


صفہ وہ س رہ نے صدت دمح شف کا عرامہ رس چ لا اک کا شتن “1 سم بن ٹہ کیا ہہ کم سا ردا/ نین سے حطت موا ا یھنن 


کی تن ب سید سنمٹالہ نپ سچدی انج س گا عراع ارم تل دس دبچ قر جات صدط ۳٣آ‏ ۔ 


بس مھ کا خ ود :ریہ زسط بب پ مہ پما شرجا نم کیا چا دنر بن سد ماف پردلہ بے نے عطرت عڈان۸ گر فصرو دا وررآپ 
بے صلی تا سب ا مع شرشرہ نٹ ےکا مرجر حج طط۶ را کت پچ مر مر سلپ مس بے معن فیس نے سن غ یدص 
ے سی خی ح گند امھ تئمنر وت درگ یکاپ یں نفک ہیک دید سپ لے پ ہک زنطسم م ےی مرو نس من مٹیا طا گید 
و سائ ید ےئا شعن م مس !کپ چیپ نا فی نکیا پیہ لا شییں سی سپ ردا ز ینہ رہ وس ق مت وگ باتیں زی کہ جا ربچ ۔ فشیدہ نہب 
نم نظ وت ا رہ یی سال گلا سن کش یع سی سی نے عو و سیا الک ویببر یچ پر س لا مگ نظ لو تک بی نگرکہ !نی لدم رعحت پسیٹ سکیا 
تاس ۔ می اقم ٹپ اس جا تگھ فی کراپ ج کم مت می سد رے ہا ےت مہ۸ ستدعو ہگن کس ذ رجگ ب کات رجا ٭ لہ عا مگا 
رو تہ ترک رم در خرف سی صظ بن سیگ دع ہگ عشیت عام یھب قع قرا لکنا مد سی" اس مطع رر مہ نف رما تحص دت لوا لکیعتا ہی 
رف × ک یک پمحرام ہن ىا ۔ سم معم ماگ تن ب مہہ ترعقیک ضر مغ لی گا ٠پ‏ یقن یب ب ءلرمم ۔ 
لہ رہ کے آ طراد: بر سے نے نا لو دنہ پہع ن' تپ و صیت اپ ربز سب سصہرشددت ہلگ بارمرر 
یہ ہنا نین مدان مداعر ٹرئیا رہ جوتیی ما مسصہ مشح یبا بگیہ ضسٹس نلم مگ ہالمیں ۔ فنذرغ ١دت‏ مے ستدق جرناسرذرسا ‏ آپ ۓٗ 
زیچ اس کہ سط نہ مو مض ہب ۔ ٹر شا نک سوک ات مے ‏ 
وہ خر زس تگ اسب نے من ہبہ شی ا صن پحو ول فرامر ما چا عحکہ مشیدہ ہتا لگ کت ود سی مقیمل ۶م ت کا طبر ا ہار پچ ملک تیب 
پ چ ںہ ترعيچ ×۷ ضرمت ٣۱۴(۸‏ سوا رر و عدال ھ۷ سک ۔ عل سہزء سیئر للا -ق ۔- 
۷و آ سپ ری پہما شرعض کہ مرحم وت مت یلا خلم غہیتہ ہ رای ضرب ٠‏ وہ تال سیک سپا سیت ول ۔ سا ری شمزوگیف گرم میربت انی 
سپ سناب سا دعب سو ان سیر سے۔ خی طر مل فا الین تہ رع سکس مشیسے صد ضف پر دہ عاش را زسدم ص طاپع ‏ ۔ 
زنر یہ مل دہ شس ہنی رو بل نس رگا ھا پ گی بای یپآ پا سارہ گے نل" گیو* چ؛ رخ انی ) ژد: وآ خرطیے) غیت اللہ 
ہہ نٹغت باتیڈ ال پر ادی ر؛ تفیة ہہ سز کسڈر سے وآ ہم اغق ی۷ا سن ہب سا ئا رسس رم رس م ×× سا ھا جم 
بد ؛ع پگ سب تہ برع شی منسے اج وٹ یرحس حض ض یح بس سک پا سارک ہگ فو یب کی ہیر داد گر ند ٹا طنیپ ان :من اہ - 
رسیومٹ, مب را ىوو نے بی ہںڈ ۔ رلرمرنت ٹیا عڑ مسل سیانڈراضپرق ران مروسرں ساط اگل رسادڈ من :نٹ ا :تاس وی صراط 
ہیںغلأ اہب ابی سریصین ا رع زم اث ان سو امریدن ۳ رتیاع نے نزن :مرسادڈ یئ انار ائے سی سم ادخاء 
شّیے ارساة رضپایران ج1 مس تیعم سم ) ونس غرحع لع سآ ملا مل ئک رن کول سیت سڈم سرت خرس رقین ۴×س کی ٭؛ ہت 
تق مکن* ینان مل س گنک خبوٹ انان مین آنذین ا عادہ مرعسل لپ مرا نر عدلہسنہ مو یلم جہ ہنے؟ ینہ حا دختترد نہلد محری عرسو ا ریت 
سیرمھ شہوست وس سو نی مبو نت ہمت کت مرو و عد فنیا چگذ _شت دس مر با د تن غزا ہثرضت یه لے رززدوویل؟ انار 
ارچ فالہۃ اغزت نیت ہاگ رز لوا پیے اض تک پیم ہی میرف شا سم ووکشتہ سنہ تی زار دہ ررمچ یں مہ می مبامعم 
سعین نزو موس رفیز عضرنت طا ق ا عضو شر مکرہ شر مر رلمیٹرطرہ رتے_-۔ سریںج ٭ ص ۳۴۴۳) 
انس سے ا لح سے اراس افوسرپ ال نال بت مت ٹر اع عاسپ ائوشلی ر٭ِٴ رس ٥م‏ |فنرہٹراے سب : 
یں اج یق سو ٤‏ قىیت ات ہے سور بر ن سح ممتآ نٹ گرم رام سرل الام ۵ رسود دارم 
مگ بیع کے .رات ماگ سربئہ نت نوتہوہ سی ادت] ن گرم ر سا گان .)ا سے و کر کات رسول من رخاابنین " 
مرخ تم ان رسی ہرس !' یا اد سنت ؛س حہ فتقفہ پندسح ضیکرم عو کہ با زط میں مھ“ ہی ا یئن یہ فی سکب اب ے .. درعرں گر دی گر تفر 
وت ملا تم غبرت برضربہ رثا ے کہ دیدو کیاکی ہہ سط مز دی نہ اک ۴گ ہم خا تق وٹ ہل و بس ١رگا‏ مل دا شرہ اصع معصہ خا رج پا ۔ 
عفید اخ خبیت :نا رام مر سرعن تر دس پک ڑلی ںل ظر تق ٹیہ اذہ ہم اہ کت ما ےل عمالرں ھ اب رت × یڈ ۔ ہس بنِں عٴ رن 
بسن سفال گرب ہآ جا ا چنے فنخرخ ت میں قبدی غرال پ رآ ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


مت تد اف ص مکنا مک1 کو امت ال راس ماق دید پل وگنہ حاحص عو پر پ مے بر واگروسرں 
مق سی مہ سالبہ سی و ور لپ ماگ ستنش صتح شرکت خیچ رسہ من سب شیع سکم“ کو رات ۔ ہے ۷ سک لی سن ۲مرسر 4 
اس مہ شی سمش کسی مشنخشح ہے سے رعضنت چس سے شک عو 
رس کت رعتا لہ سب٣‏ ا م* می مھ قردمہ بے وڈ لہا ےناگ کو یت سو سے ما سی مک مب سیب معن سد شردرقنر س اکرنا کال 
ہے پر یں رقط اضمو۔ ا۱ ى ىف گا ذ١ل‏ سون : الوسامت سے جرد اساسد طدللية شر نے سٰ ہسرل سش”م) 
أسرراین داد یا ہے کب ١ت‏ رہ می کان مه ۔ رچی رد ون ر اور یاتے سی شعرشة انرسوں ول ( قا ےڈ ائریۓ رع 
عرزقة مت بھی رب اتاد مع کا نت اود تہ“ درک علخ ص۴٣‏ ) متا اش ود ھ ران کنا .جح سنا مرا کا ۱س رجات 
عامت لے آمر حر دائرنیال شضس ٹا ان خعد مت من العٹی ڑ سنا را لیف مس یمام متا سکم جس ادا" مش سج مہ مگ لے کی انۓ ى 
ست شاب مش تہ سے“ بچہ وہ گی یکرت سن شیس ٹر و وو سا مق راست مہ سے ظلے دم معن دربعہ ار ین وشیا ص 
شی نے من اٹ رص ض ۳) ضر ض کیہ ہت لگ جن س ہگ ہیں شس رعوسے سوحود ہی لا می یھ سی“ گر “ای سرں؟پ ۷گام ار میا 0 
غبرت برع اط زگ سسہ مدآ مم وہل کے ماقم مقیہہ عنم بر کرمزن د ہن صا صقن بنا ش ملین ہی اور 
مم سا ۔-×و روا صضبہ انماستر دس دی سنندحت جا رربار مد گ اصفعرقق سدٹے صروع چرہ عری پاب ۔گرکنفرظز خروصن ما نگم دی نع للا 
لٹ ما شف سیا مآ راہ سم بر اہب ےئ لہ ہنعش ہہ سرد نے وک دکشینہ فی لطزان یہ م ریدم اص من اش سد 
بر یرد امشا گر ہی رس بے عقیمے :رر إن ٥فض‏ عیر وقھ] رقرل یتپ مھائئیں ٥ل‏ سا مه رہب طوصہ پت ایی ؛ گال عرمام 
برا رھ تقر سر ۓےد اراٹ نزنان یشاسیثا ہرائت: لان ریدقت ٦۱ن‏ سان ری یرد یٹ رو زرل خل نون 
نون ۔ م۱ کا یرف مم مت ۸خ تییہ۔ ان گط موحتیتہ .ران سی لنبا ٭ڑدرمتیتہ نہ بسڑررسے زز:ىڈ زں‌سثەن ؛ 
مر رت و رہ یم تط تی رکصے سا - لامتیرهاخٹیج ےناب رم رنڈ یم انا ری رت کول مہ2 1مہ (عافہ 
سسشد ری عائل سد ال صدینٰ من مت إِلٌ سپاو ٭ جے موٹینے مہ خحضے مس ؟ پت صن ؟ ا ازریم غنرڈ ایر 7 
تس سڈ مسرلدبٹ رظ رضظ ءفزیا سے حشّتاں ۔ رتعر ٣ہ‏ بات؟, رز نہر سەس ر!؟ جا مسا ا لھا رگا اس 
مزا من یرد بت کان کور اسم رخضت سم عرمھیڈا میقبیع امو ں۷ مر خی شی قریسن تق پان يی< یزور نم ما تھب 
ری ںگجمبی ٠‏ وڈرٹ یخس , نپ اال* بی الئرك ہزرل الری من ابد ہر و پا ٹ زا سا لغ می دحا یل الا نت 
ہت یں تہ ج ہا شی اف عو ت۱“ :تا ) اوت تا عو بن من مر سمل فو صا بعد ینا لی الی مقہ ائُ "رگ 
رام اوران س ۶ص ۳ ۴٣۳۵ا‏ ناپ مس ہیں س .شس رس شسش جم 
حسڑء شب حگرس صص رٹ یہ رآ ٹب بیس کے عطرم برض بات مد ما تہ تہ ہے ہس یی سنا تنٹرس ؟ لم یعدم پا الک 
بت بر دش رت ے مھا تصےء2 و سہا 1 لے ا ٍ یماش نشی رایت س ال ؟ٗ 0+9 .2.3 
میں ست یس میڈ شس سب امیر یسیج ا 
اتڈاپنبرٹگرستمزم بپ تب میک ماش وط فی نہ مہ موم ت7 اکم کع سو کچ ہب منرخم جا سدق کرس“ ہی رس ×) 
نکھہا ب لت سح با تک ول ا ا دہشت موم 0ظ ا 1ب مہ ٹل نپ" سب رر شعدف تع رض پگزشش پل 
آپ گا ریت ززکرہ ٹا منص کی فیرعع رج وت یہ بی اہ مک تی ھی رع بے سس بے 
رست رط :یں پا د‌‌لاس تید عفر جّی صظ پ پ من کش رضم عم نب ِئرفت 9 بیس یلین رش سط ارم 
١اض‏ واردطہ یا اتا ۔ ضف ہموہر یی مد سس مہ 78 را کٹ نز رک تماقا شر نے فاسائٗ و امم 
کر و رو ہو رر و ہیر سر یں ت بر سد عق ج ھگیرنگ نہیں ین کرک و مسعدی پر و ا وع ھک 
رع گر سّٰٔى 14سب ١ا‏ روم باج ععوت رج وکارج یک رھک رج سم کے اب سنت مہا ئ شس نے گے ای بیم 
مق صروبت انیس مر دسر سا ت1ث طبیت گ طس لے ہے ہ رتی ےآ ي مگمزثُا-طذمرز (تا ہے راجب چکگ رہ ہد" 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٥۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


<ْ 


اتا 


صنیم مم رآ پحمب آقی ہا شا چان سترںگھةضربر۴ ۲ !سس زرا نر١‏ ءا پک زعت پ ٗ لت تام دا حم جگرا سیل ربٰحصت 
0[ 
بس رن مین ت سس عفر رت ی کی ترحم۸ ہدوت مر مہ ا نے سیت پ سے کہ مرف فک رن ۔ ڈروب لا س تم اہب تع عق تہ 


گر کے س یں می بی تی نک ایت ے 2 
سل سا٣‏ ی آپ مہا مدع ب ےھ سفتہیپر رف چہیڑں ٭ س سار رای بہت مو ڑگ ور راس بے ؛ رح وضع درب 
زترا: ر,×< ت١‏ س الیل بت د ہیا پ ىُ تو مو بت مد ہما +پٴپ -٤0‏ آ پۂدا۹+رحتی نت گز مذان گی لس پ گرا 
رضدائ ےط میم و سے شخیسہ ضرتھ :ہنارت بہمپاجد ا ہم عم" گے اد سض مگ ہس" ان سم ہر ں أطرق ہس ۔ دہ اصرلہ٢‏ می 
راس معن سی * چیہ سنت مد۴ بی تشیح دمٹرتہ ٤خ‏ ہیک حم ای ہی ر 
6یزت ۶ گے ٢س‏ سب میں ضا تحقین بک تع مہ + ریہ سیب ظرآ نازیم سس شر جا رضخ اج وردح مم ےنب نتر رد رسرل ماما 
فقی گر تا مخت سم طض ہپ ۔ 
7ے رگ ہی نرہ نہ مضفرت ۳ کا عحت افتا رکی این سد ولہ سصہ سد نعط سپ گے نظ نان ہہ رژ سرتدسم کے راز اھ 
[ نت اید مھ رشن عمضید ک۸ فلا رام 
سوہ رت ص گرا فو سدسنین صا لسن تاکن عد حصی رظ بھ نہ نطو ٹا کشر لان بہگنا * موسر درز مضمیں مہ ۔ 
2 ٹزرے ےا ائی سب جس مار کاکر ج1 رڈ بن حول مہنت موم نک مامت یچ ے 
7 ا دب عحبتدہ عم غطرت ”کے نس ریگ ہن زے و رسدا رںگ ؛! ہس مچنش نا رہ !ار مب معوت 
ہا ہعلی ت گا روٹس بے حلہ 3“ سح ا میں ما۷ إضکرل* ہٗي+ٹی ما ٠‏ یلیٹنا متس ات ماس یں زوش م ٹیوٹ رہ ے - 
۔. ج٭) سرت ”ض دم و شحرمت سے طرت با ے2 ایرعطرت اروا 5 رس ہر ریس وی رت 
سد ا رتو مہ نرہ زسیکرچوبیمومئبلاجنتو۔ب یھو تاطبریوں 
حستعےم سوب نادی ہف یدن سے گت درا ات برک ربا تکاس ر اس 
مق رک مز دیس رہعت بں ین دحا بگ'" ۷ا ٹپرمصرم آند غددر*' 0" فا بت 46 
و6 سی دہ مفتقو؛ مز ا شستا ن اب سرب" فح تی یآ 2 نو میٹ “وک ب ب ہ رہن یہب دہ دست ہں ۔ 
ر۸) صلپ فوا ملا شرلز. می سر مض حرف رمردف جس حوط گا ساردا حریٹیں پا یہ مق تما وھ ق مس ١‏ راس سدیو میں 
۱۷م شال سے ۱٭م ٹر رہن ات ردست ہب ۔ 
ات وی اق برک سج تن رن ض و دا وا بدا سس یٹ ست میا با را میم ویر ت تر صبرت ری ھاجزہ نان ۳ 
حی پے سیگ قر گنی چا جع کہ اس خر ھا ہک بے ار 02ظ280ك‪ءء, ب1 ناسیرت م لھا بس میں عاسل ۔ہ 
انت نے وگ و ررکیں سے ع رہ سیر نے ال ااچھا گیا دا آ فطرت' بتک حسن شر ہس ۔ گا او راہ شبرائش یکا تر و یی سم مات بے 7 ۳ 
1 ما مصط تق کہ ژبڑسہ ضی یکرت سو ث یا رپ ص ارام سو مھ و ریت سی ما کت لا ۓ سب گرا رابابٰپ ضو‌س س م١‏ 
انث پر رھ سا رد ترز شیک بن مور اس دیق ےکی سی دصوضف کہ امج ای مینست حے بد رئ رسس عطضۃ وا لس 
قر یہ مم ؛ تی بد سی نے نحیدہ نظ مو ت کہ مک قرصجدئن بج یکم .سپا مشیرس کے مدالن یت وع ا و 2ے 
رٹ سیپ مر؟ مم دعب آفانو ہش عصہ مک 7ہ رقتر لات رد الٹی کے می ارم ملا مرا ار بعدکم رگلاعت رمک مزندا مز“ و ١‏ ہمد داش ڑم 
یہ رر نز نیہ مرھد سععد چیم ارام مل یسلت ماخ وب ہرد لد سم ہیں در ولغ اح سنت م٭ مشیر ع یہ کہ سی نطب 
ہلبق نزول تمہ ای امن ہرآح دی ضرم مج ونس غرم وط ضز میگیر ںومیل قرش ترضیع سے ہر وب لن 2 جریم و مہ ضا مم شی لد 
ےت نعل عفع کا فیض مت مم گرا سے ما و نگ شش سز سے ۔ اص گآ مع متام ہ رفذاہت ملدھم می تر دس ملت سس سام 
تم سیا آ رید عم میں ۔ کہ سا را سے ٭ تاس پا سح ےک غحیغد خی سر مہ و ا ری سی لاس سر٢‏ ابا ارس رہ سی 


ڈیار مع کر ۔ تل مرک رھ فرفن ھچتا جع ما معدم نے مک لاس سم مہ شک رک موشییوات پسراسمر مر ہں سڈ ؛لد نا مالس 


۷ ۷۷۱۲6۴ ۹>٠٥٥٣۱۷۳١0۲ا]6‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


رت می ا سکس نعط ری رف لہ دنم رھ دا لی روہ لت جرح ؟ رس پچ اکم پرلنن جیسٹگگھ گر ادتووتررھرا“ 
دخ پامیہ ہے صدمدہ و مع ری اس در تپ یناہر رد سی سے می بست ص مہب ت یدب گی زحب طر؟ اریت زی 
تیر یب نت شس ر سمش رٹ یں و نٹ ہہ ہے ری نس رواٹا ڈران 
نبرٹرڈ بب ہہ ہ۔' میں میں سید ۱رح کہ تح دی تال ما چ0 ۱ را ہ سعح سر تد ےگ رگ و کر مم خے ۷پ شرب الات 
کا تا ٹس ٹس سد ٠‏ ام سب مہ برا فنبرت بے عگمہ حر دع صد ہرد سح سح تہ ۱۶س سط برا عم جس سی ہب کو قمدا دس ۱ مردں يہ و سب رس ضرأٹ 
یذ یرس ۸ رشن تنا می سہ جھ ستم ضر مد ۷ہ و رس بج بات یاںض دی تگیا جن ۔ وئ رش ےمسترارا مه سرا گی بصے 
شر ماگ خی آر |س قرا نگ نناسیني سر مر ہیں لی رر اسم شرہ قراط کپ مگا ور دا بد شش میں 
ا ار کا کب مہ تہ ث شر رید مت قر؟ لاطۃچہ ننفر] مہ تعد رگن تا ٭۔ وگ لی ہمہ گے دو رم کہ رق و رہ سن 
شا گر شی ۹ مگ ہن صیرس مرو دس یں درد ذ چ۰ می مہ دہ سفر ہی امیں پپ دکد اک ا سک جو دس رت پ دو گن کشر نر 
سر ور ہر و رر و ہر رر ہر شور یں و رس سے تس 
رر رر رر رہ کے وی ےو ےس بد سض ےید 
مصنن تب یع لھپ صزر بس رکا مث ۔ دش ل1 بگرماسین دع دید پات بر ۂ ل ءگو - 
سب م2 آخمر سی ١ص‏ ہو گ ڈیڈ لاح ت مگ درد ںکمر دوہ ملاہ گے نر دنیگ اگ رگ و ماضرصعدن سپ + با چ٭ زا سپ" رج سض 
مھ مم مو ول“ و میڈ دہ رسود ا“ دہ رۓ اظ ور ہي سم و مہ زگ :گن 
سور ہے سمتور ط٠‏ ۲۷۷۸ ستوث تر و سم ببترں ا خی اٹ وو را اك ۵ے بسورل اىّہ ار ب+ابراء مس“ سر و اس سر 
کی ری ہیے۔ ٭ یرپ ل سن سنات نِرشن رو سہے روس داوئ وت رخ را سر درسادت نا غا ترلد 
اس ےھر ناکد شی اعت الد ما سمڈ مخ سے رثا سے ال بل زا لےگٗ پ بی نٗىْ بے ررسالت انال 
ازس دغیفہ لم تب طفر برا موہ وعدم سپ سم سی خیا بگبرحت تہ ب ہوئہ یس وی“ کہ سم عروسدد۔ ند زوا رن رد رگ ہہ 
ان رڈ لوٹ * شرع میں بت بس یگزتھہ تح سلت م٠‏ سی مگرق ہپ ہگچ گرم عنیہم ش1 سیت مھ ماخرڈ م: ظا میگ دم ررسرلم , 
وس ناکگیہ نوس پقغ ق عیرس حضرت میک کی شا سیا ما سر سض یم شیع رع لے سی سن نی سا ٭س گر ختیا رمیا مے تھفررہ ے 
پر سس سپ ین پھنے ” ہب ۂ م پآ سج ای۳ امک نف ت رآ پل ریپ بب گر“ - 
0 0 میے حصس و ل جرب ذو لا مگ لگن بب ہا رہ سر د یا سو گر تیب اور مصد یگ کر ظر ہا دگھدس ہو لا گر 
سا نے اپ ا بگرعمہ رع اه ےے یر ے۔ سے ضوح تفر بی رس پر عث ا دح یگوہ دھ بر وزود ‏ پج ۳ 
شب لاسیب ہیں ۔ وو مل مک +2 سم ا پگ بے تمنسرعإ ہس" ری نس تارے ۔ یس ؛ لاب 
س عم وت مھ را یما مگر۔.. دم تل جا سی ملیف نمی ا ع دع گے م کےا گا مگرحیہ ملا غا پر بنا ا می 0-2 
روز صہ ای میم کا گر ۸ہام دمرا دس ۔ گر من ف ما سن حم اترم سط اخ الریل 7 
خ حم ا تی افطمم 
7× سد تا 
ستت بو ہل سے 
)۸ل 383-ھ نال سرد مرا بی 
(42ت1اا٤‏ .۱1۲۰م 


٭ سس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٥۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


أ 
ٴ 
خی 


احَمدلش وَسَلامٌ عَلی ِبَادو الَذِينَ اصْطفٰی! 


ہشم اللرالرّحمن الیم 


بعالی خدمت جناب س سن الا جتادی صاحب :نال الهٴلَنا وَلَكُمْ الْعَافَِةً! 

بعد ازتحیات مسنون و دقواتت صا رم وش شآ کل ہآ تاب کےگمرابی نا سے نے 
مز ز وشن فرمایا۔ بنا کار ای کعر ھک کنل فگوارٹش یں صاحب فرال ر ماء جب ڈرا 
نے چانے کے ال ہوات چو مم مشافل کگمراں بارد پا ہآ تاب کےگرائی نا ےکوایٹ کر 
دک یبھی مبلت ن ہی٠‏ بب رحعال ڈذدسرے مشاخ لکوپچھو رکآ رج (بتا رن یم رب ای ) 
آ پکاخط نےکر بیٹےگیاہوں ؛د بت ےک بتک اس سےفراغ مس رما وت 

آ ناب نے اس نا کادہ کے اوداس کے دسا نے اختطلاف امت کے پارے 
یس جن خیا لا تک اظہارفرمایاءان سرن ہوںے رٹاو ورای کے مطانی 
تر ےکاتقن سے .تاب مآ تنا ب نے چچوککمہااس ناکاد وکوجواب کے لے خاط ب نر مایا ے؛ 
اط آپ کےگرائی نے کے منددرجات کے بارے میں چچندگز ارشا تک اجازذت 


یا ہو لگا_ 
میس ا نگم ارشا تکو حا رتموں میس یمک رت ہوں: 
تصاڈل:... معقیدة مامت :اوراس سے متولقہ مباحت :ئن ىآ تجناب ن ےو 


فا ے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠٢٢١٣. ۸۷۵۸۲6 ۷ 


7ص ۳:... ت ریف ق ران کے پارے میں شی حقیدہاورآ نا بک یرم مرکو 
تہ جار :... آ تجناب کے چنضف رش سوارا تک جواب 


آ ناب کےاغلاق کر یمان سے قح رکھتا ہو ںک اس رک خر مرکو نظ رونصاف 
نظ اشن ےکوی باتک اف نے فا وید یکر نے 9 2 
ل7۳ ا تلفغ کی ا کی 1ضج لن ن فور 


رر 


و تھے م 2 ھی ا ہی ھی لاو رك 
وَمَا توّفیْقَی اِلا باللہ عَليْه تو کلت والیه انیْبٔ 


۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۹١۵۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


عفر !مامت 


اس جاب م۴ لگمیارو مباحث ہیں: 


ری بجٹ ...ص..۔..۔. تیب مامت مشحیعی تک اگل بیادے۔ 

ورک جئٹث ........... عقیدةٗ ا مامم تکا مو چدائؤ لی پر اہن سبا مدکی تھا۔ 
نس ری پت ........... قیر مامت ہتمخم نت کے مناٹی ہے۔ 
.0772 و رس و 

اجکی بش ......... ئوک گن ذ راع سےیلم حاصل ہوتا ے؟ 


ھی پٹ سپ ما شیاو فبدت خ یا بومٹ حے باا ط٣‏ 

ساس بکٹ ..7. أعاممت مال اُلوہی کی بھللیاں- 

آٹھو سی بحشث.......... کیا عقیدۂ مامت دن وع تک تفاظ تکازر لے ہنا؟ 
وی ہش ... یسپ ظلاضٹبراڈر :زا [ڈاصٹی رب نکازرایٹایٹ +دل۔ 


زسییوں یٹ 0 :,.ء.:: للا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


یی فی عقیر )اما مر شی تکی صل بذیادے 


اس نا کارہ نے عقیدہ امام تکوشیصی تک بذیاداور شیع ن رہ بکا ال ااصول 
فرارد یا نتھاءاس پآ تنا بکو ا عزائش ‏ ےک 
”خی حقا ند یکابوں می ںعقیرة امام ت کاب بانچ 
ُپوموسید+حدیوہ ہے 
(٢)اعرلء(۵)امامت‏ ۔عرل ےمرارعرل غدا رای ےا 
جواپگمز اش ےکہاس نا کارہ نے عقیدر ٤‏ امام تکوشیعیت کا اگل الاصول ٹر ار 
دپن ےکی جوکستا گیکی ہے۱ ا لک چندو جو و ہیں: 


عی٤‏ !مامت خو دش کی لظری|ٹس 2 یج : 

ارچ رات شدأ:عقا نکی ترحیب ٹیل ال لکو پا نچ ‏ کہعپہ جال نکر تے ہیں 
من ا نکینربروں سے تر ہوتا ےلوہ ای عقی ےکواپنے مہم بک اصل جذیاد کت 
ہیں ۔ چ ین نک یت رم کا ناب نے حوالہز یب نم کیا ہے دہ اپے رسالے مہا نع 
ارام ے“ کا آ نا زالن الفاظ سے نر مات ۴ا : 

”اما بعد فھلذہ رسالة شریفةء ومقالة لطیفةء 

اشعملت علی أھم المطالب فی أحکام الدینء وأاشرف 

مسائل المسلمینء وھی مسئلة الامامة؛ التی یبحصل 

بسبب ادا رکھا نیل درجة الکرامةء وھی أحد أآرکان 

الاہمانء المستحق بسببے الخلود فی الجنانء 

والتخلص من غضب الرحمٰن فقد قال رسول الله صلی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


الله تعالیٰ عليه وسلم: من مات ولم یعرف امام زمانہ 
٤‏ - “, ۹ 90 (وال یما الت* رع:ا ص:١٦)‏ 


ا عبار تکا اص مطلب بے : 
تن رسما زج خلے رم عتقل ہۓ: لی مت مامت دہ 

ین کے ہام یش سب سے ا؟ھم یز ہے اور الا ئی مال شی 

سب سے اشرف ہے ای پر سعادت ا خر وی اور داگی جنت کے 

تصمو لکا حدار ے اور ا کی مرفت کے بخی رم رناءعد یت نی وگی کے 

مطابی جا لی تک موت سے 

انصاف را ہے اک جو مت لہچ عی کے بقول أھکام دن ٹس سب سے اہم اور 
لاگ سمائل شی سب سے اشرف وفوءج[ کا اف رآ ز دای جج ٹ کا خمد جب داد جن کی 
مرفت کے ضیرم ربا جاہلی تک موت ہو ءاگمراس ناککار ونے اہ سک اصل الاصولی“کہدد یا نو 
کیا مھ اگیا..؟ 

20 ش٦‏ کی عبارت کے بین الا سطو رکا بار یک مطالعہ با جا ےک حیدوعرل اور 
مت کے میا ہد بھی شا تقد ة ا مامت ب یک یہی تھے :لاف ما گے : 

”الفصل الأول فی نقل المذاهب فی ھٰذہ 

المسالة ذھبت الامامیة الی أن الله عدل حکیم؛ لا 

یفعل قبیحَا ولا یخل بواجب, وأن أفعاله انما تقع لغرض 

صحیح وحکمۃة وأنە لا یفعل الظلم ولا العبث: وأنہ 

رژوف رحیم بالعبادء یفعل بھم ما هو الأصلح لھم 

والأئفعء وأنه تعالٰی کفلھم تخیییرٌا لا اجبارًاء ووعدھم 

الشواب وتوعدھم العقاب علی لسانہ أنبیائه ورسله 

المعصومین بحیث لا یجوز علیھم الخطاً ولا النسیان 

ولا المعاصی, والّا لم یسق وٹوق بأقوالھم وأفعالھم؛ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


بالامامةء فنىصب أولیاء معصومین منصوصین لیأمن 


الٹاس من غلطھم وسھرھم وخطنھم فیشقادون الی 
أوامرھمء لئلا یخلی اللہ العالم من لطفه ورحمتہه.“ 
(ضاؿ‌الٹۃ ئ:ا :۳۰) 

اس عبار تکا خلاصہ بی ےگہ: 

”جلل خراعادل یم ےء لطف ا کے ڈمہ لاژم و 
رورییےء اور بندروں کے یس جو را شع دسح ہو دو اتی 
پرواجب ہےل(بعدل خداوند یکیتخی رہوئی )انا الکن ت اک خدا 
تال یی ز ینم صوموں سے غالی ہولی ء ور م وچورلا ژ مآ ٠‏ اور را 
یعاد ل تھب رتاء لا عحالہ ارڈ تال یکوسلسل“ خّت جار یکرنا بڑا اور 
آحض ریت صلی ارٹ علیہ ولم پر چون مخت بندرکرد الگا لا محالہ 
انتا یلہا امام تکا جارئ یکر نا اگز ہوا 


گویا لفف وعد ل کا عقیدہ ہبی نت ےء اور نو بر مامت ان تام 
مطالب میں ا پم الرطا لب جس اما مت ے۔ 

عخقی را مامت برقمام اخیاء سےعہدلیاگیا: 
شمبعدراویوں نے ان ہزرگوں سے من نک ما ”توم کماجا جاے؛ اون 


کی روا تجھی بی فراوالٹٰیٰ سح لکی ہی سکرحقی !مامت مرتمام امیا ۓگم راد لیم السلام 
- فؤ آ 72 ٤٤َ‌ٴ‏ 8 کے 

سے عبع لیا یا۔ برددابات شب نیہروں کے علاوہ' حا الا نو ار بیس د یھی جاستی ہإں- 

یہاں بظو ر مال ' ار االوا'ر' سے ایک روابی ت ا١‏ لک رتا نہوں جے بار ا(ا وا ر کاب 


الإ مامۃ ''باب تفضیلھم علی الازییاء می سکراعٗ یکی کن زالنفوائی' ےک لکما ے: 


س۸ گنز الحسن بن ابی الحسن الدیلمی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


علیے السلام رقد تلا ھٰذہ الایة: اذ أخیل اللہ میشاق 

النِیّن لما اتیتکم من کتٰب وحکمة ثمٌ جاءکم رسولْ 

مصهّق لما معکم لِتژمننٌ بہ“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ 

عليه وآله ”ولعتصرنہ“ یعنی وصیّه أمیر المؤمنین عليه 

السلامء ولم یبعث اللہ نبا ولا رسولا الا وأخذ علیه 

المیٹاق لمحمد صلی الل عليه و آله وسلم بالنبوٴة ولعلیٔ 

عليه السلام بالامامة,“ (ججارالانوار ٦:‏ ٦صتے٦)‏ 

ترج:..” اما ہنتف رن سور کل عمرا نکی یت سے 

حلادتفر ماگی اورا ںیقی ریف مال یکہ ”لص وص ہہ“ سے مراد یہ 

ےک اما ۓےکرا مکوعم ہو اکہرسول ارڈرسلی الد علیہ وسلم پچ یمان 

اازدت ‏ 7 بے 7رح ال 

لم کے وی مجن حر تک کی زین _ [ما پت نے رتا 

ال تھی نے جس رسول اور یکوڑھی پیا اس ےئ کی علیہ یلم 

گی ض کت اود نکی امام تکا عس لیا 
اقابوار2قری مض گی ون 

او متسو دمامول“ سےا ل مو نکی ردایا گیا لکی ہی کوک وی امام 
کو پان اورال کی ماثنے بی کے مکلف ہیں ۔ چناغی علا میھینی نے اصو کاٹ ہاب 
”باب العسلیم وفضل المسلمین' بی ای مو نکیاسات زوا یا تا لکی یں ؛ 
یہاں بی ردایت در گیا جاٹی ے: 

”التسلیم وفضل المسلمین 

ا - عدّة من أصحابناء عن أحمد بن محمد بن عیسلیء 

عن ابن سنانء عن ابن مسکان عن سدیر قال: قلث 

لأأبی جعفر عليه السلام: انی ترکت موالیک مختلفین 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٥۱۱٢٣ ۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


یتبرٌّء بعضھم من بعض قال: فقال: وما أنت وذاکء 
انما کلف الناس ثلائة: معرفة الِأئمَةء والتسلیم لھم 
فیما ورد علیهھمء والرٗدُ الیھم فیما اختلفوا فیه.“ 
(أٴسرل)نٰ ح:ا ص:+۳۹) 
رو !سن کھت جی نزیس نے ام پاف کے 
عمف کی اہ :شی ےب کےتیو ںکواسل حاات میں چھوڑ ا ےکہ 
وآ اشلا فی لرۓ یں اور ایگ ڈوسرے رت ا کر ے 
ہیں۔فرمایا: ھے اس سےکیا پکی؟ لوک صرف تین بانوں کے 
ملف ہں: 
ا:... امام ںکو پیا میں۔ 
...اما مو ںکی طرف سے چیم ہوا کو ما نہیں 
:اوہ جات مال ا نکا ا شاف ہو اسے إماموںل 
کی طرفلوٹا یں 
یش سعقیرے کے اخ رخدا.. نوز یااڈر.. عدرل ولط فک صفات حدم ہوجاتا 
ہو سس عقیر ےکا تام اخیاسۓکرا مہم سام سے تما فرشتتوں ے اورتمیام ایا أوں 
سے گب لیا گیا ہوہ اور تام انسانو ںکو یس اکی ایک معقیر ےکا مکلف بنا یا گیا ہہ اگ اس 
ارہ نے ان لیم تر مین عقیر ۓکوشدعہ نرہ ب کا اصصل الاصمول قراردے ویاءنو إنصاف 
را ےرایس تناعا کی بایان اب کے فج بک نت انی 1 
شی یی اِفتر ا کا نآ ما زمستل یا مامت ہے و وس ری وجہ: 
اش ناککارونے جوختقی) امام کو شیع رہ بکا ال الاصول تق ار دیاء ال کی 
ڈوسرگی وجہ بی ےک گر چردونوں فریقوں (شیعہ اورک ) کے ورمیان اختلاف و اف اتیقکی 
نگ طول زعرییی لح داع ے اور تخرات شیع کہ نماز اور سح و کو وی رہ قیام 
صول وف وغ میس اپا ئگ نع اخ مکرلیا سے اناگ نمور وتائل سے اس افتز ا قکاشض 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱١۴ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


جا سکیا جا تو معلوم ہہ وگ اکہدونوں کے درمیان افتزا کا نقتط ہآ ا ز مت امامت ے۔ 
ایلیسشت اس کے قائل ہی ںک یآ ححضرت مکی ارڈ علیہ مم کے بع دم تکی قیادت دسر برادی 
کا فرییفیلی الترتیب جار جزرکوں نے انام دیاء جن نک غلفاۓ راشد نا کہا جا تا ےء 
شی ال دنھم ۔شیعہ نہب نے اپے جم بک مم ال یہی کیک آخضرعیمص ال 
علی عم کے بعد امام برتقی ضرتک یکم الڈدد جج تے۷و: آتحضرتملی ال ملی یلم کے 
سی کے غا ات باعل انی ی کان تھا سا بکرامٹ نآ حخحض رت م٥لی‏ ادڈعلیہ یل مکی وصیت 
سے انا فکیااو رآ خحض رت یصلی اڈ علیہ یلم نے اپنی غلافت دتیابت اورایے حدم تکی 
مامت کے لج جس سچخصیی تکوناعنزدکیا تھا ء مھا مرا نے ا ںکوچچھو کر یک اور بز ر کگکو 
خلشہ بنالیاء ان کے بد پچ ایک او رکوہ الع کے بعد پچ ایک او رکو 7 0 
اد علیہ ول مکی ناعردکرد تخصی تکو چو تفہ پر ڈال دیا۔ فسوی ںکہ اس کے بح دیھی مت 
ا نکی !مامت شعن +وگی۔ 

ار شلیعی تکی ابقدا نظ ےا مامت سے ہولی ہےء چناغرژن عی نما 
کرام یش ای نقط ہآ غا زکی نت ند یکرت ہو ن ےکھت ہیں : 

”وأنه لما بعث اللہ محمدًا صلی اللہ عليه وسلم 

قام بشقل الرسالة ونص علی ان الخلیفة بعدہ علیٗ بن 

بی طالب عليه السلامء ٹم من بعدہ علی ولدہ الحسن 

ال ز کی ٹم علی ولدہ الحسین الشھیدء ٹم علی علیٌ بن 

الحسین زین العابدینء ٹم علی محمد بن علیٗ الباقرء ٹم 

علی جعفر بن محمد الصادقء ٹم علی موسّی بن جعفر 

الکاظمء ثم علی علیٌ بن موسّی الرضاء ثم علی محمد 

بن علی الجواد, ٹم علی علیٗ بن محمد الھادی, ٹم 

علّی الحسن بن علی العسکری,. ٹم علی الخلف 

الحجة محمد بن الحسن المھدی علیھم الصلاۃ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


والسلامء وآن النبی صلی اللہ عليه وسلم لم یمت ال عن 
وصیة بالامامةء قسال وأھل السُنَة ذھبوا الٰی خلاف 
الک کلہ ...... وان الامام بعد رسول اللہ صلی الله 
تعالیٰ عليه وسلم أبوبکر بن أبی قحافة بمبایعة عمر بن 
الخطاب لە برضا أربعة: أبی عبیدة بن الجراح وسالم 


مولی بی حذیفة وأسید بن حضیر وبشیر بن سعد بن 
عبادةء ٹم من بعدہ عمر بن الخطاب بنص أبی بکر 
علیےء ٹم عٹمان بن عفان بنص عمر علی ستة هو 
احدھم؛ فاختارہ بعضھمء ٹم علی بن أبی طالب لمبایعة 
الخلق لەہ,“ 2 مان ال رع:ا ۴ض٠٠۳)‏ 
ضا لف کہ 

شھوو ںکا عقید: رہ ےک ہآححضرت صلی الڈ علیہ لم 
نے اۓ بعد حر تی رص اڈ دح کوخلیف مت کیا نھماء اوران کے 
دی الترتی بگمیاروامامو لکو ...مین ایل سنت کے ہی ںکہ 
آحضرت صلی اللہ علی لم کے بحدابوبکرخلیفہ تھے ان کے برع 
ان کے بد عتاعءان کے بع رت تک 


پک چون شع تک لآ از م لیا مامت وولایت ے ‏ انس ے اں نا فارہ 
ےے ا ںکوشیع نرہ کا ال ااصسول اورسیک ٹر (ایا۔- 


شیعیت کےقیا ما صمول وشرو کا چدار مامت مر ے مسر وجے: 


نر امام کو شیع نرہ ب کا اصل الماصول ٠راردۓے‏ یں تار 


شیع ن مہب کے ماما صول وفھرو کا مار حعحصی در ا مامت" و اپ ےآ 


ائلسنت کے نز کیک اول ا کا می الت سیب جار م یا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱۱٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


اٹ کات الد 

۴شت رسوئل اوڈیسلی لعل ےلم 

۳ انار مت 

* .ھی مت کااہتتمادو اس (جوا نین دئل مس ےکک اسیک بپٹنی ہو) 

لن ححفرات شییعہ کے نز دی کشر کے دائل صصر ف تین ہیں : 

کات الو 

۴.. نت رسول ایی لعل ےلم 

٣‏ ..أخثتفھوشین کے ات ال وارشادات 

اع کے نز دکیک اما مسوم نت ان ایل ہے تاب فیا چررسد؟ یلو 
ایک ظا ہری اصول ہے۔ اکر ذدامگہرائی میس أت کرو کیا جاۓ نے معلوم ہوا شیصہ کے 
نز د یک ان جن د لا لکا مرقع اورخلا ص بھی صرف ایک ہے ]لی امام .چنا نچ 
کناٹ ال دکی فلا ںآ ی تکا قو گل خداوندی ہوناان کےئز ویک ٹول ما م سے معلوم ہہوگا ۔اگر 
اممتعوم برارشادفرما فی ںکہ یآ یت بول یں یوں ہے :نو شیع کے نز د یکول محصو مکی 
با را ںآ بی تکو ای ط رم ما نا ضر درگی ےج ط رع امام نے فر مایا ..._(اہ سک فصبل 
ا شا ءا تسرے باب ہآ ےگ )۔خلاص رکٹ رآ ن کلام ای ہے برق رآ کرئ کی 
وا قوگی خداوندی او رکلم ابی ہونا حیبعہ کے نز دک مم مو مکی تد ہ 
اصویب مروف ے۔ 

چہا تک ارشادات نب ہاور حادىیثشِ رسول ادڈیی٥ی‏ اللہ علیہ وم مکا سوال ےء 
شیبعہ کے نز دیک دو بھی صرف اس صورت میں متتج ہیں لہ وہ نز تصوشین کے ذر لے 
تی ہوں یا اقو ال مہ کے موا فی بہوںء ودنہ چوکمہ ان کے نز دریک مھا کرام عاول وثڑہ 
یں ءلہذراا نکی ای دوایات جوأئ ثتصوشن کے ذ رج نہ چٹھی ہوں ما قول محصوم ا نکی 
ج|ا حر کرجا بوہ دہ شیعہ کے نز دک سا قط الاختبار ہو ںگی ۔ نام گیتوں ختں شس 
علامہ بات رحس یک یکتاب' بھارالاٹوار“جتزودوم (شٌُ چر ی) تاب اعم می باب(۸٥)۷‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


”ما ترویہ العامة من أخبار الرسول صلی اللہ 
علیےه وآلے وآن الصحیح من ڈذلک عندھم علیھم 
السلامء والنھی عن الرجوع الی أُخبار المخالفینء وفیە 
ڈذکر الکذاہی“ ( بھارالاثوار ريج:٣‏ ص:٢٢۲)‏ 

رص اباریثغ فرش نکی روامت ے ہیں ان 
بن ےک فیا ہی جو آئی کے بائس وو اؤ ناش نکی ردایت 
کرد دی طرف جو ںجکرن ممٹورع ہہ اود اس یاب میں مەوئیٰ 
رواقی کر نے والو ںکابھی کر ے؟' 


الس جاب شی ا لمفمو نکی ۲٣‏ ااردایا تا لک ہی کہ اما مکی نید تد فی کے 


بی رڈوسرو ںکی رواحی تکا اختبا رکال ۔ ای با بکی روابیت اایش ما مھ نف کیا ارشا‌ لکیا 


ل: الطالقانیٗ: عن الجلودیٔ, عن محمد 
بن زکریّاء عن جعفر بن محمد بن عمارة قال: سمعت 
جعفر بن محمد علیھما السلام یقول: ثلاثة کانوا 
یکذہون علٰی رسول اللہ صلی عليه وآلە ابوھریرۃء وأنس 
بن مالکے, وامرأۃ. (بیان: یعنی عائشق“ 

( ارالاوار :۲ ۴ص:ھےا۴) 
ترجھ:. ”تین صوال یآحضرت صلی او علیہ سکم رمجھوٹ 
باند نت الہ ریاء الس من مالک اور ایک عورتےے' (ہی 
رت جا کشرشی ایڈكتہا..لتوزپائڈر...) 
اوراسل سےا لے سے پرردابیت؟ اامام بات ےی لکی ے٠‏ 
- اقول: وجدت فی کصاب سلیم بن 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


قییس الھلالی ] فان بن آبی عیاش راوی الکتاب قال:- 
ال آبو جعفر الباقر عليه السلام: لم نزل أُھل البیت منذ 
قبض رسول الله صلی اللہ عليه وآلە نذلٌ رنقصی ونحرم 
ونقعل ونطردء ووجد الکذابون لکذبھم موضعًا 
یعقرٗبون الی أولیائھم وقضاتھم وعمّالھم فی کل بلدة 
یحدثون عدوٌنا وولاتھم الماضین بالأحادیث الکاذبة 
الباطلةء ویحدثون ویروون عتّا ما لم نقلء تھجینًا منھم 
لناء وكَذبًا منھم علیناء وتقرَبًا الٰی ولاتھم وقضاتھم 
بالزور والکذب.“ (ہارالاثوار :۳ ص۲۷۸۸:۱) 

لے نب سے رضول انی اللعلے وع مکاوصال 
ہواء کم ائل وی تکو پمیشہ ذ می لکیا جا جار باء ذو رکیا جاا ر ہا حرو مکیا 
جانا رہام لکیا جاتا دبا اود ذحتکارا جا تار ہا۔ او چوڈوں نے اپے 
وٹ کے لئ یموئ مایا اکردواہینۓ دوستول تقاضیو ں اورعا سی 
کا ہرشٹہ میں متقرب حاص لکر میں ء دہ جمارے ُشھشوں اور النعٰ کے 
گمز شید دوستوں کے پا پال او رمجموٹی احادیث بیا نکرتے اور 
مارگ جاخب سے امک اعاد ییث زوا تک تے ہیں چو ہم نےنیں 
ہیں ۔جس سےا نکا٭ تد ہمارکی نے بی نکر نام پرججھوٹ پا دنا 
اورکھوٹ طوفاان کے ذر یج اۓ دوستوں اور تقاضیو ں کا فرب 
۴ ھ2 


یوین کے ال نگمراں قرارشادا تکو یڑ جم کے بعدرکو نل مد ہوگا جو 


صحا ِکرا غاد جا ان عظائ مک یع٠‏ لکردہ احادبٹ پر اختا وک ےگا..؟ ان شلککی ابی ت کا 
ارشاخداونلدی ہونا او ریا حد بی کا رش ویویی ہونا شیع کے رو یک ٹول امام رصرے۔ 


نا اصل اراصصول وب یمم لء!مامے''گُہرا_ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢۱۵۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


راز ام" چس 

ان تام مور ے اوح نظ کیج شی کا اقب امام ی ود نع کی دییل ہے 
"ماس خر ئے کا ا یانزی نشا نیا مامت ے؛کیوکہ ہف رقہ اپ ےآ پکوا سے لقب سے 
مق بک ارتا ےئ گے انا دکی ونظیا لی نشا نکا پچادرے۔ ایل سنت وا ماع" کا 
لتبتا:ا ےلان ے اعتقادا تکا قطب ”ما انا عليه وأاصحابی“ ےءاورا نک 
اخنقا دکی ہی ءا خلا تی ورای نام سنت نیو یع صاجہا الف الف صلو ق7 وسلام اورسنت 
صحا کے داد پگ رذ شکرتا ہے ۔معترلہاہی ےآ پک صحاب التحیدوالعدل کے تے, 
کیوئکہ ان کے خیال یس ا نککا !لیا دی طف تو حیدوعدرل ک ےگ ردگھومتا تھا( ان کے یبال 
تَحید وعد لکی جوبھ ی تفر ہو)۔ اىی طرح حعفرات شیحہ اپے آ پکو'إمامي" 
”ا اش ری کے قب سے علق ب ہمز تے میں تا سے نف سکر ما ود انا پا 
کے ا صول وٹر ور اورا عمال واغلا قکی گی قطب !مامت ےگ ردکھ وی ہے باوچجودال 
کےک نو حیدوعد لکی ونتل ارات یس شیبعہ اورمت لہ کے درمیان انھاتی ےتکن شی 
مز کی رع ےآپ اد جاب العدل والتوحی“ ہی ںکہلا تۓے کیو تید مامت 
ان کن زد یک و حیدوعد لک ا نضیرات ےزیاد:اکیت رگتا ے_ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ووسری کٹ : محمقی ر٥‏ ام کا مو دا پاش ہکن سیا یہو دیی تھا 


آ ا بک رییفرماتے ہیں: 

:۸ب رآپ نے بیتا اع مکیا ےک داد جن سا 
نا ھی بیبودگی جس نے حضرت عمان رصی اڈ دح حور رکھا او رآپ 
کے لکا بب بنادوظر قد شی کا موجدے۔ میدور فی رٹائی بات سے 
جع سحھے ےکی جارجی سے حا لان جیا علاۓ ایل سنت نے 
رارق بن سا کے وجو دہ یکا اکا رکییاے۔ نکاس کے عقا دو 
نظریات ن یناب میں منقول ہیں اورنہ بی ہو سکنے ہیں ؛کیوکہ 
ری کپ سیا امیا :شرع عقائدادد با سال سے اس کاکیا 
معلق ہو سکتا ے؟ آپ جیسے ناضل کو کس شال کی 
انی سک وہ اہ لب مکی ب ےی با جیا لکرتا ر ہے ۔ شیع مہب 
عق ونظر وت اور فی میا ل کا تو کی ۴-0 
راد بن سیا کا کوگی وچود سےء من ھی ا کے نظ ربا تکو مان 
کر کے ایں لبطورجت یی کیا جا جا ہے ۔ مول نا ت ےھت م ! آپ 
اس با نکوتے صلی مکر یں ک ےک معتقد علیہ علماء کے جیانات سے 
تن لا لک ناب یی ف رت ےک یکت بک تاد یتاےء اور عال ماب 
مر ےکر 9 2972:. یں عمپرااڈ بن سماکو موچ دکی 
حیثیت حاصل ہولی تو ا نک یکمابوں میس اس ملعون کے نظ ریات 
سے استقدلا لکیا جا تا چہائس مردودکا مک یساب میس حواننٹش 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


پآ پ کےعمم میں ال یکول یراب ہو تقیرکوض رو رمع ف رم 
كیَ9 ہوز اگ 
اس ناک رون لظھ ری ولا بی تی کا کر نے کے بداکھھا تمحر تی کی 
!مامت دولا یت اوروصایت کے جونظ رات شیع مہ بکا نقل ہآ نا ہیں : 
ان عق تد ونظریات وا ہیر سر نأ 
مزا فن تھے( عبرا بن سبااوراس کے رفقاء) جو !ملا ہیف حا تکی 
لغارےگح ل کی٢‏ نک رک راب ہو گنئے تے....:' 
ناب نے ایی کے ہار مل فرمایا کہ ری ٹائی بات سے جوخرصہ 
سے ےکی جاردی ے۔“ 
جوا زار ےک ہاگ ری رٹائی بات ہے محاف بے ابیآپ ىی سکم 
2۵ء/.0) ہے چنا نج علا مہ ما متقا لی ”تع التظالی یس اور علا میتی ہھارالانو ارس 
رگ و 
”وذ کر بعض أُھل العلم ان عبداللہ بن سبا کان 
بھودیٔا فاسلم ووالی علیٔا علیہ السلام وکان یقول وھو 
علی یھودیّته فی یوشع بن نون وصی موسی بالغلوٌ فقال 
فی اسلامه بعد وفاۃ رسول اللہ صلی اللہ عليه وآله وسلم 
فی علیٗ عليه السلام مٹل ڈلک. 
وکان أوّل من اُشھر بالقول بفرض امامة علیٔ 
عليه السلام وأاظھر البراءۃ من أعدائه ‏ و کاشف مخالفیه 
واکفرھم, فمن ھھنا قال من خالف الشیعة: أصل 
التشیّع والرفض ماخوذ من الیھودیّة.“ 
( بعارالا وار رخ:۲۵ صك۲۸) 
ا اس 23 ےک بر اد بن سا 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹۵۷۱۳۳۱٥٢٣. ۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


دی تھھاء میں الام ےآ ما اور جا پ رہہ 
مم ئے ایا اور مر 


بواء بای بہددیت کے مانے میس اوح بن نون علیہ السلام کے 
پارے می نوک تے ہو ت ےکہاکرتا خھ اک دو موی علیاسلام کے سی 
ںہ بیس اسلام لا نے کے بععدام یھ کی جات دو رت لی شی الد 
عنہ کے پارے میں سے لگا ک ہآ تحضر ت مکی ا علیہ مل مکی وفات 
کے لعحددہآپ کے وی تھے ۔ 

بیسب سے پپلاٹھ ہے جس نے چو رکیاکتفررت 
میارشی الد کی امام تکا ال ہو 07 ےء اورال نے معضرت 
لی شی ارڈ رنہ کے وشمنوں پر( جٹس سے اس عو نکی مرا د خلا ے 
راش دخ ے ) اعلاشیتبراکیا او تخت لی رشی الد عتہ کے می نکو 
واشگا کیا اوراا کوک رکہا- 

ہیں سے وولوک جوشبعہ کےفخالف ہیں بی سکیتے ہی کہ 
تح ا وذ اض یت1 بودی گاج ہے 


نگ چڑگی دی کے اکائ شی رش جے اور یلین ہیں جنخھنوں نے 


شیع اساءالر جال ہلیم اُٹھایا ”رجا شی اور د جال ضجاشی “جن سے علامہ باق گی نے 


اتی کاب بھارالانو ارک استتفادءکیاےء ان دوٹوں کے پارے می س کھت ہیں: 


”و کتابا الرجال علیھما مدار العلماء الأخیار 
فی الأعصار والأمصار.“ ( ہارالاٹوار رع:١‏ ص:٣۳)‏ 

چھتت توعا نکی یددطو لکنائیںء ائسی پر پیلد یرہ 
علماءکابرارے نما ز ماپوں می اورتما شہروں میں“ 


فرص !اج تا ب نما ما محصار وا مضصمار یل علما لئ ایا رکا مرا گی کے ای 


ات مز تا کت سن سمل ماس شاک 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷۳٥٢٥٢٠٣۹۰ ۸۷۸۲۹6۴۷ 


نے بھی ظریے مامت ین لکیاء اس نے اپے چیٹوااجن سا یہودگی کے ہ حکمردو سک 
نیاد یر ملا مامص تکی بلنعد و الا عھار تی رکی ۔اب اگ رآپ اپنے وٹنخت اورم رش الال 
سےکفما ننحقت فر ما می سذ ال لک اکیاعلا نے ..*؟ 
کیا عراش ین سپا کاوجودڈصی ے؟ 
او رآ ناب نے جو یٹ مایا ےک : 
تا علاۓ ال سنت نے عبداد جن سا کے وجوددی 
کاانکارکیاے۔“ 
گیا آپ مہ باددکرانا جات ہی ںکعبداوڈربن سانش ایک شی نام ےہ 
تحلشین اس کے دجودج یکا نکارکرر سے ہیں :شید رہ بکا موچ“ کی ہگ رہفت می ا 
خر بکو ہدنا مکیاجار اے۔ تھے معلو فی سک خجناب ن ےگ ن خلا ایل سن تک تن 
ن٦ل‏ فرمائی ے اور یکا نکاصعھی مرحبہوتقا مکیا ے؟ چا ںتک اس ناککار ہکاعلم ءا کاب 
علیاۓے ال سنت نے وی بات اخ لکیا ہے جوعلا مہ گیا ن گی ے اور جیے ابھی علا کسی 
گی سارالاؤ اگ ری اا9 و9" الال کے جوالنے ےف لک چکا ہوں۔ 
الاسلام حافظط ان کت ہیں: 
”ذکر غیر واحد منھم أن أوّل من ابعدع 
الرفض والقول بالنص علی علی وعصمتہ کان منافقًا 
تسا راد فساد دین الاسلامء وأراد ن١‏ یصنع 
بالمسلمین ما صعع بولص بالنصاریٰء لکن لم یعات لە 
ماتاتی لبولصء لضعف دین النصاریٰ وعقلھم, فان 
المسیح صلی اللہ عليه وسلم رفع ولم یتبعه خلق کثٹیر 
یعلمون دیٹه ویقومون به علمًا وعملاء فلما ابتد ع 
بولص ما ابعدعه من الغلوٌ فی المسیح اتبعه علی ذڈلک 
طوائفء وأحبوا الغلوٌ فی المسیحء ودخلت معھم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ملوک, فقام أعل الحق خالفوھم وأنکروا علیھم 
فقتعلت الملوک بعضھھم وداھن الملوک بعضھمء 
وبعضهھم اعتزلوا فی الصوامع والدیارات. وھذہ الّمَة 
ول الحمد لا یزال فیھا طائفة ظاھرۃ علی الحق فلا 
یسمکن ملحد ولا مبتد غ من افسادہ بغلوٌّ وانتصار علی 
القء رٹکن بسل نی یدع الف“ 
( اح الت" مخ:٣‏ ضص:٣٢۲)‏ 
ترج...' اورشیعہ جوائل سنت کےغلاف ما موم 
دی رہ کے دو ےکر تے ہیں ء مر دداصک لاک منا 2009 
ہے چناچر ہت سےاللی_لم نے ذک کیا ےکرسب سے پیل نس 
نے دن ایا وکیا اور جوسب سے پل حفرت می رشی بلح کی 
مامت وکصس تکا قانل ہوادہ ایک منای زین لی (ععپدابڈن‌سیا) 
تھاء مس نے بین الا مو گاڑ نا جا پااورائسں نے مسلمانوں سے وی 
ھی ںکھلا جا اج پاس نے نصارکی سےکھیلا تیاہن اس کے لے وہ 
کن نہ ہواج اس کے لکن ہوا یدنگ نصارکی بس دی نکھی 
کزرد تھا ون لکیبھ یک ھی کیو حضر تک علیہ السلام (آسمان 
پر) اٹھا لے 2ئ کے پبروزیادوشہ تھے جولوگو ںکوان کے 
وی نکینعلیم دتے اوران یلم و لکو ن ےک۷ رکھٹرے ہوجاتے پا 
جب لایس نے ضر تک علیہ السلام کے بارے میں فوخ را عکیا 
لو کاپ بہت ۶-8-1 یی کے وو کے اوز و نی علیراسلام کے 
پارے یں فلوگو پہندک/ر نے گےء اوران خالیوں کے ساتھ بادشا بھی 
ملو ہیں واقل ہو گئ اس وفقت کے ا لف کھرے ہو ئے ء انہویں 
نے ا نکی عفالش تکی اوران کےنلَ گی رکی :نخیجہ یئن ا لتق یل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱٥٢٣. ۸۷۸۲ ۷ 


ا ان ہحوچه جووہ جو جب 


ےئ کو مادشاہوں- 1۳21ء7“ اص ترشی عھ ےکا لیا 
اورا نکی ہاں یس ہاں طلای ءاورٰمض ںگرجوں اورخلوت نانوں میں 
وش ین ہہوگئ اور امت سلمہء او تھا یٰکا کو کو شکرس ےکہ 
ال ڈل ال ,قاقت يشػق رام اور الب ری اس نکی 
یداو کیا برعت ا یچادکر نے وان ےو برق رت نہہہوئ کہا لأممت 
کرغاوکی راہ رڈال دے ارت فا اشک لآرہے۔ ہال! ا ےمد 
ان لوگو ںاویضرورگمرا کرد نے ہیں جوا نیک گرا بی یس ال نکی پروی 
ااررش: 


اورھافٹڈشس ال دن الہ ےگ" سی میس ا یکا خلاصہ در خکیاے۔ 


عل رش ستائیٰ ‏ مل وابھل می سکیت ہیں: 

”السبائیة: أاصحاب عبدالل بن سبا الذی قال 
لعلیٗ عليه السلام أنت اُنت؛ یعنی انت الالهء فنفاہ الی 
المداینء وزعموا أنه کان یھودیٔا فأسلم؛ وکان فی 
الیھودیة یقول فی یوشع بن نوغ وصی موسی مثٹل ما 
قال فی علیٗ علیه السلامء وھو أوّل من أظھر القول 
بالفرض بامامة علی.“ (زالل وائحل ج:٣‏ ص:١)‏ 

تجمہ:.. سائیہ: عھبدائلد جع سیا کے چپ دک ہلا تے ہیں 
جس نے حعضرت٣یلی‏ شی الد عنہ کہا اک ہآ پبآپ ہیں ءیژنی 
آپ می خداہیں ۔کحخرت کل نے ان ںکویدائ نکی طرف جلا ۲ نک دیا 
تھا۔ کے خی ںکہ یہ یہددی تھا ءاددای بیہددیت کے مانے میس اش 
بن نو ننکو مکی علیہ السلا مکا بک یکہاکرتا تماء جیا کہ وو خر تی 
7+ 1,1 
ےکی ایژن.۔ یسب سے یلان سے شس نے انس خلڈیر ےکا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


انکہارک اک تخت کیاکی امام تک تقائل ہونافرض ے 
حافظ اہ نتر ”لان المیزراان یں لکصتے ہیں : 

”عن أبی الجلاس سمعت علّا یقول لعبداللہ 
بن سبا: والله! ما أفضی الیْ بشیء کعمہ أَحذًا من الناسء 
ولقد سمعت یقول: ان بین یدی الساعة ثلائین کَذَابًاء 
وانک لأحدھم. وقال أبو اسحاق الفزاری عن شعبة 
عن سلمة بن کھیل عن أبی الزعراء عن زید بن وھب 
أُن سوید بن غفلة دخل علی علیٗ فی امارته فقال: آنی 
مررت بنفر یذ کرون أبابکرء وعمرء یرون أنک تضمر 
لھمامٹل ڈلک, منھم عبدالل بن سبا وکان عبداللہ أوّل 
من اظھر ڈلک: فقال علیٔ: مالی ولهٰذا الخبیث 
الإأسود؟ ٹم قال: معاذ الله ان أضمر لھما الا الحسن 
الجمیلء ٹم ارسل الٰی عبداللہ بن سبا فسیرہ الی 
المدائنء وقال لا یساکنٹی فی بلدة أَبداء ٹم نھض الی 
المنبر حتی اجتمع الناس فذ کر القصة فی ثنائه علیھما 
بطوله وفی آخرہ: الا ولا یب۔لغنی عن أحد یفضلنی 
علیھما ال جلّدته حد المفتری. وأخبار عبدالللہ بن سبا 
شھیرۃ فی التواریخء ولیست لە روایةء ولل الحمدہ ولە 
انساع ینمال لھسم السبائیةہ معتقدون الھیة علیَ بن أبی 
طالب؛ وقد أحرقھم علیٗ بالنار فی خلافتہ.“ 

۱ (نیان|'سزان عج:٣‏ ۷ص:+۹٢)‏ 

تر جھ:..' ادا پا کت ہی ںک بیس نے حر تی ری 

اع نہک وعبدابلد بن ساس ہہ کے ہو خودسنا ےک الیل دک یا ا 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


جات ہا دہ ہوم زکیاکولی با تائیں جال 
تی سکوکی سے چچھیایا ہو اوربیں ےآ تحضر ت صلی اور علیہ مل ما ىہ 
ارشادخودس اکز ”قیامت سے پی لی ںگھونے ہوں گے و بھی ان 
ٹس سےایک ہے۔ 

ااواسحاق فزارگی نے اتی ند ےق لکیا ےکر حض رت ئل 
ری اش عنہ کے ز مان خلافت میں سو یبن خفل ہآ پ کی خدمت ہیس 
عاض ہے ء مو لآ کی خدمت می ںع کیا کہ : یس چو لولوں 
کے پا سےگڑ را جوا لوک وعھمررشی اک کون ای سے یاوکر رے 
ےہ ا نکی راۓ یہ ےک ہآ پبھی (ھتنی ضر ت کل ھی ) ان 
دوفول کے بارے مل مکی بات اپینے ول شل چچھیاۓ ہو ہیں 
و کہ سے ہیں ۔ ا ںگ رو ٹیل سے ای کعبد الد بن سپاے۔ اور 
خبدائلہ با باب سے ہلان قھا جشنن نے ان کا ر وت 
صن کا)انظمارکیا۔خفرتٹانے می ری با تک نکرف اا: کےا 
کا نے یت (ع بدالل ین سیا ےکیائنفق ؟ رما کہ: ای اہ 
مزف جن ات پاررے بین بچخلائی او تو کے سو اکوئی اور بات 
اپنے ول مشش چھیا ئں۔ تچ رآپ نے عمیراید جن سہاکو جا بھیچا یں 
ا کو مدائ کی ططرف پچ کیا ادرف مابا: ہہ میرے ساتھ ایک شر"یس 

کیں دہ سکتا۔ پچ را ٹ ھک رنہ پت ریف نے ےہ ہا لی کک ہلوگ 

مجح ہہ گے ۔ ہا ں راوئی نے عو یل قصہ ذک کیا ے مس میں مضررت 
لی یی الل حنہ نے فو کی مدع ھا فرمائی اس کےآخر میں 
ححخرت لی کے الفاطا رت : 

جک کن سی ےک کی کی ےلکن 
کردہ جھےٛ رن رفضیات دتاےء می اس پہ پان لگانے والے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


گید( ا گاؤڑے)وار کرو ںگا“- 
عب راید بن سا کے عالات تو ار یش مشہور ہیںء اور 
ائمدیش کہ اا سک یکوٹی ردای تی٠‏ اس کے بکتھ پیردکار ہیں جن نکو 
”اتی کہاجا اےء دو خر تی شی الڈدع نکی الو ہی تکاعقیہ 
رکھتے ہیں ء اذ رتحضرمت لی ری اڈ دعنہ نے ال نکوا اگ می جڑا یا تھا_ 
ان سا کےلنظ رات اوراا سک لمات : 
آ ناب ع بدفرماتے ہیں: 
”نز کہا کے (ائ نس اکے ) عقا مد ونظریات ںی 
کاب میں نقول ہیں اورنہىی ہو سے ہیں ءکیونکہ بی ر کرت 7 
تی :شر عق حداور مان سال سےا سکاکیتتلقی ہوسکتا ے؟'' 
اش ناکارءکو ےکھت ہو خہایت رر ہوتا ےکآ خجنا بک دگوکی مل اور وشحل 
سی ہے ءمیھ یکا دونوں تالوں ٹیس ئن سیا کے قد مرکو ر ہیں ء چنا تی 
: .اس ملتوع نے سب سے پیل ریہ یک یاکہحفرت امو رال مو من رشجی 
الع رات ]نین ری اکنا سے ال ہیں ۔حفرت ا مہڑنے ا سکو لاکر مرش 
۲ فرمائی ءا سکوجلاؤش نکردیااور بر رمنبر خطبرارشاطظر مایا 2207 
بفضیلت د ےگا اس پیمغفت کی حدلگ کو ںگا۔ علا می سی نے ”رای شی کے جوالے 
سے اما چتتفرصادقی کا ایک طو مل ار شاف لکیا ےج سکا ای کنقردری ے: 
”'وکان امیر المؤمنین عليه السلام أصدق من 
برأ اللہ من بعد رسول اللہ صلی الل عليه وآله وکان 
الّذی یکذب عليه ویعمل فی تکذیب صدقه بما یفتری 
عليه من الکذب عبداللہ ابن سیا لعنه اللہ“ 


( :ارالاوار رمج:٣‏ ص:٣ا٢)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٥٢٣ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ا یرون رسول ایی الیل کم سے 
وھ ھا ے وروش نپ پرگچفوٹ باندعتا تھاء اور 
گپھوٹ پا او 7 پ کے مک وگیمونا ا ہم تک رتا تماد دای جن 
سپانھاء انال کی ا مراحنت ہو 
غالبااسں نے حطرت امیر جو پنے در ہپ ےگھوٹ با رھ ان بجی سب سے ہا 
جوٹ بی قکرامی ال مو سیا عفرا ت"پجخن ےل ہیں ءاورا کا یی قد تاج کو 
نکر امیر الم تع کے روگ ےکھورے ہو لئے اور اس ملحون کے اسیعلحونعتقیر ‏ ےکا 
جب خیا لآ جات تھا فو امام ز رین العابد ِ کےبھی رون ےکھٹرے ہہوجاتے ھھے۔ نات 
غل انی ئے تھی نوا ےت ان اکا بارش ل سے 
”لعن اللہ من کذب علیناء انی ذکرت عبداللہ 
بن سبافقامت کل شعرۃ فی جسدی لقد ادٌعی أمرٌّا 
عظيمًاء مال لعنه اللہ“ ( ہیا راا وار ر٤:۲۵‏ صضص:۲۸۹) 
تر جمہ:.. اش کی انت بہواس پر جو یم پرگھوٹ باند ھھےہ 
ٹس عمبدریش بن س اک یادک رتا ہہوں نو میرے بدع کے سار ے رو گے 
کرے ہوجاتے ہیں ءا نے ببہت بڑکیابا تکا دوگ کیا تھا ءال سکو 
کیا گیا تھا ؟ اڈ تال کی انس مراحنت ہو 
۳.. .اہنع سپا کا عمقیر ولا یت کی أو یآ چا ےج سی دولوگو ںکملیم درتا تھا 
88 تحض ری مکی اول حا یلم نے امیر الھ مت کو وشیر علوم سے گلابی می گیا ءکیوگہ 
آپ بی رسول تھ چنا خلافت دولا بی تحظرت امب رالھو نان کا تھا اور یہ ان ے 
پیل کےحعفرات غانغا ۓ راشد بین ری اڈ ٹم نے ا نکا یقن خحص بک رلیا تھا ءلہنراان سے 
تم اضروری ہے ”تع التقال اور بھارالافوار“ کی دو روایت جوأو مم لکر ہکا ہوں اور 
نس میں با ایا ہک وصایت وو بی تم یکا عقیدود سب سے پیل این سبا نے مشہو کیا 
تھا اوران پت راسب سے پیل اس نے رو حگمیاءاس بی ھا رالا نوا“ کے اض نشی کا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50910۲٢١۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹٣6 ۷7 


ےجا شیہپڑ امن تجیڑے: 


سج زور 


کراء 


”کان قبل ڈلک یعقون ولا یقولون علانیة 
تلک الامورء فظھسر وتسرک التقیة واعلن القول 
بہڈلک. القول بکفر المخالفین من مختصاتہ لعنة الله 
عليه.“ (بجاراانوار رعخ:۲۵ ۴ك۸۰) 

ترجمہ:..' عبدالل ین سباسے پیل کے لن کیہ سےکام 
لیت تہ اور ان مو رکو (ک حر تعن بھی رسول ہیں٠‏ ان 
ال مات میں صن سے اأضل ہیں ) اعلاعی کیل کے تے۔ لکن 
اس ملحون ن ےت جوڑ دبا اوران پان لکواعلا شک گر ناش رور ]گردیا 
(معلوم ہو اک جولو کک ہکو چو ڑکراعلامی رت لیکو یھی ء صن 
مامت اورتعقرات خر ہے ال کا وی٠*‏ ون نات 
قلد ہیںءاس سے پیکوئ ینس ان بات کا اعطاش اہی کر 
تھا - نال ) ملین امام کوک ف رکہنا بھی ا سکی خصوصیات یل 
ےا پان دکیلھنت ہو“ 


...٣‏ بھی أو رآ چا ےک وو خر ت لی ریصی الد حنہکی لو ہی تکا حقیدہ رکتا 
را یں فرح سادق' کاارشاوخ لکاے: 


”لعن اللہ عبداللہ بن سبا انه ادٌّعی الربوبیّة فی 
أمیر المؤمنینء وکان واللہ أمیر المژمنین عليه السلام 
عبداللہ طائمًاء الویل لمن کذب علیناء وانٌ قومًا یقولون 
فینا ما لا نقوله فی أنفسناء نبرأً الی الله منھمء نبرا الی الله 
منھم.“ ( بھارالاوار ع:۲۵ ۴ص:۹٦۲۸)‏ 
ترجھ:..”عد اد بن سبا بر اال کی لعنت کہ اس نے 


امیرالھوننیشن کے پارے میس ژربوبییت کا کی کیاء الیل کی م١‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


امیرالھ نیشن علیہ السلام اللہ تما یٰ کے فرماں پردار بنرے تھے 
لاکت ہوا کے لے جو ہم پرججھوٹ باند ھھےء پچھولوک ما رے 
ارے می امکی با ٹیش کے ہیں جوم خوداپن بارے میں یں کے ؛ 
چهم اد کےسامئے ان لوگوں سے براءوس کا انظمارکرتے ہیں (وو 
رت رایا)۔' 
”...ای کے سا تھسا تح دہ اپینے لے نب کا چیا دو کی رک تھا ءعلا ‏ سی نے 
”جال ی شی 'او من تق بآل ال طالب کے توانے سے امام پا تر کا بیاشاأ‌ لکیاے: 
۷7- کش: محمد بن قولویه عن سعد عن 
محمد بن عثمان عن یونس عن عبداللہ بن سنان عن أبيه 
عن أبی جعفر عليه السلام ان عبداللہ بن سبا کان یدذعی 
النبوٌّۃ ویزعم أنٌ أُمیر المؤمنین علیہ السلام هو اللء 
تعالی عن ڈلک, فبلغ ڈلک امیر المؤمنین عليه 
السلام فدعاہ وسألە فاَقِرٌ بہڈلک وقال: نعم انت ھوء 
وقد کان ألقی فی روعی أنک أنت اللہ وانی نبی۔“ 
(:ارالانوار خ:۵٢۲‏ ص:۲۸۹) 
ترجہ:..' عپرالڈلد ین سہا نم ذ تکا دگوکی رکا تھا او رتا تھا 
ہام رالھ ومن علیہ السلام اوھ ہیں ء ال تال اس سے الات ہیں 
امیر ال ؤمنشن علیہ السلا مکو ا کی مہ بات گی فو ا سے لا جھیچیاء اس 
سے پ پچھا ناس نے اھر اکیااو رہ اہ ال ! آپ دای ہیں میرے 
ول یس یہ بات ڈا یگ یکپ ال ہیں اوریل بی ہوں_' 
سا کے پیل ان حقیرو ںکوشۃ فرقوں نے آ ٹپ می نشی مکرایا۔ چنا نشی 
شیعوں نے اس کے پی عقیر کو لے لیا کی رافضو لن اس کے و وسرےگقیرے کپ 
ان عقا تد نمارت ا حتوارک لی ءاور ا لی رای ں ن ےآ خریی در ہے بر چا 2م _یاء الم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳٠٥١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


وچجر رج ہو سر دگیء چناض 


عبرالتز: محرث دبوق ا سے 


تسا تکو ہہ تنعل سے ذکرفرمایاےہ یہاں اہ سکیتضےع کات جم بی کرجا ہوں : 


ترجمہ:...” جب غلفائے جلاظ رشی ال رٹم کے ز مانے 
یں ببودواصارگیء یں اور بہت رس تکا مرویں |گما لک بخنایت 
خداوندیی صھا کرام رشی ال ٹم اورجا مان عظام رحمنۃ اڈ ھجم کے 
اتھوں رع ہو ے او رکفارگونسا کو کر نے ء قیدکرنے اود اع کے 
اموا لکوفزیمت بنا ےکا انھاقی بہوااورا نکافرو ںکوکال در ےکا 
ات وعار لاح ہوٹی.... نا چا رخلیض ال کے دور بی انہوں نے 
ایک نیا حیلہافتارکیاء اور وفری بپکی مضبو ما رت یکو مضہ ما تھاماء زا 
ا نکی ایک بڑکی جماعت نے اسلا مکا مہ پڑ کر ابے آ پکو 
مسلمائو ںکی فبرست میں وا‌ لکردیا اورمسلائوں م رس 1 
الام کے بھا نے اورمسل راو کی بضماععت می مت وف سادا ور و 
عنادڈالۓے کے دربے ہو ء اور اس مقصد کے لے حیلہ ون ہر 


اس سازگی ٹون ےکا سربراہ عپدالقد بن سپا یہودی گنی 
صنعا ی قھاءجنس نے برسوں کک بببودیت یں میں و اإطلا لک 
سجن ابلن کیا تواء دو دنا وف ی کک شظررح کا تر کا رکھطا ڑکی فھاء تہ 
گمیزی کے سرد گر مکوخوب بیکھے ہو ۓ تھاء ا ودرا لق ددق مییران 
کشیب وفر از گر کے ج ءا لم کین پروری اکا بہت بی ماہرد 
تر کارتھا۔ ال نے ال تریس سے رای ککو ایک الیک رک 
سےفر یبد یناشٹ رد عکیا اود رای ککی استعداد کے منا س گرا یکا 
ون کی میا درنگی۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


پیٹ اس نے نادان ٹیوگی کال عحبت و ا خلا کا 
اظمارکیاء اور ائل بیت سے محبت رکتے اور اس معا ٹل میں خوب 
کی ایارک رن ےکی تیب بی شرو کی :خلیفہ بت نکی جا بک 
ازم چھڑ نے ء ڈوسروں پر اا ںکوتر یع دئنۓ اوراس کے مخالنفو ںکی 
طریق کا نہر ن ےکو بیال نکر نے لگاء ا سکیا یریب ہرعام ود 
اص میں مقبول اورقام اب اسلام کے لے مفحوب ہوک اودااس 
سے لوگو ںکو ا ںکی نشمجحت و خرخوابی کا اخنقاد ہوا۔ جب ایک 
بماعح تکواس دا فر جب مگ راکنا و سب سے پ یلو اکیں ىہ 
اق مکرنا شور کیا کہ حربت لی نی نشی ارڈرع ہآحخض ریت ملی 
اد علیہ عم کے بعدتام انمانوں ہے انفل ہیں ء ای ںآ حشرت 
یی الد علیہ عم کا ار سب ے زیادہ غاصکل ے)ء اور وہ 
آحضرت لی ارڈرعلیہ یلم کے بھی ء برادراوردامادٹں- 

جب اس نے دی ھکاس کے شاگرد حضرت کیاکی ترام 
صحا بن رفضیلت کے قائل ہو گگئے یش اود یہ بات الع کے ذ ہتوںل میں 
خوب راغ اورپ ہوگئی وا خصوی ہم رازوں اور چیدہچیزہ 
بوستو لکوایک تۓ یدک یلیم وگ یکرحرت منقیع 1ض ریت صلی 
علیہ یلم کے بی تھے ہآ تحضر ت کی اللرعلیہ یلم نے ا کس 
سرن کے سا تج خلیفہ بنا یا تھاء ال کی خلا قت ق رآ نکر مکی آبیت: 
'انَمَاو لُک الله وَرَسُولَ سے مت ہوٹی سے نان مھا نے 
پر ٹس کی ت کوشا ت گزد را ہانہہوں نے شداادد عو کی 
اطاعع تنج ںکی ؛حطرت مرن کے نکوخحص بک رلیا اورسب کے 


بد ےکی وج سے ان مسائل رافنگوشروغ ہوئی ۔حفرت ا سر نے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۰۷ 


رون غلفماۓ ملا بر سب مک شیو ئا 
ا نظ نووا کت 7 گیا کرحضرت 
امیردی اش عنہ نے برس مض رضلأےارشادفرماۓ اورال جاعت سے 
زار یکا اظھہما رف مایا اور ھلوگو ںکووعیدسائی اوران برع لان ےکی 
دی دی۔ 

ائمناسپانے جب د ھا کال کا تی بھی نشانے مر یڑا 
کت ہے ء چنا پسلان 
اس خ انی یکی وج ےآ لیس میں أیھے ہیں اور ایک ؟ ےکی 
آ پر وریز گ یکر ہے ہیں کو اس نے ایک فدماورآ گے بڑھایااوراہۓ 
اض ا نا شا اگروو ںکوچتا اورڈوض: وں سے خلت مل نے جا اکر 
ان سے عہد و پان لیا ادد ہچ ریگ او رید جو زیادہ پا یک اور 
زیادہ ناک تھاءالن کے سام ےکھولا۔ دو کر تکلے بہتکی 
الکا چززیگش صادد ہوکی ہیں ج نشرکی فررت می یں حا 
زس الوہیت کے خوائس ہیں جوان سےعبور یز سی ہورجی ہیں اور 
نا س١ت‏ کےل اس میس (ا ہبوت جو وف ما ےء انا خوب پا دک یی خود 
غداڑل‌ان کے سو اکوکی دای -.- 

گ٠‏ ایکون ےکا کو 
فا ہوجاتا ے' چنا حیرفت رف ٹیے نی ری فائش گیا اورخرت 
علض یک پاچیا پا نے الن لوگو ںکو این سپا کے سساتھ جلاک انگ 
یں جلان ےکی دی دکی ءان سے و رک ائی اس کے بعداسے مدان 
کی حرف جلاؤنکردیا...... یں ححضرت امیڑ کے ال پشکر میں اس 
شیطان .- کے وسو سے کے7 ڈوقیولی کے یچ بیس چا رفر ہو گے : 

اڈل:.. شیع اولی وور و کس نج و اگل سلت و 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


جات کے جوا ای ےن مھ ات خفرت عون کی یں برقائم 
رہ ےک ما جرات ومقا لات کے با وصف اُصحا بکباراو رز واج 
معلبراں کے تقو قکو پان تہ ظا ہرد باشن کے لیاط سے ان 
اکا برک عزت وضرمت کے خرف 0 سی کین ونفاتی 2 
اک صاف ھاء ان صعطریا تکوشییع او لی اورش تین سکتے ہیں _ 
اود بگرد ونیم ”ان ای یس لک غلیهم ممظا“اس اٹ 
یں کے کرس ہرججہت سے تفوظار پاء اوران کے دامصکن باک پر 
اس خحبییث (ائین سبا) کی خجاس تکاکوکی داغ دعبام ںآیاحضرت 
نی نے ان خطبوں میس ان حعفرا تکی مم فرمائی ادا نکی 
تر ولک پندفرا- 

دوم:.. شی تفضیلی.:... جوحفرت کی مل کو قمام اکاہر 
ضصخا فضیلت دی تھاء رٹ ر2 ا تین کے ادلی شاگمردوں یس ے 
تھا اوراس فرتے نے اس عون کے وسو ےکا ایک ش تو لک رلیا۔ 
حر تی مھ نے ان کے بارے تفر مائی اور شاف مایا 
کہ آ تد ہاگ یل ن ےگ کے بارے میں سنا کردہ جھے حضرات 
تین بر فضیلت دیتاے اس مفترىی پر(بپتان با ند ھنے وا ےکی ) 
عد( ا یکوڑے )جار یکرو ںگا۔ 

سوم:. شی تی :.. رجش نکوتجران یگ کہا جا تا ہے ء بلک 
قمام صحا کو الیم و اصب اورکافر ومنا شی جات ہیں۱ اود بگروہ 
اس حمیث (ائین سام کے درمیانے در ہے کے شاگمرد ہو ہے +- 
اور جب ا ںگردہ کے خیالات حطرت علض یک یجن آپ نے 
متعددض ارشا وف ماۓ ء ان لوگو کی ُاتیاں بیان خر مات٠یں‏ اوران 
لوگوں سےا تی برا تنا ہفر ائی۔ 


۷۷۷۷۷۷ .50610٥۲١۷۳۳٠۱٢١٥۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


چہارم:... لی شیعہ:... جو اس خمیث (امین سبا) کے 
أنضبث مطائمہہاوراس کے نما الفاعص راز داان تھے ء لوک حطرت 
سای لیت ک ےئل ہو یئن 
بی سے شبیبعہ مھ ہب کے پیا ہو ےکا ئل سبب۔ اور 
کڑیں سےمعلوم ہواکرار بات شع کےدراصل مین فر تے ہیں ء اور ىہ 
سب ایک دفت یل پیدرا ہے )او رخو ںکا بای مبالی ودی خجیر 
انا ء نفاقی پیش ہدیا ہے جس نے ہرای ککو و وسرے رک میں 
فریب دبااودڈوسرے وام مل ا ھایا۔' (جزر ص٣٣‏ ھ)) 
اودرتحخرت شاو صا باب سوم 7ر وک رسلا ف شی کٹ سککصت ہں: 
جا نما جات ےک اسطاف شیع کے چند تق ہو ۓ ہیں 
پہلا یہ ود لوک جنتھوں نے اس نمرج بکو بلا وا یل ریگ | علیں 
ھی لن سے عاصس لکیاء بی منا فقو لکا ٹول ہتھاجھ اہین دل میں ال 
اسلا مکی عدادت پچھاۓ ہو تےء اننہوں نے ما ہ ریس اسلا مکا 
ککرہ پڑ لیا کہ اہی الام کے ژمرے میں داقفل بہوئے ء ا کو 
ہکا نے اورالنع کے درمیا نما لشت اؤریٹض وخناد چ راک رت ےکا راس 
قھلل نے اع لوی کا منقتراع بدا جن سپا کہودگی صنعالٰیٰ ے؛ 
ین ابا عال ارت طرکی سے اپ اڈال می اف کیا جاچکا 
ہے۔ اہ نشیس نے ال: 7۴ ص._ 0 گی 
لوکو ںکودکوت دگی۔ انا :.. “ھا ہراورغلنما ۓ راشد بن رصی اش کو 
کا خروم ری قراردت نک با تکی۔مالنا:.. تفشرمت کی کے خدا ہو نے 
کی لوگو ںکودکوت دگی۔ اور اپنے پچ د5ل ٹل سے رای ککوال سکی 
استحداد کے مطا اناو اضللال کے جال میس بھانماء میں وی 
الاطلاتی راف ل کے قمام ف رتو ں کا مر ےکی نین شماشت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹. ۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


9+ +20 1 

کالایا ہو اہے۔ اگ چھشھیہوں یی سے بہت سے لوک اس ک ےکفمرائں 
"رر یآرۓ ہیں اود ا لکن ای سے بادکرتے ہیں٠‏ اس بای ہک دہ 
معخرت کی اوہہ تکا قال ہہیا تھاء ا ںکو با لی ضیحو ںکا مقر 
جات ہیں۔ اور ..... کان درتقیقت تام شبحہ ای کے ش گر 
ہیں اوراسی کے نشیٹس ےنیس ہیں ۔ بجی وجہ ہکان کے 
تام فرتوں یس بیہودیت کےکمتئی صاف ظرآے ہیں اور ب>ہودیاہ 
اغلاق ان گی آود ابشیدہ ہیں ۔ شا وٹ بولناء اف اءکرناء 
نان لگا ناءبز رگو ںکوگالیاں د یناء اپنے رسولی سی الف علیہ یلم کے 
ووستوں رشن وش اک کلام الاو رکا مم رو لکویرنل پرڈھالتاء 
ال یق کی عدادت ول مل پچھپانا:خوف اور کےطور ب جا لی اور 
تل یکا ا ظہارکرناء نفا یکو پیشہ بنا تقیہکوارکالن وین یں شا رکرناء 
اوٹی رت اورقحلی خطو انی کر نا اورا نک و تحضر لی لعل 
وم اور نکی طرف مفسو بکرناء اپٹی یدک أخرائ فاد ہی 
اط نکو ال اور با٣‏ لکوت جا تتکرنا۔ اوز ہہ چو پل ڈک کی کیا 
بہت یس سےکھوڑاٴ اور ڈھی ری سے ای نمو ہے۔اگ رر یکو 
می الا نظور ہوے ا سے مات ےک سور٤‏ بقرہ سے سورٗ اُنفال 
یکاخ کک تےختطال یک جۓ اوج کین نے کے انج 
ا نکی صفات اوران کے اعمال واخلاقی ذکر کۓ گے ہیں اا نکوابضۓ 
ئن میس تفوظہ رک پچ راس فمر ‏ ت ےکی صفات اوراعمال وا خلا یکا 
دلو ںکی صفات اود ااغع کے اعمال واخلاقی کے ساج مواز ٹہ 
کرے لین ےکماس بات کے صمد کا ین اس کے ول ۴ش 
ات جا ۓگاءاوربے اش ”ابق الضعل بالنعل “ کا‌قرہ ا کی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


زان ۓ لک ےکا چ ررلوں اش فٹر-۔ اگ ات 

رکھت موس سے اک ٹر ےکا چا فو سرن وت کے برابر بہوتتا 

جات (کجزاٹاگتے ص:ے٥)‏ 

منررجہ پالا نر جات تحوص] نم کے ارشادات سے معلوم ہو اک این ساکوئی 
ہل ما غی رم رو فتحخصری ت ہیں٠‏ بللہ شب عقا کا موجد ہھون ےکی حیثیت سے دہ شحبیطاان 
سے زیادہنش پور ے۔ اور بھی معلوم ہوا بدا بن سپا کے عوقا مد ونظریات نت صحرف 
مو خین اورڈل بل کے نین نے تو اقم بند سے ہیںء لمح وی نکی زبان الام 
تر جمائنع بھی اس ملحونع کے عق مکدکا خلاصہ بان و چکا ہے دن ران یلم کے بیانا گیا 
اگازگاذا اتکی شر وشحیل ے۔ 

الضص! ناب کا ڈوک تی فلط ےکرائ نماک عتا ایس کا 
نھیں۔ چنا خی برکور: پالانمغفصیبل سے معلوم ہوا ہوک ال سن تک یاکتابوں کے علاددخودان 
رات کے ارشادات شی نی نکوشدی اما “توم کھت ہیںءائسل' ذات ش ریف کے 
أصول خقا ئ پور ہیں ہاور بی أصول حقائمز بعد یس شیت کےختلف فرقون کے اضول 
عا مرش راد یاۓے۔ 

را چنا ب کا راقدلا لک این سپا یت ری جس سیام یم :شر عق تد اور 
بیالن ۳س7 لق ہو سام سے الو 67 کے بعد جوا فیاب 
نصف النہارکی رپ رون ہیں ء جنا بکا ىہ اتد لا لچ قاسں ے او رن وش کے ما لے 
یس قاسں باشلی ہے امام عالی مقا مکاریارشادکہ ”ال سن قساس ایسلیسس “(اصولکان 
:ا ۴صں:۵۸ءکتاب العلم باب البد ع والرأی والقیاس روایت ٢۰:‏ )می سب سے پیل جس 
نے تا کیا دہ اشحا ستھاء ناب کے ذ من یس بہوگاء اما ”توم کے اس ا رش دکی ری یش 
آ نجنا بکی قیا سآ رائ کی ءخووسو جے کیا قبت رہ جالی ے..؟علادہ ایی خ یدانب ضا 
گا پیٹ رک گر چ سیا اح( جیما آپ نف مایا لین انس ڑ ح بی اللہ عیت' کا نی 
خول ڑا یاعگیا تھاء ا سکی تنا اف یی الام کے ام خلافت بل خود 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


لاح کے فا فک اک پا وی اون نونف اس او کک سیل 
دیس او رمتمان وتقیہ کے دب رخلاف نہ چڑہاۓ جاتے ءا لکا بنا مک نکی تھاء چناغچہ 
ےلم اف راوج ا سلا مکی نلیمات ے نا آشنااورسھا لن ک ےٹیل سحبت رع 
تھے ا نکولطدر نما شک رکیامگیاء انال ” حب ائل جیبت کے چھر سے و رک یا گیا اور یں 
ریا ” ولا یت لی سے کر لو ہت لی متک کے عق مم 
گئی۔ الخ !1 نا بکابیکہنا نج ہ ےک یرذفاقی پیش یریک سیا یاگی رکب ھن غلط ہے 
کہااکی سیا یت رب ککا عق مد وظریات کوک یلقن یں تھا۔ 
یں ایس لن ائے" کو واور ای گر ۱ 

ظر 1توووو9]) ۔۔۔۔ عپدالق دبع سا 2ب 
یج ہو ےآ خر میں ایک ل لی کا نک کر نا ضروری ے جو ایک کوے اور ای شرب ےکو 
را مل ا نا کارہ ذک رکیا تھھ کک نظ رس ا مامت خیصب تکا نیل 
آ از ے اس کے بعد اماصتہ ولابیت اور وصابیت کےنظمریا تکی طرف اشمار ہکر تے 
ہہو اس نا کا رہن ےککھا تھا: 

نع ھا نر جات کے الع ٣‏ :٣یپ‏ ودک اگل 

منا نی تھے( عبدرا ین سا اوراس کے رفا ء) جو الما گ یف حا کی 

فغار سے بل بھی نک کراب ہوگئے تےہ ایس الام کے بے ھت 

نہو ےسا بکارغ موڑنے کے لے اس کےسواکوکی حا رونظرتآیا 

کہ ز رٹ ےنظریا ت کا یچ اوک ر امت الام کی ویر یکوگڑے 

تج ۓگ دا جانے۔“ 

نآ شاب نے میری اس عارتکامفپوم یو اق لکیا: 

”بابش ین سپا یکہودگیء ]نس نے ححخرت عفان ری الہ 
عو سور رکھا اورپ کے یکا سبب بناء دوق رق شی کا موچ ے ' 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


ایں نے رت 

ہے لعل پر ۓگا آد زا تاب .نے ان ن کا ومفومخل ایا سے ا لکا ایک بار 
ظا برک ر کے ھن ہآ پکوصسل ول میں مییتطور تن تد ایا نر می ںکی: 

اول:...میس نےکر ولایت کے موچ رکا لف تھا تھاء اور ناب نے ال 
کو ہد لک فرق شی کا موج منادیا_ 

دوم:... شش نے منانفن کے ای کگمرو ہکا وک رکیا اش کا رف ع برای بن سیا 

تھا ءآ خجاب ےگ روڈ ھنا شف نکا زکرھ کر کےسارابد چچھتہا عہدالش جن سیا ڈال دیا۔ 

یی خرت عثا: شبیبر رصھی ارڈرعنہ کےمظلو مانہبجھا صر ےکا ہیں نے سرے 
سے ذک رج یی ںکیاء نمی بین بی ا نکی المناک شہاد تکا تن ےکر کی ڈور ونز ویک 
آیاہ می ر یتر رحضرت عان کے بحاعصرے او ا کی شارت کے کر سے شع رای گی 
آ ناب نے بہالفا ظط ٛشس نے حطر تعثا عکوأحصوررکھا اورآب کے کا سبب بنا خوو 
تزیفر کے اکیں مر طرف مو بکرڑڈالا۔ 

لطیضر ےک میرک عبارت یٹس بین ز بردست تپ مایا لگ کےآ ناب اس تبد مل 
شمدو عبار تکومیریی طرف مفسو بکر کے خودمہرے بی سا مث شی ف رما رس ہیں1 اس 
بت پر درو گویم بروتے “کیل صاد قآکی ہے مین بنا ارہ ای یکسا یں 
کرس لماءالہمتہ بی کن می ل ئن بججاب ےک ہو وسر ےکی عمارت بنتقیدک رن ےکا تو تن گر 
ابی ا صلاب“ کیا عی کی :شی یآ ناب نےفر مکی سے می اصلا وت میم اگرنا دنت ےو 
آ اب کے ملین نا کک دیل ہے :جم سک دادد بی چا ءاوراگر داضت ہت کیا 
رن شکروں؟ 

ای سےاندازہہہوتا ےک جن اکا رکو شب ا تو مان سے نا مردکرتے ہیں ء 
ا نک طرف شی لٹ یرش بزاروں بک لکھوں ردااتکاجوطوارضسو بکیاگیاہےہ ال 
میں شیبصداولول ن ےکی ایانم فات نہ گے ہوں گے اورک یاک یئل ترکھطا ۓ ہوں گے..؟ 

ہڈیں ازگستا مین بہار ما“ 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳۳۱٥٢۱۹۹ .۸۷۵۸۲۹۹6۴ ۷ 


سو ونصرف پآ یا فا شحک ؤاگ نا و گی رگتا: ہوں 77 
آجناب نے میرے تھ کی اصلاح'فر کرمیریی ذ مددارئ یکا کاٹ بو چب ارد یا ال کی 
میں رز 

:.. .میں نے'' نظرہۃ ولایت کے موچ للتھاتھاآپ نے ا لکی ح فرق شیعہ 
کا وج“ ےرگ اض۱لبی مکرلیاکرفرقہ شی فکاسنگ یاد می نظ وطایت مے+اود ےنکر 
ولا یت اورش عبت اگ رپ میں کم س ےکم لا زم ولز و تة ضرور ہیں اش ےاُ وی رکی ذکر 
کردہ نٹ ( نظریے مامت شیع مہ بکااصل الاصول ے ) ازخودطابت ہہوکئی اور بے 
ال ری نیل لا کی ضرورت ددرتیء' کل برزہاں شودجاری'' کیاکی ائپھی مال 
ہس 

اع ےو کرو ات پان ا کا کک کپ 
تٌ ۳ اپرےگروہ بی کی فیس ای ارز زارف ایکون 
( داش جن سبا) کی نشاندجی میرے مہ رہگئیء جن سکو ہنی اواکر کا ہوںء و رت اگر 
پر ےگ روہ علاش کی ذمدداری بج ح:ہوئی تو یج ےکتبرجالی اورکتنب"ل ہپ لکی 
کائی ور قیگردا ‏ یکنا یڑ گی ءاس کے بعددجی میں مہ چتاسکتاتھ اک فلاں فلا افرا دک وا صحابپ 
عملرای بن سپا گی ہرست یس شاک یا کیا )]ۃ[ۃًےے74:. 3 وٹ ے میک 
یم بچھے اس زمت سے تر یکردیاء و فی الله الْمُؤمِيْن الفعَالا 

پ سس داضت ددان گی سو دوگ ایک سای یگ د دق ارڈ ےکر 
آپ نے ال نظ ری کی تا خی کرد یک شیع رہب دراصل ایک خفی سیا میکح یک ھی جو 
فی سمازش کےذر ہی مسلمانوں می پیھوٹ ڈا لے اوراکیس ”وع انا شیا “کی بھی یس 
جو کلنے کے ل ۓےکھڈی یک کی ؛ داقتت یہ رن یف یک ندال وشتتنی ء نراب سے میہالڈل و 
آخ ایک سیا اور سا زی ئ یک ے۔ 

گویاجھ بات مکی ن ےک لک مگ ۱د ہآ ناب نے می رئی طرف سے شو دک دا 
جاک ادا مر حا! 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


تیسرکی بجٹ: عقی را مامت بخم خّت کےمنائی سے 


تاب تر مرف رت ہو نکر 
'آ پا یلاس تا کار وگ اخرروسے بتاڑ نے 
کرنظر یمام تمقیۂنخ وت پر ایک قرب ہےءا تھا یآ پکو 
رایت دےء(آ بین ناش ) ہمارے نز دیک نی یکر ام صلی بین 
مدان ع بدا مطلب صلی ایل تی علیہ پیش ہم ٹج یآ خر ال مان نیشن 
ام اسنتین تہ اور جوبھی اس عقیرے تحرف بو وہ دائ ر٤‏ 
الام سے نا رن ے۔" 
اس کے بعد ناب نےحقید بش خّت برعلا مطہری ایر ”جم البیان“ 
آیت ال طباطبا یکیافی ر”الیمی زان “مالک شا یکاخ م”منھج الصادقین“اورعلامہ 
نال یک کاب ”عقائد الاہامیة الالنی عشریة“ کے جوا نے د ےک رآ خ میں اکا ے: 
کیااالی سنت اس ملف نظ رین یکر کے بارے 
شش رین ہیں؟ رق یس ای ں کی ےپ نے دوگ یکرد یا رنظرے 
امت عقید متخ خجات پرضرب لگانے کے لئے ابا وکیا ممماء لہ 
جار من میک بکرم یی :2 الانمیاء میں اور ال کا مر وا ٤‏ 
الام سے خا رن ہے ۔تحقی نتم وت اتھاواع دمرجن ہج ےکرال 
پسی ھی لک ضرورت کیل ء ور نہپ اف نٹ عتقا لد کے تواللوں کے 
انبارلگاد ۓے _' 


نا بکواپٹ یکابوں کے حوالوں کے اخبار لگا نے ل قیتع لگ :ارڈ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱٥٢١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


اٹ ےآ تاب نے زجب دن فراۓ ووتگکی ہف کی زعمت نے ہار مائی۔ میس نے ہہ یھ 
تھا تھا ءآ ناب نے ا کا نے ڑقیل فر مایا ء اوج بات شش نو سب یمیا ءا لک تر دید + 
جوا لے حکرد ہے ء جیے اب ٹیس اپ مدرعا ک٤‏ ریاہوں۔ 

یس نے ان کے بارے یں تفشرات شع کے مھا نون کے تھے : 

ا:...ال نع کا نوم ہوا 

۴ مو کمن التدہونا- 

۳ ہمفیزر ااطاعۃ ہہونا_۔ 

.اع پر وگی نال ہونا۔ 

۵:. .ا نکوعلال ورام کا انار ہونا۔ 

٦‏ 8او کرو وق رانک رم کے جن سح کو جا ہیں فوخ اع لبھ یکر سکت ہیں ۔ 

ان بج عقائکد کے سنج کےطور پر میں ن ےکک اک :”جوم جب ای کی ستقعل صاحب 
شریعت بی کا ےء دای مرج ھاہوں کے نز دی امام کا ہے 'اوراس نے نع کے 
طور پر ٹیس ن ےکک اک :”نشی کا نظ ریے امام تنحم وت کے منائی سے 

میرکت رے کے ا خلاسے سے وا ہ ےک ن ےپ حقرات پہ یہ ارام 
نیس لگا اکہآپ فد افو اس نہخ خوّت کے مک راود ا جراۓ مہوت کے قائل ہیں ہکیونکہ کے 
معلوم ےک آپ بڑکی شدوید تم خق تکا ار ار اعلا نگیا و ہیں۔ مرا انرام نے 
ےکآ پ نعظرات' امام کے اوصاف میں الیما مالضدکر تے ہیں جنن سے اما مکا ”یم رہہ 
بی ہونالاز م۲7 ے اور تحضر ت صلی ایند علیہ یلم کے بوداڑس یتخصہیتو ںکولیمکرناء جو 
کمالات خذ تکی وجہ ےم رہنھی ہوںء درتقیق ت نتم فو تکا !ہار ہبقر یہہ 
آپفاضخم خذ تک اق ارکرتے ہیں او رم ڈکارکر تے ہیں ۔ 

اب اگ رآ چنا بکومی ری نا ہتشر متقیدرکر ات نذا سک جع صورت بات ریگ یک 
آپ ان عقا دکا انکارکرد نے اور بیفر ما ےک عاشا وکا جم لونک ”امام “کون یکی طرح 
متوم ,منص وش مین از او رمغتر الطاع ۂکی وکیت ء نہ اما مکو نی کا عرمبہد نے ہیں یا یہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


ثا تک]رت ےک ]کون یکاھ رد ینامعا شحم خقے تکا ا لکارکیل ہے جیا نآ ناب نے شی 
کیاء ند ہکیا۔ اب خود ای انصاف فرما تی ےک ہآپ نے اس ناککادہ بر بے مومع حوالو ںا 
لو ڑا دنے کے سو اک یاتنقیدفباثی..؟ 

جو عقائد یس نے خظرات امام کی طرف موب کے ہیں ناب کے 
اشمیناان کے لے رای ککاعلی الترضی بنھوت بجی لکرتا ہوں - 
پا خقیدہ: زمامءاخمیا مالسلا مکی طرں مو ہہوتے ہیں: 

امامیو ں کا ہتقیدتذ ہر امائ یکیو ز پان پر تا ہےء اس سی جوا ل ےکی 
رو یں :تا ہم اس مہم بھی چند جملے پڑس یئ : 

:...اصو کاٹ کاب اٍ ”باب نادر جامع فی فضل الامام وصفاتہ“ 
امام رضا کا ایک لویل خطنف لک یمیا ے:اس شس اما موں کے فضائل وخصائس بیان 


کرت چو ٤ق‏ ا 
'لاسام السطش می الختوف والَٰسوٌاعن 
العیوب“ (أصرل۷ان )٥۰: ١:‏ 
ترج:.. امام گنایوں نے اپ اورپ سےےمی ر7 
لس 


ای لین ہےج: 
”فھو معصوم میّدء موفق مسذد قد امن من 
الخطایا والزلل والعثارء یخصہ اللہ بذالک لیکون حجّتہ 
علٰی عباد.“ (اصولکائی ج:ا ص:٢۰٣)‏ 
تزجہ:.. ”نہیں و( حصوم ےء اس ںکوتا نید و ڈیقی حاصل 
ہے اورا سے سیدڑھی راہ مر درکھا جا جاے؛اود دو می اوراغزشی سے امن 
بس ہے ارد تھالی ان لکو ری تعسوصییت اس لے عطا فرماتے ہی نک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


و سو 
٣.علامہ‏ با ق ناس کیا بھارالا نوا کاب الا بد یس ایک با ب کا حنواانع ے: 


ا 


سیف ا سمسرجہ سی وست ا 
نی امام موم ہوتے ہیں ء اور اما مکوکصصت (ا زم ے" 
تی ا ا اع اق ا نف ےآ خرف روآ نت کی 
گئی ہے :جس کے ری ےت 
7- ن: ماجیلویە وأحمد بن علیٗ بن ابراھیم 
وابن تاتانه جمیعًا عن علیٗ عن أبیە عن محمد بن علیٔ 
الدمیمی قال: حدثنی سیّدی علیٗ بن موس الرضا عليه 
السلام عن آبائه عن علیٗ عليه السلام عن النبی صلی 
الله علیے وآلے وسلم انّے قال : من سرہ ان ینظر الی 
القضیب الیاقوت الأحمر الذی غرسہ اللہ عرٌ وجل بیدہ 
ویکون متمسٌّکا بە فلیتولٌ علیّا والأئمة من ولدہء فاَھم 
خییرۃ الله عرٌ وجلٌ وصفوتہ وهم المعصومون من کل 
ذنب وخطیيئة.“ ( ارالاوار :۲۵ ۴ص:۱۹۳) 
ترج:.. اور و توم ہہوتے ہیں ہ گناو اور ےت 
:ایی فا ماد کال کیا 
"۸- ل: فی خبر الأعمش عن الصادق عليه 
السسلام: الأنبیساء وأوصیساؤھم لا ذنوب لھم لأنھم 


معصومون مطھُرون.“ ( بیارالاوار رع:۲۵ ص۱۹۹:۰) 
کا کر اوصیاء ب گنا ٥ہیں‏ ہوتے کول وہ 
موم اور اک ہیں" 


.ای اب میک کھت ہیں: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢ ۱۵۷۳۳۰۱۱٢١م۹.۷۸۷۱۸۲6‎ ۷ 


”اعلم ان الامامیة رضی اللہ عنھم اتفقوا علٰی 
عصمۃ الأئمة علیھم السلام من الذنوب صغیرما 
وکبیرھاء فلا یقع منھم ذنب أصلا لا عمدا ولا نسیانا 


ولا لخطا فی التاویلء ولا للاسھاء من اللہ سبحانه ولم 
یخالف فیے ال الصدوق محمد بن بابویه وشیخه ابن 
الولید رحمة اللہ علیھماء فانَھما جوّزا الاسھاء من اللہ 
تعالٰی لمصلحة فی غیر ما یتعلّق بالتبلیغ وبیان الأحکامء 
لا السٌھو الذدی یکون من الشیطان.“ 
(ہارالانوار رعٌ:۲۵ /ص:۰۹٦)‏ 

ت7 جمہ:..”'جاننا چا ےک مامیہااس شف ہی ںکہ امام 
نام یھو بڑ ےگناہوں تعسو ہو تج ین ء لابا نے 
اص ًکوئیگمنا یں ہوسکاء نہ قصیدأء یھو لکرء ناو نل می نظ یکی 
وج تہ اید تھا ی کی جانب سےا نعکو بھلاد تن ےکی وجہ سے اس 
کت میں صرف جا صبددقی مجر ین ہاو نے او الع کے جن این 
ااولپر ے اخا فکیا ہے چنا چان دولّوں ہز رگوں اگ کے 
چائز رکھا ےکہ ان ری مصلح تک بنا اڈ تھا یکا جاب سے 
بھول ڈال دی جاےء بش لی اس مو لیکانتل مغ اور بین ام 
سے نہ ہہو ,مان جو کول حیطا نکی طرف سے وی سے وہ أ مہ سے 
رز یں تی 
...ای ہاب می 'اختقادات الصدوق ےن لکیاے: 

”۷- عد: اعتقادنا فی الأنبیاء والرسل 
والأئمة علیھم السلام أَنھم معصومون مطھُرون من کل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


(ءھارالاٹوار رخ:۲۵ ۴ص٠:٢۲٢)‏ 


وورت فا کن اور نے کے پارے ٹن ڈارا 
عقیدر ٥ر‏ ےک ددمتصوم اور ہرگندگی سے یاک ہو تے ہیںء اوران 
ےکوکی کچھوٹا یڈ اکنا وسرز یں ہوک 
ام کی ٹن ای اعادیث جن یل أئمہ نے صدو رذن بک فص رر فرمائی ے. 
امیرا نگ تاو یل لک تے بی کان سے اترک ای ہے :یٹس پرا نکی شا نکصصست 
کے لوا ےکنا ہکاا ا یک ایا ءم شا ماخ تفرصادقی کاارشادے؛ 
'٭- ین: الجوھری عن حبیب الخٹعمیٰ 
قال: سمعت أبا عبدالل عليه السلام یقول: انا لنذنب 
ونسیء ثمّ نتوب الی الله متابّا.“ (بارالانوار ج:۵٣‏ كگ.:ے٠۲۰)‏ 
...بے گرک جم گنا کر تے ہیں اور بی کا 
ا نیا بکر تے ہیں ء بی ر الد تھا یکی بارگا ہش ل تو کر تے ہیں“ 
اور امام تعفر کےصاحب ڑزادرے إمام اون خی کاظ سک شک میں بد ھا کیا 
رج تھے 
- کشف: فائدة سنیّة: کت أریٰ الدعاء 
الذی کان یقولہ أبو الحسن عليه السلام فی سجدةۃ 
الشکر وھو: رب عصیتک بلسانی ولو شٹت 
وعزٌتک لآأخحرسٹنی وعصیتک ببصری ولو شئت 
وعژتک لأکمھتٹنی وعصیتک بسععی ولو شثت 
وعژنک لأصممتنیء وعصیتک بیدی ولو شئت 
وعژتک لکنععنی وعصیتک بفرجی ولو شثت 
وعرنک لأعقعتتی, وعصیتک برجلی ولو شثت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٥۹. ۸۷۵۱۸۲۹6۴ 7 


وعزتک لجذمتنیء وعصیتک بجمیع جوارحی اتی 
أنعمت بھا علیٌ ولم یکن ھٰذا جزاک مِیٔی.“ 
(ٴبیارالاوار يعخ:۲۵ ضص٢۰٢)‏ 
ترجہ :.. 'اے پروردگارا یل نے اپٹی ڈبان سے تی 
افرمای کیا٠‏ آ پکی عز تک م! اگ راپ جاتج نو یج ےکوا 
آور ورس ے اٹ یآنگھموں سے تک ناف ما ی کی ءاو راگ رآپ 
جات نو مھ اندھاککردیے۔ اود نے ان کافوں سے تیریی 
نافرمالی کی ء اود اگ رآپ جا تن و یجھے بہراکردہے۔ اور یس نے 
اپنے پاتھویں سے تن کی نافرمالی کیہ اور اگکر جات وذ جانا 
کروی ۔ اود ٹیس نے ای شر گا کے ساتھ ترک ناف مان یک ء اور 
اکرآپ جابئ فو تھے نامد ہنادینے ۔ اور یل نے اپنے پا وی سے 
آ پک نافر ما ی کیاء اور اگ رآپ جابجج نوم ابا کرد اور 
یں نے اب خمام اخضاء کے سا تہ من نکا آپ نے مھ پر انام 
فرمایاء پک نا فرالیی بی نپ نے بے بی زانمی ںید ا 


اسی رع دن کاب سے ا نکی مناجا ٹیس اور ڈعائ٠یںء‏ جو یں مضاشی نکی 


متقول ہیں ء اما می کےنزدکیک سب مل ہیں کیو انمیان ۓکرا مل ہم السلا مکی ط رح ان 


کی فحصم تی ے۔ 


و ا٥قرہ:‏ مام ءا نمیا ۓک رامش مالسلا مکی طرں منصوش لن الڈہودتے ہیں' 


... امام یکا یقیردگھی پر اما یکوسورۃ فاش کی رع حفطط ےہ أصو کان 
کتاب ایر ایک با بکاحنوانع ہے: 


”ما نص اللہ عرٌ وجل ورسولء علی الأئمة 
علیھم السلام واحدا فواح1ڈا'' 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٢٢٣. ۸۷۱۸۲6 ۷ 


جھ لب دح (8ہجوھہجووےہجھٴ ےج 


ترجمہ:.. اللدقما لی نے اوراں نمو لس اط 
لھم نے اما موں پر کے بععددتکجرےایک ابیک لی فرمائی سے“ 
اس کے بح ر٣‏ :۲۹۲ سے صفح: ۴۸ کک بادہ اما مو ںک یلص 8 
اب قائم کے یں ۔ امام کی تع یرہ ےکہ کہ امامتصوم ہوتا ہے اور چوک مت ایک 
مع وی ےج س کاعلم الد تعالی کان یگنن ہکا ہے لٰذرا صروری 1 انام 
صوصن الدگی ہو۔ 
.. بصدوقی مھا ی الا شما ریس لک میں : 
”واذا وجب أن یکون معصومًا بطل أن یکون 
هو الامّة لما بیٗنا من اختلافھا فی تاویل القرآن والأخبار 
رسززءوالی ڈلکتریی اگار بسنیا بَا راڈائیٹ 
ڈلک وجب أن یکون المعصوم ھو الواحد الّذی 
ڈکرناہ وھو الامام؟ وقدد دللنا علی ان الامام لا یکون 
ال معصومًاء وأڈینا أنّه اذا وجبت العصمة فی الامام لم 
یکن یڈ من أن ینص النبی صلی اللہ عليه وآلە عليه لِأنَ 
العصمة لیست فی ظاھر الخلقة فیعرفھا الخلق 
بالمشامدة فواجب أن ینص علیھا علام الغفیوب 
تبارک وتعالیٰ علٰی لسان نبیە صلی اللہ عليه وآله 
وڈلک لأْنّ الامام لا یکون ال منصوصًا عليهء وقد صح 
لنا اص بہما بیّناہ من الحجج وما رویناہ من الأخبار 
الصحیحة.,“ (بارالاثدار ر٤:۲۵‏ صضص:۱۹۸) 
ترجمہ:..” ہم نا گے ہی ںکرصرفے موم دی امام ہو سک 
ۓء اور جب امام کے لۓ عصصت ضروری ہوگی تو بھی لازم ہوا 
ےئ 07ں رھ فرمانمیں ءکیوک مع تکوکی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۷۳۳۱۱١٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


ظا ہرک او یسوی زی ںکتلوق ا سکومشاہرے سے بپچجیان نے ء 
پوس واج یھ را کال تھا لی یک رج ص٥لی‏ الشعلیہ یل مکی زان سے 
اس پرٹھس فرمامیں۔ سی وجہ س ےکہ اما مکا مصو من اللہ ہونا 
ضروری ےء اور جو دلائل اور خیا رہم بیا نکر کے ہیں الع کے 
ذر ہی ہمارے لئ سج طوبرثابت ہویگی سے 


٭.. ال مو نکی ایک روا ت بھی امام مکی بن سن زشی اما ےک لک کئی 
ہے ےہا ہوں نے شر مایا: 


۵- مع: آحمد بن محمد بن عبدالر حمٰن 
المنقری عن محمد بن جعفر المقری عن محمد بن 
الحسن الموصلی عن محمد بن عاصم الطریفی عن 
عبٔاس بن یزید بن الحسن الکخَال عن أبیە عن موسی 
بن جعفر عن أبیه عن جذدّہ عن علی بن الحسین علیھم 
السلام قال: الامام منًا لا یکون الا معصومًاء ولیست 
العصمة فی ظاھر الخلقة فیعرف بھاء فلذالک لا یکون 
الا متضوصًا“ (ارالنوار رخ:ا :۱۹۳) 

ترجہ:..! چم میں سے ما صرفے موم ہو سلما ے٤‏ اور 
ععست نظاہرکی بزاوٹ میں نے ہوکی می سک ا کو پپچانا جاے ء نیل 
ما مکاموس ہونا ضر ورک ہوا“ 


تس راعقیرو: ایام +م السلا مکی ط رع اما ول پریھی ایمان لان فرش ہے 


اورا نکاا کا رک رے: 
جوخصبی تک تعالی شانہ کی جاب سےمنسویسش وم بحوٹ ہوء ظا ہر ےکہ اس پ 


ایمان لانا فرٹش ہوگا اور ا کا الک رکف رہوگا۔ چنا غچہ امام کا مکی خقیدد ےک جن طرح 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


ساس مسسجے رر 
اکی رع بادہ ا ماموں بپ یمان لا نائھی رن سے اوران یش ےکس یکا ا ڈکا رگج یکم رے_ 
انگ یتابوں شس ا کی بے شما رن جحات ہیںہ یہاں بطورنمونہ چندجوا لے ملا فا ے: 
ا..اصسو کاٹ میس ایک با بکاعنوان سے 
ان الأئمة علیھم السلام نور اللہ عرٌ وجل“ 
تر ...ات مالسلا مار تھا یکا نورہیں“ 
اس کے یل بی اپتی سند کےسا ابو لمکا بک کی روا تا لکی ے٠‏ 
”الحسین بن محمد عن معلی بن محمد عن 
علی بن مرداس قال: حدثنا صفوان ابن یحیٰی والحسن 
بن محبوب, عن أبی أَيّوب؛ عن أبی خالد الکابلیٔ قال: 
سالت ابا جعفر عليه السلام عن قول اللہ عرٌ وجل: 
”فامدوا بالله ورسولہ والنور الذی أنزلنا“ فقال: یا با 
خالد! الٹور والل الأئمة من آل محمد صلی اللہ عليه 
وآلہ الی یوم القیامةء وھم واللہ نور الله الذی أنزلء رهم 
واللہ نور اللہ فی السماوات وفی الأرض.“ 
( ہمارالاثوار بج:١‏ :۱۹) 
ترمہ:..: یں نے (مامم اومفمر سے اتھالی کے ارشاد: 
”فْامِنٰذا بالل وَرَسُولہ وَالشْرِ ال انرلنا“ (مشی ایمانلا کالہ 
اور ا یی گے ےون 7 اود ال ور بر جوم نے نازل؟ یا ہج 
پارے میں سوا لکیاکہ( آ یت ریف یس شس فور پر یمان لان کا 
ذکہ ہے اس سح ےکیامراد ہے؟) نو امام نے فرمایا: 
اے ارو الما ال دک عم ور سے مراد دہ یہ ہیں جو 
قیام تک کآلحھ س٥ل‏ ال علیہ ےلم یس ہوں گےء اڈ کیا ا می ور 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۷۳۳٥٢٥٢١٥۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


ہے جواایند نے نافرل فر مایا ءا دک !میچی امہ ال کان ر ہیں1 سمانوں 
اورزگنوں ئٹُں _' 
۴:..رعلا یس کی بھارالان ار کاب الا مامت کے ایک با بکاعنواع ے: 
”تاویل المؤمنین والایمان والمسلمین 
والاسلام بھم وبولایتھم علیھم السلامء والکفار 
والمش رکین والکفر والشرک والجبت والطاغوت 
واللات رالمُزی والأصنام باعدائھم ومخالفھےم“ 
( ہیارالاوار رج:٢٣‏ ٦ص۵۲۴٣)‏ 
ترجھ.:.. ”مم تین اور اپیمان اور بی اور الام مکی 
اویل آئم او تم کی دلایت ے او رکغار ومشرکین ,کفرروشرکء 
بت وطاقفحوت, لات و۶ ز کی اور عنام (بوں) سے مراداان کے 
ھن او تالق مُن_'' 
مصوف نے اس ہاب می سوروا تق أ٠‏ لکی ہیں ء جن میق رآا نک رب مک یآیات 
کور کر کے پیا ج تک یا گیا ےکایمانع داسلام' ولا بیت اعم کا نام ہے٣‏ اس پر !یمان 
رکھنے وا نے م صن اورمسلرائن ہس اور جو لو کشھیو ںکی اس اصطڈا گی وا بیت کے( جس 
کا موچ انل عبدائش بن سپا تھا) تا لیس ء ا نک نام نے لن ےکم ال نکو پیٹ کلرک رکا خر و 
تو وطاگزرتءلات ۶گ اورأعنا مکہاے۔ 
...ای پاب کے نما تھے کھت ہیں : 
”نٌذنیب: اعلم أنٌ اطلاق لفظ الشرک 
والکفر علی من لم یعتقد امامة أمیر المؤمنین والأئمة 
من ولدہ علیھم السلام وفضل علیھم غیرھم بدل علی 
أنھم کفار مخلّدون فی النارء وقد مر الکلام فی فی 
أبواب المعادء وسیأتی فی أبواب الایمان والکفر ان 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


شاء اللہ تعالی.“ ۱ (ءارااوار یا ہے 

:”لن پاا اٹ ےک ہوفٹ ایال سج نکی اوزان 
گی اولاد یش سے میارہ ڈمامو ںکی امام کا عقیرہ نہ رگتا ہو اور 
ڈوسرو ںکوانغ ے ال کچ ہو؛اس پرکنفروشر کا لفظبولنا اس بات 
پردلا تک رتا ےکم بیس بکاخر ہیں جو پیش دوز رس رہیں گے 
بر متلہابداب معاد می لبج یگزر چکا ہے٤‏ او رآ لواپ الا مان والکفم 
لی پچ یآ ت ےگا اع شا ءااٹر'“ 
*. پچ مفیے کاب الال /ی سککیت ہ ںہ 

”قال الشیخ المفید قدّس اللہ روحه فی کتاب 
المسائل: اتفقت الامامیّة علی أَنّ من أنکر امامة أحد 
من الإأئمّة وجحد ما أوجبە اللہ تعالی لە من فرض الطاعة 
فھو کافر ضال مستحق للخلود فی النًار.“ 

( بیارالاوار رعج:٢۲۳‏ ۶۷ص ۳۹۰) 

تر یحم:... امام یکا اس بر انا ہک وٹین یں 
سے کی اما مکی امام تکامعگر ہواورا ای نے ا نکی وطاعت 
فر کی ہے ا سکا قائل نہ ہدء دہ کاغر ہے ہگمراہ ہے اود دوز غ یس 
0 ا 
۵چ مفید ڈو بی م۰ کھت ہ ںکر: 

'وقال فی موضع آخر: افقت الامامّة علٰی 
ان اصحاب البدع کلّھم کفار وأنٌ علی الامام ان 
یستنیبھم عند العمگن بعّد الدٍعوۃ لھمء واقامة البینات 
علیھم فان تابوا من بدعھم وصاروا الی الصَواب والا 
قعلھم لردتھم عن الاییمان وأنَ من مات منھم علی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲6 ۰۷ 


ڈلک فھو من أھل انار“ (جاراانوار يج.:٢۲۳‏ ص:+۳۹۰) 
تر ...ناما م یکا متطفقکقیدد ےک قمام ابل برح ت کا ر 
یں ک امام برلازم ےک گر دو الو سآ جا میں و ا نکودحوت و ہے 
اوران بت تاخمکرنے کے بععداانع سےٹ وذ ۔کمرواۓ ؛اگروہ ای 
بعت سے و برک ری اودراو رات پآ جا یں نے نیک ء ور شا نکو 
مان سے مر ہن ےکی با لککردے اور یک جوفتقی ماع تک 
چھو زکرصر ےکا وی بب 
موہ مقرو: ]کی غیرمشردط اطاعحع ت بھی ء رسول الڈص٥کلی‏ اید علیہ ول مکی 
فی ے: 
جب شیع قیرے کے مطالقی امام ہوم اورمن وین ارڈرتہرے اور جب 
ان بر یمان لان وا لے مسلمان اورا کو نو سن ایند نہ ما ئۓ وا لن ےکا فر ومرک اور 
جبت وطافحوت قرار ہے ذ اس اے ا زخو ون بھی شک لآ اک نس طرع مسلمائوں کے 
زز دی کآحخحضرت مکی الد علیہ مکی خی رمش روط اطاعع تفر ے بشھیہوں کے نز دی کیک 
اسی طرع باد !ما مو لک ی بھی خیرم ش روط اطاععت فی اوداس سے مرا فکفرہے۔ نہ 
اصو کان تاب اجیرٹ ایک با بکاعنوانع ے: 
”باب فرض طاعة الأَئمّة“ 
شی ا سکامیا نک ہآ مکی طاع تل ے 
اس جاب یل مت ہروا یں در کی ہیں ءان یس سے مین رواتتیس ملا نظ رما پے: 
:...”الحسین بن محمد الأشعری؛ عن معللی 
بن محمد عن الحسن بن علیَ الوشاء عن أبان بن 
عٹمانء عن أبی الصباح قال: أشھد آنی سمعت أبا 
عبداللہ عليه السلام یقول: أشھد أنّ علیٗا امام فرض الله 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


سا سے کے کے رس 
امام فرض اللہ طاععه وأَنٌ علیٗ بن الحسین امام فرض 
الله طاعته وأنٌ محمد بن علیٗ امام فرض اللہ طاعته.“ 
(اأصول٣انٰ‏ .خ:ا ضص:۱۸۷) 
تو ات رو اج کنا میں خشہادت وت 
ہو ںک یضر تی محضرتنسن منرت سجن ء سضر گی رن سن 
او تحضر تیجھ بن لی (زشی او ٹم یسب !ما فرص الطاعۃ ہیں ۔' 


...٣‏ ۵۷ - عدّة من أصحابناء عن أحمد بن محمدء 


عن محمد بن سنان عن أبی خالد القمّاط عن أبی 
الحسن العطار قال: سمعت أبا عبداللہ عليه السلام 
یقول: أشرک بین الأوصیاء والرٴسل فی الطاعة۔“ 
(اصر لان :ا ضص:۱۸۲۷) 

ترجھہ:.. ”امام ینف رف ماتے ہی ںکہ: اقدتتعالی نے اوصاء 
اورسولوں کے ورضیان طاععت یں شر اک ت ری وت 

۳, 'علیٗ بن ابراھیم عن صالح بن 
السندیء عن جعفر بن بشیرء عن أبی سلمة عن أبی 
عبداللہ عليه السلام قال: سمعتہ یقول: نحن الین 
ضرض اللہ طاعتناء لا یسع الناس ال معرفتنا ولا یعذر 
الساس بجھالتناء من عرفنا کان مؤمناء ومن أنکرنا کان 
کافرٗاء ومن لم یعرفتا ولم ینکرنا کان ضالّا حتی یرجع 
الی الھدی الذی افترض الله عليه من طاعتنا الو اجبة فان 
یمت علی ضلالته یفعل الله به ما یشاء.“ 


(اأُصولکانی ما ١ضص:ع۱۸)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۹١۱۵۷۳۳٠٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


زی ایا 9ر یں رد اوک یں 
اٹ نے ہعاریی طاعع تفر لکی سے ءلوگکو ںکو ہما ری معرفت کے بخیر 
جار ہگڑیلء اوہ مکوئنہ جا ۓے کے بارے ٹیل لوک مد رنیل ؛ جن 
نے مکو پان وو م ومن اورجھپھم ہے مپگ جو وکا قرء او یجن نے 
ہا رات نہ پہچا نا اورمحک ری نہہہواد ہگم راہ ہا لیک کفکہاس ہدابی تکی 
رف لوٹ ؟آۓ جو الد اہی نے فرح کی سے ]شک ہعارکی اطاعت 
چوواجبے ےءاگمر وہ اپ یگمرابی پرھ رات اتال اس سے چو معاملمہ 
پا رے۔ 


ا سوا ںحقیرہ: اہول کے بے 
انا ۓگرا مٹیم السلا مک وج زات عطا کے جاتے ہیں جوا نکی نے تک دحل ہوا 


کرتے ہیں ۔ شید عقیرے کے مطا بی جن ط رح انمیا کرام مہم السا مکو جات د ئے 


جات ہیں۱ اکی رب !ما مو لکوشگی د ہے جاتے ہیں - 


ا..:!ھارالافوار ماب الا مامت کے ایک با بکا عتوالعٰ ے: 
”انھم یقدرون علی احیاء الموتی وابراء الأکمہ 
والأبرص وجمیع معجزات الأنبیاء علیھم السلام“ 
ترچجم:.. مہہ ئُردو ںکوجلان ےگیء ماورزاداند ھھ اور 
مرو شکو ناک رن ےکی اور اخمیاء می ہم السلام کے تما مو ںکی 
پندرت ر کھت ہیں 
...ا کیا جا بک ایک روایت طاخظیف رما : 
”-یر: أحمدبن محمد عن عمر بن 
عبدالعزیز عن محمد بن الفضیل عن الثمالی عن علی 
بن الحسین علیھما السلام قال: قلت لە: أسالک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


جعلت فداک عن ثلاث خصال انفی عنی فیه التقیةء 
ناؤوتتان لک لکن تتے: انال بسن 
ورفلانء قال: فعليھهما لعنة الل بلعناته کلّھاء ماتا واللہ 
وھما کافرین مشر کین باللہ العظیم. 
ٹم قلت: الأئمّة یحیون الموتی ویبرؤن الأکمه 
وپ ون ریمشرن علی الماء؟ قال: ما اأعطی الله نبیًا 
شینًا قط الا رقد أاعطاہ محمدا صلی اللہ عليه وآله 
راعطاہ مال یکن عندھمء قلت: وکل ما کان عند 
رسول اللہ صلی اللہ عليه و آلە فقد اعطاہ أمیر المومنین 
عليه السلام؟ قال: نعمء ٹم الحسن والحسین ٹم من بعد 
کل امام اسامًا الی یوم القیامةء مع الزیادة الٹی تحدث 
فی کلْ سنة وفی کل شھر ای واللہ فی کل ساعة.“ 
(ءکارالاوار :ے٢‏ ۲۹:۴) 
تر :... صا الدرعجات یں ٹاک مۓروایت تلم 
شس نے امام ز بین العابد بین س ےکہاکہ: مھ لآپ سے جن با یں 
معلو مکرن جاہتا ہوں ٤‏ از راوکرم بے سےکقیہ نہ تکجئے ۔ فرمایا: نویک 
ہے میں ن کہا :مھ لآ پ سے فلاں اورفلاں ( می حضرت ال وبگرو 
خر تگھرریی الما ) کے بارے یں و تا ہوں ءفر مایا :ان 
کی تام یی ہوں ءال دک یمم ادددوفو کا فر وش رک مرے۔ 
میں ن کہا :ہکیاا ما مر دو نکوزند ھکر تے ہیں؟ مادرزاد 
اند حے اورمبری کو نگ اکر تے ہیں؟ اور بالی پر لت ہیں؟ فرمایا: 
تھی ن ےی نی وی دقت جو جزوھی دبا وہ رسول انی اللہ 


.علیہ مکی لا فلا اد پ سال علیہ موہ ڈو ےگا _ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


دی جو یگ ین یکویں دیے تھے مس ےکہا: ودج جھزرے 
رسول اوڈیصلی الد علیہ حم کے پاس تہ دو سب امیرالم سم نکو 
دے دی ے؟ فرمایا: پاں اچ رس نکوء پچ رس نکوء پچ ران کے بعد ہر 
اما مکوقیا مم ت کک :ئع ان زا حجحزات کے جو ہرسال شی ہرعن 
یس یس بللہا کیم ا ہرکھڑیی میس ظاہ رہ وت ہیں 
بایگک با بکا عو الع ے : 

”ان عندھم الاسم الأعظم وبه یظھر منھم الغرائب“ 

یی امہ کے اس ام امصعم ہہوتا ہے جس سے یا کبات 
ظاہرہوے ہیں۔“ 
اک جا بک مکی روامت: 

”- محمد بن یحیی وغیرہ؛ عن اأحمد بن 
محمد عن علیٗ بن الحکمء عن محمد بن الفضیل 
قال: أخبرنی شریس الوابشیء عن جابر؛ عن أبی جعفر: 
عليه السلام قال: ان اسم اللہ الأعظم علٰی ثلاثة وسبعین 
حرفا وانما کان عند آصف منھا حرف واحد فتکلّم بہ 
فخسف بالأرض ما بینه وبین سریر بلقیس حتی تناول 
السریر بیدہ ثْمٌ عادت الأرض کما کانت أسرع من 
طرفة عین ونحن عندنا من الاسم الأعظم اثنان وسبعون 
حرفاء وحرف واحد عند اللہ تعالٰی استأثر بە فی علم 
الغیب عندہء ولا حول ولا قوَة الا باللہ العلیٗ العظیم.“ 

:زگ چا فی :انام پاق ”ےج لک رٹک نک 
نہوں نف مایا: ال تھالی کے اس پئعم کے٣‏ ےتروف ہیں :حضرت 
سلممان علیہ السلام کے وزمرآصف مجن برخیاکے اس ال لکا صرف 


۱۷۷۷۷۷۷ ۰610۲٢۱۷۳۵۵٢ ۹.۸۷۱۸۲۹6م‎ 7 


ٹف فک جوف نا نین نے وہ ایک 7ف ڑا ان کے درمیان اور 
یس ےت 7 0,0 
ےج تکواپنے ات ےپ لیا ء اون رز ان انی حالت پ ہی اور 
یسب پچ (احم اٹضعم کے ایک مر فک بدوات ) صر فآ ک کین 
کے و تے میس ہکیا۔ اور ہا رے پامس ام پتشعم کےا مروف ہیں 
(اب ہیارئیمہجزہ مکی کا خود انز وکرلو) اود اسم پش ما ایک حرف 
الداتھالی نے اپنے پا ل نز انیب بی درکھا ے۔ 
...اکا جا بک وص ری رداعت 

- محمد بن یحییء عن اأحمد بن محمد: 
عن الحسین بن سعید ومحمد بن خالدء عن زکریا بن 
عمران القمّیء عن ھارون بن الجھمء عن رجل من 
اصحاب أبی عبداللہ عليه السلام لم أحفظ اسمه قال: 
سفینعت آبا عبداللہ عليه السلام یقول: ان عیسی ابن 
مریم عليه السلام أعطی حرفین کان یعمل بھما واعطی 
موسی أربعة أاحرف: وأعطی ابراھیم ثمانیة أحرف؛ 
واأعطی نوح خمسة عشر حرفاء وأعطی آدم خمسة 
وعشرین حرفًاء وانٌ الله تعالٰی جمع ڈلک کلّه لمحمد 
صلی اللہ عليه وآله وانَ اسم اللہ الأعظم ثلاثة وسبعون 
حرفًاء اُعطی محمدا صلی اللہ عليه وآلە اثنین وسبعین 
حرف وحجب عنه حرف واحد.“ (اصولکائی :ا ص:۳۰٢۲)‏ 

ترجمہ:.. نما صاد قیفر مات ہی ںکییھ کی علیہ السا مکو 
ام اعم کے دورف د ہے گے تےء مج نکووہکام مس لاتے تھے 
موی علیہ السلا مو یا رتروف ءابرا ڈیم علیہ السلامکو مروف ء وج 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳٣٠٥٢١٥۹. ۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


علیہ السلا مکو پقددہ روف او رآوم علیہ السلا مکو یچس جوف د بے 
لئے جھے۔ اوراالد تی نے صلی اد علیہ عم کے لئ بی مسا نے 
7ف اکرد.یئےء اودتھالی کے اس ایم ےو نزو وین خر 
صلی اللدعلیہ ول مکوے د ہے اور یک ترف الن سےبھی پردے میں 
رکا گیا 
"8 ٤ھایگ‏ با بکا حتدالنع ے: 
ا لی الا اک ا و رک ا و 

اکس جا بک وس رک ردایت لاحظفر ماگ : 

- ختص: ابن عیسلی عن الحسین بن سعید 
عن عثمان بن عیسلی عن سماعة أو غیرہ عن أبی بصیر 
عن أبی جعفر عليه السلام قال: ان علیٔا عليه السلام 
ملک ما فوق الأرض وما تحتھاء فعرضت لە سحابتان 
احداھما الصعبة والأخریٰ الڈُلولء وکان فی الصعبة 
ملک ماتحت الأرض وفی الذڈلول ملک ما فوق 
الأرض,ء فاختار الصعبة علی الڈُلول فدارت به سبع 
ارضین فوجد ثلاتًا خرابا وأربعة عوامر.“ 

( ءحارالانوار رؾعٌ:ھث٢‏ ۷ك۶ص۰٣٢۳)‏ 

رر ''الا٣۳و]با٭پار‏ اف لک رت ی ںکیآپ 
نے فرمایاکہ: رت گل زشن کے اُوبہ کے اور پچ کے ما کیک 
بہوۓے لو آپ کے سات دو بادل یل ہو ء ایک وشوار ڈو صا 
آسان۔ وُشوار یل ز جن کے یی ےکی حلومت می او رآ سان یل 
زین کےاُ و کی۔ بی یآپ نےآ سان کے ہجاۓ و شوارکو اختیار 
کیاء یل دو پکو تن ےگرسمات زیمیتوں می لکھوماء نی ںآ پ نے تین 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


زمیتو ںکوب ےآ بادباا اور چا رگوآپاو_'“ 
۵...علادہ از بس اہ کے جحزات یں بھی ذک رکیا گیا ےکمالنع کے پا س 
محضرت ابرا یم علی السا مکاگرجاء موی علیہ السلا مکا عصا :سلیمان علیہ السا مکی انکشت ری + اور 
نو ارات ل کا تاوس نجیر بنا ے۔ (أاصول) نی ج:١‏ ص۳۳٣)‏ 
:. فا ءنجاننی جح مشیر ےا ل کرت ہیں: 
”'فائدة: قال الشیخ مفید فی کتاب المسائل: 
فَامًا ظھور المعجزات علی الأئمّة والأعلام فانه من 
الممکن الذی لیس بواجب عقَلا ولا یمتنع قیاسُاء وقد 
جاءت بکونہە منھم علیھم السلام الأخبار علی التظاھر 
والانتشار فقطعت علیه من جھة السُمع وصحیح 
الآثارء ومعی فی ھٰذا الباب جمھور أُھل الامامةء وبنو 
نوبخت تخالف فيه وتأباہ ....“ (جارالاٹوار ؾ: ے٢‏ ص۰٣۳)‏ 
تج: .”چا مفی تاب الال ی سککھن ہیں :ر بات 
کے ات منجقزاتکا اہ رہونا تو چیگنکن ےک :یت لکی ٹرو سے 
واج ہے اور لق یا لک رو ےن ےےء اودآئم رت شھزات کے 
خہور یں منواتر أحادیث وا ردپہوئی ہیں ءابنرایٹیل ایب شقول کے اور 
مجر کےا سک ا ا لا کر ا 
یش جھہور امامیہ ہیں اور بنونو بجنت اس کے خلاف ہیں اور ا یکا 
زقکار اس 
و س ہے مفیدکی عبارتتنفُ لک نے کے بحداپنا فیصلہان الفاظا ٹش 
تفم درک کے ین : 
”والحیّ أنَ المعجزات الجاریة علی أیدی غیر 
الأئمَة علیھم السلام من أصحابھم ونوٌّابھم انما ھی 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


معجزاتھم علیھم السلام تظھر علی أیدی ارلیک 
السفراء لبیان صدقھم و کلام رحمه الله أیضا لا یابی 
عن ڈلک ومذھب النوبختیّةء ھنا فی غایة السخافة 


والغرابة.“ ( ہھارالالوار ريخ:ے٢‏ ص:٣٣)‏ 

عرچہ....' او ھی بب ےک جگھزات ات کے علادہ 
ڈوسرے لوگوںمڑ ان کے اصحاب اور نائین کے پا بر ظاہر 
ہودتے ہیں ء د ہنی امہ بی کے ہھزات ہیں٠‏ جج ان کے نماتتروں 
کے ہاتھ پر ظا ہر ہدتے ہیں ان کے صد کو بیا نکر نے کے لے ء 
اوخ مفیدکا لا بھی ال کاٹ ینمی سکرتاء اورنو ہو ںکا رہب ا 
کے میل نما تکنیٹف اور ریب سے“ 


کنا مقر ہ: انم پروی کا نزول: 
امام کا عحترہ 7-2 7 ےس کے ورسیے وه 


عرش سے تحت ال کت ککا سارک چتززبس جات ہیں۔ چناغجہ أصو يکائی کاب ال 
''باب فیه ذکر الأرواح التی فی الأئمّة علیهھم السلام “مل جا بر ےروایمت ےکہ: 


تین ےنا اف ےے ناک 7 
بارے می پچ پچھا تق انہوں نے فمایا: جابر!انمیاءداوصیاء ٹ یا 
ریس ہوٹی ہیں: :. زوں الٰشجوہہ ۴:. روخ الا ان 
..٣‏ رو ایاتء .:٢‏ زوں الو 8ء ۵:..زوں القریں۔ یل 
اے چابر! دہ روم القدیں کے ذرلجہ ماجت الہش سے ماتحت 
2 اتک سب بیٹتھ چا ہیں ء اور می جارڑ دجو لکوحوادت ز مان 
لىقن وت ہی ںگمرز و القد رس اہوداح بکا ش وا یں ول _““ 

(أٴسرلکائی خ:١‏ ص:٢٤٤)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ا نر تو لککا کرکرنے کے دز و قد کے پارے می خر مایا: 


”وروح الققدس فیە حمل الببوٰة فاذا قبض 
النبی صلی اللہ عليه و آلە انتقل روح القدس فصار الی 
الامامء وروح القدس لا ینام ولا یغفل ولا یلھو ولا یزھو 
والأربعة الأرواح تام وتغضل وتزھو وتلھو وروح 
القدس کان یری بە.“ (أصرل) انل ج:ا ص:٣ع٢)‏ 

تی ناورپ صلی ال علیہ وی روز الین اط 
بی سےعائل خ وت ےچ رجب ہیک ری /صکی اللرحلیہوسل کا وصال 
ہوا تر و القدی !ما مکی عطرف یل ہوکئی ءاورر وح القدی نسولی 
نہ اٹل ہولی سے نکھوقی سے رکا ول سال 
ارز وشن ائنع چیزوں یس ملا ہوجالی ہژںءاورژوں القر کی وج 
سے ماس مرن سےفر تک سب ئھود کا سے 
ای باب کےسعل ایک اور با بکاعنواان ے: 

”الروح الذی یسدد الله بھا الأئمة علیھم السلام“' 

( نی اس نوع کا وکرجنس کے ری اید تھاکی أع کو 
راوراست پرر کت تے ) 
اک جا بکی مکی ردابیت یل ے: 

”7- عدَة من أصحابناء عن اأحمد بن محمد؛ 
عن الٰحسین بن سعیدہ عن النضر بن سویدء عن یحیی 
الحلبیٔء عن أبی الصباح الکنانیٔء عن أبی بصیر قال: 
سالت أبا عبداللہ علیه السلام عن قول اللہ تبارک 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


سن چڈر رز قب 0 
سوا لکیاءانہوں نے فر ما کہ آحضرت صلی اوڈرحلیہ وملم یس بای زوش سبحیںء مند رجہ بالا 


جو رر تتن (.48-.<880ہ.<ر 


وتعالی: ” وکذلک أوحینا الیک روخٌا من أمرناما 
کنت تدری ما الکتب ولا الایمان“ قال: خلق من خلق 
الله عرٌ وجل أعظم من جبریل ومیکائیل کان مع 
رسول اللہ صلى الله عليه وآله یخبرہ وریسدّدہ وھو مع 
اللأئمّة من بعد٥,“‏ (اصو لک خ:ا ضش:٢٤)‏ 

ون اکر نے ام جنفرصارتی ے ارگاد 
غداوندی :”ولک أَوْحَیْنَ اِلَیک رُوُخَا مِنْأَمْرِنَا مَا كُنْتَ 
ری ما الْکعٰبْ وکا مان“ کے پارے میں سوا نکیا نو امام 
ےھ رخایا: 

بیز و ای کتلوقی ہے جج رہل ومیکاحکل سے کے 
یز وں آتحض نت لی الف علیہ یلم کے سا تر ہقیی اور پ سی اللد 
علیہ ول مکوج ری دیمح ء اورپ صلی اقدعلیہ وس مکوراو راست بر 
رای ء ٹزو آپ مل اللدخلیہپعلم کے بح دن کے مات رہ 
کیل سن 
ڈوسرییاروایت ممل ے: 

-٣‏ محمد بن یحیلی,ء عن محمد بن 
الحسینء عن علیٗ بن اأسباط: عن اسباط بن سالم قال: 
سالە رجل من أھل ھیت ۔ وأنا حاضر - عن قول اللہ عزٌ 
وجلٗ: ”وکڈلک أوحینا الیک روخ من أمرنا“ فقال: 
مدذ أنزل اللہ عرٌ وجل ڈلک الرٌوح علٰی محمد صلی 
الله عليه و آله ما صعد الی السماء وانه لفینا.“ 

(أصو لکن رع:ا ص:٣٤٢)‏ 

و نا  -‌‏ ە ء۶۹ ۰ 6 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


علی لم یرنانز لف ماباءودہج یآ 
سی ردایت مل ے: 

'- علیٗ بن ابراھیمء عن محمد بن عیسلیء 
عن یونس, عن ابن مسکان عن أبی بصیر قال: سألت 
ابا عبداللہ علیے السلام عن قول الله عرٌ وجل: 
”یسالونک عن الوٴوح قل الووح من أمر ربّی“ قال: 
خلق اأعظم من جبرئیل ومیکائیلء کان مع رسول ال 
صلے اللہ علیے وآلے وھو مع الأئمَة وھو مر 
الملکوت.“ (أاصرل۷ ان ١:6.‏ ص٣٣۴‏ 

ترجمہ...” بیو ای کلوتقی ے ج بج رہل اود میکاتحل 
سے ب کی ےء دو رسولل الڈصکی اولعلی ےلم بر کر ا 
اورودی امہ کےسا تر اکرپی ےاورو لکوت سے ے“ 
چگی روایت مل ے: 

”قال: خلق اأعظم من جبرئیل ومیکائیلء لم 
یکن مع أحد ممّن مضی؛ غیر محمد صلی اللہ عليه وآله 
وھو مع الأئمّة یسددھم ولیس کل ما طلب وجد.“ 

)٢٣: ١غ (أصرل)ن‎ 

ھا پا فور ل دمیائل سے بڑ ینوی 
سے بٹ کی ال علیہ سلم کے علا و وکزشتتلوکوں ٹیل ےکی کےسا تد 
نیس رہقیاعھی اود با مہ کے ساتد کرٹ یع ءا نکوراو راست پہ 
ھی ہے ورای انی سک ج چزطل بک جا وو بھی جاے _' 
ُصولکاٹی تاب اجس ایک با بکاعنوان ے: 

”ان الأئِمَة معدن العلم وشجرۃ البوۃ ومختلف 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٥٢١٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


الملانکة“  -‏ زاسصل×نٰ ئ: ۷۷س 
تی 2 ا۷ محعدن اورنجوّ تکا ُرخت جل اور 
ان کے پا فرشتو ںک یآ مدورفت رئقی ے۔' 
اس یں جناب امو رالم نع ء امام لی بی ن مغ اور اما تتطرصا دق کے اقوال 
ای ون کنل گے ہیں۔ 
میلس کی بھارالانوا ری ائیمضمونکا ایک باب ے: 
”ان الملاکة تأتیھم وتطا فرشمھم وأنھم 
یرونھم صلوات الله علیھم أجمعین“ 
( ہیارالاٹوار ۲٢:‏ ص:۳۵۱) 
طرج:... ” طاکلہہ أئحمہ کے باس آتے ہیںء ان کے 
امو ںکوز ون تے ہیں اوت فرش تو ںکو کھت ہں _'“ 
اس جاب یل بہ تک دوایات ذک رکا ہیں ۱ جن مل جیا نکیا کیا ےکہ دنر 
فرشتوں کےملاو جم بل علیالسلا م) گی خدمت میں حا ضری دریے تے۔ 
علامہ با رج یانے” بھارالاٹوا کے باب ”جہات علومھم“اوردط رواب 
مس بھی ,پ02 ہی سکرفرشت أئکوعلوم إلقا کر تے تھے چند 
روایإات طاجحظہوںل: 
ا:..۔ ”بر: الحسن بن علیٰ عن عنبسة عن ابراھیم 
بن محمد بن حمران عن أبیە ومحمد بن أبی حمزۃ عن 
سفیان بن الٌُمط قال: حدثنی أبو الخیر قال: قلت 
اہی عبداللہ عليه السلام ای سألت عبداللہ بن الحسن 
فزعم أن لیس فیکم امام فقال: بلی والل یا ابن النجاشی 
ان فینا لمن ینکت فی قلبه ویوقر فی أُذنه ویصافحه 
الملائکة قال قلت: فیکم؟ قال: ای والل فینا الیوم ای 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


والل فینا الیوم ٹلا“ ( بھارالالوار رخع:٢٤‏ ص:۵۹) 

ترجھ:..' ال وا کت ےکن ہین ےے امام صادقی ے 
عم کی اکہ :یس نے عبداوشدہن سن سے لپ پچھا نو اننہوں ن ےکہ انم 
می لکوی اما میس ہے یک نکر امام صا دق نے فرمایا :کیو ںیل ؟ 
کا !ہم می ا یراس (یشی امام )موجود ہے جس کے ول یش 
کلام النقاءکیا جا تا ےس کےکاوں می کلام ڈالا چاجا ے اور 
نس نے رت غصما کرت یہ یس ن ےجب ےکا :ٹم میں؟ 
ڈربایا:ہاں !الل کشم ! ہم می ای شف سر بھی موجود سے تن بار 
بی بات برای 
...٣‏ ”بر: ابراھیم بن ھاشم عن محمد بن الفضیل 
آوعمن رواہعن محمد بن الفضیل قال: قلت لأبی 
الحسن عليه السلام: روینا عن أبی عبداللہ عليه السلام 
أنه قال: ان علمنا غابر ومزبور ونکت فی القلب ونقر 
فی الأسماعء قال: أمَا الغابر فما تقڈُم من علمناء وأمًا 
المزبور فما یأتیناء وأمَا النکت فی القلوب فالھامء وأما 
النقر فی الأاسماغ فانه من الملک“ 

)٦٦٠:٠٦ض‎ ۲٢: ہیارالاوار‎ ( 

تر ...امام صادق“ نے فر مایا:ہماراعم جا رک مکاے 
ای کگزشننہ ای ک۔ککھاباء ایک ول میس القاء ہوناءاورای کا نوں یں 
ڈالنا _ُز شی سے ھراد و یلم چون لے حاصل ہو چکاء کے 
ہو سے مرادددعلم ہے جو ہمارے پا خیاجاز ہآ نا ہے ول شس 
القاء سے مراد سے !ہام اورکانوں یں ڈالے سے راد ے فرش 
(جوہمارےکانوں می ںکظام انا کرجا ے )۔ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


..٣‏ ”وروی زرارۃ مشل ڈلک عن أبی عبداللہ علیہ 
السلام قال: قلت: کیف یعلم أنه کان الملک ولا 
یخاف أن یکون من الشیطان اذا کان لا یری الشخص؟ 
قال: الہ یلقی عليه السکینة فیعلم أنَه من الملک: ولو 
کان من الشیطان اعتراہ فز عء وان کان الشیطان - یا 


زرارة- لا یعترّض لصاحب ھذا الأمر 

ہرادا ےکن مین نے امام صادثی سےکہا 
1 ا ا چا ار رق ے27 بب کان 
یس با سکرتا ہے )ا کا ان یش کیو نمی کہ د+شیطان ہو؟ کیل 
ا سک یتخصیت تو نظ م1 لی کھیں خر مایا: امام مرسکییت ڈالی جالی ے 
جس سے ہمان لیا ےکہ فرش سے :اگ رشیطان ہوتافوکھ را ہٹ 
ہوی مال زرارہا امام کے اس شطا نی لآ ۶ئ 


یہاں بد وضاحت ضروریی ےک مب ری کےکشف و ال ہام اور ژ5 یاۓ صادقہ 


کے اہل سن تھی قائل ہیں مان نی اور خی ری کےکشف و امام اورخواب میں دوج رے 
فرقے۔اڈل رکٹ یکا شف والہاماورخواب و شی ہےء انس میس اشتبا وو تاس 
کیکفک وی می خی یی کاکنف و الما م اورخوا نیہ بنفی سےءاس یس شتباد 
ولتاا سک یچھیکفوئنش سے اورخیطا نکی دفل اندانزیکابھی اخمالی ےء اس لے ج بتک 
ا سے مییزان شرع بی قو لک شددمکھاجاۓ مت بکک ا لکا قجو لکنا اوراس پر اعت ددوڈقی 


کنا چان ۔ 
دوم یک ٹیک اکشف دا لہا مجھی اورخوا ب بھی جنتی مز مہ ہے اسب یمان لانا 


ازم ہے اودرائس پش لکر نا واججب ہے جل ہی نپ یک اکشف و ہام اورخواب مت شرعیہ 
یں ء ہلوگ انس پر ایمان لانے اوداس رش لکرنے کے ملف ہیں٠‏ بل خودصاحب 


نف والپام کے لے بھی اس پم لکرن شرنافرخ یں ۔ 


۷۷۵۷۰۲06۷7 777270229 7 كۃژۃ۷۵۷/// 


اس سار یں ہے ے الظاء ٹف ایام اور 
شر و کےڈر یج عامل ہو تے ہیں ء ا کا درجرد کیل جوائل حطنت کے خی نی کے 
تی ااہام دشر ہکا ے٤‏ یلہا نک دجہت انا ۓکرا ممتہم السا مکی 27 
ہے کیوککمانع کے نز دیک اٹ کو ونسیان اورف۲فلت و اشتبا و سےمتوم اورمنزہ ہیس اس 
لئ ا نکی وئی انمیاۓکرا مہم السلام بی نازل ہونے والی وت کی طرح ای وشنی اود ہر 
نک و شب سے پاک ہے۔ اور چوگہ و تحضر صلی الد علیہ ویلم ہ کی طرحع واجب 
الاطاعت ہیں اس لئ ا نکی وٹی مت قطع بھی ے اور تحت شرع ہجھی۔ علا ٹس یکی 
ایک خازت'' ضحم کڈ یی لا لکز چک ہوں :ءا ولاف الا جات ء ایک اوز 
عبارت بیہاں شی لکرتابہوں ٢‏ دہ بھارالاتو ار ءکناپ الامامۃ ؛”بساب نفی السھو عنھم 
علیھم السلام“ کی روایت٣‏ کے مل میں کت ہیں 
”بیان: ققدمنی القول فی المجلد السادس فی 
عصمتھم علیھم السلام عن السھو والنسیان وجملۂة 
القول فی أنْ أاصحابن الامامیّة أجمعوا علی عصمة 
الأنبیاء والأئمّة صلوات اللہ علیھم من الذُنوب الصغیرۃ 
والکبسرۃ عىمڈا وخخطاً ونسیاًا قیل النبوَّۃ والامامة 
وبعدھما بل من وقت ولادتھم الیٰ ان یلقوا الل تعالٰیء 
ولم یخالف فی ذلک الا الصدوق محمد بن بابویە 
وشیخے ابن الولید دس اللہ روحھما فانھما جوّزا 
الاسھاء من اللہ تعالی لا السھو الُذی یکون من الشیطان 
فی غیر ما یتعلّق بالتبلیغ وبیان الأحکام وقالوا: ان 
خروجھما لا یخل بالاجماع لکونھما معروفی الىسب. 
اما السَھو فی غیر ما یتعلق بالواجبات 
رالمحرٌمات کالمباحات والمکروھات فظاھر اکٹر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610٥۲١۷۳۳٠۱٢٣۹ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


أاصحابنا أیضا تحقّق الاجماع علٰی عدم صدورہ عنھم 
واستدلوا أیضا بکونە سبیّا لنفور الخلق منھم وعدم 
الاعتداد بأفعالھم وأقوالھم وھو ینافی اللطف؛ وبالآیات 
والأخبار الَدَالّة علٰی أنھم علیھم السلام لا یقولون ولا 
یفعلون شینًا ال بوحی من اللہ تعالٰی.“ 
(ءيارالاوار رخ:۲۵ ص:۳۵۱:۳۵۰) 
تر جہ:..: وفارنے مفا رم مم کا ایپ اما ے لہ 
بجی اود امام تھام جچھوٹے بپڑ ےگا ہہوں سے پاک ہوتے ہیں ء نہ 
ان سے دا گناہ ہوسکما ہےء نہ خطائء نہ ہواء اور یحصصت ال نکو 
بت و مامت ےج بھی حاصل بوتی سے اور بعد می بی ء بہ 
ولادت ے وفا ت کل __ اوراسل می۲ ل کی نے اختا فک ںکیا 
سوا صدو قشم بین با لو بہادران کے ہم دالوا کےء ان دوثوں 
بن رگوں لن ےکہا سے جوبھول شحیطا نکی طرف سے وہ دوتو نمی اور 
اما مکوپ نیو ںآسستی یکن ہی ہویسلکما ےکہان یراتا کی جاب 
سےھول ڈال دی جاۓ بر بیکھول ایی ےا موییش ہوکتی سے مجن 
لیخ ادر بیان أحکام سے نہ ہ۔ مار ن ےکہاممہائن دونوں 
نز رکوس کا زررع اعاغ یں ظلل انا زگیں کیو ہے دراول 
روف الشپ ہیں بائی دہاواجیات وحرمات ےعلاوہ پھڑوں 
شا مباعات وروبات یں بجو لک وا بوناء لو ہمارے اک 
٥اب‏ کےہول سے بی ظا ہر ےکاسل کے صادر مہ ہو نے بپدبھی 
اجماح ہے اورانمہوں نے اس عدم صدور پر ىہ ا تد لا لج یکیا 
ےےک ہب زان ےو یک ینفر تکا یہبل یق 8۵ەقل: 
اقو ال کا ابا رکیل ر ےگاء اور بہالف کے مناٹی ےہ نیز انہوں 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣۹ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


837:22 ً‪0.,.,ە0) 
دلالل تکرٹی ہی سکہ ری ححفرات وگ ا بھی کے بی رکوکی با ت میں کت 
اور تگوگ یکامکرتے ؟ اکا 
الش زوا ظفل سے فا وا کٹا و و 
عائیوںہ _ 
سا وا ںکقرہ: نکیل وگ رم کےاخمارات 
صو کا ٹی کاب اٹل ایک یا بکا عنواانع ے: 
”التعفویض نں الی رسول اللہ صلی اللہ عليه وآلہ 
والی الأئمة علیھم السلام فی أمر الذّین“ 
(اصولکائی بج:١ )۲٦۵:/۴‏ 
یش س کا مطلب یہ ےکہ وین کے امو رادلدتالی نے رسول اڈ صلی اڈ علیہ لم 
یرجھ حر وا چس 
ں ہج سک جاہیں 27 ناک اور مر ےک وڈ وس ا عم نامیں :ان7 رن رشن اک 
ل‫ 0ہ شببعہ نے اتکی بہتکی ردایات سے اہ تکیا سے :لو رنموزہ 
چندروا یں ملا حنظہ! رما ئے : 
ا:..._ ”مجمد بن یحییء عن محمد بن الحسنء عن 
یعقوب بن یزیدء عن الحسن بن زیادء عن محمد بن 
الحسن المیٹمی,؛ عن أبی عبداللہ عليه السلام قال: 
سمعتہ یقول: ان اللہ عرٌ وجلُ أذب رسولہ حتی قوّمہ 
علٰی ما أرادء ثمٌ فوٌّض اليه فقال عرٌ ذکرہ: ”ما اناکم 
الرسول فخذوہ وما نھاکم عنە فانتھوا“ فما فوّض اللہ 
ای رسولە صلی اللہ عليه و آلہ فقد فوَضہ الینا.“ 
(اصرلکائی ج:ا ی:۸٦۲)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ژیں۔؟لام فان“ کا ارشاد ےن ان رتا ی نے 
ان رسول صلی ایل علیہ ول مکو وب سکھایاء بانج ت کراب 
ارارے کے مطا ب7آ صلی ند علیہ مل مکوسدراکردیاء برا تال 
نے و بین کے محالا تکوآ قر علیہ یلم کے سپ ردکردیاء چنا نج 
رما اگ نرسو ل ہیں 7و نوزے زنے اے ےلوہ اوز*ّ چڑ 
سے دوک دیس ٣اس‏ سے ترک جا و“ یں ال دتھالی نے جو نھد این 
رسول صلی ال علیہ وملم کے سپ ردکیادوسب چچھ ہما رے سپ ردکردیا_' 
...٢‏ ”الحسین بن محمد الأشعری عن معلّی بن 
محمد عن أبی الفضل عبدالل بن ادریس؛ عن محمد 
ہن سان قال: کت عند أبی جعفر الٹانی ع ۔سلام 
فأاجریت اختلاف الشیعةء فقال: یا محمد! انْ الله 
تبارک تعالی لم یزل متفرٴذا بوحدانیّته ثمْ خلق محمدًا 
وعليٗؤا وفاطمةء فمکٹوا الف دھر؛ ثمٌ خلق جمیع 
الأشیاءء فاشھدھم خلقھا واجری طاعتھم علیھا وفوض 
آسورھا الیھمء فھم یسحلون ما یشاؤون ویحرّمون ما 
یشاؤون ولن یشاؤوا ال أن یشاء الله“ 
(اسرل٤نٰ‏ ؾ:ا ص:۳۱٣)‏ 
ترج:.. مج بن سا نکھتا ےک میں امام انف حا لی 
کے پا تھاہشھیہوں کے اخنا فا تکا ت کر کیا امام نے ف رما اک 
ابندتھاٹی اڑل سے انی وعداخیت کے سا جح منفردتھاء پچ راس نے 
مج لی اور فاع کو پییداکمیاء بل دہ ہرادد ہر کھہرے رےء تچھر 
تمام اشیا وو پااکی ق ا نکوان نزو ںک فی پرگواہ نی اورسب 
چچزوں کے مہ الع کی طانعت واج ب کی اور تمام اشیاء کے 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٢٥٢٥٢١٠٢۹۰۷۷۸۲۹م۴6‎ ۷ 


عق رت رعتانح (48-.<3<.>89جب.<جو 


قا مھت فحصارع ۔ہں ىر ضرا تکس تید پا ہیں 
عا لک میں اورہجشس چیرکو چا ہی ں 7را مک میں ۱ اوزووکیل جا ہیں گے 
گی جوا تھا ی جوڑے۔' 
...٣۳‏ ”ختص یر: أحمد بن محمد الأھوازیَ عن 
بعض اأصحابنا عن ابن عمیرۃ عن الثمالیٌ قال: سمعت 
أبا جعفر عليه السلام یقول: من أحللنا لە شینًا أصابہ من 
اعمال الظالمین فھو لە حلال لأنَ الِأْئْمَة منا مفوٌض 
الیھم؛ فما أحلوا فھو حلال وما حرٌّموا فھو حرام.“ 
( ہیارالانوار رخٌ:۵٣‏ ۷ص:٣۳۳۴)‏ 
سی لی پیا ےک ہیں تے نات اف اس 
7۲ زی ےن تن کون تو کن ھم نے عطا لکردی و ہچ ۲ 
اس نے نالموں کے مناصب میں سے اص لکی ٠‏ دہ ائ کو علال 
ہے کبونلہ با مارے إماموںل کے سپ ردکرد یا نکیا ے٤‏ یجس 
جنزکودوعطالل قراردیں ٤‏ دوعطال ے٤‏ اود جس چچیکوترا مکرد بی ٤‏ دہ 
یت 
٠ ...۴٣‏ ”ثمقال: یا ابن أشیم ان الله فوّض الی سلیمان 
بن داود علیيے السلام فقال: ”ھٰذا عطاؤنا فامنن أو 
سک بغیر حساب“ وفوٌّض الی نبيّه فقال: ”ما آتاکم 
الرسول فخذوہ وما نھاکم عنه فانتھوا“ فما فوّض الی 
نبیّہ فقد فوض الینا“گ' (جارااثوار ٣۵:‏ مس۳۳3٣٣۳)‏ 
ترجمہ:.. نومام صادق ” فر مات ہی ںکہ ارد تھالی نے 
معاملتظرتسل مان کے کپ ردکرد یاء چنا خرف مایا :”2ی ہما کی عطاےء 
جا ہک یکوددہ یا اپیے پا رکھوبقم سےکوگی صا بیس لیس گے اور 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


اپنے صلی الل علیہ وسلم ک بھی سپردفرمایاء چنا مچرارشاد ےک 
”رسو لق مکو جو ید سر ور ےو اورس زس روک وس 
رک چا ؤ“ یں جو پٹھ اللہ تھاٹی نے اہیۓے یص٥لی‏ ال علیہ دیلم 2 
بردکیادئی مار ےپ ردردیا_' 
 ..۵‏ ”ید: ابن المت وگل عن الحمیری عن ابن 
عیسلی عن ابن محبوب عن عبدالعزیز عن ابن اأبی 
یعفور قال: قال أبو عبداللہ عليه السلام: ان الله واحد 
احد متوحّد بالوحدانیّة متفرد بأمرہء خلق خلقا ففرزض 
الیھم أمر دینەء فنحن ھم یا ابن أبی یعفور.“ 
(ءیارالاتوار رعخ:٢۲‏ ص:٢٦۲)‏ 
ترجمہ:..: ابع ای فور امام صادثی” وا سے 
کیپ نے ف مایا :ا تالی داحد ہے متا ےہ وحداغریت کے سا تھ 
مو ہے امت ےمم یس ضفرد نے اس نے ای لو یکو پیر اکر کے 
اپنے وی نکامعا لان کے سپ ردکردیا سو ہم ود یئنوقی ہیں 
ان روابات سے وت ےک تحضر ت می ایقدحعلیہ ول مکواورآ مکی علیہ 
لم کے بحد ام کوفیل وت ری کااخنیارد گیا ے اور صصو کی کے مندرجہ پالاعنوانع سے 
وا کہ !امام اپ ام کے بارے ٹم می یتقیدرہو رکھتے ہیں۔ 
آنھوا ںعتقیرو: ئیکو انام کےمفو کر نے کےاخخیارات: 
ویر کےعقیرے سے شیا خابت ہواک حطر آ اگیم ٥ی‏ ال علی یلم 
اذكن الہ یتس اکا مکیفسوغ فرما سیت تھے ای طر رع ان لی ا کویھی اخخقیار حاصل تھا 
تخب ملا گیا کےعلال ہو ےکا گی صادرفرما فیس ء اور جب جا ہیں ال کے 
تام ہون ےکاف کی ارشاوفرمانمیں أتم وقاف تا نے اس اخقیارکو ا ستعا لبج یکرت تہ 
ا ںکی چندشٹالیں ملاظ ہوں: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣. ۸۷۵۸۲6 ۷ 


نس کہ نگ و ارہ 12] سا سے ےم روش رج ھی کچھوڑ لغ ان 
ٹیس ید ہکا چوتھا یآ ھواں حصرے ء چنا خجنفن تھالی شا تکاارشارے: 
”وَلَهْنْ الرٌبُع ما رت[ 
ا کان لكم ول فَلهنَ انم مِما َرَكنمْ مِنْ' بعد ر 
ُوَصُوْنَبِھَا او ذَیْن.“ (ایا::۴) 
تر جم:..' اورگورنوں کے لے لی مال سے اس“ 
سے ہوکچھوم روقم اگمرنہہؤشہارے اولا دہ اور اگ رتہارے اولا و ےت 
ان کے لے تتھواں حصہ سے اس میں سے جو جم ےے مچھوڑاء بعد 
راع کے تل مکمروہ پا خر کے 
مان اما ماف کی ری ےکہ بیو وکوشو ہرک غیرنقولہ جائیدراویٹںش سے یں لے 
1 چنانیف رو عکاٹی >کتاب الموار بیث؛ ”باب ان النساء لا یرٹن من العقار شینا“ مُل 
گیارورواعتیں اس ضمو نکیا لکی ہیں٠‏ چنا نچ امام بات کاقو اخ لکیاے: 
”النساء لا یرٹن من الأرض ولا من العقار 
شیا۔'' (فررئ کان ئ:ے گ:۴2١)‏ 
ترجج:.. ”'عحورنو ںکو آراصی اور خی رنقولہ جائیداد یں 
سے پھوئیں لگا 
ذذ وسرکی ردایت میں ےگہ: 
ا کو تھیاروں اور چو پایوں ٹل ےبجھی یں لے 
گاء ہاں ! علبویر کی قمت کر اس یش سے ا ل کا عق دے دیا 
جاۓگا۔“ ( ال یا0) 
ایک اورردایت مل ے و 
نما نف نے ال کی مھردٹی کیا وجہ بیا نکر تے ہے 
فا اکہ: دہ دشل ےہا ںکرم ےکی فے ذوصرے لو کگ کر ا نکی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610٥۲١۷۳۳٠٢٥٢٥ .۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


جائیرادکامتیانا سکمرو میں گے 

ام کےا س فو ئی سے چند ہا نی معلوم ہو ہیں : 

اک ی:... ہک یق رآ رن نے پورےت کہ سے بیوائو ں کا چوتھائی با آٹھواں 
تصیمترزرفرمایائیان !ماموں نے انف کی کے ذر یج چیدا کو ںکوشو ہر کےت کہ سردم 
کرد یاء ا سگھع کے سا ماع دخبرہ ٹل ا نکا حصرےء اراضیء باطاتہ خی تقو لہ جا تیادہ 
تھیااروں اور چو پالیوں ٹس ا نکاکوٹی نی یں ۔خ رآ نکی کا عم عام تماء سے اماموں 
ےو زوا 

دوم:..ج رآ کرم ےم کےخلاف ال نکوٹھرو مقر ارد ہی ےکی امام نے ممی وجہ 
ان فا یک وہ اڑل 07 ہوئی ہیں ء چھردہ ٹوس ری علہ کا کر کے وص رےلوگو ںکو 
حائمداد ٹس ”نول ورس حقولے“ کا موقحع دی یگیاء اس لج مر ےکہ ا نکو خی نقولہ 
چایداد ےمحرہ مک ر کے بیٹٹھا یت مکردیا جائے۔ عالائمہ امام منفل کے تی رگ ےنیل پچلایا 
کرت دہ پالہام خداوندی ولا سے اگر اما متصو مب یمتقل وقاس اور اجنتاد کے سا تھ 
فڈے و اکر سں نان کے درمیان اورائل سنت کے امام اب وی امام شا شی کے درمیاا نکیا 
نر ر ےگ...؟ اور امام ابوعیذہ کوج امام نے نیف مائ یگ یک 

”لا تقس! فان أوّل من قاس ابلیس“ 
(أسرلِ٤انی‏ .ع١‏ ۵۸:۷) 
تین فان ناکرا پگ سب سے یل جن نے 

تا ںکیاو اٹ تھا_'“ 
اس ار شا وکا کیا مصرفر ےگا..؟ 

سو ...کچھ امام نے جو قیاا کی ءافنسوش ‏ ےک ودچھی خلط اس ل ےک اعا مکی 
می یل میٹیوں اور ہہوں بھی جاربی ہوکی ےد ہچھی رات ۓگھ جالی ہیں مس سکیا وجہ 
سے غیبرو ںنکوجائندرادشیش وقل انداز یکا م ون لگا الفرش ا جو دئیل امام نےخمریب 
بیو او ںکورد مر نے کے لے ٹی کی ء ددیلڑکیوں اور بہنوں بی بھی جاربی ہوٹی ےء ان 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٢٥٢٥٢١٠٢۹۰۷۷۷۵۲۹م6‎ 7 


ہت تج ہے یڈ یش ا 
ہےالٹڑرکیو ںکولتقی بییں :لا ول وَلا قَُةاِلّ بالٹرا 
چارم:... بیگھی معلوم ہواکہ امامء بلس و بے سہارابیوائوں کی ےق جے 
کہ خودتو ا نیک یکا 0 جا بے جار ہوا ںلوثرآن نے شوہ ری جائدادے جو 
دلایاےء!ماممو ںکوا کا ڑا اھ یگوا راییں تھا_ 
ان وجوہ سے اندازہ ہوسکما ےک ہآئمہ کے نام پر روا تی تعن فکرنے وا لے 
یے داش منر تھے اور انہوں نے خرافات کے کے کی لو ما رأئ کی ۔طر موب یئ 
ہیں ء:ش نکوشیعہ وی سا ی ےک میں وگھتے _ 
ڈوسری شثال: .ق رآ ک ری یں تقافو ان شارت موجود ےء اور تحض صلی 
علیہ ول مکا دا ارشادموجودے جوفرو کان تاب القادال حکام؛”باب ان البيَة 
علی المدعی والیمین علی المدی علیہ“ اض لگیاے: 
”ان البئىة علی المدعی والیمین علی المدعلی 
عليه“ (فديٴ۷ل ؾ: گ:۵٥)‏ 
وک گواہ ہی کنا مدگی کے ذ مر ے او ڑ۴ مرعاعلے 
پآیٰے۔'“ 
من امام غاب جب نظاہرہوں گے و اون شہاد تکوسمل فرماومیی گےہ 
چنا نیا صو کا نی کاب اٹ ایک با بکاعنوان ے:''باب فی الأئمة انھم اذا ظھر 
امرھم حکموا بحکم آل داود ولا یسالون الییة ( شی جب )کی علومت ہوگی تو 
می داد کے موانی فیص لک میں گے :شبادت طل ب بی کر میں گے )اس می |ما تفر 
کاارشاأ‌ لکیاے: 
”نا آیا عبیدة! اذا قام قائم آل محمد عليه 
السلام حکم بحکم داوٌد وسلیمان لا یسال بیْنَة.“ 
(أصو ل٤انی‏ :ا ص۰.يك۳۹) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


تر جمہ:..! جب تاگ مآ ل مجح ظا ہرہوں گے و وائودینی 
سلیمانع کےعم کے مطا بی ٹیہ دمیں گےء شبادت طل بنئیں 
اریت 
ڈوسرکی روایت ہیل ےک تماد سا بای ہے لت ھا لہ: آپ 
رات جب فیصلرکر تے ہیں نوکس کے مطابقی فیص کر تے ہیں؟انہوں نے فرماما: 
”بحکم اللہ وحکم داؤد فاذا ورد علینا الشیء 
الّذی لیس عندناء تلقانا به روح القدس.“ 
(اصولِکانٰ :ا ۴۹ص:۳۹۸) 
ترچھہ:..' الد کےعھم اوردا ود کےعلم کے مطائبی فیصل کیا 
کرت ہیں٠‏ اود جب ہمارے سام ےکوی ایا قضی بی لآ تا ےجس 
کے پارے میں ہیں ملمکھیں تا و روج القیں میں 27 
پارچا ہے" 
تسرکی روایت یل ےک عحید ہعدالی نے می سوال امام ز ین الابد بی سکیا 
و انہوں نے شر مایا: 
”حکم آل داودہ فان أعیانا شیء تلقانا بە روح 
القدس.“ (أصو ل٤انی‏ .ع:ا :۳۹۸) 
ترجہ:..”ع مآ دائود کے مطالقی فیصل کی اکر تے ہیں 
اور اگر ٠ی‏ کی قضی مم مکل بی یآ نے و زروں القدیںج“نیں 
تاد تاے۔' 
ان روابات سے معلوم ہو اک أئھ ان فیصلوں میں گفرآن دحد یث کے ا وی 
شہادت کے پاچن رکاش تہ بگ ہلل دا ود کے مطابق ٹیل کے پابند تھ, اور و التقدیں 
ہے مععلو مکر کے ٹین ہکا کرت ے۔ امام اب جب طاہرہوں گے و فانوان شہادت 
مین جا ےگا ء ان لئ وولی دق نے شی ش ٹل بجی سک رین - 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۷۳۳٠۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


تمیسریی شال :..نفرور کاٹ ءکعاب الصید ”باب صید البزاۃ ,2] 
وغیر ڈلک“'' مل رایت ے: 
”ابو علی الأشعری, عن محمد بن عبدالجبّار؛ 
ومحمد بن !اسماعیلء عن الفضل بن شاذانء جمیغا عن 
صفوان بن یحییء عن ابن مسکانء عن الحلبیٔء قال: 
قال ابو عبداللہ علیه السلام کان أبی عليه السلام یفتی 
وکان یتقی ونحن نخاف فی صید البزاۃ والصقور وَأمًا 
الآن فانا لا نخاف ولا نحل صیدھا ا ان تدرک ذکاتہ 
فانه فی کتاب علیٌ عليه السلام انّ الله عرٌ وجل یقول: 
زا علسرس لدرارج لال الگلاب* 
(فردئٗکائی ع:١ )٣:۶‏ 
رواتکا خلاصتمطلب۔ ےک :کا سک می سکیا ےکآ تر لفہ”وَمَا 
غلممم من الوارح مکل“ ۲ش صر فکتوں کے شکارکی اجازت ہے بازاورشا و نکا 
شکارترام ہے ال کیردہزمد ہپ لاشی اورشکا رکوؤ کرلیاجاے ۔ اما مھ رق ماتے ہیں 
کمہ: میہرے والم ماج بنا برتقیہا ںیت کے خلاف باز اور شا ین کے شیکارکی عل ت کا فے گی 
دی تھے نان اب چوطک ہو فا ش ھگیا سے اس لئ یی لف کی د بتا ہو ںکہ باز اور شا نکا 
شکارعطا ل یں“ 
پاپ اور ٹج دووں !مامتوم ہیں ء ایک ش رآ نگرمم سم کے لاف پاڑ اور 
شمائین کے شک رکی عل تکا فو کی دی ہیں اور وص ےترم ت کا ۔معلوم ہو اک ہآ کو اخیار 
ےک جب چا ہیں تر امک وعلا لق ارد یی اور جب چا یں علا لکوترا مم را میں جب چا ہیں 
قرون سےگعھرمضسوغ سط لکرد ریہ اور جب چا ہیں ال سکو جار یکرد میں ۔ تی ہک یآڑ یس 
نے جوعلا لکوترام اورترا مکوعلا لک۷ر نے کےفتے دہیے ہیں ءا نک ی ینک وں میس 
اطا اب فو یکی تفہ یہی الاخکاع او استبصا ریس ھی جامکتی ہیں ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٥٢١٣۹. ۸۷۵۸۲6 ۷ 


یھی خثالی:. فر و کاٹی :ناب الوار یت :اب می رات الوال یسل 
یھر نکی رواحمیت ے: 


''علیٗ بن ابراھیمء عن أبیەء عن ابن أبی عمیر؛ 
ومحمد بن یحییء عن اأحمد بن محمد عن ابن ابی 
عمیرء عن جمیل بن دراجء عن سلمة بن محرز قال: 
قلت لأبی عبداللہ عليه السلام: ان رجَلا أرمانیٔا مات 
وأوصی الى فقال لی: وما الأرمانی؟ قلت: نبطیٰ من 
أنباط الجبال مات وأوصی الیٗ بت رکته وترک ابنتہء 
قال: فقال لی: أعطھا النصف, قال: فاخبرت زرارۃ 
بہڈلک, فقال لی: اتقاک. انما المال لھاء قال: 
فدخلت عليے بعد فقلت: أاصلحک ال انٌ اصحاہنا 
زعموا اأُنک أتقیٹٹیء فقال: لا واللہ! ما اتقینک ولکن 
اتقیت علیک أن تضمن فھل علم بڈلک احذ؟ قلت: 
لاء قال: فاعطھا ما بھی .۔“ (فرو کان ع:۸ ۸۹:۶:ء۸) 

ترجھہ:.. ‏ سلمہم نکر زکپتا ‏ ےک ہی نے امام صاد لی 
سے عون ضک یاکہ: ایک ارماٹ نیفدت ہوااورال نے بے ابنا بھی 
ایا۔ !ما نے فرما کہ :ادمال کیا جوتاے؟ می ن ےکہ: ایک ہنی 
پا ڑگ یآ دٹی ع گیا ء اس نے ا نے تک یکا دی تھے بنایا ءال نے می 
ایک بئ یھ وی ۔ امام نے ور مایا:ئ یکونصف مال دے دو۔ بیس نے 
اہ رن لکر !ما مکاریطنذ گی زدار ہکو ایا تو ال ن ےکہاکہ !مم نے تجھ 
سے لق کا سے ورنہ پورا مال بن یکا تن ۵ وف 
ا ںگمیاء یش ت کہا :الڈدتھال لآ پک اصلاب نے واریے رام 


کے ہی ںکیآپ نے بجھھ س ےق کیا سے ہف مایا یں ایل دک یم ! جھ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


0, 2, 

تاوان تھ بر نہ پٹ جائۓ کیا اہ ںکاکس یکویکم نیش ہوا ؟ یں ن ےکھا: 

یس مفر مایا :پھر بائی آدجھابھی نی یکورے ہے 

پورامال یٹ یکا تی تتھامان امام ن ےآ دا مال دہ کا عم ف مایا اور جب زرارہ 
نے !ما مکیلضی کال ذ آپ نے انف کیا سے جو فر مال یااورباقی ‏ دھا بھی بٹ یکود ہے 
اع مف ایا معلوم ہواکہ یلق کیم آپ نے ق رن کےعمکو قب سب 
و امام ےق کی زدارد ےی نرک را نے خین و پال اس کےس راز مآ تے 

االی.. و لع مغ بنا از اشاقا رک غغ الکیززة .۔ 
لک ھُمُ الظِْمُوْنَ - ولیک ہم افو“ کا مصدات رت ءمڑنی جولو عم 
ابی کے مطابقی فیصل کر یں د+کافرہیں... نال ہیں... .ماس ہیں 

دو برکہ.... ایک شی پگ یکامال نذوصرو ںکوکھطاجاء او رج مک یگ ان کے پیٹ 
یسک رن ےکا و بال اہین ذم لیتا۔ 

وم میےکہ:... امام کے فی کے مطابی مال جن لوگو ںکودیا جاجا وو ترام خور 
کو تے۔ 

لطیفہمیےکجشس خو فک بنا بر امام نے خلاف ماانزل الد فنة کی دیا تھاء وو خوف 
اب بھی ہاتی تھاءزاکل میس ہوانتھاءاس کے پاوجود اما مکاف ےکی بد لگیا۔ الشرضش !ان مشالوں 
سے وا ہواکہ امام جب جا جج تق رآنی نک مکومفسوغ وُمعمط لکردیے تھے .ہکا عزر 
ہر ہاور ہر دفت مو جودر ہتا تھا- 
نوا ںعتقیرن: ا٢ک‏ مرح آتفحضرت صلی ارڈدعلیہ یلم کے پرابراوردجکرانیاء 
مہم السلام سے بالات ے: 

أاصول کان ء باب الج کےاچیک با بکاعنوان ہے :”ان الأنْمّة ھسم ا رکسان 
1 مس 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


”7- اُحمد بن مھرانء عن محمد بن علیٗء 
محمد بن یحیلٰیء عن أحمد بن محمد جمیعَاء عن 
محمد بن سنانء عن المفضل بن عمرء عن أبی عبداللہ 
عليه السلام قال: ما جاء بە علی عليه السلام آخذ بہ 
وما تھی عنه انتھی عنەء جری لە من الفضل مثٹل ما جری 
لمحمد صلی اللہ عليه وآله ولمحمد صلی اللہ عليه 
وآله الفضل علٰی جمیع من خلق الله عرٌ وجلء المتعقب 
عليه فی شیء من أحکامە کالمتعقب علی اللہ وعلی 
رسولے والراد علیه فی صغیرة أو کبیرۃ علی حذ 
الشرک باللء کان أمیر المؤمنین عليه السلام باب الله 
الّذی لا یؤتی ال مدہء وسبیلہ الّذی من سلک بغیرہ 
ملک وکذڈلک بیجری لِأئِمَة الھدی واحدًا بعد 
واحد.“ (اصرل۷ ان ج:ا ۱۹۹:۰) 

زہں: بمتفضل بن رہ نام ضا وقی'“فاارشا‌ کرت 
ےک ححفرت ینس چیک نےکر ہیں یس ا سکو لیا ہوں ہاور 
ینس چز سے حعفرت کل ن ےگ فر مایامیل ال سے بازد بنا ہوں - 
کے لے ودی فضیلت عابت ہے جوم صلی ال علیہ لم کے لئے 
ےء او صلی ارڈ علیہ مل مکو جا متموتی رنخیلت ےء اورک ک 
میم کن چٹ یکر نے والا ایا ے جیسے الد تنا لی براوراس کے 
رسول صلی اش علیہ لم 277ھ والا اورک کی بوثیٰ 
گی بام کو کر نے دالا الللد تا لی کے سا تجھھ شش ر کر نے دا لے 
ےھ ین ہے۔ ام رالھمو سان اید تال یکا دہ درواز ہ ہیں جن کے 
اغیرداغلیشمکن یں اور اللہ تھال یکا دۃرامنہ ہ سک جوا ںکوچھو کر 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


مے دہ بلاک ہوجاۓء جو کی فضیلت سے وی بائی گیارہ 


اما مو ںکی فضیلت ے_' 
ای باب میں وس ری روای تھی امام ختظ ری سے نول ے؛ 
'- علیٗ بن محمد ومحمد بن الحسنء عن 
سھل بن زیادء عن محمد بن الولید شباب الصیرفی 
قال: حدثا سعید الأعر ج قال: دخلت أنا وسلیمان بن 
خالد علٰی أہی عبدالل عليه السلام فابعدأنا فقال: یا 
سلیمان! ما جاء عن أمیر المؤمنین عليه السلام یژخذ بہ 
وماتھی عنەینٹھی عنه جری لە من الفضل ما جری 
لرسول اللہ صلى اللہ عليه و آله ولرسول اللہ صلی الله 
عليه وآله الفضل علیٰ جمیع من خلق الله المعیّب علی 
أمیر المؤمنین علیے السلام فی شی ء من أحکامهہ 
کالمعیٗب علی اللہ عرٌ وجل وعلٰی رسوله صلی الله عليه 
وآلە والراڈُ عليه فی صغیرة أو کبیرۃ علی حذّ الشرک 
باللہء کان أمیر المؤمنین صلوات اللہ عليه باب اللہ الّذذی 
لا یڑتی الا منہء وسبیلە الّذی من سلک بغیرہ ھلک: 
وبڈلک جرت الأئمة علیھم السلام واحد بعد واحد.“ 
(اصولکائی :ا ۶ص:ے۱۹) 
تڑجھ.:..: سعیدأعحرح سے روایت ےک شی اورسمان 
بن مالمدہ ار ورای دعلی السا مکی خمدمت می سآ ئ٤‏ ء ہما رے لو جکھے 
بیرف مایا: اےسل یمان ! جو ام رالھو نین علیہ السا مکی وساطت سے 
لا ے اس تھا ے رکھواوجنس ےآپ نےمع فر مایا رک چا 
پکی دی فحضیلت سے جورسول انڈی٥کی‏ ارد علیہ ول مکو اصل ہوکی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹. ۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


اوررسول انڈیکی ایش علیہ مل مکوانش ری تھا موق رفضیلت عطا ہوئی۔ 


جوف کسی بھ یم میں امیر الم ومن علیہ السلام کے بارے یں عیب 
جوگی کا رکب ہواء و ہگو یا اید اور اس کے رسول صلی ال علیہ یسل کا 
عیب جچے اورک بھی جو بپڑے ما لے یں (امیرالھ مین 
گی )اعم حعدد کی شرک ہائل کے متراوف ےء امیر المومنین علیہ السلام 
اکا دہ درواڑہ ‏ ےکای سے دی نآ سکاء اورآ پکی راہ سے جس 
نے اع رائ کیادہ پلاک ہوا ء اور می محاملہ کے بعد دیکھرے پر امام 
جار ے۔' 
ایک اورروایت مل ے: 

-٣‏ محمد بن یحیلی وأحمد بن محمد 
جمیعًّاء عن محمد بن الحسن, عن علیّ بن حسٌان قال: 
حدثنی أبو عبداللہ الریاحیٗ ..... عن أبی الصامت 
الحلدوانیٗء عن أبی جعفر عليه السلام قال: فضل امیر 
المؤُمنین عليه السلام: لما جاء بە آخذ به وما تھی عنه 
اُنتھی عندء جری لە من الطاعة بعد رسول اللہ صلی الله 
عليه وآله ما لرسول اللہ صلی اللہ عليه و آله والفضل 
لمحمد صلی اللہ عليه و آلہء المتقدم بین یدیه کالمتقدم 
بین یدی الله ورسوله؛ والمتفضل عليه کالمتفضل علی 
رسول الله صلی الله عليه وآلە والرد عليه فی صغیرۃ ار 
کبیر۔ة علی حذّ الشرک باللء فان رسول اللہ صلی اللہ 
عليه وآلە باب اللہ الّذٰی لا یؤتی ال منه وسبیلہ الَّذی من 
سلکە وصل الی اللہ عرٌ وجل وکڈلک کان امیر 
الم ؤمنین عليیه السلام من بعدہ وجری للأئمة علیھم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳٣٥۱٥٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


السلام واحدًا بعد واحد.“ ۔(اصول٤ن‏ :ا كص:۹۸) 

تر جمہ:..ابوالصداممتعلوالی سے روایت ےک ا وخظر 
علبیہالسلام نے فرمایا: می رالھ وشن علیہ السلا مکی فضیلت: جو یھ 
اننہوں نے دیا ٹس نے لیا ہویںء جس سے کردیاء رک چاتا 
ہوں _۔ رسول اوڈی٥لی‏ ال علیہ وملم کے بععد امب المو می نکی اطاعحعت 
ای طربَلازم ے جیسے رسول ا٥ی‏ ای علیہ ول مکی اطا عت لازم 
تی ءاوررسول الڈی٥لی‏ اللر علیہ یل مکی طرع آ پک فضیلت ا 
امیورالموسنشن سے(اطاععت میں ) تفم ایا ہی ہے جیما الڈداورال 
کے رسول سی اللدعلیہ یلم کے مقا لے بیس (ارٹی اطاعح تکا مدگی ) 
تم _ او رآ رف خیلت کے ورگ یکا عم ددی سے جورسول ارڈ کی 


الشعلیہ لم برا ا یلت کے ممدگ یکا (ہونا جیائۓۓ )ء اور یبھی 
چھوٹے بڑ ےگ میس امیرال موم نکی مفالشت شرک بل اعم رصتی 
ہے رسول اوڈ صلی الشدعلیہ سم اش کا دہ ورواز و ے کہ گنا اس کے 
سوا آ یں سا تھا او رآ پکا راستہ گی وگل ا الیکا وا ور راس 
ہے اورآپ کے بعد می متقام ام الھ نیشن علیہ السلام اور کے بعد 
اٹم اشک ضل ہوا 
أصول کا اک باب کاعنوان ے:”ان الأَة علیھم السلام محدلون 
فومرن*اںٹیاءکزحلپڑے: 

”ے-- عدّةٗ من أصحاہناءعن اأحمد بن محمدء 
عن الحسین بن سعیدء عن عبداللہ بن بحرء عن ابن 
مسکان عن عبدالرحمٰن بن أبی عبدالشء عن محمد بن 
مسلم قال: سمعت آبا عبداللہ عليه السلام یقول: الأئمَة 
بمدزلة رسول اللہ صلى اللہ عليه وآله وسلم الا انھم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹. ۸۷۵۸۲6 ۷ 


لیسوا بانبیاء ولا ىحلٌ لھم من النساء ما یحلُ لی 
صلی اللہ علیے وآلە فأمَّا ما خلا لک فھم فیه بمنزلة 
رسول الله صلی الله عليه رآلہ.“ (أصول۷لٰ ج:ا )٣[:٠‏ 
زجر:.. ”مھ منص ل مککتتے ہی ںک: میں نے یا پنظر 
صادقی“ کو ریف رماتے ہوئے من اکہ: مہ رسول اڈ یی اورعل یلم 
سے ہم ھرییہ ہیں بھروہ میں :ججشنی عورتیں رسول ایی الہ علیہ 
یلم کے لئ ا لھیںء ائی اع مے لن ہلا لیین:؛ ان کے سوا 
اق یمام جاتوں مل وہآ نحضرت کی ال علیہ ےلم کے یھ مرح ہیں 
لا رسای ء امام تفر کے ا سقو لکی شر ںاکمرتے ہو ےلیھت ہیں : 
”بیان: یىدل ظاهرًاعلی اشتراکھم مع النبی 
صلی اللہ عليه وآله فی سائر الخصائص سوی ما ذ کر .“ 
( ہیارالاوار يج:ےث٢‏ ک:۵۰) 
ترجمہ:.. ناما مکا ہیل ظاہرآد لال تکرتا ےک ہہ تھی 
ک مکی او علیہ مل مکی تر تحصودتوں می سپ کے سا تش کیک 
یں ال ےکا نکوچار سے ز یادہ یی یاں علا لال 
علا ما یکی بھارالانو ار ,کاب الا مام ٹیس ایک با بکاعنوان ے:''انه جریٰ 
لھم من الفضل والطاعة مثٹل ما جریٰ لرسول اللہ صلی الل عليه وآله وسلم 
وانھ‌فی الفضل سواء“ اس باب ةضص ۳۳ روا “تی لف لکی میںء(خ:۵٣‏ ص۳۵۳٣‏ 
۳۰) جن نک مضمون بی ےکآ ککاددی م رجہ ہے جو یک رب سکیا علی ہ1ل مکا ہے ۔ 
علا ایق این یس کک ہیں: 
”اکر علا شی را اعوتقا ونس تک حضرت ام رعلیہ 
السلام وسا سرت الأفل ند زٹران سوا ی مق رآ خرز مان صلی ایل 
علیہ وآلہ عم وا جار یے مستفبیضہ بللہمتواتزہ از تمہ خود3ر ابی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٢٣۹ .۸۷۵۸۲6 7 


ا ے٠‏ مو سی ے ساد 9ک 


اپ نادان“ سو 
ترجمہ:.. اکش خلا ۓ شی کا عقیدە رر ےرحخرت اھر 

اور پائی ات بآتضرت ص٥ی‏ ایل علی ںیلم کےسواپائی تمام بیمہروں 

یۓ اشن یں انان ناب یں اجاد نفاخ ضر بل ادا 

سے رواب تکمر يے ہیں 

دللاکہ رن تج ام دحکترات امام کی طرف موب سے جے. 
ایک ای ککابا حوال وت شی لکردیا۔ا بآ پ بی الصاف فر ما ےک جب أئ تو چھی 
کہا جاۓ ‏ موب صن ال شی ء ان پر ایمان لان نیو ںکی ط رح فرٹ ہو اور ا نکا اجار 
یوں کے اکا رکی طر حکفررہوہ ا نکی اطاعحعت ائیی بی فرص ہوجیی رسول ارڈ ٥ی‏ ابد علیہ 
ول مکی دوصاح بی جحزا تھی ہہوں ء ان پروی یھی تال ہہوتی ہو ج ایک کے لئے 
ازم ہوء و پنکیل وی کا اختیا بھی رکھت ہوں ءا نکر رآ نی ثکام کےمضن سو با مل 
کمن کابھی اغختیارہواورا ننکادرجہ ہا ر ےئ یکمر بای لعل لم جا براورڑوضرے 
نمیا ۓےکرا مہم السلاام سے بالات ہوہاگمران تماما مور سے میس یت اخ ذکرو ںک ہل سا 
نے امام کا عق م مو ےک نہ براتۓ سے لئے ا چا دکیاء اور ےر خحخرات امام 
مامت کے پردے یل ا کی خ وت کے قائل ہیں وذ رائیٹرماٹی ےک کیا ضاران کر 
فلط ے...؟ آنفحضرت صلی اول علیہ 6لم کے بعی ااومت وم منصوب من اد اور مفتزش 
الطاعۃ ما ابی درتقیقتصتم نہذ تکاا گار ہے ہفواہ راد با زیو ںکھا می ںک ہپ تم وت کے 
قائل ہیں..! 
مامیدرتقیق تشخ خوفت کےمگر ہیں٠‏ اس چا رگواد: 

ون کرام ےم ال انار سے جوختل او کیا ےکلہ !ما می کا عقیرة 
مامت نتم نزت کےخلاف ایک بضاوت ہے مگ زشت سور ےآ قب نصف النہارکی 
مر رشن ہے۔ اگ رانڈرتھاٹی نک یکم دانصاف سے بپزدودف مایا ہو دہ او رکی نٹ 


۱۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠۱٢١٣۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


سے ہر سور سو میں و 
ٹس اپ اس اخ ذکردہ ٹج پرگھی جا رگواہ ہی لکرتا ہوں ‏ دو ا کابرا یل سنت مل ے اوردو 
آکابرشیعدٹل ے۔ 
ری شہادت :شا دو بی ایرث دبلوي: 

کرت شا وی الڈرمحرث دہلوکی رحم اید نے اپنے رسا لے ””المقالة الوضیة 
فی النصیحة والوصیة“ یل جوا نک یکتاب تخمما تال جرد می میم (۲۴۷) 
کےگنوان سے شائل ہےء وعییت (۵) کے ذ ہل مم سلکھت ہیں : 

ای فقازز و4 فوج آتحضرتملی الف علیہ مل سوال 

کر دک ضحخرت !ریف ماد در باب شح ہکہمدگیعحبت اب بیت اندو 

صحا یراہ مو یند؟ آخحضرت مکی اللہ علیہ وسلم ہنوگی ا کلام وعالیٰ 

إلنقا ف مو ون دکہ مہب اریاں پاضل است و لان نہب ایال از 

از ما معلوم ہی شودہ چوں ا زآضات افاشت دست داردرلفظ امام 

ام لکروم معلوم ش رک امام با صطلا ح ایال متصوم مفترض ااطاء“ 

مو لن است دوگی پاضنی دیق امام تجوی: می نمایعدہ بیں 

و تق یقت 'دشقم خی ' را کم ان ہگو پز با ننآحضرت صلی ال علیہ 

مم را ام الاخیاءٹ یگفتہ پاشنر_' ( ضحم ےالہے .ؾ٣‏ /ص:۲۹۳) 

ترجر:. .”اس مقر نے آحخحضرت مکی اللد علیہ وی مکی 

روح سے سوا لکیا کر حطرت !شیہول کے بارے می نکیا 

فرماتے ہیں جوال بیت ےمحبت کے مدکی ہیں اورسحا کور ا کے 

ہیں ؟ آفحضرت صلی ارعلیہ یلم نے ایک وع کے وعا لی کلام کے 

ذد یی إلقاء ف رما اہ : ا نکا نم جب پاض٠ل‏ سے او الع کے نج( کا 

ال ہونا لفن“ اع سےمعلوم ہوجا تا ہے۔ جب ا عالت سے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


فاقوا تی نے تھا ڈوک معلوم ہوا گے امام 'ا نکی 
اصطلاع مشش وونفل ےج سکی طاعت رش ہوادر جو ال تال یکی 
رف سےمتررشدہ ہو لو ام ےک مسا وی اطنی بھی 
چو کرت ہیں ہیں درتحیقت یقت نت خجوت ےکر ہیں ,ا کر زین 
ےآ خحضرتسکی ارڈ علیہ مکو نام الا خمیا اکر تے ہیں ۔' 
اوراں سےا کیم ( ۲۴۵٢ی‏ یش رہ(۹) کے یل می کھت ہیں: 
”سألتہ صلی اللہ عليه وسلم سؤالا روحائیّا عن 
الشیعة فأوحی الیٌ ان مذھبھم باطلء وبطلان مذھبھم 
یعرف من لفظ ''الامام“ء ولما أفقت عرفت ان الامام 
عندھم هو المعصوم المفترض طاعتہ الموحی اليه وحیًا 
باطتٔاء وھٰذا هو معنی النبیء فمذھبھم یستلزم انکار 
ختم النبوٌة قبّحھم الله تعالٰی ,“)قب تالہے ت:٣‏ ص٠٠۳۰)‏ 
..."میں نے آححضرتت صلی اللہ علیہ لم سے 
شوں کے پارے میں ڑردعابی عوا لکیاءنو بے التا نف رما اک :ا کا 
غرہب پافل ہے اوران کے نہ بکا ال ون لفظ ناما سے 
معلوم ہوجا جا ے۔ جب یھ اس عاات سے افاقہ ہوانو ٹیش نے 
و رکیاکہان ےوک زا وس سے جومتصوم ہو مفترڑس 
الطاعۃ ہواورج سکو پاضنی وی ہوٹی ہوءادرچی نی کسی ہیں یں 
ا نکانمر جب نم نت کے إ کا رکومستز سس 


وس یی شادت :شا ءعبدالتزہزمیرث دبلوئی: 
حضرت شاہ صاحب رم ارڈ تفہ اشأاعخشریے کے ہا ب عم" در بجکٹ نت و 
ایمان پا نمیا اہم الو ج وامسلام !یل ”عق دبھ“ کے یل می ںککت ہیں: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


دامامیہ پر چند بظاہر یٹم جج تا خجناب اق رارکنر ن 
در پردہ ین وت ات تال ان دک ہآ را متروہزرگ 7 از أخیا خارنر 
چنا زجنین اب نف یز شت, پکفوفیل وم رخکی بق رکز 
خلاصے نت بلکہ بالات ا زخجقت است براگی ُت اشا ت نما ید میں 
وی نگ رستم ہت ان (گزہ :٭ےا) 

ترجہ:..”'اود امامیہ پر چنرکہ بظاہ رآتحضرت مل اللہ 
علیہ ول مکی ضحم خق تکا ات اکر تے ہیں ہمان در بردہ ام انت 
کے انل ہیں کون ہم کو ا خیاء سے بہنٹرو یز رگ تر شا رکر تے ہیں ء 
جیا بج پھعنیل ےگ ز از اویل چا موا آئن 
یکا ز کن جئ جوھک خلاصت ڑےء لہ بالات وت سے میں 
دتقیقتاکمخم جات کےٹحگر ہیں 
اورشیعہ کےتقید تفوئیش پر پک کر نے کے جح کھت ہیں: 

”پا یھلرامیں اص است فاس دک سک زم مفاسد بیارست 
و طز اکن اکا رخم نت است درتفقیقتء وش امامیہ بن 
الا“ (تجز ك:ءا) 

ترجمہ:..: خلاصہ لہ ہاصصول فا سد جک بہت سے 
مفاس دک و زم ہے علادہ ری ورتقیقق تشم نت کے اف کو 
من ہے اورقمام امام اس کے قائل ہیں _' 


تیسری شبادت :علامہ ہق رجشی: ٰ 
شیعوں سے میرٹثٹ ویر وائشمم ناب غاا گے پا ای یھی مفوات ےت 


آخجناب وانف ہوں کے:آ یت ادا تھی نزو ال یی نے ا نک تا ہوں کے مطا لے ےکی 


شیہم سم نکولطو رخائل' نین ف مات ے۔ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


یں جس کی ملف روایات ڈک کر نے کے بعرروایت ۵ جع می کل ہیژن: 


”سان است نباط الفرق بین النبی والامام من 
تلک الأخبار لا یخلو من اشکال و کذا الجمع بیٹھا 


وبالجملۂ لا بد لنا من الاذعان بعدم کونھم 
علیهم السلام اُنبیاء وبأتھم أشرف وأفضل من غیر نبیّنا 
صلى اللہ عليه وآله وسلم من الأنبیاء والأوصیاء ولا 
نعرف جھة لعدم اتصافھم بالنبوّة ال رعایة جلالة خاتم 
الأنبیساءء ولا یصل عقولى الٰی فرق بین بین النبوّة 
والامامةء وما دلّتَ عليه الأخبار فقد عرفتۂ.“ 
( بارالاوار خ:٢۷١‏ ۴ص:۸۲) 
تر  ..:‏ ان اعادیث سے بی اور امام کے درمیان 
فر یک تا وک رن مکل ہےء ای ط ران احادیٹ کے درمیا نا 
کرت بھی خیا یت مکل سے .... تر کہ می ین فو لازم ےک 
0 "مم 
اوہ دی رتمام ایا ء اوصیاء سے اشرف و پل ہیں ؛ٛیں ان کے 
موصصوف الو تہ ہو ےک یکوئی وہ مو مکی سواۓے اس ک ےک نمائم 
الاشبیاءکی جال تک رعامیت ہوء اور ہما ری عقاو ںکونخّت اور مامت 
کے درمیان واشم فر کک رسائی حاص ل نی ہہوکتی ۔ اخبار سے جھ 
سی معلوم ہوتا سے دونھم چان بی گے ہوہ الد تی ائحف رات گے 
احوال کے تا لف نکویتر جات ہیں“ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١۴ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


جناب پا فرجسی بھارالاوارء ماب الاما مت ''باب انھم سٹون مفھمون“ 


وی شہادت : تچ مفیر: 

از رکا یوار تی الا ماب شن ر زا ۳۹ وع ان 
مفیرٹھ بننتمان(متو فی ۷۰٤ھ‏ )کی ”تصحےم الاعتقاد شرح عقائد صدوق“ 
سےایک طو یل اقتا اخ لکاہےءاس کے بق رض ردرت جلے یہاش لکرتا ہوں: 

”وعندنا أَنْ الله تعالٰی یسمع الحجج بعد نيّه 
صلی اللہ علیے وآلے وسلم کلامًا یلقیے الیھم أی 
الأوصیاء فی علم مایکون لکن لا یطلق عليه اسم 
الوحی لما قدمناہ من اجماع المسلمین علی أنە لا 
وحی لأحد بعد نبیّٔنا صلی اللہ عليه وآله وانَه لا یقال فی 
شء ممًا ذکرناہ: انه وحی الی أحدہء وللہ تعالی ان یبیح 
اطلاق الکلام أحیاًا ویحظرہ أحیانًاء ویمنع السمات 
بشیء حینًا ویطلقھا حینًاء فأمَا المعانی فاتّھا لا تتغیّر عن 
حقائقھا علی ما قدمناہ.“ (بارالاٹوار رع:٢‏ ص۸۲۸۳) 

ترچھ:..” اور ہمار ہے نز ویک ال تی اضر تم لی 
اش علیہ وعلم کے بعد اما مو ںکواییا کلام سنا تا ہے جوا نکی طرف 
الا مک رتا ہے ال ںعلم کے پارے شس جو دہ نے وال ہو مین اس 
پ4 وی کا اطلاق یک ںکیا جا جا ءکیونکہ بم پیل ذک کر ہے ہی ںکہ 
مسلمانو ںکا اس پرا جاع ےکآ تحضرت ہ٥ل‏ الف علی ےلم کے اعد 
مس یکو ودینھیس ہوئی ء اود ب کہ ج زی ہم نے ذک کی ہیں ء ان 
ےک یکو یئ لکہا جا ۓےگاکہ یک کی طرف وگ ے+اورانڈہ 
تھا یکا ےک ایک ودقت میس ایک لفظط کے ہو لن کو چا ئز رھھے 
اورڈدسرے وقت شی ال سک عکردےۓ اور ایک جن کے سات کی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳۱۱٢٣ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


وی می شنوع ففراردے اور وسرے وقت 

جس اس ںکوجائزقراردےہ بای رسے معالی !نو وواپنے ال سے 

ان 

علامہ پا ملس یکی عفیلن کا خلاصہ بی ےک نت د مامت کے درمیان ذرق 
ہارئی مض نارسا سے بالات ے کک جار ےکرک زع یلم سےا 
ای تام انا ہمالسلام سے اشرف وافل ہیں بک نو کال کرت ہوئے نک 
اک لکہاجاتاء ودنہ نت اور اماصت کے درمیان وج فر یں معلو یں _ 

شی مفیدکا آخری فق رون ٹر پکابند ہے فرماتے ہی ںکہ:” اکن نونڑیں بد لے 
نان ایک وقت شس ایک اف کا ولنا ا ہوا سے ءذوسرے وفت شی للمتوع ___ 'مطلب 
کہم تک تقیقت جو نیا ۓےگرا مک حاصس لی دی اخ کوھی حاص لنھیاء وٹی ان بنھی 
نز ہو ی تھی اوران پرکھی ہراس تقیقت پر پلے ز مانے میس بی اور وک یکا لفظا اولنا حا 
قماء اب انیل رپا ناش ءالکیا مج تق ے۔. ٍ! 

ال پورگ بک ثکولخورونھ بر پٹ حئ او کھرفغ رما ےک ہیں نے جو پاگویکھا تھا ءکیاوہ 
بقو لآپ کے سو مو نکی نا رکھاتاء او ہمت تر ایک یی ءا آپ کے نمرج بک 
ھی کیک ت بھانیکگگی...؟ 

لدنص یک رن خداکو دوک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


تی ٹ٠‏ جم کے حر ت انیل یکا لات 


تاب نآ یتال تھی جنابحھجوادمف یکنا ب"الشیعة فی المیزان 
٥۵۴۴۳: (‏ )سےطو ہیل اقتا لن٘ لکیاے من سکا خلا صہ یر کہ 

:... کاب وسنت کےعلو مک الف سے یا م ککامکاٴل اح ط رھت ہیں -۔ 

۴:.. .ان کےعلو مکنماب وسنت تک محد دد ہیں - 

* ...ا نکمم و ال کی ے+اور جو اس کےخلاف سیے دہ اقول ان 
کے جال ے۔ 

٣...أ‏ کیل خی بی ہوتاء ین اشبار می ا نکی طر مه خیب نو بک یاگیا 
ہےو؛' ہا باج مین مردودہیں۔ 

ان شش سے بی بات شیع یحقاند کے مطاِی ہے باتی سب فلط ہیں ۔مناسب 
ےکہ پیل مہ کے تبرت الین یکمالات کے بارے میں تعخیات امام یکا موقف ذک رکیا 
جائۓ پچ رید میکھا جات ۓکہ امامیہ کے نزو کیک کوک نگن ذ راک ےمم حاصل ہوا ے؟ 
اس لئ ان دوفو گت ںکودوا لیک بھٹوں یں ذک کرت بہول ءوَبالل الو فْڑا 
نہک ےگیاکمالات کے پاارے بی ںیقی ختا: 
پہلاعقیرہ: 

أ حم ہءکتراب وسنت کےعلومکاالف سے یا تک الیما کائل احا طرد کے ہی کا نک 
قرآان وسنت کےکیلفظا او ری عم میس تھی اشتا ہوتاے ‏ شہپوونسیان ہوتا سے نہیں 
خموروگکمراور ا تاور ۓکی ضرورت پی لآ لی ے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ .۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


وا عقیرہ: 
أئکوق رآن ود بیث کے علاد و را8ءز پور اور دنگ کت بآ سای تفر بای کا 
بھی ام لم بہوتا سے اورد ہہ رکا بکواا سک اصل ز پان یل پڑت ہیں ء چنا خراصو کاٹ 
کتتاب اہ کےایگ با بکاعنوان ہے: 
”ان الأْئْمَة علیھم السلام عندھم جمیع 
الکتب :لی نزلت من عند الله عرٌ وجل وانھم یعرفوٹھا 
علی اختلاف الس تھا“ (أسرل۷ای ؾج:١ (٢٢۴:۰‏ 
کی ےر نے پاسل ایز دی لک ناز لکردوتمام 
کپ موجودہوپی ہیں اوروو شس ز پان شی لیچھی ہہوں ء یمتخرات ان 
کوابچی طط رح یگنت ہیں“ 
اورعلا دا یکی'' بھارالانوا رٹل ایگ با بکاعخنواع ے٠‏ 
”آخر فی أن عندھم صلوات الله علیھم کتب 
الأنبیاء علیھم السلام یقرؤنھا علی اختلاف لغاتھا“ 
( بیارالانوار رخ:٢۲‏ ۷ص:۱۸۰۸) 
م ...”نی تم صلوات الڈ ہم کے ال نھمام اخیاء 
1 انف مو جو و خواودونی ز پان میس ہوںء فا تا نو ڑھ 
کس 
ان تح دا ےے تب لا نمی نے فا رداات ڈگ کی یس : ای نکی 
رایت فاحظ زا ن: 
”ے۔- ید: أبی عن أحمد بن ادریس ومحمد 
العطار ممًا عن الأشعری عن ابن ھاشم عن محمد بن 
حمادعن الحسن: بن ابراھیم عن یونس عن ھشام بن 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


الحکم فی خبر طویل قال: جاء بریهة جاثلیق النصاری 
فقال لأبی الحسن عليه السلام: جعلت فداک آنی لکم 
الصوراۃ والانجیل و کتب الأنبیاء؟ قال: ھی عندنا وراثة 
من عندھم نقرأھا کما قرأوھا ونقولھا کما قالوھاء ان 
الله لا ییمجعل حجة فی أرضہ یٔسال عن ش٠ء‏ فیقول: لا 
أدری الخبر.“ 
( ہیارالاتوار رع:٢‏ ص:۱۸۱۰۱۸۰ء اُصو لکن نا ص:صت٢۲)‏ 
ہشام ینعم ایک طویل روایت میں ذک کرت ہی ںکہ 
ریہ ال نھرنی ءابوائسن علیرالسلام کے پا آیاا رکے کہ 
آپ پرتربان اہین راو اشنل اود دگر رنب امیا ءآپ کے پا 
کیاں ہے فیس قریایا:ءمازنے پان کنائیں انیاء ورای 
کے طور ہنی ہیں م ا نکواسی انداز سے بڑھ نے ہیں یے وہ 
رات پڑ ھت تھے اوہ بھی انی ںکی طر ا نک اض ردتش رت یر 
قررت رکھتے ہیں (اور بی ال :تا بر ےکہ) الد تھا کی الک 
تخصی تکوڑ ایل جج ت کیل بناتے جو لو چم پر ےکہرد ےک ےل 
مو میں“ 


و خرام علوم جوا نات ۓےکرام اور م لامک حوظا مم] ہم السلا مک وا نک ایک دی گے 


وو سپ کے سب اج کو جو طور برعطا ۓ گئ ء اس لئے تمہ اخیاء وم امہ کے علوم 2 


جائ یں۔ 


ُصسو کاٹ تاب ارم ایک با بکاعنوانع ے: 
”ان الأئمة ورثوا علم النبی وجمیع الأنبیاء 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


واازسماائئی سائلیر* زاستئن ەصك٭×سق 

قرجھہ:..! ئ یکراممء ٹھ یکرمم صلی الد علیہ ویلم او تام 
گمزشدامیا واوصیاء کےعم کے وارت ہوتے ہیں ' 
بھارالما نو ار >کمماپ الا مامت شی ایک با کا عنوانع ے: 

”ان عندھم جمیع علوم الملالکة والأنبیاء 
وانھم اعطوا ما أعطاہ اللہ الأنبیاء علیھم السلامء وان 
کل امام یعلم جمیع علم الامام الذی قبلە ولا ییقی 
الأرض بغیر عالم“ (بیارالانوار رخ:٢۲‏ ۴ص:۵۹٥۱)‏ 

ترجمہ:..' ا نع ححضرا تکوخیام ملا وا نبیاء کےعلوموصل 
بے ژںءاورا نکوووسب عطا ہوتا ہے جو ادا نیا عم السلام 
توعطافرما جا ے اور ہرامام ان سے سے امام کےج لم یبور 
0 سے-۔ 
اس با بگی ۴۳ روایچول ٹیل سے ایک شقمری روایت: 

”- فس: أبی عن ابن أبی عمیر عن ابن أذینة 
عن أبی عبداللہ علیے السلام قال: ...... وقال أمیر 
المؤمنین صلوات اللہ علیہ: ألا ان العلم الّذی ھبط بە 
آدم من السماء الی الأارض وجمیع ما فضلت بە البیّون 
الی خاتم النبیٔین فی عترۃ خاتم النبیّین.“ 

( بیارالانوار رخ:٢۲‏ ص:٭٦٦)‏ 

تڑجے: .لام ضارق“ فرماتۓے ہہ سکہ: امیرال نین 
صلوات ال علبیہ نے فرمایا: یاد رکھو! آوم علیہ السلامم جوعم ل ےکر 
سان سز مین پرُترے اور ما م نین تک تام ایا رکوی٘ سعلم 
ےتشر ف بن شاگیاء دوسب نام این نر تک نک و 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۵۷ ۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


أئصہ انا ۓکراممیہم السلام سے زیاددعلم رکتے ہیں ؛اُصو لکاٹی کاب امہ 
کےایک با بکاعنوانع ے: 
”ان الأئمة یعلمون جمیع العلوم التی خرجت 
الی الملالکكة والأنبیاء والرسل.“ 
تر جھ.:..' ا ان تما علو مکو جا نۓ ہیں جو لامک کود یئے 
گئےءاورقمام انبا ءاوررسولو ںکواپینے اپنے وفت ٹیل و یئ یئ 
بھارالافو ار کے ایک با بکاعنوانع ے: 
”انھم أعلم من الأنبیاء علیھم السلام“ 
(خ:٦٢‏ ص۱۹۳) 
تقر جھہ:.. اس ایال ۓےکمرا مہم السلام سے زیادپعکم 
رکھتے ہیں“ 
اس دو ےکو وصصوف نے ٣ار‏ دایات سے اہ تکیا ے- 
عارالاوار ”باب جامع فی صفات الامام وشرائط الامامة“ْ لجحضرت 
مکی ایک طو بل روای تا لکی سے :ا لکا ای ککگڑاطا حظف رما ے: 
'”علم الأنبیاء فی علمھم وسر الأوصیاء فی 
سرّھم وعرّالأولیاء فی عرّھم کالفطرۃ فی البحر 
والذرة فی الفرء والمسماوات والأرض عند الامام 
کیدہ من راحته یعرف ظاھرها من باطنھا ویعلم برھا من 
فاجرھا ورطبھا ویابسھاء لأنٌ اللہ علّم نبیّه ما کان وما 
یکون وورث ڈلک الس'ےٌ المصون الأوصیاء 
المنتجبونء ومن أنکر ڈلک فھو شقی ملعون یلعنہ الله 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٥٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹٣6 ۷ 


ویلعنه اللاعنو ن.“ (بیارالاوار :۲۵ 1ا 0 
تجھہ:.. ا نأ مہ کےیعم کے ما بے میں اخمیاء کےملم 
کو ان کے ( بجی ) کے سا حے اوصیاء کےا مرا رکوہ او النع کے 
عرحے کے مقائل اولیاء کے رات بکووڑیگبرت ےے جن کر سے 
قطر کو او ر مرا سے اک ور ےکوی ےآ سان وز من امام 
کے اد ات اک کے ات کی شیک کی رع ہیں دد ان کے ظاہرہ 
تن سے ےآ گا ہء ان کے انیتھے تھے سے وافقف اور الع کے یل و 
ترکاعا لم ہوتا ہےءاور یہاسل سبب سے س ےک الد نے اپے می صلی 
ارعلی 2ل مکو”مسا کان ومسا یکون“ اعم عطاکرویا اور یش 
اوصیاء ال تفوظط راز ( یر ) کے دارث ہو تے ہیں ء مس نے اس 
بات کا اڈکارکیاد ہی ملتولنع ہے ء اتال کی اورتما مان کر نے 
والو ںکی ا انت ہو“ 
ا سوا ںکقیرہ: 
تما کان وا یکون امھ رک ہیںءان ےآ تن زی نکیکوکی لی 
یں ہوک ء چنا خی اصصول کی تاب مرج یک با بکاعنوان با 
”ان الأئمة یعلمون علم ما کان وما یکون وانه 
لا یخفی علیھم الشیء صلوات ال علیھم“ 
(رم:ا ضص:۹۰٢)‏ 
رك سا کان رما کون کاعلم ر کت 
ہیں + اوران پرکوگی بیس ہوئی ۔' 
بھارالانوا ریس ای ککاعنوان ے: 
نم علیهھم السلام ٭" ےحجب عنھم علم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


السماء والأرض والجنة والٹارء وأنه عرض علیھم 
ملکوت السماوات والأرض ویعلمون علم ما کان وما 
یکون الی یوم القیامةۃ“' (ہیارالاثوار رج:٢۲۷‏ ص:۰۹٦)‏ 

...ان ےآ سان وڑ من اور جشت وروڑ رب کا 
علم شید ونیں ہوتاءآسمان اور ز ش۲ نکی پیودکی کا تجات ان کے 
سا سن ےگمردی ای ےءوہ ”ما کان ومایکون“ کا سم رھت ہیں ہنی 
ابنڈرا سے ا بکک جو یہو کا اور جو قیامص تکک ہوگاء دو سب ال کو 
معلو ےت 
اس باب کےح ت۳۴ ردانتتیں در گا ٹل ء اک زدایت ملا عفر میں 

٣‏ مصباع الأنوار باسنادہ الی المفضل 
قال: دخلت علی الصادق عليه السلام ذات یوم فقال 
لی: یا مفضل!ھل عرفت محمد وعلیًا وفاطمة 
والحسن والحسین علیھم السلام کنه معرفتھم؟ قلت: 
یا سیّدی! وما کنە معرفتھم؟ قال: یا مفضل! من عرفھم 
کنە معرفتھم کان مؤمنا فی السّنام الأعلیٰ. 

قال: قلت: عرفضغی ڈلک یا سیّدی, قال: یا 
مفضل!تعلم أنھم علمواما خلق اللہ عرٌ وجل وذرأہ 
وبسرأہ وأتھسم کلمة التعقویٰ وخڑان السٌماوات 
والأرضین والجبال والرمال والبحار وعلمواکم فی 
السماء من نجم وملک ووزن الجبال وکیل ماء البحار 
وأُنھارھا وعیونھا وما تسقط من ورقة ال علموها ولا 
حبَة فی ظلمات الأرض ولا رطب ولا یابس ال فی 
کتاب مبین وھو فی علمھم قد علموا ڈلک. 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


فقلت: یا سیّدی! قد علمت ذڈلک وأقررت بہ 
وآمنتء قال: نعم یا مفضل! نعم یا مکرّم! نعم یا محبور! 
نعم یا طیٔب! طبت وطابت لک الجنة ولکل مؤمن 
7ئ (ہارالاٹوار ۲٢:‏ گض:١٦۱۱١٤ا١)‏ 

تزج:.!شمفضل سے ردابیت ےک ایک روڑ شی إبام 
صادقی“ کی خدمت میں حاض ہوا بج سے ىہ چھا: ا ےحمل کیا 
تھے مھ ہی فا لہ اورنسن وی ن مہم السلا مکی مرف تکیمگہ کی 
عائ٥لل‏ ہے؟ یس نے عرش سکیا: یا نیدی !ا نکی مرف تک ی گب را یکیا 
ہے؟ فرماا: جم ٹف سکوا نکی مخ تک یگبرائی ال ہوگئی دجی اع 
ا ےکا م کن شمارہہوگا۔ 

مس نے عو لکیا: یا سید !ن9 سے یہ نز لاچ ۔ 
فرماا: ای ۓتضمل !فو نچ رجان ےکا نکوائش زج لک ہرطر عکی 
ری کوشی کے ارے می لم حاصل ے٤‏ بی حفرا ت کلت القو کی 
ہیں اور سمانوںل اورز مان ء پہاڑوں اورسحراوٗل او رمنررولں کے 
خزای مںء ا نک رسب معلوم ےکآ سمان ین ئن مار 
ہیںء کقنفرشت ہیں ہ پہاڑ سکتے وز کی ہیں سحندرول ہ در یا کول اور 
چشھوں کے پا ی کیمتی مقار ے؟ جوبھی چامگرتا سے ان کم 
یش ہوتا ےزین کے اندعیروں می ںکوگی ذ نزو ایانس اورتکوی 
نگ وت ایما ج کنا بمیان شی دررع نہ ہہوء اور ا نعکو رسب بتھ 
معلوم ہہوتا سے _ 

یس نع ری کیا :یا نیدی ا ججے اب بی سب معلوم وگیاء 
ٹیش ال سکا اھر ارک رتا ہہوں اوران پیر یمان مات ہہوں ۔فر مایا:مبارک 
ہو تھے ا ےل مارک ہہوا ےرم ا مارک ہہواے خوش بجنت ا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


مارک ہہواے پاکیر وف ! تھے اور اس عقییرے بر !یمان لانے 
نے ٥‏ زارخضیس بآ نہر* 
ما مقر و: 
محر تی رش ابشرحنہ(اوراس طرح ژوصرے اخ ) ضر ت مکی الف علیہ 
لم کے ا لم ین وزاب ریگ تھے و تام علوم جآ تحضر صلی او علیہ وم مکوعطا 
کئۓ گئئۓےء وو سب مرگ اواور د٤‏ اس کویھی دتئۓے گؤئئ ؛ اصمو لکائی کاب ا۴ش 
ایک باب کاعنواانع ے: 
”ان الله عرٌ وجل لم یعلم نبیّه علمًا الا أمرہ ان 
یعلمہ امیر المؤمنین عليه السلام وانه کان شریکە فی 
العلم.“ 
تر جصہ:..' ایل تھا لی ن ےآحض رت می اللہ علیہ مل کو کم 
بی سکھایاء ان کے پارے :یی ن7 صلی ال حا ول مکوحم کیہ 
امرالیمنشن علیہ السلا مک وبھی سکھاد میں ء اور امیر لو مین عم بیس 
آحضرت لی ال علی ےلم گے میا ا کےکھ میکس ےت 
یں میں حخرت صادق ےش لکیاے: 
”7- علیٗ بن ابراھیمء عن أبیەء عن ابن أبی 
عمیر عن ابن أذینةء عن عبداللہ ابن سلیمانء عن 
حمران بن أعینء عن أبی عبداللہ عليه السلام قال: 
..., لم یعلم اللہ محمدا صلی الل عليه وآلە علمًا ال 
وأمرہ ان یعلّمه علیّا عليه السلام.“ 
(أصول۷انی .ع:١‏ ك:٢۳٦۲)‏ 


تر جمہ:.. ”نیو ں سکھا یا اتی نے مج مکی اید علیہ لم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ککو یر ے سس تی ہت 
بھی نکھا یں 
ایک و سرب ردایت میں تخرت پا تقر رم الش علیہ ے لکیا 0س 
-٣‏ محمد بن یحییء عن محمد بن اٰحسنء 
عن محمد بن عبدالحمیدء عن منصور بن یونس عن 
ابن أذینةء عن محمد بن مسلم قال: ..., فلمیعلم 
واللہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله حرفا ممًا علمه اللہ 
عرٌ وج ال وقد علّمه علّ ثمْ انتھی العلم الینا.۔“ (ایناً) 
تر جم:..' ال کیم !ال رتھالی ن ےآ حضرتصکی الد علیہ 
ال مکوایک مر فکبھی جوکھایاد ہپ مکی اللہ علیہ اسلم نے حضر تی 
کیکھایاء کچ رو ملک بھ رک ھا 
سا وا ںعقیرو: 
اما فا مود تکاوفت جا ہیں اورموت ان کے اخحقیار یں ے۔ 
”أصو کا نی''اور بھارالانو ار کے ایک با بکا حنوالنع ے: 
”أنھم یعلمون متی یموتون وأنە لا یقع ڈلک 
لا باختیارھم“ (بارالاٹوار :ے۲ ص:۲۸۵) 
ترجھ:. !ما مو ںکومعلوم ہوتا ے ےد ٥ب‏ ع رم لف 
اورا نکی موت ان کے ا خخقیار کے بش ی ٹیس ہوٹی ۔ 
اس با بک می رواعت 
7- خص, یر: أحمد بن محمد عن ابراھیم 
بن أبی محمود عن بعض أصحابنا قال: قلت للرّضا 
علیے السلام: الامام یعلم اذا مات؟ قال: نعم یعلم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱٢١٥ ۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


بالتعلیم حتی یتقدم فی الأمر قلت: علم أبو الحسن 
عليه السلام بالرٌطب والرٌیحان المسمومین اللذین 
بعث الیه ییحی بن خالد؟ قال: نعمء قلت: فاکلە وھو 
یعلم؟ قال: اُنساہ لینفذ فیه الحکم.“ 
( ہیارالانوار :ث۴ ك:۸۵) 
تر جمہ:.. نما رض ےکن لک یا کیا اہ :اما موا موت 
کیا وذ معلوم بہوتا ہے؟ خر مایا: ہاں !لن کے جانے سے جا تا ےء 
اکا لک گی تار یککرے۔ میں ن ےکہا کیا مام اپواسنن اس 
رطب در با نکوجا تن تھے یجن شی زہ راک می بن الد نے ان 
کے پا بھیا تھاءفر مایا: ال ٹیش ن ےکہا: کچھ مر امام نے جالن بد چ کر 
ز ہرکھا یا( ری خورشی ہوفی )؟ فر مایا نے ان ول ڈال دی 
ھی کان کے پارے مس ان اعم جار فرماۓ'“ 


تیسرکی پیٹ کے چٹ عقیرے کے ذیل می سک رکا ےک امامیہ کے نز دکیک 


امام ہدونسیان سے اک اوزمتصوم ہوتا ہے :لان یہاں !ما مکی طرف نیا نک سوب 
کردیاعگمیا کہ امام پرخودش یکا الرام نہ گےه بہرحال ”درو گورا حافظہ ماش کا عذر 


م ہوردے۔ 

آ تھوا ںکقیرو: 
امو ںکو پرٹن کےایمان ونفاق کی عقیقت معلوم ہےءان کے پا جنتییں 
اوردوزشیول کے نام ایک رٹ می کرت ہیں ۔ 


ھھارالانوار کے ایک با بکا نو انح ے: 
”انھم علیھم السلام یعرفون الناس بحقیقة 
الایمان وبحقیقة النفاقء وعندھم کتاب فیه أُسماء ُھل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


تارہاوج ھی وآ 1ص رف9 او غر 
مخبر عما یعلمون من أحوالھم“(بارالانوار ج:٢۲‏ ش:ا١)‏ 

ترجھہ:.. اش لوگو ںکوتفحیقت ایمان اور خیقت نفاقی 
کےساتھ بات ہیں ء اوران کے پا ای ککتاب ہوٹی ہے جس 
یس سمارے جننمتیوں کے نام ء الع کے میتوں کے ناعء اوران کے 
نانن کے نام آپہرۓ ںاود ےہ یریت وا نگ یجان 
وا یمم ےنیس بای جو لوکوں کے عالات کے پاارے شی وہ 
رک ہیں“ 
ال با بک چائٹنس روایتول شس سے ایک روایت ۶ سو کاںی مم گر 

مو ود ےء ملا ہف رما یے : 

”- علیٗ بن ابراھیمء عن أبیەء عن عبدالعزیز 
بن المھتدی؛ عن عبداللہ بن جندب أنه کتب اليه الرضا 
علیۃ السلاؤ: اع ضیمنا لمکتویؤن باسماٹھم واسماء 
آہائھےم, اُخذ اللہ علینا وعلیھم المیثاقء یردون موردنا 
ویدخلون مدخلتا لیس علی ملة الاسلام غیرنا 
وغیرھم.'“( ہھارالانوار غ:٢۲‏ ۴ص:۱۲۳ء اُصو ل کان :ا ضصض۲۳٢۲٢)‏ 

ترجمہ:..* عپدالق دجن جخدرب سے دوایت ےک امام رضا 
علیرالسلام نے ان کے ناماپ نے توب مھ لک روک یاکہ:ہمارے شیع 
کے نامع ولدجیت کھ ہو ہیں ء الد نے ہم سے اورالنع سے پکا 
وع ر ہکم ےگوہ ہما رے سا تحعدر ہیں 1 1 0 


داقل ہوں گے ہما رےاوران کے واکوٹ یع ت اسلا ہیں 
۲ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


1ہ ا لکترہ: 
امام داواں کے بیرتک جات ہیں ء ان ےکوگی شی ہیس ہوئی۔ 
ھارالانو ار کے ایک با بکا عنوالنح ے: 


”انە لا یحجب عنھم شیء من أحوال شیعتھم 
وماتحتاج اليه الامة من جمیع العلومء وأنھم یعلمون ما 
یصیبھم من البلایا ویصبرون علیھا ولو دعوا اللہ فی 
دفعھا لأجیبواء وأنھم یعلمون ما فی الضمائر وعلم 
المنایا والبلایا وفصل الخطاب والموالید“ 

(کارالانوار رمعغ:٢۲‏ ضص:ے۳٣)‏ 

ڑس او رع ول سال ۓآررٹ 
علو م گی اُم کوضرورت سے ان مجن نے گی زی ہیں ۶ 
مصاحب ا نکو کے ہیں ہ دہ ا نکو جا ہیں ان پرھص کر تے ١‏ گر 
ان رنتھا لی سے ائنع کے ٹا ےکی و اکم تے ےا نکی ڈُعا قجول ہہولی ٤وہ‏ 
لوکوں کے ولوں کے بچیر جات ہیں موتووں اورمصیییتمو ںکا لم رھت 
ہیں ءا نکیل خطلابکاعلم اود پیدائیو کو جا ہیں _' 
اس با بک بادلنع رواتول ٹل ے ایل روامت: 

”- بر: عبدالله بن عامر عن ابن ابی نجران 
قال: کنب ای و الس اآرضا علی السا رسالة 
وأقر أنیھا قال: قال علیٌ بن الحسین عليه السلام: ان 
محسمدا صلی اللہ علیيه وآله وسلم کان أمین الله فی 
اأرضہ فَلمًّا قبض محمد صلی الل عليه وآلە وسلم کنا 
ال البیست ورثعه فتحن أمناء اللہ فی أرضہء عندنا علم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳٣٥٠٥٢١٥ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


البلایا والمنایا وأنساب العرب ومولد الاسلامء وانا 
لنعرف الرٌجل اذا رأیناہ بحقیقة الایمان وحقیقة النفاقء 
وانٌ شیعتنا لمکتوبون باسمائھم وأسماء آبائھم أخذ الله 
علینا وعلیھم المیشاق یسردون موردنا ویدخلون 
مدخلیا“ ( :ارالاوار رخّ:٢۲‏ ۴ص:١٣٣٠٢)‏ 

تر ...این الی حجران سے ددایت ےکہ امام رضا 
علبیہالسلام نے ایک خزیاکھا اور بے یڑ عوایاء ال یی سککیھا ت اک :لی 
بین علیرالسلام نے فرما کہ م ٥ی‏ اوش علیہ دالہ سکم ز ین ٹس 
ا کے این تء پچ رج ب کی او علی ہد الہ یلم أنٹھا لے گے ہم 
ال بیت؟ٴ پ مکی الشدعلیہ یلم کے وارث ہہوےء چناغجرز مین یں 
بھم اید کے این ہیں :یی مصاب واموا تکا بھیپعلم حاصسل سے 
اور ناب عرب وم ول اسلا مکا بھی,ہ ری سکود کھت ہیس تاس 
کے ایمان ونفا قکی تفیقت ہم برعیاں ہوعایٰ ہے٤‏ بعارے شیع 
کے نامع دلد یت ککھے ہے ہیںہ اللہ نے ہم سے اور ہما رے 
شبعہ سے اکا وع دک رکھا ےک دہ ہمارے ای ھا نے میس ہما رے 
اھ ین کے 


وسوا لکقیرو: 


امام ءتمامز ہا نی اورۂ نیا ئل رک تام بولیاں جا ہیں: 
بھارالافوار کے ایک با ب کا عنوانع ے: 

”'انھم یعلموتن جمیع الألسن واللغات 
ویتکلمون بھا.“ 

ترچجمہ:..” امام ڈنیا گی ادگ زباخیں اورساری بولیاں 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢٣۹ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


جات ہیں اورقمامز بافوں می سکنشگوف مات ہیں 
اس مل کی ایک روامت: 

”ے- خص: اہن یزید عن ابن ابی عمیر عن 
بعض رجاله عن أبی عبداللہ عليه السلام قال: قال 
الحسن بن علی عليه السلام: ان لله مدینتین: احداھما 
بالمشرقء والآخریٰ بالمغربء علیھما سور من حدیدء 
وعلٰی کل مدینة ألف الف باب مصراعین من ذھب 
وفیھا سبعون الف الف لغة یکلم کل لغة بخلاف لغة 
صاحبتھا وأنا أعرف جمیع اللّغات وما فیھما وما 
بیٹھماء وما علیھما حجة غیری وغیر أخی الحسین.“ 

( ہیارالاتوار رخ:٢۲‏ ص۱۹۳:۰) 

7 جھہ:.. امام صادقی فرماتے ہیں کہ اما مم نے 
فرمایا:ائش کے دوش ہیں ء یک شر میں۱ اورایک مغخرب میں ۔ ان 
کےگرولو ےکیٹصیل ہے برشپرکے دس اک درواز ے ہیں جن 
کےکواڑ سو نے کے ہیں ء ہرشٹ یٹس سام تک وٹ باننیں مو لی جالی ہیں ء 
جو ایک وس رکیے پاب لخلف ہیں ء تھے ان تمام ہا اوں بریھ یبور 
انح ے اور اع گہروں ہے اور اور الع کے درمیان جھ گے ہوا 
ےء میں ا ںکویھی جا:تا ہوںء ان دووں شہروں پرصرف مھ اور 
میرے پھال یم نکودی 'جت بنا یگیاے ' 
مفیدکی انی کعبار تا لک کےعلا مہ با ق جس کھت ہیں : 

”أقول: اما کونھم عالمین باللغات فالأخبار 
فیە قریبة من حذد الدوار وبانضمام الأخبار العامّة لا 
یبققی فیسه مجال شک وَأمَا علمھم بالصّناعات 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٢٣۹ .۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


انوس انتا الإأخبار المستفیضة دالَّة عليهء حیث ورد 
فیھا أنْ الحجة لا یکون جِامَلا فی شی یقول: لا 
أدری مع ما ورد أن عندھم علم ما کان وما یکون وأنَ 
علوم جمیع الأنبیاء وصل الیھم؛ مع أنْ اکٹر الصَناعات 
منسوبة الی الأنیساء علیھم السلام وقد فسّر تعلیم 
الإأسماء لآدم عليه السلام بما یشمل جمیع الصناعات. 
وبالجملۂ لا ینبغی للمتبّع الشک فی ڈلک 
أیضٰا.“ (:کارالاٹثوار رخ:٢۲‏ ص۱۹۳) 
7 ...”نمی سکتا ہو ںکہ رحقی ہک ہآ ام زباتوں 

رکبور حاصل تھاء اس بارے میس روایات عد وا کو گی ہوگی ہیں ء 
اور اگ عام کی (میی ال سفن تی ) روایا تکوجھی اانع کے ساتجھ 
الس نواس می ںیم کے فی کک یمفائش ہی با تی نیس رنتی ۔ر پایہ 
کہا ننکوصناعا تکا می لم ہوا ےاوروایات مشہور و ومستفری ضف کا قۂ 
ا سکی دیمل ہے می اکہ بیروای تکجت “کی چیزے ناواتف 
یں ہوتاکہ یوں کے ' بی معلو میں ا سی ط رع اس مو نکی 
روایا کہا نو ”سا کان وما یکون'کاعلم حاصل تا ءاوری تام 
اخماء کے علوم چھی ال کے یا تہ جاک صناحات انمیا ہم 
الملام ب یکی طر ف سوب ہیں ء چنا ٹیر تعفر تآ وم علیہ السا مک و ساء 
کی جولیم دب یگئی ا سکیاخی راس طر حک یگئی جو نت ںکوشائل 
ے۔ الخ فو وک رکر نے وانےکواس می کسی شیک وش کیکنائش 

گیا رہوا ںعقیرہ: 


امامء برندوں اور چرندو ںکی بول یا لج جات ہیں ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610٥۲١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ایک باب کا حنواع ے: 
”وتحبھم علیھم السلام من الدواب والطیورء 
وما کنب علی جناح الھدھد من فضلھم؛ وانھم یعلمون 
منطق الطیور والبھائم“ ( بارالانوار ع:ے٢ )٦٢۱۲۰۴‏ 
تر جمہ:.. ”نچ ہا اود پرندےالن ‏ ےعحبت ر کھت ہیں ء 
پہھ کے وں پرا نک فضیلت ھی ہے؛اوردہپندول اور ہا مکی 
بولیالں جاۓ ؤں۔- 


بارہوا ںعقیرہ: 
پیلے رما مکی زندگی کےآخریی مھ میس اس کے بعد وا نے !ما مکو تما علوم حاصصل 


بھ جات ہیں - 


ُصو کاٹ تاب اجس ایک با بکاعنوان ے: 

”وقت ما یعلم الامام جمیع علم الامام الذی 
کان قبلہ؛ علیھم جمیمًا السلاف“ (خ:ا ص۴٤٣٢)‏ 

تر ...”اما مکواس کے پیلے رام کے تما علو مس 
وفقت حاصل ہوۓ ہں؟'' 
اس ہاب یی اما صادق" کا ازنشا وف لکیاے: 

-٣۶‏ محمد عن محمد بن الحسینء عن 
علیٗ بن اأسباطء عن الحکم بن مسکینء عن عبید بن 
زرارة وجماعة معه قالوا: سمعنا أبا عبداللہ عليه السلام 
یقول: یعرف الّذی بعد الامام علم من کان قبله فی آخر 
دقیقة تبقی من روحه.“ ١:(‏ ص:٢٤)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١ ۱۵۷۳۳۱۱١م۹.۷۸۷۵۸۲6‎ ۷ 


ا امام کے بحع امام غما سے وہ اگ 
9 اما مکی زندگی کے؟ خریی منٹ میں الس کے تم علو مکو 
جان لتاے۔' 
اکر چرأنمہ کے علوم کے بارے میس حعفرات امامیہ کے دی رعقا بھی ہیں ہنکر 
یں بادہاماصول کے با کت عددکی منا سبت سے فی ایال ابی ہار عقا مد کے ذک کر نے بے 
اکتقاگرتاہوں۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


نگ : آئ کوک گن ذ راک س ےلم حاصل ہوتا ے؟ 


مخفرات اما می نے اَئمہ کےعلوم کے بببت سے ذرائّج ذکم سے یں > یہاں ان 
زا ئ کا خلا ص ہک رکیاجا تاے: 
پہلا ڈراہ :کتماب وسنت 

ْ تام صحا کرام رضوان انڈ شیہم این نے اپٹی اپٹی اتتعداد وصلاحیت کے 

مطا نی آحضررتںصلی ال علیہ لم سےکاب وسنت کے علوم حال یکن ححضرات 
امامیہ کے نز دیک تعظریات اق رآانع وسنت کے علوم ہی ںوی ایز رکھنے ہیں ران 
کےسوا مت می یکویھی حاص یں ءا نکی چند ا تما زی تحصوص ا ت تب مل مس: 

اڈل:.. یم اکہ جنا بح جوادمخنی نے الشیع فی ایز انی سککھاے وہ 
الف سے پانک قرآن وسنت کا میطا رکھت ہیں٠‏ ہر تکی لی وتا ول او رآفضرت 
مک الہ یدع کا پروی وروی یع رع ہمروقت بادرچتاےء یکن 
یی ںک یآ تک یل دتا ول یل ا نکا ہم چوک جائے یا آحضرت می ال علیہ 
بل مک یکوئی سنت ان کے عا فنظہ ےنگل جا ؛ اہر ےکہ مہا تیا رفا ھی عفرا تکو 
ال ہےء اس لے ان کو اہتبادوقا کی ضرورت بی یی ںی اور ندان کے یئ 
میس ہوونسیان اورھول چو کا امکاندے۔ 

روم:. الا کا تحضر ت؟لی اللعلے مم 09 
ری العن یکم یش بجر کے شر یک تھے :ا اضرت لی علیہ 7 ہے پاندگا ای کہا نکا 
من جاہب الج بات بھی تال جائۓ دوححخرت ملح کوضرور چتا نیس ان کے علاد وس یکو 
لان کیکوی پایندئی نیگی۔ اس لے علوم نکی میں ببہ تی با تیں صرف رت کل کو 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


شس اك کڈ اکوئی ا نکئیں جات تاء اورتشرے کل کا اوراعم کے بعد 
دکرے ا کو نکیل ہوتار ا۔ 
موم .رن وسشت سے صحبقئھ کےعلو ای طرح لی نی تھے ص طرب 
رسول اڈم٥لی‏ اللہ علیہ لم کےعلوم تی تے. اس لے صرف اش یکاعلم لان اعم د ہے ان 
کےسواکس یکا عم لاکن ا یں 
یہال ا صسو انی ہکناب الہ کے چندکنوانات ملا طف رما ئے : 
الف:... ”انەلم یجمے القرآن کلە الا الأئمة علیھم 
السلام وانھم یعلمون علمه کله“(اصولكنی ا ضص:۲۲۸) 
تر ...”پور ےق رآا نکو ئن کے سواسی نے مع نہیں 
کیااورأئمہ پور ےق رآ نکاعلم رت ہیں ۔ 2 
ب:... ”ان أُھل الذکر الذین أمر اللہ الخلق بسؤالھم 
ھم الأئمة علیھم السلام“ (اصرل۷انٰ .ع:ا ضص:۰٢٢۲۱)‏ 
ترجہ:.. ”ف مآ نک رم میں جن ائل ذکر سوا لکمر نے 
اع یاےءانع سے مادص ہیں ۔'“ 
نک ”ان من وصفہۂ اللہ تعالیٰ فی کتابہ بالعلم ھم 
لأئمة علیھم السلام“ (اصوِلِکانٰ ١:‏ ص:٢۲)‏ 
ترجھہ:.. ق من ۷ریم میں می نک 7- کہا گیاے٤‏ وہ 
صر فا زیں۔'' 
دا ”انال راسخین فی العلم ھم الأئمة علیھم 
السلاو“ (اصولکائی بخ:ا ص:٢٢)‏ 
:.”ق رآ کری می چیک زین ایا 
ووصصر فان ہیں" 
تقر کی رآآن وسنتکا نزو لصر ف مہ کے لج ے اور ھ. 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳۱۱١٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ڈوسراذ رجہ :کتےسالتہ: 

او رگزر کا ےک :تام ایا ۓےکرا مہم السلام کےعلوم کے حائل جھےہ 
ان کے پا ایی زی دح تا نکی حلادت گی فر مات جھے۔ 
یں مم سط رم کاب وسنت کےعلوم پر ا حاطکاطہ رھت تھے ای طر کتبیسابقہاور 
نیااۓ سای مہم السلام کےعلوم بھی ا نعل عبط تھاء اور سای ان ےکی 
کنا بکاکوکی رف الع سے نا یں تھا۔ 
مسراز راج :ڑوں القوں: 

اد رگزر چا ےک ام کی 3 روجوں میس سے ای ک کا نام ”رو الق یل کے 
رو القد ںکی وج ےآحضرت مکی اللعلیہ یل حائل وت تھے اور ای و کی وج 
ای ا چود وت رشن رتے ہیں اود دہ مر سے فر تک اورف۲رنل تحت الث رک 
7 .ھ.ے.029؛) 
چوتھاذر یی :زوپ انلم 

ا کا ذکرگھیدپآ چا ےک ہت ریگ دم یکاشحل اود لالہ ےی تر ای لو یکا 
نام ال روح“ ے اوردہ پیش ہأُ مہ کے ساتھ رہتی ےء اىی' روب اعم کے ریچ مہ 
کےعم ڈیم کےتما عقدےعل ہو تے ا یں ۔ 
272 اصحرت ار : 

شیع ردایات کے مطال قآحضرت صلی اڈ علیہ ویلم نے حضرتبلی شی الڈرح کو 
تائی یس ایک حیفہ بملاکرایا تھا تحضر تہملی الد علیہ یلم بو لے جاتے او رض رت کی شی 
ال ح ہلک اتا نی کش تن کیا از موی ۔ ین میس خمام عطال وترام 
درخ تہ اور دہ قام اکا مبھی ہج نکی لوگو ںکوضرورت ںہ سلتی سے فی کہ خرائ کا 
وا تک ای می ددرج تہ الکو" کنا بی بھ یکا جانا ہے, عو ف پعی یہ 
”لیر“ ھی اور ”الا نے تھی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


چنا یا صولکا ”باب فیہ ذکر الصحیفة والحفر والجامعة رمصحف 
فاطمة علیھا السلام“ یی ضضخرت صادقی ‏ کے نماع رم راز جناب الولا ری رواییت 
ہے+وہ سے ہی ں کہ ۱ 

”نیس نے ابویدادل علیہ السلام سے عو سکیا کہ: مل 
ایک بات لہ پچھنا ارتا ہوں ہا لکوکی اور کیل جو میری بات تا 
۷و امام نے وہ بردہ ا ٹھایا جوا نی کے اوزڈوصر ےگھ کے درمیان تھا 
اوراندد ےک رخ رما اکہ: اندرکوٹ یکلہ ج گی جاسے کوجھ کت ہو۔ 
ٹس نےکہا: آپ کے شیعہ با می ںکرتے ہی سںکرسول الڈڑص لی الله 
علیہ یلم نے حعرت کل کی مکا ایک باب سکھایا تھا ننس سے ہرار 
با ب کے ہیں ۔فرماا:ایکنیس !بل تحضر ت لی الل علیہ یلم نے 
جتت بی کو بر پا بتکھائے جک زاب سے جار با بگفلن 
کو جن نےکہا: وائلد اذ یہ سے۔ اما ھہھوڑکی دہز ش نکر ید تے 
ر ہے رف رما اکہ یکرت ےکن پھا اع ہیں 
رٹم مایا: 

”'قال: ٹم قال: یا أبا محمد! وانٌ عندنا الجامعة 
ومایدریھم ما الجامعة؟ قال: قلت: جعلت فداک وما 
الجامعة؟ قال: صحیفة طولھا سبعون ذراغا بذراغ 
ربسول اللہ صلی اللہ عليه وآله واملائہ من فلق فیه وخط 
علیٌ بیسمینەء فیھا کل حلال وحرام وکلُ شیء یحتاج 
الناس الیه حتی الأرش فی الخدش.“ 

(اصو ل۷انی .ج:ا ص:۲۳۹) 

ترجمہ:.' اود جمارے پا جامعہ ےہ اور لوگو ںیک وکیا 

معلو مکہ جا مع ہکیا یز ے؟ ہو میتی پر فر مایا کہ ہہ ایک محیشہ سے جو 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ہے ایا ان سے مت باه ھکا سےء 
7ححضرتت صلی اللد علیہ یلم خوداپٹی زبان سے !طاکراتے تھ اور 
حطرتکل کھت جاتے تےء اس یں علال فوتا مک قمام چیم ہیں 
اور وہ تام چیزریس اج نکی لوگو ںکوضرورت ہی یآ سکتی سے ہنی کہ 
خرائ کا جا دا ن بھی اس می ھا“ 
ابو کت ہی ںکہ :یش نے پیک نک رکہا:دالل اع و يہ سے ۔فرمایا: عم ےگ 
ھا یی اض میں ۔ 
اذ ری یلم جھ: 
منررحہ پالااردایت میل؟ٗ کے ےک :اما محھوڑ کی درا مو ر ہے پچ رفر مایا: 
”ثم قال: وان عندنا الجفر ومایدریھم ما . 
الجفر؟ قال: قلت: وما الجفر؟ قال: وعاء من أدم فیه 
علم النبیّین والوصیّینء وعلم العلماء الّذین مضوا من 
بنی اسرائیل.“ (أسرل۷نٰ ج:ا ص:۲۳۹) 
تر جہ:..' اور جمارے پا جفربچھی سے اورلوگو ںکوکیا 
معلو مکہجف کیا یز ہے؟ بی پنڑزےکا ایک بن یا کیا ہے مس یں 
پیل کے انی اور اوصیا ءکاعلم ہےء اور ہنو اس رائل کے ان علا اعم 
سے جوکزار جھے ہیں 
الولصی رک ہی ںکہ :یس نے بک نک رک اک : وائل اصع و یہ سے۔فرمایا: کس 
گر ھا علھیں۔ 
ساناں ذر لجہ: حف فا: 
اکیاردایت م۲ ںآ گے ےکہ: !ام نےبھوڑ گی دم خا مو ر ہے کے بحدفمایا: 
”وانٌ عندنا لمصحف فاطمة علیھا السلام وما 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹66 ۷ 


یدریھم ما مصحف فاطمة علیھا السلام؟ قال: قلت: 

وما مصحف فاطمة علیھا السلام؟ قال: مصحف فیہ 

مشل قرآنکم ھٰذا ٹلاث مرّات: والل ما فیه من قرآنکم 

حرف واحل “ (أسرلانی بج:١‏ ص:۲۳۹) 

ترجہ:..,” اور ہمارے پا ” صحف فاط ہے اور 

لوگو ںکوکیا خم رک صحف فا کیا یز ہے؟ یس نے پچ چھا: 

مصحف اط کاچ ے؟ فر مایا :تمہمارے الخ ھن سے نی کنا 

بڑاےء بندا! اس میں تھہار ےی رآ نکا ایک 7ر فجھی ہیں ۔ 

وی کے ہی کہ :ٹیش نے ینک نک رکہاکہ: دالشداضل مت ہہ ہے ۔ف رمیا :یہک مق ہے ہ 
پا یعل یل پچارکھوڑ کی دم امو رن کے بد ف رما کہ جعاادے پا ”اهسا کان 
رتایکوت'' کاعلم ہے میں ن ےکہا: وا اعھ رب سے فرمایا: حر ےگ مر پپوالی اعم 
نھیں۔ می ن ےکھا: پچ مکیا ہے؟ فرمایا: فاص تکک تجتے موراو ری چس کے بعد 
دکرےوقوغ یس آپی ہیں ان یس سے رای ککاعلم ۔ 
تصحف اض کاچ ے؟ 

مندرجہ الا روایت ٹیل شحف فاعم کا ذک رآ یاے اس کے پارے شی امام 
ںار ق تی کاشھتبلی ان اص و لفائی "نے کی ما کی فی یت جن کا 
گیا ہے ا ںکوھی ملا حظغ رما سے اجناب ابواصی رج یکی روابیت کے مطاِ اما مم تفم رصا دق 
نے اس سوال کے جواب می لک صحف پاع کیا ے؟“'(ہاں صصرف تھ ت بر اکن اکیا 
جار ہے )فرمیاکہ: 

..."الد نے جب ای نی علیہ العلا مکواس نیا 
ےا ٹھالیا اور پکی رنات + لو * 00 و 
اھ کے سوا کوٹ یمیس جا تا الد نے ایک فرشعت ان کے پا س بھیچاجھ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۷۳۳۱۱٢٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


ان تح ہ٘ہے شی ںیک ار نۓ فا مل نے 
ام رال مج عغکو مہ بات لا کی نو انہوں نے ف رما اکہ: ج بت مکو اس 
فرش ےکی مرکا ضاس پہواودائ ںکیآوازسنولو کو تا دو ق(ائ ں کی 
آھھ یشیش نے ا نکو لا دیا ہے می رالم نین نے ال اکیا کہ جو بکھ 
فر نے سے سن ال سک وکھت جاتے بیہا ںت ککرانہوں نے اس سے 
ایک شحف تیاک رلیا( می صحف ال ے)۔ 

(اصولانی ع١‏ ص:٣٢)‏ 


آٹھواں ذرلجہ:ورکاستون: 
تھی رواات کے مم انی ا مکونو رکا ایک ستون عطا کیا جا سے نس 2 
ذریے امام ای کہ 8یٹھا لود ڈنیائٹش بندوں کے اعم لکود پکھنا ہےء چنا مجر بھارالانوا ر“ 


یش ایک با بکاعنواان ہے 
”ان الله تعالٰی یرفع للامام عموذًا ینظر بە الی 
اأعمال العباد“ (بیارالاوار بج:٢۲‏ ضص:۳۲٢)‏ 


تھجمہ:..' اللدنتھالی امام کے لئ ایک ستون بلن کر تے 
21 کے رے وہیتروں کک اعما لکود با ھی 
اس جا بکی سولہدداتوں ٹیل سے (مام اق کی ایک روابی تکاخلاصہ یر ےکہ 
امامءماں کے پیٹ ٹیل سب پچجھطتا ہے پیدا ہوتا ہو اس کےکنعد ھے پآ یت ”وَ مت 
کَلِمَة رَبیک“ مکی ہوئی اقب 
”ثم یبعٹ أیضا لە عمودا من نور من تحت 
بطدان العرش الی الأرض یری فيه أعمال الخلائق کلھا 
ثمٌ یتشعّب له عمود آخر من عند الله الٰی اُذن الامام 
کلّما احتاج الی مزید أفر غ فيه افراغًا۔“ 
( ارالا وار ت :۷ ۷ص:۳۵٣)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


چجمہ:.. جج راس کے مل ےو رکا ایک تو نعل کے بے 
سے نف کک لن کیا جا جا سے ءبجس میں دوسا ر یوق کے اعرا لکو 
وب ہے راس کے لے ایک اورستون ڈکلا سے کا ایک سر 
تھا لی کے پا اودڈ وس راس را امام کےکانع کے اس ہوتا ہے :امام 
کو ج بک مزید چ کی ضرورت جن لی ہن دہ اس ستتون کے 
ذد یی کن جائب اللہ امام کےکان ٹیل ڈال دی عالی ے_' 
اد ہ:... یآھواں ذر یی امام باقر کی صرح کے مطااقی .._ درتفیقت دہ 
ذرلیں تل ے۔ ایک ٹورک عون جس کے اندر سے اما مکوقمام بندروں کے بلتحیام 
لو کے اعمال اورا نکی تام حرکات وسکمنا ت نظ رآ کی ہیںء بن گو ما امام کے لے تو رکا 
خدالی بیکی وین ے جن سکی امس مین یہ اما مکو بور یکا تنا ت نظ ری سے۔اورڈوسراذ رجہ 
دونورالی عمود ہے جن ں کا ایک سراخحداکے پا اودڈوسرا! ام کےکانع کے پا ہوا ہسے۔ 
او ںبجھ ےک نو رکی گی فوع لن ہے مس کے ذ ریچ سد دم اما مکا اتا یل ے 
واصلاٰ راب ر بتاے۔ 
نواں ذر اج : فرشتوں ے پا شاف لا قات: 
بھی بھی فر مخت ام سے پا شاف لا قرا ت۷ر تے ہٴں اورالنع :۳ یا ل تر 
لاتے ہیں اُصو کی تاب اج ایک با بکاعنوان ہے: 
"ان الأئمَائدخل الملائکة بیوتھم وتطا 
بسطھم وتأتیھم بالأخحبار علیھم السلاو“ 
(اصیلکایٰ زم:۳۹۳۰) 
جو ےآ و ےک ون یآ وآ :ان 
کے سترو ںکوروند تے ہیں > اوران کے پا تریس لات ہیں“ 
اس جا بک ایل روامت: 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


.ا 
مک إ سیلس کی 
ہت ۸ / ت-۔ پگ 


-٤‏ محمد عن محمد بن الٰحسن عن 
محمد بن اُسلمء عن علیٗ بن أبی حمزةء عن أبی 
الحسن عليے السلام قال: سمعته یقول: مامن ملک 
یھبطلہ اللہ فی أمر مَا یھبطە ال بدا بالامامء فعرض ڈلک 
علیہ وانٌ مختلف الملالکة من عند اللہ تبارک وتعالی 
الٰی صاحب ھٰذا الأمر۔“ (ت:ا ص۳۹۳۰ روایتُٔ۴) 

تزرجہ:.. ام ابوائ نف رماتے ہی ںکہ: الد تالی جس 
فرش ےکولگ سیکا م کے ل کی ہیں دوسیر اسب سے پیل امام 
کے با ںآ جا ہے اور ا کا مکو امام کے سماتے یی ںکرستا ےء اور 
فرشنو ںکی آ و ورشت اللد تا ی کے ا سی سے' صاحب ا مکی 
مرف ہویے۔' 
ھھارالا نو ار شی ایک با بکا اع ے: 

”ان الملائکة تأتیھم وتطا فرشھم وأنھم 
یرونھم صلوات الله علیھم أُجمعین“ 

( ہیارااوار حٌ:٢١‏ ص::۵۱٤)‏ 
ترجج....'ف رشن ا کی خدمت میں حاضرہوتے ہیں٠‏ 
ان کےبمتزو ںکوروندتے ہیں اوردہاا کو دح بھی ہس _؟“ 
ا سد عا کےئموت میں ۴ روا یں چی کی ہیں۔ 
وسواں ذ ریہ :فرشتو ںکی طرف ے الہام والقاء: 
”اصولک ایک با بکا عنواان ے:”جھسات علرم الائم“ “ّى 
”آئ کوک گن ذ راع ےلم حاصل ہوتا ہے؟ “اس میس امام صادق ‏ کاارشا ئن لکیاے: 

-٣”‏ علیٰٗ بن ابراھیمء غن أبیەء عمّن حذڈّثهء 

عن المفضّل بن عمر قال: قلت لأبی الحسن عليه 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳٠۱٢٣. ۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


السلام: روینا عن أبی عبدالل عليه السلام أنه قال: ان 
علمنا غابر ومزبور ونکت فی القلوب ونقر فی 
الاسماع فقال: أمّا الغابر فما تقڈم من علمناء وَأمَا 
المزبور فما یأتیناء وأمّا الدکت فی القلوب فالھامء وأمَا 
النقر فی الأسماع فأمر الملک.“ 
(اصولکانی ١:6.‏ ص/:٢٦٢۲)‏ 

ترجھ.:..' ہمارائلم یھو دہ سے جوگز ر چکاء وہ سے جو 
کلیں ہوا سے یا وہ ہے جو دلوں میں ڈالا چاتا سے او رکا ول و 
لق مکیا جانا ہے۔' جوگزر کا“ سے مرادووللم سے جو لے حاصل 
ہو چکاء'جوککھا ہوا ے' سے مراد و ]لم ہے جج ہمارے یا سل شب و 
رو زج ے؟' جو دلوں می ڈالا جاجا ے 'اس سے مراد ال ہام ےء 
او جوکانوں میس القاءکیا جانا ےو وف رکاج رکرنا سے 
بھارالا و ار کاب الا مامت میں ایک با بکا عنو اع ے: 

”جھات علومھم علیھم السلام وما عندھم من 
الکتب وانه ینقر فی آذانھم وینکت فی قلوبھم'' 

(جیارالاوار ۲٢:٣‏ ص:۱۸) 

ا جا “اق کو کن اك ہس ےبلم حائصل ہہوتے 
ہیں؟ اوران کے پا لک نکو نک یکا ڈی ہوکی یں ۷ اود کان کے 
کالوں می سںآواز لی یں اوران کے ولوں میں علوم إلتقاء سکۓ 
جائے ہیں۔" 
اس جاب ششل تب عادت ۱۴۹ روابات ذک رک گنی ہیں ہشن میں ان مضما می نکو 

پاصرار گار و ہرایاگمیا ے۔ نیز بھاد المافوار ءکنماب جار امیرالھو سان ٹل ایک با بکا 
صمنوان ہے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۵۸۲6‎ ۷ 


”ان اللہ ناجاہء صلوات الله عليهء وان الروح 
یلقی الیهء وجبریل املاہ“ (ج:۳۹ ص:۵۱٤)‏ 
تر.:..”افلتھالی ن ےآپ سے ہنا جا" نکی روح 
لق ںآ پکو لتق مک یاکرت تھا اور تب یی ن ےآ پکو ا کرای 
یراس مدع اک۹9 ااروایات سے شاب تکیا سے _ 
گہبارہواںل ذ رلچہ: ہف تد وارضحران: 
شی روایاتٹ کے مطا نی ہرہب بے بُل اروا ا وسحراع ہوئی ے٤‏ وہ 
عمین تک جیا جاتے ہیں اود وہاں ا کو بے شمارعلوم عطا ہو تے ہیں ۔ ا صمو لکائی بیس 
ایک باب کاع نوا ے:”باب فی الأئمّة یزدادون فی لیلة الجمعة“ می ”رشب 
و عكو ئ٥‏ کےعلوم یس اضافہہوتا ہے 'اوداس کے یل میس امام صا دق ےا لکیاے: 
”7- حدثشی اأحمد بن ادریس القمّی ورمحمد 
بن یحیلیء عن الحسن بن علیٗ الکوفی عن موسی بن 
سعدانء عن عبداللہ بن ایب عن أبی یحیی الصتعانیٔء 
عن أبی عبداللہ عليه السلام قال: قال لی: یا ابا یحیی! 
ان لٹا فی لیالی الجمعة لشَاَنا من الشانء قال: قلت: 
جعلت فداک وما ذاک الشأن؟ قال: یؤذن لأراوح 
الأنبیاء الموتی علیھم السلام وأرواح الأوصیاء الموتی 
وروح الوصیٗ الذی بین ظھرائیکم یعرج بھا الی 
السماء حتی توافی عرش ربّھاء فتطرف بە اسبوعًا 
وتصلّی عند کل قائمة من قوائم العرش رکعتین ثمٌ ترد 
الی الأبدان اَی کانت فیھا فتصبح الأنبیاء والأوصیاء قد 
ملؤا سرورًا ویصبح الوصیٗالّذی بین ظھرانیکم وقد زید 
فی علمه مٹل جم الغفیر.“ (أعصول) نی رع:ا ص:۵۸۲۰۵۳٤)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610٥۲١۷۳۳۱۱٢٣۹ .۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


تر چجمہ:..: ہمارے لے بج دکی دانوں میں ایک شی شان 

ہوئی سے۔ میں ن ےکہا: می لآپ بپفدا ہو جا کول ود وکیا شا نع ے؟ 

فرمایازوفات مات اخیا مہم السلا مکی اروا اوراسی رح فو تشد ہ 

وضو کی ر وو ںکواوراس زند ہی کی رو حکوہ ہو ہارے درمیاان 

موجور ہو ے اجازت دگی جال ی ہے ال نکوآ سا نکی رف ا ٹھایا 

بات ےه یہا ںت ککردوس ب عرش الیک ک٥‏ جائی ہیں٠‏ دا نل 

کر عرش کا سمات دفعہطوا فک کیا ہیں ٠‏ گر ٹیا کے ہر ہائۓے 

2 او دو راحت نماز سا ہیں پچ ران سب زرُوتو ںگوان ۵ 

نسوں میس لوٹادیا جا تا ہے :جن می دہ ییحی بر قمام نی اور 

ڈیا اس حاات می کر تے می ںکمسیت سے لہ رز ہہوتے ہیں 

دو ڈی جار درماان ہے اکس حا یئ کرتابےک اس 

کےعلم میں مل جرف رک اضافہ ہوجا ہے 

بھارالانوا ر یشیش ای مو نکاعنوان ے :”باب انھم یزدادون ..... وان 
أرواحھم تعرج الی السماء فی لیلة الجمعة“ اوراس مرعا ےنوت مم ںصب 
ارت لا ردنا تا کی ن۔ 
پاارہہوالں ذر لج :شب لد ریجیل نال ہہ نے وا یکساب: 

شیع قیرے کے مطا بآ تمہ بہ ہرس لکی شب فھ ریس ال دتھا لی اط نے 
اف ناب :ازل ہوٹی ےجس سکفر مت اور ”روح“ نےکر تے ہیں ء چنا خی اصو لکائی ء 
کاب ایل ایک با بکاعنوانع ہے : 

”باب فی شأن انا انزلناہ فی لیلة القدر وتفسیرھا“ 
اس باب ش امام اق سے رواى تا لکی ے: 
”ے- وعن أبی جعفر عليه السلام قال: لقد 
خلق اللہ جل ذکرہ لیلة القدر أوٗل ما خلق الدنیا ولقد 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


9 


٦ 


خلق فیھا أوّل نی یکون: وأوّل وصیٗ یکون: ولقد 
قضی ان یکون فی کل سنة لیلة یھبط فیھا بتفسیر 
الأمور الی مثٹلھا من السّنة المقبلة.“ (اأصول۷ نی ۶ص:۲۵۰) 

تر جمہ:.. امام اف رف ماتے ہی ںکیہ اد تھا لی نے لیلد 
القدرکو پیر اکیاء سب سے لہ جب ڈنیا گی ءاوداس شل سب 
سے پہلا ا اورسب سے پہلا یی پیداکیاء اود بش بی فیملہ 
چا ےکلہ ہرسمال نشی ایک ای رات ہموئنس می ا ن تام احکام 
ایر ناز لک جاۓ جآ نحدوسما لگا اس دا ت تک چی٦‏ نے 
واےگں۔" 


اوراصو لکائی بکتتاب التحیدہ' ہاب البداء یش اما تتفرصادقی“ ےروایعت 


”انوں ن ےق رآ نکی مک یآ یت شریفہ ”موا الما 
غاع یب وَعذۂ عم الیكعب“ کافی رم فرمایاک دی چز 
مٹائی انی ہے جو پیل بت ہوادردیی ٹاہ تکی عالی ہے جو چیہ 
وو (اصولکانی .حا ض:۴٢۱‏ روای ٹگ٢)‏ 


ولا شی ل قزوبتی/صائی شر کاٹ یس اس عد یٹ کے ذ یل می لککھت ہیں: 


”منجراۓ ہرسا لکتاب مبعدہ است را دکمابیست لہ 

درا لغ را کا واد ثکثتان الیہ امام است تا سمال دگارء نازل 

وٹ ہا ں کرابت اللہ ورُوںً درشب در بھ امام ز مان ء الله تال 

ان لیکن ہا لکنا بآ ےہ راک تواہد از اح قاودات امام خلالتی و 
ابا ت ئ یکنددد وآ نچ یی خواہراڑ ا ختقادات '' 

(سائن ترۓ‌ کال ت٣‏ ك:ے٢٢)‏ 

وھ ا کر ھا ہے انس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹ .۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


ےھ رادد ہ کاب سے مس ان جواد ٹک فی رہوٹی 2/) 
عاججت اما مکوڈوسرےسا تک ےا سکتا بکو نےکرفرشت اور 
رو شب فرش امام ز مان پہ نازل ہودتے ہیں ء اش تتحالی ا 
کتاب کےذر بیج سے امام خلا کے بن اعخنشادا تکو جا ہتا ے 
ا لک رونا سے اور مین اخنقادا کو جا رتا ہے ال ماپ میں تام 
رتا کپ 


یر واں ڈر لج: تک موم : 


ا 


نیلم نوم می س بھی کل دا رک جھے اورستارو ںکی تا 06 لت 
رو ضکا پیش الوفب راڈ روا ےءرواجتٹ ےک ہ اما صادی کے٤‏ ما ا: 


-٥٣‏ عدَة من أصحابناء عن سھل بن زیادء 
عن اللحسن بن علی بن عثمان قال: حدڈثنی أبو عبداللہ 
المدائنیٗء عن أبی عبداللہ عليه السلام قال: ان الله عرٌ 
وجلٌ خلق نجمًا فی الفلک السابع فخلقه من ماء بارد 
وسائر النجوم الستة الجاریات من ماء حار وھو نجم 
الأنبیاء والأوصیاء وھو نجم أمیر الم ؤمنین عليه السلام 
یمر بالخروج من الُنیا والھد فیھا ویأمر بافتراش 
العراب وتوسّد اللبن ولباس الخشن وأکل الجشب وما 
خلق الل نَجمًّا أقرب الی الل تعالی منه.“ 

. (روفکائ ۸:6 گگ:ے۲۵) 

تڑ:..' انلرنے ال اٹم یریک نار را کیا نۓ؛ 
اس ستارےکوٹشرے پا لی سے پی کیا ے٤‏ اوراس کے سوا اور چو تر 
ستارے ہاقی جھآسافوں کے ہیں ء ا نکوگرم بالی سے پیر کیا تی 


اور وی ھیڑے ا ی کا سارہ اٹیاء اور اوصا ءکا سارہ ے اور وی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


می الم نیشن علیہ السطا ما متاارہ سے عح مک را ہے نیا ےئل جانے 
اور ا لکوکچھوڑ د ہی ےکا ء اوح مک رتا اک پرسونے اور اٹول سے 
نکی بنانے اورموٹا کپٹرا نے اور بدمزہ طحا مکھا ن ےکاءاو ری پیر کیا 
ہے اید ےکوکی متتارہ جوا ستارے سے یادہ الیکا مقرب ہو 
أئنہستارو ںکی سعادت اورنحوست کے بھی تقائل تھے ھ بن جحمران ایئے والد 
سےدواحی تک تے ہی ںکہ امام صا دی کے رمایا: 

”من سافر أو تزوٌّج والقمر فی العقرب لم یر 
ال (ریش٤ال‏ رع:۸ :۲۵) 

رجویشن نف کیا ئک کر رض وت جس کہ 
مقر 3 رعقرب “ہو رہ علائ دہ گ ےگا 
مہ سے بیجھیمنقول ‏ ےکی نجو کا ما ہرایگ نادان نو ہندوستان ٹل ے اور 

ایک غرب می ٢‏ چنا می رو یکائی “یں مکی ب تاس سے مدکی ے: 

ھے ۵۰- محمد بن یحیٔیٰءعن سلمة بن 
الخطاب,؛ وعدّة من أصحابناء عن سھل بن زیاد جمیھَاء 
عن علیٗ بن حسّان عن علیٗ بن عطیّة الزیاتء عن 
معلّی بن خنیس قال: سألت أبا عبداللہ عليه السلام عن 
المجنوم َعقسی؟انشال: دعماق ال عزوجل یٹ 
المشتری الی الأرض فی صورة رجل فأخذ رجَلا من 
العجم فعلّمه النجوم حتی ظِنْ أنه قد بلغ ثمٌ قال لە: انظر 
أین المشتری؟ فقال: ما أراہ فی الفلک وما اأدری أین 
هوء قال: فناہ وأمخذ بید رجل من الھند فعلمه حتی 
فی نہ قد بلغ وقال: انظر الی المشتری این ھوء فقال: 
ان حسابی لیدل علی أُنک انت المشعری؛ قال: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳٠٥٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


جا ا ہت ہت ہہ کات 
وشھق شھقه فمات وورث علمۂ أھلہ فالعلم ھناک“ 
(رو انی ع:۸ ص:٣۳)‏ 
ترجمہ:..؟! میں نے ا ما تطرصاوق علیہ السلام سے کی بچھا 
کہ بجوم من ہے؟ انمہوں ن ےکہا: ہا ں جن ہے الد نے مشترىی 
ستار ےوآ وٹ یکی صورت بناکرز ین ریچ تھا اس ن جم کےایک 
سکوشاگرر نایا اورا ںکونجو مسکھاباء جب شت رک یکو بکمائن ہو اہ 
یش نوم سیک ےک ہکائل وکیا ق ای سے پ چھاکہ: بت مشت زی یکہاں 
ہے؟ 2اس ن ےک اکہ: میس ا کو سمان میں د بکھتا اور بین کیل 
جا ضا کرد ہکہاں ہے؟ امام نے فر ما کہ : یک کر شت کی نے ام ںکو 
چراگردیا اور ہن کےا یکن کا تجح پکڑاا ودرا ںکونجو مکھایا نی 
مشترکی نے جا نل یاککردائ ںان بی سککائل ہوگیا اس سے پچ ھاکہ: 
مشتزی یکو دج ےکراس وق تکہاں ہے؟ ائس ن ےکہاکہ: مرا ساب یہ 
اتا ےک نو مشمتری سے بی نک رمشتزکی نے ای ککعرہ مارا اور 
مرکیا۔ اس کے بعد اس ہندکی نے بس نےملم سی لیا تھاء اپنے 
ادا نکوال لعل مکاوارت بنادیاء بی یٹم اسی ملک شی کات 
اس کے بعدا کاب میں اما متخ رصاد علیہ الام سے ایک و وسریی روامت 
ھ ' 
من - عسداللہ عليه السلام قال: سٹل عن 
النجوم قال: ما یعلمھا ال اُھل بیت من العرب وأھل 
بہت من الْهَتَد“ (روضیکای رع:۸ ص۳۳۶۷۰) 
ترج:..! !ما كت رصا دق علیرالسلام سے منقول ےک 
ا سےککی نے جو مکی تفیقت ھی فو انمہوں نے فرما کہ جو کو 
کوٹ ی یل جا تا ہرایگ نا نلدا ن عمر بکا او راایک نادان ہت رکا _ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٢١٣ .۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


موا نااخمشامالد بین مرادآ بادکی ”نصیحة الشیعة می لکھت إں: 
”امام نے جو ہیف رما اک ہک مکا جات دالا ایک ناندان 
عرب میں سے اورایک نما نداان ہنم لو عحرب کے نا دانع سےپو 
ننہوں نے اپنا ما مدان عرادلیاء اور ہتد یل بیڑل کا خاندان جلّش 
میس مشہور ےب شمتریی فقط ایک ہندک کوک ھا گیا تھاء شا عرب یں 
تی طط رب ہند سے رن پیا ہؤگا۔' ضف قرب کی نوس تک بھی 
امام نے تر فمادبی :اس سےمعلوم ہوا ا کا خو اس نجوم برکھی 
مل تھا وذ پا ھتہا۔“ 
علا میا نے بحار الافو ار ءکماب جا رر امی رالموشنین کے باب۹۳ یش بی 
تفصیل کے ساتھ بتایا ےک 
”امرالھ نین علیہ السلام قرام علوم ملا قراء ت ,فی 
فقہ:ف ا٠ء‏ روایت کلام ہجو خطابہت بشعترہ وط فلسذہہ ہندر ےبلم 
یم ء ماب کیسیااورطب میں سما ری و ناک امام تے_' 
( کے رع:٥‏ ضص:١۱۵٥٦٤)‏ 
تیم نو مکی بدوات سعدوشس اوقا تکوڑھی جا ے اور دنو کی حوست کے 
بھی توائل تہ چناغجہ ہرمیہ کےآخریی بد ےکو ور مان نویل جات تہ علا تی 
”یا القلوب ' جلداڈل کے باب دو منص لچم می سککتت ہیں: 
”ہہ سندمتجر امام رض سے منقول ےک ایک مردشائی 
2 ضر تا می الم ا ےل٭ولغدا”یَوْم ِفر الْمَرَهُمِنْ اَخيه“ 
زسورس :۳۴ )کی یس روز مرد اپنے بھاٹی سے بھا گ ےگا کے 
ارےشل دد یا ف تکیاک_ردہکونع ہے؟ فر ما اکہ: قابیل سے جواہے 
بعائی اتیل سے بھا گگا۔ پچ روز چہارشتہکی نحوست کے ا 
ٹس در یاف تکیاءفرمایاکہ: دہآخ ما ہکا چہارشر ے جوکت شعاع 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹ ۰۷۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


میں وائح ہو ے ای روزفابیل نے پائز لا لکیا۔' 
(أروو ڑج 'ےاراے القلی'ب'' رج:١‏ ضص:١١۳٢)‏ 
خلا یئ فارالاٹواز” ساب السماء والعالمء ابواب الأزمنة 
وآنواعھا وسعادتھا ونحوستھا“' یش بڑئینشأعحل سے بتایا ےک ہآ کے دیک سال 
ےس مین کون سان اورکو نک یکن یی سعداورسس ہوٹی ہے؟ ای مس ہرمیینے ک ےآ خی 
بد ہک ینحوست حفرت امیر الھ و منع ے بر فص لاف لکی سے (ج:۵۷ ہی سا 
لھا ےکہ ڈو اج ہکی ۳۷ ار ڑگ مبارک سے اس میں روزہ رک ےکا ڑا ناب سے 
نلاس دن تحضر تک رریی اع ایک موی کے دست جا سے شمبید ہو ۓ ھے: 
”ومن ذلک أنْ ابن ادریس - رہ - فی سرائرہ 
بعد ذکر فضیلة أیّام ذی الحجّة وما وقع فیھا قال: ورفی 
الیىوم الس34ادس والعشرین منە سنة ٹلاٹ وعشرین من 
الجرة طعن عمر بن الخطاب, فینبغی للانسان ان 
یصوم ھذہ الأَیٔامء فان فیھا فضلا کثیرٗا وٹوابٔا جزیَٰلا.“ 
( ہارالاوار :۵۵ ۷ص۰۲:۰٣)‏ 
ترجمہ:..: او رع بحملراس کے امن اددپس نے ا 
کتاب ”تس رائز میس ڈواحیہ کے ایا مکی فضیلت اود الس ما کے 
واقثا کو وک رکرنے کے بح دککھا ےکلہ ۲۷۴م ڈوائجبہ ۲۳م کو 
(حظخرت )عم بن خطاب (رشی ایڈرعنہ ) زنگی ہو ئے ء بی ںآ دی یکو 
جیا تن ےکالن دلو ںکاروز +ر کے مکیوکہ ان یس بی فضیلت اور ڑا 
اواب سے 
زے سعاد تک رحطرت فاروقی انعلم رشی اود ح کو شہادت کے لے اییا 
ا کت د ننعیہب ہوا...! 
مات مل سے ےک ہآ تح ٹوسبوں کے ہیں اوز وو نکی مات وحوضرٹف 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


و مم تہ نے ہویوں 
کے فور کے بے فان مان جزنائے۔ (جیارالاتوار رع:۵۷ ۹۳۴:۰۴) 

مہ کے ان خیرت انکی زم یکمالات اوران کے وی علم کے ذ راع رو ری ؛ 
جن نکاخلاصہأو یر فک رکیاگیاے؛او بی ر ا نصاف می ےکآپ کےا یت الڈ شر جوادمق کا ے 
اک أئ یک عق رن دسن تک ک رووا :اود یکین کےعلوم یی ہی تھے کیا ۔ 
ئ٥‏ کےےت میں شی بل متا یس ؟ جناب مفخفہ صا حب نے بیجھ نال سوچ اکہ با دہ بس 
مامت جار ای سا لکی عمرمیل'”لواز مات !مامت کے ساجھڑواپٹل ہوگئے جےءانہوں 
ن کاب وسشت ک ےل مکا لصا بس س ےکی تھ..؟ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


آ تا بک ریف مات ہیں: 
“ہار کب عتقا تد میں ”ناما“ کی جوْھریف سے وہ 

”ناب نی کیاحثیت میس ہے طا ہر ےکنا ب منوب عد سے 

فروت ہوتاےء کما لا یخفی علی أھل العلمٗ 

اکی کے اخد جتاب نے علام زان گی ''کفایۃ ا'وح زگی', روز پہا نکی ؛'ئ م 
لیب“ عی برای کی''منار الدیی“ درخ عی کے رسانے' ”ار سے امام تکی 
تھریف لک کے ریف ایاے: 

”خرضیک ہعتم دی چھئ یکچھ یکنا ہیں ق یم د جدیدموجود 

ہیں :ان یل ماع “کوتا حیپ سولج یکہایاے۔" 

آ نا ب کا ارخاو سآ انکھوں برک یآپ کے عمقائد کت ہوں میں ایام آووو 
یک امیا ے٤‏ اور یھی تق ل لی رکا وی یر ےگ اف توب حر فرظ مو 
ےلین ا لکاکیاعلا کہ اما می شف لسلیعم کےٹلی الم انا کرام عم السا برا کی 
یلین کالب رو ر اق طرتیخر زرل پیا ردایات کے مقا بے مس 
شر خدااوررو لکی مات ہیں ء نتف لکی ضننے ہیں ۔ ان کےمو رٹ ملعم جناب با کسی نے 
رف گی کی صادافرمادیاکہ: 

”مامت بالات ازڑ مجر است' 
(حاکاقلیب ج٣‏ ص:۱۰) 


...ماع ت کا درجر وت ے پالارے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١ ۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


اور بھارالا نوا ءکماب الا مامت کے ایک با بکا عنواع ے: 
”تفضیلھم علیھم السلام علی الأنبیاء وعلی 
جمیع الخلق وأخذ میثقاھم عنھم وعن الملائکة وعن 
سائر الخلق وان اولی العزم انما صاروا اولی العزم 
بحبھم صلوات اللہ علیھم“ (جارالاٹوار رع:٢۲‏ (ص:ے٢۲)‏ 


سے ال ہیں۔ ۴..أئمہ کے بارے میں اخیا ۓےکرامم سے 
مطائکہ سے اورسا رک ینوی سےعپع لیا گیا- ۳.. .ول وا زم انا 
کرام صعرف اہ کے سا تح محبت رن ےکی وچ ے أُواوالزم ہگ 
08308۳32 


اس باب مل دوایا تکا ڈ عیب لگا نے کے بعر تام دصدروی' کے جوا نے سے 


”عد: یجب أن یعتقد أنٌ الله عرٌ وجل لم یخلق 
خَلفًا أفضل من محمد صلی اللہ عليه وآله وسلم 
والأئِمّة علیھم السلامء وأنھم اأحبّ الخلق الی اللہ عرٌ 
وجل واکرمھم وأوٌلھم اقرارًا بے لما أمخذ الله میٹاق 
النبیّیِن فی الذُرء وأنٌ اللہ تعالی أعطی کل نبیٌ علٰی قدر 
معرفتۂ بنبیّنا صلی اللہ عليه وآلە وسلم وسبقه الی 
الاقرار بەء وبعتقد أنٌ اللہ تعالی خلق جمیع ما خلق لە 
ولأھل بیته علیھم السلامء وأنه لولا ھم ما خلق السٌّماء 
ولا الأرض ولا الجنة ولا الشار ولا آدم ولا حوٌّاء ولا 
الملائکة ولا شینامِمًا خلق, صلوات الله علیھم 
آ و 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6۴ ۷ 


تاکید وتابید: اعلم أن ما ذکرہ رحمۂ ال من 
فضل نِیّتا وأَِمّعنا صلوات ال علیھم علٰی جمیع 
المخلوقات وکن أَنمّتنا علیھم السلام أفضل من سائر 
الأنبیاءء هو الّذی لا یرتاب فیه من تتبّع اأخبارھم علیھم 
السلام علی وجہ الاذعان والیقینء والأحبار فی الک 
اکٹر من أن تحصی, والما أوردنا فی ھٰذا الباب قلیٰا 
منھاء رھی متفرّقة فی الأبواب لا سیّما باب صفات 
الأنبیاء واصنافھم علیھم السلامء وباب أنھم علیھم 
السلام کلمة اللہ وباب بدو أنوارھم وباب أنھم أعلم 
من الأنبیاءء وأبواب فضائل أمیر المؤمنین وفاطمة 
صدوات اللہ علیھماء وعليه عمدۃ الامامیّةء ولا یأبی 
ڈلک ال جاھل بالأخحبار. 

قال الشیخ مفید رحمے اللہ فی کتصاب 
المقالات: قد قطع قوم من أُھل الامامة بفضل الأئمّة من 
آل محمد علیھم السلام علٰی سائر من تدم من الرسل 
والأئبیاء سوی نبیٗنا محمد صلی اللہ عليه وآله وسلم 
وأرجب فریق منھم لھم الفضل علی جمیع الأنبیاء 
سوی أُولی العزم منھم علیھم السلام وأبی القولین فریق 
منھم آخر وقطعرا بفضل الأنبیاء کلھم علٰی سائر الأمَة 
علیھم السلام. 

وھٰذا باب لیس للعقول فی ایجابه والمنع منه 
مجالء ولا علی أحد الأقوال اجماع وقد جاءت آثار 
عن البی صلی اللہ عليه وآله وسلم فی أمیر المؤٴمنین 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


عليه السلام وذرّیّته من الأئمَة علیھم السلام والأخبار 
عن الِأئِمّة الصادقین علیھم السلام أیضا من بعد وفی 
القرآن مواضع تقوی العزم علی ما قاله الفریق الأوٴل فی 
ھٰذا المعئی, وأنا ناظر فیه وبالل اأعتصم من الضلال 
انتھی.“ (ہیارااوار رع:٢۲‏ گض:ن۲۹ روایے:۳٦)‏ 
ترج:..! یکقید: ازم ےکہ ابد عز وگل 28 
علیہ ول وملم اورآ ہم السلام سے اض لکوت ی لوق یں 
:21 2 ات اڈ مز وہل کے بال سب سے ز با د یوب وم ز 
ین او زعبن لمت شف نی خظرات الین اتا کے :و لے 
تے۔ ایٹددتھالی نے ہن یکوج بیجوعطاکیادہ ای فک رط ایا جھس فرر 
ا سک جا رے نی مکی اش علیہ لہ یلم کی مرفت حاصصل ہوکی اور 
بس فقد راس ن ےآ پک اقرارکر ن ےکی رف سوق تکیا۔ اور سے 
بخنقاوجھی لا زم ےک ال تھالی نے جم لوق کو نی صلی اللہ علیہ 
لہ یلم اورآپ کے ابلی بی ت شیہم السلام کے سب سے پیر اکیا۔ 
اور ےک اگر ری تعظرات نہ ہوتے و نہآسمالن وز می نکا وجود ہوتاء شہ 
جنت ودوزغ کاء نآ دم جوا کا اور نفرشتو ںکاء لہ اللدقا سی 
بھی کو پیرانیفرماتا۔ 

تفر مزی...بمعلوم ہواکرصدوق نے جو ذک کیا ےکلہ 
ہا رے بی اور صصلوات اڈ تما ممقلوقات پر فضیلت رک ہیں 
اور کیم السلامءقام انمیاء سے الضل میں ء مایا خقید سے 
کہاذعائن و لقن کے سا تق اشبا کات کر نے وا اکوئیبھ ینس اس 
یں چک وش کا شکارکییں ہ سک ٤ا‏ وراس با رے مل روایا تخارے 
اہرڈیں۔ اس باب میں نے ہم تن ےکھوٹڑ کیاکی روایات ةک کی ہیں ہ بای 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


و رواب یں مرکور ہیں ۔ نماع لطور ”بساب صفات الأنبیاء 


وأصنافھم علیھم السلام“ء ”باب انھم علیھم السلام کلمة 
اللهء باب بدء أنوارھم“ء ”باب اٹھم أعلم من الأنبیاء“ء 
”ابواب فضائل أمیر المؤمنین وفاطمة صلوة الله علیھما“ 
زمرہ یں ای خنقیدے پر ماع کے مہ بک نیادرےء اورکوئی 
تن ازس ےکا دن ا س تن کے چو دض ین 
جال ہو۔ 

جن مفیدہکتیاب القالات می کھت ہ کہ 

(اتظایت أئ ٹیش امامیہ کے جی نگمردہ ہہ یئ ) ایک 
لور رح درا ےک آ یھ میں سے ا یم السلام 
ہمارے نی صلی اش علیہ لہ ےمم کے سواگزشہقام انمیاء و سل 
سے ال ہیں ۔ ایک فی کے نویک اولوالمزم انیاء کےعطاد وباق 
تام انما ہم السلام سے انل ہیں اور امامیہ ٹیش سے ای کگمروہ 
ان دولّول پالو ںکا انارک کے تمام اخمیا کی خھام اَم برفضیل ت کا 
ذائل ہوگیا۔ 

ایک الییامحالہ ےکہاس کے ا رار وا ثکار می ںعضش لکا 
کیہ یی انا دع تن ) اقوال ین ہن ےکی ایک 7 
اع مضعقرکہیں ہو کاء البتہ امیرالھوسنشن او رآ پکی اولاد ٹش 
ہونے وا نے یلیم السلا مکی فضیلت میس نی صکی ال علیہ وآ لم 
کے فرمودات اور بد یں تمہ صا وش نشین ہم السلا مکی مرویات اور 
شرآن کے ارشادات اس سے یس فرش انل کے قو لکی ا عیر و 
نی تکرتے ہیںء اور ٹیش اس می ںورک رر ما ہوںء ایڈد بج ےگمرای 


'قاد ای 
سے ہیا ففطظط۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١ ۱۷۳۳٠٢٥٢٣۹.۸۷۵۸۲ ۷ 


ود خاش کب سے پا ے شع رٹنا آ یت انا فی جطا زد ال لق 
اتی کناب”الحکومة الاسلامیة“ ہل ”الو لایة التکویغیۃ' کے زیر نوا ن لکیتت ہیں: 

”وان من ضروریات مذھبنا ان لأْئمّتنا مقامًا لا 

یبلغه ملک مقرّب ولا نبی مرسل.“ 

(الکوہ الاسلامے. كص:۵۳) 
زج ےگقوو وارے وج پکی صردریات میں 

و خی کہ ہمارےا کو دہ متقام وم رتبعا مم سے نول نر 

تین فرشم وہاںک کک سکنا ے اور تی نیم لک دہا لک 

رسای انکتی سے“ 

8 صدول+ تن مفیدہ علا گی اود اما مجیٹ کی ان نر جا تکو چم عہرت 
ماحظف رما ےک شدعہ رہب کے میا کا برو ای٣‏ نآ ناب کے ذکرکردہاصول ‏ تن نومام 
ناب گی تا ہے اور ظا ہر ےکہ ناب موب عنہ سے در ہے میں فروتر ہہوتا ےک یکیی 
مئی پلی رک رس ہیں؟ دہ اہۓ ا کوتمام اخمیا کرام سے بالات جکھتے ہیں او ا مکی 
ردالیات کے مقا یی سآ پک ینف لک بات ضنے کے لے تیا ...ا 
شع نہب کے نالیاش عق مداورحخرات خلغا ۓ را شید بک یک۷ رامت: 

واقعہ بہ ےک شبعہ رہب نے ححقرات أ کی هن وسزائ شسکی تصید: خالی 
رات خلا ۓ داش بن اور ا کابرسما ...شی نشم انتین..ک خی وت زی لکی غوض 
سے رو ںکیاعی ؛کو با ا ںقصید:خوائی کا شا ”بی “نی ”لف موا وی تھا ین 
مات خلا ۓ رانشد بی اور اش ائل ببی تک یکراممت د بت ھک با کی با زگیاء امش بایا 
”م بای“ کے مصداقی شیعہ رہب نے ال قصید خوالی می ایی غلوکی کہا یمان پالانخیاءان 
کے اھ سے جا مار باءائل لق سے انھیا ۓکراع شیہم السا مکی رہ فو وین وق ز مآ کی اور 
اس ڑاگ رفرق مراحب زکفی ذ نیقی“ کا مضمون صاد قآیا۔ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


قے لسر تسد کسی کک کی مز یدشر وی ليکی 
رت یں رو خائی ہکن متاحب ببوگا ازع کے موی راد ے' یس بھنگ کا زظارہ 
کرنے کے لئے لور نموشہ چقدا کی ال اش ددایات ڈگ رگی جا یں نج نکوشی زوا صقان 
نے خو دی فک کے اع طا ہ رین کے نام لگادیا سے اورصدر وق ء مفیداورگشی جیسے صناد ید 
شمیعرنے جن پراپنے مندرجہ بالاعقا من دکائ می رکیاے۔ 
سال : انان ۓےگرامم سے انل ہیں 

انل جات ہہ سک ازسالی مراتب بیس سب سے بلند و پالا رہ رسالت و 
کا ےء او ریا ۓےکرا نم ابا فور اشانی یس سب سے ال ول ہیں:لفف 
وعنابیت اورقرب لی کے جو راب عالیہ ان تخب را کو حاصصل ہیں ءکوگی وسراان یں 
ٹیا ۓکرا ممیہم السلا مکا ہس نین ہہ وسکاء چہ جات الفل ہہو لیکن امام یکا خقیدہ ویر 
گر چا ےلان ٤ز‏ کیک اص٠‏ :ایا ۓگ رامع ہم السلام ےانل ہیں ءا س ملس میس 
جو بتک ردایات انہوں نے تی کی ہیں ە ان یس سے چند ملا نظ غ رما چئے: 

الف:... ”محمد بن علیٗ بن الشاء عن أبی حامد عن 

أحمد بن خالد الخالدی عن محمد بن أحمد بن صالح 

الحمیسمیٔ عن أبیه عن محمد بن حاتم القطان عن حمّاد 

بن عمرو عن جعفر بن محمد عن أبیە عن جذّہ عن علیٗ 

بن أبی طالب علیھم السلام عن النبیٗ صلی الله علیه 

وآله وسلم أنه قال فی وصیّة لە: یا علیٌ! ان اللہ عرّ وجل 

أشرف علی الدُنیا فاختارنی منھا علٰی رجال العالمینء 

ثُمٌ اطلع الثائیة فاختارک علٰی رجال العالمین بعدیء 

ثُمْ اطلع الشالئة فاختار الأئمة من ولاک علی رجال 

العالمین بعدک؛: و وت سر م بش کات 


۱۷۷۷۷۷۷ .ٌ50610۲١۷۳۳٠۱۱٢١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


نساء العالمین.“ 1ے ھفاق نات ۰ (ہیارالاٹوار رع:٢۲‏ گ٠:٠۰[ے٤٢)‏ 
ترج:..” اما تتفرصادق“ اپ واللد کے واسلے سے 
ایج دادا سے روا بی تکر ‏ ے ہی سک ہی مکی اللہ علیہ وآلہ ٥‏ 0 
مت لی علیہ السلا مکو وی ت کر تے ہو ف رما الکیہ: اس ےم !الد 
عمز ول نے نر و زین پرنگاہ دوڑائی تو اس میں نما مکا جات 
کے انساثوں ٹیس جن لمیاء پچلردوبارہ نگاہ ددڑ ای تو میرے بح تام 
کات کے انسانوں یں سے جےمتق بک رلیاء پچ ریسری مرتبہلگاہ 
دوڑائی تو تیرے بعد کی اواد یش سے أتکونھام ججہانوں کے 
انانوں میس سے مق بکرلیاہ پھر چڑی رحب شگاہ دوڑائی ت تام 
چہاوں یاغورنوںش ہے ذا ل وج نلیا ۔ “ 
ب:... ”مناقب محمد بن أحمد بن شاذان القمیٔ عن 
بی معاویة عن الأعمش عن أبی وائل عن عبداللہ قال: 
قال رسول اللہ صلی الل عليه وآله وسلم: قال قال لی 
جبرئیل عليه السلام: یا محمد! علی خیر البشر من أبی 
فقد کفر.“ (ھارالاوار رع:٢۲‏ ص:۳۰۷) 
تڑجھہ:..” منا تق نی ٹل گپرالیّر ے روایہٹ کک 
رسول ا٥ل‏ او علیہ دآلہ سم نے فرمااکہ: مجھے ج مل علیہ السلام 
نے تایا ےک : ا ےھ اعلی خی رالیش ہیں :ہنس نے ا سکااڈکارکیادہ 
ہے 
ت:... ”وباسادہ عن الرضا عن آبائه علیھم السلام 
قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليه وآله وسلم لعلیٗ بن 
أبی طالب عليه السلام: یا علی! انت خیر البشر لا 
یشک فیه الا کافر.“ (اییناً) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٥٢٥. ۸۷۵۸۲0 ۷ 


تر جمہ:.. امام رضا کی اپ ےآ ہا ہم السلام سے رواایت 


ہے 7 س7 ال علیہ وآلہ وم نے یھی ین ای طالب علیہ 
ال لام سےفرمایا: اےلی ! آپ ترالیشر ہیں اس می سکا خر کے سوا 
کوئی شک کی سک رکا“ 
ر۔۔ ”وعن انس عن عائشة قال: سمعت رسول اللہ 
صلی اللہ عليه و آله وسلم یقول: علیٌ بن أبی طالب خیر 
البشرء من ابی فقد کفر.“ (این]) 
تڑچی:. ” حر الن تٹرت تا کن در رہ رش اللہ 
عنہا روا ت گر تے ہی ںکہ :می نے رسول اللہ می ا دعلی دآلہ 
ولک بیفرماتے ہوئے ماک علی من الی طالب خی الیشرے ینس 
نے اس سے انکارکیادہکاف رہوگیا۔“ 
:.۔ ”ومَنەنقََلامن الکتاب المذ کور بحذدف 
الاستاد عن أمیر المؤمنین عليه السلام قال رسول اللہ 
صلی اللہ علیہ و آله وسلم: انا سیّد الأوّلین والآخرینء 
وأنت یا علیٗ سیّد الخلائق بعدی, اولنا کآخرنا وآخرنا 
کاو لنا.“ ( یارالانوار رج:٢۲‏ ص:٣۳۷)‏ 
ترچھ:..' ام رالھ وشن علیہ السلام سے رداعت ے ےکم 
رسول اوڈصصکی ال علیہ وآلہ وعلم نے فر مایا: یش اشن و خی ن کا 
ردارہوں ء اورمیرے بعد اےیلی ات ہی سی رای ےء جم را ہلا 
ہار ے پیج هکی ما نر ہے ء اور ہما راپکھلا ہمارے بی کی ماضندر سے 
ز:.۔ ”ومنه نقسلامن کتاب الحسن بن کبش عن 
بی ذرٌّ رضران الله عليه قال: نظر النبی صلی الله عليه 
وآله الی علی عليه السلام فقال: ھٰذا خیر الأوٌلین ویر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۷۳۳٥۱٢١٣ ۹.۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


لآخحرین من أھل السّماوات وأھل الارضین ھذا سیّد 
الصدّیقین وسیّد الوصیّین الخبر.“ 
ترج:..: اروزڑ رفصوان اش علیہ سے دوایت ےگ بی 
یی صلی اش علیہ وآ لہ نے ححضرتل کی ط رفظ ا ٹھاکی ادرف مایا 
ت؟نپائیں از زخیٹغوں کے اون اج زی لان سب تن 
ال اور یتما صد لین اوراوصیاء کےمردار ہیں س 
:... ”ومنە قال: روی عن الصادق عليه السلام أنە 
قال: علمنا واحد وفضلنا واحد ونحن شبء واحد.“ 
( یارالاتوار رخ:٢٤‏ ضص:۱۳۱۹٤ا۳)‏ 
ترج.:.. !ما متفرصادقی “سے دودایت ےفرمایا: ہمارا 
(لجتی نی صلی اللہ علیہ ویلم اور ات کا )عم کلساں سے اور ہعارکی 
ففضیلت ایک ےء اور( درتجیقت ) یم ایک کی جھ ہیں 
ڈو اخ : :ایا ۓگرا مم ہم السلام سے یاد یلم رت ہیں: 
شی یکا بیتقیدہأو بر بہت افحیل ےکر کا ےل مان ک٤‏ فند کیک ایا نے 
کرا مکا عم اَم کیعکم سے ود نسدت درکتا سے جوقطرےکوور یا سے او دقن ےکوسح را سے 
ہولی ے۔اس ہاب یں اا نک یتصنی فکردہروایات جوأئ کی طرف سو بک کئی لاصو 
شماد سے پاہرہیں۔ یجن مس سے چند ردابات أُو یرگ رچگی ہیں۔ یہاں علامہ با رحاس کی 
بھارالانوارءکَاپ الا مامت ”باب انھم أعلم من الأنبیاء علیھم السلام“ ( ٣يا‏ 
امیا ۓکرا مہم السلام سےزیاد عم رک ہیں )کی خین روا یں مز ید بڑھ یئ ۔ 
الفے:... ”یر: علی بن محمد بن سعید عن حمدان بن 
سلیمان عن عبیداللہ بن محمد الیمانی عن مسلم بن 
الحجاج عن یونس عن الحسین بن علوان عن ابی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٢٢٣ .۸۷۱۸۲۹6 7 


.انی سے سس -یست سھ .- سے عًے 


عبداللہ عليه السلام قال: ان الله لق أولی العزم من 
الرسل وفضّلھم بالعلم واورٹنا علمھم وفضلنا علیھم 
فی علمھمء وعلم رسول اللہ صلی اللہ عليه وآله وسلم 


ما لم یعلمواء وعلمنا علم الرسول وعلمھم۔“ 
(بیارااوار رخ:٢۲‏ ص:۱۹۲۴) 

ترجھہ:.. ”نومام صادشی آنے فرمایا: الد نے أُواوالعزم 
ایام ورک لکو پیدافرمایااورا نکیل ع اکر کےفضیلت فی ء اوران 
کی کا یمیس دارٹ یئ رااادیلم می یں ان برفضیل تچئی :رسول 
ای ال علیہ دآلہ ول مکووہ وط کہا جو اُولو ال م زرل کویھی قد 
تما ری رسول ا٥ی‏ اول علیہ لم اور خویاءہ ولوالز مکا سا راعم 
عطاگردیا۔“ 
ب:..۔. ”یر: اسماعیل بن شعیسب عن علی بن 
اسماعیل عن بعض رجالە قال: قال أبو عبداللہ عليه 
السلام لرجل: تمصّون الثماد وتدعون النھر الأعظمء 
فقال الرٗجل: ما تعنی بھٰذا یابن رسول الله؟ فقال: علم 
الٹبی صلی الله عليه و آلە علم النبیٔین بأسرہء وأوحی اللہ 
الٰی محمد صلی اللہ عليه و آله وسلم فجعلہ محمد عند 
علیٗ عليه السلام. 

فقال لہ الرجل: فعلیٗ أعلم أو بعض الأنبیاء؟ 
فتفگ اہو عبداللہ عليه السلام الی بعض أصحابه فقال: 
ا الله یفصح مسامع من یشاءء أقول لە: ان رسول اللہ 
صلی الل عليه وآلە وسلم جعل ڈلک کلە عند علیٔ 
علیے السلام فیمشول: علی عليه السلام أعلم أو بعض 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱٥٢١٣ .۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


الأنبیاء.“ ( بجھارالانوار ۲٢:‏ ص:۱۹۵) 

7جم:... ”امام صادثی نے ایک فو سکوتتیہا فرمیا: 
( جب ے )تم لوگ عم کے لے بچھرکو چو تے ہوگر بے پایاں ددیا 
گرب کرت ہہو۔ ال نے لو مچھا: اے ان رسول ال را ا 
ےآ پک کیا ہرادے؟ خرماا: نی ص ی لعل وآلہ ٥لم‏ اورثام 
نیا کا جھوگیعلمء جو اون نے می صلی اش علیہ لہ یل مکوعطاکیاء رد 
ھن ےی علیالسلام کے جو ان ےکردیا۔ 

وہس (جرت کے مات ) آپ سے کر جلاک :پر 
لن اعم ز یادوتھا یا من اخیا ءکا؟ امام نے (ایےگرد ٹیش ہو ) 
ان ین اصحا بکی رف درکھاادد( جب کےانداز بی ) فرمایا: 
اد ای ننس کے چا تا ےکا نکھوگل دبا ےہ یش اس س ےکہدد ہا 
ہوں کررسول انڈص٥لی‏ ال علیہ لم ے بینھام کے تام علو بھی علیہ 
الام کے جوا ےکرد ہے اور یہ پچ تنا ےک علی علیہ السا اعم 
زماد و ھا انف امیا گا؟'“ 
ن... ”یر: محمد بن الحسین عن أحمد بن بشیر 
عن کثیر عن أبی عمران قال: قال أبو جعفر عليه 
السلام: لقد سال موسی العالم مسئلة لم یکن عندہ 
جوابھا ولقد سٹل العالم موسٰی مسألة لم یکن عندہ 
جوابھا ولو کنت بینھما لأحبرت کل واحد منھما 
بجواب مسئلته ولسالتھماعن مسالة لا یکون عندھما 
جوابھا.“ ( ہمارالاثوار رع:٢٣‏ ۷ص:۱۹۵) 

تجہ:..” امام باظر علیہ اللام نے فرمایا: موی نے ایک 
عالم سے ایک متلہ یو پچھا؛ جن کا ال سے جواب نہ بن پڈاء بج راس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


عالم نے موی سے ایک مستلہ بیو بچھا جح سکا ان سے جواب شبکن بڑاء 

اوران دوُوں 2 سس یل مو جودہوتا و روثوں کےا ات 

مک ےکا جو اب دےد تا ء یچ رالن دونوں سے ایک الما متملہ لی پچ اکم 

ان ادوگو لی سے ججواب شہمکن جا 
میس را غلو: نمیا ۓےکرا ‏ می ہم السلام اور ومجر سار مخلو یک ی لیقع کی 
ناطمولی: ۱ 

شی وشن نے ا لملمو نکی روایا بھی ات ا ہا رکی طرف بی فاص ے 
مفسو کیپ کی اع ث تی کا نات میں ء وہ شہ ہو تے لو نایا ۓےکرا ممعہہم 
السلامکووجودماء نی اورو یکو گیا ئ کی ففایق ہی سور بالی انگ ءانما ناش 
مالسلا مکا و 00 امام کا رعحقیدرہ' ا عنقادات صدوق“ کے 
حوانے ےاو نف لک ہکا ہوںہ یہاں ال شیمو نکی دوروا تل لا حظ رما ہے 

-۔ک. ن٠‏ ع: الحسن بن محمد بن سعید 

الپاشمیٗ عن فرات بن ابراھیم عن محمد بن اأحمد 

الھمدانیٔ عن العبٔاس بن عبدالله البخاریَ عن محمد بن 

القاسم بن ابراھیم عن الھروی عن الرضا عن آبائه عن 

أمیر المؤمنین عليه السلام قال: قال رسول اللہ صلی الله 

علیہ وآلە وسلم: ما خلق الله عرٌ وجلٌ خَلقَا أفضل می 

ولا آکرم عليه منی. 

قال علی عليه السلام: فقلت: یا رسول الل! 

فانت أفضل أو جبرئیل؟ فقال عليه السلام: یا علی! ان 

الله تبارک وتعالیٰ فضل أنبیا ےہ المرسلین علی ملائکته 

المقرٌّبینء وفضلنی علی جمیع النبیّین والمرسلین: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


الملائکة لخدامتا وجدام محیّیناء یا علیٌ! الذین 
یحملون العرش ومن حوله یسبّحون بحمد ربَھم 
ویستغفرون للّذین آمنوا بولایتنا. 

یاعلیٗ !لو لا نحن ما خلق آدمولاحواولا 
الجنة ولا النار والا السٌّماء ولا الأرض.“ 


( ,يارالاوار خ:٢۲‏ ۴ص:۳۳۵) 
ترچھہ:.. .”امو رالھ ومن علیہ السلام ے بای اکہ: رسول 
ایی الل علیہ دا لم ,لاح رج 
اکر کوٹ یوق پیدائیں فرمائی لی علیہ السلامفرماتے ہیں : ٹس نے 
عم سکیا: ما رسول الڈ رکا وج پرآپ علیہ 
الام نے فرمایا: ا ےی !اتارک وتھالی نے ابے انبا ء وم رین 
کواينۓ ملامک یم ٹین اتل بتاإ ہےاور یھ تما انییاۓ ع رشن 
رنخیلت عطاگی ہے او رمیہرے بعد بیقضیلت ےی اتیرے لے 
او شر ےپآ گوحامصلی ہوگی :مان جمارے او ہمار نکی کے 
مادیم ہیں اےمی! عرش اُٹھانے دانے اور اس کے رکرو کے 
فرش اپنے تر ت کیج بیا نکر تے رئے یں اور ہمارکی ولا یت پر 
ایمان لا نے والوں کے لے ا ستغفارمیش مصروف ر ہے ہیں- 
اے لی !گر چم نہ ہو لو ہام د۶ا پیرا ہوعوے ٤ے‏ 
نت ودوز رم ہناۓ جائۓ اورتہآ سمان اورز من وجودشی لآ ے۔' 
- کتاب المحتضر للحسن بن سلیمان من 
کتاب السیّد جلیل حسن بن کبش باسنادہ الی المفید 
رفعه الٰی محمد بن الحنفیّة قال: قال أمیر الم منین 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


عليه السلام: سمعت رسول اللہ صلی اللہ عليه و آلہ 
وسلمیقول: سے فا سیل الالیساء و انت سد 
الأاوصیاءء وأنا وأنت من شجرۃ واحدة لولانا لم یخلق 
الله الجنَة ولا انار ولا الأنبیاء ولا الملالئکة “ 


(ییارالاوار رخ:٢۲‏ ص۳۸۹:۰) 
ترجھ... ”مھ بن حنفیہ سکیتے ہی ںکہ: امو راو جن علیہ 
الام نےفر مایا :یش نے رسول الل کی اش علیہ د لہ وس مکو ریف ماتے 


یش اورآپ ایک بی درخت سے ہیں ءاگ رہم زہ ہو تے تو رنہ نت 

ودوز رخ پر اک رتا اورتہاخیاء وم ائَو 
جو لو انمیا ۓگرام مھ ہم السلام سے بادہ اما ممو ںکی !مامت کا عبہدل یاگیا: 

تن تال ی شا کی زیو یی تکااولاوآدم سے بد لیا جانااو رآحضرت صلی ارشدعلیہ 
لم کےےتی میں حرات ایا ۓکراممشیہم السلام سے عوبد لیدنق ق رآ نک ریم می منصنس 
ہے تن امامییرئے ولا یت کا درجشقت سے بلند “کر نے کے لئ اس مو نکی بییشمار 
روا نت ںی فکر کے ان سے سو بکروی ںکعپدراکست ٹیل الد تھا لی نے ججہاں ای 
راوہت کا عمبدرلیاء دہال انیات ۓےکرام اود م ایہم السلام سے پادہ اماصو کی امام ٹک 
عیدیھی لیا..لحوذ با ...انل ٰصمو نکی چچندروا نیت ملا طف مائیں: 

الف:... ”جعفر بن محمد الأودی معتعناعن جابر 

الجعفی قال: قلت لأبی جعفر عليه السلام: متی سمّی 

أمیر المؤمنین؟ قال: قال لی: أو ماتقرأً القرآن؟ قال: 

قلت: بلی قال: فاقرأء قلت: وما أقرء؟ قال: اقرأ: ”واذ 

اخذ ربُک من بنی آدم من ظھورھم ذریتھم وأشھدھم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


علٰی انفسھم آلست بریکم“ فقال لی: هیه ای أیش؟ 
ومحمد رسولی وعلیٗ أمیر المؤمنینء فٹم سمًاہ یا جابر 
امیر المؤمنین.“ (عارالانوار رع:٢۲‏ كص:۸ے۲) 

...جا یج یکپتا ےکہمیں نے ال شف علی السلام 
سے لپ چھا کہ ام رالھومنن کا لقب (عل کے لئ کب مور 
کیاعگیا؟ انہوں نے فرمایا :کیا رآ نکی پڑہتا؟ مس ن ےکھا: 
پڈہتا ہوں ار مایا :لو یڑ تہ ٹیش نے لو بچھا :کیا ڑعوں؟ فرمایا:میہ بڑبھ 
(ت چجمہ)' اور جب کالما تی رے رٹ نے ہیآ د مکی جیٹھوں سے ان 
کی اولا دوکواود ار ارکگرایاانع سے ال نکی جائوں پر ءکیا یل کی ہوں 
مہاراژٹ؟'' 

رف مایا: ای ۴یس زی شال ھا می رےرسوی 
ہیں گے اوریلی امیر الم نیشن نے اے جاہر! میں (علی کے لئ ) 
امیرالم نی ن کا لین ب نجوس کیا 
ب:... ”احمد بن محمد عن الحسن بن موسلی عن 
علی بن حسّان عن عبدالرحمٰن بن کٹیر عن أبی عبداللہ 
عليه السلام فی قوله عرٌ وجل: ”واذ أخذ ربتک من بنی 
آدم من ظھورھم ذریتھم وأشھدھم علی أنفسھم ألست 
بربکم“ قال: أنخرج الل من ظھر آدم ذرّیّمہ الی یوم 
القیامة کالذر فعرٴفھم نفسہء ولولا ڈلک لم یعرف أحد 
ربّ, وقال: ألست بربکم؟ قالوا: بلیء وأنٗ محمڈا 
رسول اللہ وعلیًا أمیر الم ؤمنین.“ 

(ءارالاوار ۲٢٦:‏ ص:+۲۸۰) 
تر ...”امام صادق“ نے ارشاد ار تھا ی 72ج ) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


اور جب ٹڈکالا تی رے رٹ نے ب یآ د مکی ٹموں سے ال نکی اولا کو 
اور اق ارکرایاانع سےال نکیا چا ول پر کیا شی سکیس ہو ںتمہا را رب 
کی رگج ہد ئے بنا ا کہ اشقا لی نے دم علیہالسلا مکی پچ 
کے اعت تن دا جو وانے الال ںک ومن چو نکی 
صورت میں کالما اور انیس ابٹی ذا کی مرفت عطا کی ء او راگ ایا 
نہ ہوت ت کوٹ یھی اپے تر کو نہ بپچیاضتاء اور بیو بچھا:” کیا میس یں 
ہو ںکہارا ترت:؟'( سب بیک زبان) ہونے:شنہال'' اور الد 
کے روگ ہیں اددیگی ان کے جی ہس“ 
ٌ:... ”ابن یزیدعن ابن محبوب عن محمد بن 
الفضیل عن أبی الحسن عليه السلام قال: ولایة علیٰ 
مکتوبة فی جمیع صحف الأنبیاء ولن یبعث اللہ نبیّا الا 
بنبوّۃ محمد ووصیّه علی صلوات الله علیھما۔“ 
(ہارالاثوار رع:٢۲‏ صضص:+۸) 
ترجہ (مام ابواشسن علیہ السلام ے روایہت 9و 
تا مآ سال یکیفوں میں نول بی تی '(بر ایما نکاعم )رح ےءاور 
ادن ےکی یکو جو ٹ ئل فر ما اگ رج کی نت اورآپ کے بی لی 
صلوات ارڈ کلہم کے ات“ 
وا غلو: اما کرام چم السلا مکونت را ولا بی تکی وج ےکی : 
اس ضمو نک یبھی ببہتکی روایا تصنی فک گی می ںک ریا ن کون تاس وتت 
تک کی ں گی ج بتک اس ص2۵] ولا ےتک ا رای ںکمیاء اس لم ےکی چنرروایاٹ 
لا ترما ۓ : 
الف:... ”احمد بن محمد عن علیٗ بن الحکم عن ابن 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


عمیرۃ عن الحضرمیٌ عن حذیفة بن اسید قال: قال 
رسول اللہ صلی اللہ عليه وآله وسلم: ما تکاملت النبوّة 
بی فی الأظلّة حتی عرضت علیہ ولایتی وولایة أھل 
بیتی ومثلوا لە فَأقرٌوا بطاعتھم وولایتھم.“ 

(بیارالاٹوار رخ:٢۲‏ ص:۸۱) 


ڑهے:۔! 'عزینےئ أمیرے روامت ےک رسول الد 
صصلی اش علیہ لہ ریلم نے فرمایا:عا لم اروا مکی یکواں وقت 
جن یقت نیس دن یگقی؛ ‏ ب تنک ان مہا خنے خی کی اورخیے 
کی ی کا فلایت یک سک کی اود أئہ ان کے سان پپڑئی 
یں کے گئۓء مو انہوں نے ال نکی ولایت دطاعع تک اق رارکیاء 
تب ا نکونوتٹی _' 
ب:... ”السندی بن محمد عن یونس بن یعقوب عن 
عبدالأعلی قال: قال أبو عبداللہ عليه السلام: ما نبّیء 
قط الا بمعرفة حقّنا وبفضلنا علی من سوانا.“ 

(:يارالاوار ۲٢:٤‏ ۷ص:۲۸۱) 

...“لام صائل“ نے فمایاکہ :مک بھی نی یکو انس 
شی ٹف غیت نان گی نپ لف ای نے جیا ےئوا تد 
اماصت) کا اق ارنن نکرلیاء اوددمکجرسب لوگوں پر جھاری فضیل کو 
لی ہیں ری۔“ 
تٌ:... ”محمد بن عیسٰی عن محمد بن سلیمان عن 
یونس بن یعقوب عن أبی بصیر عن أبی عبداللہ عليه 
السلام قال: ما من نبيّ نبّیء ولا من رسول ارسل ال ولایتتا 
وتفضیلنا علی من سوانا.“ (ءیارالانوار خ:٢۲‏ ص۲۸۱:۰) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱٢۴ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ترجص:..! ابوفصیر نے الوب دادند علیہ السلام سے روایت 
کیا ہراس وش تک کی یکونہئی بنا یسل رسل: 
جب تم کفکماس نے مارگ ولاعت او رہب فیا تکا اقرارکیں 
وی 


ب:.. ”ابن یزیدعن یحیی بن المبارک عن ابن 
جبلةعن حمید بن شعیب عن جابر قال: قال أبو جعفر 

عليه السلام: ولایتنا ولایة اللہ اَی لم ییعث نبیّا قط الا 

بھا.“ (ارالانوار خع:٢۲‏ ۷ص۲۸۱۰) 

ترجمہ:..' جابرنے الف علیرالسلام سے رواب کیا ے 

گہ: جمارگی ولایت درتفیقت ولا بیت الڈد ےء ا کا اھر ار گے اخیر 

میٹ یکویھی یصو ٹک گیا ۔' 
چا خاؤ: اتی نے انا ۓکرام کہم السلام سے اور وم لوق سےطو] و 
کم پاولا بہت کا اھر ارلیا: 

ا ںمخمو نک یبھی متحدد ردایات ا تم کے نام لگا یگئی ہی ںکبددز عشثاتی یں الد 
نکی نے اخمیا ۓکرام شیہم السلام /۵ء2۵م,07 سے طوما وک پا ولا یت اخ کا خر ارلیاء 
شس نے اقراارولای تکیاووسعدہواادرٛٹ نے اق ارولابیت شیا ہی ہواء اس سلس کی 
رووا طاحظہول: 

الف:... ”احمد بن محمد بن العبّاس عن ابن المغیرۃ 

عن أبی حفص عن أبی هارون العبدی عن أبی سعید 

الخدری قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ عليه وآله 

یقول: یا علیٌ! ما بعث الله نییًا ال وقد دعاہ الٰی ولایتک 


طائمًا أر کارهًا.“ (بارالانوار ع:٢۲‏ ص:۸۰٥)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


رھہ:..”'الوہیر خدری ے روامت لین ے 
رسول ایڈنلی الد علیہ وآ لیکو سیفرماتے ہویۓے تن اکہ: ےگ !اللہ 
نے ہہ رن یکومبمو کر نے سے پیل وع وک پا یرگ ولا بی ت کا ال 
سے اھر ارلیا۔“ 
ب:... ”المفیدعن المظفر بن محمد عن محمد بن 
احمد أبی الشلج عن محمد بن موسی الھاشمیٔ عن 
محمد بن عبدالل البداریَ عن أبیه عن ابن محبوب عن 
بی زکریّا الموصلیٗ عن جابر عن ابی جعفر عن أبیە عن 
جدہ عليه السلام ان رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم 
قال لعلیٔ عليه السلام: أنت الذی احتحخ الله بک آی 
ابتدائه الخلق حیث أقامھم أشباخا فقال لھہ: الِحمتث 
بربکم؟ قالوا: بلٰیء قال: ومحمد رسولی؟ قالوا: بلیء 
قال: وعلیٰ أىسر المؤمٹین؟ فابی الخلق جمیغًا الا 
استکباًا وعتوٌاعن ولایتک الا نفر قلیلء وھم أقل 
الأقلین وھم أصحاب الیمین.“(عارالانوار ۲٢:‏ كص:٢عے٢)‏ 

7ا انام پائر علیہ السلام اۓٴ پاپ رارا ‏ ے 
روایی کرت میں کہ رسول ایی ایل علیہ ول لم نے منرت لی 
علیہ الام سےفر ما اک حم دوکستی ہوجس سکوادڈند نے اپ ینجلو یکو پیرا 
کرنے کے وقت سے مخت بنایا۔ دہ اس طر عککا نک ام 
مشالی بس ظا ہرکیا اوران سے فر مایا :کیا شس یں ہو ںتہارا رب؟ 
ہوۓے: ہاں سے۔ مچچھمر بچھا: مھ میرے رسول ین او نے: ان 
ہیں۔ پیر( قرار ینا جا پا او )کہا:علی امب رالھو سن نہوں گی 
ای کت رکرو کے سوا تام لوق 1-- وحصدکی بنا بر تیرکی ولا ہت 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


سے اٹک رکردیاء رد لا تیگ یکا افر ارک نے دا نے بہت کھوڑے سے 

لوک ے اوریی اٹ این ہوں مگ _-“ 

نت اوز ظا متا سی نے متا ہب ان شم رآ شوب کے جوانے سے !امام زر بین 
العابد ی کی ایی اض لک ںا سے معلوم ہوا ہے ای عالت ہجوت میں بھی 
ضرت لاس علیہ السلا مکا با امنمبار چارکی ر پاءج٘ سکی مز ایس ا نکو یلین مای میس قیدکیا 
گیا ملا نظف رم ائے: 

”- قب: الشمالیٔ قال: دخل عبدالل بن 
عمر علٰی زین العابدین عليه السلام وقال: یا ابن 
الحسین! أنت الّذی تقول: انّ یونس بن متی انما لقی 
من الحوت مالقی لأنے عرضت عليه ولایة جڈی 
فتوقّف عندھها؟ قال: بلی ٹکلعک اُمَک, قال: فارنی 
آیة ڈلک ان کنت من الصادقین, فامر بشذڈ عیئےه 
بعصابة وعینیٌ بعصابةء ثم أمر بعد ساعة بفتح أعینناء 
فاذا نحن علی شاطی البحر تضرب أمواجہء فقال ابن 
عغمر:یاسیدی! دمی فی رقبتک: الله الله فی نفسیء 
فقال: ھیه وأریه ان کنت من الصادقین. 
ٹم قال: یا أیھا الحوت, قال: فاطلع الحوت 

راُسه من البحر مثل الجبل العظیم وھو یقول: لبیک 
لٔیک یا ولیٗ الل! فقال: من أنت؟ قال: انا حوت یونس 
یا سیّدی! قال: اُنبٹنا بالخبرء قال: یا سیّدی ان اللہ تعالٰی 
لم یبعث نبّا من آدم الی ان سار جڈک محمد ال وقد 
عرض عليه ولایتکم أھل البیتء فمن قبلھا من الأنبیاء 
سلم وتخلصء ومن توقف عنھا وتمنع من حملھا لقی ما 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


لقی آدم علیه السلام من المعصیةء وما لقی نوح عليه 
السلام من الغرق؛ وما لقی ابراھیم عليه السلام من 
الدارء وما لقی یوسف عليۂ السلام من الجب؛ وما لقی 
أیرب عليه السلام من البلاءء وما لقی داوٴد عليه السلام 
من الخطیئة الی ان بعث اللہ یونس عليه السلامء فارحی 
الله الیە: ان یا یونس تول امیر المؤمنین علیّا والأئمَة 
الراشدین من صلبه فی کلام لەء قال: فکیف اتولًی من 
لم ارہ ولم أعرفہء وذھب مغتاظاء فاوحی اللہ تعالی الیٗ 
ان العقمی یونس ولا توھنی لە عظمًّاء فمکٹ فی بطنی 
أربعین صباحًا یطوف معی البحار فی ظلمات ثلاث 
یسادی: الّے لا اے الا أئت سبحانک انی کنت من 
الظالمین, قد قبلت ولایة علی ابن أبی طالب والأئمّة 
الراشدین من ولدہ: فلمّا ان آمن بولایعکم أمرنی ربّی 
فقذفعه علی ساحل البحرء فقال زین العابدین عليه 
السلام: ارجع ھا الحوت الّی وکرک: واستوی 
الماء,“ ( ہيارالاوار ۱۳:6 ۰٢۰٢۰٠:‏ روات:۵٥)‏ 
تر جمہ:..” ھا یکھٹتا ےکہ ایک دن عمبد اشک نعحرہ امام 
زین العابد بین علیہ السلا مکی خدمت مج لآ ے او کہا کہ: آپ ىہ 
فرماتے ہی ںکحفرت لاس تی (علیرالسلام مک وی کے پیٹ 
یس اس بنا پر ڈالاگیالکراانع کے سا حئے میہرے دادا ام رالھ وی نکی 
ولایت یک یکئی نو انہوں نے اس کےخو لکمر نے میں ٹون کیا ؟ 
ام نے ما کہ ای ای ن ےکداے تی ماں جھ لو مر ےلین 
نوھرجاۓے .-.۔ عبدا دہ عھمرت ‏ کہ کہ :ارم جے ہ وذ اتی رات 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢م۹.۷۸۷۵۸۲۹6‎ ۷ 


گفتار یک یکوئی علاصت دکھا و امام نےعم د اک مرگ اورکیراللہ 
بن عھ کی نکھوں پر ایک خٗورموتیہ اہ 
7ن کون وو جب ا ھی ںجھولیس نکیا دنت ہی ںک ہم ایک 
ددیا ‏ ےکنارے پر سج سکی مموجمیس انیس ما رای و رفظ 
دک یدک ار چگھرت کہ اکہ: اے سترا مرا خو نآ پکاگردن بہ سے 
(یجنی در یاکی موس بے بہائے جا تی ں کیہ امام نے نما کہ: 
ڈروئیں ء یں اھ یک مکوا تی راس تگغتا رت یکی علاصت وکھا جا ہول ۔ 
را مام نے فرمایا :ا ےمچی اما مکا کا نات کرای کی 
نے ٹور دد یا سے س رڈ کالاء ج پالڑچھن شی اوززو ہز ی شی :ئن کا 
لیک ااے ول خدا! امام نے فر مایا :کون ہے؟ کن ےکگی: اے سیر 
ددی ھی ہوں جس نے ال سکو گلا تھا ءف مایا :یں پتا کہ بس 
عل۔ السا مکا کیا قصہہواتھا؟ کیٹ گگی: اےس را الد تالی ن ےکی نی 
کو جو ثکئی سکیا ہآ وم علیہ السلام سے لن ےک رپ کے داوا جظخرت 
مومسلئی صلی ال علیہ یل تک گر اس برقم یہی تک ولا یت شی 
گی جن نے ا ا سکوقجو لکیا دوسا مد باءاورشسر ےئ سالک 
گیاءاورال اماخت کےا ٹھانے سے اکا رکریاء ا کو ونھی الا ہی ںآ یا 
جو آدم علیہ السلا مک وکنا ہی وجہ سے شی ںآ یا اور جو و علیہ السلا مکو 
خر سے ٹچ لآ یا اور جھ برای علیالسلا مک وآگ سے یی ںآ یاء اور 
جو ایسف علیہ العلا مک وکنو میں بیس ڈالے سے شی ںآ یاء اور جو یوب 
علیہ السا مکو ار میں ما ہہو نے و7 و وواقطاے 
اسلا مکی سے یی باء یہا ںک کک اود تھالی نے وس علیالسلام 
ریت کنا بین ال ای ےا نگ وگ یک یم ا عون | 
ام لپن لی اورا نک کل کے اس راشد می نکی وا ٍ ٹکوُول 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


کرو ھا ورکلا مچھی وی فر ما یہ وس علیہ السلام تن ےکہالکہ: یش ان 
لوگ ںکی وڑا بی تک و کی قبو لکمروں شی نکو میں نے دریکھا گنیس ؛ اوران 
کو اتا ایس ءاورخصہہوکردر ہا کےکنارے لے لئے بآ الال 
نے جھھے دک یک الہ پا سکونگل جاء اوران 1 ریو ںکوگزند نہ پجیانا۔ 
یل دہ میرے پیٹ یل چا روز د ہےء می ال نکودد یاؤں ٹل 
ادن جاریگیوں شی لئے پچ ری ركی٤‏ دہ برابر بیکاررے غے نو 
اه الا أنت سبحانک الی کدت من الظالمین (کوٹی حا مکیں 
سوائۓ تیرے ! و بے عیب ہےء میں تھا کنہگاروں سے ) مس نے 
امیر ال نی نم یکی اوراا نکی اولاد سے جم راش ھک نکی وا کو 
تو لکیا یں جب ایانس علیہ السلا تہارک ولایت پر ایماان لے 
و میرے بردروگار نے ہچ کیم دیا فو میں نے الکو ددیا کے 
ساگل ی ڈال دیا۔ جب کپھلی نے یقصہستایا 2 امام زین العابد من 
علیرالسلام نے ال سکڑیم د کرای ےآشیانے میس وائیں ہگ چا اور 
0 او موجوں سےسلون ہوگیا_'“ 


و:.. نظرت ام رام نی نکی ایک رداحیت کے مطا لٹ ی نضرت علی السلا کو 


زین ٹیس دخةسا ماگیاء ببہا لم کفک ا نعکو.. تو باہ..قارولنع کے سا تھ لاد یاگمیاء اور جب 
قارواع سے راب چٹا اگیا قوذ مظرت لاس علیرالسلا مکوعہرت ہوٹی اوران ہوں نے ولا یی تکا 


۱ ثر رکیا اورالنع کی تو منظورہوئی۔ 


”وقد سال بعض الیھود أمیر المؤمنین عليه 
السلام من سجن طاف أقطار الأرض بصاحبہء فقال: یا 
بھپردی! أمَا السجن الذی طاف أقطار الأرض بصاحبه 
فانه الحوت الّذی حبس یونس فی بطنهء فدخل فی بحر 
القلزم, ثمّ خرج الٰی بحر مصرء ثمٌ دخل الی بحر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۰۱۱٢١٣۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


طبرستانء ثم خرج فی دجلة الغوراء: قال: ٹم مرت به 
تحت الأرض حتی لحقت بقارونء وکان قارون ملک 
فی أیّام موسلی عليه السلام و وگل اللہ به ملگا یدخل فی 
الأرض کل یوم قامة رجلء وکان یونس فی بطن 
الحوت یسبّح اللہ ویستغفرہء فسمع قارون صوتہ فقال 
للملک الم و گل بە: أنظرنی فانی أسمع کلام آدمی: 
فأوحی الل الی الملک الم و گل بە: أنظرہء فانظرہ ثمَ 
قال قارون: من أنت؟ قال یونس: أنا المذنب الخاطی 
یونس بن متیء قال: فما فعل الشدید الغضب اللہ موسی 
بن عمران؟ قال: هیھات لک قال: فما فعل الرؤوف 
الرحیم علٰی قومه ھارون بن عمران؟ قال: ھلک, قال: 
فمافعلت کلثم بنت عمران العی کانت سمّیت لی؟ 
قال: ھیھات ما بقی من آل عمران اأحدء فقال ھارون: 
وا أسفاہ علی آل عمرانء فشکر اللہ لە ڈلک, فامر اللہ 
الملک الم و گل بە ان یرفع عنه العذاب لیم الدنیا فرفع 
عنہء فلمَا رأی یرنس ذلک ادی فی الظلمات: ”ان لا 
الے ال انت سبحجانک انی کنت من الظالم.“ 
فاستجاب الله لە وأمر الىلحوت فلفظہ علی ساحل 


البحو“ (ءیارالاوار رخ:٣۱‏ ۳۸۲:۰۴) 

...ایک ببودگی نے امب رالم تین علیہ السلام سے 
اتی مان جاسلےے کے از نے شا ور پاش یا جواہنۓے سا یکو لئے 
ہوۓ زین کے چچہارسو پچ رکا غا ر اکن دہکونساجیل خانتھا؟ آپ 
نے فرمایا: اے یبودگی! دو جیل الہ جو اپے سرائ یکو لئے بہو تۓے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹۱۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


زین کے چہارسوپچکرکا ار کت نے اس علی السلا مکو 
اپنے پیٹ مش قیدرکررکھا تھاء ہیل وہ ھی وس علیلسلا مک نےکر: مر 
قلزم می واٹل ہہوٹی ء پھر برع کی طر گی ءپرطبرستان کےسمندر 
دائل ہوئیء پھر وجلہ القود ہکی طر فنگی۔ امی را وین نے 
فربایا: رو چلی بس علیہ السلا مک نےکرز مین کے ین ےگفیء یہاں 
تفگ ہتارون سے جاگیاء اورمارون نحخرت موی علیہ السلام گے 
زمانے یس بلاک ہوا قھاء اور الد تھالیٰ نے اس پر ایک فرش مقرر 
کردیا تھا جوا ںکوروزانہف یآ و مکی مقار ز مین شی دحفہاد یتارباء 
۳:- علیہ سام می کے پہیٹۓ یش ال کیک اور ا ستغفارکرۓے 
رہے ہیں تقارون نے اا نک یآ وا زکوک نلیا اورمقررکردوف رش کہا 
کہ: ججھےمہلت دوہ میل ای ک؟دٹ یکا کا من ر اہول ء موس اش تا ی 
نے فرش کو وت یک یکا سکومبلت دے دوہ چنا یف رت نے ال سکو 
مبلت دے دی +قارون نے پو بچھا:آ پکون ہیں ؟ لیس علی السلام 
نے فرمایا: ی۲ سکنہگا رخطا کا ایانس من من ہوں۔ تروع نے لو چھا: 
موی ہنا عمرا کا کیا بنا جھ بہت فص کی اکر تے تے اد کے لئ ؟ 
اس علیالسلام نےفرمایازدونمدت ہو فی فدت ہو گے میں ۔قارون 
نے پپ بچھ: رون من مرا نکا کی نا جوا قوم پہ بہت شض اورنرم 
تے؟ لاس علیہالسلام نے فرمایا: دوجی فوت ہہو گے ہیں تقارون 
نے پ پچھام بن تعمرا نکاکیا بنا جوم رے سا تہ فسو بک یگئ یی ؟ 
(میری یی لاس علیہ السلام نے فرمایا: مت ہہوئ یآ عران 
یش ےکوی بھی بای یٹس دہا۔ قارون ن ےکہا: ات انس کل 
ران پر! موس الد ای نے تقارون کے اظہا افو ںکوقیو لکرلیا۔ 
یس ال تھا لی نے مقریر وف رش ےکوعم دہ نیاکی زندگ یکک اس سے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


داب أٹھادیا جا ء ہیں فر شنے نے اس سے عطر اب أُھادیاء جب 

لاس علیہ السلامم نے بد یکھا و ان دعیرول بی یس پکارا:” کوگی حا کم 

یرے موا بےوعیب ہے :یں ھا گا رویں سے ال 

تعالی نے ا نکی ُعا قبو لکرکی اورمچھ یکم دیا نے می نے پکو 

سائل سور لا ڈالا۔“ 

یہاں جو بات لان عبرت ہے دہ ریکرالن ردابات کے مطا تی لس علیالسلا کا 
اما داکگمار.. لعوز پای... ائٹسن بھی بن گیا ءکیونگ شوطان نے ابا ذ اححگرمار کے راخ 
تجھو کوت ع ہیں کیاتھامگران ددایا ت کے مطالقی جب لاس علی السلام نے الد تال سے 
کہ :”نیٹ ان لوگو ںکی ول بی تکا اخ را رک ےکمروں جن نکو جات پیا ا ہیں ہوں تی 
بات فطعا ڈنراور و گن رو زٹاق ہیں جب امیائۓے کر ھک یم السلام ےلات 
أئ کا قرارلیاگمیا ہوگا تق حظرت لس علیہالعلام نے ا نکوضروردریکھا اود بنا ہوگا۔ بچلر 
امامیہ کے مطالشی موی علیہ امسلا مکی تور یت میں بھی ول یت اش کا اعلان مو جودتماء اور 
حضرت اش علیہ السا فور یت ضرور بڑے ہیں گےء پچ راس کےکیامصع کہ میں اخ کو 
جا ایا یں ہوں؟ 

ان روایات سے ریگھی معلوم ہو اک نات ایا ۓکراع لچم السلا مکو جشے إجتڑا 
مع جانب اللد می یآ ۓ ء می نکی طرف امام ذ بین العابدی کی ددابیت میس اشار ہک یاگیا 
ےء دوس بکقی ٤‏ مامت بیس شک وت ڈو ینحوستگ؛نعو ذ بالله من ھذہ الھفروات! 
سال وں لو امیا ۓکراملیہب مالسلا مم کےنو رر روننی حاص٥‏ لکمرتے تھے 

شیع کےگمیارہو می !ما صن سر کی طرف بیرداییت مو بک اگئی ےک 
اخمیات ۓےگرام جار زار ںشی ‏ فف ل رج پل ار ہمارے نشان نر مکی پروی 
کرت تھے ۔روایت کے اللھا ط ہ ہیں : 
”کتاب المحتضر للحسن بن سلیمان: روی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


نے وجد بخط مولانا أبی محمد العسکری عليه 
السلام: أعوذ باللہ من قوم حذفوا محکمات الکتاب 
ونسوا اللہ ربّ الأربىاب والنبیٗ وساقی الکوٹر فی 
مواقف الحساب,ء ولظی والطامّة الکبریٰ ونعیم دار 
الغواب فتحن السسام الأاعظمء وفینا النبوٴة والولایة 
والکرمء ونحن منار الھدی والعروۃ الوثقی والأنبیاء 
کانوا یقتبسون من أنوارناء ویقتفون آٹارنا.“ 
(ءیارااٹوار رج:٢٤‏ صضص۳٦۲)‏ 
تچھ:: انیس ال کی بناد ماگ ہوں ان“ 9 2 
ش رن کے ہرا تکو من ڈالاء جنتھوں نے الف 7دت الار با بک 
بھلادیاءہتھوں ئے اس کے یکوج یوم اب یں سا کوٹ ہوں 
گے بھلادیاء جو قیامتہ دوز رح اور وا ین ا فکی تو ںکو ھا ٹیٹھے 
ہیں ہم بلند چوٹی کے صاح لمت لوگ ہیں :یی جس نہوت و 
ولا یت وگراممت ہے نم ہداجی تکا بینار ہیں او ر۶ رو٤‏ گی ہیں خمام 
انا ےگرام 7 ء.:0:8 پر لا 
ف مکی پچرد یکرت سے 


آنٹھواں غاؤ: قیامت کے ون حضر تک یقمام انا ۓکرا من ہم السلام سے 


آ کے ہہوں گے : 
ال مضمو نک یکھی روای تتحنی فک یئ ےک حقرت امہ رالھ وم نع نے اہ 
فضال ومنا ق کا زکرکرتے ہو مے فرمایا: 


”مایتقدمنی الا أحمد وانٌ جمیع الرسل 
والملائکة والروح خلفناء وانٌ رسول الله صلی اللہ عليه 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠٢٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


وآله لیدعی فینطق وادعی فانطلق علٰی حذ منطقہ.' 
( ہمارالاوار رخٌ:٦٢۲‏ صشص:ہ٣ا۳٤)‏ 
تر جمہ:..”بھ ےآ گے صرف اجکی ارڈ علیہ وسلم نہوں 
گےء تھا مم کل ملائمکہاورژ و القر جمارے یہ سی ہوں کے 
رسول ایی ی٥ی‏ اش علےدآ لو پلایا جا گان آپ با تک یں کے اور 
بھی پکاراجا ےگا تی بھی اتی بی با تکرو ںگا۔' 
نواں عو ترامت کے وع تعفر ت گی 1 ری عیل ۱ - یئن اف 
اور خماءک یکرسیاں بانفیں جانب ہو ںگ: 
اس مضمو نک یبھی روا تتصنی فکاگئی ےک قیاممت کے ون رت کی ری 
اشعدل اکر یآ حضرت کی ال علیہ ےلم کے برا برع ر١‏ ای کے دا میں جاب ہوکی اور دنر 
ٹیا ۓگرا مم ہم السلا مک یکرسیاں امیس جاب ہو گی : 
-٠٦۳‏ کتاب المحتضر للحسن بن سلیمان 
ممَارواہ من الأربعین روایة سعد الاربلی یرفعه الی 
سلمان الفارسیٌ رضی اللہ عنه قال: کنا عند رسول اللہ 
صلی اللہ علیه وآلہ اذ جاء أعرابی ..... الخامسة أنَ 
جبریل علیيےه السلام قال: اذا کان یوم القیامقنصب 
لک منبر عن یمین العرش والنبیّون کلَھم عن یسار 
العرش وبین یدیه. ز(فی المصدر: والنبیرن کلھم عن 
یسار) ونصب لعلیٗ عليه السلام کرسی الیٰ جائبک 
اکر اما لہ“ (ءیارالاوار ج:ے٢‏ ۴گص:۳۹۰۱۲۸٣)‏ 
ترجھہ:..زشننس۷ن مین س مان ے کتاب المحتضر ٹل 
77:7۴ "مم خلا لو رج 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


شی الندعشکی 2,30 در بھمرسول 
اڈیصکی ایل علی ول مک یجیاس میں موجود تہ اسم یس ایک أعرالی 
آیا( طول روایت ہے جس میں حطر تل کے فضائل مرکو ر ہیں ء 
ابی لے یس فر مایا ) با نچ میں بات جج نل علیہ اللام نے بیغ مائی: 
قیامت کے روز پک یکری عرش کے انیس جاخب لگائی جات کی 
اور اقی خام نیا ۓکرا میم السلام عری کے با میں جاب( کی 
کرسیبوں پر) ہوں کے (اص لکتاب میں بے الفاظا ہی نک :تام 
انا کرام تلہم السلام ضخر تک کے با نہیں جانب ہہوں گے۔- 
عاشی) ادزیلی علیہ السلا مک کی اع کے مرا مکی با ہآپ کے 
پہلو یس لگائی جا گی 


وسواں لو انمیا ۓکمرا چم السلا مکی و عا یں ماموں ‏ ےنٹفل خول 


وی 
ما مت یک بھارالاف ار“ اب الا مامت میں ایک با بکا حنو اع ے: 


”ان دعاء الأنبیاء استجیب بالتوسل والاستشفاع 
بھم صلوات الله علیھم اأجمعین“( بارالاثوار م:٦۲‏ ۷ك:۹٣۳۷)‏ 
ترجھہ:..” نمیا ۓکرا لیم السلا مکی ھا یں اماموں 
کے می ےاورسغارش لکی بن یج قجل ہیں 
اس لس کی بہتکی ردایات شی سے وو بروانتیں: 
الف:... ”ص: بالاستاد الی الصدوق عن النققاش عن 
اہن عقدة عن علیٗ بن الحسن بن فضال عن أبیه عن 


الرضا علیه السلام قال: لمَا شرف نوح عليه السلام 


لد فو وس سسچ ےت 


۱۷۷۷۷۷۷ .ٌ50610٥۲١۷۳۳٠۱٢١٣۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


رمی ابراھیم فی التار دعا الله بحقّنا فجعل اللہ النار عليه 
برڈا وسلامًا. 

وانَ موسیٰ عليه السلام لمَا ضرب طریقا فی 
البحرء دعا الله بےحغًنا فجعلہ یبِسًٌاء وانٌ عیسلی عليه 
السلام لما راد الیھود قعلہء دعا اللہ بحقنا فُنجّی من 


القتل فر فعه الیه.“ (ھارااٹوار رخ:٢۲‏ صض:۳۲۵) 
7ھ جمہ:..: امام رضاعلیہاللام فر مات ہی ںکہ جب و 
علیرالسلام ڈو نے گےےنو کو ہمارے و سے سے پیکاراء اہ نے ال نکو 
دن سے بپچالیا۔اور جب ابراقیم علیہ السلا مک وآگ می پکاگیا 
قذانہوں نے (بھی) ال کو ہما ر ےن کا واسطدد با و الد نے ان پہ 
آ گکوٹھنڈری اور ساائتی والی بنادیا۔ موی علیہ السلام نے جب 
سندر سے راستہ لے کے لئ اس پرخصا مارا پ2 ( ھی ) اشد سے 
ہعارےو سے سے ھا کی ہا اش نے ان سکوخین کفک۷رد یا۔ اور کی علیہ 
اسلامکوجب بیپود نے لکرڈا ےکا ارادہکیا تق انہوں نے ارے 
نیا سے سے ال دکو پکاراء چناتجچہ الد نے اا نکو ببچالیا اود ای طرف 
اُٹالیا۔“ 
ب:... ”ختص: أبو الفرج عن سھل عن رجل عن ابن 
جبلةعن أبی المغراعن موسی بن جعفر عليه السلام 
قال: سمعتہ یقول: ...... بنا غفر لآدم وہنا ابتلی أبوب 
وبنا افتقد یعقوب وبنا حبس یوسف وبنا رفع البلاء وبنا 
أضاءت الشمس نحن مکتوبون علی عرش ربّتا.“ 
(ارالانوار ۲٢:٤‏ ۴ص:ے۵٤)‏ 
29 ے رایت ےکانموں نے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۵۸۲۹6‎ ۷ 


کے سے دھ 
ہرم 


یں 
یف 


ے الوب علیالسلام مصبیبیت میس متا ہہومۓ ء یتقو ب علیہ السا مکو 

صدمۂفراق برداش تک ناب ڈاءاور اوسف علیالسلا مز ندا یجچہرےء 

اور ہمارے بی وجے سے ان کے مضمائب ور بہوۓےء سورح 

ہارے بی نل ردشن ہہوتا سے اود ہعارے اسمات ےگمرا ہی بمارے 

رٹ کے گی پرکندوہیں۔' 
گمیارہواں نل : حضر تآوم علیہ السلا مکو اما موں کے مرح برصسدہواء اس 
لئ ا نکوسزاگی اور ڈوادالزم انا ءکی فہرست سےا نکا نام نار کرد یاگیا: 

اس مو نکی و لآ زار ووایا تک رت سےا کی رف سو بک اکفی ہی ںکہ 
ححخر تک وم علیہ السلا مکو اجکی مرج شناسی یں جائل ہواءاس لئ ا نکا نام أُواوالزم اخبیاء 
کی فہرسصت سے نار عحکردیاگیا۔ک ہاگیا ےک ارشاوخداوند:”وَلَمْ نج لہ عَزْهًا“ کا 
بجی مطلب ہے نیز یک تج منوم سےا نک کیاکی تاد ج٤‏ ہس تھاء اللہ تال 
گی رف سے ال نکو بدا تک یی کشم ردارا ئ٥‏ کے مرتے برصد تک نا ءجکن ودای 
ہرابیت خداوندگ یکو گھول لئے اور آنمہ کے مم رصحھے بر صدکیا جج سکی وجہ سے ان برخاب 
نازل ہواءلتوڈ پالہ...! 

اںمصمو نکی ےہار یداتول مل ے چتر: 

الف:... ”بر: اأحمد بن محمد عن علیٗ بن الحکم عن 

مفضل بن صالح عن جابر عن أبی جعفر عليه السلام 

فی قول الله عرٌ وجل: ”ولقد عھدنا الٰی آدم من قبل 

فنسی ولم نجد لە عزما“ قال: عھد اليه فی محمد 

والأئمّة من بعدہ فصرک ولم یکن لە عزم أُنھم ھکذا 

وانما سمّی اُولو العزم اُولو العزم لأنه عھد الیھم فی 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳٠۱٢٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


محمد والأوصیاء من بعدہ والمھدی وسیرته فأجمع 
عزمھم أنٌ ذلک کذلک والاقرار بہ.“ 
(بعارالاوار رع:٢۲‏ گ :۴۸٤۲ء‏ :ا١ا‏ گص:١۳١)‏ 
...جا محفی نے !مام با تقر سے ارشادغداوندیی: 
”ََقَد عَهسڈن لی اَم می قبْلْ سی وَلَمْ نَجذ ه عم“ کی 
غیرشس روا تک ےل پ ھ8ھ070/ دم علیاللام اور 
ات ہم السلام ( کی تد لی ) کا ععبعد لیا عگیاءانہوں نے اس کو 
نظرانرا زکردیاء اور ان کے ا مقا کا اختزاف و اقرار گیا 
أواوالعزم اخہیا ‏ و أُولوا زم“ کا اتا زی اتب اسی وفقت ملا جی تام 
انیاء ےٹاورآپ کے پعدا وصاءاورہری اورہرئی ارت ۴ 
ا رار لیا ق ا کا اتا فکٴرتے ہو ان (أ مہ )) کے ا تن کا 
ار ارکیا۔' 
امام را سے ایک لو بل روایت می اق لکیا و 
ب:... ”ان آدم لمَااکرمهہ الله تعالیٰ ذکرہ باسجاد 
الملائکة له وبادخالہ الجنة قال فی نفسہ: ھل خلق اللہ 
بشرٌا أفضل منّی؟ فعلم الله عٌ وجل ما وقع فی نفسہ 
فساداہ: ارفع رسک یا آدم فائنظر الٰی ساق عرشیء 
فرفع آدم راُسے فنظر الٰی ساق العرش فوجد عليه 
مکتوبًا: لا ال الا اللہ محمد رسول اللہء علی بن أبی 
طالب آف الس رررحٗرقش دانسا 
العالمین والحسن والحسین سیّدا شباب أھل الجنة. 
فقال آدم علیے السلام: یا رّب! من ھؤلاء؟ 
فقال عرٌ وجل: من ذرّییک وھم محیر منسک ومن 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳٠٥٢٣. ۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


حسم خنالانی وارلاتی :کنل رل خلا ٹرالست -- 
والشار ولا السٌماء والأرض فایّاک أن تنظر الیھم بعین 
الحسد فأآخر جک عن جواری. 

فنظر البھم بعین الحسد وتمنی منزلتھم 
فتسلَط الشیطان عليه حتی اکل من الشجرۃ الّٹی نھی 
عنھا وتسلّط علٰی حوٌاء لنظرها الٰی فاطمة علیھا السلام 
بعین الحسد حتّی اأکلت من الشجرة کما کل آدم 
فاخرجھما اللہ عرٌ وجل من جنته وأهبطھما عن جوارہ 
الی الأرض.“ (جارااٹوار رج:٢۲‏ :٣۲۰۳ء‏ :ا١‏ ص:۵٦٦)‏ 

ترجمی:.. امام را سے روایت ‏ ےک آپ نے فرمایا: 
الد تما لی نے فرشتوں سے سد ہکروا کے اور جنت میس رت ےکی 
اجازت د ےک رآ وم علیہالسلا مک وت ہنی کرام سے وانزا نو ان کے 
گی یس ہیسوال ا گل کہ ”کیا اللہ نے جھھ سے انض لکسی بشرو پیدا 
فر مایا ہوگا؟' ایز ول ان کے .گی کے وسو سے یع ہد ئے ء ان 
کوفر مایا: ا ےآ دم !ذراا پناس رأ ٹھااورمی رہ ےعرن کے بات ےکی طرف 
دک انہوں نے اپناسرأ ٹھایا اورگمن کے یا ےکی جانب نگ کین 
اس برک رب تھا: لا اللہ ال اش مھ رسول اژشدہ یی بن الی طااب 
امی رالم ومن ا نکی ہدک فا لم سترۃ نماء الھا ین اون دن 
جوانائنع جنت کر دارے“ 

آوم علیہ اللام نے لپ پچھا: اے تر ٹب ! کون نضرات 
ہیں؟ تر العزت نے فرمایا: میتی رک اولاد ٹل ے ہہول یکین 
تھے اور میری تام ننوتی سے ہر اور پا ری 7س آور سط 
ہوتے فو ٹیس زہ ہچ ھکو پی را کرت اور نہ جشت ودوز رخ کواور تآسان و 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳٣٠۱٢١٥ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


زی نکووجودٹیش لاما۔ کہا نکوصہ دکی نظ سے ریجنا -_ 
قرب سے مبے کال با کرو ںگا۔ 

روم نے نظ رصد سے ال نکود نیکھا اور اع کے متقا ۳ ٘ 
تنا کی و شییطاان ان پرمسلط ہوگیاء یہا ںت کک وو ہج رمٹو “کو 
کان کے مرن ہے اورجواء برشھی شیطانع مسلط ہوا ءہکیونلہ 
اس نے فا ےہاالسلا مکونگا ود سے د بیکھا نتھاء جس کے نیچے میس 
ایس نے بھی7 و مکی طرح ”گج ٤‏ ممنو“کوکھالیاء از یل نے 
ان دوفو ںکوجنت سے کال دیاادراپن ٹب ےز مان پأُجاردیا۔“ 
ن:... ”مع: العجلی عن ابن زکریا القطان عن ابن 
حبیب عن ابن بھلول عن أبیه عن محمد بن سنان عن 
المفضل قال: قال أبو عبداللہ عليیه السلام: انٌ اللہ 
تبارک وتعالی خلق الأرواح قبل الأجساد بألفی عامء 
فجعل أعلاھا وأشرفھا أرواح محمد وعلیٗ وفاطمة 
والحسن والحسین والأئمة بعدھم صلوات اللہ علیھم. 

فلمّا اأسکن اللہ عرٌ وجل آدم وزوجتہ الجنة 
قال لھا: ”کلامنھا رغدًا حیث شنتما ولا تقربا هٰذہ 
الٹسجرہة“ یعنی شجرۃ الحنطة ”فتکونا من الظالمین“ 
فنظر الی منزلة محمد وعلیٗ وفاطمة والحسن 
والحسین والأئمّة من بعدھم فوجداھا أشرف منازل 
أھل الجنة فقالا: یا ریّنا لمن ھذہ المنزلة؟ 

فقال الله جل جلالە: ارفعا رؤژوسکما الی ساق 
عرشی؛ فرفعا رؤورسھما فوجدا اسم محمد وعلیٗ 
وفاطمة والحسن والحسین والأئمة بعدھم صلوات اللہ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


- 


علیھم مکتوبة علی ساق العرش بنور من نور الجبّار جل 


جلاله. 

فقالا:یاربنا!ما أکرم أھل ھذہ المنزلة 
علیک وما أحيھم الیک وما أشرفھم لدیکے؟ فقال 
اللہ جل جلالہ: لولاھم ما خلقتکماء ھؤلاء خزنة علمی 
وأمنائی علٰی سرّی ایّاکما ان تنظرا الیھم بعین الحسد 
ونسمنیا مدزلتھم عندی ومحلّھم من کرامتی فتدخلا 
بڈلک فی نھیی وعصیانی فتکونا من الظالمین. 

یا آدم ویا حوء! لا تنظرا الی أُنواری وحججی 
بعین الحسد فأهبطکما عن جواری وأحل بکما ھوائی 
....,فدلاھمابغرور وحملھما علی تمنی منزلھم 
فنظرا الیھم بعین الحسد فخذلا,“ 

( ہیارالالوار رخج:٢۲‏ ی:٣۳٣۳۲۱۰۳)‏ 

یں ای بنا کنل سے روا کیا لہ 
امام صادقی نے فر ما کہ ایدارک وتھا لی نے اُجسا مکو پداکر نے 
سے دوڑرازسا ل گل رواب /77- 200و 
حم اورتسیین لوا اوھ ہ مکی اروا ںکو دن رقام اروا برع 
شر فٹراردیا ا 

پچ ر جب اق دع وہل نآ وم اوران 0 زی با سو 
رٹ ےکی اجازت دی تو ان سےفر مایا:کھا ٤اس‏ شس سے جو جا ہوء 
ہا لچیں سے چا ہوہ اود اس مت جازاال درشت کے( لگنیم 
کے درخت کے ) ور تنم ہوجا نو گے نطا لم انہوں نے مھ :لی ء فاعلمہ 


2 اورنسن وین کے مرو ںکودیچھا وہ خمام ایی ججنت سے ا و 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠٢٥٢٥. ۸۷۵۱۸۲۰۹6 ۷ 


شر ظ7 سس پر سرت 
ولا ے؟ 

ایل جلالۂ نے فربایا:اپنے س رٹ اک رمیرےعی کے 
پا ےک جا ب نظ رکرد۔ چنانچرانہوں نے وپ دیکھا تق دباع 
کے ہلا پ رم ہیی ء فامہاورسن وحن اوران کے بعد کے تام 
لوا :ارڈ ہم کے اسما ‏ ۓگرا ھی ابقچل جلالیۂ کےنو رکی دوشنائی 
ۓے لک ہو و کئے۔ 


ان دوڈوں نے عت سکیا : اے ہما رے وٹ ! اس مقظام 
کے لوگو ںکو تیرے ہاں ىہ کرام ء اود جیرکی میمحبت اور تیرے ور بار 
ال نو یشرف وفضی تکس بنا رحاس لہوا؟ 
اگل جلال؛ نے فر مایا :اگمر ینہ وت فو میں تم دونو ںکو 
بھی پیدا کرت نے ےم کے بحافظ ںہ میرے بجدیر کے ائین 
ہیں ءا نکوصہ کی نظ رسے و یھن اورمیرے ا ںاانع غ کے ای منقام و 
مرج ےکنا ان لےکمر نے سے چخت پ ہیک ناورم دونوں میریی 
دی کے مرککب ہوکر نافرما نمہرو گے اور ا گموں میں شار 
را گی 
اےآوم اور اے جوا! تم دووں میرے انوار اور میری 
نو ںکونظ رص سے برک نددبکھناور نہیں اپ نا قرب سے ہکا لک 
زلتوں کرآرون لا مگ شطان ےا کیا ا نگوفمرےے 
ان دونو ںکوا نع خر ت کے مقا مکی تنا یر مایا چنا نیرانہوں 
نے ا نکوڑگا ود سے دکیھا ہف ادوفو ںکوزسوائی اھ نا گی 
شی: عن عبدالرحمٰن بن کثیرء عن أبی 
عبداللہ عليه السلام قال: ان الله تبارک وتعالیٰ عرض 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


اڈ ےھ کے یہ ہیں ٠‏ پ ہے ماف جرھا 
ہز ا -> . پ می اگ و یت ×۔ می بی ت ام 


علیٰ آدم فی المیثاق ذرّیّته فمرٌ بە النبیٔ صلی اللہ عليه 


وآلے وھو متکہء علٰی علیٗ عليه السلام, وفاطمة 
صلوات اللّ علیھا تتلوھماء والحسن والحسین علیھما 
السلام یعلوان فاطمةء فقال اللہ: یا آدھ! ایَاک ان تنظر 
اان وس الگ بس سرارس اتا انكداڈ الس 
مثل لە النبیٗ وعلیٗ وفاطمة والحسن والحسین صلوات 
الله علیھم فنظر الیھم بحسد ثمٌ عرضت علیہ الولایة 
فانکرھا فرمته الجنة باوراقھاء فلمّا تاب الی اللہ من 
حسدہ وأقرٌ بالولایة ودعا بحق الخمسة: محمد وعلیٰ 
وفاطمة والحسن والحسین صلوات الله علیھم غفر الله 
لهء وڈلک قولہ: ”فتلقی آدم من ربّه کلمات“ الآیة.“ 
( ءيارااٹرار رح:اا ضص:۱۸۵) 
تہ:.”'کبوالگن یکر سے روایت 2 نام 
صادقی نے فر مایا: ”شا شی الد تارک ونتھا لی نے آوم علیہ 
السلام کےسا ئا نکی تام اولا کوٹ سکیا ء نھیصی اش علیہ لم ان 
کے پاس ےگ رے؟آ پ بی علیہالسلا مکاسہارا ل ےکھڑے جےء 
اوران دونوں کے کی فا صلوات ارڈع ہایس اوران کے جیے 
حن وش نعییہم السلام تھے الفید نے رما یا: ا ےآ دمم! الع بر صد 
کرنے سے پچنا در شداپنے قرب سےگرادو لگا۔ بچلرججب الد نے 
ا نکو جنت میں ٹھرکانا دیا تو ان کے سای بھی بھی ء فاعلمہ او رن و 
تی نکی شب لاک ئی دم علیرالسلام نے ا نکوكظ رص سے دبیکھاء 
رآ و مکوا نکی ولایت کے اق ا رکا عم ہو امرس نے اکا کرد یا تو 
اس کے نیج شس جنت کے نے اس پہ پچنگے گے ء کچھ راس کے بعد 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠٢٢٣۹ ۰۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


توب 


انان 


جب الد سے ان برح کی معائی ما گی اور ولا تکااتر ارگ رلیااوران 
۱ چوں مشمی بی فا اورنسن وین صعلوات ارڈ ہم کےےج کو 
صلی مکرلیا و اید نے ا یکومحا فکردیاء اک کی طرف اس ارشاد 
ار ”فعلقی ام من رب کِمَاب“ مل اشارہکیاگیا ے۔' 
::.._ ”شی: عن موسی بن محمد بن علىیء عن أخیه 
بی الحسن الثالث عليه السلام قال: الشٗجرۃ التی نھی 
اللہ آدم وزوجتہه ان یاکلا منھا شجرۃ الحسدہء عھد 
الما أُن لا ینظرا الی من فضل اللہ عليه وعلی خلائقہ 
بعین الحسدء ولم یجد اللہ له عزمًا,“ 
(جمارالاوار :ا١ا )۱۸١:‏ 

تجمہ:.. "موی جن مھ ینعی اپ بھاگی لوان مات 
علبیہالسلام سے دداحی تک تے خی ںکہانہوں نے خر مایا: ایند ےآ دم 
کویجنگایوفی کی از قار سےا 
تماء اانشد نے ان دوفوں سے ہی بچبو لیا تھ اک ان یوق میں سے ہو سکو 
ائلد نے نما فضیلت جگی ہے اس بر ضن دنا کر میں گے مان الد 
نے ا کو دکا پت تہ پایا۔ 
ز:.۔ ”الحسین بن محمد عن أحمد بن اسحاق: 
عن بکر بن محمدہ عن أبی بصیر قال: قال أبو عبداللہ 
علیے السلام: اصول الکفر ٹلاثة: الخحرص: 
والاستکبارء والحسد فَامًا الحرص فان آدم عليه 
السلام حین نھی عن الشجرۃء حمله الحرص علٰی ان 
اکل منھاء ومًا الاستکبار فابلیس حیث أمر بالسُجود 
لآدم فابیء وأمًا الحسد فابنا آدم حیث قتل أحدھما 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


(أصرل)انی ع٢‏ ۴۶ص:۲۸۹) 
تر جمہ:..' اہواصیر سے روایت ےک ا کرای دعلی السلام 

نے فر مایا :کف کی تن بیادمیی ہیں تم گب راورصد حرش و اس 

طر حک ہآ دم علیہ السلا مکو جب ”مج رگ عمنوی“(ورشتت جن سکا مل 

کھانے سےش کیا گیا تھا )ےش کرد یاعگیا تھی نے بی اسے 

کھان ےکی ای کی اور جیکی نار ٹس ن ےم خداوندیی کے 

باوج دآد مکوجد ہر نے سے اکا رکیا۔ اور دک بیاد بآم جاک 

ۃء/ھ 

الیپنفل جات ہی ںک ےد وکبرائی کا مل ہے ہنیس نے اس کو ہییشہ کے 
لئے ملحون اوررا ند٤‏ درگا ہرد یا۔ شیبعہ راو وں نے ید وکہراورنٹنش تیوں ا صو لک ق و سینا 
ابوالیش علیہ السلا مکی طر فمطسو بک کےگویاا نکو.. ہو بال.... انیس بھی ڑھادیاء 
ا رمعم خداوندی سے سربال یکر نا بھ یکفروستو د ہے شبیعہ راوایوں نے ال سکوبھی با لف 
ہر تآ دم علیاسلا می طرفمفسو بگرویا.. توؤپالٹر..! 
پاریہواں لو رت ابرا ڈیم علیرالسلا کو پییلے نت ء پچ رحلت ء پچ را مات 
دب یئی: 

امام کا زع ججّت ے پالا '“ اہم تکرے کے لئے اہ ںاما نک ی بھی 
تر روایا ت تھی کک سک منرت ابراآیمعالی ہنا وعليہ الصلوات والتسلیمات 
کو پیل جات عطا ک گنی ء بر خلت کا مرتب عطاعکیامگمیا ال کے بح دتیسرے مرتے میں 
مات عطاکیکئی اس حلسن کی ایک روایت: 

”انٌ الامسامة خص اللہ عرٌ وجل بھا ابراھیم 
الخلیل عليه السلام بعد النبوٴۃ والخلّة مرتبة ثالئة 
وفضیلة شرّفه بھا اوشاد بھا ذکرہ فقال عرٌوجلُ: انی 


7۷7 ۹.۷۸۱۲۹6۴م 6510۲١1۵۷۳۰‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


رویجیہ)۔ ۱ سے لم سور 


۶×س >_‪‫7.ھ ‏ نٹ نس س تس 'ججچ ت:ی-4ە9566-مغغغاس-۵۵۵۳۲۳-۰[ ۵2۵۵۵۵۵ نج0 تس ہچ سے 


جاعلک للداس إمامًا,.“ (ہیارالاوار رج:٢۲‏ ۴ص:۱١٢)‏ 
ترجہ:..' ابا ڈیم علہرالعلا مکواایدنتھا لی نے خ وت وخلت 
عط اکر نے کے بح تیسرے مم رت پر امام تک فضیلت سےمشرف 
کیا ءا کی طرف ارشادہاری تعا ٰی :”اِنَیْ جَاعِلک لِلَاس إِمَامَا“ 
میس اشمار ہک یانگیاے۔' 
ہوا ںفلو: ضر تیم ارڈ رکش أّۂ اصطفا“ امام لکی لا ی تک وج 
سے چنا اگیا: 
ماع ناصسکر یک طرف فو بک یامگیاکہانہوں نے ایک ڑ تے می لٹ مرف مایا 
”'فالکلیم البس حلة الاصطفاء لما عھدنا منہ 
الوفا.“ ( ارالانوار ۲٢:‏ ص:۵٦٢۲)‏ 
ترجمہ:..پی ںیم او خی اصطفا “اس وت پہنایاگیا 
جب اس نے اع سے وفاپالیٰ۔' 
ووہواں غلو: اگ رموی علیہ السلام زندہ ہہوتے لو ان پر ام ری طاعت 
واجب +وئی: 
خیش ریف یل ایک شکیہ کمن بین بارشا گی وا ردے؛ 
لو کان موملی با لھا وسعہ ا اقباعی۔“ 
روں ففلقق عو السلام زندہ ہوئے وا نکو 
میرک اتا کے بخی رجار دنہ ہوتا۔ 
الس عد یٹ سے ا تنم اکر تے ہو ئے بیہا مت فکہدد اگ یا کہ 
”قال الحسن بن سلیمان: فعلی ھٰذا لو کان 
موسی عليه السلام فی زمن محمد صلی اللہ عليه وآله 
وسلم لما وسعہ الا اتباعهء وکان من امّتہء ووجب عليه 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۸۲۹6 ۷ 


طاعة وصیّه أُمیر المؤمنین والأوصیاء من بعدہ علیھم 
السلام.“ ( بیارالاٹوار رخ:٢۲‏ صض:٣٣۳)‏ 
بط عان سے غابت ہوا کہ گر مدکی علی السلام ٠‏ 

مکی الشعلیہ وآ ہایلم کے مانے یس ہہو تے وا نکوآ پکی اع 

کے یر ارہ نہ ہوتاء اور و هآپ کے انی وت ۔ اور الن بب آپ 

کے ہی امہ رالھ نان اوران کے بد وڈ وصرے اوصیا ہم السلا مکی 

اطاعتگگ واجب ہو لی 
پندرہواں مان حطرت الوب علیہ الللام نے ححضرت کی مامت میں 
ککیاء اس لے بجا ری یں متا ہو ےئ : 

9 الطا کش ا وشتف رو یک کاب ”مسائل الہلدان' ٹیس ری سند کے سا تجھ 
حرت سلمان فاری اور می الم مین ر٘شی اولاہما کا ایک مکال یق لک امیا ے :جس میں 
تا گیا ےک منرت الوب علیرالسلام کے الا کا بب بہتھاکانہوں نے" ولا یت گی 
یس شی کفکیا خھاء رواحی تکا در نع ذ مل حصی ما جنظفرمائۓ : 

”فقال أمیر المؤمنین عليه السلام: أتدری ما 

قصّة أَیُوب وسبب تغیّر نعمة اللہ عليه؟ قال: الله أعلم 

وأانت یا أمیر المؤمنین. قال: لمّا کان عند الانبعاث 

للسطق شک أیّوب فی ملکی فقال: ھٰذا خطب جلیل 

وأمر جسیے, قال الله عرٌ وجلٗ: یا ایّوب! آنشک فی 

صررہة أقمتہ انا؟ انی ابتلیت آدم بالبلاء فوھہبته لە 

ورصفحت عفہ بالعسلیم عليه بأامرۃ المؤھنین وأنت 

تقول: خطب جلیل وأمر جسیم؟ فوعرّتی لأذیفتک 

من عذابی أو تعوب الیٗ بالطاعة لأمیر الموؤمنین. 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ٹم اُدرکتە السعادۃ بی یعنی أنه تاب وأذعن 
بالطاعة لأمیر المؤمنین عليه السلام وعلی ذرّيّمہ 
الطیٔبین عليھم السلاھ.“ (ہارالاثوار رخ:٢۲‏ ۷ص:۹۳٣۲)‏ 

7 ور سر علے السلام نے فھ مایا : کا ھے 
توق رہ ےک وپ جس می لآ یا؟ اوران سے ایل یں نے 
کا کیا بب بنا؟ سلممالنع لن ےکہا: اے ام الو من ! الد جات ے یا 
آ پکومعلوم ہے۔فر ماکز جب الد تھا لی نے (میریی امامت ان 
کے سائے یی سک کے ) اانع سے افمرائرلیا و او بک مبریی ا مامت 
ٹیس شیک ہوا اور سکیل گے : بل کی بات سے اور بڑا چھا ری معامطہ 
ہے۔الٹعمز یل نے ف رما اکہ: اے الاب ا تو ال سحخصبیت یں فیک 
کرتا ہے مم سکو میں نے خودمقر رکا ہے؟ ای ہنا یر میں ن ےآ و مکو 
اتا میس ڈالا ۔ پچ رام رالھو مش٢‏ نکی بامار ت لیو مکر لیے کے صلے میں 
ال پرعنایا تکیل اورا سکومحا فکردیا۔ اور ڈکہتا کہ مہ بڑگی 
ات اور بچھارگیٰ محاطلہ ہے؟ یجھے انی عز تک یشک ! میس تھے اپنا 
عذزاب ہچگھاکررہو ںگا یبہا لم کک نے رہاب ہوک رآمیرالھ مین 
گی اطاعحع تکا اق ار کر نے- 

چرم رےۓمشنل ا نکو بیسعادت عیب ہوگی ءلشنیانہوں 
نے نو کی اود امیر الھ ومن علیہ الام اور ا نکی یاکیزہ او مہم 
السلا مکی اطا عح تک اق ارکرلیا۔'“ 


سواہوال عُلو: مضرت لیس علیہ السلام 7 


کے پیٹ بین پیا ےئ 


اس مو نک یتصزی فکردودرج زیل چندروا تی ملا نف رما ے: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۰۷ 


التنےدی اھر تو ہماع شر تن 
محمد عن أبيه عن آبائه قال: قال رسول اللہ صلی اللہ 
عليه وآله: ان الله تعالیٰ عرض ولایة علیٌ بن أبی طالب 
عليه السلام علی اُھل السماوات وأھل الأرض ققبلوھا 
ما خلا یونس بن متی فعاقبه الله وحبسه فی بطن الحوت 
لانکارہ ولایة أمیر الم منین علی بن أبی طالب عليه 
السلام حتی قبلھا.“ (جوارا(اثوار )۳٣۳٣۴٣٣ ٣٣۳ 0٣م ٢۹:۶‏ 
ا ا اٹ باپ داداکی سد ے 
ز ات یکر ہ کہ زرسوگی اڈیصکی اللعلی لم ۳او الہ 
تماٹی نے علی بن الی طااب علیہ السلا مکی ول بی تآ سمائنع والوں اور 
زین والوں پ یی کی تو ینس بک نیت کے سوا سب نے اسےقیول 
کرلیاء ال کے ٹج یس الد نے ای سکول درس زا ھی کے پیٹ ٹس 
قیرکرد یا ءکیونگکہانہوں نے امب رالھ تی نک جن لی طال بک ولا مت 
کا اکا رکردیا خھاء ہا لت کفکہانہوں نے ا سکوتو لکیا تب ال کو 
207۷س 
ب:... "یر: ابن معروف عن سعدان عن صباح 
المزئی عن الحارث بن حصیرۃ عن حبَة العرنی قال: 
قال أمسر المؤمنین عليه السلام: ان الله عرض ولایتی 
علٰی أُھل السماوات وعلٰی اأھل الأرض أَقَرٌ بھا من أفَرّ 
وأانکرھا من أنکرء أنکرھا یونس فحبس اللہ فی بطن 
الحوت حتی أَقر بھا.“ (ہیارالاوار ۲٢:‏ ص۸۲) 
ترجھہ:..' ام رالھ سن علیہ العلام نے فرما اک : الپند نے 


می ری ولا ی تک وآ سان والوں اور زُن والولں ری کیا ء جس 0 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


تر ری او 3 ڈگارکرنا تھاءمحگرہواء ایس نے 
بھی اکا کرد یا تھا ءن او ےا سے لی کے پیٹ بین رکز با 
ےہاک کک اس رن بھی صلی مک ریا“ 
یگ رکا ےکہ ولا بہت ام می گنک وا اکارکڈرہے مگویا حضرت الوب اور 
مظرت ا سک ہاالسلام.. ھوزبابقہ... بی ےکف ری بنا ہو ۓ ء نچھرال سے تاب ہو ئے ۔ 
سز ہواں فُلؤ: ہب اٹ کی مکی ےکی انی کے سا تح کو ینا ونقراع 
یں وخ 
شض مخت گناہ ںکی تع پچی ذٹنے کے لئے زوا گج تی فک کی 
ےکحبپ لن کے سا کوک یناو میس ٠‏ وین لی کس فارگ می سط امت 
اکنا سرے: 
'أبو تراب فی الحدائق والخوارزمی فی 
الأربعین باسنادھما عن انس والدیلمیٗ فی الفردوس 
عن معاذء رجماعة عن ابن عمر قال النبی صلی اللہ عليه 
وآله: حبُٗ علیٗ بن أبی طالب حسنة لا تضرٌ معھا سیّئةء 
(بیارالانوار مع:۳۹ ۷ص:۹٦۲۵)‏ 
زج :.. ”الما مواڈ اورائن ا حضررت صلی قد علیہ 
و 7غ کر نے و سخ نل یی بی ہے جن کی 
مات ےکوئ یگمنا میس ؛ اور لین لی ال انا ےجنس کے سا تھ 
کیا یں ا 
”'وقال ابن عبّاس: کان یھودی یحب علئ مُبًا 
شدیدًاء فمات ولم یسلمء قال ابن عبّاس: فیقول الجبَار 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳۱۱٢٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


تبسارک وتعالی: أمًا جنتی فلیس لە فیھا نصیب؛ ولٰکن 
یا نار لا تھیدیه - ای لا تز عجیه-. 
فضائل أحمد وفردوس الدیلمیٔ: قال عمر بن 
الخطاب: قال النبی صلی اللہ عليه وآلە: حبٔ علیٌ 
براءة من النارء وأآنشد: 
حبّ علیٌ جنةللوری 
احطط بە یا رب آوزاری 
لوان فمَانوی ّے 
حصن فی النار من النار 
( بیارالانوار :۳۹ ۷صض:۲۵۸) 
تر ...این عبائ ئ سککتے ہی ںک ایک بہودیی حضرت لی 
کے سا تحوشمد ببحبت کت قھاء دہ الام لا ۓ خیرم گیا ء ادن تھی نے 
نرمایا کہ : می ری نت یل و ا کا ح مال مان اے دوزخغ انڑائں 
0 
فضانل ام وفردوں دیٹھی میں ےک حطرت عم رین 
نطاب آفحضرت صلی الد علیہ ویلم کیا ارنشا نف لکرتے ہی کہ 
ا دوزرخغ ےآ زاوئیکا وانہ ےء او رآپ ےے دوشعر 
بڑھھےل کن کا خر جم بے :) 
یکی عحبتخلوقی کے لئ لت سے اے می رر ے کرٹ ا 
اس کے ذر یج میرے بویھو ںکو پٹ د یئ ۔ اگ کوٹ یکا ف رن بی 
امب تفکر نے وودوزخ یں دوزرحغ تو رے' 


مر ےکا خقیدہ تھاکہائیمان کے بح کو یگمنا :تا نیس د یتامحلان علا گی 


گی مندرحجہ پالا نر کے مطابقی <٢‏ بی کے بح رکف بھی مھ ہیں ہ اورنقلِ بالا سے بیگجی 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610٥۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


دس سے نے لا" عبت کر 
انھاروال لق زوا مطبرا کی لا تی کے پرڑی: 
علام کین ے سن بن سلیما نکی ”کاب ال مصحتضر“ کے جو الے سے ایک 
برع ردایت اخ لک ے من سکا ای ککگڑاہرے: 


الا وانی قد . ا٭ آفو نسائی بیدة:“' 


( ارالاٹوار رع:٢۲‏ ص:٦٦)‏ 
ترچھ:...” نوا اور بے شک میں نے اپٹی یلو ں کا 
معامیٹگی کے پاتھ بیس دے ہے 
اس روابی تک لیف کے ما صداورممححرات ا ہم دوائش ہے یں _ 
أنیسواں غاؤ: کر ب کیفلی قکع ریف سے لے ہہوئی: 
اک ووالحا م کے ''باب حدوث العالم وہدء خلقہ' 
ہیں ابوسعی دع ا والحصٹر یی تاب ک ھ انے سے امام با ر گی ایت عکیے: 
”ے -٣٣‏ ومنە: عن عمروء عن أبیەء عن أبی 
جعفر عليیه السلام قال: خلق الله ارض کربلاء قبل ان 
یخلق أرض الکعبة باربعة وعشرین الف عامء وقدسھا 
وبارک علیھا فما زالت قبل خلق اللہ الخلق مقدسۃة 
مبارکةء ولا تزال کذالک حتی یجعلھا الله أفضل ارض 
فی الجنة, وأفضل منزل ومسکن یسکن اللہ فيے 
أولٰیاءہ فی الجمة.“ (جحارالنوار رع:۵۳ گص:٢۰‏ روایت:ك٥۱)‏ 
رجم:.. ”امام پا ر نے فرمایا: الد تھا ی ن ےکع کی 
زی نکو پیلد اکر نے سے چوٹیں برارسالی بی کر بل ای ز شی نکو پیرا 
کیا اور سے مقر بنا اور 7 کو ہا ہمت ہنایا :یی یلو قکیفلیق 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۵۸۲۹6‎ ۷ 


گے خیلہ رون دبا پآ ار 29 ۴7۴097 ا 

گیا وبا نم ف کنا ای ا کو لت یں سب سے انف زجع 

چان کیو ان یی در ےئل ونان ون ورك 

ینس میس ایل تھا لی ا نے اولیا رکھ را" 7 7س 

چن نایا وقا ئ' لف لک کف اش کے طور لت یئل کے گے ہیں ء 
اکرعز یق لکی جا ے وا کی میسییوں مالیش اورچھیمیی سکی اور تا دن پڑھ چاہلوں 
کےکیء بل شیعہ نہب کے اکا بر وعناد بد کے ہیں ءہجتتھوں نے ان روایا تکو لو رر اسنا 
ات کمابوں می اف کیا ہے اوران پر سرخاںل جھائی یں ءججیہااک رای بحٹ کےنشروں ش 
علامہ ہق رححی کے با بکی سرٹی‌ لکر چنگا ہو ںکہ:” مہ انمیا ۓکرا مہم السلام سے 
ال ہیں اور کہ :امام تکا درب تخت سے باذاتر ۓے'۔ 


۸۷۷۷۷۰۱٥۶۹۷۲۱۷۷۴ ۰۷۷۷۲۱0۲655. 11 ۱ 


انیس بکٹث: اماعت میں الو ہی کی تھلکیاں 


یر زاولو ںک مہال فآراگوں اورغلوَ پنر وں سے صحرف موک یکا سک نات و 
رمالا تکا مقام رب جرد ہواء ل۰ ہم کی شان میس ا لیا نہ تید :خوال یکرت ہو ئۓے 
انہوں ے پارگا مر بہت کے ادب وا تر ا مکوچ یہو یں رکھا_ بج معلوم ےک ضعحقرات 
ام بطاکی شزت کے ماھت سے مات لو می کیٹ کیا ار تے ہیں اور جوف تئے ان 
جثرا تک ااوہیت کے قائل ہیں ء ان ےت بنرا رک یکا اظہا دکی اکر تے یں کن 7 
مبالضآرا یکا راع پت تر ہو چکا سے اس لئ ان بن رگو ںکو ما فوقی الیش مر اہر کر نے 
یں دہیھ یی غالی سے ت یس ۔ 

علا ناس یکا قرو مرکمزر چکا ےکہ: 

اماص تک دجہت ے الاہے۔" 
افدرآیت ال نین یکا رف ری یکر کا ےکر 
قد ازس الپ 

نار ےا تس کے متا م اور ےکو کو کی مقر فرش تق سک ے اور 

وی نیم مل“ (النکور۔الاسلاے. كض:۵٢)‏ 

عل ای اور ولا شف ا عقیدے کے اظہہار برا لے مور ےک شبعہ 
راو یں کے مطاق !امو یلیم بج یی ء چنا مرو کاٹی یس امام صادق“ کاشیوں 
کو سی ا لکا ای کن رہ ملا حتف رما ۓ : 

ان فضلھملابلغه ملک مقرب ولانبیٔ 
مُرسٌل۔“ (ررفبالی خ:۸ گ:٭۱) 


۷۷۷۷۷۷ .ٌ0610۲١۷۳۳٥٢۱٢٥۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


تچھہ:..''ان کے درس کون ہکوکی رس شع سم 
ہےاورنہ یی مرل۔ 
اس ےئ ع نظ رک اس میں آحضرت صلی اللد علیہ ومک سیت جات انمیاے 
کرام مالسلا مک یی نے وین ون ہے :فو رک رن ےکی بات ہہ ہےکرساالت وشقات سے 
بالات ھری رن خدا کا ےن کیا نہ غدالئی کے مر میں بھی ول دقل رکج ہیں؟ 
رات اما مکی روامیت سے ال کی چن بجھلکیاں ملا حظفرما ا : 
:زڈواشل سے پا گی ؟ 
رآ نک ریم میس ےک حضرت موی علیہ الام نے اب یقوم سےف رم با: 
”نال رض لی رتا مَنْ يُمَاَءُمِنْ عِبَادو“ 
(ا۱۶ائے:۸٢۱)‏ 
ترچھہ:... بے شک زمحانع سے الل کیہ ا کا وارٹ 
کمردے جس سکوچا ےاپے بنروں ہیں۔" 
”أصو کا ٹیش ایک با بکاعنوان ے:”ان الأارض کلہا للامام عليه 
السلام“ مإی'ز شن سار !ما مکیککیت ہے مطلب ییکہز من !ما مکی جاگیر ےج ںکو 
جا نے :کن ےجا سے ےن 
چنا ای باب یں الواصیرسےدداایت ہ ےکیٹ نے امام صاد تی سے لپ چھا: 
”اما ی الامام زکاة؟ فقال: اأحلت یا با 
محمد أما علمت ان الڈُنیا والآخرۃ للامام یضعھا حیث 
یشاء ویدفعھا الی من یشاءء جائز لە ڈألک من اللّء ان 
الامام یا أہا محمد لا یبیت لیلة بدا ولل فی عنقہ حىٌ 
یسآلہ عنه “ (اصو لکاٰ نَا ص:۹٥)‏ 
7ب 7ی امام پر زکو یں ہوئی؟ تروانا کہ امے 
جچگسو۱۰ سس۸ سر :کو مس صىوٛفوٗزمشسج ای ہدج 


الو !لو ےس سی تھے معل میں ای اک ہڈاوا خرت 7 
ایت سے جہاں جا سے ر کے اور" یا ںنکوائڈ 
تال یکی جاب سے ا سکابردانہعاصل سے۔اے اوشھر! امام ایک 
را ت بھی ای حالت می لی ںگز ار کہا لک یکگمردن برا کا ہوء 
ین کک بے کان ون ان ےتا یکر نے“ 


۳ جلانااور مارنا: 
ف رن ہیر یں ححضرت ابرا ڈیم علیہ السلام او رق رو وکا من ظظ رش لکما ےک نپ 
نت اب را ٹیم علیرالسلام ن خر ماما: 
”بی الَِیْ يُحْيىْ وَبْميْےٰ“ 


سے _. قف کے بے ےۓے جا “٤‏ 
کرجھہ.... یراز ت دودے جو ند وگ رتا سے اور مارتاے 


و نمرود کہا 
ا لی کہ (ا/تر۵۸۸:7٥)‏ 


...نمی جا جا اور مارتاہوں" 
اب٥‏ کی کی یمر ود نھر ‏ شیع راولوں نے تحررتت ام ےمفسو بگردیا: 
”وأنا أحیی وأنا آمیت وأناحی لا أموت“ 
( ہارالاوار :۳۹ صضص:۰٣۳)‏ 
تڑھ:.. ”نیس ج۴ ہوںء ٹل مارتا ہولء شش گی ا 
کوٹ ہوں_“ 


...ال وآ خر ظا ہرد باعین: 
ق رآ نکرم میس الدتعا یکیشمان یل فر مایا ے: 
هو اَل وَالاجروَالطَِر وَالبَاطِْ وَهْر بکُلِ 
شش عَلِیْ“ (اگیر ب.:٣)‏ 


۷۷۷۷۷۷ .ٌ0610۲١۷۳۳٥۱۱٥۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


تج:: وی اقولی ہج : وی آنجر تۓے+ دقی ظاہرے 
وی با نءاورو کی سب جو جات ے _“ 
اورشیں‌راولوں ےحضرت| بھڑے ان ے: 

”انا الأوّلء وأنا الآخرء وأنا الباطن وانا 
الظاھرء وأنا بکل شیء علیم“(بارالاٹوار ج:۳۹ ص۰۰ی٣۳)‏ 

ترجمہ:..! یس می اول ہوںء میں ب یآ خر ہوںء میں ہی 
انی ہو ء یل بی ظا ہربہول ۱ اود می ہ رتو جات ہوں _' 


: یتو کے بجیار جا تنا‎ ۳٣ 
مک نکر می سکیا حجکہ ال تھالی کے باارے می قرمایا:‎ 
”رَهُوَعَلِیْم بذّاتِ الصْدور“‎ 
تھجمہ:.. ای ددتھالی سبدنوں کےبپر جات ہیں“‎ 
اد رگد چا ےک امامیہ کے نز د یک اہ مینول کے بجید جات ہیں۔‎ 
738ا کا لکف:‎ 
سور فان میں فرمایا:‎ 
”ملک یَوُم الاَیٔن“‎ 
تج ا ڑاگ‎ 
شمبعرراووں نے نحخرتیلی رشی ادڈدعنہکورو نر جتزا کا ما میں ماب تک نے کے‎ 
: لئے بہتکی روا تھی فک ری بن بجملہران کے ایگ ہے‎ 
قال: وروی البرقیٔ فی کتاب الآبات‎ -” 
عن أبی عبدالل عليه السلام ان رسول اللہ صلی اللہ عليه‎ 
وآلە قال لأمیر المؤمنین عليه السلام: یا علیٔ! أنت دیّان‎ 
هذہ الْمَة والمتولّی حسابھمء وأنت رکن اللہ الأعظم‎ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱۱١٣. ۸۷۵۸۲۴ ۷ 


یوم القیامةء الا وانْ المآب الیک,ء والحساب علیک 
ورالصراط صراطک, والمیزان میزانک, والموقف 
مرقفک۔“ ( ہارالانوار ۲٢:‏ ۴ص:٣٢+٤)‏ 
تج  :..:‏ رت صار یق" سےدوایت ےک رسول الد 
صلی ال علیہ دآلہ نے امیر الموسنین علیہ السلام سے ماا: ا ےکی تم 
بی اس امس کو برلہددہیے داے ہو۱ ال نکیا حما بتمہارے بی سرد 
ےکم قیامت کے ون الد کےارکن انم ہوگے سوا نے ات 
تی کی طرف بی لوگو ںکا لوٹ ہوگاء او رت رے ذ مہ بی لوگو یکا صاب 
ہوگاء بی صعراط تار ہوگا میزان عدال تہارک ہوگی ء اور قام کا 
موم کہا را ہوا 
ری ا والثار: 
بہتکی روابات شی تخرت مر کالقب ''قسیم الجنة والنار“ آڑ ے٠“‏ 
ات ددد کی مان کے پپردے۔علایتاٹی ے ءارالاوار””کتعاب تاریخ اأمیر 
المؤمنین“ مُ! لب ٣اپ‏ ندعاے: 
”انه عليه السلام قسیم الجنة والتار“ 
( بھارالاٹوار ع:۳۹ ص:۱۹۳) 
ے:.. کا کات کےؤڑے از مرو بن یعلومت: 
اگ نات إمامیرالع قمام أُ مو رکی تاو یلا ت فر مات ہیں ؛من شیع راویوں 
نے حعقریات ات کو خداینان ےکی اکچھی اص یکو کی ہے۔اٹھی سے متا بہوکردو رحاضر 
سے سن ات نا نت اش گی تا یساب 'احلومت الاسلامی ٹل 
”الولایة الحکویدیۃ“ کے زی نوا نپ ربیفرمایا: 
فان للامام مقَامًا محمودا ودرجة سامیة 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6۴ ۷ 


وخلافة تکویۓیة تشخضع لولایٹھا وسیطرتھا جمیع 
ذرات الکون.“ (ص۴٥۵)‏ 
را پا .”اما مکووہ مقا متود اور وہ بلند درچہ اور الک 
کو بی علومت حاصل ہولی ےک کا تا تکا ذزہ ذ نہ اس ک ےمم و 
افقترار کے سا ےےہرنگوں اورزی رف مان ہوتاے 
خلاصہ ب ےکآ ئل ہم برڈور 'ابھی نماصی غداکی حاصکل سے ای7 تے 
ا مکی شان یی اس موی" شورا شورگی' 'د یھ اورڈوسری طر ف یہی مکی 
ما عفر ما ےکی تام ت اقتزارہ اختار کے پاوجودأئمہ بدة الع رنقا بتقیہ یل دلو 


2 7 کر کے ہے لال اعم 
رےء !نا لف وانا اليه راجعون...! 


وەومححچىصصددصدصصحفطصدەسسث-دتت×-س سستسی[ُ,کسسسسسوسجوستگص<ڑڑٹدستےڑھسٛکھڑکڑھ-ٹگکگےںتتٹتتتڑکھھ+و×پ۰]۰ککجد-دسصحڑُکدجت×-×۷۰-ص-صحد>-صصدس-سگحٗ-ٗد-<د-کدکگےکگککُکَۓد 0کک زگکککک۔9نت۶*٤ک××۱٠۱۱...سد۱الاک‏ کک کک .۱٣کبھےے_پے>إ٦..2--2‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


آٹھو یس بجکث: کیا عقیدۃ مامت دمین وعل تکی حفانظ ت کاڈ ر نے بنا؟ 


آ ناب ک یف مات ہیں: 
یش ہت پرمویصلی صلی ال لی نلم سے 

ساتھ بر عقیدہ (متنی عمقیدءٗ مامت ) ممزدح ہوک حفظہ دوہی سے 

عق ہوتاے..... اما مکا منصب اتقاصت دومن او رذ مت ے_'' 

ض٣‏ بت برآپ ععظرا تکا یسا بد ایمان ے٤‏ ا سکی تحیقت و و رمعلوم 
ہیچگی ١د‏ ہا آپ عفرا تکا کہ نیقی مامت حفظ دی نکاضاشن ہے اور کہ د بن وت 
کی طاظت امام کے ریس ہوکتی ۔ اف لق دوڈوں مقدے فلط ہیں آپ دکپد سے ہیں 
کہگیادوصد بیوں ےآ پکاامام خی رحاضرے ہگ رفنضمل خداوندیی ائڈدتھا یکا دن جو ںکا 
و ںتفوظ چلا آجا ہے شس سے ایت ہوا ےکم وی نکی تفاظت امام پر موقو فکیںء 
کیوک ہاگ رآ رج کے دوریش ور وفشن میں ج تحضر ت صلی الدحعلیہویلم کے با رت ز مانے 
سے چودہسوسا لکائعد ہو چکا ہے باوجوداس کے اکا دی نتفوظطا ر وکا ے ...او بر الہ 
تفوطا ے. رن وکوئی وی ںکہآحض رت مکی اللہ علیہ وملم کے فو راب رآپ کے اصطلای 
”امام کے بغیردی نتفوظا نر بتا۔ 

اگکرفرف س مکی کہ اما مکی ضرورت حفظط ین بی کک کاو ین و کر 
یا اجازت چا ہو ںگاک ہآ پ جخرات نے اماموں کے لاب میں ایی کو 
آپ نے" ماع رتاباء حول شیعہ کے مطابن ان کے ڈر یت وی نکی تفاظ ت یں ہوگی ء 
بلہ کتقیدۂ ا مامت وین ول تک ینف یب اور گن یکا سبب ہنا ال تال نت بج نک یا ء'“ 
(مچی غلفاء) مات ہیں ءان کے ڈر ہے اید تھاٹی کے وی نکی ای ططاظت ہہوگی جت سکی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ہہس ہی یں ور سر کر 
رتا ہوں۔ ام بک شبعہ مجن اکا برک امام کے ہیں ء خودشیعہ ا صول کے مطا لق الن 
وزارت کی فصن گی ہوں ا و تخت ای سے 
سکم أُصولوں کے مطاب حفظہ وین ول تکا ذ ربچ ہاب ت کیل ہوا ۔اورووسرکیا ,گٹ پان 
پاش ال سنت کے خلنماۓ راشد بین ...بی الل نم ... سے الد تھی نے جن لت و 
اقامست دی نکاکام لیا۔ 
شبیعہ کے نز دریک الوالا تم بھی دومن وع تکی تفاظت تہ وگ 

شیجوں کے امام خالی سے امام خوات بک کگمیارہاماموں کے ت کون سچھوڑ ہے ء 
شییم اصول کے مطابقی ان کے ہ مام ال ابوالا نم ححضرت امیر الم مین ٗی ارح ہیی د بین 
وم کی تفاظت :کر کے اور ا نکی امام تکا عقیرہ نے مقصد ہی رہا۔ لیقین ن ہآ ئے تو 
”رو کاٹ کی روا تی :اش معبرت ملا حرف ما ہے :ینس میس مہ رالم ومن نکا طول 
خطب ذکرکیاگیاہےءاس ض کا قتبال در نع ذ یگ ے: 

”قد علمت الولاة قبلی اغمالا خالفوا فیھا 

رسول اللہ صلی اللہ عليه وآله متعمّدین لخلافہء ناقضین 

لعھدہ مغیّرین لسنتہ ولو حملت الناس علی ت رکھا 

وحوٗلتھا الی مواضعھا ولی ما کانت فی عھد رسول اللہ 

صلی اللہ عليه و آله لتفرّق عنی جندی حتی أبقی ورحدی 

أو قلیل من شیعتی الَذین عرفوا فضلی وفرض امامتی 

من کتاب اللہ عرٌ وجل وسنة رسول اللہ صلی اللہ عليه 

وآله.“ (ررضگائی ع:۸ ۵۹:۴) 

وی لیے مل کے جک ا ےآ لین داپنٹ 
ائحمالی کے جن یس جان بو ےکر رسول ارڈ سی این رعلی دا کی مخالشت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳۱۱١٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


گیا ءآآپ کےج رکون ٹڑ ڈالا اورآ پکی سن تکو رل ڈالا ءا باگمر یل 

لوگو ںکوان کے کچھوڑ نے پآ ماد وکنا جیا ہہوں او را نکو پر کرای 2 
پ4 لانا جا ہوں جس پر وہ رسول ال رسکی ائلدعلیہ الہ کےى ہر مبارک 
یش ھت( یھ خوف ےک ہ) ری دی فوع یقن یاکیچوڑد گی 
اور تار چاو ں کا اکھوڑے بہت میرے ود شی! میرے سا تو رہ 
جا یں گے جن پرمی ری یلت او رکاب وسنت سے می ری اماصمت 
کی فرضی تکی تقیقت حابت ہو گی ے_' 


ال کے بح رت ایر ناڈ ا ےی شی 
پقول خظراے“ نے انیوادگیحھھن مغ ایت لاعفا نکر دد نا 


لوک جن سے الک جا نفیں گے او برق مایا: 


”والل!القد أمرت الناس أن لا یجتمعرا فی 

شھر رمضان الا فی فریضة وأعلمتھم أنٗ اجتماعھم فی 

النوافل بدعة فتنادی بعض أھل عسکری ممّن یقاتل 

معی: یا اُھل الاسلام غیّرت سنة عمر یٹھانا عن الصلاة 

فی شھر رمضان تطوّعًا ولقد محفت أن یٹوروا فی ناحیة 

پہ سو سوہ سن یہ جج 
وطاعة أئمة الضلالة والدُعاۃ الی انار ۔...... 

(ررفےگال غ:۸ /ض:۳٢۳٦۳٣)‏ 

ترجھہ:.. ال کیا میں ے لوکو ںکویم دیا تھا کہ 

رمضمائن یں فرش کے ہلاو ہکوئی نماز باجماحت ادا کیا میں ( یڑ 

تر اع کی نماز نہ بیس ) اوراا نک ہہ لا اک نو اش لکاہاجا حت ادا 

کنا برعت ے ذ میرے بی نکر میں ا لیے لوک جو میریی معیت 

ںا لکر تے ہیں چا ےکا اب اسلام ا سن تع رکوتبد یل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۱۷۳۳٠٢٣. ۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ہیں رمضان ماف نماز (یشنی تراوع) 
پڑ ھن سےردکنا چا بتاے۔ یس ڈرتا ہو ںکہ ہیلک می ےھکر سے 
ایک جیےکوہی میرے ہمان لکھٹاکھردمل گے میں نے ان لوگو ںکو 
بہت بی فرقہ بازہ تم عفلاات کے پچیروکار اور مکی جانب دکوت 
دح وا ےبایا۔ت 
یر طبہ بلاش رآ لس اک یصفیف ہے جس می غلفذاۓ جحلا ےز یادو سض تی 
کر الہ ج کی جو“ ہے۔ چنا غیراس ضلے سے چندمور انل وا مع ہوجاتے ہیں: 
اڈل:. عخرت أمیڑا نی جن بدحعا کی اعلاخ زنذ غانائۓ نظ کے دور 
یسک کے او رت خوداہینے دو رخلافت ٹیل ؛گو یا وین وط تکی تفاظ تکااضنظام ان ے رائی 
کے دا نے کے برای تہ ہو سکاءابطرا الس ددای تک ند سے ال نکی اماصت حفنا دبع وط تکا 
سب شہہوکی ء بلل.. أتوذباشد. خیب دومن وط تکا سب ہوئی۔ 
کا تن را نے ہکم گۓ وونو ا نکا مو ںکواپینے اجنتماد کے مطا لی 
لیک مت قبچھکرکرتے ہوں گےءزیادد سے ز یازد چو ا اع سے اججاوٹش جک ہوگئی: 
ن..نتوڑ پاش بحخرت میں دی نکی ا ںتھریف وکشی کو جا نے پوجھتے برداشر تک رتے 
رے اس لے ا لت ریف دی ن کا دبا لبھی ..معاذ اللہ.. حخرت می رک یگرون بر ۔ 
رو کان :ناب الجہادہ باب الام بالمعروف واضی عن اھکر بی روایت ے: 
”ے- علیٗ بن ابراھیمء عن أبيە ء عن علیٗ بن 
اُسباطء عن أبی اسصحاق الخراسانیٔء عن بعض رجالہ 
قال: انٗ الله عرٌ وجل أوخی الی داوّد عليه السلام أنی 
قد غفرت ڈنبک وجعلت عار ڈنبک علی بنی 
اسرائیل فقال: کیف یا رب وأنت لا تظلم؟ قال: انھم 
لم یعاجلوک بالنکرۃ.“ ‏ (زفرکانٰ ت٭٥‏ :۵۸) 
ترجھہ:..' از ول نے واؤوعلیاللام پر وی نازل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۵۸۲۹6‎ ۷ 


فرمان یکین نے ھا افو موا کرو انار خر نے گنا کا 

د ال بی اسر انل پرڈال دیا۔انہوں نے عون کیا : اے رت ا یکیسے 

وکیا ہپ نو میں فرماتے ؟ فرمایا: اس ل جےکہانہوں نے تھے 

مکی سے باز رک ےکافورأا قاع می کیا 
ٰ سو ...اس نے سے بھی معلوم ہوا یرت ام رال مِ ابی حلومس کی بقا 
کو وین وم کی تفاخلت سے مقر م کت تھے _ اب لمع لکاممست_ہاصول ‏ ےک موی چزرکی 
زا رتچ ونی وق با نکردیاجا ا ہے ۔حعفرت ا میرڑنے ا خطرے کے بیط رک ہیں ان 
اکر ا یکو چھوڑکر الک نہ ہوجاے ‏ خلفا ئۓ ملامے کے دو رکی ” برحات' کو (ججن میں 
روابیت کے مطا لی ترا مکوعلا لکردناگیا تھا )جو لکافوں بالئی رکھا۔..ہمعاذ اد... ین و 
لم کیتھریف وق رکوق طگوا ایاج اتی عو کوخطرے مس ڈالنا یہن نمی لکیا گیا 
راوئی کے بقول وین وع تکواپٹی چچندروز وعکومت پرقر با نکر دیا۔ وٹ کراس سے بد 
رت أمڑکی زم نکیا ہوکتی ے..؟ فو ا ا ستغفضرابقد...! اس روابیت کے مطال نگویا 
رت یکرقم اید وچ کا معیارتگی..لتوذ بااش....آ رج کے ساکی لیڈروں سے چتھ بلندکاں 
تما جج نکوا بی علوس تکا نظ تر وم شرلیعت ٠‏ نغاذ الام اود اصلا بب بد عات سے بڑ کر 
زی ہواے۔ 

چہارم:..حخرت امی رام خلا بما''ىحب الل ورسولہ ویحبے اللہ 
درسولہ“ کامصداقی تھے ہکروکگہ ج تہ رک موٹع رآ حضرت صلی او علیہ ےلم نے فر مایا 
ت کہ :”کل میں جپمنڈر ایک ال یخخصیت کے ہاتقھ میس ڈو ںگا جوا دتعالی سے اورائس کے 
رسول 7 22 سےحخبت رتا ےء اورا'د تا ی اورااں کےرسول کی ال علیہ تلم 
اس ےت رت ہیں لیان' حیفہبلا یی بیروای تکبقی ےکنناس !بل حخرتآ یر 
.ہو بالند...الڈدتعالی کےنزدبکم فو اور نے دنع تھے کنل غلغا ےڑا لے کے دو ری 
تینک وں رام چچیزو ںکوعطال اور علا لکوترا مکردیامگیاہمگرحضرت میرشٹس سےیمس نہ 
ہوئۓء اوراپیےش کے بارے می یکر صلی الش علیہ ول مکاف گیب ےک ایی اس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


عندال رم و اور بے وین ہوتاے چنا مفرو کا کے رکودہ الا باب می ے٠‏ 
”۵ - وبهذڈا الاسناد قال: قال النیبی صلی الله 
علیه وآلہ: انٗ الله عرٌ وجلٗ لییغض المؤمن الضعیف 
الّذی لا دین لەء فقیل لە: وما المؤمن الضعیف الّذی لا 
دین لە؟ قال: الذٰی لا ینھی عن المنکر۔“ 
(فرهیٴکانی ج:۵ :۵۹) 
ترجھہ:. ننیصصلی الد علیہ دآلہ نے فر مایا :ادا ےم وشن 
ضیف ےفنح رکتا ےس کا کیکوکی وین ہی ن ہو ۔ عم شلکیاگیا 
کہ :ایا ومن جن سک اکوکی رین بی نہ ہو کون ہوگا؟ فر مایا :جن شی 
عنام ر““ کاف رب ادانجی ںکرتا_“ 
یم ...اس دوایت سے بیٹگی خابت ہو ارام رالھے میلع ا قکھنا نکی برع تک 
(جواس روابیت میس غلفا ہے ڑا ےکی رف مطسو بک یگئی ہیں ) برداش تک کے تکی 
لا تکاسبب ے۔ چنا ٹجیفرور کائی کےجولہ بالا باب میں خودحخرت ار رکا خطب نقول 
2 , و ,0 
7۰- علَة من أصحابناعن سھل بن زیادء عن 
عبدالرحمٰن بن أبی نجرانء عن عاصم ابن حمیدء عن 
ہی حمزۃء عن یحیی بن عقیلء عن حسن قال: خطب 
أمیر المؤمنین عليه السلام فحمد اللہ وأٹنٰی عليه وقال: 
انا بعد فانه انما ملک من کان قبلکم حیث ما عملوا 
من المعاصی ولم ینھھم الرَبَانیْزن والأحبار عن ڈلک 
وانھم لمَا تمادوا فی المعاصی ولم ینھھم الرَبَانیّون 
والأحبار عن ڈلک نزلت بھم العقوبات فأمروا 
بالمعروف وانھواعن المنکر واعلموا أن الأمر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


بالمعروف زالبی عن المنکر ۴ یقربا أُجَلا زلم بل 
رزقا.“ (فر انی ئ:۵ :ع۵) 

ت7 جمہ:.. حطر تس مع سے روایت ‏ ےک امہ رالھ وشن 
خطبردےر سے تھے ءال کیج وا کے ببدفر ما ارم سے پیل لوک ای 
لے لات یں ڈال د ےگ ےک جب دو محاضی میس ما ہو گ ےو 
ان کے علاء وآحار نے بھی ا نکواں ےی شیا :ایا کے وہ 
معاص کی عد سے بڑھھ گئ اورعلماء وا ہار بھی ال کو پاز رک ےکی 
کو نکی نان پر بے درپیےعذاب نال ہوناش روغ ہو گن ء ء٤ا‏ یی 
080+ 0ِ*"۸0"0 ۔ یاد 
9 0 000000 
کرد یی گے اورنیٹمہارے رز کوخم سےر 0-2 


ِ 7ص 022 


کے ما یک تےء اورصید اڑل ےمسلرانوں ( جات صا وت ینا کے دلوں ٹیش ا نکی 
کیسی والہان عبت دا تی ءآپ دکپر سے ہی سک رت امیر کے اس ضمے کے وقنت 
0 وفات پر شیں جس بی ںگز بر یں اورح۰حضرت 
فاروقی انعمم شی اود حنہکی شہاد تکوقر یا .7“ ہو گے ہں :لیکن انا طول عزدہ 
چانے کے بدیگیمسلمانوں کے ولوں پرا نکی ھت گکاایہ 7 تس2 صرے 
اراقرا رای کس کیاکی یت ےآ زا ھ اکر 
ہو کے لاأ بنا یں کون ہد؟ 1 تحضر ت مکی الل علیہ ول مکی وعحیت کے الفاظ 


ان کےکان می سکور ر سے تھے: 


”علیکم بسٗنتی وسُنة الخلفاء الراشدین من 
بعدیء تمسٌکوا علیھا وعضّوا علیھا بالنواجذ.“ 
ترجمہ:.. ”لا زم پکڑ و میرکی سن تکوہ اور میہرے خاغائے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


راشمد ین گی سن تکوء ا سکومضبو طا تام مو اور داخنو ںکی تچکی ں 
سے راو 
تی زند وس سے قرب ولت تما یفخ وتصا نکی بنا بھی ہوسکما ے لیکن 

شن حعفرا تک وفا کو پنددو شی سا لک ر گے ہہوںء ان کے بح دحکومتتوں یں برل 
کی ول اودااع کےتزن :ارب می سکو یفن کسی ہکا بھی ماکم رر ا ۸ء ظاہہرےکہ 
ےاسویگ دئاز ہاپس سو ھ ہیں 7 
ادج پشیخ کے ۔اتھۂمسلمانو ںکی والا  -‏ 9غ 
عبت کا وست ہوناس فک اعلی تی نیکرات ہےہ جن جا - ت کےکمالی اخلاص و 
لازنا تر انی وا شاء ت اورٹین دحل ۓے۔ 

آل سان حعفرات خلا ۓ ملا شر شی ال نچھرکو.. نھوذ پاوڈ... طاصب ونام اور 
ابر و جائز غاب کر نے کے لے مر خطبہ می رالھم مین کے نام سےاصفی فکیا فماءئیان 
رات خلا ۓ را شد نکی اورخودترت ا میک یکرام تک اکرش دی ےک خوداسی خل 
نے را ت فو نک یحبوبیت دعقاشیت اور خلا ول تکا ایا نہ جاویزشوت را ہم 
کردیاجو رہق و نیاتکتائم ر ےگا ءگو یا تحقراتت 7خ کوک نے کا بجاو یق ےک 

قد شبت است پرج ی ھا دوامما'' 

01,7" سکا موجدعبدااق جن سباتھما) خوداسی خے نے جرف 
ملطثا بتک دیاء و کَفی الله الْمُوْمِییْن القعَال...! 

خلاصہ بک تعخرات غلفاۓے داش بن شی اش مرکو بدنامکمر نے کے لے سای 
مھٹٹی کےگہعروں نے پیل ولا یتہک ارول تب اع کا قد صفی فکیاء وھد ادعڑ 
مہ کے نام ےی روایات کےطومارصفیف ہو نے گے مان اتال کی شا لن د یھت کہ 
ان ردایات کے اشپار لگا د ہے کے ہاو ودای دنتا ہی نے وم نع یکوکی سا تفوطا رکھا.. !ا نرات 
خلفاۓ را شد بی کو بدنامکرنے کے لئ چشئی شدت کے ساتحدروایائی دو پناک یامگیاء 
ان ہفرا کی حقانیت وللابیت اٹی ہی زیادہ جگیء اور ہتھیا رالن ”ولا ہے گا فَ۴ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


9۸م( کس سس سے 
سے وین وعل تکو ایک ذز بھی فائد کیل بیا۔ ان کے سسامئۓ الد کے وین می ںتھ لیف 
ہوئی ری خوف اھ مکی بیٹنیس جاری ہوئی رہں: نطرت ای تحرف ون اور 7- 
لم تکا بساراتماشاا یآ ہے یت رے نان ا نکی نرک حبی تکوذ راچ یبن نہ 
درم کی ھک رٹ ہی بک میش ام ردپ ہے 
غحضب ىک ہاپنے دورخلافت ش٠‏ مگ ایک ذڑہ اعلائ 07 *بگعکومت وشجاعت 
کے پاوصف' یداۓ لقیہ بر دو آرے زان یز غ اي جا کے خطے 
ےھ رس 
”'أفضل ھذہ الْمَة مَة بعد نبیّھا أبوبکر ٹم عمر“ 
تزز: ہا لت میں سب ے ال م کرک لی 
ال علیہ یلم کے بعداہویگر وھ( شی یتما ) ہیں ۔'“ 
ک کوگی مسلران ححضرت کل کے با رے میں ال سکا تو ری یک رسلا کی 
شاووی ایرث دبلوئی رم اشرنے پا لکل چ ھا ے: 
”وا رتقیہ باوجودخلافت وشیاعت وشوکلت وقیام نقتال 
ال ار مزا ش گیا ںکف تک بات کہ باسخن نی بودند 
ورخیہر ناریا ریخ نگ یور لہ کو تج رالامد ے۰ 
غلاف اولتے_ 
وہ فو ا لگف تک اظہاراسلام ونماز پچ گان خواندن واز 
دوز رخ تر یرگن مہ بنابرلشہ ملین بود ویک نیس تکونف رق م برک 
اسلام ار بود ازخفمر بسیب انا تفہ یں پیں ان از اسلام او 
برخاستء چہ جاۓ امامتہ وابیل ہمہ بقباعاتے ہ کش دکہ پا 
ملمانے خیا لآ نگیو انکر (ازالۃ اما ١:‏ ٣ص۸۲۳)‏ 
ترجھ.:..' اگ رتقہ باوج وغخلیفہ ہہونے اور بہادرہوے اور 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


وواۓ پش روغلنھا ئے راشم در کےسا 


ہے یم ےم میں 
جا ہو کہا اکنا ےک جولنک خی سے بیمان جھ :عفر تک 
اع ےے تٹھائی میں تق کر سے می ہا ہا رکردتن تھے لنراانہوں 
نے جوشئع عام یں 'خیر الامة بعد نبیھا أبوبکر ٹم عمر“ 
فرمایاء یلام ہےاورا کےخلاف جہوتمماکی میں نشیوں ےکماوہ 
لتے۔ 

اور یگ کہا جا سکتا ےک ہا نکا ا ےکومسلما نکہنا اورپ 
وقینماز پڑھنااوردوز سے ڈر ظا ہرک رن.. وذ پاین.. یسب باٹں 
مسلمائوں ےکق۔کر کے کے تھے اور چو شی کئی سک لوگو ںکو نی 
قرت ترک اسلام شی ء اتی نفرت فان کےا ڑکار سے شی ءابزا 
ان کے اسلام می سک ہکا اتال بہت "و کی سےء موس !مامت ت کیا ؟ 
ححفرت لا کے الا مکا بھی یقن نر ہا۔ اود :تار ہب شع کے 
ا یے نر ے ہی ںکیکوکی مسلمان ا نککا شیا لچھ یں (اسکت _ 


تکر عو شسکرر ہنا صصرورگی ےکسا رب یلوا بش کصھوی بر ے جو شیع روایات 


نے حعفرت می گی تیارکی ے۔ ال سنت کے نز دیک غلخفاۓ راشمدر بن کے الب و 
مطائزن سیک رارے لو سال یع یک ابواد: شع سے ۔ حطر تک یکم القد وچ اور 
ا نکی اولا دا میادءشن کے نام پر یرساراطومارتصفی فک یاگیا ےا نکا دان سای راولوں 
کےا تن فکردوطو مار سے مسر پاک ہے ۔حضرتہلی رشی انرعنخلیف راشد تھے اور 
تو شی کر تےء ای طط ر بعد کے اکا برچھی ائل سنت 
کے چیٹٹوا و مقنر ا تھء ای ہنا بر اس ناککارہ نے عو سکیا ھکس شبعہ اصول برجحخرت کی 
امامت سے رین ۵ٗ,ء,ء) فاند+کئیں تیھیا۔ اس لے اگ رآ نا کا ارشاد6 0ھ 
”اما مک منصب اتقا مت وین وحذیاات سے “لق نکر نا جا کش ا صول کے مطا ای 
<رتت لی رشی ارڈ رعۂشیتوں کے اصطہا گی امامکیں تھے اورنہہو کت تھے_ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ج- ے اتکی ا مامت: 

ولا کی !مامت کا حا لآ پکن گیےءاس کے بد رآ کی باماصت کے 
پارے یل پان کے سے ےکی ضرور ت میس رہ جاٹی :جا سی طو مل بت کے اض عق رای کک 
یی ںک رتا ہوں: 

آ اب نے اپ ےگرائی ناے میس !ما کی جوتھ ریغ ںنخ لکی ہیں ء ان میس 
کر ات حا اق کی لی ہے و س کا مطلب ہی ےک امام دہ 
ے جو این النیصلی ول علی لٹ مسلرانو کال عام ہاور امست عامہ کے تصول 
کی دددی صو ق ںنمکن ہیں ال بیکیسلمافوں کےار پا بیعل وعق دک یخصری تکوا ین ارس 
ما ظز رک ریش او ای 2 پاتھ پہ ہیتحت ہوحاشیں_ووم 022 روطات ے 
مسلمافو ںکیگمردفوں برمسلط ہوجاۓ_ 

حفرت کل یکم الہ چہنما“ما ۓ ملا کے وور میں مسلرانوں کے روس جا یں 
تھے ارت حخرتعثا نکی شہادرت کے بعد ار ابع وعقر نے ا نکوا پنا رك لتق بک لیا اور 
ووملمانوں کے امام بین گئ اس دور میس ابل سن بھی ا نعکوخلیضۂ برق اور امام 
ما کے ان ید 

حر ت سن رشمی ابڈدعنہ جم مین ےکک ا وال گرا یادر کے جا تیر 
باشیراال ز مانے بی دوجھی' !ماع تھےء اورا نکی خلافت ء خلا تد راشد ہکات گی ۔ 
مان جچھمینے کے بعد دو خلافت سے دست بردار ہو گے اور خلا دنت جطضرت معاو بی رشی 
ا عنہ کے سپ ردوکردی ءالط رح ان کےتی می سآ ضر ت لی الل علیہ ول مکی بی ںوک ی 
پور ہوئی: 

”ان ابٹی ھٰذا سیّد ولعل الل ان یصلح بە بین 
( مو ,شریف ۵۹۹:۷ بروای تج بفاری) 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ق7 چجم:..میرایہ بنا سردارے اور ںح ےک ال تھا ی 

ا کے وریج مسلراتو ںکی رو بڑی ھماگخوں ا 

اک رکون گے“ 

خلافت سے دست بردار ہو نے کے بدا نکی نر است عام“ شم ہوگئیءلہنرادہ 
می امام ضر ہے۔ائن کے علادہ بای جن اکا برکوآپ اما کت ہیں ا نک ریا ست عا 
حاصل ہج اکیں ہولی کہا کو امام کنا 3 ہہ جب آپ خود مان ہی نک ا مامت 
امت عا کت ہیں اود ریگ اتل مکرتے خی کان تفترا کور یا سنت عم گی حاصل 
یں ہہوٹی تو خو سو ےکا نک امام کھن کیا خودآپ ہی کےا صول اورتا ھرے سے غلط 
جنر دا..؟ ا بآ لاب کےا مئنے دوہی رات ہیں ہیا آز و انصاف مکی کر ججئے کی 
یمتفظرات :تو دشدعہ ا ول اور اعد ے کے مطا یمام“ یں تھے یں 2 پچ را ماص تی 
تریف بل تچ اورکوکی ابی تر یف کین جوا ن جن رگوں''برصاد یآ ے۔اوراعلان 
کرد تچ ےک ہآپ کے ہرکوں نے ا مامتا کی جوم رای فک ہے دوس راس غلط ے مکیونہ 
ریف ہار ےکا ایک' امم ہچ صادقنی ںآ تی ۔ ایک طرف امام تکی تح ریف 
”نر ات عامے کے سا تج ھکرناء اور ڈوسرکی طرف اےے بج رگو ںکو نومام ہناش نکویھی 
ریاست عامہحاصل یں ہوئیء ا کی مال نو بچوں کےعھی لکی سی ہہوئی۔ ےکی لکھیلا 
کرت ہیں و اب یس ےک یکا نا" باوٹا ئا رک لیے ہیں یک نوز بنا لیے ہیں سی 
کے کوق لی “نا ھدکردیتے ہیں اور سکچور فخ کر لیے ہیںہ و خی رہ دغم ر٥‏ ء حا لامک د ہی 
جات نی کہ نا نکا بادشاہء بادشادے نوز وزر تھے 208ا ا7 ہے۔ 

اک رآ پ تعخرا ت بھی ایی بذ کو ںکا نع ماع رک لے ہیں جن نکوعالم وجوومیس 
نر یاسستتو عام کیاحاصمل وٹ ہم ایک بھوٹے سےگا ئوں بربھی ا نک یکو مت نہیں 
ری تو موا قتا ‏ ما مت نہ ہوٹیء لو ںکاکھیل ہوا: 

"ان هی إِلا اَسْمَاء سَمِیْعمُوْعَا اَم وَابَاوّكُمْ ُا 
نول اللٴبھَا مِنْ سُلط“ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


:کین یں بر نا جو رکھ لئے ہیں تم نے اورتیارے 

باپ دادوں نے یلا تارکی اش نے ال نک یکوئی سند _ 

اور جب خو وآ پ حعظرات بی کےا صمول او رتا ععرے سے اع اکا ب رکا ”امام“ 
ہونا خحلط ہوا وب کہنا بھی ضرف نملطاش ہراکان اما مو ںکا منصب اققاممت د مین اور جڈت طرت 
تھا .ہا ایی“ چو ںکا ای ککگھیل'ہوق اس می سکنھنکوہیں _ 

خلاصہ سک شیع ممسکرا تک ڑو سے ا ننکا ہزحوم مقر ا مامت اقامت دی 
اور نفظ مت کا سب ب بھی بنا۔ یت بیرف دن اوت٠‏ مل تکاذ رہ بناہ یا چرنل 
چو ںکاعحیل...! 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


لو بگنگ: خلا ففت راشددواشتی اقظاممت دی نکاذر بصثابہت ہو لی: 


721 صولخ کہ امامت حفظہ وی نکا ڈرلچہ ے' اور نے لہ: 
امام کا منصب اتقامت وین وی لات ے' پیش بصداد بعر سکرو لاک إتقامت 
وین وحذظط وی نالیم الشا نکام ایل شع کےنظریے اماممت ےکیں بل ائل سنت کے 
نظری خلافت کے بواء اوراہئل سنت کے خلغاۓ راشد رین نے اتماممت رن وحذظظ 
لم تکا دہ شا دا رکارنامہ اشحام دیا ہج سکی نظ رح ر١‏ تی انا ۓکرا یما السلام کے علادہ 
وی ازسالی جار می کر نے سے اص رسے۔ا نککا یکا نام ہج بد ھا لم پرالیباخبت ےک 
من ٹن کی نکاف وی اان نۓےعیال انا نئان .۔ ئل ای نے نا کول :و 
انصا فک نت خدادادے بپردددف مایا ے؛ اس لئ بیس میوگز اش لکمرنے بی لج بججاب 
ہو ںک۔ہاس ناکار وی مع وضا کول وانصا فکی ہیزان میں قو لکرد یھت ء و لکولنیس تو 
دای نصاف تج ددرت 'لکم دِیْنکم وَلی دین “نو فرمودہ مراوندی ے۔ 

مود سے بل چنفہیر کی لات ٹیر ںکر نا ض رو یی ے : 

> آعاہت نے گا 

لشت میں ”ا مامت کےمی مقنراحیت ویمیٹواٹی کے ہیں اورپ سکی اقتتر ای 

جائۓ اک انام ' کے ہیس ۔ ما م راخب اصبا ی' مفردا تالق رآ ن یں لے ین: 
”الامام المؤتم به انساناء کان یقعدی بقوله 
وفعلء او کتابا أو غیر ڈلک: محقا کان أو مبطلا 

وجمعہ أئمة,“ (المفرادت ثی خریب القرآن صش۲۳) 

ترجہ:.. ناما م -پ سک جع اص کی ے دو ےجس سکی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


تر کی جا ونواوا نان وکزائس کےقول دق لکی ھا چس 


الاب ہو ماس سوا تواووہ ای برست ٭ ایی وق 

جوا ںکا ا لاق شین معائی برہوناے: 
فکی: ایام یھی یف تق“ 

می قوم کے“ م برا اور رس جا کوجھی اما 'اسی ہنا کہا جا ا ےک 
ای کےا خخا مکی لکی اتی ہے۔ت رآ نکر یم یس ماس کالفظ ہراس کےلغوکی می 
می استعال ہوا ہے ”امام می رٛ سقو عق ا کر میں کی ںآیا۔اس کے بجیائے 
”خایف“ کا لف اعتعال ہوا ہے۔' امام عادل'“ اور“ أئمہ جو ر کے الفاظ حدیث مل 
بکشرت وارد ہیں ۔الخرش ”ما کے ای کسی خلیفہم عق کے ہیں اور ییہاں میتی 
ڑےِ کٹ یی۔ 
دوم:..' امام عی دی قراومٹرا 

ٹس رراست وا ار یں رکتالین دی علو مکی شاخ میمارت + 
یرت رکتا ہو :لوک اس ک ےمم ڈم اود ماہرا نہ ارت پر اخ وکرتے ہوں اود اشن 
یں لوگو ںکا مرحع اورمت عقتٹرا ہوہ ا سںکو ا یش نیک ' امام کہا جات ے۔ چنا تج فقہ یں امام 
ابوعطیفہ امام شا فی ءحد یث یں امام جار و امام سلٗعقا نر (یام باصن اشعرق اور 
ام یمور ما تر کی ملا میں امام راز کو امام غزالینفرات ٹس امام نا اور امام 
عانم بیہاں ‏ کک جو دع بیبت یس نیل اورساہد یکو زمام مانا جانا و 
”وا علنا لِلمقیْنَ ِامما“(الفرقان:ے)(اور ہناب کو تتیو کا امام ) یی امام کے کی 
تی مرادہیں۔ 

رات شیع جن اکا رکو !مام کے ہیں ای ووسرےمعنی کے لحاظ سے وہ 
درتقیقت ابل سنت کے ومام ہیں ۔خصو ]شف باطنء اصلاع و کیہاورتقسوٗف لوک 
شا نکی !مامت نسکمہ ےکی دوجس ےک توف وسلوک کے بیشت کل حر تک یکم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٥۱٥٢١٣ .۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


قب وت ال اک برودا ل١(‏ سے سے اور ری مُا 
یں ہیں۔ ایخ ا نکی اصطلائی امام تکا خلط دوگ یکر تے ہیں ء شس سے الن اکا رکا دائکن 
سی ے۔ 
ما دہ امام می یا فا یں ا اب 

بن ھک ررانو ںکور یاست و إققر اد حاصل ہو اور ز لن یش الع کے اُحکام نافز 
ہوں مان دبٹی پیٹواگ یکا ایمامتقام ا نکوحاصل نہ وک دہ خلفذاۓ راشدپ نکی ط رب مرش 
ہرخمائ وعام ہہول میا ز أا نکڑیگیخلیفہ یا اما مکہا جانا سے ۔ک ین جن مور ومن ملا چبادہ 
تی نام ء قامت جمعہ دحا ویر میش دوٹی ایملہ یٹ وائی رکتے ہیں۔' ام“ کے ہے 
ڈوصرےاو ریس رمعم ہار ےم وضورمغ سے خی تخل ہیں _ 

نا مامت“ کےا نین منو ںکوا مک الک ذ بن میس رکھنا ضردرکی ےکیونگ ان 
ہرس سد شیر از ویر 

٭ ا سے کیا خ ہد کانفرزمسلمانو کی زم دار خ 

کہ وین ومات ہے بہت سے امام ابا گی ہیں اورمسلمانو ںکی شی راز و بندگی 
اور یش عی کی امام اوررف ام کے بشی مک نس ء اس لے مسرانوں زا ژ مم ےک 
اپینے مل کسی می راوررشل عا مکونخ بک میں سی الہلاغہ یش ےک جب حضرت لی رض 
ائٹرعٹرنے نمارتیو ںکا لت لیم ”لہ حکم الیل “سنا فرایا: 

”'قال عليه السلام: کلمة حق یراد بھا باطلء 

نعم انە لا حکم الا للء ولکن ھؤلاء یقولون: لا امرة الا 

َء وانه لا بد للناس من أمیر بر أو فاجر یعمل فی امرته 

المؤمنء ویستمتعع فیھا الکافرء ویبلغ اللہ فیھا الأجل؛ 

ویجمع به الفیءء ویقاتل بە العدوء وتأمن بە السبلء 

ویؤخذ بە للضعیف من القوی حتی یستریح بر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ویستراح من فاجر .“ ( ےابلاز ص۸۳ خط:م) 
یرہ یقن ےگگرم راد پال گ ج6 سیا 

صرف ال کے کان پیلک نے کے ہی ںکہ امارت (حھرانی ) 

ق حرف ال کی ے عالائہ لوگوں کے ل ےکی ام رکا ہونا ضروری 

ے خواہ خیک ہو یا بد ا ھا ہہو یائھ ا کہا کے زی رعکوم تمعن 

اپنے وین رٹل پیر ہوہ اورکاف رک حاص٥‏ لکمرےےء اور اڈ دای ال 

یں لوگ ںکی نیدی یعاد دیق اتی اہ ںکی سرک ردگی میس اموال 

جع ہوں: وشمنوں سے چا دکیا جاۓ ء رات تفوط ہوجا نہیں ء 

ٹوکی سے ضسج کا قم ولا جاۓ (ہرطرف الا الین دامان تقائم 

ہوجات ۓےکہ ) ش ری فآ وی سک می نکی زندگ یکمڑارے اورفادلوں 

کر رخف درے۔'' 

اس ش یں حطر ت کےالفاظ :”لا بڈ للتاس من امیر بر أو فاجر“ ے 
معلوم ہو چا جا ےکا می کا إ تاب مسلما و ںکی صصوابد اد سر ےء در نہ ظا ہر ےک ”بر آو 
فاجر“ کے الما طااشواورےعخی ہوں گے جس سر شر بجعت نے اما نما کے اوصاف 
بالنکردجیئے ہیں ء اگ رمسلمائن ان شرائیا کے حا لک امام ہنا میں گے ماجورہوں گے اور 
ران شرازی اکٹ یں رنجیس گے گنگ رہوں گے۔ ہہرعال مہذ مددارگی ا بھی بی ےک دہ 
حعا گی شرا ئیکو امام بناتے ہیں با یس ؟ نما زکی مامت مامت عف کی 'اورخلافت نا مامت 
کبریی“کہلاہی ہے۔اس لے جوم مامت عفرک یکا ہے وی !مامت بکبرکی ]نی خلا ف تکا 
ناما ۔ 
٣:..خلی‏ کا !ساب اب ل ئل وعقکی ہہیعت سے ہوتاے: 

و معلوم ہو چکاکہ !مامت وخلافت کےسعقی ر یاستِ عامہ کے ہیں نس یو مکا 
رس وسر براددتی ہوسکتا ےجس سکوار یاب وعقدا باریس دامام اورغیفٴ کین پا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢ ۱۵۷۳۳٠۱۱٢٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


تا سے 1 یں و ا وی ا 8٥۰28‏ 
خلا ف تک انتا داللعل وعقدکی بیعت برمووف اپ ار ماماورخلیفہ ان ےکی 
رف می ضورت وولق ےکہآ رجا پیل وخنقدر ال ںکوا اما !اتلی مک ریش اورااس کے پاتھ 
پر زیت خلافت ہو جا اہن اہلگ٠ل‏ وعق کی بییعت کے بحد پل یکو ڈوقو لکا اختیار 
0 یر تاء چنا یز سک الہلان یں ےکر حعخرتہپلی دی اللرعنرنے ایک شی می خر مایا: 
”ایھا الناس! ان أَحق الناس بھٰذا الأمر أقواهم 
علیھمء واعلمھم بأمر اللہ فیےەء فان شغب شاغب 
استعتب: فان ابی قوتلء ولعمری لئن کانت الامامة لا 
تنعقد حتی یحضرھا عامة الناسء فما الی ڈألک سبیلء 
ولکن أھلھا یحکمون علی من غاب عٹھاء ٹم لیس 
للشاھد ان یرجع؛ ولا للغائب ان یختار ۔“ 
(ابلاز ك۷ضص:ر۸۰۲۳٥۲)‏ 
ری !'زے لوا اس امراف تکا سب ے زیادہ 
فی از یئن ہے جوا موا ثے میس سب سے موی ہو اورانڈد 
کےا کا مکوزیادہ جات ہوہ ا لی[ خلیفہ کےتقرہ کے بعد اگ رکوکی شورو 
بکمرےلو ا ںکوفہمائ یک جائۓء او داگراسل کے ہاو جود ا ار 
کھرے نے اس سے ققا لکیا جاۓے۔ بحم ہے! اگ ا مامت ای 
طرح مضعقہواکر ی کہ ہرپرفردحاضرہوتذ الکن الوقوع ے !بل 
ا کا طریقہ ھی ےک اا لعل وعقدجژ سکویھی رس مقر رک ریس دہ 
ما قرار یا ۓگاء بر تن ہنیس جوم ججودخاء وہ ا کے تا 
کرسکتاےءاودتہائ کی سکوج تاب خلیضہ کے وقت مو جو وی تواء 
اس کے7 ڈوٹمو ل کا ا خی رعاصلر بتاے۔“۔ 
خرت مھا وی ری ال نہ کے نام اپ ےگمرائی ناے می ںک رف رمایا: 
”ان بایعئی القوم الذین بایعوا أبابکر وعمر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


یختار ولا للغائب ان یرد وانما الشوری للمھاجرین 
والأانصارء فان اجتمعوا علی رجل وسموہ امامًا کان 
ڈلک لل رضی فان مرج عن أمرھم خارج بطعن أو 
بدعة ردوہ الی ما خرج منه فان ابی قاتلوہ علی اتباعه 
فی رصریق اڈیاتئین و وا مافزگل * 
(اللاز گى,۳۹۱ء۴۳۹٤)‏ 
مرج ...یھ سے ا نع تعقرات نے بیج تکی سے جنھوں 
نے ابویکمر وعھمراورعان ل ری الد جم ) سے جوعع تکی ای ءالبذااب نہ 
شماہرکو( قبول وعدم قو لکا) اخیارر با ودنہ غاب ا ںکوستر وک ر سکم 
ہے۔ ا تاب خلیضہ کے لے مشھور ےکا عق صصرف مہا جر یئ وانصار 
ج یکو وصل ہن لقن ٌ رات ضط ہوجا میں اور ا سے 
”ما مقر رک ریہ وی الد نال یکا پیند یدرو امام ہوگا۔ پچ راگ ر 
کو ی نعل نیا بدعت کی بتا ران کے یل سے نا فکرا 
ےن فرات ال لکوااس چرکی طرف دائچل لانفیں گ ےجنس سے وہ 
را فکھرر ہاے؛اوراگر و وا کے ہاو جو( مادۂ اطا حع تکیں ہوگا و 
بی تفرات ال سے شا لکرس گے کیوگگہ دو ' ”ال من کا ر اسنہ 
کچھو ڑکر وسر ے رات بر ہولیا ےء اور بس طرف اس نے من دکیا 


ہے یرتا لی ا سکوائس یرف پیل دیس گے 


اش نا مرگ رات شیا کا اغورمطالعہ مکی ؛ اس می مہا جھ بن دانصا رکوآر با پل و 


20 ہے ا نکی بم تکو اید تھا یکی رضامیر لک بب ثرمایاے اور ال ہے 


را فکرنے والو کو مع خی یل الم جن فرمایاے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳٣٠۱۱٢٥۹ .۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


بی سج یی اہی ۱ 
یلست ےر ا ال علی ولم کے بعد ہس 
پنصصل حعفرت ابوبگ رصدد لی رصی اڈدعشر تھے الع کے بح دنر تع رفا روش ان کے بحد 
محضرت عثا نکی اوران کے برحضرت کی می یی اوڈششہم لی الترجیب !ما رین اور 
خلیذۂ راشر ت ءکیوگگہ اب لکل وعقد ماج بین وانصار نے می الت جیب انی چارو ںو اپنا 
خی وم مخت کیا تھا خافت بانصل حظرت اہوبک رد لی شی ارڈرع کا منصب ءال 
لئ ال نک ام الھم تن“ کیں بللیے ”خلیف رسول اللہ “کہا جا ما تھا ۔نظرت لی شی اڈ عنہ 
نے ماج ھن وانصمار کے ساتھ اا عکوخلشء اص ل صلی مکیا اود ا نکی مو جودگی مس اتی 
خلاف تک فل از وقت“ قراردہاے۔ چنا خی سک ابلا ہش ےک ج بآ٦خفضررت‏ صلی 
ابر علیہ عم کے بعدحطرت عماس اورشرت ال وسغیان بن رب رشھی ارڈ کنمما نے حضرت لی 
نشی ارح کو ہیعت خلاط تکی پیج شک آپ نے فرمایا: 
”ایھا الناس! شقوا أمواج الفتن ہسفن النجاةء 
وعرٌجواعن طریق المنافرةء وضعوا تیجان المفاخرۃء 
فلح من نمض بجناح أو استسلم فأراحء ھٰذا ماء 
آجنء ولقمة یغص بھا آکلھاء ومجتنی الٹمرة لغیر 
وقت ایناعھا کالزار ع بغیر أرضه.“ (اباز ص۵۴) 
ترجمہ:.. امےلوکوا فھتو ںکی موجو ںکونا مک یکشتیوں 
سے چک ارجا منافغرت کے رات بچھوڑ دو مفاخرت کےجا نا 
کوأجارچھنکوءکامیاب ر ہادوننش جوقت بازو ے اٹھاء یا جھکڑے 
ےکنا ر ہلعش دد ہک راس ئے لو یکپ شش تی زاعشت فگیء یہ پا 
خلافتکوئی بپھولو ںکی تی میس بکنہ بدزہ پالی ہےء اور ایا لقسہ ہے 
جوکھانے وا لے کے لے میں اک ککررہ جا ۔ نے سے پی لے نیل 


۱۷۷۷۷۷۷ 06100۲١٢۱۵۷۳٥٢۹۹. ۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


اےدالایاے /ندرسلذ+ئ شا شدارے۔' 
أ کی جملہ جانا ےک یآپ خلیفہ باپصمل حضرت صدد بی اکپررشی ارہ دک بکھت 
ھے اورا وشت ا نی خلافتکول از وتت ت کھت جے۔_ 
غخافااۓ راشمد بن مسلمانوں کےمب امام اوراڈد لی کے مونودخغلغاء تجے: 

ان یرٹ مقد مات کے بحدگز ار ےکہ بی ارول ٭ظرات خلا ۓ راشد بن 
یں جوا نل الہش صلی ارث علیہ مل رک ی” خی امت کےختپ امام اور اللہ تعالی کےہودخلیز 
تے۔ اللدتعالی نے ا نکی خلافت سے پیل ان کے اتخاف کی الا رن کی ٹیش یگوکی ف مکی 
اوراس یی ںگوکی یں ا نکی ا امت د بن اورحذی ات کے اوصا فکولطو رما ذکرفرمایا۔ 
رآحضرت صلی الد علیہ یلم کے بعد جب ان ٹیٹ یگوئیوں کےنکہورکا وق تک یا تق تفترات : 
ہا جر ین داصار شی امو بی خاس عطاف ربا یک ان خلناۓ ار شی ارگوا 
امام اورخلیفہ بنا میں تا کان کے ذر لیج ونود شی یگ ئیاں بای ہوں اور انقاصت دن و 
نذا تکا کی الشا نا رنا مہ بردٗ یب سے متص نجود بجاو وگ رہو۔ 

رآ نکمم بیس اک اک مکی آ بات بہت ہیر خلفاۓ راع رشی اہم کے 
ا جرکلت عددکی مناسبت گے یہاں ت رآ نکری مکی ار می یگوئیوں و پر کیا 4 اتا 
کرت ہوں: 
بی یی ںگوگی: مظلوم مہ جر ری یوین ثی الا رش نیب ہوگی اوروہ تا مت 
دی نکافرلیغراضجام دریں گے: 

سورۃا یآ یکین ی اتی تعالی شاتکاارشادے: 

”الَوِیْنْاِنْ مُكُنَهُمْ فی الاَرُض أَکامُوا الصّلرۃً 

وَاتَوٌا الوُکٰوة وَآمَرُوْا بالمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَن الْمْگر وَللہِ 

عَاقبَة امُور“ (اع+۸٥)‏ 
تس گواوی کہاگ چم ا نکوفکر رت د لک می9 


وا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


وہ اعم ریں نماز اوردمیں کو ق او رح مکر یں کن ےکا مکا اور کر مس 

رای سےاوراش کے ا خحیارٹیس ےآ خھ ہکا کا 

ا ںآ بی تکی شف تق را بی ےک اس سےاأ وی رک یآیات می فر مایا ت اک جن مظلوم 
ہا ٹزو ںان 0 ریو رکردیاگیا ا نکو اذن اد وبا جار ماےء ئل وہ 
دن خداندی کے ناصمرو جددگائر ہیں اس لے ا عحالہ اد ای ا نکی نصرت و کرو یں 
گے۔ا سآ یت میس ایلو ری گوئی ان مظلوم ہاج ی نکی شان ان فر با یگئی ےکہ:” گر 
جھم ا نکوز ین میں افتارعطا فرمایں(جززن چمادکی علمت نَا ء لد رت شراوندگ یکا 
او کرشم اورنصرت ال یکا ای مرو سے )نر ات ز یکن بی ارکاان اسلا مک ونام 
میں گے ہنکیوں کے پپچمیلانے اور بد یوں کے مان ےکا ا ہام مغ فر انیس گے اور 
آخ رم ۶۸ ایا:” وش غَاقَة ااْمُوْر “ال ری کے ا ار یس ےاضام سار ےکا موں 
کا مطلب ہک ہ ہاج ی نکیا شی نر جماعت جھ بے بھی و بے یا گی کے الم می اپنا 
ون بھوڑ نے پرجبورہوٹی ءاورجشن کےگردو ٹیل خطرات کے اسےیے باول منڈ لا ر سے ہی ںکہ 
گوپاا نکوز ان سےا کیک لیا جا ۓےگاء ان کے بارے بیں یچین گوگی رظ ہ جیب خر جب 
معلوم ہہوگی ران د بے رہو یک وق ت؟آ ت گا کہ ای جصماع تکو مین فی الا نکی وولبت 
سے سرفرا نکیا جات گا ٢ا‏ ”زور جاعح تکلکین لی الارٹش خطاکرد یناو نال یٰ کے طف 
گرم ءائ کیا قد رت کا مل راو مت بالغ سے پش گی یں ۔ 

بآ یت شریفہ دو ٹن یگوئیوں نی ہے ایگ یہک ہہہھاجر بی نک زین یں 
اتزار( کین نی الارش ) عطا کیا جا ےگاء دوم ہکان کے دوہ ا ققہ ریش الع ے ج چز 
ود پذ رہوگ ددے اقامصتہ دی أمربالمحروف اورتیگن ار ۔ 

اس وعد٤‏ !لی کے مطا شی مہا ج رین اشن ان حا را کا برکو :میں خلفائے 
راشد من کہاجاتا ہے اققرارعط اک یا گیا۔ جن سے معلوم ہواکہ مکی نخرات ا سآ بیت 
شریذہ کے وعد ےکا مصداق تہ اورا نی کے مس مندررجہ بالا یی یگوئیاں بوری ہویں 
اوران رات تے ا تقاممت د ری نعکا فر ضا نام دیا- 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


۳۴م 


ڈومری فی گوگی: زا الایاوے خلا ںاہن - 
سور نو رک یآ بیتِ ا حخلاف می لئ تعالی شانہ کا ارشادے: 
”وَعَة اللٴالَدِیْنَ امنُوْا مِنكُمْ وَعَملوا الضلحتِ 
َسمْمَخْلِفنهُمْ فی الأَرُض کَمًَا اسْتَخلَفَ الَذِيْنَ مِنْ فَبْلْھمْ 
َلَِمَكَمَي لَهُم دنم الِی ارتطی لَهُم وَلََْدَلَهُمْ مَنْ' 
کفَرَ بَهْذ ڈلک فأولیک ھُمْ الْفْسِقُوْن.“ ‏ (اور:٥٥)‏ 
ڑھے.”'وفدکرلیا اور نے ان لواوں سے جوم 0 
ایمان لاۓ اور گے میں انمہوں نے کی ککیامء ال تہ بت رکو اکم 
گ رد ےگا ا عک ولیک شی نیما اک مکی زان اگر نو اود 
جھماد ےگا ان کے لے ومن ا نککا جھ بن دکرد یا ان کے وا سٹء اور 
رگا ا ننکوالع ےکور گے بد لے بین | مع :می کی دی ار یی گے 
تیب کی کے ا ال یکوءاورجناشگکری اکر ےگااس کے چیہ 
دی لوک ہیں ناف مان“ 
جوقرات نز وليآیت کے وقت موجود تے اورجن سے لافطا ”تفہ“ کےسا تج 
رط ب کیا جار ماےء الع ےا٣‏ ںیت ش رلینشل جار وععد ےفر ما گے ہیں: 
ہلا وخ و:... کاٹ تھا یا ججماعت میس سے پاجواوگو ںکوخلیفہ بنا نہیں گے ؛ 
نکی بدولت اٹل اما نکی دی جماعع تکو استخلاف ٹی الا ر لذعیب ہوگا_ کسا قال 
تعالی: ”وَجَِعَلكُم لوا“ ان انا ءکی خلا فت :خلا شتموگودہ اورعطے | بی ہوک اور ۔ 
تفترات ال تقاٹی کے نا ھ وک ردو مود ظافاء ہوں گے جوکلہ دعدۂ ال کے شاف کن 
نہیں * را انل تھا لی اپنے وعر ےکو بہرعالی برودے کاد لائھیں گے اور اس ک ےکوی 
تنا متخ رم اتی ج۔ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٢٥٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


وسرا وع ہ:... یک اد تھاٹی ان کے دو رخلافت مل اپنے پیند بل ہ دی نکواییا 
من اور جاگز می کرد سس گ ےک دورہتقی نیا میک قائم لص رر ےگا فی کے ےس 
یکن نہ ہوگا کہا لک ینوی نکو ہلا گے ان ر بای غلماء کے ہاتھوں جو پجینمپور پ ییہہوگادہ 
وعرع الہ کا مظہراورن تعالی شا کا پپند دہ رین ہوگاء نیقی الگیا ا نکی دس ت می ری 
رما ےکی او رق رت خداوندکی اظہادر مغ کے لے ان خلا ءکوا بنا آ لئار :نال گی ۔ 

یسر وعدہ:... کہ اع کے خو فکواعن سے بدرل دیس گے کی رج جھ 
خطارے کے بادل ان ان برمٹط ا ر سے ہیں ء جب اس وعدہ اہی کےعظپو رکا وت 
آ گا و ررساراخوف د ہراس جاتا ر ےگا و نیا کی بروٹی د انحوی طاشمتیں ان سےلرز ہ 
براندام ہوں گی گرا نک وی قوم سے توف وخطریس ہہوگا۔ 

چونھما وع ...کہ بی تعفرات الڈد تھا ی کے عباد تگمز ار بنرے ہہوں گے ء ان 
کے شب وروزعبادت ال ہیںگمزرں کے کفرونشرک اورفتروضادکی بڑ )کی ڑیچیگیں 
گےےء ان جیاروں وعدرو کو نک کر نے کے بحدفر ہا ا: 

”وَمَنْ كَفْر بَعْد ڈلک فاولیک ھُمْ الْفْسِقُوْنَ“ 

ین ا نجرا ت کا تخلا نی تعالی شا تیم الشان انعام ےہ ولک اس 
یل ال رن تک ناقری دن اشگربیکرضسس کے وہ قکما فاص اورائلد تعاٹی کے نافریان 
یی گے۔ 

نزوليآیت کے وت توکس یکومعلوم نی ت دک ہقری“ فا لک سکس کے نام ڈکتا 
ہے؟ خلاقتہ الہ مود ہکا ارک کن خوش بھنتوں کے رپرسجاباجا ا ہے کو نکون خلیفہ 
انی ہوں گے؟ اورا نکی خلاف تک کیا تر جیب ہہوگی ؟ لیا نآحضرت صلی الد علیہ یلم کے 
بعد جب بوعد؟ ای من شود جو وگر ہواتب معلوم ہواک یت تالی شا نہ کے یم الشان 
وعرے اٹ ھی حا رک بر سےمشعلقی ‏ ےج نک خلذاۓ راشد بنا کہا جا جا ہے +دیشی الق کم ۔ 

گمزشتہ بالا دوٹو ںآ یات سےمعلوم ہو چکا ےک غلفغاۓ ار لص نشی ال شبھن 
تعا لی شانہ کے موگود امام تھے حکمت خداوندکی نے ال نع مرا تکوخاا تہ شیات کے لئے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹. ۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


جس ھی مر در جو ا ا 
کان خلفاۓ ر بای اور ہرک کے ذر یج وین وط تکی نفاظت ہوک اورووقرام مور 
چو اماممت حق او رخلاففت نو بے وابسع ہیں ء ان اکا کے ہاکھو ںھجور پل می ہو ئے ۔شاہ 
دی الشحرث د ہو نے" ازالۃ الا یس پالئکل یما ے. 
”ایام غلات ایام بت اورہ است کو یا اد ایام 
پت حفرت پا مہ رسلی الیل علیہ یلم ترجا بزبان نی فرسودودرآیا 
خلافت اکمت نشست بدسنت وسراشژار وی ٹر ماید' 
(ازالد اتا يخ:ا )٤5٥:‏ 
ترج:.. خلافت راشد ہکا ز ماشہ دو رنج تکا لتق تھاء 
یس بیو ں کی ےکہ دو خ ےت میں تحضر ت صلی اش علیہ ویلم صرا ما 
زان ےعھفرمارے تھے اورز مات خلا فت می شگویا خا مل ٹیش 
پاقداددسرسے اشماردفر مارے تے_' 
ان دونوں آ بات ش رنہ کے مطابی !مامت وین اور حفطظہ لت و خلفا ے 
ای مکی مان می فی رف یا ازع انفائبز کن اک الک جو زی 
تموصیات اوران کےنفردکارنا مو ںک یبھی نز جات ڈنگم جات فر مال یگئی ہیں۔ 
تیس ری یی یکوئی: مرف بین ےتال : 
سور ال مادقا ٹل ارشادغداوندی ے: 
"ھا الَدِیْنَ امَنُوْا مَْ يُرْنَد مِنكُمْ عَنْ دییە 
قرف بای اللٴبقزم يُحِتُهُم وَُحتُُنَةاَِلة لی 
المُومِيْنَ اَِرَةِ عَلَی الکفِرِیْنَ یُجَامِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللروَلا 
حَافَوْنَ لوْمَةَلائم ذلک فَصلُ ال يوتَيْه مَنْ بَشَاء وَالل 
وَاِع عَلِیْمٌ.“ (الماکر۵۳:7) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


تر جمہ:..' اے ابیمان والو! جوکوٹ یتم بیس پھر ےگا ا 
وبینغ سے و الیل ہن ریب لاد ےگا ای یتو مکوکہانشدا نکو اتا ے اور 
.دہ ا ںکو جات ہیں نرمم ول ہیں ملمانوں یرہ زبروست ہیں 
کاروں پہءلٹڑتے ہیں ال دکی راگ ووارے سی 7ھ 
ُ0ر سکوجا ےءاورالل رکشھائش والا ے 
ارت 
ا لآ یت شر ینہ یل دومن وع تک ابری بقا وضاظت کے تلق ابی عییم الشان 
می کوٹ یک یکئی ےک اسلام شس ج بھی فن ارت ادس را ٹھاتۓےگا :بن تعالی شا نہ اس کے 
مقاے یس ابی تو مکو لے؟ ت ےگا جن نکواڈد تی سے مت ہہوگا اور وہ اد تی کےحبوب 
ہوں گے سلرانوں پش ومہربان اور شمنان اسلام کے مقا لے بس طا اب اورز بروست 
ہیں گے اوروود بین تق کی اص ربلندکی کے معا "ء7 لام تکاائر گان 
زی کت 
وصا نو کی کے بعد سب سے پہلا اود الا مکی جار یش سب سے بڑا تہ 
ارہ ا نظرت الوبگ رد لی شی اش رعش کے دوریں ‏ وفما ہواء اود یور ےعرب می ارت اد 
جنگ لک یآ کک طر پچ لگیا۔ ان میس سےبتح کمو لے مدعیان خیت کے پییرو ہو ئے ء 
شلا اسوزنسی ذواما رکی قوم بن برغ مسیل کا بک قوم بنوحفیفہ طلیجہ اد یکی توم 
ود *حچاج بخت من ری قوم ہنی کے پلک نع قرائل این لیم دجن جا ہلیت 
گی ط رف لوٹ ین اورجل تے نک ا ؤاک نے سے اللکا رک ریا اع رج نب تخل 
نیٹ وی رک یکنابوں یی یھی اتی ہے حقرت صد بی اک نشی برع ہکی جرآت 
ایی :تن تھ بر اورآپ کے فقا مکی سرفروشانہخد مات نے اد ادگی ا ںآ ککو بجھایا؛ 
شس نے پورےعر بکو ابی لپیٹ یس نے لیا تھا ححضرت صد لق اکیجررصی اد نہ نے 
ملافو ںکی ازس نو شی رازہ بندک یک اود پ رےعر بکو نے سرے سے مت ہک کے ابیمالن د 
لئ اور چھادٹ کیل اود کے رات پرڈال دیاءاوران کے پا تھی چم چہادرےکرالن 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


کوقیصروکس کی سےبھٹرآیا۔اہنذاا ق رآ لی بی کو یککا اشن مصداقی حضرت صد لی اکر اور 
ان کر فقاء ہیں ءرشھی ال نم دارضا بم۔ 

یہاں ایک اہم گے کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے وہب ےک غزدۂ تہ رش 
1 تحضر تتسلی او علیہ یلم نے فرمایا: 

جمہ::. !کل جنر ایک اےکففی کے تھی 

و ںگا جو ال رتھالی اورااس کے رسول صلی او حا سلم سے عحبت کا 

ہے اورایڈدورسول ال ےیحبت رھت ہیں ے' 

اس ارشاد کے وق تحضر ت صلی اللہ علیہ سکم نے اگ ںنحخصی تکا نام نا ی۶ 
رکھافماء اس ےس ادن اوت ان شض نے ا کن سڈ 
رت لی رنشی الد نہ کے رو دیاگیا اس بی لںکوئی کے مصوائی میسکوئی انتا 
یں ر باءاورس بکومعلوم ہ وکیا کال نشار تکا مصداقی تعفر تک یکرنم الڈدوچہ تے۔ 

نیک ای ما پر جھنا چا ےکا لآ یت ش ریفہ یل جس تو موم ین کے مقا بے 
لا جان ےکی یی ںکوی فر ماک یگئی ہے نز ول ي1 یت کے وقت ان کےا ض مات ۓگکراگ کی 
گی نیس ف مات گی ءاس لئ شیال ہوسا تھاکہخداجان ےکو نع عفرات ا کا مصداقی 
ہیں؟ ان جب وصالی نبوئی کے حدفتتہ ارت اد نے سرأنٹھایا اود ا لکی سرکو لی کے لے 
حرت صد بی اکیڑا ران کے فقا لوک اک یامگیا بت بت یق تآ شکارا ہوئی او رکوئی تاس و 
اشتباہبائی ندم اراس شی کوٹ یکا مصداقی مکی نظرات تے اورانٹھی کے دررع ذ گل سمات 
اوصاف بیان ف مائۓ گئ ہں: 

ا... مه مھنکی ایلدنالی ان سےمحبت رت ہیں اور ضرا توب بارگاد 
اىی ہیں۔ 

"وف حا یپ رات الڈدتھالیٰ سے حبت کھت ہیں اوراس کے جج 
عانی ہں۔ 

٣...*'َذلّة‏ لی الم “یجن مسلمائوں ‏ سط و بربان ہیں اوران کے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


سا نے مو اش ہیں۔ 
٣ث..‏ ”جو لی الکففریین“ لی ا شنائن دیع کے ما ثے میں شا اب اور 


زررستصژں۔- ۱ 
۵:.. ."یج ایڈؤن یی سب اللہ لشفی نات اہر کیل اللہ ںکرژخن 
رضاۓے !کی کے لے ہا وکرتے ہیں۔ 


... وکا لن ا ازم فی کی علامصت مر لی لام تکی پروی کر تے- 

ے:... ”ڈلک فضل اللہ یٰوْتیہ مَنْ بُعَاغ“ ]نی ان تحخرا تکوان صفا تکمالیہ 
کےساتحموصو فکرد ینا اور ان یم الشان دا ت الا می کا ان کے پاتھد سےطکجور یر یھ 
ہ ناج لف داونری اوراللف ال ی اکرش ے۔ انا رجات أشل مداوندی یکا مور 
ہیں ء جوا عفر 0و و-ِ_-ٌٗٗ_ٰٗ)", ,م0 کے لئ بن سکو 
جات خی متخ بک لیت ہیں ء بین تی شا نہ کا لعف وکرما وف ام تر ا نکمالات 
وخدمات کے لئ خلیفہافڈل اوران کے فقا کون لیا ء ری ال نم ۔ 

۸( ×'۳'8او رآ یی رایا:”وَاللٴوَابع عَلِيُْ“ پیگویااُدیر کے یا نکی ایل 
لین ہے مق یقن تھا لی شا گی وسعت ورخت وف ل کا کیا کا نا ے؟ اورک کون 
الطا ف یکر بمانہ او رم امم روا کا مو دومن داقی اد ینالڈقائی کے ۓگ مشفل ے٤‏ 
رپ نک نی پاننا ےک یئ جو کی لات وا نتیدارے :رات انان 
یکو نس مرج پرفائز سے او رکون ان خناات بے پایاں اور ا ففضالی الہ یکا ال اور 
ا :کے ۱ 
داد نصاف د تچ کین تما یی شانننے امام از اوران کے فقاءوموا و نی نکی 
کی یں اش قزبائی اوران کے اوصاف وکم زا تک گت اد ندانداز شل بیالن‌ثرمایا-۔ 

کیاااسی سے بڑ ھک کی مق کے اوصاف وکمالا تک بیا نکر اکن ے؟ ہرک نہیں ...ا 

شما وعبداللز بس محیرسث د ہلوگ کے الا ظا یں : 

نود ںآ یت مد عکساممگقال می نکروند پاوصاف 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۵۷۳٥٢۹۹ ۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


جو عداح ہم ججھهحوومت 


ما ےک پالا ۓآ ن اوصافی ور إصطلا جح راع رہۓ ست 
پرکورفرموویرے“ (تزاٹاکٹرے ضص:۱۸۷) 
.ا سیآ یت نشین ع مل من سے ققا ل3 چا وکر نے 
وا لے ہضرا تکی اپےے اوصا فکمال کے ساتھ مد فر ما یک یک 
اصطلاب ق رآ ن می ال نکمالات سے بڑ ہک راو رک اٹ ی کال تیں _ 


چچی بی ںکوکی: خلنا نے اٹک ےیقن میں 
تن ای شا نہ سور اع ہیں ففر ات ہں: 
لقن الَغراب مقر آٹی زم 
لیبس شَدِبُد تُفَيِلرهُمَيُْيمُونَفَإِ تُطِيمرْ 
وم اللَٗجْرٗا عَسَنا وَإِن تَعَوَلَوْا کمَا توَلَيُْمْ من قبلَ 
ُعلِبْكُمْ عَذَاب اليْمَا.“ (۹:۱ا) 
ترجھ:..' کہ ردے ہی دہ جانے وا ےکنواروں سے 
ک ہآ تند من مکو بلا فیس کے ایک قوم پرء بڑےخ تن نے وانے تم ان 
ےل ڑوگے پا وومسلمان ہوں گے پچ راگ عم مان کت و ےگا خ مک 
اد درا جچھاءاوراگر یلیٹ چا ئ کے جیسے پیٹ گے جے می بارذوے 
گان مکوایک عذاب دروناک۔' 
ساوت کرد آیت دگوت اگ راب ہلا کی ہےہ اس میس رو ےت ن ان 
خرن فی کے پا نان پیل قد 09 ت؛ں؟ت“× گیا 
رف ہے ہہتھوں نے سفرحد یی می ںآ تحضر ت صلی الطدعلیہ و مکی رفاقت سے پبلوٹی 
یی وس کر ا ار ےک ہآ ا نے یں ای یت اقم سے ا لے 
ون نکی وت ول جا ےکی ین ان وگول ےل جن فکرتا وک ہا کہ 
وس لمان جو چانمیسں یا جز ید ےکر اسلام سیل تین نان اعت لکن 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ہے ہے و گے اور اگمر بی کی ط رح پپبل و و ماف 
سز گید 

ا نیش رنہ کے مزول کے بعد شض رت ععلی ال زعلیہ لم کے زماتے مین 
ایے چھاد کے لئ اعرا بکوی وو نیس دٹیگفی جس یس چنک وق لکی وہ تآ لوہ 
ائحالہ وت اُعرا بکی بی ٹین لکوئی آحضرت صلی ایشدعلیہ وملم کے غلطاء کے ز مانے سے 
متحلق ہوگی ۔ چنا خی حعفرت صد لی اکب شی الشعن کے زمانے میس اعرا بکوقالی مت رین 
ا نکی ا گی اور کلف خلا کے نز ما نے انہیں ارس وژوم کے 
متا کی دحوت دب یگئی :ینس سے چنا مورغایت ہے : 

ال:.. خلا ے ملا ٹے اد ٹیل ادا ورداگی اد تھے :عرب دشھم سے ال نکی 
مک ںآ راک یھ اعلا تےکر الد کے ھی ء ان ےت قالی شا نے اع زا تکی 
رف ےد لکفی دگوت پرانی رضاوشی نکی مرخ تفر مائی۔ 

بم .اع نطرات کے دم قرم سے اسلا مکی اشاععت ہوٹی اور ا سکوخلبہواء 
لقول تعالی: ”نَقَاتِلونَهْمْ او یُسْلِمُوْنَ“۔ 

سو ....ا نکی وقوت پر لی ک گی ےکا عم دیاگیااوراس پ را رکا وعدد وف مااگیاەالن 
گیا دگوت سے مال یمرن کی عمافعت فر مکی اوراس پر عذاب لی مکی مکی دب یگئی رمعلوم 
ہواکہ یتحخرات الد تی کے نز دیک واجب الا طاعع ت خلا ۓ ر بای تے_ 

تر ننکریم نے حعرات خلا ۓ راشمد بین رشی الڈ جم کے ا خلا فکو ہے 
درپے ہیل اگوی گی صورت ٹس بیان نایا اورانرنتھا لی کے وععرول اور ہیل اکووں می 
تخل فکیکنائ ہیں ۔ ب بی یگوئیاں اگ یک طر فق ہآ نکری مکی تقاضی تکی دیل اور 
7ض رت مکی اود علیہ وم مکی خبقت صادق ہکا ا عیاز ہیں ءنو ڈوسربی طرف حعفرات خلا ۓے 
راشمربن رشی اںٹ ہم کے ذر یج ان یی یگوئیو ںکا پورا ہوناء ان را کی متاح تکی 
دئیل ہے۔آ ناب اگر نظ را نصاف ان پفورفر ما نہیں گے تو الام رک ےلیو مکر نے پراے 
آ پکوئجبور با نفیں گ ےک ال سنت کےا صول پر ”خلا فتی راشدہ“ دی نکی تفاظت داسمکام 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610٥۲١۱۷۳۳۱۱٢١٥۹.۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


کیاذرلغابت ہو لی ء گیا : 00((00 1.۸01 
کے جار الہ کی حیقیت ربھت جے۔ 
تق رآ ی بی ںگوئیو ںکی جا در حادیوت نو ہرے: 

آتحضرت سی ال علیہ لم کے بہت سےارشادات بھی ان پٹ لکوئیوں ہم شقل 
ہیں جوق رآ نکر مکی مندرجہ جال ارآ یکر یش ذک رکاگئی ہیں ۔ بی عاد یٹ ف رق نکی 
کابوں میں بکشزت موجود ہیں یہاں اختمار کے مرن رتحفراتی شی کی کتابوں ےصرف 
جارآحاد یٹ ذک رک نے پر اکن اکرتا ہوں ۔ 

ہی حدیث:.. علارمگاسی ات القلوب 'جلدددم یش زقوت ذو اھر 

حدیٹ تچ یس حفرت امام جھ باشر علیہ السلام سے 

متقوگی ہ کہ جناب امیاورتخرت خد پیش الڈرعنہا سے پیل یی 

نے آ پکی دگوت قیول نہکی ۔ آححضرت مصلی اللہ علیہ لہ لم 

کافروں سے خوف زدہ تھے اورکشائت کا اننظارکررے بت 

سان وتعا ی ےعلم دی کہ اعلاعی دگوت وین دواورکلینکرو۔ پچل رتو 

آحضرت صلی ادڈ علیہ ول مسر مم ستشریف لائئے اورت رس ال 

ا ا لکھڑرے ہلوگ ہداز بلندنداک یکیہ:اےگرد اق یی اورعرب 

گے لوا می ت مکو دا کی وعداخیت کے اقرار اود اپی ٹم برک یکی 

شبادت کی رگوت ر تا ہولء اور بت پپیتی تر کک رن ےکا عم دیا 

ہل مر گابات مانواورج یو شی سکتا ہوں ال سںکوقبو لکرونے حرب و 

جم کے بادشاہ بن جا گے اور بہشت میں بھی سلطنت حاصصل 

می (اررور جےحیاتالقلوب ص:ء۳۲) 

کی :ا الاپ جن ںیک دا ت ان لکے: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹ .۸۷۵۸۲6 ۷ 


”لی بن ابرائیم نے رواحی تکی ےک جناب ر٣ول‏ خدا 

صلی اش علیہ دآلہ ولف مات ہی ںکہ: خدانے جج ےکواس لے مبحوثے 

فرمایا ےک تمام بادشابائن عط ل کو لکردوں اور ا ےمسلیاث !کک و 

باد شا یتہارے لج فرارووں “ (ایناً ص:۴۳) 

یبدوفول احادبیث چچندا ہم تین کات وف اد تل ہیں: 

اڈل:. ارت الع پل مکی وت قکوقو لکر نے والون کے لئ 
عرب دش مکی بادشا ہت کا وعد وف ما یانگیا تھا * اور ہر وعدر و غلفاۓ ار لو کے ر ےش ورمیں 
آ با لہا یتففرات ال شی الشان ٹین لکول یکا مصداق تے۔ 

دو .... بیوعدو رین کے کو یکر ے والوں سے تھا ء نس ھ۸ ہوا کی 
محخرات ہے دول سے و بن الا مکوتجو لکر نے وانے اور دی نان 3ای جھئے۔ 

...اع ححفرات سےعرب دش مکی با شا ہت کے سرت رش تکی سلعطنت' 
کابھی وعد وف ما گیا معلوم ہہواکہ ری نات وعدک نہ وبی کے مطا لق قطعا جقی ہیں _ 

چارم:.. ین یکوئی میس *قام بادشابان ال کو رن ےک خوجرکی دی 
ھی ۔معلوم ہواکہ ری معقرات' ہاش پان بل فیس تہ بکہ ری غلخائۓ د بای بادشابان 
نل ےئل تے۔ 

ییم....آتحضرت صلی اللہ علیہ وملم نے بادشا ان اٹل کے یکن کو اتی 
ا 1 * عالاکمہ بادشا مان ال کے لکا ور تع رات خلا تۓ ا شی الد 
عنم کے پاتھوں ہوا معلوم ہواکہ رییحعا تحضر ت صلی ااشدعلیہ وم کے ہج ناب 
تھے اس لئ ان حعفرات کے ہاختھوں کا نا ےم بور یل مہو ال حکوا خضرتیص ال 
علیہ پلھمنے اپنیطرف سوب فرمایا۔ 

گی طز جیت:.: علامنگاگی نے۴ ھا ر الاو این صرو قکی ”اما “اور 
یو 0 ۸,70000 ے: 

”-لءلی: محمدبن اأحمد المعاذی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


رمحمد بن ۱ ومستبچبرمہورا مد ایض مدان 
عبداللہ بن الفرج الشروطیٔء عن محمد بن یزید بن 
المهلب؛ عن أبی اسامةء عن عوف: عن میمونء عن 
البراء بن عازب قال: لمّا مر رسول اللہ صلی الله عليه 
ورآاله بحفر الخندق عرضت لە صخرة عظیمة شدیدة 
فی غرض الخندق لا تأخذ مٹھا المعارلء فجاء رسول 
الله صلی الل عليه وآله فلمّا رآھا وضع ٹوب وأخذ 
المعول وقال: ”بسم اللہ“ وضرب ضربة فکسر ٹلٹھاء 
وقال: ”اللہ اکبر أعطیت مفاتیح الشامء واللہ انّی لأبصر 
قصورهھاالحمراء الساعة“ ثم ضرب الثائیة: فقال: 
”یسے الله“ ففلق ٹلٹا آخر فقال: ”ال اکبر أاعطیت 
مفاتیح فارس والل انی لأبصر قصر المدائن الأبیض“ ثمْ 
ضرب ال ژغالئة ففلق بقیة الحجر وقال: ”الله أکبر أاعطیت 
مفاتیح الیسمن, والل انی لأبصر أبواب الصنعاء مکانی 


٤ے“‏ ( ہیارالانوار رحخ:۳۰ /ص:۱٢۲)‏ 
نیعلا تل یک ی کاب“ جم ے القلو ' لد دوم یل ا عحدی ثٹکا عاگل 
مسمون لیوں ذک رک امیا : 


”نیا سوا ں تھزہ: پاعو زوا ہر ےراہ تگا ےل 
اح اب می سآحضرت صلی او علیہ لم نے صا کے درمیان 
شر قکھود نان یی فرمای کہ ہرحجاللنس پت ںآ دی یکھود میں ۔سلما لن 
ارذ یڈٹ کے صے میں جوز ش٣‏ نآ کی ءاس کے یئ پچ رکا ء؛ جس بے 
اڑا اث کی کرت تھا ءسل ران نظ زی لی الڈز لہ و ےے 
عر کی ء تحضر ت صلی الطدعلیہ ول مسا :اب سے باہ رآ ے اور 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ھا ڑا ل ےگ بین بارپچھر پر ماراء ہرم رتبہ ایک تس را حصہپھرےجچدا 
ہوا اور رق قش سے کماح نا 1. ہوجا یء او رتضرت 
(صصکی اللہ علیہ ویلم) اللہ اکبرفر ماتے صا یٹ بھی ال'د اکب رکتے۔ 
ححضرت ( صلی الف علیہ یلم نے فرما کہ کہ رشنی یں بن کے 
ف نظ رآ اورخدانے ان س بکو مھ عطافر مایا و وسرکی مرتشام 
کےتھر وکھالی دیج اورخدانے لغ س بکو مج ےک رام ت نر مایا۔ اور 
تیر با دائی کےتصرش نے د سے اور خدانے بادشا پان ئھم کے 
ملک بجھے کت ۔۔اس کے بعد خدانے بآ یت از ل فرمائی:”لیظھرہ 
علی الدین کلە ولو کرہ المش رکون“( سورہلو ےآ تے:٣۳)‏ 
حدااشل کے وی نکوتمام دبینوں پر غال بکرد ےگا اکر یکین 
را کر" ( رجات القلیب ص:۳۴۹) 
چا نکی بیع یث علامںگینی نےبھی' کان تناب الاروض ہس روای تک ے؛ 
اس کےاقاض نشی جنا بی کبرانففار کھت ہیں: 

”حدیث الصخرۃ من المعراثرات قد رواہ الخاصة 
والعامة باسائید کثیرۃ.“ 

ترجر:..”خندق میں چنان نے او رہنحضرت می اللہ 
علیہ لم کے ا کو اپے دسست م پارک سے فو ڑ ےکی حد بی متو ات 
أحادیث مشیل سے ےء ال ںکوفرلنقین نے بب کی اسانید سے 
روا تکیاے۔“ 
1- 9 ؛؛ و 

اشعلی۔ لم بی ںکوئیوں کے ذ بل میس بعد یٹ اع نکی ے : 

پیاسوا جج زہ:...اہن ش رآخوب وغیرہ نے روابی تکی 

ےک ایک دو ڑآ ضر بت کی ال علی وآ لہ دیلم ےق من الک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲6۴ 7 


ییبپِپ.پ] 

۵ 7 عال ہوا لہ انے ہاکھوں می بادشاو* 5 

انكھوں کےڑے پاڈوگے۔ چنا ٹج کے مانے یں ران واہ 

خر نے ای یک اکر بادشاوشھم کےکڑے پیہنائے۔ پل رضرت (زصصلی 

ان علیہ وعلم )نے فرمایا 7و ماخ 02091 

کم نا یوک مار میا برا کی مکی ماں ای ٹیل سے ہے یگرف رما اک :دم 

کو ککروگ: جب کرات ا ںکلی اکوجوشرتی جادب ہے سچر 

بناد ینا۔ے' (ح اث القلوب خ۲ ص:۹٣۳)‏ 

ان اعادبوٹ نو یہ سے خابت ہو اک ہآححضرت صلی ال علیہ سم ےے ای ایمانع 
سےعرب وف مکی علوس تکاوعد وف مایا تھا اور یوعد تخطرات خلا ۓ راشد مین شی جم 
کےذر یت پور ہوا۔ بجی خابت ہو اک او تھالی ن ےآ حض رت صلی اڈ علیہ یل مکوفا رس و 
زوم اورشا پا نشم کے نخزانو ںکیکسیاں عطا فرمائیمعل٠‏ یمیا لپ کے بحدپ کے 
انا ۓ راشی دب کوعرحمت ہو خی ءاورانہوں ن ےآ حض رت لی الد علیہ سکم ای 
آ۹۳[‪٥٭‌ء‪۱"۵ٗ۳۷۲/۵"۷]6ۂ/ۂ۸ء2ھ,)‏ ایا۔اور بیجھی معلوم ہواکہ ان تضرات ک ےکا نا ےگ ران 
ری مکی بی کوک :”جاک ہ ال بکردے وی ناف یکوقھا ماد یان باطلہ یا اگ گیل 
تھی۔ رممطفرات د ناش سی عم بردار تھ اورالن کے ذر لیے دی نت کواد ان باطلہ 4 
غاا بکیاگیا۔ 
ان یی ںگوئیو ںکی تا یمیس جنا ب می کے ارشادات: 

ححفرت شی دا علی مرف ری اللہ عنہ نے بھی متحددموعوں پر انے بشرہ 
انا ۓ راشمد مکی خلا ف تکونلاطت مود و قراردیا اوران کےکارنا مو لکی مسب فرماگیء 
یہا ںآپ کے چارا قوال ش ریزنخ لكرتاہوں: 

:.ک البلان یٹس ےکہ جب حعفرتگڑنے نک فارس میں جن یس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


خرکلت کے پارے میں تع رات صا سے مور و لیا مو منرت امیر نے خر مایا: 


”ان ھٰذا الأمر لم یکن نصرہ ولا خذلانه بکٹرۃ 
ولا بقلةء وھو دین اللہ الذی أظھرہء وجندہ الذی اأعدہ 
وآمدہء حتی بلغ ما بلغء وطلع حیث طلعء ونحن علی 
موعود من اللہ واللہ منجز وعدہ وناصر جندہء ومکان 
القیم بالأمر مکان النظام من الخرز یجمعە ویقسمهء 
فان انقطع النظام تفرق الخرز وذھب ٹم لم یجتمع 
ہے حذافیرہ أبِداء والعرب الیومء وان کانوا قلیلا فھم 
کٹیرون بالاسلامء عزیزون بالاجتماع, فکن قطبّاء 
واستدر الرحا بالعرب؛ وأصلھم دونک نار الحربء 
فانک ان شخصت من ھذہ الأرض انتقضت علیک 
العرب من أطرافھا وأقطارھاء حتی یکون ماتدع 
وراءک من العورات أھم الیک مما بین یدیک. 

ان الأأعاجم ان ینظروا الیک غذدا یقولوا: ھٰذا 
اصل العرب: فاذا اقتطعتموہ استر حتم؛ فیکون ڈلک 
اشد لكَلبھم علیک, وطمعھم فیک: فاآما ما ذکرت 
من مسیر القوم الی قتال المسلمینء فان الله سبحافه هو 
اکرہ لمسیرھم سک وھو أقدر علی تغییر ما یکرہ: 
وأما ما ذکرت من عددھمء فانا لم تکن نقاتل فیما مضی 
بالکٹرۃء وانما کنا نقاتل بالنصر والمعونة!“ 

ترجھ:..” چہاد میں مسلماتو ںک یکا میالی دنا کاٹ یکا حدار 
ا نکی فلت وکثزت بربیھ نہیں ہواء بی الف کاو ین ےم سوا 
تعالی نے خودغالب (کر نک فیصلہ ) فر مایا ےء اورملمانو ںکی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


وھ روا 


۲۲۸۶) 


اعت الل تھا یکا دہشک ہے سکواس نے خود جا رکیا سے اورال 
کیا مدوفرماٹی ہے۔ یہا ںک کفکہ یہ د رین پیا جہا ںکک چا اور چھیاا 
ہا کک پچھیلا۔ اور ہمارےسا تھ انڈ تا یکی جاب ےایل دعدہ 
ہے اوراڈدتاٹی اپنے وعدرےکوبہہرعال پودافرمامیں :اود ا کے 
ری و 

اور مو رساحلنت کے عم اور حاکم ال کی یت وی 
ہوئی سے چوک ار اج 2ھ ہواکر ی ےک دہ تمام 
راو ںکو ماک رخ رکا 0 2 ء۶ 1 
اح ہج ایی نے :اود ویک بارخ ےق پ رن داائے دورآرہ 
بھی شی نہیں ہوں گے۔آ جا یعر ب اگ چرتدادمی کم ئن 
اسلا مکی برولم تکشرہیںء اود ؟آنیں کے پتمادو !ہش گی پرولت 
معز وسر بلنلد ہیںء اس ےپ ( خر ۶ ر) 7 کے قب 
(درمیا نک یھوی ) کی حیثیت اخخقیا رسکی اور ول کے ذر یج اس 
(چہادکی ) مگ یکوک رش دت یچ ء جن ککی جھٹی میں خووکود جانے کے 
بججاۓ ڈوسرو ںکویچھو گے ؛کیون کر پ :یش ا زین ۔عرب سے 
لکر(میدران جہادرٹش ) لے گے عرب (آ پکی معیت کے 
ل) عاروں طرف - برنوٹ پ یں گے (لک خالی رہ 
جا ےگا اور اندرون مل کک دفا گی حشیت خطر ناک حدم ککرور 
ہ جات گیا )ہا لت کک کے کے عالا تکی ۔شبدت ءالن علاّژل 
کے اتا ما تک یرہ نکوآپ خی رکفو ظا چو کر جانہیں گےء زیادہ 
اب مستلہربجن جا ےگا( آ پکیانش ریف ترک یکا ای کننتصاان نو بی ہکا 
کعرب علاتے خطرناک حدکک خ رتفوظط ہوچاہیں کے اور ڈوسرا 
نتصساان یہ وگ کہ مکل (ج بآ پ خودمیدرالن ینگ شی جاتمیں گے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


جا تنۓ جس 


۱ +ر وج جس جس ور صن عیب کیا ان 

( و تکا مرک)ےء اگرخم (ای لم )اس ج کاٹ ڈ لوت ( عرب 
افتکا تاورورخت دھر امم سےز مین برگمر جات گا ارب ٤‏ 
.0 وقال ےآ سودہ ہوجا گے (اوراں کے بعد۶روں سے 
ڑن ےکی ضروز نیش رہ گی )ا نک بی خیال ا نکی تق کو آپ پہ 
شمرت کے س امج ہم لکر ے اور پکونشانہ بنانے برع کو کرو اہ 
ری وہباٹ جھآپ نے زکرفرما ی ےل ری قو من مسلرانوں 
کے ما لے میس پک لآکی ہےذ ظا ہر ےکہ الد تھا لی ان کے اس من 
کوآپ سےزیادہ نا پندفرماتے ہیں ء اورجنس چنکودہ نان رکرتے 
یں اس کے بد لے بتقاددیھی ہیں ( تو ہم لوگ زیادہء یا نکیوں 
ہوں؟) اورپ نے جوا نک یکرت ند اوک وک رف مایا ےت ( کی 
رکی با ت نہیں مکیونکہ ) ہ مگزشن ز مانے میس ( لین یآخض رت می 
ان علیہ وعلم کے ذہانے یں )کثزت کے بل ہدوت پرکیںلڑتے 
جے ہلان تزال اد کی دد ونصرت کے سہارےلڑرتےۓ تھے 
(چناخجرا بج ان شاء ای ہوگا)' 


نطرت ام ری الشعدہ کے ارشاد:”'ونحن مروعرودمن الله واللہ منجز 


وعدہ“( اور م سے الد تھا یکا ایک وعدہ ے اورا تما ی ابناوعد :راف ر ان کٹل 
سور؟الورگی ا یآیت إخلاف کے وورےکطزق اڈان کے مس سے معلومم ہوا کہ 
آپ حفر تک ری ایق دعنہکی خلاف تکوخلافت مونودہ کھت تے اور ا نکو امام موکو رز“ 
نس وی نکی دونشرو شاععت فر مار سے تے ا کو ای کا وین نمو رف ماتے 
تھے اورا نکی قیادت میں جونشگرمصروف چہاد جا نکو ”ارل کا اشک لق نکر تۓ ت ےہ گویا 
آ یت اخلاف مس الد تھالی نے ج جار وعرے فرماۓ ہیں ء ضر گمررشی انح ہکی 


خلاضتبلوان جا رول ویرو لکا مصراقی یت ھی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ال شلیہ سے ب یھی رون ہو اک ححضرت ام ررش الڈدعنران خلا ۓ راشد ین 
اورخلنما ۓ رای کے امج یل وجان سے اخلا رکھت کے اور الع کے کش رین یرد 
وذ تہ چناغچ سکع البلان میں ےکہ جب حطرت عثان ڈوالنوربین شی الد ح کی 
شبادرت کے اوک معرہت سے بیعت کے لئ جح ہو ہے تو ان سے رما اکہ: گے 
چنوڑ دو کی اورکوخلیفہ بنا و ءکیونہرامیرہون ےک شبدت وراوزہوناتہارے لئ زیادہ 

”'دعونی والتمسوا غیری فانا مستقبلون أمرٌا 

له وجوہ وألوان, لا تقوم لە القلوب؛ ولا تثبت عليه 

العقولء وان الآفاق قد أُغامت؛ والمحجة قد تنکرت 

واعلموا أئی ان أجبتکم وکبت بکم ما أعلمء ولم اصغ 

الٰی قول القائل وعتب العاتب؛ وان تر کتمونی فأنا 

کاحد کم؛ ولعلّی اسمعکم واطوعکم لمن ولیتموہ 

ام کمء وأنا لکم وزیرّاء خیر لکم منی أمیرًا!“ 

)۱۴١: الا‎ ( 

ترجمہ:..”جھےبھوڑ دورسی او رکوخلیفہ بنا جم لوگو ںکو 

ایےے ا مور سےسابقنہ ہے جنکن کےکئی نر او رکئی رنک ہیں ء جن کے 

اسم نہ و لٹھہ رسک ہیں اور زیمتقللیں ان کے متا ےکی ناب تی 

ہیںء وین کے ان بگھٹا میں مچھا رتی ہیں ء راستہ بے چان ہور ہا 

سے۔ پادرکھوا اکر بی لتھہاریی بات مان لتتاہوں ( لین خلیفہ بن جات 

ہیں ) تو بس ا ہے عم کے مطاب تم ےم لکرا و لگا ء نشی کے 

وانن ےکی ات پرکائنع دععرو لگا اور نکی نارائ ہہو نے وا ل ےکی 

ناراش یکی پر واکروںگاءاوراگرتم بج ےبھوڑ دو بی سکیس جیما کیک 

فردہوںگاء اور میرکت ہو ںکج‌ سکوجج یتم اپنا میرم بگُروےے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٢٢٣ ۰۸۷۸۲6 ۰۷ 


سکم سے یادہاا لک یح وطا عم تک نے والا بہول گےء اور می رے 
می رن ےکی !بت میراوز یہ ناتھہارے لج زیادہ ہے 
اگرانع کے ول میں حضر تکھرریشی ال عنہکی طرف سے ذرابھ یلیل ہوتا نے 
ھا موشح تھاکہا نکو جنگ ارس میں ش کم تکا مور ود اک حظرس تع شی ارڈ عنراس 
جنگ می کا مت اور ش۳ سکم جہاں پا ' کا مضمون صاد قآ۔ اس کے بجا ۓےآپ 
د پور سے ہی ںکروو ضر تعمرریشی ارڈ رعنہ کے وجودکواسل رایت دتے ہی سک دا :اکردہ 
ا نکو یھ ہموگیا تو مات اسلا م ےکا شرازہ ازو ایا تح رک رہ جا ۓ گا کہ پھر مسلمانو ںکو ای 
2٭٥ا۳8]‌--2ئ0)‏ ور سرت ری پور ان 
یمان کے لے س رم چم ارت ےوَمَنْ يُصْللٍ الله فلا هَادِی لَه... 
۲ کاوکیں ے بح یکر اسم نع 
کے پارے میل مور ولمیا نو فر مایا: 
وقد ت وکل اللہ لأھل ھٰذا الین باعزاز الحوزة, 
وسر العورةء والذی نصرھم؛ وھم قلیل لا ینتصرون؛ 
ومنعھم وھم قلیل لا یمتنعونء حی لا یموت. 
انک می تسے الٔی ھٰذا العدو بنفسک:؛ 
فتلقھم فتنکب: لا تکن للمسلمین کانفة دون أقصطی 
بلادھمء لیس بعدک مرجع یرجعون الیهء فابعٹ الیھم 
رجلا محربًاء واحفز معه اأھل اہو سعہ 
اظھر الله فذاک ما تحب, وان تکن الأخریء کنت رداً 
للناس ومثابة للمسلمین.“ ( الا ٦ص۱۹۳۱۹۲)‏ 
ترجہ:..:'(ج ب حفری تک رین خطاب رصسی الف دعضہ نے 
مزد) نز یں _ھ نس جانے کے بارے می ساب سےمشور ءکیا تو 
فرمایا: ای تھا ی نے اس دومن کے مان واللوں کے لئ اسسلائی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


۰ 


مرعدول ذژاڈ مرعدد لک تفاظت اورا نکی یروط جگہوں کے ش٢‏ نک ین سے 
بیاۓ رک کا خووذمرلیا ہے جس ذات نے ال نکی اس وقت مددکی 
وہ اتیل تھےکہاپنا ہد لیس نے سکتے جےء اور ا نکی اس 
وقت طفاخف تکی جلہ دہ خود انی طاظل تک ںکر کت تھء دہ گی لا 
٥دت‏ ہے( جس رع ا نکی ا وت دای ءاسی رح اب 
یکر ےگا) اک رآپ ایس ؤشن کے متا بے می پل اھ تھ یں 
نے لہ اد شود ازع ہت باکرگکز کی پچ زان ات امہ وک یں 
ہوگیا نو !ساٹ یممللت کے1 خر شہرو ںکتک مسلمانوں کے لن ےکوکی 
جاۓ اننس ر ےکی اورآپ کے بحدا کا اوئی رشع اور رکز 
یں ر ےگا نال طرق ورای 7اا لو( کی 
ےا ھا نل مو خودائنے سے ےم یت کا زان 
کی ءاوراس کے سا تو سردوگریم چشی لئ لوگو ںکو یھیئے .ٹیس 
اکر اللہ تعالیٰ نے تل عطا رمایا و آ پکا رفا عاصل ے) ا داز 
فدانفو اس تکوٹی اذوسری صورت ہوکی تو آپ:لوکوں کے لج بددگار 
اورسلمانوں کے لے جاۓ پناہ ر ہیں گے (اورمسلما نآپ کے 
اس جع ہوک دہز نل سے لئ ار یکرکن گے با '' 
اس ارشادی لحگ ا یآ یت خلا ک ابی تک نکی طرف لٹا ردے۔ 
الا یش نت ھی فی ال خ نا أی ‏ خل بش کیا ے: 
”'لل بلاء فلانء فلقد قوُم الأودء وداوٌی العمدء 
وأقام السُّنَة وخلّف الفنة! ذھب نقی الٹوب, قلیل 
العیبء أصاب خیرعاء وسبق شرٌھاء أدی الی اللہ طاعتهء 
واتقاہ بحقّهء رحل وترکھم فی طرق متشعبةء لا یھتدی 
بھا الضال,ء ولا یستیقن المھعدی.“ (اللاز كص:۰٥٥)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۱۸۲6‎ ۷ 


ور ور سو سے 
سی ا ری ۴ ۔اقیدل من کی سیت 
کر .بسفی تکو نا مکمردیاء یس . جرح تکو کی ڈال دیاء ۵ ٦‏ 
و تع و کروی ا ےا ٦‏ کٹ 
ے:...اورفسماقلافت سے پیل چلاگیاء ۸:... ال کی بارگاہ ٹیس اس 
کی طاعحت اداکردگیء ۹ اودیقنی کے موا فی پر ہی زگ دی اخقیارکی ء 
٭٤..3(ا‏ کی مو جودگی میں ا کی رت ےترام أم رت تق تر 
تھی :کان اہ کی موت ےم تکا شیراز وپ رگیاء چنا می ود ا ہے 
بعد) لوگو ںکوشارغ درشارغ راستوں میں یھو ڑگمیاء یجن یش نہگمراہ 
ہدایت پا تا نہ ہراہیت یافت لین با تا ے۔“ 
اپ رشن ےلاو زوپ رخ ور ے سور ےآ ع رگ سے 
ال نام حذ فک کےا سکع 'فلاں'کالفٹالکددیا۔ اس لئ شارحان“” ہلا“ کولڈیا 
فلاں' نین میس وقت پٹ لآئی یجس نے غلیفہ ال اون نے خلیف ای شی الد 
اکوا کا مصدا تک رایا۔بہرحال رت اُمیرنے اپے یز وخلی کی امک ول صفات 
زکرفر ماکی ہیں جوخلافت و مامت سے مطجا ۓےتقصصود ہیں ہ اور اس سے بڈ ہیک ری خلیہ 
ر اٹ یی یں ممزنہیں۔ 
۴ رکچ البلا فیس ححخرت ام شی اع کا ہار شاف لکیاے: 
-٢٢”‏ وقال علیے السلام فی کلام لہ 
وولیھم وال فأقام واستقامء حتی ضرب الدین بجرانه.“ 
(اللاز ک:ے۵۵) 
ا ”نچ رحام ہوا نکا ایک دای ء لیس اس نے تفم 
کیا دی نکوءاورد لیک سیر ھا چلاء یہا لج کک دکدد یا بن نے ز مین 


: رن 
تر اتاحق۔ 
چ : 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ما اکا شالی شارب ” س الا نے پھایفر ےکا ت جمہ م کیا ے٠‏ 7۲ 
وا ی ایا ں شددال یک ہآ نگ رخطاب است 
نی 'ا نکا الم ہواایک ا مکراس سے مرادحضر تر 
اور خ ربی نتر ےکا تر جمہ یو ںککھاے: 
جا کہ بمزدد بین شی سن خودرا رز ینہ وا ںکناہت 
استازا تقر ار ینا اثل اسلام' 
.ہا ت کک دن نے ایے ہی کا اکا حصہ 
زین پر رک دیا۔ اود ىہ ال سےکنامہ ‏ ےک ائلیٴ اسلا مکوخوب 
اختتراراو یکین واصل ہق“ 
جنابامیررڑکے ان ارشادات پت7 ےک"م دو اپینے ٹیس روغلغفا کی خلاف تک 
خلاففت راشدہ یلت ت ہق رآ نک رم کے وعرو ںکامصداق جا نے تھے اوران اکا بر کے شر 
اوروڑے پا پیر تھے ہکیوکہا نکی خلافوں سے ری نکوگھین حاضصل ہوک ءاسلا کا بر چم بلند 
ہوااور دیپ الا نام اد یان پعَال پآیا- 
رت یی ری اد عنہ کے بعد ایک ارشادتم رکا رت تس ن بھی ری ارڈ ع کا 
لف لک ہوں: 
علامماہی نے بھارالاخو ار تارج امام س مغ“ کےا نیس میں باب می ارد نگ یکی 
ینامجرت مز او نف رت ماو یی القہھا کے نا ےکا 
من لکیاےە ا کا درب ذ یگل ا تاس ملا خ یف ما ے: 
”بسے الل الرحمٰن لن الرحیمء ھٰذا ما صالح عليه 
الحسن بن علیٗ بن أبی طالب؛ معاویة بن أبی سفیان: 
صالحہ علی ان یسلّم اليه ولایة أمر المسلمین علی ان 
یعمل فیھم بکتاب الله وسُنَة رسوله صلی الله عليه وآل 
وسیرۃ الخلفاء الصضالحین۔.“ (کعادالاوار يج:۳٣‏ گ:۵٦)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹ .۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


ین > عت پیا ھا کوھت 
من ھن بن الپ طالب نے معادین"ئکن الیاسفیاكنغ ےک کی۔ ىہ لے 
ہوا رون مسلانو ںکی ولایت مر (خلافت ) معاور کے یرد 
کرد میں گے ء اس ش رط رک وہمسلمافوں می کناٹ الد سشت رسول 
ایی اولرعلیہ وملم اور خلا ۓ راشھ نکی یرت کے مطال مل 
لن ےن 
علا ا یانے یہاں ”خلفاۓ راشد گن“ کے ہیا تے” خلا تۓ صا نا کا لفظا 
فی کے :ینا از الاڈ کے وا شی ین ےکی کناپ (لشؾ “عو سال یم 
یس فلا ہے رای اط ہے 
”رفی المصدر سی ص:۵ ۱۳ الخلفاء 
الراشدین (الصالحین,“ 
رت امام تن ری اد نکی ال لک رر سے چندأمورمستا د ہو ئ : 
او ی:... کال سنت ولا ۓ ار بت( رات اپوک رع ؛ مان اوریی ری 
ال درجم کے بارے مین میعقرو رکنے می کک وۃ”خالانۓ راہن جھےہ نی عتئی رہ 
ضرت اما وع کا تھاء ام درا کال سن تکواس عقیرے میں حضرت امام موصو کی 
از او جا یب ے- 
دوم:... کہا لی سن تک یکتابوں ٹل جو بعد مت ,2 
”وعن العرباض بن ساریة رضی الله عنه قال: 
صلی بنا رسول الل صلی الله عليه وسلم ذات یوم ٹم 
أقل علیخا بوجھہء فوعظنا موعظة بلیغةء ذرفت منھا 
العیونء ووجلت منھا القلوب فقال رجل: یا رسول اللہ! 
کان ھطذہ موعظة مودعء فماذا تعھد الینا؟ قال: 
اأورصکیم بعقوی اللہ والسمع والطاعةء وان کان عبذًا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


حبشیاء قامسی سی سگییسی تہرچ ساط 
کرٌاء فعلیکم بسشنعی وسْنْة الخلفاء الراشدین 
المھدیینء تمسٌشکوا بھاء وعضوا علیھا بالنواجذء 


وایاکم ومحدثات الأمور فان کل محدثة بدعةء ورکل 
بدعة ضلالة“ ( َء :۲۹۰,م) 
قرجھہ:.. !حر تع بائش مکی سار ری الف ٹف مائۓے 

کہ ایک دن رسول اوڈر”کی الل علیہ یلم نے می نماز پڑھائی: 

پچ جہاری ططرف موجہ ہوکریییں ایک ایت ش او رمث وخنافر مایا 

جس ےآگھموں ےآ نسوجاری ہو گے اور و لکاجب گن ۔ ایک 

تی نے عو کیا :یا رسول الئد! ایا نانوی ضہتارے 

ےم تو کو میس وش ئے!ارشھا وف رما ا: 

کی سم مکوا تال ی سے ڈ رن ےکی اور( ابئے عا 1 1 وطاحت با 

لال کی وییس تکرتا ہوں ‏ خواو و می خلام ہج یکیوں نہ ہو ءکی ون تم 

ۓآ رسس ہے الات ھٹا 

ای لج میرک سن تکواورمیرے بحدغلفا ۓ راشمد گن ء جو برایمت 

اف ہیں ءکی سن تکو لا زم کل و! اوراے واشتوں سے مہو پھڑاوہ 

اوردیھوا جن نی بای ابیادکی جا می ان سے ات اک یچیو ایوگ 

ہردہ چر( جو وین کے نام پر ) نی ابیجادکی چاۓ وەبرعت ےء اور 

ہر برح تگمرا ہی ہے 

حخرت اما تن زشھی ایخ نہ کے نزد یک بعد یث کچ ےہ اود چونگہ اس میس 
آنحضرت صلی الشرعلیہ وملم کے لام کے خانا وک ”خلا ۓ داش بن فمایاگیا سے اس لئے 
جحخرت !ما ساس حد بیث کے طاق عقید:و رھت تے_ 
صصوہ ...ےکی عضرت ادا مصس معن ححخرت معاو یڈ ےکتاب وسنت بش لک نے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


کےعلاودجقرات لا ۓے راشد بی کی سنت وسر تک پیرو یکا بھی ہدیا ءا سے ایت 
و اک ححضرتت اما تسم کے نز دی فکاب وسنت کے سا تح غلفاۓ را شع نکی سن تھی 
شت شر عی سے اود ا ںکی إڑرالازم ے کین ہآ حضرت صلی اول علیہ ویلم نے خلا ۓ 
راشدی نکی سنت کے ساٹ جم کفکر نے اور سکومقبو طط پمڑ ن کی ت کیل مغ فرماکی ے۔ 
خلافت راشد ہکی ہی لگوئیاں 2.21ە/ ےن0 

سور رع کی خکیآبیت می صحا کرام شی الڈتھ کا جک کر تے ہو ئے اھ 
تا لی نف مایا:”ڈلک مَفلقهمْ فی الوْرَاة وَمَفلهمْ فی الانجیل“ اںآ یتثریدے 
معلوم ہہوتا ےک کت ساب قہمی ںبھی ارت صیا مک را تصوص] تع رات غلغاۓ راشد بی 
کے پارے می پٹ وشیا ںگ یں :اس لعل می ییہا ں تن واقیات ڈککرتا ون ۔ 
ا:.. ہتظرت صد لی کے بارے میں یی ںکوی: 

عافظطجلال اللد بن سد نے ” خص ال لکہرٹی رخ :ا ص:۲۹) ٹیس حطرت الوبگر 
شی ال رعنہ کے الام لا ن ےکا سب بن لکیا ہے اصل من دہاں ملا حنظک لیا جا ہ یہاں 
اس کت جرفق لاہوں: 

”این خسماکر نے جارڈ شی می ںکحب مار سے 

روابی تکیا ےک انہوں ن ےکہا: نظرت الوب رد لی رصی الد عشہ 

کے اسلام لان کا حجب ایک وی 1سا یعیء وہ کیک شام میں 

حجار تک اکر تے تےءانہوں نے دہاں ای ک خواب دبیکھا جن کوک را 

راہي ے یا کماء اسر ا چھا: آ پکہاں ا وا نے 

ہیں؟ ححضرت صد لت نے فرمایا :کہ اس نے لو بچھا :مس لہ سے؟ 

آپ نے فرنابا: فرییشیص ان نے جعنہ لو بچھا تو آپ نے فرابا: 

۳ ۔ اس لن ےکہا: الڈدتھالی ن ےآ پکوسا خواب وکھطا یا پک یتوم 

ایک خی مبوث ہوں گےء ا نکی نکی می ںآ پ الن کے وذ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳٠٥٢٣ .۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


نہوں گے اور ا نکی وفات کے بح دآپ ان کےخلیفہہوں گے_ 
حضرت الو رصد نے ال سکوپوشیدہ رکھا ہا لک کک ہنیک اللہ 
علیہ وعلھم مبوث ہو ئے لو ابویک رآپ کی ال علیہ یلم گے ماس یئ 
اور بچھاکیہ: ا ےھر ! آپ کے دوگ یک یکیاوٰیل ے؟ جضور٥ی‏ ارڈ 
لی یلم نے فرما کہ دوخواب جوم نے مل شام میں دیکھا۔ ےکن 
کرحفرت ابویک نے معازقہکیا اورپ مکی ال علیہ ایل مکی پیشا لی کا 
اوس لیااودکہاکہ :می سگوابید بت ہو ںکہآپ اید کے رسول ہیں ۔' 
(جموُخلافت ۵۰۱۰۱۴ ۵۰۱۸) 
...رح بت انی ںکا وائے: 
جار کیامشبور واقعہ ےک عفر تعمرد بن عاع دی اڈدعنہ نے جب ۷۹ھ 
ببیت مقر ںکا ما صرہکی نے خلا ۓ نصارکی ن ےکہاکہ :تم لوک بے فا د نکیف ا ٹھاتے 
ہو :تم بیت ال مقر ںکو وی سک یلق رک یت لقن انلم ال سک خلا ات کنازرینے 
چپ ز فی فی بین :اگرتھارے ام ین ووسب پاش مو جو ہیں تو غیرلڑالی ے بیت 
ال نیس ان کے جوا ےگردمیں گے۔ اس وا ےکی خی ر رت فا روقی ام ود یگئی اورپ 
صحا کرام سےمشھورے کے بعد بیبت ال تقد لتش ریف نے گے ۔ 
رت شا دولی ایرث ہلوگ نے' انز الہ افنھا “یس جا رع مانچی کے جوا لے 
سے ا کا تب ذ یل داع بیالن اف مااے : 
ترہ:. ”فی نکر ری ازلرخہ بیت اق لن نیف 
نے مۓ ءوجہیہوٹ یکیمسلمانوں نے اس شمرمنقدرس مبار ککا محاصرہ 
کیا اومماصر ےکو بہت طول ہواءنو وہاں کے لوون نے ساراوں 
گہاکیتم لو لیف مت ا1ء بیت المقدی لکوسواۓ اف 
کے سکو ہم چیا تن ہیں ء اور ال کی پیان ہمادرے اس سےہکوئی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳٠۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


رج وتسود سر 
نیرلڑاگی سے ببیت ا میں جوا ےکمردسس کے۔مسلمانوں نے رر 
حضرت عم ررشی اللدحنہکو گی ء مو ںآ خجناب اپینے وف پرسوار 
ہوۓ اور بببتاا مقر لکی طرف دروانہہو گے ءآپ کے سا تج ھپ کا 
فلا م تھا جوفو یت نو فآپ کے آونٹف پرسوارہوتا فماءز ادرا ہآ کا 
چو درکچھو پارے او رشن ز ون تھاءلپا و ہونر گے ہو ۓے جے 
رات دن جنگلو ںکو ےکر تے و ےپ ےہ جب ببیت المنقدرل 
کےقریب پپچ تو مسلما نآپ سے لے اوران ہوں ن ےپ س کہا 
کہ:ز انیس ےک کفارہ می رالھمو می نکواس حاات یں وھییںء 
اود بہت اص را رکیااکنہ یبہا لم کک ہآ پگوایک دوسا بل پہنایا اور 
ای کگھوڈڑے پر پکوسدارکیاء ج بآ پ سوار ہے اور ہف 
وس اٹ ی کی 2 آپ کے بل مین یکنقیب ال ہواءلپزا آپ 
گھوڑے ےت ڑےاوروول راہ لبھی ُا رد یا اورف مایاکہ: شھے مرا 
لاس وایں دو۔ ناش دی پوند لگا ہوال اس اہن لیاء اور ای یت 
یسل تال لہ پا ارائ لک اب نے 
پکودیکھا کہ: نزیس مناوزاپ کے أل موہ 
تھول و“ (ازاۃ الا عج:٣‏ ۶ص:٠٦)‏ 


۳:, معظررتگر رگ ایٹ رع گا ای کب داتھ: 


عافظجلال الد بن سید نے ”'خص ال سکب ری یش مر تگمررشی ارڈ رع ہکا ایک 
جیب داقن لکیا سے یہاں ا خسار کے پیش را کا خلاصہ کک رتا ہوں: 


”جب حطرت فاروقی نع حم زی الد عنہ بیت ال مقدرل 
تھربیف لے ینغ ایک عیسائی عال مآ پ کے پا ںآ بااد رآ پ ولیک 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢٣۹ .۸۷۵۱۸۲۹۴6 ۷ 


جھٍ حتاح چہجوھہحوچھ۔.جو 


تق :شا ن کے اب یں اپ نے رای نک می مال تدف زا 
نف کے لا اط زی نکی کون زا کن یا او رن 
سک تھ زا فرع نے پور وا قعاا نکوستایا۔فر ما اکہ: ز ماد 
جاہلیت ٹس ایک تار لی تال کے راہ میس ملک شا میا تھاہ یش 
ابٹ یکول چچزجھو لگمیاءاس کے لیے کے لے وا یں ہہواء پچ رج گر تو 
قا لے ےکونہ پاباء ایک باددکیا نے یھ ایک بپھاڈڑادبا اور ایک ٹوک ری 
دی اود کرای یکو بیہاں ےا ٹھاکردہال ڈال دوہ یک ےک رگ جا کا 
دروازہ باہر سے بندکر کے چچلاگیا۔ بی بہت نُا معلوم ہوا اور یل 
نے ہکا مکی لکیا۔ جب دہ دوپہ رکآ یا اودااں نے ججھے دریکھاکہ 
ٹس نے یکا مکی نکیا ءنذ اس نے ای ککھونسا می رمے میں ماردیا۔ 
ٹس نے بھی أ مج کر بپھائوڑااس کے م ربردے مارا۔ جس سے اس ںکا 
با نل بااوریس وہاں سے پل دیا۔ بقیددن تار ہااوررا تگھر 
چلمارہاء یہاںت کک ہدک نو ای کگمر جا کے سا سے اس کے سا ئے 
ینآ لت کے لے یٹ کا ٹف ا گر جاے باہ رکا اور جھ 
سے پچ چچھا کہ :تم ہاں کی ےآ ہو میں ےکچ کہ ان آۓ 
سانھیوں ے جرا ہوگیا ہوں 0رئھ-", ئا 
لابا اورسر سے پچ تک خو ب کور سے تھے دریکھا او دگہاکہ: خھام ال 
کتاب جات ہی ںک ہآ نج بجھھ سے بڑاکوگی عال مکنتب ساب ق کا ٹزو ۓ 
زین پکیں ے۔ ٹیس اس وقت بی دگور یں یآپ یا 
معلوم ہوتے ہیں جا سگرجا سے پمیس مکا لےگاء اور ا شر پہ 
قابس ہوگا۔ میں ن ےکھا: :ا نشج را خیال دمعلومکہاں چلاگیا_ 
چلراسی نے بھ سے لو چھ اکلہ :تخہا رانا مکیا ے؟ ٹیس ن کہا کک 
خطاب !نو یی کی لگاکہ: یدک یمر آپ دی دہجھس ہیں و اس میں 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢٣۹. ۸۷۵۸۲6 ۷ 


ع × سس ری و 


و شی نیس :ادا آپ تھے ای کت ملک د ہچ ءال گر جاکومیرے 
نام واگز ارکردہیچئے۔ یں  -‏ 91 
اتسا نکیاے ا لک عق راب نکر کے ضا مم کر بعر اس نے تہ 
ناہآخرٹیں نے اس لکوای کک مک یددئی اورمبرکردیی۔آ ‏ بات رکا 
نےکر میرے پا لآ یاہے اد رتا ےک اپناوعدہ پپارا سجئے۔ یش نے 
ناپ و نی لہ تما 29 ء ‏ تو 
درے سن ہویں؟ ا( خ فو سکبرکی حا ص:۳ء حُنخات ۲۹۹:۴) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


بویں بجٹ: امام غاب اھر پرایکاظر 


اپ تفر نے سک 
”ا۳ پر باہو میں امام علیہ السلام سر جو خمامہ فرسمائی 
فرماٹی ہے ا کا چیددی ہما رے نز دریک خی رعالمائہ بکنہ عامیاشہ ے؛ 
ری لقن ےکہ مع ریپ جیما عال نی لک سلتاء سی 
جا لیر رمعلوم ہوٹی ے'' 
آ ناب کے ا تیر ےکا ببہت بہ تشگ یہہ اس نا کا ہکا جن لکن رمک وآ ناب 
نے کیا جاہ لک ری فرمایا سے + ود ے: 
شیعہ نہ بکا نر ا مامت فطرىی طور بر خالط تھاء کی 
وج ےک شیع مہ بگگی ا لابو چھز یادددمیتک نأ ھا کاء بلگہرائں 
نے ”ما موں'' کا سلملہ باہو میں امام رت مک کے اس ٣۷٣ھ‏ 
یش می نامعلوم از ین رای کے ار بیس ہین کے لئے ناب 
کردیا۔آ نج ا نکوساڑھھےگیار وصد یا لگز ربچگی ہی ںگ رر یکو پیر 
کا لک باہو میں !ماع کہاں ہیں اور عالت می ہیں؟' 
ٹس نے اس لقرے میس دراصصل ان مشکاا تکی طرف اشار کیا تھا جوخقیر) 
ا مت کےم ف٣‏ کو بی یآٴن ی میں او رج نکا بدا ٹھانے سے با خر دہ جا ہج سن ء اور 
چارونا چا رسللملۃ امامت کے نا ےکا اعلا نک نا یڑ ا۔ شرع ا لک می ےک ہ۶ داد بن سیا 
ہو دگی اورال کی پارٹی نے قیدہ ٤إ‏ مامت تی فک رلریا اور ہوا ہے رارح التقی ہی اگ ردکھی 
پراکر لی جآ تید بجی ا سک مغ کو جاری رکینکیں نان ان مبلخو ںکوف رم رم رم وا ت 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳۱٥٢٣ .۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


کاسا منا ہیی ںآ ما تھا۔ 

اول:.. تعفر تی ری اللہ ع کا انا رزڈل ان کےا ںعقیدر ےکی ج ڑکا غ 
فا ءکی نل 

الف :.. انا ۓے مطاش شی ا شیہم کے دو می سآ نے بھی وی مامت نیس 
فبایاء پک ری نے اشن کھ یکی تا کو فلفہ بیدا کیک چٹرک دیاء یی اک ہپ 
گر چاے۔ 

ب:.. تنظرت کی خلفا ۓ ملا کے دوریس الع کے دست راست ہت 
ان کے وز مروشیررے ءانوں نے رت بین سے اورفارس ووم سے جو امیا سکیا ا نکو 
شرکی چہا دچھاء فئ اور مالنیبمت یں سےحصہ لیے ر ہے ؛ چنا خجآپ کےصاحب زارے 
تحضر بتھر بن ضز کی دالمد ہکوہ جوصدر لی اکب فی افا نہ کے رٹ جلک زا مار 
وک رک یھی :ان عم یس دا٘ لکیاء اورشاو مرا نکی بی شا وکوء جوححضر ت عرش اللہ 
عنہرکےز مانے می امیان کے مال غیت می لآ یگعیں ءاپنے صاحب زار ے حر ت من 
ش یکر بلارنشی اش عنہ کےترم یں داش لکیاء لن سے رت ز ین العاہد ین توللد ہو ۓ اور 
شییہو ںکا ساسملے: امام تآ گے چلا- 

اہر ےک اگر ىہ اکا بر خافاۓ حالی کییں تے نو ا نکی لڑائیاں جشرگی جباد نہ 
ہ میس ء اوران ڑائوں میں گ خر ہوک رآ نے والی خوا تع شرگی باندیاں نہ ہونٴیں ٠‏ اوران 
ےخطلال شہا۔ 

3 ...اس سے بڑ کر حر می دی الد عنہ تم ڈھاۓے ‏ ےک وف ٹو تا 
خانا ۓ مڑا کی رخصوب] عفرات خی نۃی برح مغ فرماتے جے:تٹری|ڈ کےا نکمات 
رب طببا تکی شرب وتاو یل میس تعقرات إما مآ نا تک ماکان ہھورے ہیں- 

د:...اورخلیفسوم حظطرت عثاان شہیر نشی الندعنہ کے بحد گآ پ خلافت 2 
لا ۓآ مادوئیں تھے بل ج بآپ سےا لک درخواس تک یگئی بجی اک نک ابلاغ 'ش 
ہے مایا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۸۷۵۸۲6 7 


فانا کاحد کم؛ اس ڈوم لمن ولّیتموہ 
ارک رآ ئکی رز عیر لکی سی آمزا 
(ر)ابااز ۴ص:١۳٢)‏ 

تزچف:. ” جھ تچ وڑ ود خطاشت کے لی اورک گی 
کرو.......اوراگرتھم بے جچھوڑ دوتو می ںتہہارے جیما ھی ای گآ دیی 
ہوں اور ہوسا ےکم لوم ابنا می ربنالد یلم سے بے ہک را سکیا 
اطع تکمرو؛ اور مرا وز ہہ نکر ہنا تجمہارے لج اس سے ہر 
ےکی ٹھہارا اکم بتوں '' 
::...اودلوگوں کے سا مئۓے علفافر مات ھ: 

”والل ما کانت لی فی الخلافة رغبةء ولا فی 
الولایة اربةء ولکنکم دعوتمونی الیھاء وحملتمونی 
علیها.“ (اللاز ضص۰٣۲٣۳)‏ 

تر جمہ:..''اللک یح !یھ خلا ف تک یکوئی رقبت نی ء اور 
لوم تک یکوئی خوا ہش تھی یا نم لوگوں نے خود بھے ال کی وحوت 
دگی اور کے اس برآمادہگیا۔“ 


و..اورج بآ ء مار گی عو نکی نے ھا سے نی ہو قے فو الا 00 
کود سے ہوۓ نضرت جنرب نیعبرا دی ال ععنہ نے عون قکیا: 


”یا أمیر المؤمنین! ان مت نبایع الحسن؟ 
فقال: لا آم رکم ولا أنھاکمء أنتم أبصر .“ 
(اپراپرال اي رخ ے كص۶۰[٣۳)‏ 
تر ج:..” ام رالھ وشن !اگ رآ پ کا انققال ہوجاۓ نو 
کیا بھمآپ کے صاحب زاوے حطر ت سم کے ہاج 


۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۵۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


کرس ؟ فر مایا: بی ”میں عم دیتا ہوں ء نیش کرجا ہوں رم لوک 
بت رجا ۓ ہو 
سح تی شی اڈ رعنہ کے ا مم کے بہت سے ارہمادات سے ہابت ہ تا ے 
کی حطرت لی شی ارلدعنرادرانٰ کےرفقاء کے فرشت کویھی قد ة اماص تکی خر ننگاء 
یلاس کےےگی الم امامی پا ٹی خظہ ود را کان می عو تھی ۔ 
دوم:.. ضر ت تن ری الڈعنہ( سب اکبردر یجان ا میس اش علیہ لم )نے 
عی٤‏ مام تکی جتڑوں پراس ونت ٹیش چلا باجب جی می کے بعرخلاطت حخرت مواوی 
نشی ائشدعنہ کے سپبردف مادگی۔اانع کے ال طط رزفٹل سےعقیدٗ امام تکاگھ ردنداز لن اویل 
ہوک ر و گی امک رخقیرۂ مامت سے تق نکی طرف سےال کو یمزاد کک ہآ تد ہ مامت 
سےال نکی اولا وکلی مرو لکردیاگیا_۔ 
وم :..رحفرت من شہی رگ رپا کے بن دش٠یعوں‏ ٹیس ہہولناک اخ ذات 4 
ہو اور ہر اما مکی وفات کے بحدرایک نۓ اختا فکا سال ش رو ہو جاجاء چنا ٹے: 
پہلا ا خلاف:..جفرت من ری اللعنہ کے بحدز وا ہوا اور جو لوک خخیہ 
ور برعتقیر؟ امام تک یب کرت تےء ان کے چندفر تے ہو گے ای کگرو ومن اوسمشن 
نشی ال نما دوثو لک إیام کا مک ہہ وگیاء ا نک اکہنا ھا کل اگ ر تفر ت سو غ کی مصدرالحنت 
رع موا کے ات جا ئگ قو دن موا و کے با لے بی حعرت بیع کا خر دع 
ناج ئز فھاء اوراگ ر ضر تمینغ کا خر ورح جائرز تھا تذ رر تس کی مصدال یت نخرت معا وی 
کےساتھ ناج ئنڑھی نشی اپنے رسا لے 'فرقی الشی ہی پک ہیں: 
یک رکا رآ روررگاع رظ واز امام تآنال پازڑھ 
شید ودرکختار با تو د٤‏ مرد ۹م داستا نگرد یدن“ 
(ٹرنالغید :ے٥)‏ 
تر جمہ:..” بیلدک ان ددفول بزرگوں کے متضا رط رزگل 
ےچ بلاغ ہو یئ اور الژ دیو ں کی اما ہت ے پچ رگ اور 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


عمقیرے بی عام لوکوں کےسا تج ہم داستنان ہو گگئ _' 

وس اگروو:: : .. النلوگو ںکا تھا جو تع رات نین ری ارن حا سے لع رحضررت 
صلی رشی ند نہ کےتیسرے صاحب زاذ و ضحطرمت نج من ضنذ کی مامت کے انل ہے ۔ 
چنا مقار بیادرکیسا مہ ن مم من این طخ )کی امام تکاضلم لن رکیاءاورقاسلین من 
کا انام ینارد عکیا۔ اس فرتے کاتنی تین ا تار جن الی عبی دنر اب تھاء رجا لی 
۰ھ 


خ 


”'والمختار هو الذی دعا الناس الی محمد بن 
علی بن أبی طالب ابن الحنفیةء وسمّوا الکیسانیّة وھم 
المختاریّة وکان لقبه کیسان ...... وکان لا یبلغه عن 
رجل من أعداء الحسین (ع) انە فی دار أو فی موضع 
الا قصدہ فھدم الدار باسرھا وقتل کل من فیھا من ذی 
روحء وکل دار بالکوفة خحراب فھی ممًا هدمھا۔“ 
زی تی 182:۶ 
ش::: نا وزفار دوش ےچین ےلوگ ںوھ جن لی 
بن ال طالب این اشحفی کی امام تکی دگوت دک ء ا کی یارٹ یکو 
کیساجی اور مقار کہا جا تا ے؛کیسالن خودا یکا قب تھا.... 
اورتضرت جع کے وشھموں میں سے کی 0829 
ا کو یق پیک یکرددفلال مکاں میس با فلا مہ یش ےء ریٹور 
دہال کے جااء بپبرے مکا نکومنہد کرد بت اود اس میں جشئی ذی 
ژوں ووں ”تن ضس کون ی روز ٹن نے کان 
مان یں ء رسب ایی کے ڈجاۓ ہو ہیں“ 
ختا ناب تھا ضر تشھ بن کی طر فتیموٹی بات منسو بکرتا تھا چنا نے 
زا گی ین ےل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۵۸۲۹6‎ ۷ 


"۰۲ - محمد بن الحسن وعثمان بن حامد: 
قالا حدٹنا محمد بن یزداد الرازیء عن محمد بن 
الحسن بن ابی الخطاب؛ عن عبداللہ المز محرف؛ عن 
حبیب الخٹعمی, عن ابی عبداللہ (غ) قال کان المختار 
یکذب علی علیٗ بن الحسین (علیھما السلام).“ 
تال گی )٣۵:۴‏ 
ترجمہ:... امام صادق تفرماتے ہی ںکہ: متار حضرت 
امام زین الحاب بین کے نام برکھو بل تھا 
اورسب سے بڈ کر ہکا نے نذ تکا مچھوٹا دگوٹ کیا انان شیا رات میں 
ےہ کہا نا ین العاد نی بن ین شیا کراب کے بس ”جزاہ لے 
را“ فرماتے تھے ہکیونکہاس نے ححضرت مین یی ارڈ دح ہکا اشقام لیا تھا۔ 


اتی ۴:ك٢٢)‏ 
اوراان کے صا حب زادے اما مھ پاٹ ر” اگ ف ہت کے لج جا زمت 
رما تجھے۔ (ایتاً ضص:١٦۴)‏ 


نو رارڈشیشٹزیی 2 مالس الم وشن یی سکیعت ہیں : 
” تار بن الی عبی فی رح ارث تھی ؛علام یی اوراز جملہ 
مقبولا ‏ شھروو_' 
(ممااس ال وشن مم طبومتہران ٦ض:۱۵‏ کوا اعت الغیھ ٦ض٢٦۲٢۳٣)‏ 
ترجمہ:...”کعتار بن ای أقفی رم ابق لی علا گل 
نے اس سکوتقبولا بن پارگا وی می شا رکیاے_“ 
ہیں سے ”عرات امام کی الصاف پنری وداْش مندگی اوراٹل بیت اطہار 
سے ال نک محب تکا انازہ ہوجا تا ےکہ امام متصوم ضر ت سن شی دنر حنہ ہم سخخصیت 
سے کرت ہیں اور اشن عم و م۲ن تعرات جن شی ادڈخنماجٹس کے را بر ہییعت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


کرت ہیں ء یی حطر تا می ماد ری شی اڈ رعنہہ ود ان ک ےئدرک العتة اللہ علے'' 
ےء چنا خی نیل نکی یع تکا دا ق نر جال شی یش امام صادق" ہے اع رف لکیڑے: 


”حدثنا محمد بن عبدالحمید العطار الکوفیء 
عن یونس بن یعقوب؛ عن فضیل غلام محمد بن راشدء 
قال سمعت با عبدالل (ع) یقول ان معاویة کتب الی 
الحسن بن علی (صلوات اللہ علیھما) ان اقدم انت 
والحسین وأصحاب علی فخرج معھم قیس بن سعد بن 
عبادة الأنصاری وقدموا الشامء فاذن لھم معاویة واعد 
لھم الخطباءء فقال: یا حسن! قم فبایع فقام فبایع ٹم قال 
للحسین (ع) قم فبایع فقام قبایع.“ ‏ (رہالشی كص:٠١١)‏ 

ترج:..””حطرت مواو ین رت تن مکی شی 
ان اوھ اک ہآ پ اورآپ کے ساتحوفرت وع اور صحا بک 
شرف ال چناتے رولوں سے ات ین بن سعد من عیادہ 
انصارگی شام مگ ءخضرت معاو یی نے ا نکو اجار ت دکی اوران کے 
لئے خطباء تار گے ء پچ رکہا: ا ےس ن١ا‏ ھکر ہبیعت سکجتے ہپ أ مھ 
اور بیج کیا ء نی رکہا: اے سان ! أ ھکر ہیعت کے ء چنا نچ ھی 
اور بیع تک _'' 


فرش !حعفرات اشن ہا ۰ن احسن وائسین رشی انان ج سشخصیت کے 


اھ بی بیجم تک ؛شییع صا ضائنع ال کون ”لت ارڈ علیے سے یاوکر تے ہیں ء او مس معون 
نے مک تک 21 اور وہ ا گے برجھوٹف طوفان با ند تا اشن تا رکذابء دہ ان کے 
خن یک ری اش علیےاورا سےمقبولا بن باگا و الھی یش شا رک تے ہیں ء شا رلل وَانا اه 


تس راکرد و:... ان لوگو ںکا تھاج مز بن العاب بی کی مامت کے قائل اور 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


بچندآشخائ تھے :”رجا لی یں امام صاد ق” رو 
۰۲۳ - محمد بن نصیر؛ قال حدٹنی محمد 
بن عیسی عن جعفر بن عیسیء عن صفوان عمّن 
سمعہء عن أبی عبداللہ (ع) قال: ارت الناس بعد قتل 
الحسین (ع) الا ثلاثة ابو حالد الکابلی ویحیی بن ام 
۔الطویل وجبیر بن مطعمء ثم ان الناس لحقوا وکثٹروا.“ 
(زرعالگی صص۱۲۳۰۷ء تر جس بن ام الیل ) 
اپ سے و 0ل پا و 
سواۓ ت۰ نآ دمیوں کے مڑی ا ول دکا بی ء سن بن ام لویل اور 
جیرپن عم ء بعدییں لو کآ نے اورزیادہہوگئ _' 
الفرش! ان دنوں ‏ بن نف کی امام تکا لق تھاء اور امام ز بین العابد ی کی 
مامت کاکوکی نا مبھی نہ لیا تھا ءخود امام ز بین العاب بی دگواۓ مات ےکوسوں ور 
تھے ۔کر بلا کے منا ظھررانع کے چم دید تھے؛شبیعدراولیوں نے فو ان سے بیہا ںکک ”سو بکیا 
ےکم د٭وی: بلدگی ملائ یکا اھر ارکر تے تھے ء رو کی ٹیش ان کے صاحب زادے امام پاٹ ر 
ےق لکیا ےکہ یز یکن معاد مرن کواجاتے ہو مد یت یا الک نے ایگ ترک یکو بلایا اور 
کہا :کیائم اھر اکر ہ کین مر ےقلام ہو؟ ال نے افکارکیا نو ا ےگ لکردیا: 
”ٹم ارسل الی علیٰ بن الحسین علیھما السلام 
فقال لەمثٹل مقالته للقرشیٌ فقال لە علیٌ بن الحسین 
علیھما السلام: آرأیت ان لم أَقرّ لک الیس تقتلنی کما 
قعلت الرجّل بالأمس؟ فقال لە یزید لعنه الل: بلیء فقال 
لهە علیٌ بن الحسین علیھما السلام: قد أقررت لک بما 
سالت اناعبد مکرہ فان شنثت فامسک وان شٹٹث 
کس (روفکائی ج:۸ ص:۲۳۵) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٥٢٣. ۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


سم ےئ جحے 


زج سو سس سے ہو 

ا بھیجاء ان بھی وبی با تی ہوفررڑی 00 

نل الام نے رما اک :اگ بیس تورکی خلا ئ یکا اق ار ضِکروں 

قد کیا یجھےاس یع ران شہکرد ےگا جی یق لق رٹ یکو لسکیاتھا؟ یز ید 

ن ےکہا: یقی! ححضرتئلی می نین مہا السلام نے فرمایا: و نے جو 

لو یچھا سے میں ا کا ار ادکرتا ہوںء ٹیل بے یس خلا ہو ل نو جیا سے 

نوا نے پاش دکوادرجا ےا جھے ٹر وضتکرد کان 

چوتھاگردہ:...وہتھا جو اس کے تقائل تےک مین کے بعد امام تشخ ہوگئیء امام 
بی مین تھے :رت کی نطرتحس مع او رنخرت یع ء٠‏ لوک معخر ت سن کے بعد 
مس کی مامت کے امیس جے۔ (فرقالغیوے :۸۳۷) 

پانچوا ںگمردہ:... ان لوگو ںکا تھا جو یرہ رک جج ےکہ !مامت صرف اولاد 
ھن کات کیہ للع و جتا نع دوفو لکی اولا دی یھی اماعمت کے ل ےکیٹ را ہو جا ے 
اورلوگو ںکواپی طرف اعلاشی دکوت دے وہ ظرت لی ری ال حن کی ط رح امام واجب 
ااطاعت ہ٤‏ وس ان سے رتا کمرے ما اس کے مقا لے میس للوکو ںکوا بی امام تکی 
وت دےء وہ کافر ہے۔ ابی طمرحع مغ او سج نکی اولا میس جوشس زمام ت کا وکوئی 
ا وا کی یک نان یھر دہ اورائں کے ام رکا رمفرک وکا ر 
:7 (اہتاً :۸۵) 

ُوسرااخلاف:..جخر تی بی نین ز بین العابد یکا اتا ترم۹۲“ یش 
ہوا۔ الع کے بح پچچھر اما ممت کےم سے برطوفا نکھڑا ہواء ان کے صاحب زاوےۓحضرت 
زی بن لی (ج ز یڑ شہیر' کےقب سے مروف ہیں ) ا مامت کے ھدگی ہہوئے ؛انہوں 
نے حایس ہنرار ک ےشکر کے ساد دا یع راقی کےخلاف نو عکیاء شی ستیہ ٹس کےمیں 
زا رآفرادنے مین مو ران سے بے وفا یکی اور ضر ت سن شی رکم بل رشھی شرع کی 
سنت پچ رجازہ ہہولی و حطرت زی نے جام شبادت نون شکیاء ا نکی مامت کے تقاععین 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


زی “کہلا ے؛ اوران شل سے بہت سے الن کے مبدیی ہہونے کے قوائل ہیں۔ - 

کول نی ہنس نکچ یی مامت کےے انی پوت ان کے بنزان کے 
صاحب زادرےممپدائڈ ھت لکی اوران کے بحدرصاحب راد ےجنس کی کی مامت کے 
قانل ہے ء یلوگ ا نکو اما مدکی جگھتے ہیں - 

پلک نفخر تکیا بنا سن کے وسرےصاحب زادےححخرت ھ یافر بین 
یا بن می نکی اامامت کے توائل ہو ء ان ٹل چا رأفرادنامور تھے ''رچال ای ین 
سدق او کیا 

٥7٣‏ - جحدثنی حمدویہ: قال حدثنی یعقوب 

بن یزیدء عن ابن ابی عمیرء عن هشام بن سالمء عن 

سلیمان بن خالد الأقطعء قال سمعت أبا عبداللہ )6( 

یمول: ما أحد أحیی ذکرنا واحادیث ابی (ع) الا زرارۃ 

وابو بصیر لیث المرادی ومحمد بن مسلم وبرید بن 

معاویة العجلی ولو لا ھؤلاء ما کان اأحد بستنبط ھٰذاء 

ھؤلاء حفاظ الدین وامساء ابی (ع) علٰی حلال اللہ 

وحرامہء وھم السابقون الینا فی الدنیا والسابقون الینا 

فی الآخحرۃ.“ (رچالشی ص:١۱۳)‏ 

ترجمہ:..' کس ےکولی جس نے نز مد وکیا و ہمارے کر 

کوہ اود میرے والد (امام باق مر کی احادیٴ ٹکوسواۓ جا رتنموں 

کے ز را ر٥‏ لی رآبیث ھھرادیی :ری “سء بریدین معاد بین گر 

یلک نہہوتے نکی کے ل من نتھاک اس (عقی مامت )کا 

تفپاطاکرستاء بی چا رآ دئی دمین کے محافظ اور اید کے عطال وترام پر 

میرے پاپ کے اشن ہیں٠‏ بچی لوک سوق تک رنے وانے ہیں 

ہعارگی رف دُ نیاشیش اور می سبقم تک نے وانے ہیں ہعاری طرف 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ا عم : لے - وہ ینز 
رتتاتن کا ۱ 


و و 

امام صادق نے واپئی پ فرمایاء یی چا رد (ڈوسرے ار کے سا تم لکر ) 
شبعہ مر ہب کے مصنف ہیں ء رلک نمابیت بتقید ہ تھے ہیس اتی مطلب ارگ گے جج 
ا کا نام لیت تج ورنہ و رت فیقت و تق ےتال جو ئن بے وو ات پگد چیاں 
کرت تہ ان مرو تی یج تے اورا نکوگیموٹا بتاتے تھے جب ان جا لاک اور 
رکا لو ںکو تا یا جاجا اکہ امام وی کوٹ کے ہیں و لوک تاپ درتے اع کرت 
ہیں!' رچال نشی اور دنر شیع ہکتابوں یس ان لکی تقعیلات موجود ہیں اس کے لئے 
' لمحت الشی “کا مطالتدکیاجائۓ _ 

میسرا ا ختلاف:... !مامح بات رت کا انال رک القای ۱۳ا میس ہواءان کے 
وصال کے بح پھر !مامت کے کے بیس ا خلا فکھٹڑاہہواء جم سکا خلاص تب مل ے: 

...ای کفگرودداا غکڑ نی لا بیموت؟ متا خھاء یڑ دو زحدہ وس ع ےنیس ء دچی 
امام بدیی ہیں ء ان کے بحارکوی !ماعمیں- 

.ای کگمر داع کے صاحب ز ادے کر اک خرکی امام ء امام م ہدک مات تھا۔ 

۳ی ککگردہ اما مھ بن عیدایہ بن تن نین بل ن یی بن ای طال ب کول( چو 
دس راف وف نکی زا ٹا انی و٠‏ لوک ان نک یآ 
الما “جات ت ےہار یش نصورع بای کےخلاف ا نکا خر وع مروف وشہورے_ 

۳× ای کگردو امام شتف کی امم تکا انل ہواءائ گر وہ کےکرتا وھ رتا دبی لوک 
ےج نکازکردی رآ چکاہے۔ 

چوٹھا ا ا ف:... (مام تفر( متوفی ۸٣۱ھ‏ ) کے بعد پھر اِختلاف روما ہواء 
اوشھیہو ںکی بہتی ججما تی وچود می سآ تیں: 

:... ای کگرد وکا عقید ہت اکر دہ امام مبدگی ہیں ء ان کے بحارکوکی ما میس ءا کا 
انتا لیس بواء رود ویش ہو گگئے یں دو ہار ہ ظاہریہوںل گے رفقرقہ نا دوس ڑا جا تھا_ 

۴× .بلس لوک ان کے لعدان کے صاحب زادرےم وی ہنتف رکی مامت کے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١ ۱۵۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


ا تقانَ 
رت 
.ای 3و ماع چعنف کے ضاح بے اسیائیل بن جنظ کی مار کا 
ال ہواء یلوگ ا نک اما مہدکی' جات تہ می اس مکی فر ہک ہلا ے۔ 
*. ای کگردہ امام چتفر کے لیا تے مھ بن اسائیل ہنع مکی امام تکا اتل 
ہواء یف رقہ مبارکیہ ہے جو اسماصیلیو کیا ایک شا ےہ اس کے بعد اسماصیلیوں کے بہت 
ےرت ہدئے ‏ شک نکی ایک طو ہیل جار ے۔ 
۵ .8ای ککگر3و امام ہمطف کےتیسزرے صاحب ڈرادے مامح بیپشعظم کی ماف 
کا انل ہواء یعلی کہا تے تے۔ ۱ 
۹ئ اک کر ا مت کی چو تھے صاحب زار ۓعہداید یع شمفرالاح کی 
ما تک انل ہوا۔' رجا نشی میں ہے 
'والذین قالوا بامامته عامة مشایخ العصابةء 
وفقھاؤھا مالوا الی هذہ المقالةء فدخلت علیھم الشبھة 
لماروی عنھم (علیھم السلام) انھم قالوا الامامة فی 
الأکبر من ولد الامام اذا مضی.“ (ر جال ی ٦ص۳٢۵٤)‏ 
ترجمہ:... ”ولک ا نکی ماعت کے تقائل ہو وہ 
شی گر دہ کے عام ما تھے ء اوران کے نت بھی ای خقیی ےکی 
مرف :انل ہو ۓ ءال نکوشبہ ال وتایبہواتھ اک ہآئم سے موی ےک 
انمہوں نے فرمااکہ: ”امام کے انققال کے بحد اماصتہ امام کے 
بے صاحب زاد ےکوی ہے ( کہ اسمائیل کے بعد سب 
ے بڑےصاحپڑ اد ۓکپرالئرالا 2 ہیں ءیرادتی امام ہیں )۔' 
نشی کی ہیں: 
”چوک عبداش اہے والد ( امام من۲ر) کے اخقال کے 
وت الن کے تمام خر زنروں کے سردار تھے اور اپینے ول کی لہ مت 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷۳٥٢٥٢٠۴۹۰۷۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


تھے اس لئ اننہوں نے ان والعد کے بحع مامت وچا ین یکا وی 
روما ان کے یرد امام صن ری بر عدبیت ردای تکر ۓ ان اھ 
انہوئی نے قھرماب اکلہ :”مامت :فرزندالن امام یل سب سے پڑے 
گی ےس ونام بہت سے لوگ جو امام تف کو امام مات تھے ان 
کے بعدانع کے بے عمبرااڈدکی امامت کے متنقد ہو موا چنر 
گے جن آرمیوں کے ہجخھوں نے ہے اما مکو پچجاناء باوجود بل 
برای رعلال وترام کے مرا لکا 3 0ء07۷ 
ئن لج پاوجودزیاد تب رگا ن شیع اوران کےٹققا وا ںکھیرے 
کے متتتقدرےء ادرک راڈ دکی اما مت سے بدگانع نہ ہو ۓ _ 
(فرق الٹیے ص:۳۴٢)‏ 

یا چواں الا ف:... امام موی اعم م نتتفرصادق کا ال ۱۸۳ یس 
ہواءاورالع کے بععرانع کےتیبتوں کے نکر وہہ گئ: 

: ا ای گر فو از انت ب راد ےےل رشا گی امام تکا قاضلہوا۔ 

کرو ,007 امام موی ینبم رمرے کیہ زندہ ہیں 
ہر ات ہیں۔ 

۳ ...ای کک دو کہ اکدو امام مپدٹی ڑا نع گنگ رھ رئے کےفو رہ 
ہوک ویش ہو گے ء ان کے ناس لوگ ال نکی ز ار تجھ یکر تے ہیں ءاورد دا کو مرد 
نی گی فمرماتے ہیںہ ہبرعال ددددبادہ اہ رہوں کے اورز می نکوعدل و انصاف سے ُھ 
ارز کے 

پچ ان ز× انگ1 مھ ینان یکن تی و یں وو از وق 
ہوں گے اوروہی مارگ یآ خرالترماں ہوں گے_ 

۵...ایگ و ہن کہ اکا نکا اخظای ہہیا سے اودراڈدتالی نے ا نکو سان یہ 
لیے خرکی ز مانے ٹیل دوباردا نکڑکتڑیں گے_ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱١۴ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


یش ککعت ہیں: 
ٹیک ہاں واقفہ نا مید: شوندہ زمراک برموڑی بن شعظر 
وری کرد ہکغقت راو اما متام استء وئیں از و ےچھم پراہ اما ئی نودہ 
,ھ۳ (فرق فی ص:۷۸) 
ترجہ:..”' قھام فرتے ( ہن کا ذک رہ ےم ۵ک 

ہوا ے) ”واققہ“ کبلاتے ہیں ؛کیونکہ ب لوک سلمملے مامت موی 

بن ڈفر پیش کر دی ہیں او رکچ ہی کہ دجی امام مد ہیں 

ان کے بح کی اور اما کا اننارگیلں؛اوردہ ان کے ببتع کی !مام کے 

ای گییں۔“ 

۹:... ایک فرقہ ام سکا قائل تھا معلو مکی ںک موی نممنظمرزندہ ہیں یا فوت 
ہو یئ ہیں؟ ہہ تکی ددایات مم لآ یا ےکرد دم ہددگی قائم ہیں ء ان تو لکوکجھو ٹچ یکڑیں 
کہہ کت ء چوک موت بین ہے اس لے ا نکی زندگی اورمو تک فیصلہ گے بخی رم ا نکی 
مامت پرقائم ہیں۔ (فرق اغیے ضص:۱۷۱) 

ے:.. .ا گگروہ نج بن لم ابی ای کٹ کوا نکا اشن ماناءا نک دیوگی تھا 
موی بین ہتفر نہ ہیں ددی م ہدک :قائم ہیں ء ٹڈ الیال ردپ ہں ادرشھ بن شی رک آپ 
نے اپنا جا ین بنارکھا ے۔ (اینا ص:۲٢)‏ 

ھٹا ا شا ف:... و ما می رآ بن موی کاظ مب ن۳ تخرصا دق کا تقا ل ٢۰۳٥ھ‏ 
یش ہواءاس وقت ان کے صاحب زا ےھ ین لی (المحروف بے امام جوا عر 
ات ععا ل نشی زا نکی یداش ۱۹۵ یس بتوگی) ائن لئ ویاع لی را کے بعد ٹر 
اخلافکہوا۔ 

اف رو ےک اکشش مم نگ ناما نی )گا تر امام زادووےءا یکو امام نا2 

...ای کگر دودت ےگہاکہ اما می رش کے دانع کے بھاکی اھ بن موی بی ن نر 
امام ہیں ءکیونکہ امام را نے اپنے بعدان کےن بیس وصی تفر ما یی ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


.او نت مان 


و یک کو چھ اما لی رض 1 اما ہت کا و وو ازع ے پٰعدان ۱ 
مامت س تحرف وگیاء او رکہاکہ مامت اع کے والد موی اعم نشم ہو یی ء گر 
امام تکا سمل آ کے بیلنا ہوتا تو ا ماصبلی ر ضا نا اخ بنا چچھوڑک رکیوں رت ؟ 

۴ پھلوگوں نے ام مپلی رش کی وفات کے بحدحتقید؟ مامت ج یکوخر با دکرہ 
دا ءادرانہوں نے م ہیی نہب اخختیا رک ریا 

۵... پھھلوگوں نے موس وگ ی سلسلے سے تخرف ہوک رز یی مم جب اخضارکرلیا_ 

نی کت ہیں: 

دوگمروہوں کے اص ین موی گی مامت کے موائل 

ہونے اذ با گوبہوں کے اماعت تحرف خوجا ےکی وہر 

یھ یک ہ وماع یی رش کے وصال کے وثشت الع کے صاحب زارے 

مات سای کے تھے ان لوگوں ن ےکہاکہ: امام بن ہونا جا گے ء 

ا ا کی !مامت ےج ہوکتی سے؟ اگ نابا کو امام ماناجائے تو 

لاز مآ اکنا با بر ملف ہوہ عا لاک نابائغ بیہ در ملف ہو سکتا 

ے ندلوگوں کے درمیان شی ہک رسک ہےء تہش راج تکو و رابج سکتا 

ہے نا ںکاعیم دےگاے۔“ ‏ (زقلیر :۷۸) 

الواں إخلاف:... اما تج بن جواد بی گی رضا بن موی کان کا وصال 
۰ھ میں ہوا :نشی لیے ہ سک ہان کے بد | مامت کاکوئی ڑا پناک انیس ہواء بل چو 
لوگ ا نکی !مامت کے ال تھے الع کے دانع کے صاحب اد ےی بادگی بن مہ جوا 
نیرٹ ےا کو مو سن ھن ےکی دل دنت[ یش ہگ شی اوزو ال ی ٹوا گی 
وفاٹ کے وش صضل سرالہ )الب لوک ان کے بھائی خ وکیا بن ش کی مامت کے 
قانل ہو ہتا ہم رر سے کے بعد ( غالبا جب ححضربت لی من جن بوخ کو منج ہہوں 
گے )موی بینم کی اماعت سے تخرف وک ال کی ااماممت کےگروییدہ ہو گئ ء سڈ وصرا 
مو کش( م یورگ ) سچوسالل کے نا با ےکی !مامت کے قائل ہوۓ ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠٢٢٣۹ ۰۸۷۵۸۲۹6 ۰۷ 


زاس ال الف از 


:اع کےم ری دو ںکا ای کگمر وھ بن یش نی رکی نا ٹیا اکن کی خوت پ !یمان 
نماد ای کٹ تھا اوراس نے محام کےسا تح واج اورمردوں کے سا تج ھجمس تی 
کوعلا ل مر اردےدیا تھا- 

۴.. ای فکگردو اما معلی بادگی کے صاحب ز اد یھب نک یکی امام تککا قائل ہمواء 
شم یکا اخقال والد جن ررکوا کی زندگی بیس ہیا ھاء ان لوگو ں کا کہنا تھا کشم بن کی مرے 
یں کب ونکہانع کے والع جزرگوار نے ال نکو لاماممت کے لے ناعردکیانھھاء اور اپینے مر بیدوں 
کو ماد یا تھ کان کے بعد امام ہج بن لی ہہوں گے اما گیھوٹ ھی ہو تے ءلہذر اہ کہا 
جاسکنا ےکہانع کے الد بن رگوار نے وشمنوں کے ان بین کی بنا برا نکوطا ح کردا اورودی 
امام برک ہیں۔ (فرقالٹی۔ ص:۰ء۳٢)‏ 

۳ 077,0907 نشج کے حع اع کے صاحب رادے مان 
کر یکو اما قراردیا۔ 

۳ 8ھاور ولگ امام تن کے ھا کی نظ رین یکی مامت کے قائل ہو ئئ ء 
اکا کہنا تھاکمہ اما معپی نے اینے صاحب زادے مدکی وفات کے بعد اہپنے ڈوسرے 
صاحب زا ہے تفرلو ا مامت کے لے نا ھردکیا تھا۔ (فرق‌اغی۔ ص:۳۸) 

ال ا ختاف:... سب سےزیادہ ہولناک اختلاف وم جن بن یسک ری 
گی دطات برئ روما ہواء امام موصو کی را رت۶۴۶ بش مدنگ اوروثات ٹپ تھے 
۸رر الال ۲۹۰۶ کو۸ سا لکی ریس ہوئی- 

و یککییت ہیں: 

تم ردواز و ےلشائے بازز نما 2 جچوں در ظا ہرفرزندردے 
اژزویافثتر را پویوود بت کیو 
(فرق الغیں۔. ص:۳۹٣)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


چھےُ, جح چس یدوم حجکھہجھٰ ہے 7چت 


ا 0 07 ١‏ ال وا یڑ ان ا کون 

نشان باکٹی نہر ماء جب لوکوں نے اہ رمیں می اا نککاکوکی لک شہ یا اا9 

ا را نکی وراشت ا نکی دالدہ اوران کے بھائ ینف ر کے ورمیا 

ا ا 

ببرعال اما مس نا سک ری کے بعداان کے مربیدروں میں شید ا خلا ف ژونماہواء 
نوک کت ہی سکہانع کے یلر:” "بر چہارددوست شر (ذرق الشید ص: )۱۳۰‏ ان کے 
چوددفرتے ہو یئ ا نکیاخصییل نشی ینا لن بین گے لی جا نے خلاض الف 
فرتے نے ان کے پھاگی امام فو امام مان ایک فر تے ن ےکہاکمہ اما نمس رکی صرے 
نیہ بلمہزدیوشل ہو گے ہیں٤‏ دودوبار ہآ میں گے یدنہ وی م ہد قائم ہیں بپنخس ت کہا 
مر 02 رہ ہوں گے کیونلہ وی دی تام ہیں :ننضش یں و 
دونوں چھا مو ںکا دگوکی فا ماء مامت ان کے باب برتم ہوگئی ء وی رہ وغیرہ۔ 

ان چودوڈرتوں میں سب سے زیادہ چپ موقف ان لوگو کا تھاجو اس ام ر کے 
انل ہو ۓےک اما تن سر یکا اسیک بنا تھاء جو ۲۵۵ھ ىا ۲۵۷ح ٹس پیرا ہوا تھاء ا نکی 
داد تکولوگوں فی رکھا گیا تھاء بی رصاحب زادے جار باب سا لک عمری اپ والد 
کے انقال سے یں دن بے اپینے شر( س کن راک ) کے ایک نار یس ج چیہ اور دہ تام 
یں جو زماخت کےلواز ہیں اورتخرت گل سے ےکر ہ امام کے پا د مک ی میں : 
اورآخر میں و م مض ناسک ری کے پا س یں( شا حضرت کل کے ات کککھاہہواق رن ہم 
ما ی تنائیں :ریت : شیورد راف کےا نف ؛ صحف فاعلہ ہنن ار جفر 
ایٹش س رگ کا ”الیام ہناگی محیفہانمیاۓ سائشین کے زا ہہت کات شا خصاۓ مم وی ء 
یس7 وم اورحضرت سلیمان علیہ السلا مکی اتی وغیرہ وغی ران تمام چیزو ںکا پت رہ 
بھی ساتھھد لے گئے۔ 

تھا شکلا تکادہپاڑش سکوکبورکرنامامیہ کے لئ نین گیا او نیس امام 
کے ناب وجان ےک ا!علا نکر نا پڈاء ای مشکلا تکی ططرف اشمار ہکرت ہو ئۓ میں نے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


”'شں نرہ ب کا نظ نے مامست چوک رفطری طو رہ فالا 
تھا ا 1 اوج زیادہ د کک شأُتھا۔کاء 
لہا نے مامو ںکاسلسلہ باہو بی امام بش مکمر کے ے۲۷۶ طھ 
می کسی نامعلوم ار (سرن رأگیٰ کے نار) یش پیش کے لئے 
ذاحبگرویا_“ 


نظ یازکشت: 

اب یہا ںکھوڑکی در کمن مامت او رمق ٗ مہدکیپ رتو ری مندرجہبالا 
تفبیل ےم چپنداہھ تا ریت ہیں ۔ 

ال :... امام کا دنوگی کہ امام تن برموقوف ے اور ہڑی بلن دآ گی 
سے کہا اتا 0ٗسَمٌھھ پا 
جن سے گیا رہ امام یں ہے بعد دنر ےنس ف ماک یی ء یکن شردع ےآ تجخ رکف مل 
مامت یں جو تا فات رہے(او رج نکی طرفأُوی شض را شمار ہک ایا ہے )ا نکوسا نے 
رکوکر ا نصاف سی جک اکر بارواماموں بر نام بناعاصص ہہوٹی ت دکییا مہ ا خعلا مات ونما ہو تے؟ 
کیا ہ راما مکی وفات پر گے امام پر گت سسرے سے ہام پر با ہوا ؟ تع رات سوک راش وو 
جو بی جا ےکہہ میئے مان بعد کے اتا فات و خورشیہوں یی سکیس بک خودائلی بیت کے 
درمیان اوراوڈا ات می پیدراہوۓ تھے :سوال یہ ےکن کی موجودگی یس مہ اشنا ذات 
کیوں ہو ۓ ۹اگ را تی ن ےگ یکوٰہم و نصاف عطاغر مایا ہوا مندرجہ ضحم لکوسا نے 
روک ہک یآ سای سے ب فص لک رسلا ےکہ بادہاماممو ںکالھھور اور ہر امام کے بارے یں 
صن کا زوٹیئجھنل ایک خووترا شید ہکہای ےہ سے خووخرض لوکوں ن ےگھ کر ان 
ہز رگویں سےا سےیضفسو بکردیا سے ءال کا ومن الام ےکوگیملقی یس تحضر بی ری 
الرخنہاسل“خقیدہ مامت ےآشنا تے اور ا نکی ڈ ات طبا تکوا کت گیا ؛ رہ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۷۳٣٠۱٢١٥۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ا 9سن ججیھت ۰ٰ8 


ہہ وی 

دو ...1 ترک ز مان میں تحضر ت مدکی علیہ ال روا نکا پیدرا ہو ابر کات 
بھونے جھا نے لوگو ںکو پیش عہدکی' کے نام پرمنلا ۓ فری بکیاعگییاء اور ا کو اہو ہہ 
پندی اوت ہم پت یکا خوگر بنا ا یاہکمزشنخعیل ےآ پ د کچھ ےہ ںکہ 

ا: .تار ن بینشئ یقاب نے حطر تم بن جن کومہ دی ۱ آ شا ماں !رر 
دیاء اور ہٹراروں شیب ہراس کے دا مر ی بک شکا رہہ ۓے۔ 

خا]:..رمعطرت زیر شمی در (شہادت ۱۲۳ھ )نے سب کے سام جا شہادت 
نیش فرمایاممکن بے شا رلوگو ںکوان کے مبدی تقائھم ہو نکیا لقن ولا یا گیا نہ دوپارہ 
۱ یس ما رتا وعرل والصاف سے پک نی گے۔ 

جا .. اما نٹ زکی شمی(شبادت ۵٢۱ھ‏ مکوا نکی شبادت کے پاوجود 
مہدگ قرادد اگیااورا نکی دو با وش ری فآ داقن ولا گیا 

رابت]:... اما مھ با رس کا سب کے سام اخققال ہہواء سب کے سا سے ال نکی 
معن وشن ہوتی کان بت سےلڑکوں نے اس کے باوجودا نک تی لا یھوت“ مھا اور 


اانع کے م دی تا ھم ہو ن ےکا وٹ یکیا_ 
مامآ:... بہت سےلوکوں نے ان کے صاحب زاوےنقرت !ما قتخرصا دی" 


کو( سب کے سا حے ا نکیا وفات ہو جا نے کے باوجود) ‏ ہودکی قائم مکھا۔ 

سمادسآ:. بہت سے لوکوں نے امام صادقی“ کے صاحب زادے امام اس ایل 
کیاس می مد یی طلا لکیا۔ 

سا بتآ:... ای کگمردہنے امام صادقی ‏ کے وسرے صاحب زادے امام کر ہاکو 
رسکی ماع نمو رکیا_ 

ماما :... ای کگردہ نے امام موی کاش مم کے بارے میں بیہتقیلدہ جن یکیاکہ دہ 
(م ہے کے باوجود مر ےکی بیز لپن ہو گے ہیں اوروجی مہریتقائم ہیں - 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳٣٠٥٢١٥ .۸۷۵۱۸۲6 ۰۷ 


اسیا ور سورس ہے چیہ یا ۳07 
زو لو ہو گئے ہیں اوروبی مہ دی تقائم ہیں- 

عاشرآ:... ای فگمروہ نے امام صن نک رک کی طرف ایک بے نام ونشان بنا 
مفسو بک کے وگوگ یک یا کہ ب۔صاحب ڑادہصاحب لوگوں سےانظکریں پی اک ر ول ہد گے 
یں وروی مدکی ام ہیں ۔ 

ااگل! اژل ےآ رکفو رکرو شمیعوں گے پان غحبعدگی گے زار مین 
اوہہ پپندکی او رت ہم پت یکا جیب ط رف ہتھاشا نظ رآ ۓگا کو یا بمیشہ سے امام ا حب کا 
امو انم رماء اور شیعہ کے عزاع یس ىہ بات پفت تر ول بب اکٹ کی امام اح کے 
ارے ٹین اہی اق :تشائز ہاو راف یف بائت فا جاقۓ دو کیا ہے 
لئے تیارر اکر تے تھے۔ باہو مس اما مکی شیب تکا ُفسا بھی ای خلا فی نضل وخلاف مشاہ 
ق ہم پیک ایک مال ے۔ 

مو ...تا ری شیاوٗیں بی ہی ںکہ اما منص رق لاولد وت ہو ےو ان 
وراش کا مقلدمہ با تماعدہ عدالت شی لگمیاء عدالت نے اع کے وارٹ ںک یقن وف شی 
اور جب پیثابت ہوگیاکہ ا ننکاکوئی صاحب زادوال نو عداات نے ا نکی وراشت ال نکی 
7 وس ےا 

”فان الأمر عند السلطانء أنٌ أبا محمد مضی 
ولم یخلف ولا وقسم میراٹہ.“(اٴصول) نی رج:ا ص:٣۳)‏ 
ترجم.:.. چو چنزعلوم ون ہولی دو یر ےکہاماممنن 

سک رکیل ولدفوت ہو اورال بنا را نکی میراث الع کے وارٹڈل 

نیرک رد یکئی ا 

بہت سیل کیا کا بات ے کہ دوھزدو لکیہ با ایک مرد اور دوورتو لک یگوای 
عداات می جچی کرد جائی کہ مر صصح ری لاولد فو تگیں ہائے٤‏ ہلل اع کے 
صاحب زادے مو جود ہیں نو وراللت کےا فییایشلکن ت ہوا ےعوالی سی ےک ہولوک ہے 


۱۷۷۷۷۷ 0ا‎ 6100۲٢۱۵۷۳٢٥٢٠٣۹ ۰۸۷۸۲۹۹6۴ ۷ 


2 1 ۲۱ 8. 
نوک ی کے سک ما صن ری کے ہے نام ونشان'' صاحب زادے موجور تھے 
انہوں نے نعداالت میں یشہاد تکیوں یں کی سک کیا ان ححظرا تکودوھرد با ایک مرداور 
وت بھی شہاوت کے لیک لیس ؟ کیا ىہ بات ڈنیا کےا بات جس سے یس سے 
خحتققانی عداات یں امام تسن سرک کے کا شروت شی ںکر نے کے لئے دوآ دی یبھی 
میس نمی ںآ کےرءئیان ذکوکی پیا جا تا ےکہجل لتخصی تکو وم پیرانش سے ما خب ہو نے 
کے وش ت کک عا منظگروں نے دبیکھا ٠‏ ککئیس ء اورجنس کے وجودک یکوٹی شبات عدالت ٹیل 
بی یی ںکی جاگیاء دجی ایی دنا قالصت کک کے لئ الل کی جت ہیں ۔ انصاف 
کی !کیا ا کی جت اس طط رب ام ہو اک رڈ ے..؟ 

ادد ےک یں نے مھیتوں گے امام امب کے لئ بے نا ونشان صاحب 
زارۓ کا لفط اس لے اسمما لکیا ےک ان صاحب زادےکا نام یدن ات اعشریی 
قانون“ یں ۴نو اورترام ہے بلہ ا نکا نام لیے سےآ دی کافر ہوجاتا ہے چنا خی 
اصولل کا نی“ میس ایک سففل پاب ے:''باب البھی عن الاسم'' ینیم نس ری 
کے ماب راد ےکا اع لیپا عمتورع تے ان بامتب جن امکی ری کے والید ارگوا رکا 
زنشائش کیا کہ ضاحب ےگا وھ کھی نام لگا ء دوکافرہو جا گا ''(لا 
یسمیه باسمه کافر)۔ 

بویبداللالصاگی سکتے ہی سںک: میس نے ابو (ا اص نس ری ) ےکم رنے 
کے بعداے ینف شاُصحاب سے اس صاحب زا ےکا نام اد رگ یی تو جواب ملاک :اکر 
حم نام بتادو گےےتو لوک ا سکا 307 گے او راگ لہ بتادی تب و پوراپچای ادیاء 
روایت کے الٹھا طس ہیں : 

٢-علیٗ‏ بن محمد عن أبی عبداللہ 

الصالحی قال: سالنی أصحابنا بعد مضی أبی محمد 

علیے السلام ان أساأل عن الاسم والمکان فخر ج 

الجواب: ان دللتھم علی الاسم اذاعوہء وان عرفوا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


۳ھ 

المگان لوا علیة.“ (اسرل۷انٰ .ج:١‏ ص:۳٣۳۳٣)‏ 

آپ دکد ہے خی ںک نکی طرف سےالن صاحب زاد ےل" ہے نام دنشا نع" 
نکی تی تاکید یگ خی ءاننکا ام یی ےکوترام لگ رکف رف ما امیا تھا ین تیاصبات میس 
ےۓ ے رٹیرسترین ہب رضم ہلت سمل اق با مض نیل لکڑیے' ال 
( کا باب ) رکوک ران کے صاحب زادر ےکا نام یت ہیں مکنا 1 کی پر اکا لکر تے ہ نہآمہ 
کے فو یکفر سے ڈرتے ہیںء چنا خی أصول لان“ ی سبھی امام سن مسر یکو لہج 
الوم ککاے۔ 

چپارم:. ظبدرمہدی کے نے می ایک مکل ری یک اللتعا یبد رمہد کا 
اک تارج مر رکرو تج مان لوک اس م تح پرکوئی کول اکن کردئتے ‏ ا عحالہ اد تال یکو 
تار فی بڑلکیء جب چند باراییا ہوان الشدتھا لی نے نارائ ہہوگ رخ تین عر سے کے لئے 
ہورم ہد یک ات لوکوں سے جچئی نکی ء چنا خر شیعہردایات کے مطا بش الشدتعالی نے ان 
ہے چو رکا وقت مے مقر رکیا ھاء۷۹۱۱د میں نضرت بین رصی القدعشہ جوشمجید ہو ےو اڈ 
تال ئرئی وس و وو ”واتف۶ رہہ آب اط ے ےڈنا 
ولک انھوں نے نے ات ا مس شنیعوں و تنادگکی اوزشتوں نے خوش گرا زا زکا 
شی کرد ایال نے را ہورا یکین سے کے لے و یکر دیں ا اُصول 
ای“ کی ردایت کے الفاظظ ہہ إل: 

7- علی بن محمد ومحمد بن الحسن,ء عن 

سھل بن زیادء ومحمد بن یحیٰیء عن اُحمد بن محمد 

بن عیسٰی جميعُاء عن الحسن بن محبوب؛ عن أبی 

حمزۃ الثمالیٌٔ قال: سمعت أبا جعفر عليه السلام یقول: 

یا ثابت! انٗ الله تبارک وتعالیٰ قد کان وقّت ھٰذا الأمر 

فی السبعین,ء فلمّا أن قتل الحسین صلوات اللہ عليه 

اش غضب اللہ تعالٰی علی اھل الأرضء فأخحرہ الی 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۵۷۳۳۱۱١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


جھے تح 8مدوھعہدوجومتھ- ہ۰ چھ. 
أربعین ومائةء فحدّث اکم فاأذعتم الحدیث فکشفتم قاع ۱ 
الستر ولم یجعل اللہ له بعد الک وقیًا عندنا ویمحو اللہ 
ما یشاء ویثبت وعندہ ا الکتاب.“ 

(اصو لا تج ٤ا‏ ص:۳۹۸) 
روف .ابو نکی کت ین نے امام پاٹ 
سے ساء وف ماتے تج ےک : اے خا بہت ! الد تھی نظ بد رمہدئی کا 
وت ٭ے و خرر کیا تھا وجب تعخرت من دی الڈدعدشمیدر ہو لو 
اتال یکا خصہائل زین برجخت ہہواء نیل اس نے اس مرکو ٣۱ھ‏ 
یک مخ کردا جم ےت مکو پادیاء اورتم ے بات چچیلادگی: دہ 
ان ںکردیا۔ انی گے بعر ا تا ی ےکوٹی وت مکی ںکیاء ال 
تعالی نس چچزکو چا تا ہے مثاد با سے اورجس جچزکو چا بنا سے غاہت 
رکتھا ہے ای کے یا أغم الکتاب ے۔ 
مہروے ےکر طمال: 
ہشیہوں کے امام مقائم (امام بدکی ) کی تش لی فآ ور یی اور ک ےج میس 
رعمت ہوک نہ ہو ڈگ رشٹیعوں ک ےن بیس تو یق رت بی ہوگی ؛ رن معلوم اویل تال نے الن 
کیانش نی فآ ور یکا ٹل شدہ وق تکیوں بدل دیا؟ اگ رنضرت بن رشی الف دع کی شہادت 
کی وجہ سے الد تا یکوخص آ یا ہوت امام ان مکوہ ےککی کہ ۱ھ می اش جک رحضرت سی نکا 
انام لیدنا جا ئۓ تماء تہب یک قائمآ لیج کےعکہو رکوم باتک یکردیا جاتا۔ ال لکیا وج شاید یہ 
ہو یکیکوفہ کے ہے وفاشمیعوں نے خطوما کے پور ےمم کر نت سن ری ارڈ رح وذ 
طل بکیااور جب حظرت ام کو بے بارومددگاریچھوڑ دیاء اور دہ ےکی و بےےٹحی کے ما یم 
بش اپنے سیت شید ہگن ءا بیے دارہلوطا تم اور رے وفاشمیعوں سے الللد تاکی 
نارائش ہو گے اورا نکو اٹ تھا لی نے اس لاکن ن: مھا کہ انییں یس امام ات میلعت سس فراز 
کیاجاۓ۔ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


- ...الظتھال یکو امام قائم کے پارے میں دومرح““ پر ' ہواء اور اس سک بصن کا 
سا غس عف یا سقضسد”ق' ایک ایا عیب ےک الد تھا ی ایل 
سے حقل وش رع یاک سے۔ش رگن مجید یل :”ان الله لا بَخْلِفُ الْمِیَْاد“ ارہ ےء 
یم الدتقعالی وعد خلا یی ںکر۔ یز وعد خلائی وٹ ہے٤‏ اورر ا تھا کی اارے اگ 
ہے ۔ جیتو کان رہب جیب ےکہ اما مک توم سکتتے ہیں اور دک وگچھوٹ می عل کر تے 
یں کو زا تحفقراول...! 

٣..پرخداکولوئی‏ ایی چجبوری نیج یک نوا ینخوادی ا سکوعد و خلا یکنا گی ء 
اید تھالی بے بی اما مو ںکوڑ اک مآ لع کےعپو رکا وقت نہ بنا جا ء کہ وعد ےکی غلاف 
ورزگی کرنا کی ءاو راگ وعدوکری لیا ما نو شیعوں سے غص ہوک را سک ولا من اس کے لططیف 
کےخلاف تھاءاو رط بی الہ ا مامی کے نز وکیک واجب ہے ۔ اتال نے اپنے واج کا 
ھی لھا ظا رکھا۔ 

۳. .اور جووعد و دو پا ناما جاچکا ال کا کیا ان رک و وضرور بورابی ہوگا؟ روایہت 
سے مہ پا لا ےکہ اد تعا کی نے اس ود ےو ما :ھی دیا۔ چنا غجہ امام نے جآ یت بجی 
ا ںکا بجی مطلب ے۔ اوراس وعدر ےکو ماد ےکی ایک دحل بی ےکہ اد تھا ی نے 
گمیار ہو میں اما مکو لا ول اُٹھالیا اور امام قاع کا نام لک ہک ی بھی مانحعت فرمادئی کہ لوک 
انار مل شر ہں۔ بہرعال ہے وتقارہ اشرتعا لی نے موم الہما ہہوتا ی2 سی 
کرد یا ءکیونکہ اید ای نے دبیکھا کہ جب اکا برا تہ ک ےو ںکی نحدارکی و ہے وفا یکا ہہ 
الم ےکہا پٹ یآعکھوں کے سا نے سپ رسول ویک رکوشن تقو کوشہید ہوا د یھت ہیں اوٹس 
سے سکیں ہوتے نو شر النرون کےشھیہو ںکاکیا ا را ر؟ یراق رین صسلحت بی ےک 
ہو رمہدیی کے تھ کو پییشہ کے لن نتم ج کرد یا جا ء و رت السا نہ کہ اما م مکی 
رع امامممہدبیبھی ا نکی بے دفائ یکا نشانہجن جا یں ۔ بہرحال أ وپ رکی عدبیث سے دا 
پوت ےکآ یت ش ریف( ال تھالی مس چیک چا بت اہ مثاد تا ہے اورمنس چزکو چا تا ہے 
خبت رکتتا ہے ) کے مطال ادتقا لی ےعبو ہدک یکومفسوغ جیکردیا۔ می یر ےگوہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


رو سی ہو ں ریش یہ فی 
ناکم ل ھ “کے ہیں دو قیاممت تن یس ؟ تےگی۔ اںژ !ال سفت کےمسکمہ اما مم ہد 
ان شاءاللاپے وقت پش ریف لائمیں گے_ 
۵:. را دوایت سے بیگھی معلوم ہواک شی عحقیرے کے مطا بن ا کون ”سا 
کان وسایکون“ کی ہر نظظشمرریتی سے نان الد تھا یکو.. وذ بالل....واتعا تکی تر جیب 
بھی ماس رق او زداقیا تا ٹل از وقتدیلمبھ یٹس ہوتا۔ گرا سکو بسلے سے معلوم ہوتا 
کی عفر تسین دیی ارڈ دعنا۷ سی شی شہیرہوںل گے اورا نکی شبیاد کی وج ےن ہو رقائم 
کاوقت بدلناپڑ ےگاء ا سے یمعلوم ہوت اکم ہآ تمہ یراز اپ شیہوں کے پاس اگل دمیی گے 
اور شیع اس را زکوسمارگی و میا یش ضمشپورکرد یں گے ,نے ایل تال ضبو رقائ مآ ل مرکا وقت ہی 
مرک رجا ا قفا ! 
88۹ای روایت سے بھی معلوم ہواکہ پارہ اماممو ںکی جو یز غداوع لی 
رق ےیںء ورشہ ےکی ےلکن بہو تا کہ اتی تم آل یش کا وق تےظہورہ ےد یا ١٤۱ھ‏ 
مقرررفر مات _ ارڈ تال ٰکومعلوم ہہوگا کہ سے س کا زماننہ امام ز نالعا ی مکی می نین ری 
انم( متو فی ۹۳ھ )کی اما تکاز مان ے اوران ما نف کی امام تکادور ے؛ اگ 
اد تھالی ایج کے مطالی مقائم ہلل ش کو ےھ یا اھ می لئ دیتا تو ارہ امامو کا 
سلسملہ بھر ےکا وطرارہ جا تا_اسں سے معلوم ہہ وا کہ بار وا ما مو ںکا سلسل کن انب الڈ ال ٠‏ 
یم :. لس اماصت بی ایک جن ہبی ال یک اللتعا کی طرف سے 
ایک امام زادےکو مامت کے لے ناعردکیا جا جا تھا نان قضا وق ر کے ٹیل مطا لی ال کی 
صوت امام کے سا سئے ہجام ی نا راتا ٰکوفیھلہ دنا تاور کی وسرے امام 
زاوےلو مامت کے لے نامردکیا جات ان ایا یاردوم7٭ یی سآیا _۔ ہی مرح نظرت 
امام ”تفر کےز مان می لکرانع کے بڑے صاحب رادے اس ای لکو مامت کے لئ باعرد 
ایا تھا لکن دا اکنا ایا ہواکہان صاحب زادےکا انال اما نظ ری زندگی یں 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


پوگیاء لا محالہارڈدتال یکوفیصلہ بدلنا ڑا ءا درا نکی کہ وسرےصاحب زا ےکو ا ماممت کے 
لئے اھدگ یاگیا۔ 

ڈوسرکی مر حطر ت ضس نس ری کے واللد جن رگواد اما مع اہی کے مانے ٹیس یہ 
عاد شی لآباء یپ ان کے بڑے صاحب زاد کو ا ماعمت کے لے ناھردک ایت اک 
نا گاا نکا !تال دال دکی ز نکی ٹس وگیا۔ نایا را نکی مک ہڈوسرے صاحب زادے امام 
تن سک یکو ا مامت کے لئ نا عوکر نا ڑا:”” ا صصو یکا !یس ے.: 

٭٦-‏ علىی بن محمد عن اسحاق بن 

محمد عن أبی هاشم الجعفریٌ قال: کنت عند أبی 

الحسن عليه السلام بعد ما مضی ابن أبو جعفر وانی 

لأفگر فی نفسی رید ان أقول: کأتھما أعنی أبا جعفر 

وابا محمد فی ھٰذا الوقت کابی الحسن موسی 

واسماعیل ابی جعفر ابن محمد علیھم السلام وانُ 

قصّتھا کقَسًتھاء اذ کان أبو محمد المرجی بعد أبی 

جعفر عليه السلام فاقبل علیٗ أبو الحسن قبل ان أنطق 

فقال: نعم یا أبا ھاشم! بدا لل فی أبی محمد بعد أبی 

جعفر عليه السلام ما لم یکن یعرف لەء کما بدا لە فی 

موسی بعد مضی اسماعیل ما کشف بە عن حاله وھو 

کما حذّثنک نفسک وان کرہ المبطلون وأبو محمد 

ابی الخلف من بعدی,: عندہ علم ما یحتا ج اليه ومعه 

آلة الاماھ“ (اصول۷انی .ج:ا ص:+٣۳)‏ 

کو وو کے ہی کہ می زمام ابواسن 
(زعی ای )کے پا تھاء جب ان کےلڑ کے اب تخل( )کا اتال 
ہواء شی اپ ول یش سور رہ تھاکہ اس وقت (اما مل یی کے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


دونوں صاحب زادوں ) ال تفم راورال وش کا ودی قصے ہوا جو ! کہ 
کے وونوں یں موی اور اسان لککا ہوا ھا ء کی وہ (ا سا یل کے 
جا ۓ مو یکو امام بنا نا پڑاء ای رع ) اب اا تفر کے یججا ئۓ اوھ 
کو اما تج یدک یاگیا۔ امامابواشسن ( یی )میرے ہو لئے سے بلے 
بی ری طرف موجہ ہے اورفر مایا : ہاں ا الو اشم ا اب عظ کے 
زین ہو کے رب الہش کے پر جن ال گی دا نو ہیی 
ے جو پیل اس کے لئ مرو نمی ںحھی۔ جیا کیہ اضائیل سے 
فان ہو کے کے گی را ےی کے ار ۓ اشن ہوک اشن 
گی وجہ ےا ںکا ال ح لئ اش دق ے چیا لہارے ول 
8 رتو ںکوناگوا رہہ می راب الوشھرمی راج یع 
ہوا ء انس کے پاش ابق یضرور تل مچھی ہے اور ات مامت جھی_' 
وس رک روایت میں ے: 

”ے- غط: سعد عن أبی ھاشم الجعفریٗ قال: 
کنت عند أبی الحسن العسکری عليه السلام وقت 
وفاة ابنە: أبی جعفرء وقد کان أشار اليه ودل علیهء 
وانی لأفگر فی نفسی. وأقول طذہ قصة أبی ابراھیم 
وقصّة اسماعیل فاقبل علیٗ أبو الحسن عليه السلام 
وقال: نعم یا أبا ھاشم! بدا للہ فی ابی جعفر وصیّر مکانہ 
با محمد کما بدا لە فی اسماعیل بعد ما دل عليه أبو 
عبداللہ علیے السلام ونصبےء وھو کما حذٹنک 
02 کرہ المبطلون.“ (جارالاثوار ع:۵۰ ص:۲۳) 

ناما یی نے ایے بے ال وف رکواہئۓ بعد 


امام بنایا او اطق 3ا 01 ین رض( ک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹٣6 ۷ 


ےر می اع ) کے اتقال کے وت [اء 

انی کے پاس ببٹھا سو دبا ھاکہ ىر وی قصہ ہواکہ کے 

انی لکو امام بنا گیا خھاء نچ را کی حم وی کان مکو امام بای گیا- 

امام میری طرف متوجہ ہہوے اورفرمایا: پل ابو اش ! الد تعال یکو 

وچخفمر کے پارے میں بدا ہوگیاءمشفی الشتال کی راۓ بد لگئی اور 

ا نکی ہہ الوش کو امام بنادیاء لی کیہ ِساعینل کے پاارے می اللہ 

تال یکی راۓ بد لی ء ھا لاہ امام صادق “نے سام لکو انا 

جاشن مقر دکردیا تھاہ بات دتی ہے جوتمہارے ول ٹس گڑری: 

رجہ پل برستو ںکوناگوارہو۔'“ 

جحقرات !مامیہ بارگاو امائی یں ىرگتتا تی کر سک جےک منرت امام نے 
لے ایک صا ضا کے ہے بن لن ینادان ک٤‏ پوت جنین گن ءائن 
لئ ا نکوأپنا اشن مقر دکردیا مان قفا وف رر کے نیہ کےحھت ان اجب ڈادر ےکا 
اتال واللدکی زندگی میس ہہوگیا تو مجبو رآ نضرت اما موا نان وس رابنا نا دک نامڑا۔ 

اگ ایا گمتاخانہ خیا لکیا جانا نو ایک فو امام کے نمو مین ادڈد ہو نے کے 
خقیر ےکی جننکٹ جانی ۔ڈوسرے بی لاز مآ کہ امام ”ما گای ومایگون“ کے عالم 
یں ہو تے ۔تتیصسرے اما مکی رف خطا کی ضبدت لا مکی کہ امام ہرخطا کی 
ہوتے ہیںء اس .لے حعقرات امام یکو با کہ لئ یککہ امام کے ہججائے اس تب ب یکا 
ڈمردآر دا لا ہرایاجاے .نمو بال. مان اس میس رم شکل ضرور ہت یآ ہ ۓگ یک الد تنا 
کی طرف سے ہہ !مم کے ا کی ای ک شی بھی تو از لک یک یی ء جو تحضرت فا لہ ری الد 
عنہا کے با فو نی اود صکاپراضن''أصو لا یی“ :ا ۵٢۰:‏ رانلکی گیا 
ےرک کت رو ۶ رت شا کی ند لگ؟ ئا اس ش کی 
دوبار ہی کیک موگی...! 
شس امت ا عطال یی یھ یکرہس امام زار ےکو 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۸۷۵۱۸۲ ۷ 


مات کے لئ تا کیا ماما اس کے والدکا ا تال ا سک۳ ا ھی کےڑانے میس ہجام 
ا ںاکممکا عادش نین م رجش لآیا: 
:... پل ےگزر کا ےک جب ۳۰۳ تھ میس !مام لی رضا ین موی کاٹ کا تال ہوا 
فان کے صاحب زادے !مام مھ ین لی ( اروف بے امام جوا “)کی عھرسما تآ ٹحھسال 
یی ءا نکی پیدنش ۱۹۵ دیس ہوئیگی۔ 
...کچ ر امام جوا کا ۰٣۳ح‏ میں ا انال ہوا نان کے صاحب رادے !مض خی 

چا کی :اکا ولا رت زجب ۴٣ے‏ 

۳ .مار خوابر کے خلا ف ححضرات !ما می کا دوگ ےکی اما نکر کی 
وات ( ٢٢۲ھ‏ ) کے وفقت اا نکا ایک بے نام ونشانع صاحب زادہ جار بای سا لکا تھا جو 
ا نکی وفات سے چنددن پییز ول ہوگیافحھاءاب قیا مت کک کے لے وجی امام ے۔ 

انل جات ہی ںکہ پیر ملف میس بش ریعت نے ا سکوم فوع امھ راا ےہ 
تا گ ینمی خزالت ٹن ےکی شباوت مت گی تق لکا کی یہ ےک اگ رسس 
مات الد تھا یی طرف سے ہوا فو ابد تی ال با تکا لی اننام فر ما ےک ج بکک 
اما مک ٹا ا ند ہو جا بکک اما مکو نیا سے نہ ٹھایا جاۓ ؛ ت کہ !ما مکا اشن با لغ 
ہوہنا با برنہ ہو کا ننفل وشرغ کےخلاف حعفرات امامی نا با رن چو نکی اماصت کے 
مال ہیں اور ال ںکو خدا تما کی طرف مضسو بکرتے ہیں ..لتوذ بااقہ... ببرعال جب 
عفرا امام کے ببقول ارتا کی راۓ بدل جانی ہے اور دای کش کو امام بتاک را سے 
“وت سےکال بچاتے ء بلکہڈ وسر ےلو امام ہناد یت ہژں۔اور چپ الٹرتھاٰی.. لوڈ پاللہ... 
ا الو ںکوسارکی نا کا امام بنانے بھی درک نیس فر ما تے فو ہتکن تھ کیہ باہو میں 
ام کے بحدیجھی خداکی راۓ بدل جا ی ء اود ڈما مکا !نال نا بای یس ہوجاست فو بڑی پر انی 
لان ون یہک اس نا بائغ کے بحدآب امام تکا جار کس کے س رپ درکھا جائے؟ اس لل ےق رن 
مصانوت می ٹھ کہ اما مکوخا ج بکردیا جا ء اودال کا ز مات قامم تکک پچھیلاد یاجاۓ جاک 
یکو امام کے بارے ٹس یش ہو غل بکشائ یکر ےکآ یادہ زند یھی ہیں یائڑل..؟ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳٠۱٢٣. ۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


رن اض تا ل۲۷۰ نی کک نو ظاہری طور پر چا رپء ٢٢٣س‏ کے بعد 
اہی امام رو پاش ہہوگۓء پیل یت رک ری :ینس می امام عوسی سفیرو ںکو 
پاگاد امائھی شیل ہار بال یکا شرف عاعلل ہوتا تھا۔ بر سلسملہ ۳۲۹ تک جاری در باہ بعد ٹل 
لوگو ںکو رہوکئی ‏ علوس تکی طرف ےلین دنق روم بہوئی فو ”قب کہرکی کا اعلان 
گرویا گیا۔ شی ا بکوئ ینف امام الف ہاں سے را طہقائ نی سک رسک مو مرمتفظورتمالی 
لہ العالی نے''امرانی اناب“ یش امام قائم الفزما ںکی ان دونوں شبتو کا بہت اچھا 
خلاصہ ذک کیا ے ا ںکواان بی کے الفا ظا میس یڑ لیا جا : 
”ما مآ خرال ما ںکی خیب ترک اودکہرگی 
اخضار اور بعمال کے ساتھ ىہ بات پیل بھی 97 
جاجگیٰ ہ ےکہ باہو رس امام صاحب الما (زمام نطاب )کی ال 
فیبت کے ینف“ 'پاکمالی “شیع صاضان نے اپنے عوا مک بتلایا 
اود پاورکرا اک 'صاحب الف مال کے پا رازدارا ,ور پراا کی 
آعددرفت ے اوردہگو یا ان کے سی راورخصونی اییٹ ہیں ( کے 
بعد دیکرے جار تحخرات نے می دوگ یکیاء ان ی سآ خرکی می بن ھ 
ری تھے می نکا اتال ۳۲۹ شٹل ہرا) سادوو لح٘یعصاجانء 
صاحبالف مان( امام غاب ) تک نے کے لئ ان را تکو 
خطوب اور درو پیل اورطرح طرح کےحتی بزنے نے دہج جھے 
اود یہ امام صاحب ال ما لک طرف سے ان کے جوابات لاکمرد نے 
تےء جن پہ امام صاح بک عہرہہولی گیا ریرسارا کاروباد انال 
راز دارگی ےہہوت تھا- 
رہا ہروا لک اصلیت او رتقیق تک یئا ؟ تو جمارا خیال 
ور و اج لو و ا 
فرمایےء یچ ےٹاک ان ہوشیار اود چا لاک لوگو ںکاکاروبارتھا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 


جواہی کو امام اح بکاسغی نا تے جے تنگ سآ خ ای اور 
ان کے مظرات عا ء مع بین کے نز دی بھی وہ خطوا وھ راسملات 
جوان سیروں نے صاحب الف مان( امام غاب )کے پل اکرلوگو ںکو 
دی دہ اما موم کے ارشادات اور دی جت ہیںء اورا نکی 
کت حد یت دردایات شی ای حأیت سے کے گے ہیں ۔ان 
کاابچھانماصاذ تج و ا تار ری کے1 خربی صفیات می بھی دیکھا 
جا کا ے۔ خطا تی ناب نے بھی اہی اب اکور“ 
الا لا می دیٹی تحت ب یک حیفیت سے ا نکا ذک رکیاےء اور 
اپنے نما ظرلے' ولاحیت فق پر ان سے استمدلا لبج کیا ے 
( لا حظہ ہو: انکور الاسلا میگ:۹ ےء کے )۔ پہ بات کیل 
ذک کی جاجگی ‏ ےکم شیع مرا تکی ددایات او رکابوں یل ال 
ز مان کو جب (ان کےعقیردے کے ممطابن ) سفار تک سلسلہ 
لیر پا تھا فی بت نرک کاز ما ہاج اے۔ 

یا نکیاجا نا ےک بی سفار لی کادو باج اما ی رازداری 
کے ساتھ تل ر ہا تتھاء اس وق ت نتم ہوا جب کم وق تکو ا ںکی 
طلاغ ہوئی اورا نکی طرف سےا کی مین نیش ش رو ہوک یک 
رکون لوک میں راس طر کا فریب د ےک رعایا کے سادہ لو 
وا مکولوٹ ر سے ہیں ؟ اس کے بعد بی سلسملہ بنلد گیا اورشپورکردیا 
کاراب کی مق کرشم پک“ ےکر کادد 
رو ہہوگیاء او رب صاحب الڑ مال کےنکجو رک کی کا اع سے 
را ہقائم نہ ہو گا اور یکی ئ۶ 
ظ جو رکا ا نظ کیا جائۓ ۔ (زبرا لی انقلاب ص:٤٤۱ءءےء١)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


یہاں جو بات ڈک کن جا تا ہوں دہ بی ےکم امام کے ناب و جا نے کے بعد 


یورام یج ہر ور وا 
ص٥‏ الد علیہ ملم نے تین ز مانو ںکڑ خی ال ون فر مایا ے شی سحا برک راخ کا ز مانہءان کے 
بعد مج مت یک روں ان کے لحد بخ جا می کا وور _حظراتي ات ئے' زان وع نے 
زمانے بی و امام کے وجوروضروری قراردیاممان جب 'شرالت رون کا دورشروغ ہواڑ 
ما مکو یکا یک ناس بکردیا۔ اہ لاعف لکونمورکرنا جا ےک ہاگ خی رالت رون یس ایا مکا وجود 
ضروریی تھا فو ش رالرون شی اس سے زیادہ ضروری بونا جا ۓ تھاء کی ےکن کی 
خی رالق رون میں و ا تھالی پے در پے اما پھیتنا چلا جاے ءاورج کی خی رالقرو نکادور مم ہو 
اورش اق رو نکا دورشرو ہو جا تے فو اد تھالی !ما مکو یکا سیک خا ح بکمردے اور و تا مام کے 
ایر زند یگ ارنے پرمجبور ہو جاۓ ۔ سو جے اورسو پارسو جج ! غ اک کیا یہ امامم ت کا ڈھونک 
می صدرازل سسلاف ںکو بد مکرنے کے ےنیس رچا اگیا. 0 
کے .مت مامت میں حر تھی شی الع کے نا نا نکی خا نگیو ںکا 
جوخلاص ,او پر در عکیاگیا سے ا کا ایک اور پہہلو* بھی لا ا وجرے وہ رکشحخر ت٣‏ کی 
او دکی اکشربیتگییںشمبعوں کےقیر) امام تکی مک رنظرآکی سے چنا خی 
:رت مان یی شرع نہک شہادت کے بح امام ز بین الحابد کی لاماصت 
کا دو رآ یا اع کے پیا طحضرت مھ بن نی نے خودا نی امام تکا دوک کیا اود دہ امام زین 
الحابد کی إ مامت کے گر ہہوے ۔ چنا خی راصول يکاٹی ء کاب الامامة ''باب ما یفصل 
بە بین دعوی المحق والمصبطل فی الامامۃ“ مس چا کی ےکا منانظ رر منقول ےجنس 
یس الا خرجمرآسودے فیص طط بکیامگیا(اصولکانی :ا ص:۸٣۳‏ ردایت :۵ )لکن اس 
لہ کے بح رچھی بن حن یی امام تکاڈ ہکا بدستورکچنار باء اور امام ز ین الحاب وی نم 
پر تا تھا جع اکہ لے ذکر ہو چا ے۔ 
۴×... (مام تسس نچک شی الشدع کی لورکی اولا داشا شی عقی امام تک من ری , 
چناتیگبرالڈر ”٣ن‏ | اض ءمام باقر“ اور اما نف کی إمامت کسر تے,اوروہاپنے بے 
”حھ مجن زکی کےق میس انع سے بمعت لوناجا جج تےء ججی اک أصو کاٹ کے باب 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢ ۱۵۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ا و اور :۹ای کور ے(ہ کت :عو لکن ١:‏ :۳۷۷۱ 0) 
..:٣‏ امام ین العابد بی کے لحد جب امام پا تر“ کیا دو رآیا تو ان کے بھاٹی 

مخرت زیم نک نے ء جو ز یشہیر' کے قب سے مروف ہیں؛ امام جار کی !ماممت 
سے ا ہکا رکا او رتو دا تی امام تکا کوٹ یکییاء یی اک ا صو یکا ١ےا‏ یا کی روایت 
:۹ا میں ا نکا مزا نظ رد امام باترں کے سا تہ نول ہے(ہیے: ا صسول کائی ۷ص:٦۳۵)۔جر‏ 
اُصو لکالی کتعاب الامامة ''باب الاضطرار الی الحجۂ' گی رواین کم :۵ شش ہشام 
حول کےسا تح ا نکا منا ظ رر منقول ہے(د یھ : اصول کان خ١ ١2۶١:۴‏ ۔ ۱ 

لا ا و ہے بانچ فر زج تتے: ممیدہ اسماکتل ءکپرایڈ ا )0 
لان یانوں ےے ان ان امام تکا کوٹ کیا اورشھتوں کے محد ہمد دفرتے ےہ 
سکیشیلأو رکز ری ہے بہرحال ما نف رکی او دیس موی کاٹ مکی امام تکاکوئی 
بھی تال نہ تھاء بکلہ امام صادق “نے این بڑے بے سام لکی امام تکا تو خود اعلان 
ھی ٹر ایا فھاءیان مال یک . لود پابلہ... راکنا وا یکیرات بد گی دش ریب 
ا سا گی لکی امام تخرف خل طدکی رح مڑاد یئ - 

۵اطب ہرامام کے دوو اعاممت مل ال کے بھاکی یی اور دی را قارب 
ا لکی مامت کے منگرر پاکرتے تھ بت یہو مان سر کے پھاگ یٹتفرء ا نکی اوران 
کے ے بے نام مہدرگی کی مامت کےبھی مر تھےء اسی ہنا شیع ا نکو تتخ راب" 
گے میں اقب بادک رز جپین۔ 

مرگورو پا نیل سے معلوم ہو اکہ رما مکی امام تکو( مو اۓ اس کے ال نمانہ 
کے اور دو چا رشتوں نے ماندان ممادات ہیل کی یک نے تقو یی یکا ا 
معدودرے چند اف راد کے سوا ڈاٹی صد یوں میں تقمام سادات اور پپرا نما دانع وت مل 
امام کا مگ رتھا۔ 

اب معک میا مامت کے پارے می ںشیعو ںکاف کی نل ...! 

ٹس متلۂ امام تکی تسریی بث کے تسرےعقیرے یں ذک رکر کا ہو ںکہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6۴ 7 


امامیہ کے نز ویک امام تکا مفگ رکافر اور نارگی ےء یہاں” ااصول کائی“ کی 7 رواش 
مر یھ یئا 


'- محمد بن یحیٰیء عن عبدالله بن محمد 
بن عیسی, عن علیٗ بن الحکمء عن أبانء عن الفضیلء 
عن أبی عبداللہ علیے السلام قال: من ادّعی الامامة 
ولیس من أھلھا فھو کافر۔.“ (أصوِل٤ال‏ ع:ا ص٣۷ك٣)‏ 

ہیں: ”فضی لککتے ہ سک ایا ضا دق نے ف را کہ 
ج سن نے امام تکا وٹ کیا وردہ ا لکاا نی تھاءووکافرے۔_ 

”- الحسین بن محمد عن معلّی بن 
محملہ عن محمد بن جمھور عن عبدالل بن 
عبدالر حمٰنء عن الحسین بن المختار قال: قلت لأبی 
عبداللہ عليه السلام: جعلت فداک ”'ویوم القیامة تری 
الذین کذہوا علی الله“؟ قال: کل من زعم أنه ا!مام ولیس 
بامام قلت: وان کان فاطمیًا علوئا؟ قال: وان کان 
فاطمیًا علويًا, “ (أسرلانی ح:ا ص:٢٤٣)‏ 

قرحم:.. مین مک ن نا رکا ےکہ: میں نے امام صادتی“ 
سے لے پچھاکہ: ا ںآ بی تکا مصدا کون ہے :' اورم قیاممت کے دن 
موم کن لوگوں نے الد تما یٰ برھوٹ پاندھاء ان و 
کا ے ہوں گے امام ےکم رما اک : آ یت کنا ".6 ےے 
یجس ے زماعم تکا کوک یکیاءعالائ دو اما یں ین ن ےکہا:شزاہ 
نطرت فا اورتضرت ]کی اولا دیس سے ہو؟ فر مایا :خواونضرت 
اط اورتحقرت کیاکی اولا وہو“ 


گو با شیب عتقیرے کے مطا لی حضرت کل او رنضرت فاط کی دہ قمام اولا دم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610٥۲١۷۳۳۱۱١٣۹ .۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


شتوں کے خووسا شع عقیدر) امام کی مگرڑحی وہک رین او کاو مد اع 
کانےہہوں مے۔ 
ای پر اکنناککیں پللشمیعوں کےنز دی ک معک رین مامت ترام زادے ہیں -۔ 
نی نے'' رو کافی'“ گی روا نی ۴۳۱٣‏ .میں زیام پاتز“ کی "ریت 
تو 
۳> علیٰ بن محمد عن علی بن العبٔاسء 
عن الحسن بن عبدالر حمٰنء عن عاصم بن حمیدء عن 
ابی حمزۃةء عن أبی جعفر عليه السلام قال: ..... والل 
یا ابا حمزۃ! ان الناس کكلھم أولاد بغایا ما خلا شہعتنا “ 
(روفے کا ضص؛:۲۸۵) 
7 و اے الومزو! او ریس تسین 
پدکا رگورنو ںکی اولا د یں سواۓ ہما ر ےۓٹیہوں کے 
لام کی بھارالانو ار شش ایک با بکاعنو اع ے: 
”ان حبھم علیھم السلام علامة طیب الولادة, 
ربغضهھم علامة خبث الولادة“ 
تریخمہ:.. ںہ سےمنیت رکھنا ولادت کے ماک جو نے 
گی علاصت ے اوران ےنس رکھنا ولاادت کے نا پااک ہو ن ےکی 
فلاضیے۔ 
ای جاب ٹل رداتقیل ذک رکی ہیں جن نکا خلاصہبی ےکشیتوںکا مسب جج 
ہے اور جولوگ اماصت کے سک ہیں ا نکا سب نا پاک ے۔ 
اس ےمجھیحو ںکی ائل بیت سےمحب تکاانداز ہ ہو جا تا ہے متا مامت بنا 
تما ساب کون (سواۓ دو جار کے ) کافر وظا لم کے بی ےمان اس نظری ےکی وج سے 
امامو ںکی اولا ...تو بادل....ولداھ را قراردپیے ہیں ۔ اگ راڈ تما لی نے ذرابھ نل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٥٢١٣۹ .۸۷۱۸۲6 7 


سم >۔ ہ پر ہیا پیوب سچد ج61 ٠‏ 
امام بد کے پارے یس اسلا می نو : 

آ نار بک یف ر مات ہیں: 

”میں ین ےک کب اسلائی پر دج اطلاح ر کے 

والاوئی یں باہو میں امام '(امام مدکی ) کے اسلائ یتو رکا! ار 

نی کرس ریونت ہن ما ایل سن تھی ان 722 

کے ئل ہیں ۔ اب مصیی صورت ان کے موجود ہو نے کے سا ان 

کی خیب تکی :جن سکی بپچھ یس جونت رآ کیککددبیگئی انا صرف انی 

اجب ہ ےک دوٹیں اور 

امام مدکی علہ ال رضوان کے اسسڈا ھی نمو رکا ا کا رکو نکرح ے؟ میا نمیتوں کے 
امام ا بکومہدبی کے اسلائی تقو رکا مصدائ یھنا آ جا بکی خوش نی یا مخالطدآ ف بی 
ہے ۔کی وہ الا جس مہدرکی کے ن ےکا مقائل سے ا سی چندرصفات ہے گں: 

ا:...۔اکانام' ھب نعبداللہوگا(ابودائود ص:۵۸۸) یل شیہوں کے م ہدک یکا 
نام لیناب یکفرہےءج اکہ پیل ذک رک چا ہوں ۔اور شیع ال“ بے نام ہچ کے با پکا 
نام" خی ن ری تنج ہیں یی گول کے م ہد یکا نام اورولمد یت امام مہعدکی کے نام 
اورولم یت لف ے۔ 

۴... امام مھ ین عبدال٣لہ‏ الم دی خی سی ہوں گے (ابوداود ص:۵۸۹) ججیہ 
شھیہوں کےنز دی کححفرت جن ری اعن یسل منصب اماصت بی سےمحزول ے۔ 

سک امام مبد کی عھرشریف ان کے ور کے وقت حایس فی کی گی 
(الیاوییملنتاوکی ج٣‏ ص:۴٦)‏ جیلشھوں کے دڑے کے مطا لی ہے نام ہدرک کی خفیہ 
پنش ۲۵۵ زیش وی گیا" ے۵ ا گی عم رف اا نک یآ گی جار سے ے اورعلامہ 
ٹبیئی کے بقولابھی ہراروں سال اوریھ یگمز ر کے ہیں ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳٠۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


ہے2 تسس سس مات 


الش النل اجب اسلام کےمہدی سے اس بے نام چےکاام ونس ب بھی مار 
ا نوم ہد قکیکرخوش ہہوناایما بی ے جیس مرزائی ءمرزا لام امھ بن غلام علض یک ہیی“ 
کہرکرخ وس ہو اکر تے ہیں ءاورعرزاکےمعک رک دب یکامگ رر کت ہیں۔ 
رہ آ جا ب کاب ارشادہ: 
بہت سےعلماۓ ال سن ٛجھی ان کے زندہ ہو نے کے 
ول ہژں۔' 
بے علوممُڑ سک کون علا ۓے ائل سقت اس کے قائل ہیں؟ اما نہک کی ہرک 
نے حعظراتت إمام یکا قو لف لکیا ہوءادرآپ نے ال کا اپنا قو لبھھولیا ہوء ہہرعالی بش 
ینام ہد یکا آپ نام نےر ہے ہیں ا ںکابھی درگ نیس ہوگیء زندہ ہون ےکا 
کیاسوال...*؟ حضرت شا عبدالھزہزمرت د وو ککیھتے ہیں : 
واگمر سے فرقرخودرا عناء لق بکند و باما مت عنقاء 
ان شون کید ام وجہابطال مہب ابا لا ٹوو“ 
(زاناکٹرے. ص:۳۳٣)‏ 
لی 9 کا کا ا۱ے رہ نم 
دنین او انتا“ گی بات کےا جووجات٠یس‏ زج س کا کی 
نام ونشان ہنیس ) نان کے رہب 0 ابطا لک یکیا ورت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


گیا ر ہوم بٹ: تقر مامت پرلق کا شا میانہ 


آ ئن ابک رفرماتے ہیں: 
تی اپ نے (رائما وف نے) ہیس لق ےکا 
شامیانشیتوں کے سر پر جانا ہےء اس جم لآ پکوخوا نف اہ زصت 
ہویء راتا خی راہم معالم ےکا ںکی وضاح تکی ضرورت ان 
یز یز کو 
مو ڈبانہگمز اریہ ےکہ یہنا ارہ شمامیا ہکہالی سے لاتا؟ اورشتوں کے م رس 
جا ک یکمتا خی کی ےک ر٢کتا‏ تھا؟ شا میا نر خودا کابرشیعہ نے مامت اورآ مہ رتا ناےء 
چنا نت الطاکنہکی ”تیب اور الاستص ار أٹھاکر دہ لیے : ہرڈدمرےتسرے مفے بر 
”محمول علی التقیۃ کےالفائانٹٹش گے_ 
ربا کہ یر محا اہم ے با غیرابھم؟ ا لاجناب نے أصول کا ئی “تاب الکفر 
والا یمان جاب النقی کو ملا کل فرمایاء ور ہآ پکو ال لکی ابی ت کا انداز و ہوجاجاء خلا 
اما صادق کایارشاد: 
”7- ابن بی عمیر: عن هشام بن سالمء عن 
اتی عمر الأاعجمی قال: قال لی ابو عبداللہ علرے 
السلام: یا أبا عمر انٌ تسعة أعشار الدین فی التقیّة ولا 
دین لمن لا تَقیّة لە والتقیة فی کل ش٤ء‏ ال فی النبیذ 
والمسح علی الخفین.“ (اصول)انی ع.۲ ۶ك:۰ا٢)‏ 
ترجمہ:..! اےالففگمرا ین کےکل دی میے ہیس ء ان ٹیش 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹٣66 7۷7 


نغضقاوںواں لائنشامجوہادر 

نز تی ے سوا نی کے اوج لی اشکین او 

ال حد یٹ سے جہا لتقیہکی ابعیت ان ہہوگیء وہاں ریگھی معلوم ہواکہ وی نکی 
ہر بات می ںیہ سے ؛نقیہ کے طود بر اسسلا مکی با تکف راو رکش کی با کو اسلا مکہنا و رت 
ہے الہتددو چیزوں مس تقینکی سک رر الا ستبص ار :ا :۹ے بیس ےکرحضر تک نے 
موزوں پر کیا تھا اود امام جات نے ف ما کہ تق کےطور یرم علی این جانڑ ے۔اپا 
ان رولوں پالں میس بھی وکا سے گیا امام ے وفر مایا تھاکہان دوہاوں ہیں لت 
یں ء یی لی ہیی و ٹ تھا_ اور تا ما م ا ا تتف رکا ارشاو: 

-٦‏ عنہ عن أحمد بن محمد عن معمر بن 

خلاد قال: سالت أبا الحسن عليه السلام عن القیام 

لدولاة, فقال: قال أبو جعفر عليه السلام: التقیّة من 

دینی ودین آبائی ولا ایمان لمن لا تقیّة لە.“ 

(اأُصولکائی ع:٢‏ ۷ص:۹٥۲)‏ 
تر ...تیم را اور میرے پاپ داداکا دیع ےء اور 

میس نے لق ندکیادو بے وین سے" 

ان دونوں اعادییث سے تی کی اہمی ت کا انداز ہہوجا تا ےک یضرف ماب 
وت بکیں: بللہمازروز ےکر فرش ہے۔ او رف رخ بھی الا کہ ہرڈرخ سے بڑ کر 
7 ہے کبوککمہ وین کو تھےتتہا تی یس ہیں اور وین کے بای قیام رکانب لک رنہ کے 
مقالے بیس وین کے وسو میں یه ےکی حیفبیت رھت ہیں ٢اس‏ لئ ا کا ارک دی نککا جارک 
ادار بے درین ہے۔آ تنا بکوا کا ” خی را پھم تی رکہنا ات محصومین کے ارشماد سے اخراف 
اورانیک ط رع سےاممتصومشی نک ی کک یب ے۔ 

الف رگ ! حیعہ رہب مم للقیہاکی بڑکی اورا کی مقدرل عادت 0 مور 
تام ارکان :نما ەروز ہہ پلیہ جہادو خی رہوخی رم 'عبادت تہ کے متا فے مم کش تیر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


تک یتٹ رج وف راورموا شع ت ےک نوم کے لئ آنۂمحصو می نکی چند حا دی ٹا لک را 


یں 
اف 


ااظزسقاس اسسامارص اعمسی من 
بن خالدء عن عشمان بن عیسلیء عن سماعةء عن ابی 
بصیر قال: قال أبو عبداللہ عليه السلام: التقیّة من دین 
اللہء قلت: من دین الله قال: ای واللہ من دین الله ولقد 
قال یوسف: ”ایْتھا العیر انکم لسارقون“ والل ما کانوا 
سرقوا شیٹاء ولقد قال ابراھیم: ”انی سقیم'“ واللہ! ما 
کان برا (اصولکائیء ہاب تتّ ؾ٣ )٢٢:‏ 

ترج.:. !اب وص کت ہہ ںکہ :امام صادقی ‏ نے فرمایااکہ: 
نیہ اش کے وین میں سے ہے۔ میں لن ےکہا: الد کے رین میں 
سے؟ فرمابا: ہاں !دک !ال کے وین ٹیش سے ہے بے نک 
وسف علیہ السلام نے ف رما کہ:* اے جا لے والو! حم چور ہو واڈر! 
اننہوں نے یں تچ ایانتھا۔ اور برا تی علی الام ن کہ اککہ: ‏ ٹس 
پاہرں للا ہ نار گن 


اس ری سےآت کا مغ ہوم معلوم ہو ایض پر بنا ۓمصسلحوت بجھوٹ بول و ینا 


تیر ےم کیونکہ امام کے بقول برادران اوسف نے پجوکیس جچر ایا تھا مان بوسف علیہ السلام 
نے ال نکو چو رکہاء جوص رت بھوٹ ے اورا یکا نا ملق ہے۔ اود بر کیم علیہ السلام نے 
فرمایاكک: نیس نار ہوں' ھا لاککہ امام کے بقول وو قطعا ہار نہ تہ رصم مجھوٹ تھاء 
ای کانا نیہ ہے اود امام کے بقول وین کے دس تسوں میں سے اوتوں نل ے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠٥٢٣۹. ۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


رس ہیں شس ہے ےش 
یں ءکیوف ےرت لیف علیہ السلا مکو جان و ما لک اکوگی خط ہیں فاء اس کے باوجود 
اننہوں نے لطو رت ان لوگو ںکو چو رکہا۔اورتضرت | برا ڈیم علی السلا مکویھی جان و ما لیکاکوثی 
خر یں ھا اس کے باوچودایہوں نے لو ریہ ای کو بنا رکہا۔ یہشکمون نو سرکی حد یٹ 
یش امام سےصراحن بھی نول سے۔ 
وس ریا حر یث: 
اصول کا فی ء باب اتی می ے: 
-٣‏ علیٗ بن ابراھیمء عن أبيهء عن حمّاد: 
عن ربعی, عن زرارةء عن أبی جعفر عليه السلام قال: 
التقیّة فی کل ضرورۃ وصاحبھا أعلم بھا حین تنزل بە۔“ 
(صوا لن ركّ:٣‏ ضص:۲۱۹) 
ترجہ:.. زدارہ امام پا ر سے رواب ت کر تے ہی کہ 
انمہوں نے فر مایا : تقیہ ہرض ہرت میں سے اور سکوضرورت لاق 
ہووای ا ںکو :ہش رجا نے 
اس حدیثے ےمعلوم کیہ کے ےکوی شا ب77 2 :شاف 
ضرورت بی ا سکافیص لک سا سے۔ 
ادر ےک شیعہ فرہب میں ” تق اورن سان دو الک الک چتیرب ہیںء 
گتان کے سی ایے وی نک ھانے کے ںہ چون شیع نہب اس مال یی کہا ںکو 
خاہرکیا جا انس لے !مام نے نہب کے چچھان ‏ کا عفر ماباء چنا جج او لکائی'؛یں 
”باب النقی“ کے بح باب الکتقماان ہے ا کیہ تک ددایوں میں سے ایک روامت 
ےرات 
یس رکی عحد یث: 
-٣‏ علیٗ بن ابراھیمء عن أبیەء عن ابن ابی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۲۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


عمیرء عن یونس بن عمّارء عن سلیمان ابن خالد قال: 
قال أبو عبدالل عليه السلام: یا سلیمان! انکم علی دین 
من کتمە أعزّہ الله ومن اُذاعه أُذله الله “' 


(اصولکائی ج٣‏ ضص۲۳٢٣)‏ 
ڑتھ.:. ‏ مان بن الد امام صادل کا ورشاونخل 
گر تے ہی ںکہآپ نے فرمایا: اےسلیمان ام اسیسے دن ہہک جھ 
تس ا سکو چیا ےگا الد تھالی ا ںکوعمزت دی گےء اور جوا سکو 
اہک ےگاا رڈ دای ان سکو یی لک مین گے 
اس حدیث سے ایک و رمعلوم ہو اک شیع خہہب (الُق معترے, نیز بھی معلوم 
ہوا شیعہ جب اسلام کے علادہکوکی اور دن ہے ؛کیونکہ ا تھی نے اسلام کے اظہار 
کا مرف مایاےءاورخوداس کے اظہارکاوعدہفربایاے:''لِیظهرَ غَلّی الین كُه“ الں 
کے بلس شیع نہب کے ا کہا رکیا من جانب اریمالعت ے؛ ال کے چھیانے بعزت 
کاءاوراس کے اظہار پر ذا تکا دو سنا ایا ے-_ 
الفیشں! ‏ تمتمان کےمعفی نہیں اپننے دی نکو چھپاناء اور تی ےکی اٹے 
مہب کے خلا فک۷ نا اکہنا۔ 
007 
”ول کا نی کش 2 
”7- عدَة من أصحاہناء عن اأحمد بن محمد 
بن عیسیء عن علیٗ بن الحکم؛ عن معاویة ابن وھبء 
عن سعید السمّان قال: کنت عند أبی عبدالل عليه 
السلام اذ دخل عليه رجلان من الزیدیّة فقالا له: أفیکم 
امام مفترض الطاعة؟ قال: فقال: لاء قال: فقالا لە: قد 
أخبرناعنک الفقات اأنک تفتی وتقر وتقول بە 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٥٢١٣۹ .۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


وَتسّیھم لک: فلان وفلان:وعم اصحاب ورع 
وتشمیر؛ وھم ممّن لا یکذب فغضب أبو عبداللہ علي۔ 
السلام فقال: ما أمرتھم بھٰذا فلمًا رأیا الغضب فی 
وجھہ خرجا.“ (اصو ل٤انی‏ بع:ا ۲۳٢:‏ روایت:١)‏ 
قجمہ:.. مدان کے ہی ںکہمیش امام صادق “کے 
پا تھاء ات ش زید ہف رتے کے د1 دٹ یآ پکی خدمت مس 
حاضرہوۓ اور او چا کہ :یتم می سکوٹی امام مفتزض لطاب موچوو 
ا آپ نے فا نا سای کے نی آآپ کے پا ے نی 
21 اخمادث لوگکوں نے تاد ےکآ پ ا کا کی دج میں اور 
اقرارکرتے ہیں اودااس کے قائل ہیں ء اوہ مآآپ کے سامئے ان 
لیکو ںکا نام لے رت ہیں٤‏ دوفلاں فلا ںآ دبی ہیںء بڑ ےکن کی و 
طہارت کے ما نک یں اور وہ ان لوگوں ٹیش 00080) 
کیں بو لے امام صادقی “ا نکی با تک نکرنحقبناک ہہوۓ اور 
فمرما اک یک ے ال عگذائ کا ھکیس دیا۔ یی جب انہوں نے امام 
کے چرے برخیظا وفضب د یکنا أ ٹم کر ملے گئ ۔ 
اس حدییث سے چند ہا تی معلوم ہو میں: 
افی:...بکہذید ہیر تے کےلوگکوں سے امام مو جان وما لکا خو فیس تھاء اس 
کے پاو جو دا نے کقفرایاءاورصا فکہہدیا کیم می ںکوئی نومام“ یں ۔معلوم ہوا تق 
جا مال کات اہ ان 
د9 :... یک تفرات اس ودک اثگار امام تکفرےمگر ایام نے لقیہ 
یا جفا برا یکن کے رقاب سے رپ نی فرمایا۔ 
...بک ہمہ ن ےس یکومتلۂ امام تکیاملی میس دبی ءلوگوں نے خ وا خواہ 
بے پک اڑادی۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


یں 
او لکائی ماب اعم اب اختلاف الد بی ٹل ے: 

لے ے3 بن اڈرییس,؛ عن محمد بن 
عبدالجبّارء عن الحسن بن علیٰء عن ثعلبة بن میمونء 
عن زرارہة بن أعینء عن بی جعفر عليه السلام قال: 
سالته عن مسالة فاجاہنی ٹم جاءہ رجل فساله عتھا 


فاجابه بخلاف ما أجابنیء ٹم جاء رجل آخر فأجابہ 
بخلاف ما اُجابنی وأجاب صاحبی فلمّا حرج الرجلان 
قلت: یا ابن رسول الله! رجلان من أھل العراق من 
شیعتکم قدما یسالان فاجبت کل واحد منھما بغیر ما 
اجبت بە صاحبە؟ فقال: یا زرارۃ! ان هھٰذا خیر لنا وأبقی 
لنا ولم ولا اجتمعتم علی أمر واحد لصدّقکم الناس 
علینا ولکان أقل لبقائنا وبقائکم. 

قال: ٹوقلت لأبی عبداللہ عليه السلام: 
شیعتکم لو حملتموھم علی الأسنة أو علی النار لمضوا 
وھم یخرجون من عند کم مختلفینء قال: فاجابٹی بمٹل 
جواب آبیہ.“ (اصو ل۷انی :ا ص:۵٦‏ روایت:۵) 

ترج.:..”'جطاب ڑراردہ امام باظ مر سے روا تجھرتے 
نا نت آآپ سے ایک تل لو چا امام نے ھت ایک 
اب دبا نچ ایک اوٹح سآ با الس نےھی دی ہہ لو ھا ءآپ 
نے ا لکوڈوسراجواب دیاء پچ ایک او رش آیاء ال نےبھیا وی 
صل یچھاء ا ںکوآپ ےے ہم وولوں سے لف جواب دیا۔ وہ 


۷ ۴م۷۷۱۲۹. 6510۲١۱۷۳٣٥٥٠٣۹‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


و اجب جا نئان ےنام ےش کیا آاۓ وی 


اش کے ٹج !ا عراقی کے بیبدوفو ںآ دب یمہارف ماتیتوں میں 
سے ہیں ءآپ نے اع دونوں کےسوا یکا لف جواب دیا- أمام 
نے فرمایا: زداروڈ ٹے شک جمارے لج می مر سے اور انی میں 
اتی اورتھہارگی ہتا ے۔ ۔اگرقم لو کی اک حر من ہوچا وت 
التارے آارےا ہیس سا یھنگیاس کے ال ے ارگ اور 
ریو یس رکا ور یکو زی فا ادن" 
ہم 0- کے شی 2ا جنے کے ہیں کاگمراا نکونھڑزوں > 
انگ دنا ےپ آآگ می نمی نک دبا جا ےج بپبگکیا 3 وکس 
گےء اس کے ہباوجودوہآپ جظرات ( امہ ) کے یہاں سے لکل 
ہیں تو بات بعاخ کی بولیاں و لے ہیں ۔ انس پہ امام صادقی“ نے 
بھی مھ وبی جواب دبا جو ان کے دالد ماجد امام ہاش ر نے ویا تو 
(ئہ ہم تصدأشیعوں میس اختلاف ڈالے ہیں جاک د ہی بات پ> 


ا 2 ق 


اس حربیث ے اک لو لوم ہوک امج من چنا نے کے پابندکئیں ھے 


01 27 یا نکمرن ےکی بھی ال نکو اجازتتگی۔'ووسریی بات رمعلوم ہو یک ہہ 
نیا کی یا دک اورایماابنمامفرماتے ‏ ےک ا اص رازداروں گج قیفر ماتے 
ھھے ےتسر بات رمعلوم ہوٹ یک ہام ہکواپنے آصحاب کے درمیان پھوٹ ڈرال ےک بڑ 


اتمامر تا تھا ءاورا نکی بت وسر از ل٣‏ زان کڈ یی بات تل ضہہوجا میں 


دراو اس تا ایی یت رپھونت ےئ وو :ان یہو ںل۔ 
شی بات رمعلوم ہہوٹ یک نہ کے ز مانے میں لو کیو ںکویچھوٹا اہر تے تج او راخ مم 
کوچھی ا س کا ا ہام ر ہت ٹھ کہ لوک ان کےممیحو ںکوگچھو ٹا پچ اکر میں ہ مد ات اسنہ اون 
وکوں نۓ شمیحو ںکوس لیا اس یوں بجھ کہ قام تآ”گئی۔ بامچو میں بات رمعلوم ہوئی 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢١٠۴۹۰۷۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


شیع و ب کاو نا ا رر یں راکپ وب کے مر کی 
سیا ناب شہڈالی جائی امام کے نقول شیع مرجم بکی الکن ب یی تی انام ائل مشت 
حضرت مول ‏ عبرالشکو لیکن وب کے الا ظا میں : ۱ 
”اگ رت کا سلسلہنہ ہو جب شی ہکا کم ائل بی تکی 
رق لو پک اح لکن چا .مہ شا کو سے 
سا تج وڑی لسست سے ججود یلگا ٹب یکوتار ب تی کے سیا تج ہے ارتا 
کاٹ یئ جا یذ ری لگا کی ایک قد میس پچ لت 
(مازدونخم ۷ص:۹۸) 
کٹ جات معلوم ہوئی اکن موا وی برواہیں 2)]) پروات اور 
وٹ تل ئل جا گا ءضن وہاع لگ ہوجا ےگا اور 27 مداوندی (جوشیعوں ے 
زدیک صرف ام بی سے معلوم ہوسکتا سے ) مشتبہہوکررہ جات ۓےگاء او دم بر دج فتکی 
لوٹ پڑ ےگا جو ال ددتھالی نے بیبددبویں کے با رے یں د یاتھا: 
"ام الَدِیْنَيَكنمُوْيَمَ انْرلَكَ مِنَ لیت 
وَالْھُدی بن 'بَعُد مَا ین لِلناسِ فی الکب أولیلک 
َلْعنْهُمْ الله وَيِلعَنْهُمْ اللَعَوْنَ“ (ا۱۵۹:8,2) 
رز یں ولاف چھیاتے ہیں جو ھجم نے 
اُتاراصا فگم اور دای کی پاٹنشء بحداں ک ےک پم ا عکوکھولی 
یےلوکوں کے وا سن کاب میس ان ران تکررتا ے الہ اوراحنت 
کرت ہیں ان برأعضت٤کرنے‏ وانے“' ےت ( تیم اہ 
لی کے ولا 1 
أئمہ کےت کا نتییہ مین اکران کے با نک۷ردہ مسائل میں دید اختلاف وناد 
پیارا١وگیا؛‏ جس کی وج سے امہ کے ڑ مان می أ مہ کےا صحاب کے درمیاانع ا پہولناک 


۱۷۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳٣٥٥٠٣ ۹.۷۸۷۱۲6۴ (۷ 


اشافات پدا و ۓکہ ایک وسر ےک تر دیرم کت وسر مو 7 
عق اور مقاطدع تک وب تی ء اور بعد کے عا ء و جن بن شیع می بھی شت فات دا 
ہو ا صول میس ھی اورف رو می ں کی الف !اد کک کی فا مرش جب جیب 
تنا ات کال ۰0,+++]ٗ+ٗ و وی سک ا لیا اور رر معلو مکر بن و شر 
امن ہوک اک ہأت کی مقلف ددایا کی رچشنی می ںکون سا مرناشلئی ور قح وصواب ے 
اه 4 لی پاضل اورغایا؟ 
یہاں ان مور ممخص 9 نیو ی لماش ہیں, امام ایل سفت منرت ممولا نا 
عپرالشَورلَححنوىٌ ئے شیع ورجب و9 بر را لک کا ارادوٹرمایا قماء ان دوسو 
مسائل میس سےذوس امت تق ٹھاءئنس تفر نے 'الضانی من المماتین“ کےٹوان سے 
شن رسائ لئ بندف ما جن یازدہ نوم“ سک ےکن میس جیب کے ب ژیں ۔عطل شور وو ںگا 
29ھ 01)/ 
تیر ےق رکا بقدائی حصہ یہ ںاخ لکرتا ہو ںکمساس یم اس نےکاوداخلا ہآ گیا ہے۔ 
وسر ۓئس کے خ می ںککھت ہیں : 
ایک پلکاسا نون ہگیتوں کے ات وٹین کےا کا 
اجس سے چئدانداز ہ تق کے موا بح کا ہو سلما کب اووان اعت 
ای طرئ نا ہرہوی ےق نے ےنلکن کیا کے فو کیا 
كت سپ * بہت شیعہ نے پرموئح برق کیا 
ہے م وٹین س بھی ؛ اشن سےبھیء فو نیاوئی مور می بھی اور 
یی مسائل بی ف کی د ہے می بھی مق مد کے تخل بھی اور ال 
اتی کی نی اف نان نیف ےنت 
سے بڑے ڑم ےمھرہ اطان فان کے ماب معلوم ہو تے ہیں _ 
انم شیع کی ان اخطلاف بیانیوں پا تی پردازیوں کے 


جب الع کےا صحاب میں می شک جنترت بدا ہو ےار 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳٠۱٢٣. ۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


چو ری 7-2 گن میں وگی ا شا کفز ونما و ۓء 
اور ہہ ا شاف حرف اعمال می لکیہ بلحقا تد یش ء او رعقا 7 رم 
بھی جومتلہ نہب شیع شی ےمیل سب سے یاد ۴م بالڈالع ے؛٭۴ یش سکو 
اانئٰ کے عتقا کا اج اق فا مت اس نشی 
اختلاف ہوا۔ تمہ کےینعش صا بآم کومتصو م کت تھے ء اورینس 
لوک تل ال سشت کے ان کےمتموم ہو ےکا اکا رکر تے خے اور 
ا نکوغلا ۓےکیاوکار جا تھے۔علاعہ بات رگا یکا ب !ڑج یقن“ 
ےی :۹۹8۹ء کت ہیں: 

”از آحادبیث ظاہ ری شود کہ گے از رادیا نک در اعصار 
اتی ہم السلام بودہ انداز شیعان اعلنقاد رحصعست ایال نراشاندء 
بلہرابیاں راعلا ۓکاوکارمیدرانضستاندہ چنا ا اتا شی ا رتو 
مخ ذا لک ٤ئ‏ مالسلا عم با مان بلک عدالت ایا ں یک ردند' 

مم .' احادیث سے ظاہ رہوتا ےکم شیع راولو ںکی 
ایک جماعت جوا تیم السا مکی ہم حص ریہ أئصہ کےحصوم بہونے 
کا خنقاد نہ یی بلک ہآ تکونیاوکار عالم جا نی ء چنا جرد جال شی 
سے معلوم بہوتا ہے اور پاوچوداں کے یی ہم السلام نے الع کے 
معن بل عادگل ہہون اعم لگا یا ے۔“ 

اس ا خلا فکا سب مکی ےک ہآممہ نے اتی اماممت اور 
صحص مت کا لکارن کیا ے؛ اب چاہے یبا کاروانگی ہو یا ز را وآقیہ۔ 

٠‏ اصحاب اُئ ہکا اختلاف اعمال یل اس حدکو پا کہ 

علا ۓ شی کو باول يتخو استہ اھ را دک نا یڑ اکا نکا اتلاف ابل سنت 
کےاتمآر عمش امام الوعیڈء امام ما لک ء امام شا لع اود امام اد 
بی تی بھی ا ختلاف سے بدر چھازاندےء چنا نییھوں کے 


۱۷۷۷۷۷۷ 0610۲۷۱۷۳٣٥٥٥۹ ۴م۷۷۱۲۹۴.‎ ۷7 


ارتتاح 


تر عم مولوبی ولدارملی صاحب اب ی کاب ”ساس الاصولٴ' 
مطو تی ,عہرشا ہی صف:۹۱ کی ہیں٠‏ 

'ورقد ذکرت ما ورد منھم من الأحادیٹ 
المختلفة العی یختعص الفقه فی الکتاب المعروف 
بالاستبصار وفی کتاب تھذیب الأحکام ما یزید علیٰ 


خمسۃة آلاف حدیث,: وذکرت فی اکٹرھا اختلاف 
الطائفة فی العمل بھاء ولک اشھر من ان یخفی حتی 
انک لو تاملت اختلافھم فی ھلذہ الأحکام وجدته یزید 
علی اختلاف أبی حنیفة والشافعی ومالک: ووجدتھم 
مع ھٰذا الاختلاف العظیم لم یقطع أحد منھم موالاۃ 
صاحبه ولم ینته الٰی تضلییله وتفسیقه والبرائة من 
مخالفہ.“ (اہاں‌ااصول ۷ص::٥۹)‏ 

ڑجی کی ہرکناوؤس ہدتگیین خاش یرف سے 
علق منقول میں و کاب ضشبور ا ستبصار اور تفہ یب الا جکام ٹل 
ا ترادا عاد یٹ سے ان بیا نک گی ہیں ء او راکش ان عد یل 
شھیہوں کے اختا فی٠‏ ل کا بھی ذکر ہے( مین یی عا لم شبیعہ نے 
مکی خی م۰ لکیاء او کی ن ےکی جب یبارت بونت شچوز سے 
سج پ نیس تء یہا ںت کک اگرقخم ان کے اختلا فکوان اجکام یں 
مور ہۓ گجواڑ ااویذہ اورڑائی از ما لت کے اخلاف ہ ڑا 
او گے۔ اور یس رز پاوجود ال میم اختلاف کے کت 
ڈوسرے سے ترک موالا نمو نکرتاء ایک٠‏ ووصرس ےک وگھراہ اور 
فام کی سکتاءاوراپنے ملف سے بیزررک بیس ا ہرکرجا۔' 

اۓۓ یر نم گی ان ارب پش قو سد وشن 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱٥٢٣ .۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


چس اوقات ناوافن کو کہ کر بہہکاتے ہہ سک تار ےاج ارہ 


یی دیکھوا با ا ختلاف ے مکیوگر مہ جاد ای پر ہو سکت ہیں ؟ 
ھٰذا آخر الکلام والحمد لل رب العالمینےٗ 
او رتس ر ےئم رک ےآ انز می ںیھت ہیں : 
”حَامِدا وَمُصَلِيا وَمُسلمَ 

ااإعراوا جع ہو ”الشانی من الماتین “ کاںتقصسرائر 
ہے جس یس !ان شا ءا یدتا یی کے نتا رک ان یئ جا ہیں گے 
انڈتاٹی اٹل وکرم سےاس جیا نکوڈ رجہ ہدایت بنائۓ بآ مین 

پیلے دونوںنمروں مسب یل أُممورشھیحو ںکی اع ی 
تین مج رکتاروں سے مات کے جاچیے ہیں : 

ا:. تہ کےمی خلاف داقح کے یا خلاف اچ اعتقاد 
کےلوکی با تکہنال( جم سکوگچھوٹ اولنا کت ہیں )اوک یکا مکرنا۔ 

ف:...تقیہاورنفاق پالئل یک چیز ہے اکر چ شی تہ 
اورنفاقی می پڈا فرق بیا نکر تے ہیں کے ہی ںکنقیہ درین کے 
چھپانے اور بے د ہنی ظا ہرکر ن ےکا نام ہے اورنفاقی بالصئل اس کے 
رس ہے نین برفرقی یحو ںکی ایک اصطلاع کی جفیاد پہ ےہ 
ملمائوں کے نز ویک اپٹی جن ند/بی بانو ںکوشیعہ چیاتے ہیں وہ 
خالصس بے د بٹ یکی ہیں اورجن پان ںکو و مسلرائوں کے سا نے 
اہرکرتے ہیں وویقیاد بی میں ءلبذرااس کے نفاقی ہد نے میں بیجھ 
یک یں۔ 

۴ تقیہاعلی در ےکا فرتء ائلی درس ےکیاعبادت ے٠‏ 
دن کے یں بیں سے وج ے لق میس ہیںء اور جو نیہ نہکمرے وہ 


بے دین د بایان ے۔ 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۵۷۳٥٢۱۹۹ .۸۷۸۲۹۹6۴ ۷ 


.تم واخیاءکا کہ دا کا نکر نا نے 

۳× اقیہ کے لے قوف جان دی رہوکی حرط ےہ تاور 

. کی معڈددی وجبو ری خر بے لہ ہرضرورت رت کا ء2 نی 
اورضرور تک یی خودصاحبیضرور تکی رائۓ ٹول ے_ 

۵ 'أ حم شییعہ نے عقظا مد می بھی تق کیا ےء او راع ال 
بس بھی تق میس ان اما ”توم ہو ن ےکابھی اکا رکیاے ف انس 
ھی رگ 0 ول را کا بھی ارمنکا بکیا ہے چو تڑے 
دی ہیں ہترا مکوعلال اورعلا لکوترام نایا ے ظا ول ء پدکاروں 
یریب کی ہے اور ری بھی امچھائی مرا گے کے ات ۔ 

انا ایس شیہو ںکوا زت اوت خلطامسائل بتادیا 
کرت تےء او دی یبرازکل جات تھا ا رشادفر ماتے ھک یم 
نت مکوفلاں نقصالن سے بانے کے نے الی اکییاء یا اس لئ ایا 
اکم با ہم اخلاف ر ےکا لو کت مکو ہم غروایت 
کر نے میں سز جھییں گےء اد رای یم ہمارے او رتا رے .لئے 
۳ 

ے.... ام اعلاعی پیش حقامکدواعمال بی ا کول سنت 
لماعت ھا ہرکرتے ےہ اور اپنے شاگمردو ںکوجھی نہب ال 
نت والماععت بیکیاعلیعم دنت تہ نہب شی کی تل ات متس 
قرران ےےجمیعوں نےافل گی یں ا نکی جابت شیع دراد یو ںکا ہے 
ان ےک ات نے لت یں جتہائی یش ہم سے بیان فرمائیتھیں ۔ 
۸:.. سا اوقات أمہ نے اس موا ٹم میں لہ ہکا ےک 


دہال ہرک زی 2 کی ضرور تکا شا ہچ لیس ہوستاء ما ان فروگی 


اجنتجادکی اعھال میس جن جس خودابل سنت کے جمت ین باج ملف 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳٠۱٢٣ ۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


۱ وو ے ہےر ہر سیت یج 


ر0 کے خطر ےکا اش ل یں رگ نہ نے الےے موا 
بھی ایناائصلی رہب چچھا اراس کےخلافم لکیا۔ 

ہآ ٹھ با یں ن ذگمزشن دونہروں ٹس ثابت ویچگی ہیں ء 
ان کے علاوددو ہا نس اورھی بیہاں یا نکی جاٹی ہیں : 

۹ آئم سے جوحدنگیں منقول ہیں ء ان مل اخلاف 
بے عدد بے نبایت ے٤‏ او رخ د ناما شیع ببعہ افر ارک ر گے ہی ںکہ ہر 
موق میں رمعلو مک لین انلدب سے ےلاڈ سے 
ا حع(ٹ سے سے مایا اوروج ے؟ طاقتانالیٰ ے پالا ے۔ 

مولوی ودرا علی یچ الم خی ے”اساس الاصول'“ 
ص:اھ یک ریف مات ہیں: 

”الأحادیث الماثورۃ من الأئمة مختلفة جذڈاء 
لا یکاد یورجد حدیث الا وفی مقابلته ما ینافیهء ولا یتفق 
خبرًا لا وبازائە ما یضادہء حتی صار ڈألک سمبًا لرجو ع 
بعض الساقصین عن اعتقاد الحق؛ کما صرح بە شیخ 
الطائفۃة فی أوائل التھذیب والاستبصار؛ ومناشی ھٰذا 
الاختلاف کثیرۃ جا من العقیة والوضع واشتباہ 
السامع والنسخ والشخصیص والتقیید وغیر هھٰذہ 
المذ کورات من الأمور الکٹیرةء کما وقع التصریح 
اکا رجا ٹی الاخبارالماقورۃ ضوببراسیاز العطاضی 
بعمضھا عن بعض فی باب کل حدیثین مختلفین بحیث 
حصل العلم والیقین بتعیین المنشاء عسیر جا وفوق 
الطاقة کما لا یخفی.“ (ا ما“ ااصول ص:۵۱) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳٠۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


کہ خلت اخاف ے امک یکوکئی عد یث نہ لٹ گی جن کے متفابل 
ٹس ا لک مخال ف جج نو یہا لت کک باختنا فیعض :الف لوگوں 
کے نت وب حا نے کچ رجا ت کا خیب ا لہ 
الطا نہ نے تب یب اور احبصار کے ش روغ بیس ا سکی تص کی 
سے۔ الع اختطمافات کے اسباب بہت ہیںء مشلا تقیہہ اور بش 
عد و ںکا مایا جاناء اور ضنے وانے بے لی یکا با8 
حصوش ہوجانایا مقید ہوجاناء اوران کے علادہ بہت ےا مور ہیں ء 
چنا ران یٹس سے اکر ا مورکی تر ان کی احاد جیٹ یل موجود 
ےء اود ہرد ولف عد یں ٹیل برا یا زکر کہ بیہاں الا فکا 
سب بکیا ے؟ اس ططور ےک اس سب بکیاعلم وشن بہو جا ء بہت 
وُخُوار اور انا ی طاشت ے پالاۂ ہے یما کیہ یہ پا ئگ ارہ 
1 ہہت 

*...آأعمہ کے اصحاب نے امم سے شأصسولل وی نکو 
پان ا اف یا قرغ وی لاج ران رر 
الاصول :مطبوب ام ران :۸۹ می ںلکعت یں : 

”ثم ان ما ذکرہ من تمکن أصحاب الأئمة من 
أخذ الأاصول والفروع بطریق الیقین دعوی ممنوعة 
واضحة المنع وأقل ما یشھد علیھا ما علم بالعین 
والآٹر من اختلاف أصحابھم صلوات الله علیھم فی 
الأاصول والفروع۔ ولذاشکی غیر واحد من أاصحاب _ 

)١)‏ اں سے صاف معلوم ہوتا ‏ ےک ہآئنہ کے زمانے میں بھی اکم شرع سو ہوۓ ہیں ء کو 
افقیارکرسول کے ج سح کوچا یں ضوع اکردییی+ااس سے زیاد وخ نو تکا ا نکاراد رکیا ہہوگا.. ؟ مضہ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۵۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


الأئمة الیم اختلاف اأُصحابہء فاجابرھم تارۃ بأنھم قد 


القوا الاخعلاف حقۂا لدمائھم؛ کما فی روایة حریز 
وزرارۃ وأبی أیوب الجزارء وأامحری أجابوھم بان ڈلک 
من جھة الکذابین کما فی روایة الفیض بن المختار 
قال: قلت لأبی عبداللہ: جعلنی اللہ فداک ما ھٰذا 
الاختلاف الذی بین شیعتکم؟ قال: وأی اختلاف یا 
فییض؟ فقلت لہ: انی أجلس فی حلقھم بالکوفة واکاد 
آشک فی اختلافھم فی حدیٹھم حتی أرجع الی الفضل 
بن عمر فیوقفنی من ڈلک علی ما تستریح بە نفسی؛ 
فقال عليه السلام: جل! کما ذکرت یا فیضء ان الىاس 
قد أرلعوا بالکذب علیناء کان الله افترض علیھم ولا 
برید منھم غیرہ آئی أحدث اأحدھم بحدیث فلا بخرج 
من عندی حتی یتاولە علٰی غیر تأویلهء وڈالک لأنھم لا 
یطلبون بحدیٹنا وبحسبنا ما عند الله تعالٰیء وکل یحب 
ان یدعی رأسا. وقریب منھا روایة داود بن سرحانء 
راسستدساءالامین کیر)اسن ربسال ٹوائز الْحَكُما 
معروف؛ وقصة ابن أبی العوجاء أنه قال عند قتله: قد 
دسست فی کتبکم أربعة آلاف حدیث مذکورۃ فی 
ال رجالء وکذا ما ذکرہ یونس بن عبدالرحمٰن من أنه 
أخذ أحادیث کثیرۃء من أصحاب الصادقین ٹم عرضھا 
علی أبی الحسن الرضا عليه السلام فانکر منھا احادیث 
کثیرۃ الی غیر ڈلک مما یشھد بخلاف ما ذ کرہ.“ 

(ف را رالاصول :م طو ءا ان ص:۸۹) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


۱|۹( اس 


ترجھ:.۔ پھر ای ٹیس نے وک کیا کان ای 
آئ] ا صول وفرو ‏ غکو لین کے ساتھ حاص لکر نے بر قادر تھے مہ 
ایآ ڈلوقی ہے ج کیرک نے سے ال ی یں کرک ا کی ش رات زا 
ۓے کے دن یگئی وا سے معلو ہوگی نوا تال 
ہم کےا صحاب اأصول وفروغ می باب ملف تہ اور ایی سبب 
ہع ات سے لی نے آمہ سے فلکای تک اک ہآپ کے آخقات 
میں اخلاف بہت ےء لو اخیرتے ا نکویھی ناب وا نت 
اختلاف ان یں خودہھم نے ڈالا ہےء ان کے ان پان کے لئے ء 
جی اک ہت بیز اورزرارہ اورالو ایب جنزارکی روایجوں ‏ ے۔ اور 
گی جب ا الہ :ىا خلا فبجھوٹ او لۓی والوں کے سب سے 
پرا ےی اٹیل بن تا رکی روایت یں ہے دہ ککچے ہیں: 
نے امام تفم رصادشی کہ اکہ: الد بھےآپ بر نداگردے ے 
کیا اتتاف ے جھآپ کے شید ہکا آ یل می سے؟ امام نے فرمایا 
ہا ےیئل کون سماا شا ف پا یس نے عغن لکیاکہ زی وش ین 
ان کے علق درس ٹس ٹبیٹھا ہوں و ا نکی احادیث مج اخا فکی 
یہ سے ثریب ہوتا ےک میں شک می پٹ جاولء بیہا لیک کک یش 
فل ب نچ رکی طرف زج غکرنا ہو ں تو دہ یھ ایی بات اقلاد نے 
سک وھ" جج ہوٹی ہے ایام ے تماما کت 
”ا ےلیٹ اہ بات کے ؛لوگکوں نے ٹم سہ رای دازئی کہ تک ء 
گو کہ خدانے اع بمجھوٹ اولنا فرش شکردیا ےہ اور الع ے سوا 
جھوٹ بو لے کے اور یل چابتاء ٹیل اان ٹس سے ایک سےکوٹی 
حدریث با نکرتا ہہوں فو دہ م١رے‏ پا سے أ مج ھکر جانے سے بل 
ی اس کے مطلب میں ریف رو کردا ہے بلک جار 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


یڑ جابتا ےکمددہسردار جن جائے اود ای کے شرییب وا ود جن 
سرعاا نکی روابیت ےاوراہ لئ مکا ” فواد رانکمہ“ کے ببہت سے 
راویو ںک سم کرد ینا مشپور ے٤‏ اور این ای التوا ءکا پر اف 
ال شس لھا ےکر رای نے ےک کے وق ٹک پاکن: یش نے 
ارت کابوں جس پار نزارحدنیں باکر در خکردکی ہیں ای 
رح دو واقہ جو اس مین پعپدالرن نے پیا نکیا کان ہوں نے 
کہ تکی عد نیل اہ کےا صحاب ےعا ص لکییسء برا نکو امام زضا 
علیہ السلام کے سا سے یی ںکیا تو اننہوں نے الن یں سے بہ کی 
عد یہ لکا انا رکردیا۔ا نع کے علادہ اور بہت ے واقعابت ال تو 
اس ھن کےےشوےۓ سن تا مات ذ نے ہیں“ 

شمیعوں کے ھن مع مولوی ول راریلی نے نواس بھی 
ناو اکا کہ صحاب أئہ پر لی نکا ح اص لک نا واج بجی 
نرھاء چناشیڑ اسائس اااصولی ل۴۴۰ می ں گت ہیں: 

لا نسلم أٹھم کانوا مکلفین بتحصیل القطع 
والیقین کما یظھر من سجیة أصحاب الأئمةء بل أُنھم 
کانوا مأمورین بأخذ الأحکام من الثقاۃ ومن غیرھم 
ضا مع قیام قرینة تفید الظنء کما عرفت مرارا بانحاء 
مختلفةء کیف ولو لم یکن الأمر کڈلک لزم أن یکون 
اصحاب أبی جعفر والصادق الذین أخذ یونس کتبھم 
رسمع أحادیٹھم مثلا ھالکین مستوجبین النارء وھکذا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


نف دا زی بت ےش ک یں جا ےپ دنن 


)١(‏ علا ۓ شیع سے بیجھی صاف رت ےکا نشھلی رداتو لا ہمار یکا وں سے کال دیا جانا ثابت 
عق عہید 
یں ہوا( رنجو:ثزؿالقال ۴ص:۴)عد 


خال میم اضیعاتباقائیۃ لئ الا ڈنو کے -- 
کئیر من المسائل الجزئیة الفرعیةء کما یظھر أیضا من 
کتاب العدة وغیرہ وقد عرفتہء ولم یکن اأحد منھم 
قَاطھا لما یرویه الآخر فی متمسکہ؛ کما یظھر أیضا من 
کتاب العدة وغیرہء ولنذ کر فی ھذا المقام روایة رواھا 
محمد بن یعقوب الکلینی فی الکافی فانھا مفیدة لما 
نحن بصددہ ونرجو من اللہ ان یطمئن بھا قلوب 
المؤمنین ینحصل لھم الجزم بحقیة ما ذکرنا فقول: 
قال ثقة الاسلام فی الکافی: علی ابن ابراھیم عن 
السریٔ بن الربیع قال: لم یکن ابن أبی عمیر یعدل 
بھشام بن الحکم شینا وکان لا یغبّ اتیانہء ٹم انقطع 
عنىےۂ وخالفےهء وکان سبب ذڈلک ان أہامالکگ 
الحضرمی کان اأحد رجال ھشام وقع بینه وبین ابن 
بی عمیر ملاحاۃ فی شیء من الإمامةء قال ابن أبی 
عمیر: الدنیا کلھا للامام علیٰ جھة الملک وانه أولی 
بھا من الذین ھی فی أیدیھمء وقال أبو مالک: لیس 
کڈلک اأملاک التاس لھم الا ما حکم اللہ بہ للامام 
الفیء والخمس والمغدم فڈلک لە. وڈلک أیضا قد 
بین الله للامام ان یضعہ ‏ وکیف یصنع بہء فتراضیا بھشام 
بن الحکم وصارا اليهء فحکم هشام لأبی مالک علی 
ابن بی عمیر؛ فغضب ابن ابی عمیر وھجر ھشاما بعد 
ڈلک. فانظروا یا أولی الألباب واعتبروا یا أولی 
الأبصارء فان ھطٰذہ الأشخاص الثلاثة کلھم کاہوا من 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


ٹقات أصحابناء و کانوا من أصحاب الصادق والکاظم 
والرضا علیھم السلامء کیف وقع النزاع بینھم حتی 
رقعت المھاجرۃ فیما بینھم مع کونھم متمکنین من 
تحصیل العلم والیقین عن جناب الأئمة.“ 
(ا اک ااصول ص:٣٣٣)‏ 
:ان پھرن مازت ےاک یاضصحا پآ لا زم الہ 
ین عاص٥‏ لکر میں ء چنا یم کی تر وش سے ہہ بات ظاہرہوٹی ے 
لہ اصحاب أئ کم تھا کہ أ کم وین مر اور خی مع ہرم کے 
لوگوں سے اع سک را اک ریںء رط کوک ی ریب مڈی طحق مموجود ہو 
جع اکہ ہار اخ مکنن فطل بیتوں سے معلوم ہو چکا سے او راگ ایا 
یہو لا ز مآ گگاکہ امام جار اود امام صادقی کے ا صحاب یج نکی 
نو نک ایی ےل ےسا اکن عد یو لکوسناء لاک ہو نے 
وانےاور تعن دو ہوں اود یہی حا تام ا حا بات کا ہوگا: 
کیڑئہ وببہت سے ممائل جنز یف رعیہ یں باب لف تہ چنا نہ 
کاب العدۃ و بے ظا ہرے۔اورقم ا سکومعلو مک گے ہواو ران 
ٹیس ےکوی اس ا نے نال کی واج تک یتیب کرت 7- 
ک کاب العدۃ رہ سے نظاہرے۔ اور بھم اس مقام پر ایک 
روای ٹکو ؤکرکرتے ہیں جٹ سکیٹ بن تقد بکھینی ن ےکا یس کر 
کیا دودروایت ہما رۓمحصود کے لج مفیدر ہے او رہم الد سے 
أغی کت ہی یگ این رذایت ستتے ابلاغ والوں کے قلو یکو 
ینان حاصل ہوگاء اور جو ھجم نے با نکیا اس کےتقن ہو نے ےکا 


)۱( اٹ ححفرت ! و شکی اتی کی رعولی ارڈیص٥لی‏ ارڈ لی وسلم کےا صحابے دوزگی ہو لئ تو باھرو 


ساد قلڈارش +ن.۔؟ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


یا نکیا ٦ئ‏ بن ابرا نیم ے شرع جن رت سے روا٢‏ 
ہے دہ کے ٹہ نکہ:ابن ال یگیرہ ہشام و اع مکی بہت ع زم تر تے 
یہ ای کے زوا نی یکو کت ےہ اور بلا ناغماان کے با ںآ مد ہ 
970 9 کس رت 
ہو لئے ۔اوراں کا سبب یہ وا الما 0701 جو ہشام کےراوبوں 
شون ری نیس یں ان کے اور ان ا امیر کے درمیا نع مت 
امت کے علق بے نت ہوگئی ۔ ابن ال یگ رککتے ےک ہو اسب 
کی سب اما مکی ملک سے اود اما مکوقمام اشیاء بیس تصر فکاعن ان 
لوکوں سے زیادہ سے جنلن کے قیضے میس وہ اشیاء ہیں .ابو ما لیک کت 
ےک : لوگو ںکی اعلاک بیس لوگو ںکی ہیں: اما مکوصرف اسی رر 
گا جوازند نے مقر رکیا سے مڑنی أئے اورک اورنلیمت ء اود اس 
س ےکی بھی ال تما کو تنادیا ےک کہا ںکہاں ضر فکرنا 
جایے؟ اور سر خر فکرنا جا ہے ؟ آخران دونوں نے ہشام 
نع کوچ نایا اور دونوں اع کے پاس گے ء بششام نے (اہپیۓ 
شاگ رد )ابو ما لیک کے موا فی اود ائن ال یمر کےخلاف فیص کیا ء اس 
راہن ال یگ رکوغص ہآ میا ءاوراس کے بععدرانہوں نے ہشام سے مخ 
ےک جن آزے صاخا نل یھو اور اے صاحالن 
ابر تعہرت حاصص لکروار و ں اشنا جوارےیمتت راصحاب میں 
سے ہیں ء اود امام صادہ اما مکاشم اور امام رضا کے اپ کین 
سے ہیں ء ان ٹیس ہا جع مس رح بھکھڑا ہواء بیہا ں ت ککہ باب نع 
لی ہوگیاء یاد جو دبہ ا نکوق رت عاص لع یکہ ناب آجمہ سے 
(اپنی مزا عکافیص کر اکر )عم ولیقین ح وص لکر لیت _' 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


٠٠٠:24 

ان دوڈوں عمپارنوں کے چندقا یل کر رٹوان تب یں ہیں : 

فا:...احاب آ7 > پاوچوہ ثدرت و و لن 
حاص٥‏ لک رن ےکا فرفس شہہہون یک امیا بات ےک فا لان ھ هب شبعہ 
کے خاخبات میس بہت عز کی نظ سے دنکھی جات ےکی کیا کوئی 
شع صاخب ان ںاکول وحہ چا سج يک باوجودئدررت کیم ۹ 
یی نکا خاصس لک نا ان پ ہکیوں فرلدتھا..؟ 

نل یر ےلشوعو ںکو بڑئی مشیکل بی درچیشی ےک اکر 
اصواب اہ مریعلم ولیقن حاص لکرن ےکوفرشض ککیتے ہیں نے ان سے 
پابھی اخطا فا تکاکیا جواب دیں؟ امام زندو مو جود ہیں ء لوگو ںکی 
آ عددرفت الن کے پا اری سے ہگر ان کے اصحاب مسائکی وینیہ 
یں لڑتے بھلڑتے ہیں مو ہت ترک کلام وسلا مک ک؟ ای سےککوکی 
امام سے اک راس مت ےکا یی سکمراجاء بللنہ اما مکوکچھوڑکمامرے 
یرے جے وا جات می لاپارا ایی مضیقل ےت کمن ےنا 
کہ بین یق مکی کچو یک یا گی اک ہا صحاب امم میعلم وئیشین حاصل 
رن ےکی فرضیت بی سے اکا رکرد با جا ئے۔ 

ف::...آنممہ کے اصحاب بلاواسطہ امام سے علومم حاصصل 
زکرتے تھے بلل نت فیرشت جوکو بھی ا نکویل جا جاء اس ےآ کا م 
وین یھ لن تےء اوران کے لئ ا سکع بھی تھھا۔ ۱ 

یبا تفم رقرت انی ےکہ امام توم زند دموجود 
ہیں ء لوک الع سے اصتتفادہکمر سک ہیں ہگ را اب !مام ال طرف 
زغ بھی لک۷رتے ء اور ہر فا دفا جھ سے چو یسل جا تا سے بلم 
وین حاص٥‏ لکر لیے ہیں کیا رسول الٹیکی اد علیہ لم کےا صحاب 
مس بھی کوٹ شیبعہ ای مثال دوکھا کا ےک انہوں نے باوجود 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


سمخوس یھ فلت 


ت 
|0۱ 


ڈررسٹ کےزمول خداصلی اول ھا ٤ل‏ رکوچو کی اور عم دن 
اص٥‏ لکیا ہو ءاوردویی ذاست واج ے؟ ْ 

شی ایا کے نوز ہیں ہکم ایا نی ں تو اصحیا بآ 
کے پا بھی ا خلا کا کیا جواب وے کے ہیس ؟ اگ راضیاب اج 
کے کھج عو کا ا ا ا جار چا 
ہکا و کی زندگی بی میں ان بیس پا جم ال ڈرر رید او رر 
اشنا فکیوں تھ.. 0 
ۓ۳: 0 

اصحاب ات میس بابملڑائی ہوئی تی اورخوب +وٰ” ( 
اوران کی اض مات پرہدلشداورآخری فدت یہا کن 
پچ یھ یک ہق مع رکے لآ یں میس سلام ولا ترک وچ تھاء 
ین ٹین ومانو ںکی صحبت سے مشرف ہہودتے اور اس خز گی من ےکا 
تصفیہ نہ ہوت تھاء ہآ بی مم سک ہو یت تر سب بت ہوتا تھا 
لال عبرت بات بی ےک شحبعدانلڑ نے والوں میں سے ہرفخ لی یکو 
نایدا مات ہیں کی ای کی طرف ہوک رڈ وص ےو ہیں کت : 
تخلاف اس کے رسول خداسکی علیہ مم کےا صحا برا میس گر 
جم ا مک یکوکی بات ھ٭ کی ےو اس موںی یشیہوں نے با تکا 
شک یانے یس ای سمارگی طاق تش۳ مردگی ے اور ایک ش رگ یکا 
رق را زجع وو کو جم اھ اکنا ۶ پا ات ضروری ٹراردیا ہسے۔ 
کے ہی ںک بئان بات ےک یکو ین دوٹوں لڑنے والوں سے 
من رکا کے یہاں سے صا ف نظ رآنا ‏ ے کیو ںکی نظ میں 
ا اض ہا زا2 بحب تک لو عمنت سے مگھررسو لکی صحبی کیا یھ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٥٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


بھی عمز تکیش کیا !یمان اکا نام ے..*؟ 
7ج٦17‏ 

ستفف رارقہ! مولوبی ولمداریلی اپٹی الف رہ می فرماتے ہیں 
ق نے کر چرم ولیقی نکا اص لکر نا فرٹ٦ں‏ خر ارد مل نو لاز مآ ت گا کہ 
امام باشرو امام صادی کےا صحاب تارکاراوردوزگی 7 
تقر سےمعلوم ہوا ےک میہوں کے نز دیک امام با ھر و امام صادنی 
کےا صا بکادوزیی ہونا ایم ام مال ے سیر مم سکوفخ بھی 
نی یک جک رگ رت[ از بن جزمفحع لی فی ارڈ جا وعللم کے 
ا اب کادوزتی ہون ما لک می ۴ سن عدیچگیکیں بل ضر ور اور 
ہابت ضمرورکی ے۔اے ال اسلام !نمداکے لے ا نصا فک وک کیا 
یمان و اسلا مکا تاضا می سے؟ مقام عبہرت ےک یلم وین کے 
خعیل گے پاوجودثد رت ےی یو کی زا یئل بات 
ےم سکا تبیہ ہا تک بنا ےکآ تم ہکا وجودىی عبت اور ببکار 
ہوجاۓ ؛گمرشیتوں نے اپتے خحاند سا امہ کے اُصسحاب کے دوزی 
ان لین کے متا بے مس اس خلافجل با تک سط رح قجو لک رکیا 


ے؟فَاغقبرُوْا یا اُولی الأَبضار...!ٴ“ 


سسسسسسسسسس-صمستیعمصٌکبسک>ی٭“پاک”ُے_سجوسسسسسسسسیدعدک-ص-۰-ےیصجتدسسسسسموصحص-ص مٔچس٘سجسسسکصجوسصسصٔجدبدسأسیسیصدح-۔-ه-->ں-طلظکىدکۓکٗککککطکعکک۰'ا9۱-ادَ.۱ع×ع(کعزكکصص.×..۱کک ز0 0کس .<.ص.ص._صصص-صحص---ص-حص‫:_جٰٔ.-...س---ے-۔٣ی_‏ .سس 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٣٢٥٢٥٢١٠٢۹۰۷۷۷۵۸۲۹م۴‎ ۰(۷ 


سا کرام رضوان ایہم 


صحا ہکرام رضوان اڈ شیہم کے بارے می سآ ناب نے دو کور ماکی ےء 
کی ۰ہ آپ نے مر ےکہیدری کات پر بج کر تے ہو ئے” ا تار صحا ےق دکی ےہ 
اورؤ وص کی ما 2ھ ود وروی ےآ مجح کات کر گے ہیں۔ 
اس لئ اس جا بکودوتسوں پ نشی کرت وزئء نے مه جس انپا متخا کے پار نے مین 
جا بک حقیرا تکا چا ئزولو ںگا۔اورڈوسرے ےی لآب کےآ جم پکائی نظریات >4 
رکرو ںگاءاللٴالْمْرَفَڈا ۱ 


سسسےدسسسسسسسسسسسمسجج‌ٗو٘ٛجسدجکجڑ کل ےکَٛسسسٔکًەسػدژصسسحٌٌٗٗسصسص--ص--صس-ہےا×ئکجتھت ةص“ك-كُخژ00ھتھصسص-سسسصححع-صح- ص-صحصھےحچ--صت--ت.ح-سضیپسسب۱بدصذزےے۔۔۔سس۔س-۔-ٔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢۴۹. ۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


اث 


پا ا ھا ایدو 0 ش0 رھ رم 
گککھعھ.و....ٔلگ گ__سس.:2 و‫ اح(" 222-22 .سس جرگ کک _۔>'۔ک٥ک.ش,ش*ش‫ػ_حسوووو‪‪٘ے‫_ے.-۔-۔۔-مصص>-صحصصصجتتتحصسدوحدہیچ‌-‏ جژۓۓے٭(ز ڑگ ژ ‏ سھجڑے_۱ٔ 


بش ائڈل: اتبا ریا اب 


ری یا تکاخلاصہ: 
”اختلاف امت اور ضرا یج کی تخچید یش اس ناککارہ نے مسمائل کے 
سوالا تکا جواب دیے سے پیل بیضرورٹ یکچ اک یڑ ١ص‏ اتی م'' نیس ین کروی 
جہاۓ ءال مقصمد کے لج بیس نے ای کآ یت شر یقادر چچند !رش دات نیو ہہ سے اتد لال 
کھرتے ہد ئئے ال نکی دی میس سا ت کا لی متاخ ہکیاءج٘ سکا خلا صہ بر تھا: 
خدا نال ینتک کی ےکا حریک راست دی ے جآ حضرت 
صلی اللد علیہ وملم نے بای ینس برصھا بک راخ اور خلا ۓ راشد بن 
لے او دجن سکی ردٹی پیش عاف اشن اور أولیاۓ أع رب کرتے 
آائے۔ الی ایک راتا کے ص وا ءائی سب حیظااع کے ابیخیاد سے 
پا نےازاتت یں ج ول نع یس می از ےکی کت در 
یں+ دہ شیطان کے اینٹ پگ مم شحیطان ہیں ۔ جس خدا تال 
کے مقر کرد ع رای ۱ن مکوچھو کر ان یڈنر ہیں 2 پڑ ےگا 
اسےمعلوم ہونا جا ۓےکہو ہی اندعیرے ار می۲ لی انڑد سے کے 
نشم جا گا ایکقی ددقیصححراییںل پیل کک کی بھیٹرٹ ےکا تر نو الہ 
زگرہ جا ےگا..ٴ (ضص:۱۸ ضراڈل) 
آ ناب اس نا کارہ کےکمہہیری کات پت رہکر تے ہوم فر مات ہیں 
”علماۓ ائل سنت کے نز دیک ارام صصھا ین و ضروری 
ہے“ نا نکی خطاوں کے یش نظ راو رگناہہوں گی ماداش ہیں رود 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۸۷۵۱۸۲۹6۴ ۷ 


3 4س 


ہہو نے کے باعثء نیز اپتنے اہجتتادات یل متفاوت ہو نے ہے 

پاخعث من جیٹ القوم ا نکی جا کاحد مطل نہیں دیا جا سکتا۔ 

امام اب نتم نے اپ یناب الا جا م جلد :ا ”اصحابی 

کالہ جوم“ کاخ مس ج با خ ابھی ہیں ہپ ینان سے 

۳۷23 

منرما! حافط ار نٹ مکی ان عبارا کال لی رصھا لی سے سے ے ‏ کہ 
اس نا کارہ کےےتھہ یرک کات می لتقلیدیسھال یکا متلہزیہ بج ٹ کی بلم جو زی تورسے وہ 
ہ ےک نظ یائی اختلاف کے طوفان بلا میں برا لطعم مکی ین شی کی ےکی جا نے ؟ 
اس نا کارہ ن لہ بالا یت داعاد بی ٹکی دوشنی میں صراطے لی کی وو چخیش اجوپ 
نل ر0 ہویں۔ اس می کسی صحال یک یتقلی رکا متلہ.. بجی اک واج و کہ واج 
پٹ ب کی ںآ یا۔ جس صورت مم سکہحافظ این ھا مکی احما نت شی سیق لک ن ےکی 
آپ نے زعح تفر مالی ہے میرے زیر نٹ مکل ےم تلق د یی سو خی تلق عہارقا ںکو 
تح لک ر کے می ںنییں بھ تاپ نے اس ناککاذہ کیا قیرف مائی اود ال کا لکش یکی 
اصلاب ربا ئی..؟ 
حعافظ ان مز او رع ای سم : 

آپ انا رن نک جوعضتل اس نانفارہ ز نز ےم لغ ا تیم 
کیا ے؟ اوراس پر لے وانے ایل و کون ہیں؟ اس مکل یس حافظط اہن :نم مھرے 
خالف کیہ پلک می رےچ فو اہیںء چنا جرد ہا یَتّاب"الفصل فی الملل والأھواء 
والنحل“ مس لیت ہیں: 

”وأھل السّنة الذین نذکرھم أھل الحق ومن 
عداھم فأھل البدعةء فانھم الصحابة رضی الله عنھمء 
وکل من سلک نھجھم من خیار التابعین رحمة الله 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٢٥٢٣۹ ۰۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


ع۳۷ یم کیا 


علیھےم:؛ ٹم أاصحاب الحدیث پوت اتبعھم من الفقیاء - 
جیلا فجیلا الیٰ یومنا ھهٰذا ومن اقتدی بھم من العوام فی 
شرق الأرض وغربھا رحمة الله علیھم.“ 
( تاب افحل نخ:٣‏ ضص:١٢)‏ 
تر جہ:..''اورائل اٹ جن نکو ہم یا نکر سس گےء وی 
ای ہیں اوران کے سوا نے ہیں سب ابی بدرحعت ہیں۔ چنانچہ 
لق دحا کرام بن لڈم می اوران کاعنِ قزم پ پلے 
وا ل ےتا پنیا نکمرام رم اڈ ہم میں ء را ص٢حاب‏ حد یث اوران کے 
شی نا ہیں جو عطبقہ دد طیقہ ہمارے ز مان ےکک پچ ہیں اور 
مشرق ومغرب کے وہکوام جضھوں نے ا نجرا کی اق او پبردگی 
1وب ا0 
آپ عافظ ائ نت مکی اس عبار تکو اس نا کا ہکی مندررجہ پالا عمپارت سے اکر 
پڑگعیسں آ پکودونوں کے درمیائ نکوکی ٹم 20 گا اشک 
”وف نیگردبیدرراۓ پوگی با را ےن !' 
رای صن مات کا راستہ ۓ؛اس کے مت یرد انل 
فرش اص لنشگو 2 اس می یع یکرص را ینیم دو ہے جو تحضر تتی٥لی‏ الد علیہ سلم 
نے ایا اودہنس برتعرات صا یفاعم ءادرائنع کے بح دضرات اکا برا مع ؛ امم لد ین 
اور ا ولا ۓ امت طبقہ در لبق انل رگا رن ر ہے ۔ اس مک کے وت میں جوآ یت اور 
احادیث اپ رسما لے ا ختلاف مت اورص ایی م' مین لکر ہکا ہوں+ ایک منصف 
کے لے دہ چھ یکاٹی وشائی ہیں۔ تا ہم جناب کے ہبی اظھینان کے لئے چندآیات و 
اعاد بی ٹم یہی لک رتا ول : 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳۱٥٢۱٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


020-0 ا ے وچ ہے جد کے سے ری . ۹ 
تن تھا لی شا نے سور فا جم ٹیس پیییں صرا ”مم مکی ہدرابیت ماگ کی لیر فر مکی 


ہے:' دنا الراط المستقیم او صراط عم کی مین و خی کے لف ایا: 


عَلَيْهِمْ وَلّا الضَالَیْنَ“ (الماتے) 
تجمہ:..'راوان لوگو ںکی :جن پٹ نل فر ابا کن پہ 

شرت اص وااورٹ و گرا ہے _“ )تج تم النر) 

اورسورۃ النساءآ یت :۹۹ یں (ا نع جعظرات کے ین بہ انام ہوا )چا رکرو کر 


6 و ری شڈ ہے . 
فرماۓ ہیں :مین ؛صد یقن بشہداءادرصا ین ؛ چنا نرارشادے: 


وَمَنْ بُطع الل وَالرسُوُل فَأَولیُک مَع الَدِينَ 
وَالضْلِجیْنَ وَحسُی أأولَکَ رَفِيْقا. ذلِک الْفَضلُ مِنْ ال 
وُکفی بالل عَلِيْمًا“ (نء:۰,۹۹ے) 

تر چھہ:.. اور وو یحم مانے الل کا اورائسں کے رو یکاء 
سودہان کے سا تھ ہیں مین راد نے انا میا ہبی اورصد گی اور 
شمیراورئیک بت ہیں اوراھی ہے ا نکی رفاقت ء یل سے الد 
گی رف سے اوراکائی ہے جانۓ ولاک (زج شابنر) 
معلوم ہوا کہ ہہ چا رگردہ بارگاد لی کے افعام یافت ہیںہ اور ا ن کا راسن 


صا یتم ےہ جن سکی درخراست مورٗ ات می سک یگئی سے۔ ۱ ات ٢ھا‏ ہکرام نمی 
یں :لکن لنشین :ش اہم و رصان کا لان صراق مہیں۔ اس سمضسلے میں درع ڈگل 
اعاد بیث لا نف ماۓ : 


”'وعن انس بن مالک رضی اللہ عنه ان رسول 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


الله صلى اللہ عليه وسلم صعد احذاء وأبوبکر وعمر 
1 


برجلهء فانما علیک نبی وصدیق وشھیدان۔“ 
(بفارکیءالودا ود تر می) 

ہے -ضورے اس گی اس رزاع تارۓ ۴- 
کہ: (ایک ریہ نہ یکر ممصلی ارڈ علیہ یلم ؛تشرت اوبکڑ: حضرت 
عرڑاورتخرت عنثاع (ھ ین کے شور پہاڑ) أحد پر چڑ ھھےلو وہ نے 
گا ءآحضرتت صلی اللہ علی و لم نے اپنا ا وش مپارگ انس پر مارا اور 
7 0 
دشہیر ہیں“ 

”وعن أہی صریرۃ رضی اللہ عنه ان رسول اللہ 
صلی الل عليه وسلم کان علی جبل حراء فتحرک 
فقال رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم: اسکن حراء فما 
علیک الا نبی أو صدیق أو شھید. وعليیه النبی صلی 
الله عليه وسلم وأبوبکر وعمر وعثمان وعلی وطلحة 
والزبیر وسعد بن آبی وقاص.“ (گن“م ج۳ ص۸۴٥)‏ 

ترج.:.. اور رت الہ ریہ رشھی الد عنہ ے روایمت 
ےک ایک رئے ) ر٭ل الڑص٥‏ لی الد علیہ ولھمء حضرت اور 
مت حور مت اع تحت ای نطریت ز ہیر اور 
رت سعد بن ای دامح 7را پہاڑ کھڑڑے ےک دہ لے لگاء 
رسول اوڈصکی ادشرعلیہ لم نے فرمایا: ا ےترا عم جاءجھ برنذ صرف 
بجی ءصع لق اوش ہدش ریف فرماہیں۔“ 

آوئئن سضل ہین سمقہ رخ الََحَد ان مد 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


زعغہم بہسشففولی تلیشئمٹ 
اثبت اُحدا فما علیک ال نبی او صدیق آو شھیدان.“ 
قال الھیٹمی رواہ أبو یعلی ورجالە رجال الصحیح. 


( شع الزوائد رخ ۴ی:۵۵) 


ترجی:.. ”ا خر کل :جن سعددشی الڈدعشہ سے روداییت 
ےک( ایک دفعہ )ادف تھرانے لگا؛ اس دقت اس پررسول الڈیلی 
الد علیہ ےی ءالوبرڑ عاونا تشریف فر ما تھے ء رسو يکربیمکسکی الہ 
علیہ ولم نے فرمایا: اے أحد اعم جاء تجھ پت سیک نیا ء ایک صد بی 
اوردوش یرش ریف فر ما ہیں (امام ڈنف مات ہی ںکہ: بعد یٹ الو 
ےے روا تکی ےاوراس کےےتمام را وی بخارگی کے راویی ہیں ) 

”عن بریدة رضی اللہ عنه ان رسول اللہ صلی 
الله عليه وسلم کان جالسًا علٰی حراء ومعه أبوبکر 
وعمر وعثمان فتحرک الجبل فقال رسول اللہ صلی 
الله عليه وسلم: 0 ثبت خراءآ قانہ لیس علیک الا نبی آر 


صدیق أو شھید.“ (ہعالزوائُر رع:۹ ص:۵۵) 
7 ھیے۔ ً لد 5 پنہم 
ترج.:... نحخرت پر یید و ری الد عنرردایت ھرتے کین 


کہرسول اوڈی٥لی‏ الڈ علیہ وملم ۱7ء( پھاڑ) بتخریف فرما تاور 
پوس سے ضر کا تین 
لان گحھ ینف ریف ف رما جھےء پہاڑ لے ڈگ تو سو لک رب می ال علیہ 
لم نے فرمایا: ا ےرا ای سرات رف رو 
و 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٥٢٣ .۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


ا نآ بات واحاودیٹ سےمعلوم ہو اک صا ی یم نییوں صد بیقوں ‏ شہیروں 
سفق کے رات کا نام ہے اور یھی معلوم ہہ اک ھا ہکرا ‏ مکی مورک ماع تک 
تب عراحب مخ ال زگ رجیاع بجاعتوں ٹا ایم ہے۔اان یس ےجنس اکا بردرلققی نکی 


سم 


صعف میں شال ہیں :ینس شہداءکی جراعت کے روہ یسا٤‏ اور پا تی در رات صا ین 
کی ججاعت کے امام ہیں۔ چنا شر حطرت ابوکرصد لق یی اید عنہکا صد لی ہہوٹا اور 
رات عم وخثان ری این نما کا شبیدر ہونالئ سے عابت ہے اس ں سے شابہت ہوا کہ 
آحضرت مکی الف علیہ وم مکااو را ِک را کا راستتڑ 2ص رای شی م' سے جس سکو ما سک ےکی ہرمز 
کی ہر رکعت یی ال ایما نکولقی نک یکئی ہے۔اورپیٹھلیک وی بات ےج سک وآ خحضر بی صلی 
انعلیہ ءلم نے”ما انا عليہ واصحابی“ جیرف مایا ہے متنی 7د وط یقہ انس پریں 
ہو اوریر ےھا۔۔' 

ان دونوں آجوںل سے جہاں بے ات ہوا آخحضررت صلی ا علیہ عم اور 
ترات صا ہرگ رام مہم ال رضموا نک راستہ __''ھا آنا عليہ وا حا _٦‏ ضرا مم 2 
دہاں دوفانرے اوریگی عا می ہو ےئ 

اڈ ل::.. کی مسلما نک نماز جوا العادات ے جن یں ہوگی 
ج بت کک دونمایت ا غلائس وضتوح اورغا بی تمحبت کے سرا تح نع رات ھا .کرام دص الد 
تم کےراتت پر می ےکی و عانہ ما کے ہامدل دا اکہائلطت ”الَذِیْنْ انْعَنْتٗ عَلَيْه “کی 
را دب لن ےکی ھا ما گے ہیں ۔ 

دوم:... کہ الیل تا یک اوداس کے رسول می اللہ علیہ وس مکی اطاحح تکر نے 
وو ںکوقیامت می ”لن ام ال لغ “کی رفاقت دمعی تک خ رکید یکئی ے؛ 
اوراس رفاقت ومعیت پر "خسن او یک رَفیقا “ام رن شب تکاگئی ےءونائمرا 
کہا خ خر یکا مصدا بھی ال سنت ہیں ء جوا ن تضرات سےمنقیرت وحبت رکھتے ہیں 
اوراا نکی یت درفاشت کےیتعمو لگ تق تقالی شا نے لھا تی کرت ین 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ال یو شرع اڑا زئی نار غلی ڑآ 
وَمَيِ انبَعَبی وَسُبْحنَ اللِوَمَا آنَا مِنَ الْمُضرِكِيْنَ.“ 
( پسف:۱۰۸) 
لا وا ا راہ سے پلاتا ہیں الل کی 
طر فبجھ بو ھکر ٹیل اور جومیرے سا تجھ میں ہاو راید باک سے اور 
یں میں ش ریگ بزانے والوں میں“ 
اس کے سا تق ح درخ ڈگ لآ بیتشرین یھی سا ججئ: 
”ؤکذلک اوْحَیْنا الَیْک رُوْحْا مَنْ امُرِاما 
كت تَذرِیٔ مَا الکتبٔ وَلا الإیْمَان وَالٰكِنْ جَعلََاهنُورَا 
ُهدِیٰ بم مَنْ نما مِنْ عِبَادِنا وَانک لَتَهْدِی ای صِرَاط 
مُْتَقِیُٔم صرَاط اللہ الَّذِیٔ لَه مَا فی السَُملوتِ وَمَا فٰی 
الازٴض الا لی اللہ تصِیْر الَأمُور “ (اشورییٰ:۵۲٥۵)‏ 
ترجم:..” اوراسی رح بججیچا ہھم نے تی طرف ایک 
رشن اتی طرف سے :لو نہ جات تھا کیا ےکتتاب اود !یمان ء ومن 
جم نے ھی سے ید دی اس سے راہ بکھادے ہیں جم سکو جاہیں 
اۓ ہتروں میں ء اور نے شی کپ لو بھا تا ہے مس یلیگ راہ راہ الڈ گی ء 
ایک ے جو یھ ےآ سمانوں بیس اورز مین ٹیس +سنتنا سے !ادا یک 
کے ہیں سبکام۔' 
بی آیت سےمعلوم ہوا یآ تحضر رت صلی اور علیہ سم اورپ کمن دای لی 
الشرتےءاورزوسربیآیت سےمعلوم ہوا آتخض رت مصلی او علی مل ”صا ی ٹیم کے دای 
تھے کی مرا ط ار( اش کا رات ے اور یآ تحضرت صلی ا رعلی ول مکا راس ے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ .ٌ50610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


رولو ںآ ّوں سے عابت ہو اک ہآ تحضر ت صلی ارڈ علیہ ےسلم رجا 


صلی اش علی 


بھی تھے۔ 


یسر یآ 


ہگا۔ 


ْخْمَ پھر الّذِیْنَ جا اڑِذَاءُ عَلَى 
ال٥فارِرُحَمَاء‏ بَينَهُمتَرَاهُمْ رُكهَا سُجذا بََقوَْ فص 
من اللوَرِضواناء سِیْمَاھُمْ فی وَجُوْهِهِمْ مَنْ اَئَر السُجُوُدِ 
ڈلک مَفْلهُمْ فی اشَوْرة رَمَملْهُمْ فی الَانْجِیْلِء کَزَرُع 
رخ هَطََة وه ملظ اتی علی سُقہ ُمَجبُ 
الرْراغ لیَغیْظ بھم الْکفَارَء وَعَد الله الّذِیْنَ امَنوَا وَعَمِلوا 


ھ 


الضْلِحتِ مِنهُمْمُعفرَ زََجْرا یما“ (۱ن::) 

تر ...”دہ الد کے رسول ہیں ء اور جو لو کپ کے 
حبت یافتۃ ہیں دہ کا٠روں‏ کے مقاٹلے بیس می ہیں او رآ یں یں 
مہرباغ یں ءا ےخاطب !نذا نکود سک ےکا 277 اکررہ ہیںء 
ممگی مج دہکرر ہے ہیں ءانڈدتناٹی سکنل اودرضا مندیکی وش 
گے ہیںء ان کےا ار بہت شی بدہ کے انع کے چروں ب نمایاں 
!ںہ ماع کے اوصاف لور یت مل ہیں اور پیل ان کا ہے 
وصف ےک ہی ےکھت ء اس نے انی سوگی ای ہک ےا ی۷ 
یکیاہ روہ اورموثی ہوک ؛چھراینے تن پرسیای یی ہوک یک 
کماو ںکوبملی معلوم ہو ن گی کہ ال سے کافرو ںکوجلاوے: 
انتا ی نے ان صاجہوں سے جکہابیمان لا ئۓ ہیں او تی ککاممکر 
رے ہیں مخفرت اور ج نی مکاوعد وک ررکھاے 


۱۷۷۷۷۷۷ .5610۲١۱۷۳۳۱۱١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


وعلم ےی ے )دہ تصرف صرا تیم بقانم تہ بل صرا یئم کے دای 


جع حتاح 8ه2-<8ہہ-..<88ہ.<ر ُ 


”'قال علی بن ابراھیم القمی فی تفسیرہ: 
وحدثنی أبی عن ابن ابی عمیر عن حماد عن حریز عن 
بی عبداللہ قال: ھٰذہ الآیة (یعنی آیة البقرق:٦)‏ ”ان 
لذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَاه عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهمْ ام لم تَدِرْهُمْلا 
بُوِنُوُنَ“ نزلت فی الیھود والنصاریٰ یقول اللہ تبارک 
وتعالی: ”الین اتَیْْهُمْ الکتبَ ز(یعنی التوارۃ والانجیل) 
يَعْرِفَوْنَهُ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم) کَمَا 
يَعُرقُوْنَ ابا ءَشُمْ“ لأن اللہ عرٌ وجل قد أنزل علیھم فی 
الصورادة والرٌبور والانجیل صفة محمد صلی اللہ عليه 
وسلم وصفۃة أاصحابے ومبعثٹه وھجرتہه وھو قوله: 
مْحمذ رَسُوْلْ اللِوَالْیِیْنْ مَعَه اَفِدٌاءُ عَلَی الگفار 
ّحمَاء یه ََاهمْ رْكَعَا سُجُذا يبَقوْنَ فَضلا من اللہ 
َرِضوَاناء سِیْمَاھُمْ فی وُجُوْهِهِمْ مِنْ ار السُجُوُدِ ڈلک 
َََهم فی الَورۃ َسََيع فی اَی“ دو صفۃرسول 
الله صلی اللہ عليه وسلم وأصحابہ فی التوراۃ والانجیل 
فلما بعثہ اللہ عرفه اأُھل الکتاب کما قال جل جلاله: 
لم جَانَهم ما رز کراب (خیرق ؛ ص۳۷۰م 
رج:.” مشپورشی مال بن ای ای میں 
رم طراڑ وی ںکہ: یھ سے میررے واللد نے !وا سطاجن اٹ یی بیا نکیا 
اورانہوں نے ماد ے اورحماد نے ہوا۔ یہ7 : ابوعبراڈشجفرے 
روا گیاء بوفراےج لہ ےآ یت (متمی سور) اق رہ کی آیت:٦‏ 
پ کا رھ ہے :لے لیک جولو ککافر ہو گے برا بر سے ال کول 
ار اض لراۓ :دہ فان ضز لاشیں گیا ) یبوددنھیارگی کے 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ازرےشان ازل ول -۔ ال تمارک ونتھالی ف رما ہے: ہن لوگو ںکو 


بھم تن ےکنساب دی ل ہل نورات و ا ا ا رعول ال 
صل اولدعلیہ 2ع مکو )اس رع پان ہیں جیسے ای او لا دکو ات 
ہے“ یدنگ الڈ غ۶ وہل نے ورا2ءاور اور یل یس مک الد 
علیہ ویلم او رآپ کےا صا بک صفات اورپ مکی الف علیہ ول مکی 
جا ۓ بعشت اورجا ۓ اور تکونا ز ل فر مادیا تھاءاوروہ(صفات بے ) 
ہیں:”حابل کے سو ہیں اور وو کآپ کےعحبت یافت ہیں دہ 
کاٹروں کے ما بے میں تج ہیں او رآ بیس شی ھہربان ہیں٠‏ اے 
اب !لآ نکود یچ چھےگاک یی کو غکز نے ہین مل ی چوک رز نے 
ژن: ال تھالی سن آوزر شا من کی کی ہجو یں گے بین :اع کے 
آغار بوجہتا شی دہ کے ان کے چہروں پرنمایاں ہیں۱ ران کے 
اوصاگ ریت ٹل ہیں اود کیل میں ال کا ب اف ےک ہیس 
تھی ء اس نے ابی سوکی ڈکالی ء بی راس نے اس ںکوو ب یکییاء روہ اور 
موی ہوئیء لیے تن پرسلی یکھڑیی ہوگئ یک ہکسمانو ں کول معلوم 
ہو ےکی اکلہ الع سے فاف رذ یکو عا دہ ال نالی ے اح 
صاجبوں سے کہ !یمان لائے ہیں اود تی ک کا مک ر سے ہیں 
مخذرے او را کر وع دک ررکھا کت 

حول اوڈیلی انشدعلیہ وملم اورپ کے اصححاب کے مہ 
اوصاف ورا؟ ؛ 2 ین ان مک ونس انان جب الل: ے 
پ لی الشعلیز دع مک ہجو ٹل ماد یق ای تاب ن ےآ پکوپچیان 
یا یسا کہ بل جلال یکا فرمانع ے: پچھر جب وہ آمگیا ج٘ سکو وہ 
ات تو اس (کو مان اور پان )سے انفکارکرد یا 

یآ یت شر ینہ چندا جم تر یفانم تل ے. 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٢٥٢٥٢١٠٢۹۰۷۷۷۵۸۲۹6۴6 7۷ 


اڈل: 40م۰.۸م "محمد رسُول الل' اک گی ء اوران کے 
حبوت میں ' وَالَِیْنْ مع کوبطورردٗیل ذک رک یا لیے .انس سے شا ہت ا کیرات حا۔ 
کرام رصی ایت مکواریڈد دای نے حضررزتلی اڈ رعلیہ وس مکی رسس لت دنت و و ۴ 
ور بر یی نکیا ہے اورا گواہو ںکی تعد یل وفو شف مکی ےہ لپ وش انح شرات 
بج رب ۱۱ر زی ٹل ام ری ات رز زا جا ے بلکش ھن 
کر کے دو ےک یکذ یو بسکمرتا ہے۔ 

وؤم: .برا ت٢ا‏ گرا نی الڈ عو ”و الْذِيْن مع“ کے نوانع ے کر 
فر اکر ان کے لئ آححضررتت صلی الد علیہ ول مکی رفافقت ومعی تکوخا بت فر میا لیے 
چی تن ےلیو و ملا تفر رہز ننلحی دی ےم اس لئ جن اکب کے 
لئے آحضرت صلی اول علیہ وع مکی رفاقت دمعیت بن ق ران حاصل ہے٤‏ ال ننککا صعراطا 
لم نا یھی و ار رک دشیرے بات ہے۔ رہ سعادت تا خخرات 

کین ریشی اوڈک کو خیائی بھی رفا قتہ نیدی میصررجی ؛ روڈ ہمطہرہ می بھی قیام کک 

شرف رفاقت عاصل ے اور وخولی جنت کے بعدبھی اس دوام تیکبرگی ے دائمأ ُہر 
زفزائزرڈین گے 

و ...یقن ھالی شا تن ےسا کرام کے لے "الین مع“ کے نوان سے 
2720 /.: 9م"ِ‌ٰٔ ہج[ 
بھی می ایک دوات ڈ ٹیا وآ خر تکی تام دوتقوں سے بڑ یھی ٠ج‏ جاشکہراسی بر اکننناکیں 
فرما ماگیاء للہا نکی صفا تی کمالیرکول ور مر بی نفربایا:”اغْةآ٤‏ عَلّی الْکفار رُحَمَاءُ 
یق جس مس ان کےتمام لی وی ءا فلا قی وفغسا ماما تکا! حاطکرلیاگیا- 

یں یکا مع دم خداوندکی ہیںءادر وی ان کےکمامات سے رطب مان 
7 ان اکا بر کے نف ومطاعن تلاش کرجا سذ یو ںکہنا یا گے 


کاے اشتعا ی ے اخلاف ے۔ 
مار :... ںی ارشادفرمای کان ا اکر مدع دتائشی مرف تر 00 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۷۳۳٠۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲6۴ ۷ 


میس کیںء اق ا27 7 بھی ا نکی اع دا رق اع ان شر مائ یکا ئ: 
”ذلک مَفلهمْ فی اسَوْرة َمَفلهُمْ فی الإلْجیْلِ“ گ یاان جاں شا را گر( صیاالل 
علیہ ؤملم) کے نا مکا ڈ ڑکا نا ٹس پیش بنا رپا ےء امیا سا شی نلم السلام ان سے 
کمالات ےآ گاہ دممترف ر سے ہیں ء اور أعم سابق ھی ان کے اوصاف مد وکا یکا 
کر وک کے اپنے ان کات وکر تی ری ہیں۔ 

یم :.. بھی بیالن ف ماک عفر تشد رسول اوڈیصلی الطعلیہ وی مکی خوت کے 
موا ہوں اورپ کے جاں شاروں سے اگ رک یکوغیظاادرجلا یا وکنا نے صر فکافرو ںکو۔ 
اوراؤلتھالیٰ نے مجرسول ارڈ یصکی ارشرعلیہ یلم کےسھا ریش ارڈ مکواسی مقصد کے لئے انیہا 
کال :نایا ہے کال تال ان کے ذ ری ےکافروں اور بے ایمافو ںکوخیطا ینف ک یگ 
یش بمیش جلاتار ہے :”ضط بہغ لھا“ گویاق رآن نے حعفرات سا گرا شمکی مرح ہ 
ستائ پر کتنفاننیش فرمایاء بللہان اکابر ےکی وٹشخش رک وللوں کے میں' کف کا 
کی“ بھی صادرڈربادیاءکیونک٘ ننس کے ول می حعفریتھرسول ان ٥ی‏ ال علیہ سلم 
گیا رای خح بت جو اود ہنی ادڈی سے ال ان ے پبزددزود ای سے لکن با 
نی ںرحعفرت مل ارٹرعلی ےلم کے الع ہاںتاروں 0 0 ۶ 9 
سانش اتال نے فربائی ےج نکی مظمت وشان انی ےگزشتۃ مہم السلام )"تک 
ے بیا نر 2 ے٤‏ اور جوا ام سابقہ کےبھی محدو یوب ر ہے ہیں۔ 

عمم.. خی اانجفرات کے یمان لپ صا ری کی با ران سے مخظرت 
اور لی مکا وع وف مایا ےہ مان اکا بر کے تن عای کے سا ان کےسسن ما لکاءآغاز 
کےسا تج الع کے انا مکاء ال نکی' ”الا جلی کے ساتمھ ال نکی' ال خر وکا اوران بر عنانات 
ر اٹی کے نھلا ےکا ذکرفر مایا ےقطُوبلی لَهُمْ تم وی لَهُمْ...! 

ان جیرثکات میس سے ہرک نعل طور پر پاداز بلند گار ہا ےک رات صا ہہ 
7 تم صا تیم بر تھے اورک صرف اٹھ یکا راس رای تفم کہا ن ےکا 
تم سے میس پ بعد کےلوکو ںکو چلنا جا ہے ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷۳٥٢٥٢٠۴۹۰ ۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


”وَاغلَمُوْآ اي فِيکُم رَسُوْل الللَز بُطيْمكُمْ فی 
ٹر مَْالَائر لَعَيتُمْ ولک اللعَبٔب الَيكُمْایمَانَ 
َربْه فیْ فُلوْبُِم وَكَوٰه الیكُمُ الْکُفْر وَاْفسْرْق 
وَالعصٰیَانَ ولیک ھُمْ الرحِدُوْنَ. فَصَلا مَىَ ال وَِعْمَةُ 
وَالُعَلَيْمْ کیم“ (انئجراتے:ے-۸) 

ترجمہ:..” اود چان لوم یش رسولل ے ال رکاء اگ وہ 
تہادگی بات مان لیا میں بب تکا موں میں تو خم پرمشکل پڈے پہ 
الد نے محبت ڈال دی تمہارے ول میں ایمان گی او رکھپادیا 
(مقو بکردیا) ا لکوتمہارے ولوں میء اورنفرت ڈال دگی 
تمہارے ول می لکف راو گناہ ناف مالی کی ء دولوک وىی ہیں تیک راہ 
انل نل سے اور اإحانع ے٤‏ اور الد سب بیجھھ جات 2 
لین 'ٗ رتف تم النر) 


ا لآبیت شجریفہ میس متحددوجوہ ےسا گرا کی فضیلت ومنقبت میا نکاگئی 


اول:...ان براس انح می مکا کر ےکہان کے درمیان رسول ال یی الد 


رر وج و سحوررول افروز ہے؛ اود دو دوا کہ رکی کہ بفت ای کی ووات ائں 
کے ساس پچ ے(أو رکآ یت ش ریفہیش ا یکو ”و الب مغ کے شی الفاظط یٹ بیان 


فرما گی تھا)۔ 
دوم:. جن تمالی شانہ نے نمصرف اان کے اما نا لکی شہادت دکی ہے بکمہ 


بی بیالن نما کہا یمان ان کے روں ٹل چان ومال اوراال وکیال ے زیاد ہجوب ے٠‏ 
اور اش یمان ے الع کے لوب ممعمور اور مور و گی ہیں ۔کفر وضسوتی اورعصیا نکی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


سید دی جوسر ود سس دک یی سے ہکن نی کہا قے 
ربا نی کے بد لودگیاں الع کے زامن ابا نکوداخغ ذارکرکیں- 

سو ...ان عظخرا تو ”ولیک مم السرْغ| ڈو“ کا زی تم غیخنایت رمیا 
گیا ءا ودرا ںکولگ: تر کے سرا تح ذک کر کے جنبیہفر مادئیگئ یک ہڑشددہداحیت اٹ ھی کےط رٹ 
تحص رہےء جوش ا نکی راہ پہ ےگا آ تندہ ہدایت ا یکوصییب ہوگی۔ 

چا :.. تیکیٹیجمحا کرام اڈ مکوآرذافٰ خربائ یی ا سکر 
لضْلائن ارزیفنة“ اھر آرو لگ / یضرا تال ٹا ےل 
خاش اور انا می مکا مور ہیں ءا نکوعاممسلمانو لپ ای نہکیاجاۓ ۔ 

یی ....'وَالل لیم کیم“ مس ا ا مکی وضاحت ےکأو ھا گرا شی 
ج سای منقیت وفضیل تکا 3ک ےہ بیرق تعالی شا نہ کےعلم حیط اورحکمت بالقہ ٹنیا ہے؛ 
جن تعالی شا کوان جطرات کے نما ہری و باضنی تمام عالات ےآ ابی سے اوراانع کے 
انی عالات دکالات کے بی ںنظررقن تھی شان ہکا رک ماد فصلرے۔ 

ق رآ نکر یل اورجھی ببت سے مقامات برا تظرات کے مرا یمم فان 
ہون ےکی طرف اشثارات وو بات ہیں منمرمیں منظمر اختسار اٹچی ارآ ات پر کت اکرتا 
ہوں بن تی شا تام ال الا مکوسما پرکرا کی عبت نحییب فرمانفیں ءان کےیتش 3مھ 
نکی یق عطافر امیس ءاورآ خرت ٹی ش۲ إحضرر صلی الع لم اور "ول کی 
رفاقت ومحی تکی دوات سے شرف فر ای - 

”ادعاآزکنع ۱ و از بحملہ جا ںآ من ہار“ 
صیا گرا من جیث القوم: 
آ ناب نے چجھ یف مایا ےک 
”خلا ال سفت کے نز یک اترام صما رذ ضروری 
ہے این من حیٹ القوم ا نکی اعا کا مل یں دیاجا کت ۔'' 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳٠٢٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


ات ےا سس ات ا لیٹس بے ہش 


اراس پر آپ نے حافظ این <۶ ر 29 لی ایس یناز کا 
ارت میں' ”من حیٹ القوم کا مطل بک بج کاء بلاط عا ‏ میادرات ٹل لرگ کی 
دک تو مک با ن۷ نے کے لے بولا جا تا ہے؛ اس ل ےپ کےنھمر ےکامدعار ینتا ےک 
جاک را شکی پورگ جماععت من حیث القوم اگ رسی من ا ہو ت ب بھی ال سنت کے 
نز دىیک ا نکی اق ادتبا لا ھی _ حا لاک در ال سنت سےٹلع نظ رخو دحا وط اب ن7م 
گی فص ریا تاس کےغلاف ہیإں- 
حافظط انت کو انس مکلے میں نو کلام ےک انس ےکس من صا کا 
١‏ 7 سے ایں؟ گن ضر ما برا ن کا انھھائ یمن جیث القوم ہو جاۓ دوحافظ اہن 
ھنم کے نز دی کبھی واججب الا تجاح ہے +اورال سے را فک یکول یگخیال یس رہ جائی ۔ 
یہاں حافظای ن7م کے چتدجوا ا لکرجاہوں: 
رات الا جماع“' حافظ اہن :رکا مشمبور رسالہ سےء ال لک ابتقدا ھی میں 
کی ہیں: 
”فان الاجماع قاعدة من قواعد الملّة الحنیفیة 
یرجع اليه ویفز ع نحوہ ویکفر من خالفه اذا قامت عليه 
الحجة بائه اجما ع۔“ (رابالاعأ گ:ءے) 
جھ:...” اجما0) ایک قاحدہ (ذیاد) سے طت عفے 
کے( جار جیادیی ) قواعد(د انل یش سے یج سک طرف (اتماطا 
مسائل میں ) ز جو عکیا جاتا ہے اورج٘ سک پناہ لی جائی ہے مکی 
مک لے یس اگ اجھماع کا امعقادخابت ہوجاۓ ‏ اس کے مگ رک وکا خر 
مراردیاجا تۓگا_'' 
حافظ این مم کے نز دیک اجماغ ای صصورت میں منعقد ہوا ہے لہ با می 
ور رمعلوم ہوک تام “ھا راس بج تھے چنا خیرد؛ الم دحل“ یسل کھت ہیں: 
”مسالة: والاجماع هو ماتیقن أن جمیع 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳٣٠۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲ ۷ 


اصحاب رسول اللہ صلی الله عليه وسلم عرفوہ وقالوا 
به ولم یختلف منھم أحد ..... وھٰذاما لا یختلف أحد 
فی أنه اجماع وھم کانوا حینئذ جمیع الم ؤمنین۔ لا 
مؤمن فی الأرض غیرھم, ومن ادعی اُن غیر ھٰذا هو 
اجماغ کلف البرھان علی ما یدعی ولا سبیل الیه.“ 
(ائی :ا ص:۵۳) 


لی اجھاغ ای صورت میں مضعظر ہہوتا ے 
جب ب ام ری طور رمعلوم ب وک ہتحما ما صحیاب رسول اللہ صلی اللرعلیہ 
لم اس بیتفق تے او کی نے ا کی مخاللشت می کی......اورا بل لم 
یش ےکوی ایس یلد و سیا سج اوہ 
(صھا گرا )اس وقت” ہن الھوشنون کا مصصداقی ےہ کی کان 
کے سوا کر رش رئیم ومن ٹا :اور جن گی کہا کی خرط 
وی رع ون ےا کراپ انس و ے:پر ول ٹل 
جن ےکی نت دک جا ۓکگا ساس کے ےنچوس 
اور جب ال نکی شرا ئا کے مطا نی صحا کا ا مامح معقد ہو جا ےن ال اجھا کی 
خالفت ان کے نمز دی ک بھی جا یں ۔اےے اجمارع کے خلا فکو دو عحال اورمپنع ےر 
کرت ہیں۔ چنا خی ضرت الوب رصد لی رشی ارح نکی خلافت کے ہوے اورتضرت 
سی شی ادشدعنہ کے من می سٹعس نہ ہونے پرانبوں نے اسیا ہماع سے استقد لا لکیا ے: 
چنا تاب أففصل می ںککھت ہؤں: 
”وبرھان آخر ضروری وھو أن رسول اللہ 
صلی الل عليه وسلم مات وجمھور الصحابة رضی اللہ 
عنھم حاشا من کان منھم فی النواحی یعلم الناس الدین 
فما منھم أحد أشار الی علیٗ بکلمة یذ کر فیھا أن رسول 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


الله صلی اللہ عليه وسلم نصّ علیہ ولا ادعی ڈلک 
علیٔ قطء لا فی ڈلک الوقت ولا بعدہء ولا ادعاہ لہ 
اُحد فی ڈلک الوقت ولا بعدہ: ومن المحال الممتىع 
الذی لا یمکن البتة ولا یجوز اتفاق اکٹر من عشرین 
الف انسان متنابذی الھمم والنیات والأنساب اکٹرھم 
موتون فی صاحبہ فی الدماء من الجاھلیة علی طی عھد 
عاهدہ رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم الیھم.“ 
(افصل ئا ۹9:7) 
تر ...ایک اور یھ مان بد یی یو ےک ول ال صلی 
علیہ دع مکی وفات کے وقت اکٹ صھا ہہ رشی ارڈ ٹم -سواۓ ان 
کے جار اف وجواب میں لوگو ںک ری نکیاعلیم دنن میں مشتول 
تھے- مھ ینہ موجود ہمان میں ےی نے بھی رتپ کی 
کی ای کر ےطان خاش ےر راز یئ 
رسول الٹد مکی اویل علیہ یلم نے ححفر تک کی و مامت رن فر ماک ی 
ہے اورن تفر تی نے بی ا کا ای ڈو کیا دا و اودت 
انی کے بعد ہیی اوزتے ان کے .لے ا فا فو ایا ندال وقت 
اورزاں ے حدے اور ہے پات ال او رس اور تلم یکن اور 
نا جات ہ ےکمہایےے شییں ہرار سے اک اسان جن کے ما صدبھی 
وپ ہیی انگ الک ہوںءنب وخاندا نگھی خخلف 
ہوں اوران یش اکٹ ایے ہہوں نی ز مانۃ جالیت کے اپے ع7 
کے نون کا ام نر لا دہ بیو کی ای عبد کے تر ککرئے اور 
ا سے لٹ کر جج اد بپ ا نفاق یک ریس بش سکورسول ارڈیصکی اللد 


ایا مب ے 


علیہ عم نے اع سے لیا ہو“ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


من اسان اصع آؤ پرمیزا ٹفگ .... 
فمن المحال اتفاق أھواء ھٰذا العدد العظیم علی ما 
یعرفون أنه باطل دون خحوف یضطرھم الی ذلک ودون 
طمع یتعجلونە من مال أو جاہء بل فیما فيه ترک العز 
والدنیا والریاسة وتسلیم کل ڈلک الی رجل لا 
عشیرہة لہ ولا منعة ولا حاجب ولا حرس علی بابہ ولا 
قصر ممتنع فیه ولا موالی ولا مالء فأین کان علی رھو 
الذی لا نظیر لە فی الشجاعة ومعه جماعة من بنی 
ھاشم وبنی المطلب من قتل ھٰذا الشیخ الذی لا دافع 
دونه لو کان عندہ ظالمًا وعن منعه وزجرہ؟ بل قد علم 
والله علی رضی اللہ ع٥ہه‏ ان أبابکر رضی اللہ عنه علی 
الحقء وأن من خالفه علی الباطلء فاذعن للحق --- 
ومن الصحال ان تتفق آراءھم کلھم علی معونة من 
ظلمھم وغصبھم حقھم, الا ان تدعی الروافض أنھم 
کلھم اتفق لھم نسیان ڈلک العھد, فهٰذہ أعجوبة من 
المحال غیر ممکنةء ثم لو أمکنت لجاز لکل اأحد ان 
یدعی فیما شاء من المحال أنه قد کان وان الناس کلھم 
نسوہ: وفی ھٰذا ابطال الحقائق کلھاء وأیضا فان کان 
جمیع أصحاب رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم اتفقوا 
علٰی جحد ڈلک النص وکمتانه واتفقت طبائعھم 
کلھم علی نسیانە فمن أین وقع الی الرّوافض أمرہ؟ 
ومن بلغه الیھم؟ وکل ھٰذا عن ھوس ومحال, فبطل أمر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


النتص علی علیٗ رضی الله عنه بیقین لا (شکال فیةء 
والحمد لہ رب العالمین.“' (ت اب افضل جم ص:۸٠٥)‏ 

یس ںاونک رس 
ارہ ٹا تین .....فچن بآم رعحال ےکا کی ہ گی نعداد کے 
الات ایی نز علق ہو جا نحیں جس سکووہ با ل جکھتے ہوں ؛ الاک 
رت کوگی ایا خوف ہوجو ائئیں اس پرمجبورکرےء اور کوگی جاوو مال 
1 اع ہوجو یں فور لے والا ے: بلہ نماد لہاج رگن ایگ الک 
یکو اخنیارکررے ےس مس و یا اور۶ ت وریاس تکا رک تھا 
اوریہ چھڑ 22 کے جو ان ےگ۷رر سے تھے سکا نہ کوک ی 
شبیلہقھاء نہطانظتء نہ جو بدارہ نہ ااں کے دروازے ‏ کوئی درہان 
قیاء زرکوئ یکفو انل ء زموالی تے اور نہ مالی: بیل اس وقتت گی کہاں 
تے؟ عا لاک وہ ال ےفیک جےکشیاعت م سکوئی ا نکانظیرنہتھاء پر 
ان کےساتھ بی پپشھم و ہنی ال مطل بک بماعع تب می ءانہوں نے 
اس بوڑےکوہ جس کاکوکی بچانے والا نیس تواء اگمر وہ آپ کے 
نز دیف نا لم تھائ يکیوں شہکردیا؟ یت سک یکوٹی مرا فص گر ے والا 
ھکیس فھاء او جو انت ان یکوگہوں ددرول دیا؟ دای راعلی ری 
اید عنرنے جان لی ھکال وبرزشھی ارڈ عنہت بہ ہیں او را کا مخالف 


ہو چا یں جس نے ان مرن مکی ہوا ور نککاطن خحص بک رلیا ہو رسواۓ 
سی ک ےک ہدوائض یہ دوگ کی ںکہانھاقی سے ودوسب لوگ ا ںعہد 
کویھول گے لو بتودایک ا ہجو ہہوگا چرمال ونائمکن یب رز 


اکر یلکن ہوقے پھر ہر کے لے بی جانئڈ ےکر دہ جوا بتا سے انس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۱۸۲6‎ ۷ 


کے بارے بی ام یم کے مھا لکا کوٹ کر ےک فلاں وا ایا ہوا 


تھا اور کہ سب لوک ا سںکوبیھول گے ےہ اس صورت می و قرام 
تھا کا ا رطال لا زع٣‏ ےگا ء نی اگ رقمام ا صحاپ رسول ایی اللہ 
علیہ وللم نے اک نع کے نہ مان اورا سے پچھانے بر انا نک رمیا تھا 
ان نس کی نین ان کےکھول جائے نف وی میں نو بر 
روالف کو ا سک عا لکہاں سے معلوم ہوا؟ اور نے اس وا لٹ ےکو 
ان کک پٹیایا؟ رین نخس بہت ءغام خیالی اویحمالی سے :انز اعلی شی 
ٹن ک ےتا یف کا دو تے یق اس ط رع باعل ہگ یاک اس 
کوگئی إشکای شرر باءوائمد ید رٹ الا ان“ 
اس من برکفشگوکر نت ہو ۓآ ےچ لک رلک ہیں: 

”افتری لو کان لعلیٗ رضی الله عنہ حق ظاھر 
یختص بهە من نص عليه من رسول اللہ صلی اللہ عليه 
وسلم او من فضل بائن علی من معه ینفرد بە عنھم أما 
کان الواجب علی علیٗ ان یقول أیھا الناس! کم هذا 
الظلم لی؟ و کم ھذا الکتمان بحقی؟ و کم ھٰذا الجحد 
لص رسول الله صلى اللہ علیبه وسلے؟ و کم ھذا 
الاعراض عن فضلی البائن علی ھؤلاء المقرونین لی؟ 
فاذ لم یفعل لا یدری لماذا أما کان فی بنی ھاشم أحد لە 
دین یقول ھذا الکلام؟ اما العباس عمہ؟ وجمیع 
العالمین علٰی توقیرہ وتعظیمه حتّی ان عمر توسل بە 
الی الله تعالیٰ بحضرۃ الناس فی الاستسقاء و أ'ما أحد 
بئیے؟ واماعقیل خوہ؟ وأما أحد بنی جعفر أخیه أو 


ٹیرمونالا گی کاو سے حقوسولی اا×__ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


وجل ولا یأخذہ فی قوله الحق مداهنة أما کان فی جمیع 
اأھل الاسلام من المھاجرین والأنصار وغیرھم واحد 


واجب بالنصّ وله فضل بائن ظاھر لا یمتری فیەء 
فبایعوہ فأمرہ ہین اأن أصفاق ج جمیع الأمة أولھا عن 
آخرھا من برقة الی أول خراسان ومن الجزیرة الی 
أقصی الیمن اذ بلغھم الخبر علی السکوت عن حق ھٰذا 
الرجل واتفاقھم علی ظلدمہ ومنعہ عز حقہ ولیس 
ھناک شی یغافونے لا حا۔ی عجائب المحال 
الممتنع.“ (ہتاب افصل ج:٣‏ ص:۱+ا) 

ترجہ ینم جکھتے ہو بیع کر کا 
ہوانی بویا جششن میس و فیس وج اد آزن لی رسول 
لی اعل کل مگکو گنس ہوک اکٹ ری فضیلت ہوئی جس 
سے دہ ابینۓ ساتھیوں میں فان ہو اوج کی ور ے وہ ان 
سب می ممتاز ومنفردہوتے ل ھکیاعی یر واج بکیں تھ اک ودب کے 
:"ہے لوان شف پا مر ےق ق ای اف 
تک؟ رسول انڈی٥لی‏ ال علیہ ول مک نی لکا ریا ئا رس بکک؟ ادرکب 
تک مکی ال فحضیلت سے اکا رکیاجا ت ےگا جوان سب معا صھ من 
سے ال سے جب ٹل نے یکن نکیا یں معلوم ہو سکم ککیوں 
کی سکیا کیا بی ہاشم شش ای کبھی وین دارموجود نتم ج یچ یکلام 
رتا کیاان کے پچھاعیاس نشی وو 5ذ ےشکر 
قیر برقمام عا ضط تھاء یہاںم فک نر تعن نما استقاء 


۳ 2 وط ' 070 329 8 :_ ۲ : 
کے مور جح رسب لو ںی ےہا ئے ائیقدنفاکی کی مارکا ہیل ایل وسلہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۰۷ 


بنانا تھا ؟ کیا الع کےلڑکوں یسپ یکوئی موجو دن تھا کیم سر 

کے پھال یی نہ تھے؟ کیاان کے پھا ی تفر سے بیٹوں میس سےکوگی 

بھی نہتھا؟ جب بی ہاعھم ٹس سےکول بھی الما نہ تھا جو الد تھا لی سے 

ڈرتا اورقو تی کے می ودرامنت شک رتا نکیا تام ابل اسلام شی 

ہاج مغ وائھنا زا دانع کے ماد دن رضخ ارت ین ےکوگ یھی ایا 

شرکھا جو 90 وج لہ 2 

ای داب سہے...... اقال ےآ ترک خمامم مم تکاء ورقہ سے 

سرع خر اسا کک اود جز یرہ سے انا می ن کک جیلہ امیس ضرغ 

اتی رنیب کا ال تھی کےقی سےسلوتتک۷ر نے برمفن جو جانا اوران 

س بکا اس کے ضا ج کم براور ال سکوتی سے مرو مکرنے مرف 

ہوجاناء در نحالیکہ الڑکی بھی وہا ںکوگی موجودنہ ہوجنس سے لوک 

زا ظھائرقی نے )رت جو :ایک گی بآع ریما اوز لکن ےی 

حافظ اج نت مکی ان نف رجات سے ثابت ہو اک ھا راغ کا اجماع ان کے 
نز یک جج ت قطع ےاورا لکا خلا ف مال و ے۔ 

جہاں تک حافظد امن کےا سظر ےعلق ےک یا الف ک ےار 
یں ہتاء اس ناکارہ کے شیال یش ائ نز اور دتگر| لم کے درممانع صرف نب ری 
شرت اورنرئ یکا فرقی ہےء ورنہظاہر ےکی ”سن اجھاع' کےتھام ال یع قائل ہیں۔ ہاں ‏ 
کو ئ سال ٹہ نتھعوافا مرگ الا حامیٰ اُصول 
الا ام می ںلکھھتے ہیں: 

”المسالة السابعة عشرۃة: اتفق الکل أن الإأمة 

لا تجتمع علی الحکم ال عن مأخذ ومستند یو جب 

اجتماعھا خلافا لطائفة شاذةء فانھم قالوا بجواز انعقاد 

الاجماع عن توفیق لا شوقیف بن یوفقھم اللہ تعالی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢٣۹ .۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


لاسیز اھ اپ سششعد 
(الا امن اصولالاجَام ١:‏ ص٣٢٤٣)‏ 

ڑج ” ختلضرے: .مقام ام لم اس نمض نج نان 

رما ابحًیرف]اسریضجر ےجززعاخ/ 
واج بکردے؛ ای کگرد ہاش کےخلاف تا ےک انعقاد اما 
صرف ا ئیقی کے ذ ری بھی جائتزے,لوقیذا زین ]غز وسند ملع 
وو دی یں :او نی سےا نک ی7ا اد بی ےکی بلا سن ای الد 

تال ان کڈ یئ کو خی رک رن ےک تق مھ اکردے۔'“ 


غملفا ۓ راش بن کااجماغ: 


اگ ری مےنے پر جاروں غلفاۓ راشمد ین ریشی ارڈ ٹج مض ہوں تو الم کے 


نز دک وو اجماغداجب الا تا ہے ئن الا لام حافظابن تی کھت ہیں: 


”وفی السنن عنه صلی اللہ عليه وسلم أنه قال: 
اقعدوا بالّذٌین من بعدی أبی بکر وعمرء ولھٰذا کان أحد 
قولی العلماء وھو احدی الروایتین عن أحمد أن قولھما 
اذا اتفقا حجة لا یجوز العدول عنھاء وھٰذا أظھر 
القولین کما أن الأظھر أن اتفاق الخلفاء الأربعة أیصا 
حجة لا یجوز خلافھاء لأمر النبی صلی اللہ عليه وسلم 
باتباع سنتھم۔“ _. (ضہاجال۔ قج:٣‏ ص۱۹۳:۰) 

ترجر:.. ”اسطن میں 1ححضرت صلی ادلدعلیہ ول مکافرمان 
موجود ‏ ےکہ: ”عھرے بعد ابوگر دع رکی اق اک رن“ اذا علا ۓ 
تکا ایک تول یہ ہے او ری !ما ماج سےگگیا ایک ردایت ےک 
جب ان دوفو ل حفثرا تکای بات ٹیل اناقی ہوجاتا ہے وہ بت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠٢۱٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


قرار مات تار اجاسایل حس لم گاڑن۔ اور ایا ی ٹن ثول ے 

یسا کہ یہ ین ٹو لکہ جب ان اط رظ 
انفاقی ہو جا ذدہ تچ ت تار با تا ے اس کےخلا فک نا چان یں : 
کے نے ہے 


0ت 


سا سے 
غلنذاۓ راشمد بن کے ٹین بھی !ہماع یس 
ا تما گیا ایک صصورت ہہ ےک غلغا ۓ راشمد بن مس سےکوگی خلیفہ داش دکوئی 
فیصلہصادرفرماۓ اورسحا پرکرا اس ںکو جلاک رقجو لک ری ہا ں مت فک اکناف وا طراف 
الم یس ود فیصلہنا ذذ ہو جاۓ ء امام ااہنرشادولی ا محرث و ہلوگ یت ہیں 
عم اجما کہ ب ز پان علماۓ دین شیدہ بای این 
میس کہ ہہ ٹچ بین لا یذ فرددرعصرواحد برمتلہ انا قکنندہ زا 
کان صورلی ست خی رداق بل خیرلکن عادبیء ایی ا جا حم 
خلیضراست ہز بعد مشاورۃ ذدے الرابی یا بفیرآنء ونفاذآ نم 
جاک الخ شرودرعا مک نکش :قسال اتی صلی اش علیے 
وسلےم: علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین من بعدی ۔ 
اشعف۔“' (ازال: ضا ضص:٦۲٥)‏ 
تر جمہ:..' راجھما کا لفظ جھآپ نے علاۓ وین سے سنا 
ہوگا این کے کی کین ہی کن ایک ما ئے کے اع نچ ین 
یمن پراس رح تفق ہو اہی ںکیکوکی ایک فردیھی اختلاف نہ 
کے کیوقلہ بے صصورت و خی ردا تح بللہ عادةٗ امن ود لہ 
جا عکا مطل بی مت میں خلیفہ را شدکا ال اج مکرنا ےس خوا داب 
مظورہ سے مشاور کر کے ہو ما بامظورہ کے ہم سکو وہ ناڈز 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


کمروے, نغا عم کے بعد دوش پور ہوجااۓے اور و نیا مرا - 
در مھ ہونے گے نی کی العلیہ ول ماف مان ےک رم لک مبریی 
سن تکو اور می رے بعر ماما ۓ راشمدی نکی سن تکو لا زم لو (اور 
ا کی چیردیی یس نا معائرمرو)۔' 
ضر گھررشی ادڈدع کا لوگو ںکوشیں تر او بر کر نا اورحضرت خخنان شی اللہ 
عنکا جم ہکی اذ ان الال مقر کر ناءاسی اجما کی مشالیش ہیں الاسلام حافظط ان جی 
کت یں: 
”'وما فعلہ عثمان من النداء الأوّل اتفق عليه 
الناس بعدہ أھل المذاهب الأربعة وغیرھم کما اتفقوا 
علٰی ما سنّه أَیضا عمر من جمع الناس فی رمضان علٰی 
امام واحد.“ (ماؿ‌الد يج:۳ ص۷٢۰٢)‏ 
ترج:.. ‏ رت معمان شی از ے لو کی 
آذ ان اڑل مقر کی فو تام لوک اس بیمف ہو گے ء اس کے بح بھی 
عاروں راہب کے فقہاء اوران کے علادہ دنگر اب لم اس شف 
رےۓر ال ایائ لق چھما/سرسئ رق حر 
رمفماان شی تر او با مامح تہ مت دکرنے برسب مل یا گیا“ 
می وج ےک نعخر تع ری ال عشر کے بح اما ۓ راشد کا یں تا وع 
7- 
الف:... ”عن السائب بن یزید قال: کان القیام علیٰ 
عھد عمر بثلاٹ وعشرین رکعةء قال ابن عبدالبر: ھٰذا 
محمول علی أن الفلاث للوتر .“(عھ القاری رخ:اا :ع١١)‏ 
تچ :.. ”عبت صمائب من یز بد سے ددایت ےکلہ 
ہے عز رفانی ال رح این اوح فیس پا نان رکیارت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳٠٢٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


بی جال یتعیل ء ای نعبدال کے ہی سک :ان میس تین رکحعات و کی 


ارک یگئی ہیں“ 
ب:... ”عن السائب بن یزید قال: کانوا یقومون علی 
عھد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنه فی شھر رمضان 
بعشرین رکعةء قال: وکانوا یقر ءون بالمئین وکانوا 
یعورکٹون علیٰ عصیٔھم فی عھد عثمان بن عفان رضی 
الله عنه من شدة القیاھ.“ ‏ (خضگرمتللْ ع۰٣‏ ص۹۹۰ءم) 
:ا رت ا ہپ بن تی روا کربت مو ں کہ 
عفر تک ررنی اڈ دعنہ کےعہعد یس شیں رکحات تز او شش ہڑ حت 
جےاورو دی نکی خراء ت کرت تے اور تفر تحثاان شی لن دحنہ 
کے بد میس قیام طو یل ہونے کے با عحث لوگ انی لیو کا سہارا 
ےکرک ے ہو جے۔ 
ؾ.:... ”غن آأبی عبدالرحمٰن السلمی عن علیٗ رضی 
فی سا اد لی سا جک مو لا سای 
بالناس عشرین رکعة وکان علیٗ یوتر بھم.“ 
زس نکب ری تبلی ح٣‏ ص:۹۹م) 
ٹہ :. ”از ز ہد انل یسلی حضرت علی رنشی اعد 
سے دوابی کر تے ہی سک ہآ بے نے را عفرا تکو رمضان یل 
کی دنن یں رے ای لٹ کو رمیا لو ںآلوغیں 
رکحات تر او بڑھا کے اورخضر تی رشی الڈدعنصرف و 
سو و 
وز,,. ”عن عمرو بن قیس عن أبی الحسناء أن علیا 
أمر رجلا یصلی بھم فی رمضان عشرین رکعة.“ 
(ہسصفامنا لح ح٣٣‏ ص:۳۹۳) 


۱۷۷۷۷۸۷۰91۷۲۹۱۷۵" ۹.۸۷۲6 ۷ 


رت گی بی ا 1 کور مض 9-0 وو ںکوٹیں 
تر او بڑھانے م ما مو کیا تھا۔ 
::.._ ”عن شتیر بن شکل وکان من أصحاب علیٰ 
رضی الله عسہ أنه کان یمھم فی شھر رمضان بعشرین 
رکعة ویوتر بٹلاٹ.“ 
(س نکبریی 0 ص۲۹۷۹۰ ,تام ایل ص:۹۱ء بریض:ھ۵٥)‏ 
ہی ا ال ا لا ا 
عنہ کے شاکردوں یں سے ہیں ء مروگی ہ ےک دہ ماو رمضمان یں 
وو یں رات تا وش وت تھے من اعت کے 
اس اخیامد ہے تھے 


ملا ۓ راشد من کے یصلوں کے برن ہو ن ےکا ر1 لی شموت : 
جخرت شاو صا تب نے منعددجہ پا ماعبارت میس مرا تی خلا ئ را شد بین نشی 


انم کے ٹیصلو کو ا جماغ فرمایا ہے ججی ھا کرام نے ا نکو بلاگی رتو لک ری ہوہ اور دہ 
ال می ںان نات فو کا تتویں: ان فییاؤں کے کا وور ری ہے حعشزیت ظا 
صاحب نے حد یئ وگی:''علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین“ ے اسر لال 
فرمایا جیما کہالن سے پیل حافظط اہن یی نے غلفائۓ راشع بن کے اجماغ بای 


ضر بث ے إ سر( لف رمایاے۔ اس عد بث نیو کی تا تق رآ نکرمم ےکی ہو گے 


چنا سور الٹور آبیت !تخلاف می ں تن ننتاکی شا ناف ماتے ہیں : 


”و ال ِب موا کم او الشیحتِ 
سمميَّهُ فی ازس کُما مت ان فی 
مکی مه لی ارت یلم َلَمدِلَهُم ن: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


محٌٌسمدحدسجڑجڑک‌ڑکٛےےک 0‪کگطللطلط0کسیسس۳ستے<ھھے۔س.[ژک-.<9ح×ٗ٠×-‏ کک-کیع<<الال_ل<(اک ت2وطس ا ااإكتت_خضب۰آپے.].-ے.:._ 


بَعْدِ حَوْفهھِمْ آمُناء يََبُدُوْنِی لا بُشْركُونَ بی شَيْنَاء وَمَنْ 
کقر بَعْد ڈلک فأولیک هھُم الْفْسِقُوْنَ.“ ‏ (ا۰ر:٥٥)‏ 

رر ٣ار‏ ار ٤‏ اع لوزن ہے ہم ۳ 
ایمان لاۓ اور گے ہیں انہوں نے کیک کامء ال تہ بع دکو حاکم 
کر ےگا ا کو کلک مین ایا اگ فیا ا ان شی اناو کو ار 
جاور ےگا اع کے لئ ومن ا نکا جو پٹ دکردیا ان کے وا گے اور 
د ےگا ا نکوانع کر کے بلد نے میں ائن + ھی گیا یڈلدگ یکر میں گے ء 
شر کن گا الو شر ا گت اس کے جہیے. 
سدوبی لوک میں ناف مان 


ال آ یت ش ریف دسے جہاں نات خلفا ۓ آر ابد شی ال نب کا موگور ہوا 


ثابت ہوتا ہے دہاش ہنی ثابت ہوتا ےک خلا ۓ ار بتررشھی اشنم کے مانے میں جھ 


اکم نامز ہہوۓ د وت تا ی شا کا بپند یرہ دن تھا 


زی تھالی شا تن سور ة ا می فر مات ہیں: 

"'ُذْنَ لِلَِْيَُقَتلوْنَبََهُمْ طُلمُواء ون اللَعَلٰی 
تَصْرِمِغ لَقَدیرٌ. الین أحْرجُوْا مِنْ دِيَارِهم بغْرِ حَقِ ال 
ان یَقَوْلُوْا رَبْنَا اللہ وَلوْل دقع اللہ الس بَعُضْهُم بَفُض 
لَهمَتُ صَوَامع وَبيَع وُصَلَوَات وَمَسٰجد یُذکَرفِيْهَا اسْمْ 
اللر كیا وََنْصْرَن امن بَصْرَء ان اللقَِیٌ راز 
لی اِي مُكمهُم فی رض أَفامُوا الصُلوۃوَاتَوُا الرُکوۃً 
وَآَمَرُوْا بالمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ المْنکرء وَللِعَاقبَة 
المُور“ (ا::۳۳مك) 

ترجھ:..” عم ہوا ان لوگو ںکوجن سے کا فرلٹڑ تے میں 
اس وا ےکہان ینلم ہوا اورالیا نکی مددکر نے بہقادررے و ولوک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٥٢٣. ۸۷۵۸۲۹6 7 


و جا 
تدم : 


جووہ حووہ-جج ۰-یب 

ڈوزال ان گنو وک اس مد ےن کان - 

کے ہیں ہھارا ترٹ اید ےء اود اگ نہ پٹایاکرتا دلو یکو ایک 

ُوسرے سے و ڈجاۓ جاتے کے اور رر ے اورعبادت خا نے اور 

مھ بس جن یل نام بڑ ھاجا جاے الیکا بہت ءاورائڈ مترر وددکرے 

گا ا کی جو حددکر ےگا ا کی٠‏ بے شک الژلدز بددست ے زور 

والا ۔ وولو کہاگ چم ا عکوفد رت د 7 .و 

اورہمیں زکو او زی مک سں یھ ےکا مرکا ء او رش کر مس نکی سے اورانلد 

سیون ےر اکا 

ا لآ یت یں ارشمادفرما گیا ےک اگ ان مظلوممہ جی نکوء من نکی صفات أ و 
ان نی یہت کین فی الا عطاغرا میں نے وہ ران اسسلا مکو ماع مک بی پآ 
اروف او رین انگ زگھزمن شی ->, شم من رض 
اٹم کےز مانے می ان ضرا تکی مسا گی جمیل سے جو ین پور یڑ مر ہوادہ سے إتقا مت 
دبن :ام اروف اوریگ نامگ ۔ 
ص حا کرام واجب الا تا ہیں: 

اجماغ کے مباضث سے ار ہونے کے بعع دب یل رآ پک عبار تک 
رف متوجہہوتا ہوںآ تاب نے ای کت شل پیٹرماباے: 

”اترام صحابڑ سء اتا صحا ملق زی عا لم نے 

غاب کیا :او ڈنل اف ای کا ا نون کے 

اس تا کارہ کے نی کا پک از تچ لیس یراہ کیا شیکیا جانا ڑکڑدے 
ہیں اورتوں غلط ہیں ۔ رای ان کون صانث می سی مک رجا ہوں: 

بی ب:..- (تپارأسحا یش ال لمکا سلک- 

ڈوسریی ٹ:... اتا صحابکاواجب ہوناد(ا لنقلی, رے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ .ٌ50610۲١۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


ریا گنٹگ:... اتبا) سا کا ضردری ہونا وب لقفل ے۔ 
کی بٹ: اناپ صحا وجب ہے:ایک یلک مک ملک : 
صحا کرام کے اقوال جم ہورا بل عم کے نف یف جئت ہیس مرا نکا درج کاب و 
سنت اور اجماع کے !بح کا ے۔ ایک السا مملہ شس مم ليکناب وحن تکی نع صرح 
خی روغ موجودنہ ‏ ءاوراش پر ا یما غعبھی نہ ہہ اس میں اگ ینف تھا .گرا ما تقو ل منتقول 
ہون ا کی دوصورنس ہیں :ایک کہا قول کےخلاف کی صا یکا قولمنقو لیس دم 
ماس کے خلا کچھ یمن سی کا ثول قول ہے ہی صورت 1 پچردوصورٹیں ہوں کی 
ایک کنیا یکا دوفو ل مھا کے دور میں ہو رہ کیا و دوم ہراس دد یل ا ںاوشرت نہ 
ہوئی ہو گو یا یگ لقن سورس ہوخیں ذ یل می یو ںکا 2 تک ال کاعتاہوں_ 
جا سوئی: 
کی صور تک مال یکاودقول ھا ےک دوریلشمبورہومتروف ہ گیا ھاء اس کے 
اوجو دی حا یٰ سے اس کے خلاف منقو لنییں_ جمہور ال علم کے نز دیک بی صورت 
ا جاج سسکولی “ہلا ہی ےء اذا اس صھال یکاقول اس منتلے یس جت ہوگا جس کے غلاف 
کنا جا یں ۔ چنا رع ذظائنشمم رص ار 'اعلام ال تی نمی سککینت ہیں : 
”وان لم یخالف الصحابی صحابًا آخر فأما 
ان یشتھر قوله فی الصحابة أو لا یشتھرء فان اشتھر 
فالذی عليه جماھیر الطوائف من الفقھاء اه اجماعغ 
وحجة: وقالت طائفة منھم: هو حجحة ولیس باجماعء 
وقالت شےذمة من المتکلمین وبعض الفقھاء 
الساعریت لڈیکری ماما ولا سئیة “ 
(اوزاما وین ٣:‏ ص:۳۰١)‏ 
ترجمہ:.. اود اگ کی صالی (رےولں) سے رہ لد 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


نے اِشتلا فی کیا( ق ا کی دوصورٹشس ہیں )یا تاس صحالی 

کا قول صصح کراں میس مشبور ہوگیا یا مشپورکیس ہواہء اور اگر وومشہور 

وکیا وج ہو رنقساء کے نز دک دو ا ھا کےعم میں ہوگااوردہ جت 

ہوگا۔ ایک جماعح تکجتی ہےلنردہ تن ےکر ا ججما نکی سکہلا ۓ 

گا اود می کے ای نتر عق اون فقاء کے نز دیک تر دہ 

اجماح) ہکا ھجت“ 

اما حافظ الد بن اپوالہرکات داد بن احرشخ '' کشف الاسرارشرح انار 
میں لیت ہیں: 


”فاما اذا نقل عن الصحابی قول ولم یظھر عن 
غیرہ خلاف ڈلک فان درجته درجة الاجماع اذا 
کانت الحادثة مما لا یحتمل الخفاء علیھم وتشتھر 
عادق.“ ( شف الاعرار رع:٢‏ ۴ص۰:١۰٢)‏ 
تر ...ایک صالی سے ایک قول منقول ہوا اور اس 
کےغلاف کیا (ادرسھالی )کا قول سا ت ےکی سآیا نذا سکا در نگم یس 
اما کا ےہ بش رط معالہایما کان حخرات ےکن ی ہو ن ےکا 
شال شہہوءاورعادڈ ا کی شہرت ہو جا ی ہوں' 
و9 یصضور کا ل 1 ووٹول سا سے گی مور ۓ ہوا ہو ہلان ال سے 
خلا فچھ یی صا یکاقو ل منقول نہ ہو؛اس کے اجمارغ ہو نے میس تو کلام سیا نک ئل 
مم کےنز دک صمال یکا یق جج ت شرع سے اور ئآ بعہ: اما مال وحفیڈٗء امام ما لک ء امام 
شمالی اور امام اھ جن لی کے ال ہیں حافظ ان ااء لکیتت ہیں: 
”وان لم یشتھر قولہ أو لم یعلم ھل اشتھر أم 
لا؟ فاختلف الناسء ھل یکون حجّة ام لا؟ فالذی عليه 
جمھور الأمَة أنے حججة ھٰذا قول جمھور الحتفیة 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱٥٢٣ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


وھو مذھب مالک وأصحابه وتصرفہه فی موطئه دلیل 


علیهء وھو قول امسصحاق ابن راھویة وأبی عبیدء وھو 
منصوص الامام أحمد فی غیر موضع منه واختیار 
جمھور أاصحابہ وھو منصوص الشافعی فی القدیم 
والجدید.“ (اعلام وحن رج:۴٣‏ ص:۱۳۰) 

ترج.:... ”اور اگ صھالی کا قول مشپور نہ ہواء یا ان کا 
مشہور ہونا معلوم نہ ہو کا فو اہ عم یش اس کے جت ہونے بیس 
اخلاف ۓے ہو رکا ملک می ےید مت ے) مور 
ہا ئۓ ا حنا کا ھی قول ےء اما مھ من سم نے ان کی نص رح 
فرمائی اود امام ابوعی سے بی نہب اخ لکیا ہے۔اور ہنی امام 
ما لیک اوراع کے ا صا بکا ثول ہے م2 طا یش !مام ما لی ککا رز 
مل ا سکی بڑکی دییل ہے۔اود یی اسحاق ین رابہو ا و اکا 
مسلک ے۔ اور بجی قول بیشن زموںحع پر ورام اح سے منصوس سے 
سکوان کےا صححاب نے !فیا رکیا ہے۔ اور امام شا کے کر مم 
وجریرتقول ٹںشگ بی منص یس ےکک سای کا ثول بزاوروضورت 
یس ججت ے)۔ 


اجماغمرب 
ری صورن تک حا کے اقوا ل می مت شمتلف ہوںء دبا نا جنپ بن 


اپے اپے اجتجاد کے مطابق ان اقوال یس ےی قو لکوت یی دی ہیں .تا ہم ائس پہ 
مہو رج کا اتھاقی ‏ ےکا ےےمخلف فیرسائل میں صا کے اقوالی سےخرونج جم کویںء 
ط1 اس مکل یں صا کے دوقول بہوں ء اس ہمتئے میس ان دونوں اقوا لکویچھ وک رتس اقول 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


عو و۶ ے ٤یض‏ 2 -2 - ‌ 
اخیارکر نا جائزکیں۔اور میفقہاءکی اصطلاع یل ابا رکب “ کہا ٍڑے۔ 


علا شی ”شر المنا ری سککھتے ہیں: 

'رکذا اذا اخعلفوافی شےء فان الحق فی 
أقوالھم لا یعدوھم علی ما یجیء فی باب الاجماع 
ان شاء الله تعالي.“ ( خفالمنار ؾع:٢ )٣٠١:۰‏ 

ترج:..” اود اویے بی اگ ری منکلے میں صعما کرام شی 
ارتجھم کے اقوال مخلف ہوں نے ببرعا لج اٹ ھی کے اقوال یں 
مو تور ےاورسابہ کے اٹول سے عرول جا مزکیں :جاک اما 
کے باب میں لن شا ءایڈدنھالی رو رہوگاے' 
او ”نو رالانوار ”شر انار یی ے: 

”وان خالفغے کان ڈلک بمئزلة خلاف 
المجتھدین فللمقلد أن یعمل بأیھما شاء ولا یتعدی الی 
الشق الشالث لأنه صار باطلا بالاجما ع المر کب من 
ھطذین الخلافین علی بطلان القول الٹالٹ ھکذا ینبغی 
ان یفھم ھٰٰذا المقام.“ (ٹورالنوار ٢:‏ ١ضص:١۰٦)‏ 

ترجہ:..' اود اگ (کسی میللے میں قول ) صھالی ےکی 
سح لی نے الا فکیا ہو نو درتحیقت ہہ اخلاف دن کے 
اتا فک مائند ے یں مقلدکو جائ ےکی ای ک بھی قول بل 
برا بھوجاۓ او را کے اق وال سے تھاو کر کے نیس راراستہ ا خیارنہ 
کم ےکی ونک ہار کے دو اتوال ے' اقاں لے وچتور ہل 
آمگیاءاہذراان دوفوں ے ہہ فک ایک تیسرا راستہ اخخقیا رک رن باط۰ل 
کنھبراء اس متقمامکوکورےکھنا ضرورگی سے 


بس یل سے معلوم ہوا ہہ اک ی٢ا‏ ہکرام کے افوال جت شر عیبہ ی۱ او رج ہور 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


لف تصوص] تار بط( امام ابوحیقّء امام ما نک ء اما شال اور امام اب بن 2.1 )سال 
شرعی می لصا گرا کے اقوا لکوججت کت ہیں ء اوران سےخرو خکو چا نزیس کھت ۔ 

ا ےی مج ابوز ہر نے' ا صول الفقہ' یش اس موضصوحع پر بہت 
تفصیل سے روک ڈالی ےء مناسب ہوگاکہ ہال ا نک عبار تکا اسیک اقتاس جیی لکردیا 
جائۓءوولکھت ہیں: 


”ھٰذا وآن الماثور من الأئمة الأربعة أٹھم کانوا 
یتبعون أقوال الصحابة ولا یخرجون عنھاء فابو حنیفة 
یقول: ان لم أجد فی کتاب اللہ تعالی وسُنة رسول اللہ 
صلى الل عليه وسلم أخذت بقول أصحابہ آخذ بقول 
الٰی قول غیرھم. 

ولقد قاله الشافعی فی الرسالة بروایة الربیعء 
وھی من کتابه الجدید: لقد وجدنا أُھل العلم یأاخذون 
ویتفرقون فی بعض ما اخذ منھم قال: (أى مناظر٥)‏ 
فالی أی شی صرت منھذا؟ قلت: اتباع قول 
واحدھم اذا لم أجد کتابا ولا سنة ولا اجماغًا ولا شینًا 

۷ 0۷9 ا 

ویقول فی الام بروایة الربیع أیضا وھو کتابہ 
الجدید: ان لم یکن فی الکتاب والسنة صرنا الی 
أقاویل أاصحاب رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلمء أو 
صرنا فیه الی التقلید احب غلیناء وڈلک اذا لم نجد 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 7 


خلالنی الاسلاف قال علی 21 ب اضق سی 
الکتاب والسُنةء لنتبع القول الڈی معه الدلالة. 

وان ھٰذا یدل علی أنە یامخذ بالکتاب والسْنةء 
ٹم مایجمع عليه الصحابةء وما یختلفون فیه یقدم من 
أقوالھم أقراھا اتصالا بالکتاب و السنةء فان لم یستبن لە 
اقواما اتصالا بھما اتبع ما عمل بە الأئمة الراشدون 
رضوان اللہ تبسارک وتعالیٰ عنھمء لأن قول الأئمة 
مشھورة وتکون أقوالھم ممحصة عادة. 

وکذلک الامام مالک رضی اللہ عمنہء فان 
المؤٌطا کثیر من أحکامہ یعتمد علی فتاوی الصحابةء 
ومثله الامام اُحمد. 


ومع آنے روی عن اولئک الأئمة تلک 
الأقوال الصریحةء فقد وجد من الکتاب الأصولیین بعد 
ڈلک من ادعی أن الشافعی رضی اللہ عنه فی مذھبہ 
اٰجدید کان لا یاغذ بقول الصحابی:وقذ نقلدا لگ 
من الرسالة والمَ بروایة الربیع لابن سلیمان الڈی نقل 
مذھبے الجدید ما یفید بالنصَض القاطع انه کان یأخذ 
بأقوال الصحابة اذا اجتمعواء واذا اختلفوا اختار من 
أفوالھم ما یکون أقرب الی الکتاب والسٗنة. 

وکذڈلک ادعی بعض الحنفیةء ان أبا حنیفة 
رضی اللہ عنه کان لا یاخذ بقول الصحابی الّا اذا کان لا 
یمکن ان یعرف الا بالنقلء وبڈالک یؤخذ بقوله علی 
أنه ستة لا علیٰ أُنە اجتھادء أما ما یکون من اجتھاد 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


الصحابی فانه لا یؤ خذ بہ: والحق عن أبی حنیفة هو ما 
نقلنا من أقواله لا من تخریج أحد.“ 
(اُصول النھ ك:۵٠۳٠٠۰٣)‏ 
و چا 
صا گرا کے اقوا لکا جا کرت تے اوران کے اقو ال ےکییں 
نے تے۔ چنا مہ امام ابوعیذقرماتے ہی ںکہ:” ج بکماٹ ابد اور 
نت رسوگل اوڈیصلی اون علیہ مل میس بج سی مت کی نص رح نیو سک نو 
سحا یڑک اقوال میس سےاپی صصوابد ید سی ایک قو لکو ِخقیا کلت 
ہوںءانع کقو لکوئچھو کسی و دسرے کو لکو اخ نی سکرجا۔ 
اور لام شا سے ”ال رسال نشیس رچ کی ردامت ے بے 
ول موجودے اور می ا نکا ول جد بیدر ےک :” ہم نے اال یھ کا یہ 
مر زکل د چیکھاک دہ ایک مک ایک حا ی کےقو لکو اختیا کر تے ہیں 
ڈوسرے مقام راس کے کو لکوت ر کفک۷ردیے ہیں اس رح اخ 
اثوال شں ان شں اخاف ا جاتا سے (تو ان ے مناظرہ 
کر نے والے نے الع سے ) سوا لکیاکہ:پچلرآپ نےکون سیا راستہ 
ایا رکیا ے؟ فرمایا: ان نل 1.0 کے تو کا اتا ں کک رتا 
ہوں اود ی جیا ہوتا ےک کاب وسنت اود ا ہم رح با الس کے برع 
جا سوک یمیس تک ےکاع میں پاجا۔ 
اورکناب الام ٹیش رئ کی خی ردایت سے مقول ے اور 
یا کاب دید ےکی ”گی ماب وسفد ھن 
نی مت تو ہم قام صھا کرام اص ایک صا لی کے اقوال پر گا 
ڈا لیج ہیں ء پچ راگمراوی ڑا نع کا قول موجود ہوا ےت اس یکی 
تقلیدکیںحبوب ہوٹی ے_“ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ای سے ثابت ہوا کہ رام انی اب وہشت سے 
اتخدلا لکرتے تےء پھر اجمارغ صحا ہے پیل ریسا یڑ کے اتال یس 
اشتلا فی صورت میں ا سو لکو اخ ا رکر لی جوق ران وسنت کے 
مات انتصیای ین توگی تز ہوا اور اگ کاب وسشت کے ماج 
تال بی کسی قو لکاقو کی ہوناان پرنظا ہر ہوتا فو خلا ۓ راشد بن 
سے 0 77 کلذ ءکا تو لگھموبا مشبورہو جا جا ےء 
زان کے اثوال عادہ مضبوط وو یی شمار ہو تے میں ۔ 

اور یھی صلک !مام مان ک کا ہے چنا تمرم طا میں انہوں 
نے بتاکم میں صسھا بک راغ کے فادکی برای اخ دکیاے۔ اور یی 
کیفیت امام اتکی ہے۔ 

اب ز دا ور یئ کہ ان أئ کرام سے نے انس رع کے 
صرح اق ال منتقول ہوں ہراس کے پرخلاف ا صوعی نکا امام شاف 
رت بد کک پر بن ید دگوکی پور ےکہ و وقول صھا یکو 
تکاس ما نے ۔ اوہ مآپ کےسا ئے ”الرسسالہ اور انم سے 
ان کے مم جب جیا کے نال در بن سلیما کی رواٹ سے ال کا 
ول ناف یکر لے مین ہنا پاب تک فی دک اد 
شال صا بکراغم کےاقوال میں عم اختلاف کی صصورت میں مطا 
اور إ خلا فکی صورت می ا قرب الی الاب والسیت تو لکو اخقمار 
رر کو ررجت کت جار 

سی طرح ہن انا فکا ہہ دگوگیٰ ےکہ امام ابو 
صحالٰ ول وا ول لیے تھے ج بک فک وو ایا د٭ 
وعرف شی ہی سےمعلوم سکم ہوہ !تناد ےکیں_ اور ا کو 


خی ہی : 
یت سنت کے افحتیا رک رت ہیںہ اجتتا دی موی کے ور یں ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


کیونگ بھالی کے اجہتاوکودہ جت تق رار تدج تھے۔ 
اور بات دای سے جو ہم نے امام اب ویش کے اقوال 
ےک لک ہے لعدوالو ںک یت جک ہیں ۔ 
ایک شکایت: 
گزشیدسطور میں ابل لمکا لک وا طور پر سا ےآ چکا ے؛ اس بح کم 
کمرتے ہوۓ بنا کار ہآ تاب سے بی شک بی تکمر نے می لن باب س ےکآ تجناب نے 
بل عم کے راز سن ککونظ آندا زکر تے ہو ۓ ء اس مکلے یس اب ن نم کےقو لکل 
رنے پر اکتفاکیاء اود چونکنہ بیقو لا خناب سمسلکی ذوقی سے آنقرب تاء اس لئے 
سا کے سا ت ھآپ نے اپنافیصلمتگی ستادیاکہ: 
مع دی ہے جو انمت ےکہاء مکی اجنتجادات سکاب 
کوق رآن وعد بی شک رف لٹا یا جات ےگا :موا نکی تجاح اورخالف 
یت یی جا گی ہاں اف روایت یس ا نکا ٹیٹہوتا خلا نۓ ال 
شع ٹن ونیک مفررےء یں دونظری ےناپ (لش ا ناکارہا 
ان گی تر دیرکی شظایدنی بر تک یں“ 
ال ذ آ پکو ىہ بث پچھیری ہنیس جا ےی کی ونم رب یکنشک تق رسھالی کے 
سنہ ےتا ق ھی ب یہی , مر یشون اس می ع یک جات سی رک را مھ رخوم ہقائم 
اور یشون مشیں نے.. بجی اکہ یی مت لک ہکا ہہوں..بق رآ ا نکمم او را اد یٹ لیب کی 
نی بی کنا از بی سک ں چان اصصل مین سے ہنکس نے ای لی تھا پت 
کیوں پچھیٹردیی؟ علاد٤از‏ یں اگ رآپ نے یہ بکٹ پچھیرئی بھی فو ابلعلم کے جع سن فکو 
پ لفظ ررکےک رک وکر نی جا بھی ۔ مک نآپ نے تھا این ھن مک قو لن لک کے اس بر 
تقا نی تکی ہہ بھی شیم تک دک ۔ ا لکی دجرشاید می ہکرام مکی عبارت مل :”قسوم 
یخطئون ویصیبون“ء ”ان ابابگر قد أخطاً“ء ”کذب عمر فی تاویل تاو لہ“ اور 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١۴ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


”خطا ابا السٹاب“ سکنل الفاظآ جے تھے اوران ےآ اف سور جس 
کی ملین ہو ی بھی ۔ اس ل ےپ نے اصصل بح تک وچھوزک رش کی سم ادشد اپ ذو کی 
مین ےکنا ضرور مھا ء اورخریب ان س ےکن ھھ برخوا وحن اہ بندوقی رک دی 
تالآ پکا تار بی ئک ہآپ اتی طرف نے پاگوکی نفر نا رےہ بل جو پک ہیر ہیں 
ارنائز مم کے جو ائے سے ےکہدد سے ہیں ۔ 
این مم کے لی رسھالی پتقیر: 

عالاکہ ا رآپ نے تن والضصاکفکی رک زس رگن سو کیا وت آ پکو 
صاف نظ رآ ک ہمہ أر بنادر جماہی لف کے متا ٹے بیس این مکا نظ ریہ لال یذ ال 
یں اورنل ددالش کے پا ارییں ا لکی قجت دوکوڑ یھی یں _ 

پپہلاگمتہ... ما عظاءاس پتفنی ہی ںک کی عالم سے شاذ و ناورسی مکل میس 
بھول چو ککا ہو چاناء| یت تی یں ناد ںکئیںءاورٹہا من کے افاع سے ام ہے 
کو نکیں جا اک حقرات ایا ۓکرا مہم السلامء جو بالانفاقی متصوم ہیں جیا ول 
چوک سےخلاف اذ یکا صدوران ےکچھ یلکن ہے( ج ہم ا نکی تصوعییت ىہ ےکا نکو 
ای خطا بھی تقائ نیس ر نے دیا جاساءبلہ وگ لی فو رآائیل اس برتفبرکرد بی سے اوران 
کی خطا کاء لی اور ار کفکرد با جا جاے )۔ق رآا نک ریم میں حضرت دا داورمضرت سلیماان 
لی یلما الو والسلام کے یلو ںکا وک کر تے ہوے جو ”فسكه متا سُلَیْطن“ فربایا 
گیاےے اورال کےساتھ ”و ملا اقیْسسا محکما وعلھما“ کاارشا دا نا بکیآظرے 
اویل نہیں ہوگا۔ 

”وقال الامام البخاری (ج:٢‏ ص:١١۱۰):‏ باب 

متٰی یستوجب الرجل القضاءء وقال الحسن: أُخذ اللہ 

علی الحکام ان لا یتبعوا الھویٰ ولا یخشوا الناس ولا 

یشعروا بآیانه منا قلیلا ٹم قرأ: ”وَدَاو وَسُلَيْمْناِذُ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


َحُْكمان فی الْحَرْثِإهتَفَٹ یه عم ازم کن 
لیا (ا] نیاء:۸ے۹۱ءے) فحمد اللہ سلیمان ولم یلم 
داوٴد ولو لا ما ذ کر اللہ من أمر طذین لرأیت ان القضاۂ 
ھلکواء فانه ای ھٰذا بعلمه وعذر ھٰذا باجتھادہ.“ 
(جاری ع٣٣‏ شض:۱۰۹۳ء ۴ م٣۳‏ س٠٤‏ ے) 
ترجم:..: امام بفارگی (چ:٣‏ ص:۱۰۹۱) فرماتے ہیں: 
اب اکس باازے می لک یکو یف عوبدۂ فا کالب خی ہوڑاے۔ 
خر ت سو ناف مات ہی ںکہاشدتھالیٰ نے جک مکواس جا تکا پا بن دکیا 
ۓےک دو (فیعملوں یں ) خوا ہش ینوس کےا ہیس جہوں کے :لوکوں 
سے خوفزدوگڑیں ہوں لے وا نکی ایا تکوش نکیل سے پر ے 
روش تک ںکرسسں گےہ اس کے بحد ى ےآیت اوت فربائی: 
(ت جم )”اورداوواورسلمما نک وجب گے فیصل .کر ن میتی کا بھکڑا, 
جب رو دن ات یکو رات شی أیک ام گی یگریاںء اود سا ئۓ تھا 
ہمار ےا نکا فیصلہہ پچ ربھادیا بھم نے وو فیصلسل یما نکو اور دونو ںکو 
ویا تھا ہم ن عم او رج (الاخمیاء: ۹۰2۸ء ) تو یہاں ال تھا یٰ 2 
سلیماان علیہ السلا مکی ریف تو فر ما یمر دا نود علیہ السا مکو ملا مت 
کی یکیاء او اگ راتا لی ان دوٹوں کے مال یس موہ بات شہ 
فرماج نیقی تام طاضصی بلاکت کے مقام پرنظ رت ۔ چنا مج اللہ 
تھالی نے ای ککی ریف اس کےعلم پرفرماکی اود ڈوصر ےکوااس کے 
اتاد یٍموڑورٹراردیا۔' 
اورآحضرت' لی الیل کا یارناوگرا بھی جناب کے یں کظ رہ وگا: 
”انمااأنابشر وانەپاتینی الخصمء فلعل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


بعضھم ان یکون أبلغ من بعض, فاحسب أنه صادق؛ 
فاقضی لہ فمن قضیت لە بحق مسلم فانما ھی قطعة 
من النارء فلیحملھا أو یذرھا.“ 
(بخاری عج:٣‏ ص۱۰۹۳۰ء ہ ن۳ ۶ك٠۰٦ھے)‏ 

تر جمہ:.. .”نیل بھی ایک انسماان جیا بہویء میرے یا 
لوک مق مات ےکم کے ینہ ہوکتا ےکی ال مان نے اٹ 
رن ڈوسرے سے تیرب ز پال نا ہو میں ا ںکوسا بج کر فیصلہاں 
کے تی می ںکرو با ہہوں :ورس نو اک اس رر من سکومیں نے 
تی ڈوسرےکا تن دلادیا نو یادرکھوا یآ ککا ای کگھڑا ےہ اب 
جا ےو ا کو ےے ئے او ما ہے ون۔٠‏ 

”وعند أبی داوٴد (ج:٢‏ ص:۱۲2): آنی انما 
اقضی بینکم برای فیما لم ینزل علیٗ فیہ.“ 

تڑھے:..' اورالوراؤٗر(ت:٢‏ مص:خ١۱)‏ شی بہالفاظا نمور 
میں: ج ب کسی معالے میں ہجھ پروی نار لکیں ہو لتہارے 
درمیان فیصلہ ای راۓ سے گرا ہہوں ‏ 
اور یارشاؤنویگجھیآپ کےعم یں ہوگا: 

”اذا حکم الحاکم فاجتھد فاصاب فله أجرانء 
واذا حکم فاجتھد فاخطا فله أجر ,.“ 

(ہٹارلی خ٣٢‏ :۱۰۹۲ء مد ری یی :۹ھ 

تر ...”جب عاکم نے اپے اناد سے فیصل کیا اور 
ذرست نیص کیا اس کے لے دوج ہیں :او راگ راس نے فیصلة اہ 
جاور ےک یراس میں گعھی ہوک نواس کے لئ ایک اج سے 


یز تد رموائح رآ حضرتتہصکی اللہ علیہ مل کال ادری“ فا ناءاور چندمائٌح 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۱۸۲6‎ ۷ 


پر ”آخبرنی بە جبریل انف“ فرما ابی جنا بکومعلوم ہوگا الغریل !می من می ںای عالم 
کا ادری“ کہناءیا جواب شی چوک جانا ال لعل کے نز دیک اس کیم یل کے 
منافی نیس ؛ ناس کےعم ونہم سے ملس اعقا دنھد چان ےکی دیل ہے۔ااس لے انت ما سے 
کہ ناکرا ےلوگ ںکی اتا کی ےکی جا بن سے ای کآ دح موائش بر خطا کا ور ہواجخل 
مشاخبہ ہے۔ جھےآ ناب تی ای عائل ےلوٹ نی کم یک دد اب نم کے اس مفا ل کو 
نے اڑ ےگا او رھاب راغ کےخلاف اسے اپ دا لکی فہرسصت میس اجک لےگ...! 
ووس اظت: .می امرگ کی عاقل سے پونشید کی لسکرایک طالم یلم اپنے زمانہ 
اپ ین الا بت نے اشظائی در چوں شی ہلک ا جات او نشی اوک 
فاطیو ںکی نشاندج یک رتا ہے ا آکلہ بےطال بر پعلم بے لیم اصل ےکر ایا ہے اور اہۓ 
نصاب کے ایی تر بین امتقانات می لکامیاب ہوجاما ے اورلطورمثال ایان وعراقی سے 
سر اجار حا لکرلپتاہے ام ڈش کی ہا سے آبیت ال تھی کے خطا کا 
تن قزاردیا جااےء اب اگ روک یس اع" یس ا خ کی وانڈا ا ےل کی 
لیو ں کا حوال رر ےکر لوگو ںکو یہ او رکر پیر ےک ا نٹ سپوعم (نہم لا اعت ذس ہ 
یھو ال نے فلاں فلا موآتوں برغاطیا ںکیانھیں+اورااس کے اسماتھذ نے ا کی فاں 
فلا ںخاطیو کی نشا ندب یک شی ءاوراس پر ”قد اخصسطا“ کاف مق کی صادرکیا تھا یں یصاحب 
جو آبیت ایر ٹن پچ رت ہیں ء جب ان کے ماہراسما تن وان پر ”قد اخطا“ کاف بی صاور 
کر بے ہیں نو ان ک ےم و مکاکیا اختپار؟ ا نکی باتباع دز اس ط رح جائز ہلت ے؟ 
لی مال مس ا نک قول اورا نک را ےگس طرع لاکن اع دق اردکی اعت ے؟ 
وی ون نما ےکا کت کا پزد گن مات کے فو دی اک اخقانطر رٹل 
لا ےگا ای لے ےکنا یئل کے نک ذمانت فا پل یکیو جو رفاظو لک 
نیس دریکھا جا تاء بلراس کے فارغ اضصعیل ہہونے برا کے ٹاموراسا مھ دنےے اے جوسندر 
فضیلت عطاف ای اور سکوجوخطابات د پے ان پا کیا جانا ہے۔ 
ویک ای رب جانا جا ےک مھا کر اش ھدرنن نی گی کے طالب عم سر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


انان 
تی ےچ سس ےے 


مورفر ما گی تاءز مان طالم می یش ان حفرات سے اعخای چو ٹس بیبھول چوک 
بھی ہوئی ری ہی ءان کے استاؤ منقدیس وحتر مم سنہ ال لین صلی ادل علیہ لم نے ا نکی 
اصلاع وت بی تگحگفر مائی ہوگی ءاورا نکی خطا و اورلغزشو کی نشا دہ یبھی فرمائی ہکدگی ء 
کان مب اع گی طالرشی کے واقحات ہیں ہگگر مد زست شیقت کے بہ پاکال طال عم 
جب فارغ اتیل ہوکر کات ”خ امت کا جا ان کےع رجہجچایاگکیاء نشی ال تج کا 
شا ننکوعطا کیا میا أخ رت للنال گی مند 010,7 
در نت کے ان باکما لشا اگمردو کو پر١‏ نماہیت کم شرمم یومعلم کے ماصب 
فا کیا کیا رات ئھرسول انڈی٥لی‏ ارڈ حلی سلم کے شاگر ورشیداوزقما وا کے اُستاڑ 
اوٹ۱لم تے_ ان معقرا تکون وت کے دارالحلو مکی طرف سے جوسند خضیلت عطا کیاگئی :ال 
کے ایگ دو نے چی ںک رتا ہہوں : 
”عن حذیفة بن الیمان رضی اللہ عنه قال: کنا 
جلوسًا عند النبی صلی اللہ عليه وسلم فقال: انی لا 
أدری ما قدر بقائی فیکمء فاقتدوا بالّذین من بعدیء 
واشار الی ابی بکر وعمرء واھتدوا بھدی عمّارء وما 
حدثکم ابن مسعود فصدقوہ.“ 
(اترج رات می جا الاص٣ول‏ خ:۸ ص۵۰۲۰) 
تھ. ” نفثررت عذ یہ جن نان رنشی انک رخ ے 
روالیت ےک وہ کچ ہی ںکہ: ہم خی الیل علیہ لم کے پاس پٹ 
ہو تھے ہآ مکی ال علیہ یلم نے فربایا: یھ مھلو فک سک ہاب 
می ںسکتتا عرص تم لوکوں یل رہو لگا تو میرے بعدتم دوصاججو کی 
اتا عکرنا۔ اورپ مکی اللد علیہ مم نے حضرت الوم اور کی 
رف اشاروفرمایا۔اورگمارکی راہ ے پرایہت پاناءاور جو پوگپرائڈہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹66 ۷7 


این سجود( می رکی ططرف سے ) بیال نک مس ال سکی تفحد فیک ربا“ 
عن عبسداللہ بن مسعود رضی اللہ عنه قال: قال 
رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم: اقعدوا بالّذین من بعدی 
من أُصحابی: أبی بکر وعمرء واھتدوا بھدی عمًارء 
وتمسٌکوا بعھد ابن مسعود “(رواوالترنزی وۃ ص:۸ء۵) 
ترجہ :.. ” مضرت عمبدرارڈر بن مسسعود شی الفد حنہ بیالن 
گرتے خو کہ رہولل انی از علیہ مل نے فھر مایا : خیدرے (عد 
بیرےاصحاب میں ے دوصاجہوں من ااوبگر اور رکی ایت اک رناء 
مادکی داد سے ہدایت پا اوران ود کےط ین ھکوتھا ھے رکھنا “ 
”عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ 
عنھماء ذکر غندہ عبداللہ بن مسعود فقال: لا أزال 
أحبهء سمعت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم یقول: 
خذوا القرآن من أربعة: من عبدالء وسالمء ومعاذء 
وابیَ بن کعب. وفی روایة: استقر ءوا القرآن من أُربعة: 
من ابن مسعودء فبدا بہ وسالم مولیٰ أبی حذیفة ومعاذء 


وات* (جائؾااضول رع:۸ ص:۵۹۸) 
ترجے:..” نر تکیدااڈ بک نع گمرو بن الال ری رن نما 


ے مرول ے؛ ایک عرتہہانع کے سا نے ععبدراڈد بن مس ہو ڑکا ج زگرہ 
ہوا نو کن گے: یں فو پبیشہ سے ا نکوحوب رکتا ہوںء میں نے 
رسول اںڈییکی ان علیہ ول مکو بیف مات ہوئے سنا ےکہ: ف آ نک رم 
کو جا رعفقرات سے اص لکمردہ اور وو ارڈ بن صسحود سال ء مواڈ 
ین پیل اورا یی نکحب ہیں- 

اورایک روایت کے الفاظ بیوں ہی ںکہ: ف رآن بڑھنا جار 


۷7( ۹.۷۷۱۲۹۴6866>٥٥٣۱۷۳١0۲ا61‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


۴ ۱ سی كام کپ ےرقافالد 


ااوضذ اذہ کے فلا سائم سے اورمعا ے اورأ یے_' 

اب ا نکی ا کیل اورسنوفضیلت کے بدا رکو ٹیس ا نکی ز مان طال ھی 
کی کول چو ککا حوالہرد ےکا نکی با تجاح سے سا خی تکو پ رکش کر نا حا تا ےپ 2 
کے نز دک ا ںکاظ رٹل ماتوا ںکی عدے بڑڑھی ہوٹی عقلیی تکامظہرے یا ا یھ سج 
وعنادکا آیٹردار۔ برحال مد رسن نت کے پاعممال فقلاء کے بارے میں ا کی سر ائے 
الیل کے زد یک لا الما تیلں۔ 

عافط انم بہت بپڑ ےآ دی ہیں بلم ض لکی بلند ویپ فا ہیں ء اور 
ا کار دانع کے سان ےطخ لککجب او رکووک نادا نکی ضنیتجگ ینیل رکھتا مان حافظط اکن 
و علض کے باقضحف -- جچہاں اکاب رأمت سےا لک راستہ اخخضیارکرتے 
ہیں ٤و‏ ہاں اکر وٹ یشترءا نی ہڑھی ہوئی حقلیت ور مکی ہنا یر وھ وک رکھاتے ہیں ۔ زیر پکنٹ 

مکل مس ا نکا موک کھا نا بھی الع کے شذروذک ینحوست ےا اس مخ انع کے اس تد لا یکا جر 
ٹحھیک نشانے مکی لک کا ۔اوراس نا ارہ نے انی نا دای وف اور ےھ دب میر زی 
کے پاوچودائس مسکلے میں این مز مکی وک پر جو تق بکیاء ا کی مشثال ددی سے جو بن ررگوں 
ےک ایاج 
گاہ پا رک ےگودی نادال 
بخلط بر مرف ز ‏ تیرے 

رت ااوبگ ری الع کی خطا کاواتے: 

ا منامسب شہ+ گا گر بہال ائس ذا ےکی وضاض تگمردیی جائئ جن کے بارے 
یس اہ نت ز مم ن کہا ےگ :”ان أبا بکر قد أخطا فی اتانسیر قضسرة'' داقن بفاری: 
سکم یس در ذ یل الفا ظط مردکی ہے: 

”ان رجََلا آتی رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


فقال: یا رسول الل! انی أری اللیلة فی المنام ظلَة تنطف 
السمن والعسل فاری الناس یتکففون منھا بأیدیھم 
فالمستکٹر والمستقل وأری سببا واصلا من السماء 
الی الأرض فاراک اأخذت بە فعلوت ثم اأخذ به رجل 
من بعدک فعلا ثم أخذ بە رجل آخر فعلا ٹم أخذ بہ 
رجل فانقطع بە ٹم وصل لە فعلا. قال أبوبکر: یا رسول 
الله! بابی وأمی أنت واللہ لعدعنی فلأعبرنھاء قال رسول 
الله صلی اللہ عليه وسلم: اعبرھا! قال أبوبکر: أما الظلَة 
فظلۂة الاسلام وأما الذی ینطف من السمن والعسل 
فالقرآن حلاوته ولینە وأما ما یتکفف الناس من ذڈلک 
عکثر من القرآن والمستقل وأما السبب الواصل 
من السماء الی الأرض فالحق الذی أنت عليه تأخذ بہ 
فیعلیک الل بە ٹم یأخذ به رجل من بعدک فیعلو بە ٹم 
یاخذ بە رجل آخر فیعلو بے ثم یأمخذ بە رجل آخر 
فینقطع بە ٹم یوصل لہ فیعلو بەء فأخبرنی یا رسول الله! 
بأبی أنت وأمی! أصبت ام أخطأت؟ قال رسول اللہ صلی 
الله عليه وسلے: أصبت بعضصا وأاخطات بعضاء قال: 
فواللہ یا رسول الله! لعحدثنی ما الڈی أخطاأت,ء قال: لا 
نشی" آ ( ای جم ص٣:.۳م‏ ٥ا‏ گی مسلم ٣:‏ ضص۲۴۳۴) 
.'(حضرت امن عبا کا بیانع ےک ) ایک 
رجہ وہہ سای وم 
کہ: مار سول الد اٹیل نے رام کوخقو اب میں د یکھا کہ ایک سا مان 
ےجس س ےکی اورشہ دک در ہا ہے ءاورلوک اپنے غ انکھوں سے اس 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


سس6 ہیں ءکوکی 72 سی ئن ء2-2ء2ع) 
آسعانع سے ز مین 2 9ب نآ پکود یکھا ٢‏ لس 
ینک ولک دجام مگ ءئ رپ کے ای اون ا کے 
91 2 00 
'فک7فرف گے سلوا مز نگ اکر 
کی ودای ظا 

اور نے میک نگ رت کیا : ارول ال دا میرے مال باپ 
آپ پر دا ہوں! جھے اجازت دی چچ کہ یش اس خوا بک اکر 
ذوں ۔آتحضرت مکی ارد علیہ لم نے رما یا: ابچھا با نکرو! انہوں 
قالطا لئ ے لاوش 
سے وق رآن اور ال لکی علاوت ہے٤‏ اور ا کے ا جھائنے وا لے 
قرآن ےرا اض لزا وا نے نہ اوت ان سے 
زین تک گی ہوکی سے ودتن ہے جو ال تتھا لی ن ےآ پ پ نانز ل فر ا 
ےا یکوتھا ھےر کن سے اتال ی؟ بپکوأ و یر یڑ ھا ےگا ء اور پھر 
آپ کے بعدای کٹ ا ںکو یڑ ےگا اوردوا وپ چڑھ جا ۓگا؛ 
ایک اور ا سک پا ےکا اور وہ گی أو بر چڑھ جا ۓگاء پھر 
07 ان کا گا 2 تق یٹ جیا ے انگ زار 
تڑ جا ےکی اورد شی أ وی جرح جا گا۔ 

ا ول الشر! آپ بر ےت مان باپ ئرہان ہوںء 
فرمای ےکی ن ےجیک ردی یا فلطا؟ آ پ صلی ارد علیہ یلم نے 
فربایا: پمیک دکیء ھھفلط ا ححظرت الو رد لی نے عون سکیا ما 
رہول ال ! آ پکو دا امم سے جو میں ئے ل ط ما سے وہ بے 
تادریی .آ فحضرت می اون علیہ یلم نے فر ما پاش وو 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


اس وا ت می حظضرت اکر صدرلقی دش اللر عنہ سےکیا خطا ہوگیی؟ 
آ[حضرتت صلی اور علیہ یلم نے خودا کی رع کی فر می ء اور شما رشن حد بمہٹ ان 
ساسلے میں متتدد ا شما زا ت کے ہیں ۔حطرت شاہ ولی ارڈ محرث دبلوکیفرماتے ہی ںکمہ اس 
خواب میں خ اما ۓ را شع نکی خلا تح کی طرف جو اشار و تھا حضرت ال وک ری الڈرعنہ 
نے ا ایوس ذربائی رم دہ تن انل نیل ول ما تر پکڈر اا۔ 
چنانیشا و صاح بب کھت یں: 

قول اخطات بعضّا مل ءورو تنا کہا گفتانر ان 
آنہ بز من ای ںفقی رمق رشد وآ تک مراد از خطا رگ تحیبہ ایی 

۱ف رات إوگّلٰ ازامها ره اج ےآ روط زو سرن“ 

(اژال ھا ع۱ا ص۸۰) - 
:”ارول اولر ض۱ع الہ علیہ وم کے ارشاذ 
”اخطات بعضا“ گی علاء ن ےکی ایک وجوہ با نکی ہیں ہراس 

قی کے نز دریک صرف می خطا اس میں ہہوئ یک خلغاء کے نام ذکر 

یں سک ا ںکولظو اسیا و ڑا ےگنر _'' 

ال قییداقعہ .... ملیہ اک آپ دکود ہے ہیں ..-- ایک خوا بک امجیرے 
معلق تی, پچ رحضرت الوب رصد لق شی رشح کا سا نۓ خلغا ءکو کر نکر نا جا اع رسول 
ی٥ی‏ الشعلیہ یلم ہوسکتا ہے :اس کے باوجودحافظ انز حکی ناک ہاگ یکی دادد ہج 
ہداس وا تے سے یہ اتد لال فرمار سے ہی کی حا ی کی تظیرروائں _زراإ صاف 
یی کہاگ ری عا لیم ےکی خوا بکیتی ریس کول وک ہو جا نے کیا اب لنقل کے 
نزدیک ببائسل أ مکی ول ےک یہ عالشریوت کسی مک می بھی لاکن اتا کی ر ا؟ 
ا خوْل وَلا قُوّةَ الا بالڈ,...! 


۱۷۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳٣٥٥٠٥۹ 6م۷۷۱۲۹۴.‎ ۷٥ 


ضز لی اس 5ر رش 
حافظطامن7مُ نے''وکذب عمر فی تاویل تاولہ فی الھجرۃ“ کے/ہیب 
الفاط ےجس وا ےکی طرف اشا کیا ہے ا سک تقیق بھی من لیت 
داع بفاری و سلم ٹیس سے خلاص ہا لکا ری کیہ ہ گی ععش: کثررت 
شمفڑاوران کے فا مکی ععشہ سے وا بی رر کے مو ٹن پ ہوک گا ء انی ماج بین یل 
مضرت اما ہشت ین رضی الٹععن ہاگ یھی ۔اک دن رت اسمائءأغم الم ومن حضرت 
فص ڑل( تفر تفم نشی اللحندگی اب زادٹی سے لے ان کےگن کی ہوٹیعیں :ا نے 
دس ضر گمرریشی الڈع ھی اتی صاحب زادکی کےگھ رآ ے ؛ لے مھا یکن نا تقذن ہیں ؟ 
تنا اگ یاکی:اسما بخ مجن ہیں +نعظررتکڑنے اع سے عزاظرمایا: 
”سقناکم بالھجرۃ فنحن أحق برسول اللہ 
صلی اللہ عليه وسلم منکم.“ 
تق جمہ:.. نم ارت می کم برسقت نے گۓء اس لئے 
آحضرتسلی اور علیہ ےلم ے جا رات نم لوگوں سے زیادو ے۔“ 
اس پر رت آسا یں او رکہاکہ: ہرک نیس تم لوک رسول ا٥ی‏ علیہ 
لم کےساھھ تھے ہآ پ تار ےبھوگو ںکوکھا جکھا تۓے تہ اواتفو ںکع یف ماتے جھےہ 
اور ڈورورازکی پرائی سرز ین یش تےء اور رسب پچجھا یتال اوراس کے رسول صلی ال 
علیہ ول مکی رضا کے لے تھا۔ اور دای سکھا انی سکھا و سکیا ء نہ بای تی کی بیہا کک 
ککھہادییااں یا ٹکا رسول انڈی٥کی‏ اللہ علی لم 0 و و 
علیہ مل تشریف لا ےتآ پ مکی ارشدعلیہ وم سے مر تکڑکی بات ذک کی ءحضرتت لی 
ان علیہ عم نے فرمایا: 
”لیس باحق بی منکم ولە ولأصحابه ھجرۃ 
واحدة ولکم أنتم أھل السفینة ھجرتان.“ 
(قارلق ٣:‏ ك۴ ے٦٦ء؛‏ 2 قع:٢‏ ضص:۳۳) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳٠۱٢٣ .۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


یلا ای جو از لیکشت (یاد 
میں یگ ا نعل وکوں کو ایک اور ت تعیب ہہوٹی اور اے ال سفین! 
خم لوگو ںکودو اپ ری ں تعیب ہونیں ۔' 
حطر تگھمریشی اشدع دکا یرا رش وک یں ارت میں سدقت نیب ہولی ءا 
لئ ہہ راتتلقیآتخحضرتملی ارڈ علیہ وسلم سے زیادہ سے از راوعزاح تھا ہآخحض رت صلی 
ان علیہ ٥ل‏ مکی خدمت میس جب اس انان نے شکایت فرماکی ذ ا نکی وی کے لے 
فرما اک عمرغلط کے ہیں کیونک جن ہعطرات ن مہ سے مھ ین دی طرف اجثر تک ءا نکو 
ایک اجثر تکا و اب ملا لا نم لوگو ںکوڈ ہیی اجثر تکا تو اب ملاک تم لوکوں نے ایک پار 
ع ش کی رف ار تک اودڈ وسر باردہاں سے م بینکی رف ۔ ال فحاظ ے یں ان بے 
فضیلت ءال ے۔ 
حافظد انج کھت ہیں: 
”ظاھرہ تفضیلھم علی غیرھم من المھاجرین: 
لکن لا یلزم منە تفضیلھم علی الاطلاق بل من الحیٹیة 
المذکورۃ.“ (ّاباری ؾے ص۸۴۰٠)‏ 
تر جمہ:.. _ظاہراس سےا ںکی فضیلت انی ہاج بین پہ 
معلوم ہہولی ےمان اس سےا نکی فحضیلت ہ راظط سے لا ز مکل 
آی بلصرف زکورہحثیت ے یفقیلت ے_' 
ترتع نشی اڈ رع نہک مقصمد بی کی می ںآخضرت سی اڈ علیہ مکی معیت 
ورفاق تکازیاد 1 موشح ملا ءا لئ ہما رااصتکق یآ حضریبتص٥لی‏ ابشدعلی یلم سے ڑیادو ے اور 
آحض رت صلی الد علیہ یلم نے ہا جھ بین عو ش کی دچوئی کے لے ف مالک یں و ہرک ہجثرت 
کاٹ اب ما ء اس لا ےتمہا رات بھ یآ تخض صلی ادف علیہ لم سےگمیں ۔ 
ای !ات یی پا گی ج سکوجنگز :نکر چٹ يکیامگیاء اوراس سے ےی کل أخذ 


۱۷۷۷۷۷۷ .ٌ50610۲١٢١۷۳۳۱۱١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


گر ای تهب می عحالی کاو لکو ا جاے :ئن ددپ کی وروی 
7ھ 
اپوالسنائل ری الٹرع کا وا تے: 

حعافظ اب نتم نے ابو سنائل شی اید نہ کے شس وا ےکی طرف اشنا ر ؛کما 
ے٤‏ اک خلاصہ ہہ ےک حخرت سی سی ماری سر وڈ کو تج رخرر 
تال ودارع مب ان کےشو ہرکا اتال ہ گیا جہ یب ھا میس ہشوہرکی وفات کے چنددن بعد 
ان کے یہاں ےکی دلادت ہوگی۔ چوکہ پل سے ا نکی عدزت پارکی موی اس 
لئے امہوں نے عق رکا اراد ہکیا۔خخرت اوالستائل بین بلک نے الع ےہاک : شا یتم 
ناج کا اراددکرری ہو؟ جب تک چار غینے دس د نکی لگ رجات تم عوق دی ںگرتں۔ 
سی ڑا ےآتحضررت لی اللرعلیہ یلم سے مل ہدریاف تکیا نآ پملی الشدعلی دسلم نے ف رمیا 
کہ وش تل کت ہماری ععزت پوریی ہوچی سے بحم جا ہو ورک ری ہو 

(ج بفادی ع:۳ ۴ضص۸۰۲۴۰ء یسل ئا ص۸۷:۰٥)‏ 

سورٗ بر وآبیت: ۳۳۴ یل متو می عنہاالنرو جک عزت جار مپینے دل دن میا نکی 
آئی ۓےءاوسور؟الظل ق یت :"ٹس حا ملیو رن لکی عز تل وش تل کرک یگئی ےو خر 
الذکرآیت میں جونئ کہ مطائزکورنو ںکا کچل ر ہانتھاء مج اڑل الک رآ بت۶ نٰ عنباالروح 
پا ےکا رین ۃ انل لئ حفضررت اوالرنا من کےف ےگ یکی ماد مگ یاک۔ہاخہوںن نے انال 
الک ری تکوعامطہ او خی رعاملہ کے لئ عام رکھا اوزمو خر ال دک رآ بی کو مطاقہعور تن کے 
سات نو س مھا جیا نآ تحض رت مکی ار علیہ یلم سےفے کی سے معلوم ہوا یسور الطاقی 
کی آیت:۳(”واونٹ الا خحمالِ اه ان من مل“ )تام عاملیگورتز ںکوعام 
ے خواہ مطلقہ ہوں یا متو لی عنہا ال وج بہوںء اورسورٗ لبق رہ کیانحولہ بالا آیت خیبرعا لہ کے 
سات رخ یں ے۔ 

ارخیل سے معلوم ہوا کاو ہیام نے جوف گیا دیا تھا اا لک یتو کی جذیادموجود 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١ ۱۷۳۳٥٠۱٢١٣۹.۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


2 اس ئن ےی سج سے 
ےئل عاعل ختوڈی عتما ال روح گی ععزت کے پوراہو جا کی رع نہ ہولی نو شایداکنراٹل 
لم دیپ کی دیے پرئجبورہوتے جوا وا لسنائل نے دبا نھا۔ 

الفررش ابوالسن می کے مھ مس زیادہ سے زیادہ ا شتادیی خطا ہوک ء جن سصکی 
آتحضرت می الشرعلیہ یلم نے اصلا فرمادگی۔ اد ری اک ہأو یر ذکرکر چکا ہوں ؛جچ گر 
جنتجاد یس خط اکر ےاے ا لکویھی ایک اجر ملا ہےء اس لئے اس وا ٹے سے یہ امتند لال لکرنا 
ک یما یکیتفلیدر یں مہ بات عافظد ان :کیل می ی7س ے...ا 
رت لی رشی ار دع کاخ گی: 

ہا ںآ نا بکی وجہ ایک اور سک کی طر فبھی مبذ و لکرانا جا ہتا ہوں_أو یر 
گمز نکاس ےک جس عامط فور تکا و ہر انتا لکر جاۓ ؛آضحضررت مکی وڈ علیہ ویلم نے 
الوالسن ع ک فو گی کے لاف اس کے بارے میس نیغ ےکی دیاکہ شع قسل سےا لک عنت 
ری ہو چا ی ٹس حض رت مل الل ھا ےلم کے اس فو بی کے بعر جھ ور علیا ۓ سلف اور 
فاگی ن ےآ خحض تی ال علیہ یلم کے اف کی کے مطا لق فق کی دیا ان سرت لی 
شی اللدع کا گی دجی ر پا جوابوالسن می نے دی تھاءاورج٘ سک یآ حض رت صلی اول دحل پسلم 
نے اصلاحفرمائی اگی۔عا فداین ت رنج امباری میں لیت ہیں: 

”'ورقد قال جمھور العلماء من السلف وأئمة 

الفتویٰ فی الأمصار: ان الحامل اذا مات عنھا زرجھا 

تحل بوضع الحمل وتنقضی عدة الوفاۃء وخالف فی 

ڈلک علی فقال: تعتد آخر الأجلینء ومعناہ اُٹھا ان 

وضعت قبل مضی أُربعة اُشھر وعشر تربصت الی 

انقضاٹھا ولا تحل بمجرد الوضعء وان انقضت المدة 

قیل الوضع تربصت الی الوضع. أخرجہه سعید بن 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢٠۴۹۰۷۸۷۷۵۲۹6۴ 7۷ 


منصور وعبد بن حمید عن علی بسند صحیح؛ وبه قال 
ابن عباس کما فی ھطذہ القصةء ویقال انه رجع عنه 
ویقمویے أن المنقول عن اتباعه وفاق الجماعة فی 
ڈلک “ (الباری ج.:٭ ص۳٠٣)‏ 

ترجھ:..” ہو را ۓ سلف اور اھ جک یکا قول بیرے 
کر حاطط کور ت کا شو ہرثوت ہوجا ‏ ۓ پے ا کے ساتھھ بی وہ 
آزاد ہوجام ۓےگیء اور ای یقن کی ات ری پبوجیائۓے 
گی ۔حفر تہ کا کی اس کےخلاف ہے؛ چنا غجران کے نز دیک 
ام یفورت دونوں ملڑل ٹیل ے بعردا ی رک ظز تلڑارے 
یبن کا مطلب بی ہ ےکہاگرائ لکول چا ماو دش دن سے 
لے کیا ق دہ جار ماہ دں د نکتک ععی تگز ار ےگی ‏ صرف شح 
صل سے وہ آزادقہ ہوگی ء اود اگر مت بکورہ پل سے بسلے 
ری ہوگئی فو تس لکک اتنظارکر ےگیا۔ 

حر تل سے یف کی سعید بن منصوراورعبدب نتمید نے 
3 سند کے ساتجھ ردای کیا ہے جیما کہ اس واج میں کور 
ہے۔ این عبا کا قو بھی بجی فھاءچرانہوں نے اس قول سے 
ہجو غکرلیا اوران سے اجماع مت کے مارح کا منقول ہونا اس 
(زجوغ) تی دییل ے۔“ 


حعافظ ان ججرُنے تع رت می ری ایڈرعش سے جوف کیا لکیا ہے شییعہ مہ بکی 


مم دکمابوں میں ای کے مطاٹن فتو کی ےء چنا نیف روغ کاٹ میس اس سلم کی تودر 


زنایا تن لئ تھال جورائ لٹ لآرغاسل: 


”- محمد بن یحبیء عن اأحمد بن محمد؛ 


_ عن علیٰ بن الحکم عن موسی بن بگر:عن زرادة:عن_____ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳٠۱٢٣. ۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ابی جعفر عليه السلام قال: عدّة المتوفی عنھا زوجھا 
آخر الأجلین لِأنٌ علیھا ان تحد اربعة اشھر وعشرًا 
ولیس علیھا فی الطلاق ان تحد. “ 

”۵7- علیٗ بن ابراھیےء عن أبیەء وعدّة من 
اصحابناء عن سھل بن عبادء عن ابن أبی نجرانء عن 
عاصم بن حمید عن محمد بن قیس عن ابی جعفر 
عليه السلام قال: قضی أمیر المؤمنین عليه السلام فی 
اسرأۃ توفی عنھا زوجھا وھی حبلی فولدت قبل ان 
تنقضی اربعة أشھر وعشر فتزوٌّجت فقضی ان یخلّی 
عنھا ثمّ لا یخطبھا حتی ینقضی آخر الأجلین فان شاء 
أولیاء المرأة ُنکحوھا وان شاوؤا اُمسکوھا فان أمسکوھا 
ردُوا عليه ماله.“ (الٹروٴ اکا بج:٦‏ ص:۱۳ء"ط+ومتبران ) 

سر سرور ا7ص رر 
ہی سک متو فی عنمازدچھا کی ععزت دوڈول مدثوں میں ے؟1خر شس 
وی ہونے والی ہوگی کیوکددہ ار ماود دن2( بہرحال )سوک 
منا گی :یک طلا ق قکی صورت بی الس سو ککا سوال یں 

ڑیں ”ےفز تنگ ناش دای تک کس 
کہا نہوں نے فر مایا: امیر الم من رصھی الف دعشہ کے سام ایک اڑیی 
عور تکامقد ہآ یا جم کا شو بروفات پاکا تھا اود دہ حا لشگی ءال 
کے پا جار ماو دیس د نگز ر نے ےل فی وآ وت پان ے 
ضر اف وا رپ 32 کہ شوہ را سکو اہیے 
سے قد کر دے او رآ خر مت پوارگیا کون ےتک ا کو پا م مکاح 


نہ بییجےہ اس کے بعد اگ رعورت کے اولیاء جا ہیں تق اس کا تکاح 


لئ حکرنے )کی صورت میں اس مرد سے (مپروٹیرہ یس ) لیا ہوا 
مال وام ںوناد یں۔' 
الناردایا تک دوک یل ”تیب الا ام "اور ”من لا یحضرہ الفقیہ“ٹش 
بھی اسی مرف کی دڑے: 
"اذا کانت المتوفی عتھا زوجھا حاما فعدتھا 
حملھا فعدتھا أن تضع حملھاء وان وضعت حملھا قبل 
انقضا الأربعة أعشر وعشرٌا کان علیھا العدَة أربعة 


أشھر وعشرا“ ( ز یب الا ام بج:۸ ۴ض:۰٥٥)‏ 
تج :”اور اگ روئی فغنا زد چیا عاہ ودتڑ ا یی 


عزت دونوںل مین ا 0 ر6 نے جار 
اوک ےکی ۔ از ؤ عل نہ ہوا تے ال ںکی عدزت وش تل 
ہوگی +او راگ جار ماو وش دا نگمز رنے نیودت ئن 
ا لکوچار ماودول د تک عرت مل جی رہناہوگا_ 

”- روی زرارۃ عن أبی جعفر عليه السلام قال: 
والحبلی المتوفی عنھا زوجھا تعتد بابعد الأجلینء ان 
وضعت قبل ان تمضی أربعة أشھر وعشرة أیام لم 
تنقض عدتھا حتّی تمضی أربعة أشھر وعشرۃ أیامء وان 
مضت لھا أربعة أشھر وعشرۃ أیام قبل أن تضع لم تنقض 
عدتھا حتی تضع.“ (من لا یبحضرہ الفقیه ي:٣‏ صض:۳۲۹) 

تجہ:..! حاطہە سکاشو برقت ہہیا ہو دو دونوں میں 
سے لعددالی مز ت کک علزت یٹ ر ےگی ۔اگمرااس کے ہاں جارہاہ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


مدان ےنگل جیا فلا دت پوَ لئ سےا کی عنت وی 

پگی کہ جار ماد دو دنع عدّت یز جےگی. اؤذ گر پش تن 

سے بے ایی جار ماہ دش دن اپورے ہو گے فو بھی ال کی عزت اس 

وش ت تک ہو ری کیا ہولی ج بت کک وش یتیل نو جا 

نے شکرنا جا تا ہو ںک اگ ابوالسن ماس لئ لان اعما وی ر ےکم 
ا ہوں انت اہننچاد سے ایک پت کی دا تھا اور رسول شی 2-7 نے ا گیا 
لاف مادئ یھی ء2 ناب کے نز دیک وہ بز رگ (حفرتلی رنتی ارشرعنہ) سے اکن 
اعد ہیں ج وآ حضرت مکی اللہ علیہ وم مکاف کی صادر ہوجانے کے بحدال سےخلاف گی 
رت ہیں؟ ہکیسااندھر ےک اگ ایک صھالی کے !تا دی ےک ی اض رتمک انڈدعلرہ 
یلم اصلا فرماد یں نو و سال یآ ناب کے نز دکیک نا تا بل ا ارت ہیں ء اور وصرے 
صلی آحضرتت صلی الل علیہ وملم کےصرع فنڑے کے خلاف نکی صادرفرماتے ہیں٤‏ وہ 
آپ کے ز دی متسو سمگن الفظا فھراد یاتے ہیں : 

بسوشتکئفل زقجر ت کرای چا واگجبیست 

نمی ای کی نکمتنرانہ با تح >کہنا ری ےک جوم فی کے خلاف این 
7ز کا مونف خلطاورا نکا اتد لال بے جان ے۔ 
ورک جٹ: حا ہرکراش اجب الا تا ہیں ءاس کی دلال: 

ناب تن ےگ رمرفر مایا تھا ینعی وعی دزال اتاح صا لے ےش وذ کا مات ھکیں 
کول فرمت ض7زآ یھ ءاداممخضیا ارات ککازٹازٹ 
تے ہیں ؟آ ےق رآان وسشت اود ازش دا ت اکا کی شی میس اس مت ےکا زان 
اتا حا ق رآ نک ری مکی نظ میں : 

سب سے پچ یلق رآن می دکو میچے ! ق رآ نک ری مکی بہ تی آبات سے ضر بجاو 
تو بج صا گرا کا ڈوسرےلوکوں کے لے واجب الا تا ہونا حابت ہہوتا ہے۔الن یل 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢١٠۴۹۰۷۸۷۱۲۹6۴ ۷ 


ےا ایس لن ا سو تل را ون ن مخا 
ران کے را ےک پیل الھ م۲ن فا انی سے را فکرنے والو ںای مکی وید 
نال یک ے چارآیتی ای ذک رک چک ہوں ٠‏ جن میں اہ تک امیا ےکرص مت عرا تشم 
کر ےہا سکالازئی تہ ےک ون عرا ٹیر لاو ا؟ غ میسن 
مرا کی پچ ر دی کی کیا ور کا انا گا یہاںخ اچ اتا للا 
ہوں جن یں ھا مرا شاکی ا غکاصراحنا با شار حرف مایاگیاے۔ 


برک یآ یت٠‏ 

قوله تعالٰی: ”وَاِذَا قیْل لَهُمْ امنوٰا کمَا امَنَ 
ناس قالزا زی کنا ای السفهَاۂ الام مُمْ 
السُفَهَاءُ وَلْكِنْ لا يَعلمُودَ“ (الت٣:۱۴)‏ 

''وأسند ابن جریر رج:١‏ ص:۱۲۸) عن ابن 
عباس وابن مسعود وناس من أُصحاب النبی صلی اللہ 
عليه وسلم والربیع بن اُنس وعبدالرحمٰن بن زید بن 
السلمء فی قولہ: ”فَالوٰا انوّمِنْ کَمَا امَنَ السُفْهَاء“ یعنون 
أاصحاب محمد صلی الل عليه وسلمء ویقول الحافظ 
ابن کثیر فی تفسیرہ (ج: ا ص:۵۰) ”قَالوٰا انمِنْ کما 
امَنَ السْفَهَاء“ یعنون - لعنھم الله - أصحاب رسول اللہ 
صلی اللہ عليه وسلم - رضی الہ عنھم- قاله أبو العالیة 
والسدی فی تفسیرہ عن ابن عباس وابن مسعود وغیر 
واحد من الصحابةء وب یقول ابن اُنس وعبدالرحمٰن بن 
زید بن اأسلم وغیرھمء وأآخرج ابن عساکر فی تاریخه 
بپسند واہ غعن ابن عباس فی قوله ”امنوا کمَا امَن انام“ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


قال اأبوبکر وعمر وعثمان وعلی کما فی الدار رج:ا 
لک 
تر ...”اور ج بکہا جاجا سے ا نکو: یمان لال جن 
رح ایمان لا سب لوک ,و سکیچے ہیں :کیا جم ایمان لائئیں جس 
رع ایھان لاۓ بوقوف۔ جان لو وی ہیں قوف مین جاتۓے 
یں جا (ڑھ:گڑالنز) 
”امن جم یلرک (ج:ا ص:۱۲۸) نے اتی سنعد کے سا تح 
ان عیا اہین سووڈاو ری کی علیہ یلم کے بببت سےا ساب“ 
کے علا وم رب بن اس اور یلین بن زی بن اسلم سے ف مان 
ا تھالی:”افِن کا ای الما“ ریش بن لکیاے 
کن نووا سےا صحا بش کی اون علیہ ےلم مرا لیت تھے_ اور 
حافظ این حر( ع:ا ي:ؤ) لو ل: انس گنا اشن 
کس سے انممتوفنو کی مرا دا ٥اپ‏ رسول ارڈ لی ال علیہ 
لم تھے۔ الو الحالیاورسدیی بھی این عپا این مسحوڈاور بہت 
ےجا سے میئفی نف لکی ہے۔ او یی قول ان انس اور بد اشن 
بن زی بن اعم وی رہ عفرا تکا ہے این عس اکم نے اپٹی جار 
مس از عیا سے ای کک ورسند کے ساتح ا نک یٹول ود کیا ے 
لاس مس ای یی جیے ابویک رر نان اوریلی 
(شی اش مم یمان لا )۔' 
سآ یت ش ریف میس مناضقی نک و تحضر ملی اد علی لم کےسصھا جا ایمان 
لالےے کی دگوت د لگئی ہے اوراس کے جواب میں منا نی نکا مقو رن لک گیا ےک کیا ہم 
ان بیوقوفو ںکی ط رح ایمان ای ؟ اس کے جواب یں فر ما کہ برمنافی خودہی اق اور 
بیوقوف ہیں مرا نک یی کی ںکلیفل وخردےککیتے ہیں اورحماقت دو بیوٹون ی کیا چزے؟ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳٠٥٢٣ .۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


او نخان 


پً 


لاج ت تم امدے چندأ مور مت دہو ئۓ : 


اول:.. ض٠‏ .رام رص ی ارڈ تن کا ا نیما کا ںا اور معیارکی خھاء مس کے مطائی 
ایمان لان ےکی من شی نکووکزت وب یکئی ءاگمرا نکا ا ران نان ما مشتزہہوز نو مزاضق نکو ‏ 
نت ا شر دگی عالی کہ دہ اصحاب زوگی ان صلی ال ما عم دی الل دم کے یما 
ایا ان لانین۔ 

د9 :... !یمان اور ایا میات یش صا ۔کرا مکی تجاح اجب اور وو قیام 
کو ہبی جو ان سر یکو 
پہ اص‌خا نکر جیی۔ 

سے و کرام ک ےکن سکتتا جیا ںکرنا زا نک وا تتی و ۓےنش لکنا اوران 
کے پارے یں نا شا سن ز پان استعا لکرنا من فقو کا وطی ردے۔ 

چہاریم:.. جوف سا راغ ےق ٹیس زان درا زگ یکر ےن تھا ی شاتے کی 
جاب سے ا کو انی ط رع کا داب ویا جا و و کے وو دا خود 
اتی نے اورجوٹٹس ا نکو ےا یمان یاخنا فی کہ دوا ئل تھالی کے دیس شود ٹے یمان 
اورمنای ے۔ 

7 . چولوک صا برک راخ ینز یکر نے یئ ء ا گی ماد گوگی ا نکی گی 
تحیقت ناش ای او ر ڈول مرک بب کانجرے۔ 
وُوسرکیآ یت 

”فُوْلُوْآ امَنا با وَمَا ار الينَا وَمَا تل الی 

اْرِیٔم وِاِسْطعِیل وَاِشاق وََقوْب وَالاسْبَاط وَمَا اَی 

مُوُملی وَعِیْسلی وَمَآ اوٰتی لن مِنْرََهمم: لا رق نین 

أَحَدٍ مَنهُمْ وَنَحْنْلَه مُسْلمُوْنَ. فَاِنْ امنوْا بِمعْلِ ما امَنتمْ 

بے فَقَدِ افسَدَوا وَإِن تَوَلَوْا فإِلمَ مُمْفیٗ فِفَافِ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6۴ ۷ 


تتاقئی ساوک الْسْمِیٔم اَل“ (ا تہ )٣۳2۸۱۳‏ 
ترجہ:..””ف مکہدد کم ایمان لائۓے الد بر اور چ2 
پھم براور أ2ا ای رانیم براور اما یل اور احال راور لوب پ 
اور ا کی اولاد یر اور ج ملا موی کو اورک یکو اور ہو ملا ووصرے 
مرو ںکوانع کے بر نکی طرف سےہ پھر فر ق یی ںکرتے انع سب 
ٹس سےایک میں بھی ء او پھم اکی پردددگار کےف مال بردار ہیں ۔سو 
اکر ووچھی یمان لادیی جس طرح تم یمان لائے نے ہایت پالیٔ 
اہوں نےبھیء او راگ پچ راو میں نے بچمرواہی ہیں ضر پر :سوا کا 
ہے تی کی رف سےال نکواینداور دای سے سنے والا چا تئۓ والا _ 
تع :جو النڈ) 
کی آیت یں صابرکرا کو ابھاحیات کے ایک جح کی لقن فرمائ یکئی ےہ اور 
ڈو رئی یت میں فر مایا گیا ےکا ليکتاب اگرقم جلیسا !یمان میں فو دای تکو ای گےء 
ورنہ دو شقاقی ونفاتی میس بنا ر ہیں گے اور اللد تما لی ان کے شرسےآ پک غامت 
فرماجی گے۔ 
لات سے بھی خایت ہوا کہ ابھانیات ٹیس صھا کرام رضوان الڈ مہم 
ای نک ا یمان معیاری سے اورقمام انماوں کے لج ہدابی تکو ان کے تسا ایمالن لا نے 
کے سا تق مش رو طکیا گیا ےہ اذا یمان اور ا یماثیات میس بھی صسھا۔کرا مکی تجاح شرطے 
رایت ے۔ 
میس ری آیت: 
”وَالسيِقوْنَ الاوَلوْنَ مِنَالْمُهَاجِرِیْنَ وَالانصارِ 
وَالَذِیْن اتَمُوْهُمْ باخْسانِ رَضِی اللٴعَنهُمْ وَرَضُوْا عَنه 
وَاضَة لهُمْ جن تَجْرِیٰتَحتها اھر خلدين ھا ابڈا 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱١۴ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ذلک الْفَوْزْ الْعَظِيْمْ وَمِمَنْ عَوْلَكُم مَنْ الغراب 
مَُافِقوٴنَ وَمِنْ ال الْمَدِینَة مَرَدُوْا عَلَی الیْقاق لا نَعْلمُهُمْ 
نَحنْ نَعْلمُهُمْ سَنعَدِيْهُم مَرَتَيِيٍ تم يُرَدُوْنَ لی عَذَاب 
عَظِیْم۔“ ( از ے:٭٭۱١۱٭٥)‏ 
۱ تو "اور ہزاون ورگ سپ ہے کے اریت 
زا ےو 1ئ سا اوران *٭۳-ز ے گی نے 
سماتحء الیدراصھی بہواانع سے اور وہ رای ہہوئۓ الس سے اور جیا کر 
ر کے ہیں داسلے ان کے یا نک “ہی ہیں یچ ان کے نہ ری ء ہا 
گر ں١‏ یی میس پییشہ سی سے ٹک یکا میا لی ص1 0+18 
کےکنوارمنا فی ہیں اور شض لوک عم ینددانے؛اڑ ر سے ہیں نفاقی ؛ 
نوا نکوئیں جاہتاءبھمکوودملوم ہیں ءا نکو ہم عذراب د میں گے دو بار 
پچرودلوٹاۓ جا میس گے بڑےعذ ا بک طرف ۔ '(ت ج جن ان 
ا لآ یت ریفمیں چند افادات ہیں: 
اولی:..حعظراتت ہاج ین وأنصار ٹس سے جوالسمابقوان الا ون ہیں ان سے 
خی مرو طاطور پر جاروعد ےفر ما ۓگ 
ا:... الد تھا ی ان سے پیش کے لئ راصی ہوا۔ 
.دہ ادا لی سے راصی ہجو ئے۔ 
.ران کے لئ اتال ی ن ےنیس تا رک ررتھی ہیں۔ 
8:۴۳ وا نع قفتوں مل پیش یش ر ہس گے۔ 
٦خ‏ میں ف ما ایا ےکالع جار وعدرو یکا تصول و ااشما نکا میا ی 2 
اس سے ب کر یکا میال یکا تو ان ے_ 
دوم ...ہا جمر بین وانصار کے علادہ قیا رت کآ نے وا لے مسلرانوں سے بھی 
بجی جار وعرے ہیں ہراس ش رط کہ ہل ک تن وخ لی اور ا لائ کے سا ت ھ۴ ہاج بن د 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


صا رگی پیرد یک یں۔اس سے وا ہواکہ بح دکی پور مت پرمہاجر بن وأنصارکی جا 
اسان لاڈ ے اور ہیا نکی قجو لی تعندائ کے لئ ش ری حفھم ے۔ 

ص ...و وص رک یآ یت می لہا جھ بین ا نصا کین ط بک کے خر ماگ اک ہمارے 
گمردوڈیگی کےدبیہاتوں یل چو منا فی ہیں اور کھائلل مد بین می پھی الیےےلوک ہیں جوابے 
نفاقی یش پتکار ہیں ۔ رات ہا جربن د صا رکوخاط بک ر کے می نکی الا د ینان 
ری دییل ےک السا لبون الا ون ہاج مین دا نصاریل کےکز نف تنا ست۔ 

الشرش! ا لآ یت ریفنہ یی سآ نے والی قھا مامت پرمہاج بن دأنصارکی پروی 


مز مک یگئی سے :یس سے ہابت ہو اک یا ہکرام واجب الا ما ہیں - 


طز ئن الات مت یٹس کزان 
بالمَعرُوْفِ وَتَنهَوُنَ عَنِ المنگر وَتومِنونَ باللہ" 
(لگران:۰١)‏ 
تج:..'م ہوکپترسب أموں سے جوٗیگی گئی عالم 
یں بح مکرتے ہوا جیئھکا مو لککا اور کرت ہویم ےکا ول ےء 
اور یمان لا تے ہواللد پر ترجہ جح ابنر) 
ا ںآ بیت ش ریفیہ می خطاب 3او با لذات ال ن صا را ں سے سے جونز و يآ یت 
کے وت موجودتھےءاورا نکی چا رصفات ذکرفر مال یگ ہیں : 
ا:...النکا سب سے تر جماععت ہونا۔ 
۴.. رقھام انساحی تکیاعلیم وت ببیت اور ا صلاج و ارشاد کے لے ا نکا رو ےکار 
لایاجانا۔ 
...ا نکا آھر پالمعروف اور ناب ین امنگر ہونا۔ 
*”* ...اوران انی وشتی صن ہونا۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


7یٹپ80] ا کراڈ ا رما کا ماع پپہن اکر ای لوریی 
اننانی تک مرشدوم پاقراردیاگھیاےء اس لے ان کے بعد کےتا ملوگوں پراان کے ارشا 
ایل دای ڑگی۔ 

زان تظراے کم الع روف آو ای گان انگ فرما اگمیاےء ای سے ا بت 
ہواکہ ا نع حظرات نے جشس چا عم دبا وو عنداللہ"”' محروف :انس لئے ا سکیل 
واجب ے۔اورہجس یز سے اع مضرات نگم فرمایادوعندارڈ 2ح“ سے اس لئ اس 


ے اما بواچجپ ے۔ 


سردست انی جارآیات پر کت ارتا ہوں جن میں صا کرا شی اق او اجاع 
کی مت کے لے واج بکیگئی ہے اور اہم تک یاگیا ےک بحددکی مم تکاکوکی عقیر دو 
72 نت 
اجار صحاب عاد ینید بوگی رشنش 
احادیٹ شر ینہ شی لچھی صرا نا دشار عفرا تھا .کرام کے ارشادات سے 
تک ک کا عفر ما اگیاے یہاں چا رآھاد یٹ کک رتا ہوں: 
ہی حد بیث: 
”عن علیٗ قال: قلت: یا رسول الل! ان نزل بنا 
أمر لیس فیه بیان أمر ولا نھی فما تأمرنی؟ قال: شاوررا 
فیه الفقھاء والعابدین ولا تمضرا فيه رای خاصة, 
(رواہ الطبرانی فی الأوسط ورجالە موثقون 
من أھل الصحیحء ال زواکر رخ:ا ۱۸:۷( 
ڑیسں۔ ‏ 'ضررسکل رت اظرصع ع ایت ے٤‏ وہ 
فرمات ہی ںکہ: بیس نے عون کیا :یا رسول الڈدا اکر( آپ کے بعد) 
می ںکوی ایا متلہدریل ہو جات ۓکمراس میں اھ رون یکاکوکی بیان 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


لے سے مو ججود نہ ہدء لو آ پکا ہما رے مل ےک یا لم ے شر 
ادعلیہ عم نے فرما کہ اس وقت نقماء و عابد بین سے مشور وکروہ 
وی ای ٹا شی سک زانے پثل چو امت +زط““ 
اس عد بیث ےیک نو بیمعلوم ہو اک “ا برکراخم کا !ہما ججت ہے چنا خجرعا ذظ 
نوراللد نی ےے اس حد بی ٹک باب الا عفحارغ““ کے مل 0 ہے۔ فو 9س کی بات 
رمعلوم ہہوٹ یکہ اجھماغ صرف فقہاء و عا بد می نکامجمرے خی ہا اورائل اہواء کے اقو ال 
لا الما تئیں ۔تیسری بات ررمعلوم ہوٹ یکتضرت لی رشی جج فقہاء و عا بد بن 
کے مشورے کےیعتاج ےہ او رہحضررت صلی اللہ علیہ وعلم نے ال نعکو در نماض ال کی 
وصی ٹر 2-31 
وس ریا طر بیث: 
”وعن أبی بردة عن أبیه قال: رفع یعنی النبی 
صلی اللہ عليه وسلم رأسه الی السماء وکان کثیرٌا ممن 
یرفع رأسے الی السماء فقال: النجوم أمنة للسماء فاذا 
ذھبت النجوم أتی السماء ما توعد وأنا أمنة لأصحابی 
فاذا ذھبت أنا آتی أصحابی ما یوعدونء وأصحابی أمنة 
لأمتی فاذا ڈھبت اصحابی آنی ام یع یرعدون.“ 
(رواسلم مو ضص۵۵۳) 
ترجھ.:..” حطرت الو بردہ ری الد عنہ سے ردایت ےہ 
کچھ ہی ںکہ: نی صلی الل علیہ لم نے اپنا مار کآ سا نکی طرف 
اُٹھایا جیا کہ اکش رپ مکی اللدعلیہ یلم (ا تنا رد وی شس ) اپفاسر 
مبار ف1 مسا نکی رف انٹھالیاکرتے ذتء پچ رف ما اکہ: عتزارے 
سان کے لے اکن وس لان یکا باععث ہیں ء جس وقت بر ستارے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


انتقان 


زا زغن سنا ون یل اک جن ا ےکی سکا وعد ہکا 
گیا ے۔اورمیس این صا بہ کے لئ انکن دای ہوں ء جب میں 

اھ جائو لگا نے صحاہہاس نزیس متڑا ہوجانجیں گے جو موخودمتقرر 
ہے۔ اود مر ے ساب می رگی مت کے لے اکن وسل ات یکا با حعث 
ہیں٤‏ جب ڈنیا سے أٹھ جاننیں گےےذ مرک مت پردہ چزآپڈڑے 
گی جوم وو رمق رر سے 

”قال فی جامع الأصول رج:۸ ص:۵۵۵: (أتی 
أاصحابی ما یوعدون) اشارة الی وقوع الفتنء ومجیئ 
الشر عند ذھاب أُھل الخیرء فانه لما کان صلی اللہ عليه 
وسلم بین أظھرھم کان یبین لھم ما یختلفون فیەء فلما 
قد جالت الآراء واخعلفت فکان الصحابة یسندون 
الأمر ای رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم فی قول أو فعل 
ار دلالة حال فلما فقد الصحابة قل النّور وقویت 
الظلمة“ 

تجے:...'”صاحبِ جا ااصول (رخ:۸ ۵۵۵:۶) 
کھت ہژں/.:”آتی اصحابی ما یوعدون“ مں‌فتوں سےتنہوراور 
الک تر کے اھ جانے کے باععث شر نکی طرف اشار ےء 
کیوگہ ج بک ک؟ 2 علیہ عم “ھا رک را کے درمیان موجود 
ھتان کے اوھ یی اختلا فکی صورت می سآ پ مکی ال علیہ یلم 
ا نویج راو ات ر سے مک رآ پ مکی اولرعلی الم کے وصالل کے بعد 
خال فآراء سام ےآ نی اود ا شاف نر وڈما ہہواء ال صا کرای 
بھی یآ نے مین ول اڈ لی اڈھلے ول ےتال تن 
دلاتعال ( تقریی) ے را٤نمائی‏ حاص٥‏ لکرتے رےء اور جب 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۷۳۳۱٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


شر ے۶ ود ونیم پور ری سو و 
اس حدربیٹ سے معلوم ہو اک یمارگ راغ کی جماعح تا واءوبدعات ے پا گگا؛ 
91 لم تکوعقا دواخعمال می ان ححضرات کڑت٘ش مکی یدگ لا رم ے۔ 


حمیسرکی حر یث: 
”وعن عمران بن حصین رضی الله عنه ان النبی 
صلی اللہ عليه وسلم قال: خیر الناس قرنی۔ ٹم الذدین 
یلونھمء ثم الذین یلو نھم. قال عمران: فلا أدری اذ کر 
بعد قرنه قرنین أو ثلائة؟ ثم ان بعدھم قوم یشھدون ولا 
یستشھدون ویخونٹون ولایؤتمنون وینذرون ولا 
یوفون ویظھر فیھم السمن.“ 
2ای رخ:ا ض:۵ا۵ء 72 رم:٣‏ ۰/ص:۳۹) 
تڑج:.. ” منرت عمرانع ہتشان رشی الد دہ سے 
روایت ےک نی صلی او علیہ ویلم ہے رسپ سے کہ راو 
ین وا گے !یں ء پچ ران ہے تل یں گےء پچ روہ جوان 
سےصعل ہوں گے ۔حطرت کم راغ کت ہی سک: جھ ر معلو مکہیں 
ک یآ مل الشرعلیہ ملم نے اینے دور کے پعددددوارکا کرفرمایایا 
تق نکا؟- پچ راس کے بعد ا ے لوک ہہوں ‏ ےک وہ ل(خو او ا) 
شھھیی ںکھا نیس گےء جا لائی ان مر طلب شہکی جات ےگ نخائن 
ہوں گےء امانت دار نہ بہولی گے نر یی این کے ہظر ری نہ 
میں گے ان برموٹ یڑ ھاہہوگا۔' 
بعد یٹ تو ات ے اورہضنحددسھا کرام سے مدکی ہے ان می سے ند سان 
رفا جن: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


چوہججچجت تہ (ہخاری :ا ۶ چحسی میمت پوس یح ع٣‏ ص:۳۰۹) 
۳, مھ ر من حطاب (زوى رع ص۵۳ء خبرالرژاقی رخ:اا ضص:۳؛ 
مسٹریرگل خ:ا :۱۹ء جع ال زواکد ص:۱۹) 


٣5ا‏ ےہ ںی سم ج:٣‏ ص:۳۹) 
,٠‏ .ھا کہ (یسلم ج.×+ ص_٣۳۱۰۰)‏ 
ے:..پ یہ ای (گال زور رق:٭١‏ ص:۱۹) 
:8مان م یہر (اییغ]) 
2-0 (ایتً) 
۸ .کو٤‏ دب (ایتا) 
ہیں ( یح ال رواند ك:٭۱ ضص۰:٭٢)‏ 
٭ا:.. مدرم نرہ (ایتا) 
اا:.. چیہ بخت ا یگل (ایت]) 


یڈنم این 

اس حد ین میں آحضرت صلی اللد علیہ یلم نے علی الت ریب جن زمانو ںکو 
خی القرون'“فر ایا معلوم ہو اک ہآحضرت صلی الد علیہ وی مکی مت کا پر حصہ 
ھا راف رحدی ٹاڈ کیک یت دنع مزال انی 
سے۔ ہچوک یا ہکراشکی جماعت ہب ہے اف رت خافا داش ین شی ال 
تنم جھےء اس 090 یکہنا لن لج ےکہا میا ۓگ رام شیہم 
الملام کے بعدرسب سے پل اسان ححضرت اہو رصد لی ہیں + ان کے بعد تحضر تم ران 
کے بععدحخرت عثان اور ان کے بعد ححضرت لی ری و مر کے وو رگو 
خی ال رون قراردنینے سے مدعا یر ےکہ اع دکی مت کے لئے ددمتال ینمو نہ ہیں ؛لبغراجو 
تخس صا کرا شی جس قرپی دی کر ےگا دہ ای قر رم وف ای رہوگا۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


”وعن معاذ بن جبل أنْ رسول اللہ صلی اللہ 
عليه وسلم لما بعثه الی الیمن قال: کیف تقضی اذا 
عرض لک قضاء؟ قال: اأقضی بکتاب الل. قال: فان لم 
تجد فی کتاب الله؟ قال: فبِسُنة رسول اللہ صلی اللہ عليه 
وسلم. قسال: فان لم تجد فی سُنَة رسول اللہ؟ قال: 
اجتھد رأیی ولا آلو. قال: فضرب رسول اللہ صلی اللہ 
عليه وسلم علٰی صدرہ وقال: الحمد للّ الذی وفق 
رسول رسول الل لما یرضی به رسول الل.“ 
(رواہ الترمذی وابوداؤد والدارمی, سوج ص:۳۲۴) 
تچ  ::‏ فطفرت مجوا جن جہلل ری الڑرح در ےۓروابت 
ہ ےک جب رسول ان ی٥ی‏ ال علیہ یلم نے ا وحن( کا دای ب اکر ) 
انیو بچھاکہ :جب ےکی معا کا فیصلکر ناڈ ےوک طرح 
کمروگے؟ اننہوں نے عرف کیا :کناٹ الد سے۔ پچھ رب نے لو تھا 
گی :اکر نال نما الد شیا 6( کی اکمروگے )۴ ع مخ سکیا: 
نت رول ال صلی ال علیہ لم ےپ ےرا رطع 
رسول الش میں نہ پا41 (ت کی اککروگے )۴ع سکیا: انی رائۓے سے 
اہتتچادکرو ںگا اوراس می سکوماہ ی کی سکرو ںگا۔ رسول اص اللہ 
علی عم نے ان کے سییے ری دی اورفر نایا :اس اللدنی کے لت 
سے نس نے حول الد کے تا صیدکوائسں نکی نی دی جس نے 
رسول ای رکون شکردیا۔ے“ 


اس حدیث سےمعلوم ہوا ہکا اد وسضت رسول ارڈیلی ار علیہ ملم کے بعد 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٥۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


رضا من دی یشبت ے۔ 


ضررتکلی رنی الع کا ارشاد: 


'وسیھلک فی صنفان: محبٔ مفرط یذھب 
بە الحبًٔ الٰی غیر الحقء ومبغض مفرط یذھب بہ 
البغض الٰی غییر الحق وخیر الناس فی حالا الدمط 
0497 السواد الأعظم فان ید اللہ مع 
الجماعة وابا کم والفرقة! فان الشاذ من الىساس 
للشیطان کما أن الشاذ من الغنم للذئب. ألا من دعا 
الی ھٰذا الشعار فاقتلوہ ولو کان تحت عمامتی ھٰذا,“ 
( ابلانہ ص:۸۴ءخطنم:۰١١)‏ 
زس الو تق رلرو لان کن نترہیں 
گے ء ایگ میرک عبت یل حد سے بڑتھ جانے وا لاگرد ہک می رک عحبت 
رر للا اد روآ ال شر شئل 
رک وال کہا نکومیر ا لتق ضگمراہی ٹیس کرد ےگا۔ اور مت من 
یں وہ ہیں جومی علق اختا لکی راہ بہ ہیں (ککہ نہ یھ سے 
رکینے ہیںء ذمحبت میں غ2 )ءا پذرائم اس تر بی کو لا زم پک واور 
سوا امم کے سا یع نیرک رہوء ال دگی نصرت تقیا جمامعت ے 
ساتھ ہہوٹی ے۔ ہابھی افتزاقی سے سے رہوہکیوکلہ روڈ سے 
نے واٹی ری یر کی ىی خوراک می سے٢‏ تردار! ہیس 
ھی اس ل[اقتۃ ا یکی ات یا ہے ا کی لک الو شاو وو غیرے 
ال تماے کے زیر سابہع یکیوں ہو 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۷۳۳۱٥٢١م۹.۷۸۷۵۸۲۹6‎ ۷ 


حر تک لکرنم انشددچہہ کے زمانے میس فقہ امن سبااورفقنہ خوار ج کی وب ے 
اال:...جت پل یش فلوکر کےا نکو تن سے ااضل اورخلیغہ با لقرار 


دیاتھا۔ 
دوم:... جویٹ کی نا برا نیکوصرف مقبولا ان ال یی فہرست 77ھ 
الام سے چی خرن مر ارد یا تھا۔ 
سوم:... جوا نکوأفاضل وا کاب رسھا نمی شمارکرت تھا ء اور ایل ر ابیع الخلفاء 
ال اشدین قرارد تا تھا یی مسلمافو ںکا سوا ا عفحم تھا جن سکولا زم پکڑ ن ےکی رر 
نے اکیرفرماکیء او ڑل الذکر دونوں فربتقو ںکی تق پیندی سےمسلافو ںکو بی کی 
تاکمدفرماگی۔ 
ال ارشاوگرائی سے جھا بنا ا کا __ جوحضرے کے ز مان میں سوا امن کا 
مصداق تھ ا اق اہوناوانحغ ے۔ 
نر تعبرایڈد بن مس وکا ارشاو: 
”'وعن ابن مسعود قال: من کان مستنا فلیستنَ 
بمن قد مات فان الحی لا تؤمن عليه الفتنة أولٹھک 
أاصحاب محمد صلی ال عليه وسلم کانوا أفضل هھٰذہ 
اق ابرفا قنرثا: راسمقیا مذعامراللي کلت 
اختارھے الله لصحبة نبيّهء ولاقامة دینهء فأعرفوا لھم 
فضلھم: واتبعوھم علی أٹرھمء وتمسٌکوا بما استطعتم 
من أخلاقھم وسیسرھےء فانھم کانواعلی الھدی 
المستقیم.“ (رواورز من لوج ص۳۲:۰) 
ترجہ:. ” حطر تعپارڈہ بین سو درشسی اللدحت ہکا ارشاد 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠۱٥٢١٥۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


۰ چیہ ا ا جو چس بے 


جووفات پا گے ہیں ءکیوئنہزند نخس نے ےپ مو نیںء یز اکن 
اق ارات ) صلی اول عل یلم ک ےسا ہہ میں ء جوا سا مت میں 
سب ان جےء ان کے ول سب ے‌(یادہ ارہ تھے ال کا 
مسب سےگہراتھاءاوروو سب سے بڑ کلف سے یچئے وا نے 
جھےء ال تعالی نے ا نکواپنے نہ یکریی مکی ال علیہ یل مکی صحبت و 
معیت کے لے اوراپے دی نکوقائمکر نے کے لے نل تھا ان 
ار چس رو کب کون اں 
دن کیم سے ظا وکا ۳7ب 
اورصراینتغیم بر جے_'' 

”وعن ابن مسعود قال: انٌ الله نظر فی قلوب 
العباد فاختار محمذًا صلی اللہ عليه وسلم فبعثہ برسالة 
وانتخبه بعلمہء ٹم نظر فی قلوب الناس بعدہ: فاختار لە 
اصحابًاء فجعلھم أنصار دینه ووزراء نبیّهء وما رآہ 
المؤمنون حسنا فھو عند الله حسن, وما رآہ المؤمنون 
قبیحا فھو عند اللہ قبیح۔“ (مسندالی دا دطیامی ۹ص۳ص۴۳) 

تر :. حر تکبدالند من سعودرشی اد حٹکا ارشاد 
ےک تن تھالی شاننے بندروں کےفلوب پرنظرفر ماک یذ رت حر 
ص٥لی‏ او علیہ یلم کےقلب الکو نلیا بی ںآ پ لی او علیہ ول مکو 
ا پغام کے سا توم بجوث فرمایاء او رآپ کی ال علیہ و مکواہۓ 
عم کے مات مت ف مایا .بر پ سی علیہ سلم کے بحدلوکوں کے 
قلوب طف مکی نآ پ سی ال علیہ یلم کے لے صا ہرک را کون 
لیا اورا نکو وین کے حددگاراورآپنے نی کر صلی اولعل یلم ا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


دز بنایا۔اد شس چیکوائل !یمان ( پا لا نھاقی )ا مھا میں٤‏ وو اللہ 
تھا لی کے نز د یک ابچھی ہے اورجنس یکو ائل !یمان نُا جا یں ء وہ 
اٹ تتھاٹی کےنز د یک نی ے۔““ 


تفر تگم رم نعبدرالھ یکا ارشاد: 


'قال: کتب رجل الی عمر بن عبدالعزیز 
یساله عن القدر فکتب: أمَّا بعد أرصیک بتقوی الله 
والاققتصاد فی أمرہ واتباع سُنة نبیّه صلی اللہ علیه 
وسلمء وترک ما اأحدث المحدثون بعد ما جرت بہ 
سُنعه و کفوا مؤنتہء فعلیک بلزوم السّنَةء فانھا لک 
باذن اللہ عصمة ٹم اعلم أئه لم یبتد غ الىاس بدعة ال 
قد مضی قبلھا ما ھو دلیل علیھا أو عبرۃ فیھاء فان السّنَة 
انما سٹھا من قد علم ما فی خلافھا - ولم یقل ابن کثیر 
من قد علم- من الخطاإ والزلل والحمق والتعمقء 
فارض لنفسک ما رضی بە القوم لأنفسھم؛ فانھم علی 
علم وقفواء آر ہبصر نافذ کفواء ولھم علی کشف 
الأمور کانوا أقویء بفضل ما کانوا فيه أولیء فان کان 
الھدی ما أنتم عليه لقد سبقتموھم اليهء ولئن قلتم انما 
حدث بعدھم ما أحدثہ الا من اتبع غیر سبیلھمء ورغب 
بنفسے عنھم؛ فائھم ھم السابقونء فقد تکلموا فیه بما 
یکفی؛ ووصفوا منه ما یشفیء فما دونھم من مقصرء وما 
فوقھم من محسرء وقد قصر قوم دونھم فجفواء وطمع 
غنھم أقوام فغلواء وأنھم بین ڈلک لعلی ھدی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٥٢١٣۹. ۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


(ابوراوٗر رخ:٢‏ ۶ص.۳۴۳٣٦)‏ 


بگرے 


تج :.. ایک نیس نے یتح جن مال کی 
خیرمت میں خزیالگھاء جس شیل ان سے متلہ لق بہ کے بارے میں 
سوا لکیا تھا ہپ نم وصلو ت کے بح د ریف مایا: 

میس ت مکو اش تھی ےار ےکی وضیم کرت ہول اور 
اس کے معا لے میس اعتقدال اورمیاندوئی ایارک ن ےکی ءاوراس 
کے نی سی علیہ مل مکی سن کی پیروگ کمن ےکی ؛ اوران بد عات 
کور کفک رن ےکی مج نکوائل بدرحت نے ابیجا دکیا ےہ لحدااس کےکہ 
اس مک می سآححضرت مکی الف علیہ وم مکی سنت مار ہویچگی ے؛ 
اورلوگو ںکوا کی ذ مددارگی اُٹھانے سے سد کرد یاگھیاے۔ پھر 
بل جائن لکرلوگوں نے جو بدحع بھی ابیادکی ہے ال کا ال ىی 
ےکا بدعت کے وجودی سآنے سے بیلے بی ( آححضرتت صلی 
الشعلیہ ول مکی سنت کےذد یج )اس بدرعت ( کے ال ہہونے یہ 
یل تقائم ہو ےی ہے یااس کے بطلا نکی مشثال موجودےکیونکہ 
نس ذات نے (میقی اللدتوالی نآ حضرتصسکی الد علی ولم کے 
ذرر یچ ) سن تکو جار کیا ے اس سںکوعکم تھا کہ اس سن تکی خلاف 
ورزگی می سکیا می کیا زی کیا حماقت او رکیا بے جا لف ے؟ 
پنزائم بھی انی ذات کے لئ ای ط رگ کو پہندکروجوسلف صاشن 
نے اپے لے پیندکیاءکیوکہ یفرا تج علم بن ےہ اور وہ 
ہرک پیر تک جنا ران باعات سے باز ر ہے ۔ جلاشیہ تظرات 
محاحلا تکی تہ تک یی زیادہ رر ر کھت تہ اور اس “لم و 
بر تک بنا بر جوا نکوحاصس لی اس کےزیادہ سخ بھی تھے یں 
اکر برای کا راستہ دو سے جوسلف صالین کے برخلاف تم نے اختیار 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹66 ۷ 


ان ا ای ۱ 


تخرات سے.توذ ال سوقت نے مگۓ (او انلکن اور ال 
سے )ء او راگ رخ مکہوکہ بی چزتے لف صا ان کے بعد پیدا ہوگی ےل 
نو ب اوک ہاچ زکوا نی لوکوں نے ابیھا وکیا ے جوسلف صا ین 
کے رات سے جم فک وسرے رات پیل بڑےاورانہوں نے 
علف صائھ۲ن سےکمٹ جان کو اپینے لے پپن کیا (اور بجی تمام 
گکراہیو کی جڑ ے )کیہ ضرا ت (ترو دای تک طرف) 
سق تکمرنے وانے تھے انہوں نے زیر پٹ لے یس ا تنا ام 
کردیا ہکاٹی ہے اورانہوں نے ا سکی ات یتش کے فرمادی ج وائی 
وشائی ے۔ یں انہوں نے جو پھوفر مایا اس می ںتفرییطا اور یکرنا 
کوتا بھی ہے اوراس سے بڑہنا اور اف راط ےکا دنا با جا ۓکو 
عابتزو اکا نکرنا ے۔ چنا خی پھلوگوں نے لف صا کی تشد 
وضاحت می لتظر پیا او رتا تی ےکام لیا و جا کے م رکب ہو ئ ء 
اور پگولولوں ےتوج اعت نین نماض مس اتا 
جا ات حایس جتلا ہوگئ ء اور بی ظرات افراط ونفر بیط کے درمیان 
رتج ہو ۓصرا تیم رتنم تھے“ 


حیسربی بیکٹ: اناج صا کے و وب نمی لا 
نی د انل کے بعد مل سلی مکی رش می مو ریۓ نو معلوم ہوگاک زنس رح 


مندررجہ الا آیات وأ حاد بیث او رآ ار ےجا را شکی اتا کا صمردورکیی ہہونا بہت ےء اکا 
ط رخ جا صا عق نی ض ردری ولا زم ہے اس حطلے یس جن ایوز جرد نے خی نی دااکل 
۲ “۶ھ کارانغ کے کرک ردہ د لان لکواٹھی کے الف ظط ٹیل لکرج ہے اس کے 


بین گی دلیل نطرف 7072 ےگاءوَاللہ الْمُوفَقّا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٢٥٢١٣. ۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


تس و ا 
وتلتوا عنه الرسالة المحمدیةء وھم الذین سمعوا منه 
بیان الشریعةء ولڈلک قرر جمھور الفقھاء ان أقرالھم 
حجّة بعد النصوص.ء وقد احتجٌ الجمھور لحجیة أقوال 
الصحابة بدلیل من النقلء وآدلة من العقلء أما النقل 
فقولے تعالی: ”وَالسِغُوْن الأَولوْنَ مِنْ الْمُّهَاجریْنَ 
٦‏ ٰ۶ تی 
وضو َنه“ فان الله سبحانه وتعالی مدح الذین اتبعوھم 
فکان اتباعھم فی ھدیھم أمرٴا یست وجب المدحء ولیس 
اُخذ کلامھم علی أنه حجة الا نوغًا من الاتباعء ولقد 
قال النہی صلی اللہ عليه وسلم: ”أنا أمان لإأصحابیء 
وأصحابی أمان اب “ ولیس أمانھم للاِمَة الا بان ترجع 
الّإمَة الٰی قولھمء اذ أمان النبی لھم برجوعھم الٰی ھدیه 
النبوی الکریم. 
وأما العقل فمن وجوہ: 
أوُلھا:... أن الصحابة أقرب الی رسول اللہ 
صلی الله علیےے وسلم من سائر الناسء وھم الذین 
شاهدوا مواضع التنزیلء ولھم من الاخلاص والعقل 
والاتباع للھدی الۓبوی ما یجعلھم أقدر علی معرفة 
مرامی الشرع؛ اذ ھم رأوا الأحوال الی نزلت فیھا 
النصوص فادراکھم لھا یکون اکٹر من ادراک 
غیرھمء ویکون کلامھم فیھا أجدر الکلام بالاتبا ع. 
ٹائیھا:... ان احتمال أن تکون آراؤھم سنة 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ .۸۷۵۸۲6 ۷ 


نبہویة احتمال قریبء لأنھم کثیرا ما کانوا یذ کرون 
الأحکام العی بیّنھا النبی صلی الله عليه وسلم لھم من 
غییر أن یسندوھا اليه صلی اللہ عليه وسلم لأن أحدا لم 
یسألھم عن ڈلک: ولما کان ڈلک الاحتمال قائمًا مع 
أن رأیھم لە وجه من القیاس والنظر کان رأیھم أولی 
بالاتبا عء لأنه قریب من القول موافق للمعقول. 

ٹالٹھا:... انھم ان ٹر عنھم رأی أساسه 
القیاس؛ ولنا من بعدھم قیاس یخالفہء فالاحتیاط اتباع 
رأیھمء لأن النبی صلی اللہ علیے وسلم قال: ”خیر 
الشرون قرنی الذی بعثت فیه“ ولآأن رأی أحدھم قد 
یکون مجمعا عليه منھمء اذ لو کان رأی مخالف لعرفہ 
العلماء الذین تتبعوا آثارھمء واذا کان قد أثر عن 
بعضھم رأی؛ واثر عن البعض الآخر رأی یخالفہه: 
فالخروج عن مجموع آرائھم حروج علیٰ جمعھم 
وڈلک شذوذ فی العفکیر یرد علی صاحبہ؛ ولا یقبل 
مناء'' 

تر جہ:.. ھا ہکرام شی ال نٹ ء نی صلی ال علیہ یل کی 
حدمت مل عاضمررےےءانہوں نے پ سے پنا م دی خودحاصل 
کیا ءاور بیا ن ش رلیعت بلاواسطآپ سے ستاء ای بن یرجھ و رنقہاء نے 
قاروا لویل شر کی حر موق دگی یں تا کے اقوال جخت 
یں ءب پور نے صا کے اقوا لکوی تھی ددائل و یکی ہنا جج تترار 
ہاے۔ 

لعلی دیل نے ہہوئی ےکیفرمان باریی تعالیٰ ے:” اور جھ 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۵۷۳٢٥٢٠٣۹ ۰۸۷۸۲۹۹6۴ ۹۷ 


79ھ ایب ہی کک وی رت فی سے وی گئوں او یف 

و ویر دہ نے کی رت اق ال شی ہواان 
ے او ور ات واغر قای ےے ‏ اا وا اک ا لوک کی 
تحریف فر مکی ججنھوں ما کا کیا پیردٹیکیء البداان کے 
ط رت ےکی یروگ ایا معاممدرے جو قائل مدع سے او را کے 
اقوا ل وو رت اخخقیا رک نا ری اتا کی وی ایک صورت ے۔ 

اون یکر صلی الد علیہ یلم کا رماع نے :مین ات 
اھ سا 08 وسم یکا باععث بولںء اولر می تما ممی کی 
مت کے لئے اصع وسل ان یکا باوث مس نو یا کرام شی ال ہم 
امت کے لئ اکن وساصت یکا ذر نیہ ای وشت شرار یا ال 
مت اع کے اذا لکی رف یور حکرے ‏ کیونہ فی ان کے 
ھی امان ہو ےک انہوں نے نب یک یمم ی او علیہ وس مکی مکائل 
روگ یگی۔ 

وی انید سی جس 

:.. مھا کرام ری ال کم تما م لوگو ںکیسمت رسول الد 
صلی اول علیہ یلم کےترجب ت بین ےہ انہوں نے ق رن کے نۃول 
کے مقامات وموا کو شھ خوددیکھاء ا کو اہی ا خلائص بن ل لیم 
اوشلیم ندب یکی اتاغ حاص یھی :ین کی بروات دہ متقاص شر کی 
محرفت پرڈوسرو لکی ہت زیادہذد رت ر کھت تھے ؛کیونہانہوں 
ےے وہ أخوال وو ملاحظہ یئ تتے جن کے بارے میں لھمش 
( کاب وسخت ) نازل ہوعیںء اس لئ ان کا علہ 3 وت مد رک 
. کی مقلد ٹل وسروں ےڑزیادہ ہوا اوراں عُل ا کا ثول زیادہ 
ای اقارقرار یایا۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢ ۱۷۳٣٠٢٥٢١٣۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


...ان کا ھی تو ھی ا۲ال ےکا نکی آراء و رتقیقت 


سنتی بوکی (ہ یکا بیان) ہد ءکیونکہ اکر دو نی صلی الطد علیہ وسلھم کے 
با نکردہ أ کا مک وپ مکی ازقدعلیہ یسل مکی طرف ضہدت کے اغی بھی 
ارد کرک :اوران کے سی ان کینکت فا کے 
کی ضردرت ای ن ہلا ءا ال کے باوجود مرا نکی راۓ قال 
را ییینی ہو ب بھی ا سکی اتا بی ہت رہوگ یکیونکہ ا سکاقول ہی 
موافقشتعفل کے ز یاددقریب ہہوگا۔ 

...ازع سی ائیقی را ہمقل ہن سکی نماد خیانس 
ہوء اورالسٰ کے بحعد ہما رگی رائۓ قباس دی کی یاد بر ان کےغلاف 
پ2 قاط ایی میں ہ ےکا نکی رات ےکی اتا کی جااۓ ءا لئے 
یص٥کی‏ الطدعلیہ یل مکافرمان موجود ےکہ:” سب سے بہتردورمی ری 
بعشت والا ز مان ے 'اورااسل لن ےھ یکہان میس سے ای ککی رائے 
انی اھ ئی را ےعص گیکیڑنگ ہاگ رک یکی راۓ وا اس کے مخا لیف 
ہوئی تو آ غ رہنا رگ یت نکر نے وا نے علا رک ومعلوم ہو جال یی ء اور 
اگ ر پچ نضرات سے ایک راۓے منقول ہواورمنخ وو رےنظرات 
سے الع کے عفان زا ٹفگ کی کی فا نکی زا سٹو سے 
خروج درتقیقت ان کے اجمااع سے تروع کےمتراوف ہوگاء ریگ ری 
عو دی ایی مک کے زردے مادگی جات ےکی اودنا ای لقیول ہوگی ‏ 


یی دیل: 
متعقرا تھا کرام ہجار ےحیوب ہیں ء اورحیو بکی إقرقہ ا وا حا اب نل کے 
نزدی ک حم ہے۔ 


ر ہا ہلا منقدمہ؛ىتی رات سھا گرا ش یحو بیت !ىہ چندوجوہ سے ظا ہردیا ہرے۔ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


- لے کزان وس کے سے .7ڈ ا سا 
اور جال ار وڈراکار تے ہی پوسہیر سس کے جال 


ہا ںآ راکوآ بین زقلب میس جذ بکیاتھا۔ائل 
لا ز ےب رسول ے۔یملی ارڈ علیہپمل تحضر صلی اوڈدعلیہ یلم نے در ذ یں ارشا و 


گرا بی میں ام ی مو نکوا کلام بلانحت الام شس بیالنفر مایا ے: 


سےا کی ضر 


”وعن عبدالل بن مغفل قال: قال رسول اللہ 
صلی اللہ عليه وسلو: الله! الله! فی اأصحابیء الله! الله! فی 


فحبی أَحبَھم ومن أبغضھم قببغضی أبغضھم؛ ومن 
آذاھم فقد آذانیء ومن آذانی فقد آذی اللہء ومن آذی 
الله فیرشک أن یاحذہ.“ 
(رواه التعرمذی وقال هھٰذا حدیث غریب؛ مشلو 2 ضص۵۵۳۲) 
یں ”ور ۓائپرائل متقلی ری اررعود ۓ 
روابیت ےک رسول اڈیسلی لعل ےلم نے پرمایا: ار ے ڈرو!الند 
ےو رو! مر ےسا کے معا لی میں مر رکہتا ول الٹر ے ڈو رو! 
الد سے ڈرو! می ر ےسا ہہ کے معا لے میں ء ال نکو می رے بعد بر 
تیر نہ بنانا ءکیونکہ میس نے ان ےجحب تکی تو میرکی محب کیا بنا سر 
اورشٹس نے ان سے نع ررکھا تو بج ےنتف سکی بطا یر ؛ جس نے ا کو 
یذ ادگیء اس نے بچھے ای ادگیءاودچنس نے بے اب ادگیء انس نے 
ان دو اب ادگیءاور شس نے الکو اذ ادئی فو قریب ےک الڈداے 


قرلرت 


یم .دنن نتھا لی شا نہ ےجحت ہحوب تے جاک 'ٰحِْهَم وَبْحْت“ 


تر فا ی ےگو یا ان کے۳ رین مو سے یا وازا آریگا: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۱۷۳۳٠٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 7 


لن اع محر تکا ہوا نا ضا اۓ ایبان اور 


اے زے جرب محبت من فداۓ خومیین 

نع از اعت تفر داز وین 
چنا نین تعا یکا ارشادے: 
قرف بای اللٴبقَوْم يحِبْهُم وَبْحبوَهَ اذِلَة عَلَى 
المُمِيیْنَ َعَوٌةِ عَلَی الّكَفِرِیْنَ یُجَامِدُوْن فِیٗ سَبیْلِ اللوَلا 
افو لوْمَةَلائمء ڈلک فضل اللِيوتیه مَنْيشَاءُء وَالل 
َاسُ عَلیْم. انم ونم اللٴوَرَسُوْلهوَالَذِينَ امو الَدِينَ 
ّقْمُوْنَ الصّلوۃوَبوٰتوْنَ الڑكوۃ وَھُمْ رکَعونَ. وَمَنْيعَوَلَ 
للهوَرَسُولَه وَالَذِیْنَ امَنُوْا فَإِنُ جرب الٴھُمْ الغلُوُنَ.“ 

(ا ٌر.:]۸۵۳۰٥۹٦۵)‏ 

...ےا پان والو! جک یتم مس پر ےگا ان 
وین ےو الف تیب لاو ےگا ابی یتو مکہالقدا نکو جا تا ے اوردہ 
کو جاتجے ہیں نم ول ہیں مسلمانوں پرءز بروست ہی ںکاٹروں 
پر لے ہیں ایلدگی راہ ٹیش اورڈ رت ےکی پان ام رپ 
فض ہے الیل دکاء د ےگا سکو جا ےگاء اور او رکشائل والا ے 
مردار تھہارا ربق تو وی الد ے اور ال ںکا رسول اور جو !یمان 
وانے ہیں جک تام یں نماز پر اوردہیے یں زکو؟ اوروہ عات زی 
انیم وا لے ہیں )اور جوکگوٹی دوست ر کے ا رکواوراں کے رسول 
کواور إبھیان الو ںکو 2 نکی جماععت دبی سب برا اب یں 


گے راد 
ررض ا ہر) 


نہ یمان داڈعائن ان کے جن قلواب یل پوست تھاء اس لئ ارد تا لی نے 


ان کے ولوں میں سکیت نانز لف ماگ اوران سے انی رضا ند یکا ا علا نتر مایا: 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٢٥٢٥٢١٠٢٥۹۰۷۷۷۵۸۲م۴‎ (۷ 


مر اتی الژن نان تارب النزیٹز 
لِیَزذَادُر ا اِيْمَائ مع اِیْمَايَهمء وَللجُنوُڈ السُمٰوتِ 
وَالاَرّض. رَکانَاللٴعَلِیْمًا عَکِیْمًا. لِیْذخل الْمُؤْمِِیْنَ 
وَالمُوْمِنٰتٍ جَنْتٍ تَجْریٰ مِنْ تَحْبھا الَنھارُ خلِدِیْن فِيْهَا: 
ُيْكَفِرَ عَنَهُمْ سَياتھمء وَكانَ ڈلک عنة الله فورا 
عَظيْمَا “ (۶,:محن) 


او وی سے نس ے أتارا انان وی شش 
ایمان دالوں کے ت کہ اور بڑھ جاۓ ا نکو !یمان اپنے یمان کے 
سماتقدءاورائشد کے ہیں سب شک رآ سمانوں اورز ین کے اور ابد ے 
ردارمت والا۔: کہ پہیادے ابیماع وا لے مردو ںکواور یمان 
والی عورتو ںکو ہاعوں ٹیس یچ تی ہیں ان کے نہ ریہ بییشہ ہیں 
ان ٹی اور أجاردگی ان پہ سے ال نکی تر انان اور ىہ سے اید کے 
ہاں کی م رای (ترجف جن الن) 

ن3 تد ری للٴعَن الْمَُمِیْنَ! اذ يَایُوٴنک 
تحت الشْجَرَۃ فَعلم مَا فی قلَْيهِمْفانرَل الےکینة علییم 
وََنَايَهُمْ فَمَحَا فَریا. وَمَغایِم كَِيْرَ بَاحْذُوْنَهَا وَكَانَ اللٗ 
عَزِیْرا حَکیْما.“ (۱م:۱۹۰۱۱۸) 

ہی لق يف ورازوان الس ہے وپ 
بی کر نے گے چھھ سے اس درخشت کے جج پچ رمعلو مکیا ج ان 
کے بی میں تھاء را جاراان پر نھیدنان اود انام دی ا نکوایک بح 
اورک اوشسفپ یب 6ا کے اورے از بروست 
حکرۓ واڑا _' رن س5ات 

”اذ جعل الَّدِیْنْ كَفَرُوْا فی قُلوهمْ الْحَمبَ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6۴۴ ۷ 


حمِيّة الجهلِیّة فَاَنْرْلَ اللٴمَکِيََْة عَلی رَسُوْلِه رَعَلَى 
لمُوْمِيِیْنَ وََلرَمَهُمْ كلِمَة القُوی رَکَانُوْا اَعَقٌ بهَا 
وَهُلَهَاء وَكَانَ اللٔبَكُل شَىِْ عَلِيْمَا.“ 2 
کو مار ے نے نادان جن 
کمدنا دای کی ضدہ پچ رأ جا را ایند نے اپٹی طر ف کا انان ات رسول 
راورسلمالوں رہ او رقائم رکھا ا نک ود پک بات پر اوروی ھے 
اس ال اور ںککامم کے اورے الد ہر چرےجررارے' 
رترف ابد 
:.. رحب تکا ایک فشاحبوب کےکمالات ہو ئے ہیں ء اورآخیان ۓکرا میم 
اسلام کے ونم لیک نے حضرت مھ رسول اڈ لی ایل علیہ سم کے جاں شا رخدام یی 
صاح بلمال افر ایس د بھےء اس لئ بی تحضرات اپنے ال نکما لا مت اہ ری وممنوگ کی باب 
بھی ہما رےحیوب ہیں .ٹرآ نک۷رم نے ان کےکھی می اخلاقی اورنخمہا ی کمالا تی 
شبادت دگی ے: 
"الله اشتری مِنّ المومِييْنَاَنقهموَمُوَالهُْ 
بَا لهُمْ الجَنَةيَُتِلونَ فی سَبْلِ اللفَفعلوْنَ وَبْفُونَء 
َغدًا عَلَيْهِ عَقا فی النوْرة وَالنْجِیْلِ وَالْقرْان, رَمَنْ اَرْفی 
بعَهدہ مِیّ اللِفَاسَْبْیِ روا بَيْعِکُم الَدِیْبَایَعُمْ بمہ 
وَڈلک مُو الْفَوْز الْعظیٔم. الَابْوْنَ الْدُرْنَ الأحمِدوْنَ 
لس>ُابحُونَ الرّكِعُوْنَ السُجڈوْن الاِرُوْنَ بالْمَغرُرْفِ 
َالسَامُوْنَ عَنِ الُمُنْگر وَالفْظُوْنَ لِْدوْدِ اللہ وَبَبْرٍ 
الْمُوَمینَ.“ ۱ (ا 2ے )٢۱٢۱۱۱:‏ 
تر جم.:..ڑ ”اید نے خر یلد لی مسلمانوں سےاا نکی جائن اور 
ان کا مالءائس قجت پان کے لے جنت ہے لت ہیں ان رکی 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢٠۴۹۰۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


راہ شش ہچ مار تے ہیں اور رتے ہیں ٤‏ وعدہ ہو کا انس کے ذ سے بی 

کچ یہ زرل ارآ نان مان ےو لک اورا الد سے 

ژمادہ؟ سوخوشیا ںکروائسں مع لے بر جوم 2۵ سے اگ سے اور 

ھی سے بڑکی کا میائی.: وو تو کر نے وانے خی : ونلدگ کے 

ےنرک نے و )بلق رخ وا ےلکن اج ونے: 

ہکر نے وا لمع مر نے والے ٹیک با تکا اور کر نے وا لے 

مرگ بات سے اور تاخمت۔کر نے وانے ان حدود کے جو پان یھی الد 

۷۷92۷۶۷۶۷۶۶۶52 و جا س0 

ارم :... بر نفرات ہار ےکی تر ین سن ہی ںکہپیی الام و اما نکی 
دوات انی کے7م ندم ےماس رآ کی ء اور قیا مم تج کآ نے والی امت کے یک اعمای الن 
کے نامکل یں درج ہیں۔ 

اح ارد جوہ سے ثابت ہ اک سا کرام ہما ےگیدب کن زم ہیں اوران ے 
حبت رکھنالاز ما ماع ے۔ 

رم ا٥صا‏ مقرمہء ین یحو کا مطاح ہونا! ص ہہ ایک فطری مرح ہج سک ۴ 
ا دعام جاتا ےک ہآ دٹ یکوننس سے حبت وہ اس ک ےق قد مکو انا تا ےہ ای کے 
الواروغاذات تا ےءاودای زیت اش کے رنگ می رگن ہوجا جا ے۔ ہپ رچن کہ چڑ 
زصزف فطربی ووجدائی ےہ بل وں ومشا تھی سے متا ہم اگرفل سےبھی ا کی جاحلا ا 
ضروری ہوا سا !عق تنا لی شا نف ماتے میں : 

عفر لّكمْذنوَْكمْء وَاللعَفُوْز ریم“ ( ہل عران:۳) 

ترج:..” کیہ :اگ رم عحبت رھت بہو اش کی و می ری راہ 
چو :اک ححب تک ےم سے الد اور پش گنا تم ہمارے اور الد نے وا(ا 
گبریان ڑاے۔" 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹۷۳۳٠۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


ان آ یٹ جن میازن اف زایا 0 1 قال غاد ےعٌتکاظزرل 
ہے ا نو تحضر صلی ال علیہ مل مکی اا عکرفی ہے یو آ پمی لعل یل مکی 
اعد تیقت اطاعحت ای ہے ای با راس کے دق میا: 
”قُل اَطِیَعُوا اللهٴوَالرّسُوٴل فَان تَوَلُوَا فَاِنَ اللہل 
یُحبُٗ الَْفِرِیْن.“ (آ لگران:٣٣)‏ 
ترجہ : ”"ت کیہ عم مانو او کااوررسو لکاء یلگ اع اض 
کی و اید عبت کئیں ےکافروں ےگ (زجہ شالنڈ) 
افش ! عحی نے ستلزم احباع ہےء اود اتاج خداوندئ یک کوکش لآححضرت مکی 
اٹ خلیہ وع مکی اتا کے بی ریس ؛اغرامدعیا لن محبتی خداوندک یکو تار ٹبوگی لا زم ے۔ 
او ضر رت کی ال علیہ مل مکاارشاوکرائی ے: 
”المرء علٰی دینە خلیلهء فلینظر أحد کم من 
یخالل.“ زرواہ احمد والصرمذی وابوداود والبیھقی فی شعب 
الایىمانء وقال الصرمذی: ھٰذا حدیث حسن غریب؛: وقال النووی: 
اسنادہ صحیح؛ کذا فی المشکوةۃ گ:ے۲۲) 
”انان . دوست کے طور طظرئے اپنالٰتا 
چان آفاٹٹنی ف ضا رک کا ا وزدت 
بتاراے۔" 
جب بردونوںل مق مات خابت ہو تی صھا گرا کا نحہوب ہوناء اورحو کا 
مطارع ومقنٹرا ہوناء و ا سے ما * اک سح گرامم رشھی اٹم وارے۔ لوان 
الاجا یں 
ال عبت کے لئ فو دفی لمع ےلان عفرا طبیعہ ال کوشا ید بی قجول 
فرمائفیں ‏ کی وک دوک سکتے ہی سک الال نے صھا بک راع ال !تام یح تنیںء بالفرشل ہوں 
بھی نے محبو بکی اطاععت ان کے نزدیک ضرورکی یں بی وجہ ےک ححخرت می اور 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٢٥٢٥٢١٠٢۹۰۷۷۷۵۸۲۹۹66 3 7۷7 


جو رے< ون خی انف سے مے ناو عحبتکا ووگی رکھئے کے ں پاوچودان یصورت: 
یرت النگحبووں ےک وٹ یی لکیی ںکھالی عوا کا وکیا کنا !ان کے بجمتلد ری نک کفکوبم نے 
معقر اللحیة ؛ مھا ہے )الاک دای منڈ انا او رکٹا نا ان اکا رکی سن تک ںيلا۔ددر رم 
کے کجوسییو ںکا وط رہ ہے۔ چنا مچکس رک شا وا مان ا مر ا 
کی خدمت میں آ نے تہ ا نکی موئچھیں بی ہوئی اور دالڑھمیاں منٹیی ہہوئ یتجیں: 
آحضرتسکی اولرعلی ہدعم نے ا نکو و٣‏ یوک رف مایا: 


قالا: أمرنا بھلذا ربْناء یعنیان کسریٰء فقال رسول اللہ 
صلی اللہ علیہ وآله: لکن ربّی أُمرنی باعفاء لحیتی 
وقص شاربی.“؟؛ (جارالانوارازعلامہ بائ ای .ع:٭٣‏ ص:۳۹۰) 
تڑھہ:. ”ہار ملاک ہو ایس ای اکر کاعرس 
نے ما ؟ نول نے جواب دیا: جار ےرت من یکس رگی نین نے 
(داڑمی منڑانے اور موی بڑھان ےکا عم دیا ہے رسول انڈیلی 
اللر علیہ یلم نے فرمایا: مین میرے رت نے و جھے انی دای 
بڑھا ے اورا نی موی ں کان ےک احکر نے“ 
راس تھ کو ھوڑہۓے!ٗ نواس میگ یک یآ تجناب نے فرمایا: 
”رام صحا بن سے اتارغ صعامطظ نی عالم نے 
سا ھوورڈال ال وق جس *' 
اس ناکارہ نے اہ تکیا ےکہ اکا ب اہ لف کی صا کے اتو ا لکوجت بکھت 
میں اور یش رآ نکر احاد یٹ نو ہآ ا رصلف سےبھی خابت سے اور (ائل عحقلی 
سے ...ا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱١۴ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


کٹ دوم: ہے سای کرام کے پارے می سک اورشد حقیرہ 


آ اب ک ریف مات ہیں: 
”الہ ٣٣:‏ ےآب نے شیبعہ اد ر سا کی مشمہور نٹ 
چھیٹرکی ہےء بی معاملہ واٹی بہت ناک اور ساس ہے اور کیٹا 
دوٹول فرقوں کے ورمیانغ ال لا نی بح سے پراہولی ےکی 
ڈوسرکی بث سے پیداکیں ہہولی ۔آپ فا ا اس مقیق تکو جاقی 
بھی ںک ھا کر نوناق کے پازے ین ہے 
کے وبی نظریات ہیں جو ا کا برعلا ۓ ایل سنت کے ہیں ء ان میں 
چنراں ہر قگیں۔'' 
سب جا ے ہی ںک دونوں فریقوں کےنظریات کے درمیا نآ سان وز ینک 
ناصلہاورشرق ومخر بک بعد ہے اس سل ےآ ناب کے ا ںفقرےکوائل سنت یں 
بیائل یش بھی براقی بی بھیں گے 
اک راغ کے بارے می ال سنت کےا رات : 
رات صا کرام کے پارے میں اکابراب سنت کے نظ ریت ا نک کب 
عقائند وغیم رو یس یرون ہیںء چنا غہ امام أعشعم ابوضیفہ رح الشھ کے رسا نے 'الفقہ الاک 
یں ہے: 
”أفضل التاس بعد رسول اللہ صلی اللہ عليه 
وسلم أبوبکر الصدیق رضی الله عدہ ٹم عمر بن 
الاب ا مسماع جح عفان 7م علی بن آی طالب 


۱۷۷۷۷۷۷ 56610٢۲١ 0۵۷۱۱۳۱١٥٢۴۰ ۷۸۷۵۲١۵۵۲۵59۰ 007 


رضوان الله تعالیٰ علیھم اُجمعین, غابرین علی الحق 
ومع الحقء ولا نذکر الصحابة ال بخیر۔“ 
(شر بح فتال بر ص۸۵۲۰۲۴) 

ت7جمہ:...”'رسول اللوصصلی اللد علیہ وم کے بعد ترام 
انمنماتوں میں ۹ 0 ں٤‏ پچ رھرءکن خطاب ٠‏ پجھر 
عان بن عفان ء ری جن لی طا لب ؛رضی یڈنم ء رسب تحقرات 
یڑ پرد ہے اور کے سا تد ر ہے عم ان سب ےععبت ر کت 
ہیں ءاوری٢ھا‏ ہک را شک ذک رج ر کے سو اک ںکر تے | 
عنقید اد رٹل ے: 

”ونحب اصحاب رسول الہ صلی اللہ عليه 
وسلم ولا نفرط فی حبّ أحد مٹھمء ولا نتبرأمن أحد 
مٹھےء وتبغض من یبغضھم وبغیر الحق یذ کرھمء ولا 
نذکرھے الا بالخیر؛ وحبَھم دین وایمان واحسانء 
وبغضھم کفر ونفاق وطغیان.“' (عقدہظ اي )٠١:٣۶‏ 

ترجمہ:..' اود رسول انڈیلی اوش علیہ ایم کے “ھا کرام 
7 ومورح سرد عو 
نفرپینن سکرتے ء او ری سای سے براءت اخلنیا ری لکر تے ؛ اور 
بھرایے فیس ےن رھت ہیں جوصھا کرام شی ارڈ]ٹہم ےنس 
راودا نون ای سے مارگرے او رخ کزان انیس 
کھرتےء ان سے محبت رکھنا وین و یمان اور اصان ےء اوران 
سےچنعس رھ اکفرونفاقی اورطغیان ہے“ 

''ونٹبت الخلافة بعد رسول اللہ صلی اللہ عليه 
وسلم وا لأبی بکر الصدیق رضی اللہ عنه تفضیلا له, 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


وقَديمًا علٰی جمیع الامّةء ٹم لعمر بن الخطاب رضی 


رضے ال عنےء وھم الخلفء الراشدون والِأئمَة 
المھدیون۔“ (عقی ؟اوے ص:١١)‏ 
ترج:...' اور چم رسول اض لی ال علیہ مم گے لت 
خلاف تکوسب سے پیل سرت ابو رد لی ری ارعش ہ کے لئے 
اس آرے و او کعارق اع ۓائل اورصب سے مقدم 
گے ہوۓ ء ان کے بعر جطر تع رین خطاب رشی اد ععشہ کے 
گے ء ان کے بعدحعخرتجعحنان ری ارڈ دعنہ کے لئے ء ان کے بعد 
رت لی بن الی طالب دی اشدعشہ کے لئ اور رہ ارول اکا بر 
خملفا ئۓ راشد بین اور جرایت پا نف امام ہیں۔" 
”ون العشرۃ الذین سمّاھم رسول اللہ صلی اللہ 
عليه وسلم ونشھد لھم بالجنةء علٰی ما شھد لھم رسول 
الله صلی اللہ عليه وسلم؛ وقوله الحقء وھم: أبوبکرء 
وعمر؛ وعثمانء وعلیء وطلحۃ والزبیر؛ وسعدء 
زسعیل وعیدالرعئن بن عوف وابو صیدابن 
الجراحء وھو أمین هذہ الَامّةء رضی اللہ عنھم اُجمعین. 
ومن أحسن القول فی أصحاب رسول اللہ صلی اللہ عليه 
وسلم وأزواجه وذریاته فقد برئ من النفاق.“ 
(عقیرۂظیاوے كص:١۳۰۱۳٣)‏ 
ترجے:..' اورجکن دی خعظرا تکا نام و 
صلی الش علیہ یلم نے ا کو جن کی نثارت دگیاء یم ان لن تا 


آتحضرت صلی اللہ علیہطیل مکی شہادت پرہ جن تک شہادت دیتے 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠٢۱٢٥۹.۸۷۵۱۸۲۹66 ۷ 


مل ءاورً آپ الف علیہ لمکا ارشاد ری ہے ہے 

اسان ۓےگرائی مہ ہیں: عحقرت ااوکرہ ضر عمر: حطر ععثان ہ 

تی رت کلی نت لہ ارت ز ہہ ححضرت سسحد نیت سعیرہ 

رت عبدالرم ئع بی وف او رضنخرت الوحبیرہ کن بجرارحٗء جو ال 

مت کےا مین ہیں ءرشی ارد تھا ینبم ۔ 

اورب ش71 ا یت کی ار حا لم کےسمی گرا می 

ال ٹم ءا زوارج مطہرات دی اشن اور ڈ زیت طاہرہ ےن 

عقیرت رھ د:نفاقی سے تر کی سے 

اک سن تک تھا مکتب عقا تد میس می اصول اجھال وتقصیاا مرکور ہیں من ن کا 
خلاصہ ہہ ےک ق ام صا کرام رضوان الڈ مہم ےاتقت نکی جا اع شک پا نے مین 
زان لن درا شگی اتا ان من لئ ی کی ون وتفقیشن کی ما زی ء اع ساب 
تلاش شہ سکئے جا نیہ بچعلاگی کے سوا نککا کن کیا جا ۓ ان کے ا بھی ع راف وفضائ لکا 
اط رکھا جا :غخلثاقے ا راہ شی ات مکی الت زجب انح‌ لھا مان ء فرش ہش رکوہ 
ابی بد رکوہ برای حد ید یہی طز ا۔ 


سح ہکرام رشان انڈشیہم کے پارے می اہ یع اط ریہ ۶7 
رج سا ںام رام سےء بے 

گزر ہکا س ےکر داہن سپا حون نے" فصامتگ کا عیدہ ا جاک ےشن صوا کا 
ورواز وکھواا اورائ لجع ے این سپا کی ا سی نکو لے باند لیا 2 ا 0 
کم کے امت کے امام بت ححضر تی تھے 072 آحضررت صلی الڈرعلہ و ے ان 
جاننی کے لئ ناعدف ا تھا نین ھا ڈنےلھ یئ سے را فکر کےحضرت ابو کو 
خلیذہ نعل بنالیاءاورتحضرت کو چو ےنم پرڈال دیا۔ اس ل ےآ تحضر تہصلی اللہ علیہ 
لیم کےآمھیں بنرکر تے بی ین جار کےسواباتی تھا صحاب...أحوذ بالقہ...عرھ ہو گے تھے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


کی سس سی این 
چثر رہ ایق بیہاں پت لکرت ہوں: 

+- حنان: عن أبیەء عن أبی جعفر عليه 
السلام قال: کان الساس أھل رِذٰۃ بعد التَبیْ صلی الله 
عليه و آله الا ٹلاثةء فقلت: ومن الثلائة؟ فقال: المقداد 


بن الأسود وأبو ذرٌ الغفاریَ وسلمان الفارسیَ رحمة اللہ 
وہر كاته علیھم.“ (روفے گا ی ع:۸ ص:۲۳۵) 

ت7 چجمہ:..:خنان بن اصع بدا واللد ےک لکرتا کالہ 
اواخ اخ ز جوا یں کا یک ری صلی الش علیہ لم کے لیحعد جن 
آدمیوں کےسوابائی سب مر ہو مے تھے یس نے و سچھا: دو نشین 
کون تے؟ فرمایا: وو ٹی نآودگی ہہ تے: مقمراد بن اسودہ اوز رغفارگی 
اورسمان ناری۔' 

”7> حدثنا محمد بن یحيییء عن اأحمد 
بن محمد بن عیسٰیء عن الحسین بن سعیدء عن علیٗ 
بن التعمان, عن عبداللہ بن مسکان,؛ عن عبدالرحیم 
القصپر قال: قلت لأبی جعفر عليه السلام: انٌ الناس 
بفزعون اذا قلنا: ان الناس ارتڈواء فقال: یا عبدالر حیم! 
ان التَاس عادوا بعد ما قبض رسول اللہ صلی اللہ عليه 
وآله أھل جاهلیٰة “ (روفۓکائی ع:۸ ص:۲۹۹) 

ترجہ:..” عمبدال رپ مت رکہتا ‏ ےکہ: میس نے امام با ر* 
ان جب کم ہہ ککتے ہی ںک ہوک مر ہو یئ ےد یی نکرلوک 
ھ۰ ۔ امام نے فھ رما اکلہ : اےعپدال ریم !رس ل اڑل 
اش علیہ وع مکی رعلت کے بحدلوک جاہلی تکی طرف لٹ یئ جے_ 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٣٥٢٥٢١٠۴۹۰۷۸۷۸۲۹6۴6 7۷ 


ْ پ۵ ١ج2‏ رہ 1 5 ا ای اھ 


”۳- حمد بن زیادء عن الحسن بن 
محمد الکندی: عن غیر واحد من أصحابه عن أبان بن 
عشمانء عن أبی جعفر الأحولء والفضیل بن یسارء عن 
زکریّا النقاض عن أبی جعفر عليه السلام قال: سمعتہ 
یقشول: الناس صاروا بعد رسول اللہ صلی اللہ عليه و آلہ 
بمنزلة من اتبع ھارون عليه السلام ومن اتبع العجل.“ 

(ایٹ]) 

تج: .”کیا ناف یکچ ےک :مین نے مام بات کو 
کت بہوئۓ نٹ کے ر٭ل ال مکی اد علیہ الہ کے إعرائوں 1 7 
میں ہوک یی ء ان میس پکجھتذ وو تے جو ان لوگو ںک یل تھے 
جتھوں نے پارون علیہ السلا مکی پچ ویک ء اور ہدوہ تھےجنھوں نے. 
گوساللہ یہت کی“ 
مطلب ہہک ححخرت ااوگ ر ری الد حثہ.. لوڈ بالک... ماع رییکاگوسمالہ تھے :نشین 

رات نے الع سے برجم کی ء و گوسالہ برست جے۔ 

'”عن حمران قال: قلت لابی جعفر رع) ما 
اقلتا؟ لو اجتمعنا علی شاۃ ما أفنیناھاء قال: فقال: الا 
اخبرک باعجب من ذلک؟ قال: قلت: بلی! قال: 
المھاجرون والأنصار ذھبوا ال زوأشار بیدہ) ثلائة.“ 

زرجا لی -:ھ) 

:عفرا غ اتا :یس نے ماش پاش رس کہا کل 

ما ری تحداش یتھوڑبی ے؟ اگ رای کبری مرج ہو جا نمی تو ا ےبھی 
تھ می کم یا نیس گے .امام نے فر مایا :ین تھے انی گی جیب 
بات بائں؟ میں ن ےکہا: ضرورا فرمایا: ہاج بین انار مین کے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


سواسب ملے گئے _'' 


خیب : رآ ن رے بڑھگرا نع سال روایات پر إبمان وعقب رر ھت میں جن 


علا مہ پا فی گلھت ہیں: 


وا ناد مادر برا تکآ نس تک ہیارک جو بنداز ہت ما ۓ 
چہارگا نہہمشکی اکر دروعثان ومحاویہء وز الع چمارگا نہ شی عا کش 
وحخصہ و ہند وأ اکھمء واز مگ نشیا وا تام ایاں ء وآ کہ ابیاں 
پہرتزمن خل خداامر وآ کک تما ع می شود اقرار نراورسول وائ جنپ 
زار از وتناں ایال (جح یقن ص۵۱۹:۰) 

مہ اوھ پا ین وا زا حیز اہ ےک 
ار جوں ے برای اخحقیارکر یں ء مع الوبگر وگھروخثان ومحاو یہ 
سے اور ا رعورنوں سے بنزارکی ایارک میں ؛ مل ھا کش حخصہہ 
ناورم الیم سے اورالع کے ہیام پیبروکاروں ے٤‏ اود کہ ہے 
لوک مد ا یوق یں سب سے بت تاور ےک غدا بر رسول > 
اورأخٔے بر یما نگ لیس ہوگا ج بک ککہان ڑشعوں سے ہجار 
اختارشگرسں۔“ 
یٹ مل ؟ پچ لک رککیتت ہں: 

ورلٹریپ العارگ روای گرو ہآ زاوکرووحظرت 
لی ین ین علیہ السلام اہ آحضرت پر سی دک مرا برق تن دی 
ب+ست: جس داڑھال الوگرۂ جس حظر تفرمودہ ہرد وکافربودندہ در 
گانیشال رادوست دا رکا ٹ راست - 

والیض..... رواب کرد و اس تک اوھ ز و ثالی ا زآحضرت 
از حعال ابونگر وعمرسوا لکگرد فرمو وکا فرنء دہ رک دلاعت ایال را 
داش باشمدکافراست ود۸ سی باب اعادیث بس راست: ود رکب 


۷7 8م۹.۷۸۷۱۲۹۴>٥٥٣0۲۷۱۷۳ا651‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


عتن .8وہ دوھم جع ہہ چے 
لق ات را پرڈواز لوا امرس '“ 80 
(حؾ لقن ص۵۲۲۰) 

ترنہ::. ”لق ریپ الحارگ من زدای کی ےگ ابام 
سی نٹ کے آزادکردہ لام نے حضرت سے 8و ھا کہ: میرا 
آپ کے ذ ےق خدمت ےء بے ابوگر عم کے حا لک اخ ریئا ا 
مرت ےن مان ا ٰ۹‌٦‏ ٰ, ۰ ,-722-[0 نے اتک 
رھ ددیھ یکا فرے۔ 

جزدداایت ےک الوہمزہ لی نے حطرت ے الوبکر وعھر 
کے بادے یں پچ چھا تبیہ :کاف یں :اچوس ازع سے دق 
رکھتا ود وی یکا فرے۔ 

اوراس پاب ہل بہت کی اعادیٹ ال چ ھکالوں میں 

شر ہیں :ان میس سۓے اک بھارالانوا شس جرکور ہیں ۔' 

اپ نی 

”مل فگو یدک الگ کیک تا لک میدان کہ طہ جا ۶ 
درا ازم تم رس کہا ےک ہا ہہت زم لت واخٌّ رہ از 
تھا وفتنہ اوت بی ہا ایس منا فی وو“ لی یتین :۲۳۳) 

تزغر ”'مولق یں اف ھی )کت ہے ا شپت 
مو رکرو گے نے جان لوگ کہ اسلام یس ےت سے بر یا ہیں اور 
رر سو را دج اج 
ری الشخشہ کی بدکتوں مت اوت ییرو ںکا" و 
اس کے ٹین سے بح ریت ہیں 

”بر بی ہاش تی خنذاند بوداضتطمال اس قصداز جماتشتی بر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢٣۹ .۸۷۵۱۸۲6۴ ۷ 


ضعن وکنفروعضااات وخطا ۓ الوبگر وف دعاان ور متا ء داعوان انیل _“ 
زی انیس ۴ص:۴۳۹) 
٭ 72 ۳7 ہچ ار .۰ 
رو ی عاپل رن ی نہد با ہو کہ بیرق کی اعتبار 
سے ااوبگمر عم وعثاانع اوران کے آعوانع 7ج وف راور 
فلالت وخطا تل ے_' 


مات الو جلرددیم کے با با۵ میں تن رظ کی الشعلی یلم کی اولا وآ مار 


اکر ےء ای میس مہ کرک یآ یا ےکی آتخحضرت لی ارڈ علیہ ےل نے ای دوصاحب زادیاں 
رت رق اورتحضرت أُخمکلشوم ری ارڈ ہما کے بعد وج ے نضرت علمان رش شرع ہکو 


با دد این :اس کے عاشریں علامہ باق لس کت ہیں: 


جس ہوک یلین شھیہوں پر اعتراح کرتے سز 
عثانمسلران نہ ہو تے ق آححضرت صلی ارڈ علیہ وسلم اپتی دومڈیو ںکو 
ان سے تزوتع نکرتے۔ مہ احتزات چند وج ہکی بنا پاضل ے۔ 
ال یک ہخر تکا اتی ما خد پیگی میٹیو ں کا ان کے سا جح تز وت جحکرنا 
مین ےٹل اس کے ہوک خدا ن کا فرو کو بیٹیاں د ینا 7ا ٹر اردیا 
ہ۔ چناتچہ با تفاقی اشن زی بکو مک می ابوالعاصی ے 7و 
فرمادیا تھا: چیک 3 +کاف نھا۔ ای طرح تق اورأ لو مکون زاین بیں 
شر کی بنا بر طبر او ری ران ااواہب .]2 ٹرمایا جو کاٹر 
قالس ھگسسوےتتا فرما یی ۔ وم اجذاب برے 
کرعنان کے مسلران ہونے میں اس وقت جرحضرت نے ای 
ٹیو ںکوان سے تز و ف رما کی اختلا فکیں ہے۔ اکر چہانہوں 
را 6ج امیبرالھ مین کےنٹصس خلافت سے انکا رکا اور وہ غام 
کام یئ جوموج بکفرہیں ء اورکا فراورمرن ہوگئے ۔تیسراجواب ىہ 
ےے ہب ھ.. سے کرد ولک متا نتوں جل وا 1 ھے اور 


۱۷۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳٣٥٥٣۹ ۴8م۷۸۷۱۲۹۴.‎ ۷7 


خوف اور لا کےسبب اہ اسلا مک اظہارکرتے جھے لیکن پاشن 
وو کافر سے اور ؤراوند الم ہے یں ری ٹا / 
آتحضر تکوعم دی تو کان کے اہ رکی اسسلام عم جار یک یکر َ 
اورطہیارت اورمنابحت اوزمیراث وغی رہ قا ما کا مخ ہرکی ٹس ان 
امسلماوں کے سا توش سیک ریئا ۔بہٹرا آححضر رتس یعکم میں ان 
ػوسلماتوں سے ال ککییںکر تے تھے اوران کے اق یکا انظمارییں 
را ے۔ چنا تی خاص و عامہ نے روا کی ےکآ حضرت 
نے ال نکی لیف قلب کے لئ عمبدا و بن ای مرنماز جناز و یھی جو 
نفاقی یس ش ہو رتھاء اگ رثا نکو تد دکی اس بنا رک اہ ریش وہ 
مسلمانوں میس دائل تھے :تو یراس پرد لال تما کرت کہ دہ بان یل 
کافرضہ تے؛اوراا نکی تالی ف لب اوران سے جئی لیدنا اور اتی جن ان 
کود ینا وین اسلا مکی تروع اورک توق کے بلشدو داع دینے ٹس 
ایت در ٹل رکتاتھ۔ اوراس می بہتکی سح نی جوقو گر 
کرت وا ٹ ےکی صاخ پعفل پر پویشی وین ہے گرم کارددعا لم 
ان کے نفطاق کا ا ہھارفر مات اوران کے ظا ہرکی اسسلا مکوقول نہ 
فرماتے ٹوکھوڑۓ ےکفرور اورغر یب لوکوں کے سوا خطرت کے 
ا لکول ثہ رہ جاج:ء جیا لآتضرت کے بعد مالین کے 
ساتھ جا رآفراد کے علاوہزردہ گے جے_' 
(تزج جات القلوب ص:۱ك۲۰۸ے۸) 


لکش کیکتآفر یوک راد“ نے انا اجار ا ےکآ حض رت مکی ارڈر ھا ےلم 


جا ۓے ےر حر - ت الویکر وگمروعمان شی الف جم . عو پالٹر. اف نال تھے ایس سے 
اوجو ]ین شی الڈ مہم گی صاحب زادلوں سے خعقدف مایا اور تخرت عنمان رص ارل رع ہک 
کے بعد دنر ے ای دوصاحب زرادیاں بیاہ دیس ایا کیو ںکیا؟ ا سل کہ اسلام انی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


جن حضرات کے ےم دم سےکگیل ر با تھاء م نین مجز رک شہہو تے تو آحضرتت صلی اظرعلیہ 
لم کےساتح بھی دج یجن جا رنفررہ جات جوا می رالم نان کے سا تد رہ گئے تھے ہلا ول 
زل فوْة ِا باللر غرم ہے !اس ے بد وک رآتخحضربت لی ال علی ‏ یل مکی وین فی سکیا 
موی کاا ودای سار ہہ .و 
ےک ان اکابر کے وجودکوخو وآ حضرت مکی علیہ وعلم کے ز مان بھی ”یداہ اسلاع' 
ٹراردیاجاۓ..؟ 
ال جن کےمدوب صا بے کا حال: 

اورجنن مین جار را تکوائ لع نے اپنے فی ارت اد سے معاف دکھاتھاء 
آلی سیا کی تن فکردودردایا تکی ر کی شی ا نکا حا ل بھی دک مج : 

یا تک نے ین 

-٣‏ علی بن الحکم؛ عن سیف بن عسیرةء 

عن أبی بکر الحضرمی قال: قال أبو جعفر (ع) ارتذ 

الناس الا ٹلاثة نفر سلمان وأبو ذر والمقدادء قال: قلت 

فعمّار؟ قال: قد کان جاض جیضةۃء ثم رجع: ثم قال: ان 

اردت الذی لم یشک ولم یدخله ش٠ء‏ فالمقدادء فآما 

سلمان فانه عرض فی قلبه عارض ان عند امیر المومنین 

(ع) اسم اللہ الأعظم لو تکلم بە لأمحذتھم الأرض وھو 

ھٰکذاء فلیّب وجئت عنقه حتی ترکت کالسلقة فسرَ بہ 

امیر المؤمنین (ع) فقال لە: یا أبا عبدالل! ھٰذا من ذڈاک 

بایع! قؿ4ایع, وأما ابو ذر فأمرہ أمیر المؤمنین (ع) 

بالسکوت ولم یکن یأمخذہ فی اللہ لومة لائم فابی الا ان 

یکلم فمرٌ بە عثمان فأمر بہء ٹم أناب الناس بعد فکان 

اوّل من أناب أبو ساسان الأنصاری وأبو عمرۃ وشتیرۃ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢٣۹ .۷۸۷۱۸۲۹۴6 ۷7 


وکانوا مسیعةء فلم یکن یعرف حق امیر المژمنین ١ع‏ ال 
ھؤلاء السبعة,“ (ارجال ھی وروای تٴ۲۴) 
اوک ری یکرت ےکن ما تر نے یا ای 
ین افراد کے علادہ بائی سب لوک مرن ہو یئ تے تین افرادیہ ہیں: 
سلرمان ءابوذ رنفارگی او رمقدراد نیل نل ےکہا: عمار؟ فرمایا: ایک دڈم ل9 
وو ھی تحرف ہو گے تھے :مان پچ روف ؟ ئے۔ چرخ ماا: ارم ایا 
آ دید بلھناحجاتج وج سکوقڈ راٹچھی شیک ہیں ہوااوراس می ںکوئی چز 
دا‌ل یش موی و ذو می راز ےر علران ول ئا را لاہ 
می رالم وین کے پا سو زیم اعم ہے اگ رآ پ ام اعم پڑ دی 
و ان لوگو ںکوز مین پل جائۓ لچ کیو ںنیں ب ھت نے ؟) وہای 
نال ش بے لا یکا یمان پڑا گیا اود ا نک یگرداع نا ی گی 
یہاں ت ککہ الیکا ہوئی بیسے ا لک یکھا لے کی ہوہ تا ئحہ 
می رالھ مین ان کے پا ےک رے نے فر ما کہ : اے الوش را | 
بای خیا لیم زاےء الو رکی بیس تک رلو ۔ چنا تی ران ہوں نے مجعت 
کرلی۔ ہائی رہےالوذ دا تو می رالھوسن۲ن نے ا نکوخما عمش رن ےکا 
7 کر ٹا مال پان جے؟ وہ ارد تناکی کے 
معیایلے می لک کی لام کی روا بھی ںکرتے تھے یں عثاان ان 
کے پااسل س ےگمزرے فو ا نکی ای کاعلم دیاء کر ولک تاب 
پر گوس سے ںہ نے لو کی وہ الوسا مان انصارگٰء 
ااوسرہ اورشت رہ تھے ؛ لے مسا تآ دی ہو گے موس ان سا تآدمیوں 
کو کیانے امیرالھو مش٢‏ ن کات یمیس پھانا 


یہ ١‏ ےم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳٠۱٥٢٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


سے اشیل ور رہ سے حرف ایک مفداو کے نار سے حرف ہو یئ بعد 
ہیی لوٹف! ءلین دہشی م رر ہو نے کے دو پار ہمان ہہوئۓ وسلرا کے ول میں 


بھی شی پیدرا وکیا ھاء جن سکی ا نکوسزاعی ءاوراہوڈ کو می الھ نین نے سکو کا حرف مایا 
اہروہ نا خر مال یکر تے تھے ٣ای‏ ہنا رہ امیا ےک 
”ما بقی أحد الا وقد جال جولة ال المقداد بن 
ااإأسود فان قلبه کان مٹل زبر الحدید.“ 


(رجا لی :روای تہ )٢٢‏ 
تر ج.:..''مقدراد کے سواکول یبھی بائی ند ماء جو ایک مر 
وأ یرنہ ھا گا وہ اش اھمقورا وکا ول لوت سسکگمروں جیا تھا 
ایک متمداڈ بائی جے تےء اب ان کے بارے میں بھی سن ا 
*- عن بی بصیر قال: سمعت أبا عبداللہ 
(ع)یقول: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم: یا 
سلمان! لو عرض علمک علی مقداد لکفرء یا مقداد! 
لو عرض علمک علیٰ سلمان لکفر.“ 
(رجا لیء روایت:٢٢۲)‏ 
ترجم:.' ا ول رکچتا ‏ ےک :یس نے امام صادقی کو 
ٹراچ ےئ نانوی صلی ا زع فر ات ےک 
اےسلمان ! اگر تی راعلم مقدراد کے ساسئے ٹین ںیا جائے نے د وکا مر 
ہوجہا ۓ ءاوراے مقرادا اگرتی اسم سلرمان کے سماتے ٹین کیا جا ئئے 
نو وکا ٹر ہوجا ۓ 
یا شر ےک ہمقداڈاورسلماں کے و لکی حالت ایک و وسر ےکومعلوم می گی : 
ور ینکر کے سوا تہ تھا 
”- عن جعفر عن آأبیه قال: ذکرت التقیة 
یوما عند علی (ع) فقال: ان علم أبو ذر ما فی قلب 
سلمان لقعله,“ زتعا لی روای ت:۰٥)‏ 


۱۷۷۷۷۱۷۸۷ .065]0۲٢۱۷٣٢٥٢٥٢١٠٢۹۰۷۷۷۵۸۲۹66 (۷ 


یت ا را بے واللد ےج لکمرتے ہی ںک ایک 
دن تحضر تی رشی ایند عشہ کے سا نٹ ےک کا ک رآ یا و فرما اکلہ : اگر 
او رکوسلمانع کے تقل ب کی حالت معلوم ہہوجائۓ نو اا نکوفشل 
آرزران * 
اس سے معلوم ہوتا ےکم یجان جا مرا بھی این و کا یں بی اسیک 
نہیں تا گعد ‏ ھھے۔بر ہا بے حقر ہد ہو لکا بی دکیا ۳٢‏ ایک وو ےکوی بنا نے ھے؟ اس سک 
نس۴ جو8 0 _ے وا ھ_ ہیں 2 ول میں خلفا ما 
سے عقیرت وعحبت اور موالات ر کھت تہ چنا خی حطرت سلمان فاری رشی اڈد ع ہکا 
شا ےا توالت رکھتا انان تام ےک ہمحر تجررنے ال ننکو دا کا اگورنر نایا 
تھاءاس وقشت سےمعطرر تک 2 ئ0 کےگورنر ےآ نے ھےء ای حاات میں 
٦‏ لا نکاوصال :٭ا- (ترجرحاتالقلوب غخ:۳٣‏ ۹8۵۲۰۴ پاب:۹٥۵)‏ 
سیر تفر تنا 07 اص رصھی الد خنچھی تع رات خلفاء سے موالا زغ ر کت 
تہ چنا خی حضرت اور دی ائڈدعنہ کے ز مانے یں اننہوں نے مسیل کراب کے مقا لے 
ٹس ہگ بیما مہ یی ش رک تفر مائی ء اور ا۳ جم یس نظرم عم ررشی ارڈ عشہ نے ا نکوکوفکاگورنر 
بنا رکھیچاءاورالیٰ کےسا تج رر ٹعبدالقد .کن سس جودرشی الن دع لو عم وم ناک کیا خواہ 
اورائ لکوفہ کے نا من رخ مایا تھا: 
”أما بعد: فانی بعثت الیکم عمَارٌا أمیرًا 
وعبداللہ بن فسعود مُعلَمَا ووزیرًا وھما من النجباء من 
اصحاب رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم فأطیعوا لھماء 
واقتدوا بھما۔“ 
(الاصا۔ ع:٣‏ :۹۹٦۳ء‏ الا ختیعاب رعاتاصا۔ہ )٥۸۰:‏ 
بے ساریے پاش عما رگ امیرہ او رع راڈ بی 
تو ڑارعلم ووزیر: ناک رر اہوںء بی دوٹوں ارگ رسول انی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٢٣۹ .۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


علیہ ؤعلم کے برگز بد ہا صحاب میں شار ہو تے ہیں سوا نکا اعم مانو 

اورا نکی إ3 ارو'' 

مطرت مقبراد او رعظطرت ابوزر رنصسی اٹ خنما بھی حظرات خلفا سے مموالا ات 
اہ جھے مان ان دہنوں میں نے مکی عااتے کی علوصم ت تو لی فر مکی حظرت 
مقداڈ کے عہدوقول نکر ےکی وجہ ریگ یکا نہوں ن ےآ ضر تہ صلی الد علیہ لم کے 
زمانے می شض مکھال نج کہ می ںآ نج کے بعد ددآدمیو ںکی مار تبھی قبو نی سکرو ںگاء 
(متندرک اکم خ۰ ص:۳۵۰)اورتطرت اوذ ڑکواان کے نما و مدکی وج ے تو وآ فحضرت 

نت طبری نے بسن مجر روا گا ے رواپ 

رسولی خدا صلی الل علیہ ول عم نے فرمایا کہ : اے ایوڈر! یں 

تمہارے واس وی ین دک رتا ہہوں جو اپینے لے ینکر ہہوںء می تم 

کوکرورو نا نال یا ہوںء برا ددشنصصوں پرچھی آمیرمت بناء اور 

الیم کےتعفل ہون_“ (حاتالقلوب ع٣۳‏ ۴ص:۰ے٤۹)‏ 

الفرٹش !ہن بز رکوں کے پارے میں شبیعہ کھت ہی ںک دو رن ادس ےتفو ظا رے 
و ھی نات خلفا ہے موالات رکھے تھے اورانہوں نے عیرے اورمناص بھی قیول 
رما غالبا نکی یھی غیت گی :شس نکی بنا شع ردابت می مایا ےک۔ اکر ایک 
کے و لککاحال وسر ےکومعلوم ہوچا جا فا کو لکردیتاء ا کافرہوچاتا۔ 
حر تع پا او رام نع پان 

حفرت عباس رش ارڈ نہ آحضرت صلی امقد علیہ وٗلم ک ےک جحتزم ےہ 
آتحضرت لی الڈرعلی سم ا نکوصنو أبی“ رع ےئ ےواج ۴ 
ضر جھررشی الد عدہان کے نول ص2 و 02 
ہے۔العٰ کے صاحب زا ے تعفر تع راید من اس ری ان اکوشد ترات رتضرت 
صلی رشی اردع کا شاکر ونماضصس جگنت میں نک ن شی رادلیں نے محر تع ماک اور اع کے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


و ٢‏ ھ لس 


میا کو قر ما ری 


لاحب زا ےکن موا و کر حا لئ نکیل زی نما راکنا 
ہ ےکی یئ ماش یا شر "رر زا ہو ۓے تا ز: 
”قال أمیر المؤمنین (ع): اللّھم العن ابنی فلان 
وأعمم أبصارھما کما عمیت قلوبھما.“ 
(رجا لی :روای تن )۱۰١:‏ 
ترجہ عفر تگی شی ا نہ نف رما اک اے الا 
فلااں کے دونوں ٹوس ( عمبدرادقد بن عبانس اورعبیرایند بن عپاس )یر 
نت قرما اور ا نع کی آ ابو راس رع چنال اع وی 
انگ ایا۔ے 
بیخیل جن لیما رکہتا ےک : بی نے !مام با رس سے سنا کہ میرے والد ( امام 
زین العاإ بن ) فرماتے ےک : ف رآ گرم کی دوآ یں عیدزاند جن خیائ کے پاپ 
رتا سے بارے یی نازل ہیی ۱ 
کی یت 
001 
أاعمی وأاضل ہیلا“ 
ڑ۱ ”اشنا زفائل انرماء وڈ ََ 
ٹی بھی انڑھاہوگاءاورز یاد گرا 
وس رایت 
”ولایتفعکم نصحو ان اردت أن أئصح 
لگ ( ال شی ردا یت ر۰۶) 
رج ”لاو ںونخان در ےکی زگ لتقحت: اگ بین 
تمہہاریی ترخوا:ی یکرنا یا ہوں ء اگ اید تا یت مکوگرا ءکمر کا اراوہ 
رھت ہیں٤“‏ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


یردوفو ںآ نی ںکافروں کے بارے یں ہیں من خرف ہتھا شا ےک امام ا کو 
آتحضرتتہملی ابطرعلی ےلم کے پیا ہحفر تعاس رشخی ای رعنہ بر چسیا نکر سے ہیں ۔ 
شیع راوی بھی بتاتے ہی ںک ہنخر تک نے اپنے دو رخلافت یں حضرت 
پان ا ٣ں‏ وپ ناو تک یا عازیی پغ سک ریت الما ل نا جا رانا 
سی فک رمکہ لے گے ء اورحر گل کا ات پچوڑ گئء ما لکی منقدرار دو لاک د نشی ء 
خر تل کو یہ ا اع می تذ منہر یہ یکر درونے گے اورفر ما اکہ:” رسول ایی ال علیہ 
لم کے پتجازادپھائ یکا باوجودا نکی قد رومنزلت اوریلم ول کے ریبعال سے ہو ولک ان 
ےک رز میں ا کیا حعوالل وگ پا ان نے بن ات بائ یکنا الا بین اق سے 
کا گیا ہوں: میں مگ ان سے راحت دے اور بے ابٹی رف نیف کر نے پھر ححضرت 
نے این عبا کو یک ز وردارخیککھاء اوراا نکو بڑ کی ظیمرت وڑا کی ہگ رانہوں نے ایک 
پپی جیلو اکر ںہ دیاء پگ تفر تی کو جواب یسک اکلہ ”نجنا 7 0 
سے زیاددھب راف یت المال کے ذے پائی سے رٹ نے پچ رخ ھا تاجن ع با نے 
جواب میں کک اک :گن غھم نے مسلمانوں کے ان خون گے ہیں ء میس نے نے مال بی لیا سے : 
مارگ ڈیا نز انے اگ رمیرے ذ ہے ہو لف مہرے نزدریک اس سے ہر ےکہ یی ںی 
ملما نکاخون اپنے ذے نےکر بارگاد ای ٹیس حاضریہوں ۔' 
( رای شی ء روا ی تن :۱۰۹ء٭۱١)‏ 
متریحٰ پل ال نک لوم ہہ و ال : 
ا:... ال سطت کے مز دیک صا گرا ”نج رامصت اور مت وس یں :جیما 
ہق رآ نکر 0 لو و پا او کر وی مک . 
.. فا الک., بھتا ند تی کا انل امت کا خطاب ملناجا ہے تھا 
...ال سطت کے نزو بک فا ےرڈ لت رحب ال اش مبعدالاخیاء ہیں 
اوزال یش کے نز دی انا ےجا ...نو بائڈر. نل خدایں سب سے پت ہں۔ 
اولی سفت کے نز دکیک حفرا تھا کرام کے پاارے ٹیں بوڈ یکر اکظرو 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


اق یکی عامت ےاورائ لج کااس کے سوا وی مشفل یں مک ببان تی لق 
ین احیادت ہے۔ 

...ال سفت کے نن دی کتصھا ک را میاگمرائی اور پاضل رت ہوناء نائمکن تھماء 
اور یج کےنددیک ذذ ال کے ای اوزچز برای تن بیایس ہوے۔ 

۵ ول سطنت کے نز کیک صصھا کرام رسالمتہ حم ہہ .. کل صاجہا الف الف 
صلوات وسلسمات... کےگواہ تےءلقولہ تعالی: محمد ول اللہ وَالّدِیْنَ مع 
ادرائ لغ کےز دی ک1 ححضرتعصکی اللعلی یلم کےکمرددو جار کے سواپائی سب مائن 
22 

انانکات ےآ پ انداز ہکرس ہی ںک ہآ پکا لف رہکسس حدتک نی برتقیقت د 
صدافقت ےک :” صھا کرام رضوان اڈ ہم کے بارے میں شیع فر تے کے وا ی نظ ریات 
ہیں جوا کا برائسفت کے ہیں ؛ان می چنال فر کئیں ۔“ 
صححا یگ راغ کے پاارے میں شع کےآ ا صول: 

آ جا بک ریف رماتے ہیں: 

”نو أصولی بانفیں جوا کمن می ( میتی صحا کرام کے 
ار ےی )ال ات اوراا ش دو ما ہیں ء درخ قش ہیں 
۱.. آحضرتلی لعل وملم کے ال صحبت می منانشین 
بھی تھے جن کے بارے می ق رآآن دیس بار بارس گی اور نی 

کہاگ اکراے رسول ام ان مزا ٹینیس جاثنے ٠م‏ جات ہیں ۔ 

۴× .لینض ای لو بھی تھ ہجمھوں نے آتحضریتں مکی 

ال علیہ وم مکی صحبت اخققیارکی ؛میان دہ ول سےمسلمان نہ ہہوئے 

تھے چنا غیرد مرف ہو گے اور حضرت سی اور علیہ وسلم نے ان کے 

ٹل اورجل ولنی وظی رہ کےاجکام دیئے۔ 

۳... یش صا کرشم مین صانحین جے نان ودعحصوم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۵۸۲6‎ ۷ 


چنا آتحضرت صلی انلرعلیہ یم نے نیس حد بی بھی مار ن ےکا عم 
دی یی اکا کاب بین علاۓ ایل سنت نے ا کی وضاح تک ے۔ 

٣ز‏ تس اب ل ححبت ووجھی تھے جو حخحض تی ارد علیہ 
لم کےاققےال کے بحدتقیرز مان اورمسلرانو ںکی ا بھی چنائش سے 
فاندہ اٹ اکر پمصللحت جاہلی تک لد پر لے گن ؛ ہم ایس اییے 
صلی رسو لیس مان جن کے بارے میس با رج سآ کی ہیں ء انیس 
کی طرفعد یٹ جو مل اشاردے۔ 

۵ حضرتیلی علیہ السلام کے دورخطافت مل حظضرت 
ا فؤر تفرت یر خعاد کے ردان جو جنگیین ول ء ان ٹش 
جن ضر تی علی السلام کےسات تھا نان حضرت عا گی ا پل 
برلیھالی اود ہابت ےکی اکا بر بین ائل سن تکانظظربرے۔ 

٦‏ حطرت شاو عبرالز مز محرث دہلوی نے فأوگی 
عمزیزگی ہل ”الصحابة کلھم عدول“ کت دومقامات پت 
ترجا تکی ہیں ء دہ ا لتق ر کے نز ویک نورست ہیں ؛نجن سے 
صا کرام کا خی توم اور میدروو ہنا ثایت ہوتا ے۔ 

...ابی طرں م فی انم پاکتتان جناب مولا نا مفتی حر 
شع نے مھا ای ای لا یل یا 
زرست ؟ُں۔ 

۸چ فارگ شریف یل حد یٹ عق (محروف باب 
یش لکی سارگی حدنشیں ) ہما رے موق کک جا دکرکی ہیں٠‏ اوراس 
سال یس !ما خطالی اور اما نو یکیتش رجات ڈرست ہیں 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


اب کے مرح پالا شکات یل 0ر ..۔ ‏ ےب 
7۸ او لئٰ۔ 
:ھا کرام اورمنانشین: 

آپ نے لے گگتے یں ما فی نف ؤکرخر .یا ڈنیا رانا سک اکر 
یس م ناف نک قصہ نے بٹھنا فبایت و ںآ زار مفالطہاوراہلہف ری ہے تیوک ا کا حاصل 
ی ہواکہ چوک ہآحضرت صلی الرعلیہ یلم کے ز مانے ٹیس منا بھی تھے اور جچوکلہ وہ ہے 
اق میں ایے کے ےک آتحضرت سی الیل علیہ مل مکویھی ان کے نذا یکا مک ریش ہو کاء اور 
ننس الیل مزا فی ت ےک ین مضا کی ہنا ران کے فا یکاعلم ہوجانے کے پاوجودان 
کے سا تماما فو کا سا معا مل کیا جا تا نھاءلبطر اہ سا لی کے پارے میں کی مرائۓے گیا جائے 
ہد ..أحوذ پانڈہ..بمنافی تاور ححضرت سی اود علیہ یلم با اس کے فا کو جات ےنیس ےہ 
ای کے ذ گی اثر ہو ےکی وجہ سے ملح تک منا قیفر مات تھے ءاوراس کے سام سلرمائوں 
کاسا معا لہ قرماتے تھے برے وہ نان دوس ج٘ کی ڈیا دی اھ بن سبانے دی اوج 
رواش کےسلب ایما ننکا موجب ہوا۔ ای وسو ےکی بنا ران ہوں نے جعقارت اما ئۓے 
راشد گن اورحشردجشرہ (رشی اٹم ) ج ککومنا نی نکی فبرست یں شاگ یک رلیاء اور 
آ ناب نے بھی بظاہربڑۓ مو مانہا داز یش ای فرجب سپائی وو سک ت جمائی خر ای 
ہے لیکن ج سمش سکوانل تالی نے زین ودہا مت اودتفل انا کوئی نیب فر ابا وہہ 
صخا گرا شارت مکومناضقن کےسا تج کن کرٹ ےک بھی جرآ یہی کر ےگا کیل : 

اڑلا:.. رآ نک۷ریح اورآحاد یت ش رہ میس نعفرات ھا کرام نشی ارڈ نم و 
نے ںا ال ومن قب اوزرازع کے نظا ہرگی دبا یمکمالات جیا نر ما نے گننئے میں ءا چا بھی 
ہر کی کی زس ای کی کان ےکن :ورای ایک سے 
امیا نین کےسات بھی ہو وص رک طر فق رآ نک ریم میس بھی اور حاد بی ش ریش میں 
بھی مزا فتو کی شد بت بین غزم تکاگئی ےء ان کے اقوال وافعال پرففری ںکیگئی ےءان 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳۱٥٢٣. ۸۷۵۸۲6 ۷ 


کی و نیوگی اور خر وگی مزا ںکو فک کیاگیاے او را یں خر ک الأسفل من النار' 30 
زوزرخ یسب سے لے لی ےکا سفن قرارد ایا ے۔ 

ان وڈ ں مھ مکی ایا وأ حا فی ٹکو سا شر ٤‏ اکر ںی کیا جاۓے 

تھی ماک ہپ نے سپائی وس سے کے ریت می ما شر دی ےک یکو کی سے گل 

شر صلی اول وا لک رنیم تھاکلہکو نآپ لیس صلھالی ہیں او رکون منا فی 
ہیں؟ و گو ناک یکو پچ معلوم؟ یں تق رن ود یت می گن حا کی مم وستائنش 
فرمائی اہی ے؟ اورکن لوگو ںکی نزمت وگواش بیان ہورجی ے؟ فر ما بئے غِ اتک پ 
اس ادج تر یکو اللہ تما ٰیٰ اور اء ں کے میس رو لی لی لعل ی پیم کے می عائ7 
رکھت ہیں..؟ 

مایا :.. می لآ پ کی سے لو پچتا ہو ںک اگ رکوئی بد نت حون نما ہگی.. بوڈ پالق.. 
حطرت ام رکم الڈد وچ اوران کے جن حا رز فقاء کے پارے بی ء جج نکو شی ملس صھالی 
بات ہیں ھی یا ہکوئی رےاورا نآ یا تکوجومنانشی٠ن‏ کے ٹیل داارد ہیں +ان اکابر > 
نیا ںکرنے گے او رآحضرتت صلی او علیہ وملم کے جو ارشمادات ان اکا کی فضیلت و 
منقیت میں دارد ژؤں؛ ان کے بارےۓ میں کے کہ رگنس لوکوں کے خووسا شند اور٣ن‏ 

- ہیں یا ا نکویہ موا ںکرے ہو فر ما ےکا نون نار یکاکیاعلا نکیا جائے 
م٤‏ اور ا کا بیط رز لکستا خی میں شارہوگا پا یں اگرحضرت می اوران کے دوچا رز نقاء 
کے بارے میس بی دگوگی اور بیط رزفل خہایت و لآژاراورکئرآ ایڈنا ئی از دائ 1ل 
سی سو راہ رشاریسنررں او سا 
سحا شی اٹم پر چسیا لک ناءکیااس سے بد گستا خیائیں..؟ 

۱ ! آتحضرتسکی اد علیہ یلم کےز مانے میں بلا شر معیدودے چندمنا نشین 
بھی جےہگمرمنا فقو ںکڑ صھا لی “کون ات تا ہے؟ اورمنافتتوں کے جال سس ےسا گ۷رام 
ردان اٹ تھا ہم یر یچ ڑا چھا نے کے؟ خ رک یاصعنی ہیں ؟ آ نا بکوصھا برک رام رص اشنم 
کے زکرے میں منا فقو ںکا حوال دی ےکی ضرور تآک رکیسے اض ہوگی...؟ 


7( 6م۹.۷۸۷۱۲>٥۱٣0۲۷۱۷۳ا61‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


٭جچھے۔چھومجھ +-جھ. 


الما یی اللہ ےلین لی لع ہکم انان 
یں جا تن تھے سوال یی ےک رواف ش1 اکسا لوکہاں ٤۸7٠ھ‏ ضرا ت فان 
ا ش کشر ہش رو اور کا بی ن+ہاجھ بن وانصاررشی اڈ شھم.. تو بابقد.. بمناقی تھ..؟ 


ق رآ نک رم مکی شباد تک ہاج من د صا ری سکوکی منا شی میں تھا: 
می شارت 


ناب نے منافقتوں کے بارے یی ںق رن می دکی جم سآ بی تکا حوالہدیاےء 
اگ رآ نا بگھم وانصاف سے اس خورفر امیس کے نے معلوم ہہوگا کہ خود مج یآبیت ریف 
شارت دےدربی ےک رات مہا رین و صا یی اوڈ ہم می سکوئی مناف نیس تھا جیا 
کیل أُ ویر صھا گرا واجب الا تا ہیں کے زی رعنوان تیسرییآ یت کے یل یں اس 
رف انار ہک رآیا ہوں۔ شرع ا کی ىہ ےک سودق التو کی ہآبیت:٭٭ا میں نعفضرات 
ا رن اون :ہا ان دنا شی اش کی اوران ک ےلین السا نکی مرح خربائی 
اوران کے بارے یل جا رود ےکر وا : 

ا:.. .ای دنتھا ی ان ےرا ہوا_ 

...دہ ای تھا لی سے راصی ہو ئے۔ 

.را تھی ئے اع کے .نین تیارکگ فی ہیں ۔ 

*۳*:. ووا نع تال می پیش پیش ر ہیں گے_ 

اور رف ما کان دد جات عالی ہکا ول و وی الشا کا میالی ہے جس سے 
بڑ کرس یکا میا ی اتور نمکن ے_ 

اس کے بحدآییت:ا٭ اٹ ا کی مہا جر من دا نما رک وخاط بک کے خر مایا جار باے 
کہ:”تہارےگُردویشی کے دبیہاتوں ٹیل پل من نین ہیں ءاورائلل حھ بین من لپیا یھ 
لوک ایپ ہیں جونفاقی ٹل پت ہیں ءاے نی ! آپ ا نکوکئیں جاثنے ؛ پم ا نکوجا نے میں 
جھم ا نکو بہت مد ہراعذ اب د بی گے ء برا نک بڑ ے عفرا بکی رف لوٹایا جا گا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


”وَمِمَیْ عَوْلَكُمْ من الغراب مَُافِقُوْنَ وَمِنْ 
۱ سَنْعَلِبْهُمْ مَرَّيْي تم يْرَدُوْنَ إلٰی عَذاب عَظیٔم.“(۶۱با١)‏ 
تہ "ولاف فیک از ےکر گنو ھتان ں٤‏ اور 
نض لوک مد بیندوانےءاڑ د سے ہیں نفاقی پیر :نوا نکوئیں جا تما جھمکو 
وو ملوم میں ءا عکو ہم راب دم کے دو پارہ پچ روولونا ۓ انی 
نطاب نطرفے۔؟' رت چانز) 
۱ با یت شْ ریف ہتکن وج سے ال اھ کی شہادت دے کی ےک ہاج بن انصار 
بی سکوگی منا فی ہیں تھا 
یی و ::... کہا ںآ یت میں خو روس مرن وا لصا روا ط بک کےفر مایا جار ہا 
ےکہ: ”تار ےگ دویگی کے دی ہاتیوں میس ٹم منا فی ہیس ء اور جال مد ینر ٹیس اییے 
لوک ہیں جونفاقی یس پت ہیں لکل جات ہی کہا جین وانصارنطاط بک ےکی 
تیسرےف رک کی ا طلاع دی جارجی سے۔ابذراا نیکومنا ٹف٠‏ نکی ا طلا ع د ینا اس ام کی یل 
ےک سا ہین اشن ہاج بین و أنصار می سکوئی ماف نیس تقراء لہ منا تو کا ولا ان 
دونول فریقوں کے علاو تھا جم سکی ان را کو ا للا دی چار ہی ے۔ 
وس کی وجہ... کہ نافقتو ںکی تسین ڈکرفرمائی غین ءأی زوپ کے 
دبیہا ی اور ووصرے ھ ین کے فیل میم باشننرےء اس ہے معلوم ہہ وا کہ افص مماجرمن 
این می سکوکی مزا فف یں تھا کی وئکہ ا نکا شارن ذگردوٹیی کےد بپبہاتوں ٹل ہہوتا ےء شہ 
ہے کے کم باشنروں یں :لبذراغابت ہو اک یلہا بجر ین یس ایک بھی من فی ہیس تھا۔ 
تحیسرکی وجہ:... کہ الد تھالی نے منافتو ںکو ددرت عخذاب دی ےگا گی 
دی (ایک م رڈ ایل ٠‏ اورڈ وس رئیم رت ق میں )۔ اب چم د یھت مہ ںکحعتراستا مہا ہج ین 
و صا ر رشی اڈ تج مکو وا سکوٹی خذا بگیں ہواء لہ وہ اتآ خربیلھا ت جابی6ن 
اعاا ۓےکلرت اکر اورشرمت ون میس مشخول وم ومنصورر ہے اس سے خایت ہو اکہالن 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢١٠۴۹۰۷۸۷۱۸۲۹6۴6 7۷ 


ظ۱ دس عق ےس فقاو فک ایی ان 00 


ضرورمعطرب وممز ول ہہت ۔ 


وس ری شہادت: 
انی ماج گن دأنصار کے پارے می ںجقی نتھا لی شمائہ نے ای سور شی وص یی 
تفر مااے: 


اق تاب اللهٴعَلی بل السیٌ وَالَمُهَاجِرِیْنَ 
وَالنصَارِالَذِيْنَ اتبعُوْه فِيْ سَاة الْمُسْرَ مِنْ' بعد مَا کا٥‏ 
َرِيْع فُلُوْبْ فَرِیق مِنَهُمْ تم ناب عَلَيْهم اه بھم رت 
اڈ" ( ید :ا١)‏ 
ترجھہ:.. الد ہرپان ہوا ہی پر او ماج بن اور انصار پر 
جوساتھدر ہے نمی کےمشک لک یگھریی میں ہ بعداس کےک ہت جب تھا 
کہ ول پچ رجاتیں لتضوں کے ان یس سے پچ رمبریان بہوا ان بر 
بے ئنک دوائن پیم ربانٰ ہے رمک نے والا۔ رتو پان 
ا ںآ بیت خر لود سے خابہت "وت ےک دہ نما عناحیت خدراون دی قضررت 
صلی ارشرعلیہ لم کے شائل حا لح ءاس سے دو ضرا تھا جن دنا رج بجرہ باب 
تے جونز وم وک می سآ تخحض رت مل ارڈ علیہ وسلم کے ریت تھے اہر ےکوی منا فی اس 
9ص ,0,۰ 
میس ری شباذت: 
مرا نمی مماجرغ د صا ڑکوسورة انغا لآبیت :مھ مس انع کے جے م ومن 
ےت اوس و ا اوران مغفرت اور ترک رمک ویر وثر بای 
وَالَّذِیْنَ موا وَهَاججرُوا وَجَامَدُوا فی مَبِیْلِ اللہ 
وَالذِیْیَ وا وَتَصَرُا أو لیک مُم الْمُوٰمُونَ عَقا لهُْ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


سس سے گےشمصووددءکس ےتمتتحشسسجچسعححہکھتصحججئبہ ہجے تچ چح٣‏ 


...”اور جو لوک اما لا ے اورا نن ےک جچھوڑے 
اورلڑےا بی راہ مل۰ا ورجشنلووں ے ال کو دگی اورا نکی 7 
1 وی ہیں ہے سلمانء ان ا سے اوررون گی اعت 
اس رتعف:النڈ) 


ق ئن کر مکی اس شی شمادت کے بحعدا نع ححضرات کےین میس ىہ یاد وگول یکر 
ود من فن تھے اور جوآ ات منافنقوں کے بارے میں نا زل ہوٹی ہیں ا نکوان تحضرات پر 


ہا نک رن خو دوج ےک یق رآ نکر مک یک جب سے باگڑل...؟ 


۶ 


شباوت: 
سور عشر ٹیش اللہ تھالٹی نے ائل ایمان کے جین طبقات کا ذکر فرمایا سے 


ہاج بین صا راوران کے ببحدآ نے وا لے مظضراتء چنا ٹم ارشادرے: 


ِیَارِمِم وََمُوَالهھمْ بعَکُوْنَ فَصلا من اللِوَرِصَوَان 
َیَنْصْرُوْن اللَوَرَسُرْلَه أُولیک مُمْ الضْیِقرْنَ وَالَيِینَ 
هو الڈاز وَالایْمَانَ مِنْ قَبْلهميُحبُوْنَ مَنْ مَاجَر اِليْهمْ 
وا يَجِدرْنَ فی صْدوْرِمِم عَاجَة مَما نوا رَیوّثْررْنَ 
لی اَنْفْيِهع وَلَوْ ان بهِمْ عَضَاصَة رَمنْيُوّق شُحٌ 
تفم ولیک ھُم الْمفْْحُوَْ. وَالَدِینَ جَ٤ز‏ مِن'ٴبَعدمِمْ 
یَشُوْلُوْن رب اغِرلنا وَلاحْوَارتا الَدِينَسَبَقوْنَبلإْمَان 
وا تَجْعَل فِی قَُبِنَا غلَالَلِّْنَ اما رتا اِنَک رَءْت 
َحیْم.“ (اھشر:۸-٠۱)‏ 
تزرجہ:..” وا سے ان مفلسوں, دن مچھوڑنے واللوں کے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢٣۹ .۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


مَغفِرَة وٌرزق کریم.“ (الانقل:ے) 


۶ نے جو ۓ ؟ میں اپتنتے کی ہے اور اۓ او . 


حور ےآ سے مس اڈ ات ا رقا داوس لے 

کو دکی اورااس کے رسو لکی ء ولک وی ہیں جج اور ہوک 

ہیر ہے ہیں ا لگ ٹیل اور ایمان مل ان سے ی۱ و وحبت 

کرت ہیں ان سے جو کن چوک ہآ ئۓ ان کے اس اورکڑیں 

ات اٹے ول می ن گی اس بن سے ججونجائقزی نکد جا :اور 

مورم ر کت مر انا چاوادےاورا دنو ام 7فاو 

اور ج ایا گیا اپنے .گیا کے لاخ سے تو وی لوک یں ماد پانے 3 

زاینۓ ۔اور وا ان لوگوں کے وآ ئۓ الع کے دہ کے ہو ئے 

ےرت اج شی بمکوادر جمارے بھائیو ںکو جو ہھم سے لے دحل 

ہھدئاُے ابھمان میں ء اور نہ رکھ جمارے ولوں شی پر !یمان دا لے 

کیا ءا ےکر تب !لو بی ےنرئی والاربان' ( رجہ جا النڑ) 

کی ائ لن کے رشن ہے :اوزیق لی شا نے ای گن میسن 
کی ححارصفات 2ک رف ماک ی ہیں 

...ال نکی جاں شاریی وقربالیکردہاسذا مکی ما رھ سے ب ےگھ اور نی سے 
نے لکن ہو ئے۔ ٣‏ 

.٣‏ زان کا ا خلا ولاہم تکاس نثرت ےا عکاص٭جصرف رضائے ای تھا 

٣‏ ان کا الندورسو لکا مد دگارنا- 

۴ ...اور خرکی بات بی کہ ری نرات ا قول ول اود بن وی یمان شش 

لاج ہیں۔ 

ڈوسریآ یت میں حعفرات اُنصا کے چندفضال بیان ف رما ے: 

::.ہمہھاجری نکی آمد سے بیلے یر تحضرات دارالاسلام میں اور !یمان شی ٹرار 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


۳ چوتفرات ار تک کے ان ط2 ا ںآ ا670 یما نکی اد ران 
0ھ ھھھھے۔ 
٣‏ مفففراس گا جھگ نکو ود یا جا جا الع کے ول یل رشیک پیر ایی ہو تھا- 


۴...ییتفقرات اپٹی عات مندکی کے باوجودڈوسرو لکواپنے أو تر نے تے۔ 

...الد اہی ے ا نعکوطلزیقت کے کل اور ما لگیحض سے تقو رکا ھا ئن 
لئ مطظرات مڑےکامیاب دبامراد تھے۔ 

تیسرکیآیت میں عماج ھب وأنصا رد کے بعد قیا مت مک کآ نے والی ام تک 
32 :کرو ےاورا نکی دیس ذکرفر مکی ہیں: 

اژل:... یرک دہ اپنے جمیشرو اٹل ایمان ماج و انار کے لے بُعائے 
ال 

دوم:... کہ دہ الد تھا ی طنۓ ھک سے ہی ںکہانع کے ول ٹیس ایل ایمان 
ماج بنٰد صا گی جانب ےکی اورکھوٹ تہہو۔ 

ال ایمان کے ان تین طبظا تکو فک کر نے کے بحعد الد تھاٹیٰ گیا رو یں 
آُیت ےم ڑا ٹقبنک کرو فر ے1 پیل سے چندامو رای طور برابت ہو ئے : 

ال :... کین تھا لی شا نے ال نآ با یش ریف یس تعفرامتتم ہا جرد صا 
کے ابا دا لاب کرای شادت دگی ہے ءال !یما نکوذ شبات خداونلدی کے بعد سی 
کیک وش رک یکٹکش بات نیس رہ جائی مان تعقرات شیع راس شہاد تر بای کے بھی ان 
جحقرات پر نفاقی د ار ادکی تہست دھرتے ہیں ۔ انصا فکیا جا ۓےکہ الہ تھا یک یگواد یکو 
قول نکر نے وا لو ںکا !سام می سکتا لک یں 

دو :...اللرتعالی نے ”ا ریف ہم ال ش|ڈؤن“ فرکران عفرا تک سال 
مہ تد بی ش تفر مکی ے جو بالانقاقی ححضرت الوب رشی ارڈدع تک ”خلیف“ رسول اللہ کے 
تھے اکر یتفقرات اے قول میں ہے جے نے ضرت الوکر شی ایڈدع کا خلیفۂ رت ہونا 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳۳۱٥٢۱۹۹ ۸۷۸۲۹۹6۴ ۷ 


خاہت ہوا ذاو گر لات یں ڈول جو بے 02 +7 2-::. 
وو ںکوس اکہا۔ 

ص :...الدنتھالی نے ا نآ ات شرییفہ شی قیامم تج کک مت کے جین مق 
کے تس1 فالخ ۳ج ات .اور قد گے لوگ ج ان ماج ۳و 
لد انی لگا کت یودن ےشن رھت ال سم سےمعلوم ہو کچھ 
نس ان یں می دا مل نہہوہ وو مت سسلمہ سے خمارع سے ملا اکا شال یی رسک 
اص اون میس اکھت یں: 

' لی یس تک ینف مومناں و ارادہ بدگی پایٹال از 

طاے ایا نم اس رازحاے ٹر آرال..... صا ص از 

آورد ممک تجح بات مومتاں رایرسے ر3 فرودآوررہ ویج والتصارو 

جا تی نک موصوف پاشند بیاکی عقیرت و اکب زی طیینت بی ہ رک 

ب رن صفمت نبود از امام مومناں خاررح اف واز این 2 

مرو لیس تک۔ائل ایمانع سے طبقہاندسھا را ز+ہہا جروانصا رک خدائی تما لی 

در ابان فرمس ود ہک ”والذین تبشو الدار والایمان“وتا جن 

واحاغ جامچجیین وام نما آنا تن کہ دای درشان ایاں فرمود ہک 

”'والذین جاؤامن بعدھم“ اںچرآ لزان روسوفن 

مایء دلعد از دح مہاجر و انصار ما ٰت”للن بیان احوال مافتان 

ای لٹول.: الم ٹر" ( اصارٹن :۹ ص۳۳٣)‏ 

ترج:..' اور یشید ونیں ےک ائل اممان ےن 

رکھنا اور نع فا گا[ زاروکزي ارح کے ایا نی نرے +2 

4 کت یڈ دس ری ویرے ہوڈڑشلٰے.. ....اورصاحب او ارۓے 
فک کیا ےکنتق تا لی شا ا نے 1ل ب ایا ن کے نین تق فک رفر ما 
ہیں :ا:.. لھا مھ عء ٢:..الصار‏ و 2 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


اک جوم کی 1 ٹی اور 2 عطائی کے سا کے سا تج موصوف 
ہوں بس جم سض اس صفت کے سا تج موصصوف تہ ہوووائل !یمان 
کیا سوں سے مار نج ے۔ 

وہنا یی سےمردکی ہےکسائل یمان کےےجین ظی ہیں: 

ازم ماججھ ین صا ۳:.. الصازہین کے بارے میں 
ف مایا:” اوروولوک ہجخھوں نے را رچھڑ اوارالا لام اور !یمان مھ “ء 
×٣‏ الع دوفول فرلیقوںل کے بعد نے وا نے ء مین کے با رے میں 
اد تال نے فرمایا: ”اور وة لوک ٹین نع کے بد7 ہے یں 
کو شک رونم ان قی نگردہوں سے باہرندر ہو ۔ ہماج انص ار 
اور اع کےا میتی نکی مرح کے بعد الد تنا لی منافقو ںکاحال ڈدکر 
فرماتے ہیں ( ین اگ یآ یت میں )۔' 
مات ری ککیتت ہیں: 

ناما نظ راج والمد ماجرھد باظ رن ے اوروہ اۓ والد 
اذ ین الاب یی بن ین شی اش سے روا کر ہیں 
خی کی تپ شر کید ہل الس 
انشعلی لم کے نواے! آپ جالع کے بارے می سکیا خر مات ہیں؟ 
آپٌ نے فرمایا:میمرے چھاگی ایام ا لکگمردو یل سے ہوجن کے 
پارے یی ااٹمدتھالی نے فرمایا:'لقر آء المكَاج رین“ ؟کہاہیں! 
مایا چھا اگ رق اس فرب یش سکیس ڈوم رے ف ربق میں سے 
ہوگے بن کے بارے میں فرمایا ہے :”وَالےین تو و ال داز 
اکسا“ ؟کہایں !اف مایا: ا بعر فتسرئیآیت باتی رہگ 
اگ رتم اس آیت کا مصدا یگھ ی نیس ہوگے تو اسلام ہی سے کنل 


ہے و2 


جا ے۔ 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳٢٥٢۱۹۹ .۸۷۸۲۹۹6۴ ۷ 


ایک اوریدات ٹل ےی 

”امام رین العابد یی کے پاس ایل پعراقی کے پل لوک 

)تعن کے ار ہے بیس :اعت لان کے پا رے مین 

“0۸.7 کے مایا :لام اکن اشن 

سے ؟ او نے :میں اف مایا رکیا مان لوکوں یں ے ہو ہجتھوں 

نے ھکانا پچٹڑا دارالاسلام یل اور !یمان شی ماج ین کےآ نے 

سے پیل '؟ ہد نے :میں اف ایاج شسگوای د یت ہو ںکیتم ان لوگوں 

شس ےکن ایس وشن کے بارے شی نج نتھاکی شاثۂ نے قرماا: 

اوروامی ان لوکوں کے جوا ۓ ازع کے بعد :کت ہو : اے 

رت ایس پمکواور ہمارے پھائیو ںکوج ہم سے پپیلے داش ہو ئئے 

یمان میں۱ اور نہ رکھ جمارے ولوں شیل پیر ایمان دالو ںکاء اے 

رٹ ! مو بی ہے نرک دالا مہربان' مبیرے یا سں ےآ گھ چاؤ! النہ 

تھا یہار استیا نا لکرے۔ ید اف نال نے ذک رکیاے_' 

(لفیرقرٹی ع:۱۸ ص۳۷۰٣۳)‏ 

رآ نکر مکی اع شہاوقوں سے بند لی وا ےک محقرات ہا جھ مین وانصار 
شی اد ٹم میس ےکوکی مناف یس قھاء اس سل ےآ سیا کا گناہ بیتضرات منا فی ے 
.وذ بالیقھ.. ق رآ نک ریم کی رج مزیب سے شر اس 07 ثرات 
لاجر صا کے ریس و امام تےء اب اگ رہہ جھ بین داَنصاڈائل !یمان جے(اور بلاشیہ 
اث !یمان جے )نو لن ے انیس المہا جر من اود امام اسسین تھے ء بے شا روس سے 
ا نکا معن عمندایڈد ہنا خابت ے٤‏ یا لعل روہ ایک ایک حوالہ فک کرت ہوں : 
ری ارشدعہ صربق تے: 

رجا ل نشی ٹیس حضرت ان عیا کا ایک طول منا ظر خر الموسنین حا نیٹ کے 


مات ذک رک یا گیا ےء اس یل ای کن روید ےکا نقعیا نے مضرت عا شس ےکہا: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


”انا جلعناکِ للمؤمنین أُمّا وأنتِ بنت امَ 
رومانء وجعلنا أباکي صدَيقًا وھو ابن أبی قحافة.“ 
نال کی گض:۵۹؛روایت:۱۰۸) 
ترج:..” یم نے جج کو أم الم نین ہناد یاء حا لان ا اخ 
روا نکی بای ء او دم نے تیر ےہاک صبد لی منادیاء ا لالہ وہ 
الوناف کے تے_' 
اس روایت سے خابت ہو اک ہقمام ابل ایمانع خحظرت ما کیشہررصی الڈدعت ہاو امم 
الم من اوران کے والدگرامی حضرت ااوبکرزشی الڈرع کو نصد لن یھت او رکتے تے۔ 
02و0 
رپا یی لی تید ال گی رای ےس رت صلی دارم ای ارز 
10 ےک ہہت مین تو ںکی متتاقی ے_۔حضرت اپوبمررشی ااشدعتہآ ے نو ان کہا 
می اکہ: ‏ اےالور! آپ صد لق ہیں اور پآ حض رت صلی اول علیہ سم کے یا مار ہیں 
آپ رسول النص٥کی‏ اللخلیہ یلم سے ود یا تک می سک دہ تین دی یکون ہیں ؟ “عگرانہوں 
نے عذ رکردیاء بگ رر تع ردیھی الف دعنہآئے فو ان سے عمش سکیا گیا کہ :” آپ فاروتی 
ہیں :جن نکی ز بان برفرشتہ اولتا سے (رجالشی ص۰٣۳۰‏ ءروایت:۵۸) 
اس روایت سےمعلوم ہوا آحض رت ہی الش علیہ یلم کے مان میں رات 
ات را رش راب کن اون غ رقاب بے ارک تھے اور 
ضر تگھمررشی الڈرع تک نفاروقی' کے خطاب سے با دکیاجا تا تھا- 
ضرت عما نآ 2 بیصن الد علیہ مم کے دست مارک سے بعت 
تاف: 
سگوےساق“ض ااسصائق“ عوسی نک کی 
ہے ا کا ایک حصہ در نع ذ یگ ے: 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۱۷۳۳۱۱١ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


سوا اق علی اش علد رآلدار اد اُن 


یعث عمرء فقال: یا رسول الل! ان عشیرتی قلیلُ وانّی 
فیھم علی ما تعلم ولکنی اأدلک علی عثمان بن عفانء 
فأارسل الیه رسول اللہ صلی اللہ عليه وآلهء فقال: انطلق 
الٰی قومک من المؤمنین فبشرھم بما وعدنی ربّی من 
فتح مکة فلمّا انطلق عثمان لقی أبان بن سعید فتأخر عن 
السرح فحمل عثمان بین یدیه ودخل عثمان فاعلمھم 
وکانت المناوشة فجلس سھیل بن عمرو عند رسول 
الله صلی اللہ علیے وآلے وجلس عثمان فی عسکر 
المشسر کین وبایع رسول اللہ صلی اللہ عليه وآله 
المسلمین وضرب باحدی یدیه علی الآأخریٰ لعٹمان 
وقال المسلمون: طوبیٰ لعثٹمان قد طاف بالبیت وسعی 
بین الصفا والمروۃ وأحلٌء فقال رسول اللہ صلی اللہ 
عليه وآله: ما کان یفعلء فُلمًا جاء عثمان قال لە رسول 
الله صلی اللہ علیے وآلە: أطفت بالبیت؟ قال: ما کنت 
لاطوف بالبیت ورسول اللہ صلی الله عليه وآله لم یطف 
ںہ“ (روفۓکا یل خ:۸ ص:۵٣۳۳)‏ 

تر چھہ:..'اوررسول ایڈپیصلی ار حلسم نے مطرر تح کو 
ال مہ کے پا فی رب ناک رکھینا جااءانہوں نے عرش کیا : یا رسول انکر 
ان یر ے کیل کے لک اور جج ےکا ریہ بیس جس نظ سے 
د یھ جا ہاو وآ پکومعلوم ےه مرا مشورہ بی ےک حنمان نی 
عفا ننکو کیج چنا خ ےآ کک اع 7 نے معقرت خلا کو 
پمارقر یانا: نان اۓ ا ایھمان بجھائیوں کے پا جا اور ا کو 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


ا لکی جو ری دوکرھرے رت نے ہجوت رح مرکا ذخ وک رکھا 

سے۔ چنا خیرعخفان جن عفا لع گے نو رات میں ا نکو پان بین سعیر 

یےء ان ہوں نے نظرت عا ع کو ا نی سواارگی پر اہی ےآ گے سوا رکرلیا 

اورتحخرت عثا بک میس داقل ہہوۓ مس لماوں اورکیاف۲روں کے 

درمیان بج کک تار ہون گی و سیل می نعرد2کافروں سے 

ا رر رر ار علی وم بر پاش اورظرت ال 

وا اوس رو رک تا۔ں 

اور رسول ایڈیص٥کی‏ ایند علیہ سم نے مسلمانوں سے بعمت 
پی اور انا ایک ہاتھ ڈوسرے اھ پہ مارکرفرمایا: ”ىہ شش خثا نکی 
رف سے بح تتکرم ہوں _“' 
اورسلمانوں ن کہ اکہ: عتان بڑے خوش فسصت ہج ںنکہ 

انہوں نے بت اکا طوا فک رلیا اورصنما وھمرو ہگ یس یکم ر کے رام 

سے فاررغ ہو مگئ ‏ رسول اوڈیص٥ی‏ ال علیہ سلم نےس نکرفر مایا خثان 

ایی ای ںک۷ر سک جب ححضرت نان رشھی شعن دا ںآ ےت آپ 

صلی لعل ۷لم نے انع سے ۷و چچھاکہ: مم نے ببیت ال دکا طواک 

کررلیا؟“ حرف سک اکلہ گ نجس حاللت یسک رسول ال صلی ال علیہ 

لم نےطواف تہکیا وہ می سکیس طوا فک رسک ما تھا“ 

ررووس رہ ہیں 

اڈل:.. آتخحض ری مل الف علیہ لمکا ضر ںعمرشی ادڈرحنہکولطورسغی اب لکل 
کے پا ںی ےکا ارادوکرناء ان کے مم فنص ہو ےکی یل ہے ۔کیونہ الیک ناک 
غارت کے لن ۓےکسی مشتت ہآ و یکویھیہناکسی معمول یکل ونہم کے؟ دٹ یکا ا بھیئیس ہوسکتاء 
چم تاقوا می ادڈ علیہ ےمم کے با رے شی ا کا سو س کیا جا ئے - 

دوم:.حضرتکھریشی ادرند کا آحضرت صلی ارد علیہ کومشور ود ینا اورآپ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


۳ ال علیہ یم رکاان کےمشورے سم ل را ھن روا ا وواے؟ زان 
75۶٤‏ 22۵۶ھ تحضر تل اڈ عر ھا و 

وش :.. تی تع نشی ارڈ دح ہکا ی خر لکرناکہ: ”ٹیس ای ل مکی نظ میس جیما 
ہوںء و وآ پکومعلوم ۓے اس سے ثایت با کہ اڈ لم کی نحطر ت عم رزصھی اد نہ سے 
ارت و شی معز گی ء انز نل ان ےلان وخ کک وجہ ےگ ءاگروہ جج 
ملمان نہ ہوتے فو لمکیکوان سے شش یکیوں ہوئی..؟ 

جمارم:.. ححضرت عثان رص ارڈ رحکولطو ریغ رمک رم ہبچھیناء اوران سے ہیف ما 
ک۔: بل ایا نکو یی دو ان کے !خلا و !یما نکی شہادت ے۔ 

چیم ...بآ ححضرت صلی او علیہ و مکا ریف ماناک ”عفان ہمارے بغیر ہیت ایل کا 
طوا ف کی سک کت" 'ان کے !یمان دالس پرکمال اتا دکی دننل ے۔ 

سے :نیعت ٹنوا ناس وت نوگش رف ا انخرت 
ا ش یرک رد یئ گن 1کو لاس میتی رضموا نکی علت پا سیحخرت عنا کا قصا ون تھا 

...تحضر ت مکی او علیہ ول مکاخوداپنے دست مارک سے حخرتعنا نع 
گی رف ے بر تک نء ا نکی ای فضیلت وعنقبت ےجنس میس ال نکاکوکی شیک کیم 
ون :نٹ اہ بات سے دوگ نکی اخ لم کے پا پر ہہیعت ہوء اس کے 
پارے میں لو یدہم ہوسا ےک دہ.. لتوذ بایڈر... منافقانطور پر بیجم تکمر با سے معن 
رسول اٹ یص٥لی‏ ارشدعلی وسلم اپنے دسستتہمبارک سے جن سکی طرف سے جیععت فا و اس 
گر ےج یا شیا لکرنا فو براو راس تآفحضرت مکی اول علیہ وم کے با کت اور 
میں ماج کی نو بین ے جوکٹ الف ے ...ا 
۴.. با گرا شاو رم نکر بیع : 

ڈوصرے کت می ںآپ نے ان لوگو ںکا وکرفر مایا ے جوآحضرتسکی ادشرعلیہ 
عم کے ہانے میں مر ہو یئ تھے ,اور جو جے کت یش ان ھ ریم ی نکا کے جو حضرت 
می اف یلم ےوض ان کے بعدم رر ہو گے تھے ۔آپ ,828 --ء و 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


رف اشا رد سادا ٹھویں کے و -- 
او می س سیت ۶ 
اٹمن یس چکزارشات ہیں یں 
اگ ل:..آ اب نے ان مر بین کے بارے می ککتھا ےک 
”یم ایس ای سال سو لیس مات ءجنن کے بارے 
می با رخآ کی ہیں _“ 
سوا ىہ ےک ج بآپ ان م تینک ععھالی' یں مات (اورال سنت شس 
ےھ یکوئی ال کا تا جا سک می یھی امیس شا لکیاجاتے فذ صحا گی بک 
ٹیس مر لی نکا ت کرو درمیاانع ٹیل لا نے ےکاکیامطلب..؟ 
رظاز اف نے مل گنا 2 بنار ی کی عدر یٹ حض لکا حوالہدیا ے 
اس عد بیث یی جن مر ی نک ذک رآ یا ےہ بی دی ہیں جآ حض رہن لی اوقعلی سکم کلف 
جاہلی کی آر یل برلوٹ گے تے اورجمن سے خلیفہ اپول رت اوک رد لی رشی الڈرعنہ 
اوران کےئرفقاء نے چچہادکیاءاان بی تظرات کےتقی یی ق رآ زکرم مکی در ذ یل می ںگوکی 
صادقآ ی: 
فُسَوف یب اللٴبقوْم بُحِبُهُمْ وَبْحبُونَه اَل عَلَی 
لْمُوَمِنیْنَ اَعَوّةَ عَلَى الكفِرِیْنَ یُجَامِدُوْنَ فی سَبيْلِ اللوَلا 
َحَافُوُنَ لَوْمَة لائمء ڈلک فَضَلُ الليْوِيْهِ مَنْ يُشْاءُء وَالل“ 
وَاِع عَلِیْمٌ.“ (اماک۵۳۰:7) 
تر جمہ:..'اے ایھان والو جوکو کی تم یل پر ےگا اپنے 
وین سےلو ال ختقریب لاو ےگا ایی تو مک الڈدا نکوچابتاے اوروہ 
الکو جات ہیں زم یل ہس مسلراوں یر ء ور مر وت ںکا ٹروں 
پڑت ہیں اللدکی وین آورڈ رک کی نکی گج از حتف تس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ض سے اق دکاء د ےکا جس سکو جا ےگا ء اور ال رکشائش ار 
تروار' ہے :5ل 
و رغانا رامش ین شی ای ک ےت کے بی اشن سے ڈک رکز چکا ہوں 
کہا سآ یت ش ریہ می سحطرت الوب رصع بی اوران کے ٹر فقا ء شی ار رشبم کے ووفضائل و 
نالسرا انا 27ن ےل شی ش زین رین کنا کی 
حد بی عیفلء جس کو أعداۓ صحا بر صا بای امت میں یکر تے ہیں ء و رتقیقت صئا رہ 
کرام رضسوان الڈیہ مکی اعلی در ہ ےکی مقیت م تل ےء چناغج ہرگ ناب الاخیاء 
3000 ای ا علی کلم ےل ڈکورے: 
”ھم المرتدون الذین ارتدرا علی عھد أبی 
بکرء قاتلھم أبوبکر رضی الله عنه.“ 
( جج ارگ ئ:ا ۳۹۰:۴) 
یھ تع مل گنال من نکا عد یٹ عق یس ذکرے) 
واکی لوک ہیں جونحضرت ااوگ ری اڈ عنہ کے دو یخلافت ٹیل مرن 
ہو گے ھھے اور۴کن کے لاف خحضرت ااوگرشی القد ہے ار 
لان 
امام خفطا اف مات ہیں: 
”لم یرتد من الصحابة أحدء وانما ارتد قوم من 
جفا الأعراب ممن لا نصرة لە فی الدینء وڈلک لا 
یوجب قد حا فی الصحابة المشھورینء ویدل قوله 
”أصیحابی“ بالتصغیر علی قلَة عددھم۔“ 
( لاد تاب الرقاقی :ہاب الحشر ح:ا١‏ ص:۳۸۵) 
ھی ار ا و ہچ ۴ 9پپًََ٘‪۷كص2یھە) 
اں !ا کھڑکھم کےد یہاتو ںکی ایک اعت ضرورم رج ہوئی شی نکی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610٥۲١۷۳۳٠۱٢١٣ .۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


وین سکوگی زی کی تی ء او پ ات جو رما یں موجت 

رح نہیں او رآتحضریت صلی اون علیہ ول مکا صدیرلھیر کے ماج 

اسیج لی فر مان اان م یر یی نکی ھد تکو با جا ےک“ 
شک نصلھا نے مال وجائنع کے سا تھ ما دکیادہ ا رر اد سے تو یڑ تھے: 

ویر امام خطا لٰ - 0 وت وی لو ہو جن نکی ون 
ی کی نت نی سیر ای طف ار کین اکا بر نے الد تھالی کے رات میں 
جالن دما لک یق باغیاں د۱ دہ ارت اد ےتفوبط تھے رمعون ق رآ نک ریم سے متا ے٤‏ 
چنا سور النسماء ہیں ے: 

ا یسوی الْقَاعِذی می المزمِيینَ عَْراُولی 

الضرر وَالْمُجَامِڈوْنَ فی سَبِیْلِ اللبامُوَالِهم وَانْفُيِهِمْء 

فَرَجَةٌء ولا وَعَة ال الْحَشَیء وَفَضّلٌ ال الْمْجَامِدئیٌ 

عَلَی الفَاعِدِیْن أَجْرٌا عَظِیْمًا. دَرَجِتِ مَنَه وَمَعفْرََ 

وَرَحْمَقہ رَكانَ اللٴعَفُوزَا زَّحِيْمَا.“ (اضاء:۷۰۹۵٦)‏ 

ا ابر بک رج در ےلان شش نکوکوٹی 

عذ ریس ؛اورووملمائن جولٹڑ نے وانے ہیں ال کی راہ بیس اپ مال 

ے اور چان ےء الشد ے بڈعادیا نے والوں کا اۓے مال اور 

عانع سے بی ر ہے والوں پردرجہ اور ہرایک سے و نعل 0کیا اسیو 

پھلا یکا ءاورز یاد ٥کیا‏ اد نے لڑ نے واللو ںکو بی ر کے والوں سے 

انیم می یء ہو ور ے ہیس ال دکی طرف ٦ئ‏ ے اور 

ہرہائٰےءاورائشدےکشٹت والامبریان۔' (تج النڈ) 

ا ںآ یت ش رام یں الو جان کے سا تھ چادکھرۓے والوں نے یی 
درجا تکاوعد دفر مایا ے ‏ میک مجاہد بین ادرقاعد بین دوڈوں کے پا رے میل تر مایا: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


وی وَعَد الله الس “ 0 
ترججمہ:.. اود ہر ایک سے وع وکیا یڈ نے بھلا کا“ 
اورس ور انید بد مل ارشادے: 

”ا يَسْمَوِیْ مِنکُم مُیْ اَنْفَق مِنْ قَبْلِ الْفَح 
وَفائَلء اولیک اَغظُم درَجَة ون الین فقو مِن ' بَعْد 
وَفَانَلُواء وُكَلاوَعذ اللٴالخُسی, ؛ وَاللَٴبمَا تَعْمَلوْنَ 
خی (اغر پر:٭۱) 

ا نجرا مگیں قرو جس نز کیا رت 
پل اورلٹڑ ا کی ء ان لوکو کا ورجہ ہڈا ہے ان سے بج ول زج 21 


اف نے عراورلڑا یکر ءاورسب سے وعد ٥کیا‏ سے ائفد نے خو کی 

کاءاورالقدکوٹر ےج کم کر تچ ہپ و؟ رری مانز) 

ا لآ یٹ یش شی ددصھون زکرفر ما گئ ٭ 9 ان مقروروالوں 
نے ہک (یا یٹول مس حد ییے) سے بل الد کے راس می خری چ۶ ما اور چمادکیاء بعر 
وا ےےیے لم نا نکوڑیں تچ سج کوک وہ وف ت اکن کے نے وا ےا 200 
نے کیل تھے اورڈ نیا کافروں اور پل پریتتوں سےپھریی ہوئ یی :اس وقت اسلام 
کو جاٹی و مایق ہاو ںکی ضردرت ز7 یادوگی ہاور ماب دی نکو بظاہ ساب اموال وخزائم 
زیر ہکی فو قات بہ تک مگیں ای حالات یی ایمائن لات اور دا کے رات ش جان و 
ال الفاد ینابڑےواوا زم اور پہاڑ سے زیادہوخا بت فدم نما نول کا کام ےءرَضسی اللہ 
عَنْهُم وَرَضوا عَنهُء وَرَزَفَنا الله اَاعَهُمْ وَحْبْهْمٍْ آمِیْنَ۔ (فوائرشائی) 

7 امصکمون بی ےک الین دای نے تما مم ٢ا‏ سے ا ی3ز وک دھاے 
من رات نے ےلئل انفاتی ول زان سی اویشکنوں رید یس زفاق 
قا لکیاان ےگی۔ 

اورسور ق الا خیاء مل ارخارے: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


تن الْذْبْنَ تَجَقَے لَهُعْ تا الْحَسَی 7 

عَنھَا مُبْعَدُوْنَ“ (الانیاء:۱١١)‏ 

تھے ” اور مین کے کے ا ےکن لی گار 

رف سے می دہااس سے ل( فی دوزخ سے )ذورر ہیں گے_' 

رریف النڈ) 

ان دوٹو ںآ یوں کے ملا نے سے ریپ کا ےک لن صا نے انفاقی دقال ٹیٔ 
کیل ایریا ہنی ددزغ بی نیس انیس گے اپرا ان کا مات بئان نی سے وہ 
خدانخ است مرن ہوجا خی لو وعر٤!‏ بی ٹیس شف لا زم ے کاء جوشرعا دامح ے٤‏ اور یہ 
بھی خاہت ہواکہ جوجثرات ا خلائ کے سا تھ ابیماان ےآ اور ائیں شرف صحابیت 
حاصل پ وکا دوچگنی ھزن یی ہو سک ء اس اج ٹیس وعرہ ان کے ساتحدببھی ہو کا 
ہے۔ رھ صرف وی لوگ ہو ےم نکا الا ئی خد مات اور جان و ما لق بانیوں می کون 
یی تھاء اور وہ جج ول سےمسلمان بیکیں ہو ۓ جے_ الخرض تن اکا رک ححضرت 
صلی ازڈعلیہ وم مکی محیت میس چان و ما لک تقر ہاو ںکی سعحادت میس رآ کی ءا نکا مرج ہونا 
مثررجٍ پالا| ڈیا کی نزو امن فا وا الْمُوَفقٰ گل خیْر وَمَعَادة! 

۳۴ رک را موم میں تھے ریا نتفو یڑ تھے: 
تیسرے کت میں1 نا بلکھت ہی نک 
نیش زصھا ٹم وسنین الین تے نان و ہمحصو میں تھے“ 

آ ینا کا لح لغم وس 
لئ گل سی یں ٹن یی یو ار ضول سیک نان ناشن 
تے۔”الصحابة کلہم حدول“ ا نکا لے شد ہا صول ے۔اورائل جن کے نز دیک 
دوجیار کےسوابائی تھا حا “.ہو پالل... ہمرن ہو گے تھے ء جی اک أ و رمعلوم ہو کا ے۔ 

زلا یگ جا سے قتر ال سنت گے قد جات رتاعدہ 6 ای 
آ اب پ ےچین نآ اس کا حوالہ دا ےہ دو عضرت امی ری الد عنہ کے بقول 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۱۸۲۹۴66‎ ۸(۷ 


'”کلمة حق ارید بھا الباطا “ کیل سے ہے پا شیرائل شف ک نز دی تما م تھا 
.نول حر ت گی اور مات تصفی ...خی محصوم ھا ہکان اع تج این کہ 
:مماذالل... دہ پاست وفاجر تھے معظرات اتیا نے ۓکرا مطئہہھم السا کے سو اکوی موم 
تی این اکا براولیاء ا تو ظا ہیں _ اور تخت رات فقمام اولیا ء اید کےصرتا رج اورمقتر او 
ٹپنڈواہیں: اس لئ دوائل در ہچ ک ےکی وب جیہزکاد تھے ۔ارشاوغداوند :”ویک شم 
التےِبقون وَال مدآ جن ره“ اگران کان می سی سے مت میس اورکون ہوگا جھ 
ا ںمامصرال ہو..؟ 

آ جا بکا ازج اد لی 

با تقاضاۓ ار ان سے گناہ بھی ہو ۓ اور 
زی ںبھیء چنا می آحضرت صلی ازقدعلیہ وملم نے آنئیس عدی بھی 
ار نے کا عم دیاء جیما کہ اکابھ بین علمائۓے ال سشت نے ا کی 


وس حتف لی 0س 
اس یس ند مور لا فی لوچہیں: 


ا 


اول:.. تکھا .گرا اسلام یل جچہالم تکی مجاریکیوں بیس ہے ہو ۓ جھے 
اوراہۓ ای ماخ لکی ون سے د شی تزع خ رات کے بھادگی تھے ان کا ماش رد (زفطری 
ویوں آ دی ہی عفات اوزنقداا تال اد جد) ٹن موا شا کیا ماج ا ہگن 
جےر مظرات اسلام کے علتہ یں ہو ئے لو وی ای کے ور سے ان کے فلوب مور اور 
خورشید پداما ںہو نے ۔آ ضز صلی ارڈعلہ ٤لم‏ کے فیضان ححبت اور کمیا نے 
ا نک یکا یا یٹ دی ء اور ضر تی ال علیہ ول مکی شال ت کی کی برکت سے ا نک سحاششرہ 
”شیک ملائنگ “بی نگیا۔ ال سکب ماہیت کے لحدان میس جرائ مکی شرب اس فدد رج تناک 
رم کک ہوگئ بقل ا گکشت بدنداں سے اعد یت ویر تکیکتالوں ےوران 
از رواتوات٢‏ ٹ کئ جا یں نے ورے دو نیدی یس اےے واققعا کی تعدادألگیوں گنی 
جاحکتی ےءاوراقی کی مہا لے کے بہدوٹ کیا جاسکا ےک ایا ۓکرا عم ہم السلام کے بعد 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳۱۱١م۹.۷۸۷۱۸۲۹۴6‎ ۷ 


ایے پاکیتز معاشرے اورا یی فرشتزضحصلت انسانو کی مثال ایی انسانی جار می یں 
لن گی الخ !صا گرا می لال زمر واققات اگ ری یبھ یآتے و خہایت شاذ و ناورہ 
اورخقلا کا قاعدد ےک :”الس ادر کال معڈوم“ لشیشاذونادرواقحات مد و مار رت 
ہیں۔اب ان جطرات کے معا شر ےکی پا کی گی اور ا کی مجموگ یکیغی تکونظ رآ ندا کر کے 
ترائم کے اع معرورے چند وا تا کو ا جمالتا اوران واثعات سے صھا گرا کی ری 
جماعحت پرفد حکرنا یی اک ہآ پ تن کیا ے کیا یح تےش کی علاصت ے..؟ 

دوم:.. .جن نضرات سے ای ےا فعا لکا صدور ہہواء ا نکا شر مشا ہی حا نیل 
نیس ءاورما لا نکوطو یی محب بھی میس نکی کی نیت ما عزبن ما یک مکی ری ال عثہہ 
من کے رتمک واق شور ہے ءاگ را نکان وا یآ و شا یکو یٹ ان کے نام سے 
بھی آشنا نہ ہوتا۔ ای طرح تھا کے ا سے واقعات عد یف وسیر تک یکتابوں شی کور 
یں ء اکا یمم کےکمنا مم مھا ہیں .ایک نآ تحضر تل ال علیہ لم کے وین لحبت سے 
ا نمنا مم سای ھی پا یروس کی یکیفیت پیدا ہوک یت کہ جب ان نأ کےفوری 
جب ےکی رتا گنا ہکا صدور ہوا تو د+گناو ان کے و لک بھاٹ ب نگیاک ج بک ا نکی 
ھکیس ہوکئیء نہیں یکروٹ پچ نکی ںآیا۔ انی ںآ تحضر ت صلی اول علیہ یسل مکی بارگاہ 
ی۳ سکولی ز پر کی پک ک ریس لاماء پل اٹ ے می ر کے اوھ سے3 بکمرد ا زخو دا کرای گناہ 
کے نمقرف ہنوئۓے :نیش مود یا گیا کل جاک ارد ای کے سا ےد ا ست ظا رک مس ہگ ر 
ینف نبھی ا نکیا بج فی ود ےار اد یکوخم نک کیا ء جج بکک انہوں نے خدا کے را ست 
میں جان نددے دیا۔ 

اس نانکادہ کے نز یک مہا کمن صا کرام شی ارڈ نہ رک ینیم تر ین منقبت 
ےء اور ضر ت مکی الڈرعلیہ یلم کے فیضالن محب ت کیم الشالن شاہکار از ے۔ اس 
لے بیتعحفرات :مجن ےل کم ک ےگناہ صادد و ہاب لوق کے نز دبیک بعد کے تام 
اولیاے امت سے انل ہیں ءکیوککردارکی یہ بلندیی اونگ وطہارت اور پا او ئیر 
یت زان ضز ات فو یک وت حا رآ تی ےک او یں 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢١٠۴۹۰۸۷۱۸۲۹۹6۴6 ۷ 


لا ٢‏ 2 ۴۳۳۵۷_ق2ق ۳0۴-۳ ین تی وی 
تشب کے لا ‏ ا اوساف تان سال ہیر ےش 
دای پہ انی اے زابلر نہ جائیو 
و مجوڑدس زفر مت مت و وکرں! 
خہاں شلئ واقوا کی طرف ور وی 0ں ے از نحقرات لو و 
انا بت خابت ہوٹی ے: 
ہلا وائے: 
رت مکا سب سے شہور واقی رت ماعخز بن مالک ای زشھی لطعت کا سے ہج 
لم (ع:م ص:۸٦)شل‏ بروایت ریہ ری الد معن مروئی کے لیو ںکی ا۶ تی 
اارۓین دوچ ھاخینں بن یں ء ولک کت ےہ رخ بلاک و گیاء اس کےگڑاد نے 
ےکگھ لا دلو گ کچ لماعت کی تی سے ہف کرک کی یں کی ہے: دذخوذ 
آتحضرت لی اولر علیہ مکی خدمت می حاض ہو ے اورآ پ کی ال علیہ یلم کے اھ پہ 
اتد ےک انال کت زوین تال کھنا ا کانفی ای شا ذدیا شع دن شر 
تی ا لی مل ا ہرتٹریف لے :لگ ٹیے ےآ پ 9 تس 
لا مکیاء پل رتنشرلیف ف رما ہو ۓ ء بچھرفرمایا: ماعز بن ما تک کے لئے اسنغغارکرو۔لوکوں نے 
دُعا گی:”'غفر اللٴلماعز بن مالک“ ھررسول ایڈیی٥لی‏ او علیہ یلم نے ارشاوفرمایا: 
”لقد تاب توبة لو قسمت بین أمَة لوسعتھم“ 
سے انان نے ایک ا کی ےک اگ ایک عمت پ 
یع مکردی جات فو بی مت کوکائی ہولی ۔'“ 
نسائی یس بردایت اب ریو رشی الش رع ہآ ضر تسکی علیہ یل مکاارشاد ہے: 
”لقد رأیته بین اُنھار الجنة ینغمس.“ 
1 -1 
النسائی - فی الکبریٰ ج ٣‏ ص:ےے ۳ء بالفاظ مختلفة 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


لا و ید یا کک ا 
و لے گار سے“ 
مند اتیل برواییت ابوڈ ری الشدعنہ یبارش دمروگی ے: 


”غفر لە وأدخل الجنة.“(مٹراً7ھ م:۵ ص:۹٤)‏ 
تر جم:...(الدتحالی نے )ا سے بش درا اوراسے جضت 
یس داش لکرویا۔' 
اإوراوٗر (.ي:٢‏ ص۵۲۰٤٢)ء‏ مصنف عبرارال (ح:ے ص۳۲۳) اور موارر 
انظران (ص:۳۷۳) ٹیس حضرت ابو ہریرہ رشی اش دح کی روایت ےک یآ خض رت صلی اللد 
علیہ لم نے دشخنصو ںکو کی ناک :ا سخ کودیکھوہ ال تعالی نے اس س بردہڈالاتھاء 
مرا کےٹس نے اہ کیل پچھوڑ ہا ںت کفک ہک کی ع رح سنا رکیامیا تحضر 
مص٥کی‏ اڈ علیہ وع نے انیس ےنا کہا ہآ گے ایک مرے وت ۓگمد صھے کے پاس ےگ رہوا 
ق آ پ سی او علیہ یلم نے ان دوفوں سے فرمایا: 
”انزلا فکلا من جیفة ھٰذا الحمار.“ 
ترجمہ:..' نأ رکرا سںگمد ےکی لان شکوکھا و" 
اوں نع کیا : ارول الگ ا ںکوکو نکھا 2 ے؟فر مایا 
”'فلما نلتمامن عرض اأخیکما آنفا أشذ من 
اکل المیتةء والذی نفسی بید۵! انە الآن لفی اُنھار الجنة 
ینغمس فیھا.“ 
ہم جوم نے اپے بھا یکی خیب تکی ٤‏ وواانل 
مردا رکھا نے سے بد ہے اس ذا تک اض جس کے نے میں 
مرا جان ہے ! بے پلک دہ اس وقت جن تکی خہروں مم نو لے 
گار ہے“ 
جج ااوکواییش بروایت جا ررش ال عنہ مرالمفاظا میں : 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


)٣۳١:ص‎ ۱٢: (الہاری‎ 


ُوراوائے: 
خرت ما عمز ری الد تہ کے بحد و وس امشبور واق نا ا 0ر ہے یی 


خا نو ن بھی خر کی نشاندی کےتود ا رگا وٹپوبی میس حاض میں لم (ع:٣‏ ص:۷۸) 


یل تعضرت پر ید و رکی القدعشہ سے اس کا واقتہ ا سط رح مطقول ے: 


”عو کمیا: ما رسول ادا یل نے جدکا رک یکا ا رنکا بکیا 
ہے مھ باک کی آپ مکی الشعلیہ وسلم نے اسے وائی لکردیا- 
اگ دن پچ ری ء گی :یا رسول دشرا آپ بے داب یکیو ںکر تے 
ہیں؛ شایدرآپ مھ دا ںکر نا جات ہیں جیے ماع کو والیہ ںکرنا 
جات تھے ہگھر میں تذ بکا رکا کا بج پیٹ ٹس أنٹھاۓ پھررتی 
ہویں۔آ پ مکی اللہ علی لم ے رمایا: نے تچ رولادت کے اح دآتا_۔ 
کی یداش کے بعددہ پل رآکی نو فربابا: ےکی ود چٹراکی کے 
بعدآناء ود راک یکو لا گی اس کے ات یس رو لی اڑا وا ء 
نکی :یا رسول الا اب نے سرد ٹ یھ یکھا ۵ شر 
علیہ وعلم نے اس کے رج مکا عم دیاء لوگ رج مکرر سے ےک حقرت 
خالغ نے ایک پچھمراس کے ص رب ماداہ جس سے خوان کے مین 
جخرت الد شی ابندعنہ کے مضہ ی رآگرےءانبوں نے اس نان 
کوکوئی نا مناسب لفن اکا (فستبف )ءآخضرتیملی افرعل لم نے 
نک رفر مایا: 

”ملا یا خالد! فوالذی نفسی بیدہ! لقد تابت 
توبة لو تابھا صاحب مکس لعَفر له.“ 

تر جمہ:.. خاللدا نا چھاا نے ے از رہہ اس ذا تی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


شھ یس کے تی یس میرک جان ہے !اس نے اکن کی ےک گر 
زع ٹاںمر لےتروازاز سیگ رضشل مرہان .“ 
کی روایت حطر تگمران بن صن ری اشدعضرہےبھی ھروگی ہے ؛ اس ک ےآ خر 
ٴس ےک : ریم کے بح دآحضرت مکی الد علیہ یلم نے ا کی نمانز جنازہ بھی ٠اس‏ پہ 
تر تگمررشی اد عنہ نے عورف سکیا :یا نی الد ا آپ ا لک مار جناز و پڑت ہیں ء اس نے 
ز نا کا زا بکیا تھا آپمصی الشدعلی لم نے فرنایا: 
”لقد تابت توبة لو قسمت بین سبعین من اأھل 
المدینة لوسعتھم وھل وجدت توبة أفضل من أن 
جادت بنفسھا لل تعال ؟“ ےرم ي:۳ ص:۹٦)‏ 
ا ا نے کان کی 5-٠2‏ کے تر 
کنگاروں ری مکردی جا ےتا نکیگ یککاٹی ہو ۔کیاس ہیں اس سے 
أفض نی کک ےک اس نے کی ضا کے لگ اپنی جان شر بان 
ا 
یسراواقے: 


اإوراوَٗر(یخ:٣‏ ص۲۵۳۰۲۰۵۲۰)ء مٹرام (خ:۳ ۴۹:۴٥)ّڈل‏ ال اورواتے 


مرکورے: 

”رت للا رع ری اللہ عنہفر مات ہی ںکہ :یں بازار 
یس یھ کا مکرر با تھا کہ ای کفعوارت ےک ھا ے ہو ۓگ رگی: 
لوک اس کے ساتجھ ہو ۓ ‏ می لبھی ان می ل شیک تواء و آتحضرت 
صلی ال علیہ یل مکی خدمت می ں تی ہآ پ صلی ادشدعلیہ لم نے 
درا ففت فرمایاکہ ای ےکا با پکونع سے؟ عورت نا می ری ء 
ایک وجان ن ےکہا: یا رسول القداشں ا کا باب ہہوں ۔آ حضررت 
صلی الد علیہ سم نے اس عورت سے روا کیا نو جو ان نے پھر 


۱۷۷۷۷۷۸۷ .06510۲٢۱۷٣٢٢٥٢٠٢۴۹۰۷۸۷۵۸۲۹6۴6 ۷ 


کہا اہول ایقد ای ا کا اپ ہوں تر ای یں 
ےے حاصص رگن سےخفین فرمائی ( کہ اس سکوجنون تو نھیں )ء عون کیا 
گیا: ہتظدرست ہے ںآ پ مکی الدعلیہ لیم نے اناو چون سے 
رما اکہ خم شادکی شدہہو؟ الس نے اشجبات میں جواب دیا ہآ پملی 
ای علیہ وم نے اس کے ری مکاعھمفرما یا ہم نے اسے ستسا کر کے 
ھنٹراکردیا _ اکم لاس مرجم کے بارے میس پا ےآیاء ہم 
اےآآحضرت لی الڈ علیہ وع کی خدمت میس نے یئ :من ےکہا: 
ین ا خبیث کے بارے یس پچ آیا ے؛آ پیل ال علیہ 
یلم نےفرمایا: 
هو اأطیب عند اللہ عزٌ وجل من ریح المسک. 
ترج:... وو تحبی کیل ہنا دہ اد تھالٹی کے نز دک 
شب و سے زیادہ یاکیزوتڑے۔ 
تحضر تی ال بی لم نے ان مکھا رگ رام کے بارے میں جوما تطغبات 
ارشماوفرماۓ ءکون مسلماان اا سک ی تنا نکر ےگا ک کا ! خذ تک ز بالنا دگی نر جمان سے 
یودڈیی ا ںکیشاس رآ جاتیں...! 
یش سکنہگا رکون کین ٹیقی ہوجااۓ ۂ پچ ران سکی نذ یتو یھ یکک نی ججائۓ او پچھر 
1 کی قجو لی تکی الا پگ یکردکی جاۓ ءا سے بڈ کرخوش بت اورکون ہہوسکمڑے.. ٢‏ 
”ایب مِنْ الانْبِ کَمَنْ لا دنب َ 
(ملووشریں ص:٠م)‏ 
...گناہ سے فو کر نے والا ایا ےگو یا ال سے 
گناو ہہوابی یں“ 
کا قا ون نے بھ مکنہگاروں کے لے سے :اک را جن کے مقبول لت بہہہون ےکی میا رٹنس 
آتحضرتم٥لی‏ ال علیہ می مکی ز با ن فی تز ہمان سے دلائیننی ءا نکاکیا چو چھن..؟ ان 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


کے ایی ےکنا ہہوں رد بدروطاعح تج ربان...! 

ٹرش !جیما رک کک ودواورسی ول ےنقصود ضا ۓ ای ادرقر بکنداللد 
ہے اور بی دولمت الع صا بکرم رضوان ارڈئشییم اتی نکو لقع نا ے لو ںاہ وک 
پہ برک رت ٹین ل؛حبست بی ان جعخرات ک ےگناو بھی ہم سن طاعا تکھہرے۔ اس کے بعد 
ان اکا بر کےالنمخفو رکنا ہو ںکا نک کر ناء می ںی ں ھت اک زاتۓے نام لکوساءکر نے کے 
اورکیا کرد تاے..؟ 
حا کرام سے محاصی کے صودو رک ینلو پٹ یکرت : 

بن نرا تکوفن تعالی شا نے حضیقت ومحرفت سے بہرہ ورشرمایا سے وہ 
جا ہی ںک ھا کرام کے الن افعالی می بھی مو نکوش لیعت نے لال نت بیقر ارد یا ءقن 
تی شانہ کی گو یحم تکارفرباٹھی۔ اس لک اگ رآحض رت صلی اللہ علیہ لیم کے 
پاہرکت دور یل اےے داقعات روما نہ ہوتے نو عددرشرع کا نفاذکسے ہوتا؟ اور ور نکی 
تی ک ےکی مظاہ ریت سان ےآتے ؟ کارکنائن قضا وق رر بن ےگل ومن دی کے لئے 
صا کرام کوٹی ںکر کے ان پرحدددکا نفاذکرایاء اوران کے باک دائن پ گناہ کے چو دا 
د ھی ےآ گئ ٹورک لور پرلو بر انابت کےذر لیے ان دھہو ںکوصا فکردیامگیاء اور اکیر 
رد یگئی جرد ازا حول ٹس ان فویں قر کا زَا ول کے سا جح شکرےء چنا یہ 
ارڈازۓ: ٰ 

”الا الل! فی أاصحابی الل! الله! فی اصحابیء 
لا تتخذوھم غرضا من یعدی.“ (مشکوٰۃ ص:۵۵۲) 
تر ججمہ:.. اش سے ڈ روہ الد سے ڈ روا می ر ےسا کے 

ارے شی اڈ سے ڈرو! الک سے ڈ کردا غیرے مان کے بارے 

یل ہمہرے بعحدرا نکونشا نہ ثہ بتالینا_“ 

مولا نا اش لی مرش یج کہ یل میس قطب الا رش تعضرت شا وع بد ال رٹم 
رائے اود کے کمرے می ں لت ہیں : 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


“ایک ریہ بعدرخص رب مو لآ پکگن مار ٹس 
جار بائی پر ٹیٹھے ہوۓ اور جاروں طرف مونڑعوں پ رام ہ 
عا ضر ری نکیا ای کر ان دکا اللہ بنا یٹھا تھا کی راک ھرادیلی خماان 
صاحب نے تظرامتہ صا بی با ایا تک و ری کا تج ذکرو شروح 
1 ص 9ى ای اورفلا ںو 
ایا نہکرنا جاٹنے تھا۔ بیہا ں کک لوب ت کی تو وف حر کو جویل 
آمگیااورم سکوت نو گن یج رھ رکی ن ےک رحضرر ”یھ ادرف مایا: 
راو صاحب !ایک تفم ری بات مو رکاکن گے بات بی ےک جناب 
رسول اوڈیصکی ال علیہ سلمؤ نیا می سو قکو تام تکک یٹ یآ نے والی 
فمام صروریات وین و ڈنیا سے ہام کر نے کے لکش ریف لا ئے 
تھےء او را ہر ےکروقت اتی ہڑئیاصلیعم کے ل ےآ پکو بہت بج یھو ڑا 
دا انان ا تن کی تی کے لئ ہ رکم کےحوادث اور وا قعات 
٢ن‏ ےکی ضرور تع کان اورٹل مر ہو ژیا کے 
فزاں واج میں لوں ہوت جاسئۓ ء میں اُصول وو ے یں کوئی 
واقع بھی الیبا یں ر ما جوخضرت زُ وتی فداہ کے ز مان باہرکت ٹیل 
عادث لہ ہو کا ہو اب واقعات جھ د سم ا ات وم توملصب 
ھفت کے خلا فکیںہ اور زوسرے وہ جومظلمت شائن خیلات کے 
منای ہیں ۔لیوں جو دا تحات منصب نت کےغلاف شہ جے وونو خوو 
رت پرٹین یآ ہے مل تزع ادراولا دکا پیرابہوناء ا نکا مرن ء دفمانا 
آفنا نا ؤظی وف نی ٹڑگی وگ کے وا یا تعفر ھٹیس 
اورڈ نا کوگملا نشی لگیامنع ز7 کے مرن سرپ مکوفلاں فلا ںکام 
کنا مؿژا سب ے اورقلال 7 مموجآ۰) ولاوت وعلّ و 
کا ویر وکیا وی کے مو بریہ بات جائز سے اور یخلافسقت۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢ ۱۵۷۳۳۱٠٥٢١٣۹.۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


تھمردوواقعات بائی رے جورسول پریی لآ و میں تو عفرت 
رسال تکا خلاف بہواور نہپ یآو میں لملی ری نا تام ر سے شا 
ناو چودیی وظیرہ ہو اس رح عد ول زی ہونا جا ئئ اور با جم جک و 
ال یا نغمانی غراف پرڈ یوک أموریی مز اع ور ہوتے اس طرح 
الاپ ہوناجاہے۔ یپا مورذاتئدیی پر لآ نا سی ط رح مناسب 
تھا ءاورضرور تمھی جن ین ےکی۔ 
پا جحخراتتصھا نے اف فو کو ںک یا چم خدام د 
خلا مآنخ رسس مصرف کے ہیں؟ جو أمو رر کی شان کے غلاف 
ہیںہ دہ ہم پر ٹین لآہویں اورعم دنت مرج بکیا جا ےت اک وگ نگ 
کیل ہوجا ے۔ چنام رجا رت سی ہیدہ سب ایا یتح جن ںآ یا جو 
آتندہ فیا م ت مت کآ ,0 
کے ہر جھلے مر ےکومعلوم ہوگ یا کہ فلاں واج بیس بک رنا اود اس 
مر عکرنا مناسب ہے ء اود بک رنااورائس رر کر نا زا مناسب ۔ یی 
کوگی ہولو ایماباجصت جاں شارج کیل دومن شر یک اط رر تک 
عزت اوری بکو ہن ربج ےک رنشا یت مطامت نے برفھ رکرے اور مز بان 
عالی ےک ہ: 
ک.- گرڈ بلاک جثت 
ہر رستال سلامت کہ و تج رز مکی 
شبرت ویک نا او رعمزت ونا مآ ورکی سب جاہاھرتے 
ہیں ہمگر ا ںکا مز ہی عاش سے وچ کہ جاں شارکی ب" سکیا لوف 
ہے اورکو یز تو نکی ٹک دعا رکیل یذ ے: 
از نگ چ ہگ لی مرا نام زنگ ست 
واڑ نام چہ کیک مرا تک زنام است 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠۱٢٣۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


ےچ عائن تو اس طر جاری تہاری اصلاں لی مکی 
ما را نی عمزت وآ رو شا رک یں ء او چم الع کے منصف وڈ ھی ہ نکر 
تیرہ ص بس بعد ان کے متقد ما تکا یصلہوۓ 2 لئے ین اوز 
کلت چیا ںکر کے انی عاقی تگنر یکر بیس ٠اس‏ سکیا حاصل ؟ گر 
ان جھاہرات سغیہ کے ردا نیس بن ےت لم س ےکم بدز بای و 


شعن بی سے ات اف بنر رگ :اللہ! اللها فی أاصحابےی, لا 


تتخذوھم من بعد غرضا!۔' این صض:۲۲۸۳۰۲۷۷) 


٠۴‏ ونثما ہج را جا 


انچ یی گے یآ پ ن ےھ کہ 
”رت بی علیہ السلام کے وور خاافت میں حضرت 
عائٹ اورنظرت ام رمحاو کے درمیاان جو نکاس ہ وی ان ٹیل 
جن ضرتتپیلی علیہ السلام کے سا تھا رین نضرت عا زگ اب نل 
پر ای اور ہغابت ہے۔ می اکا برائل سن تکانظریرے۔“ 
ای پیٹ یں چندأمورقائل کر ہیں : 
الل:...امیرالھ نین عثان بن عفان ری ارشدحنہکی مو مان شارت کے بعد 


جوعالات ٹ یآ ے اور جو پالأخر جک مل اور یک تین پر ہو دو تار یں 
دن ہیں ۔ بیعالات ار ہی با تج کل تیرا نگ اک ہک کیا جا ۓ ؟ کیا کیا جاے ؟ 
خر تی رصی ارڈرعنہ سے نطرت عثان ش ہیر رشی الشدعنہ کے بعد با رخلاقت ا ٹھان ےکی 
جب درٹ ان ٹک یلا راڈ ا)ا: 


”دعونی والتمسوا غیری, فانا مستقبلون أمرٌا 

له وجوہ وأالوانء لاتقوم لە القلوب ولا نثبت عليه 
العقولء وان الآفاق قد اأُغامت؛ والمحجّة قد تتنکرت .“ 
( الا ص:١۱۳خطٍ۳٥)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱۱٢٣۹ .۷۸۷۵۸۲ ۷ 


ترب:.. ”یھ رھ دوہی او رکوہ یزرو نو کش 
ای ےھ رکا سا منا ہے جس ک ےل رم اد رکف رنگ ہیں :بس کے 
سا نے نہ ول ائم رو سے ہیں, ”فی ںہ ریت ہیں ,فی مرکا میں 
بچھائی ہوک ی ہیں اور راستمشتب وکیا ے 
رےعالا تکا تن چوس ہرگ رام رنصی ال مکواس وفت در یل تھا_ 
دوم: ...طاہر ےک وک یکا ددواز دنو بند ہو کا تھا ٢‏ ب ازع ضرع الات شُن بر 
ٹس پنےا جتاد پگ لکرنےکا مکل ف تھا اورا ٹن می ںآ رامکا ا شا فک تھی اکک نطری 
می * چنا ران الات می س ضرا تھا کرام نشی ال نہ مک یآ راء می بھی ا تا ف ٹر ونما 
ہواء جن صاحب نے اپنے اجنتجاد ےجنس چتزکوعند اق مھا بج رضاے الہ یکی ما طر 
الکو اخقیارکیا۔ 
ایک فرب نے باقع کے ساتجھھ ہےہ اس ن ےآ کی عمایت میں 
جال باذگی کے ج ہردکھاے ء وص رف لی 0 نے غلفہ 
مظلوم ری ارد حنکوشجیدکر کے خلافت امسلامیہ کے بے اُڑاد یئ دہ صصرف ی کہ 
خر تیلی رنھی ارڈ دعنہ کےکیمپ میں ےه بل کم وجی بالا دست ےء یٹلا خلیشہ کے تاب 
میس بل خودادارۂ خلافت ال نو نے کے قاویس ہے چناغیر ایس ےجب 
صحا راغ نے رم ت امیر سے الن فننہ پدازوںئی 7 لٰ 71 درخرا ستل93ا رش مم ماا: 
”یا اخوتاہ!انی لست اجھل ماتعلمون؛ 
ولکن کیف لی بقوۃ والقوم المجلبون علی حذ ش وکتھمء 
یملکوننا ولا نملکھم! وھا ھم ھؤلاء قد ثارت معھم 
عبدانکم والعفت الھم أعرابکم, وھم خلالکم 
یسومونکم ما شاؤواء وھل ترون موضهًا لقدرۃ علی 
فی رپدرید؟ (ابلاز ص:۳۴۳) 
تھجمہ:...' ھا موا جو بات نم جا نے ہو میں اس سے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


028 کابلا تکہاں تا 0072.9 

فیا یکمرون )ا جو سی مرنے وانے بورییللّت وشولت ا ین 

ہیں ٤وہ‏ کم پر مسلط ہیں چم ان برعادٹیکییل ء بپتہارے نیا ھی ان 

پان ا رک کے و اود ار پا گن نلیا ان گے 

ساتػع ہو لئے ہیں ء دوتمہارے درمیالن ( مد بی میں ) موجود میں ء 

جس طرع مات می ںسہمی ںآ زار ات ہیں اہی ںکوئی ایی 

صورتنظ ای ےک جو جم جات بہو ءا کی در رت عا ”ہنی“ 

اس وس ےق رگ نکوتحضرت لی ری اش عتہ کے فضائل ومنا نان یم 
وہای الات اوران کے متو ل ند اہو نے می سکوکی شک لکیں تھءا نکوچونمشکل درجشل 
اراخب ہک ان مفسیدو ںکو الا وی حاصل ے ضر ت لی ری ای دح کا سس تج 
کرام 7 , ,7/7 کنا اورخلا ق تو ان 
کے کل ےشحیات ولا نا رر ےد 

یسر ےف لی نے بی ضیال فر مایاکہ اب کک ک مکغار کے مقا بے یس ص ف1 را 
تھے اور جوا رکی موا بی یکافرو ںکوکیاٹ دب یں ء مان اب مفسدو کی فققہ ردا گی نے 
مسلرانو ںکومسلمانوں سے ڑاویا ےج نمواروں سے ام نےکافروں بر چہادکیاء ان یکو 
مسلمانو ںکیگرون یر کسے چلایں؟ ان ححطرات نے و برح وا اط کے طور براس تن کی 
1 ا او ۳ و لی مسلران کے خو نع سے الع کے پاتجھ و کین 
ہوں یی اکہاعاد جیث یل تد ضا کرام سے نقول ے۔ 

الل! خرت عنانع شی ال دع کی شبادت کے بعد چلی اک تخر تام رنے 
فربایا أفی بر نت ےک یگھٹا نیس کی : راست مشتبراور بے پپیان ہوگیاءاورحالات ن ےکی 
رخ اورئی رنگ اخققیارکر لئ ء اس لے جس فرلی نے اپ اجتاد اور اپنی صوابد ید کے 
مطابنی جو پل اخیارکیاء دہج رضاۓ لی کے لے تھا اود ہرفرلئی اپنے اپنے اجتباد یہ 
خ لکر تن کا مقلف تھا۔ صا کرام ری اٹ مو جوعالات دریلی تھے ا نکیضی سال 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۷۳۳٠٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


سی یھ جیا ےک ایک قافلہ و نکی دشنی بی سفرکر دا تھاکمہ دع رقاب روب ہوا اور 
اھ رزہا بی کال یگھنا شی اور ندیھی کے بھکڑ جن گ ےک کھٹا نو پ اند را چچھامکیاء او رفضا 
انی جا رک موک یک ماتڈکو مج بھائی نیس دے ربا ات یی مرا کا وت ہواء اور لوک 
اتا کی بارگا :میں دست بت حا ہو گن مگ رس یکومعلوم می سرب س طرف ہے؟ اس 
لئے نی نے اہ فی اود نے ہناد سے یلک ئرغ مص نکیا ان فرشا ء می نیکم 
گنی ریف ہے اور یمکائی طرف گر چا ایک نین ولل یت کے ماق 
موجہ ہونا جا چتا ے٠‏ اور چوک ا لے اشتا ہکی حالت یس پرفشٹ انی صصوابدبیددادتجرئی نل 
کر ےکا مقلف ےء اس لئ ض کی زان ےء اور وو عندابڈدمقبولی سے ۔ ٹیک انی 
رح سس مخت کی جار کی کے دور یں صھا بک را کا حال بنا جا گے ک اکر چہ بظاہرد یٹ 
بس وا نظ رآ تے ہیں بگمر ول ہ ای کا میدن لن ضرا ہے ال یا کی طر ف تو رن 
ہے اور وہ ان ٹل سے ہرایگ ان اجتتماد یپ لکن کا ملف ہے٠‏ اس لے ان شس 
سے ہ رای کعنداوڈ متبول اور ”ری ایٹرعۓورضواع'' کامصراقی ے_ 

و ...اس ےبھی ہبی مکل یئک انع نہ پرواز مضیرو کی رو چنا 
مشینربی بپاری قات اور شارت کے ساتمھ اب اخلائص کے درمیان مناف٠رت‏ بپچھیاانے ٹیس 
مرو گی ء ایک وسرے کےخلا فکمدو ریس پ یراک نے کے لی افواہی ںگھڑی جارتی 
گو ریمس رورس نی کے ذر یچ اکا ب نسحا برا کی وین در یکی جادینگ 77- 
کیا مر الم شت نے منددجہ بل قباس بی ا سک طرف انار وف مایاے: 

نو ضر چاے می ںی ںآ زار پیا ہیں“ 
کوحفرت علیہ وضرت ز یررشی ارڈ رکنهما کے پا س لطو رسفی ریا ا درا نک یکو سے دونوں 
ریتوں کے درمیان ما مت پر ا تھاقی راۓ گیا تو ان مفمد بین مص,.7) 
دونوں فرلیقوں پر شب خون ماراء ہرف لی نے بی چھاکہو وص ےن لی نے بدعحہد دک کی 
ہےء اورپ رج ہونا تھا ہوا۔ حا فظ این مر نے ال دای والتہای یس ہبی کے جوالے سے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١ ۱۷۳٣٠٢۱٢٥۹.۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


”ٹم بعث علیٗ الی طلحة والزبیر یقول: ان 
کنتم علی ما فارقتم عليه القعقا ع بن عمروا فکفوا حتی 
ننزل فنظر فی ھٰذا الأمرء رسلا الیه فی جواب رسالته: 
انا علی ما فارقنا القعقاع بن عمرو من الصلح بین 
الناسء فاطمأنت النفوس وسکنت: واجتمع کل فریق 
باصحابہ من الجیشین, فلما أمسوا بعث علی عبداللہ 
بن عباس الیھےء وبعثوا اليه محمد بن طلیحة السجاد 
وبات الناس بخیر لیلةء وبات قتلة عثمان بشر لیلة: 
وباتوا یتشاورون أوجمعوا علی ان یٹیروا الحرب من 
الغلس: فنھضوا من قبل طلوع الفجر وھم قریب من 
ألفی رجل فانصرف کل فریق الی قراباتھم فھجموا 
علیھم بالسیوف: فشارت کل طائفة الی قومھم 
لیمععوھم: وقام الناس من منامھم الی السلاحء فقالرا 
طرقتنا أھل الکوفة لیلاہ وبیتونا وغدروا بناء وظنوا ان 
طذاعن ملأ من أصحاب علیٗ فبلغ الأمر علیّا فقال: ما 
للساس؟ فقاوا: بیتنا ُھل البصرة فثار کل فریق الٰی 
سلاحہ ولبسوا اللأمة و رکبوا الخیولء ولا یشعر أحد 
منھم ہما وقع الأمر عليه فی نفس الأمرء وکان أمر الله 
قدرًا مقدورًا وقامت الحرب علی ساق وقدم!“ 
(ا برای وات ما خ:ھے ص:۲۳۹) 
تزچں: ” ففرتکلی نی ارشرعد تن روز یی نشی اللہ 
خی کو سنا بھی اک ارم لوک ا سکننکو برقائم ہو جوقعق غ ری ن گر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


٢‏ ٭. ای رت بے ا 


سے مظیہولی و گاەیگارددال سے پا ہہ ہا ں مج کک کم 
اس موا لے ین وک لین لالح دونوں حضرات نے پغام کے 
واب می سںکہڑا پیا : تا بن گھرو سے لوان کے ورمیان 
مصا لم تکی جو بات ہوثی سے جم اس مرقائم ہیں میں لوکوں کے 
ول ںاوسکون و امیا نھب ہواءاورروٹو زاگروںن کے لوک | رت 
دوستوں سے لے گے جب شام ہوئی تو حضرت می ری اد حنہ 
نے اع حقرات کے پا سرت راڈ بن عامس ری ایا کو 
بھیتا اوران منخرات ن ےآ کے پا مھ ب علیچہ سا دو کشا تام 
لُٗوں ایت سکونغ و إعنازع او رت ہے زا زی از 
الین عفان نے بررات تباعت ےس ولی ی یکزاری:ووسیاری 
رات مور ےکر تے رے اورانمہوں نے متفقہ فیصلہک اع ہو نے 
سے پیل رات کے اندہرے میں جج کی کف بی کاو میں چنا یہ 
7 صادقی سے پیل ا ھھ, جوریبا دو برا رآ دی تھہ ہیں ہر 
فر نی اہن ائلر ایت کے یا گیا اوران پرمواروں ےت لکردیاء 
پھر پرگر ہا یو مکی طرف اُٹھا کہا نکی تفاخق تکرےء او لوک 
زیر ےا ےو سبد ھھے ہیا رو ںکی طرف گۓءاورانہوں 7220 
کے کپ خر ارات اوزااہین کے پا 
کہ یسب چئھو تفم تگی ری ارڈ عنہ کے کیپ ےی گی اکم 
کے مطالقی ہوا سے حعرتملی رصی الد حنہکو تی رمپگی و فر ما کہ 
لوکو ںکوکیا ہوا؟ ا نکو پتا گیا کہائل بصصرہ نے ان برشب خونع مارا 
سے۔ چنا یہ ہرف لی تھی رو ںکی طرف جھاگاء زر ہیں جانئیں اور 
کھوڑوں برسوار ہو سگئے ۔ اصل فص کیا ہوا؟ ا ںکی ای او ہیی ربیں 
تھی ء موں ال تھا یکی نم :اذ ہوک ری اود جن ک برک ا ئیے 


7( ۹.۷۸۷۱۲۹6۴6>٠٥٥٣۱۷۳١۲٢0ا]6‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


جهہارخ:.. ملک یکی ہنا رلوس فاد سیر کے درمیا نکمشا شی یکا سداہومانامسبعریں 
کے ۶ 7 سہ ‏ : إٍ س کے تم 27 
.3 زنک رم یں نحضرت موی و ما رو نیما ا مسا مکا لصہ نمور ے سور اعم راف میں سے 


نَم رمع مُومنی لی قزمہ عَضباَ فا قال 
بِنسَمًا عَلَفعمُوِی مِنْ' بَعْدیٰ اَعَجلٰم ار رَيَكمْ وَالَقَی 
لوا وَاَحَذ بوَاُس اَخِیْه يَجوُه لہ قَال اب ام إِنَ الوم 
اسُضعَفونیٰ وَکادُوايَفعلوَيیٰ فلا نْشْمِت بی الَغدَ1ء 
لا تْجَعَلییْ تم ازم الظّلِث“ (الا۶رائے:۵۰٥)‏ 

ترجھ:..: اور جب لو فآیا موی اٹ یقومم بی خحتے میس 
اذا انتا ء ولا کیاکی شیا رہ فک یھر می ری غیرے بعد 
کیوں عجلم دی کی تم نے ایتۓ رٹ سے ےا اورڈال دیل .1 
ھتیاں اور یڑا سراپنے بھائی کاء لگا شی ان کواپٹی رف ء دہ بولا 
گآ تا تی ای کے جن الدلوں نے بھد کیو ھا اوت یی تھا 
ک جک مار ڈائی ؛سومت سا جھ پر ڑشنو ںکوہ اور تہ ما وکت ار 
او فیس ا رری انگ 
اوزعو رہطا یس ے: 

”فّال يهلرُوْنْ مَا نفک إِذ رَأيْتَهُمْ صَلوٰا. الا 
تبَعَبِی اَفَفَضَیْتٌ آمریٰ. قَال یَبْنومل تَأحْذ بلْحْیَيِی وَلا 
رأٰیسیْ؛ انّیٰ خی أَغ ول فَرفُتَ بَمَ ارول 
لم رت ول“ ( )٥٣٣٤۹۴۰:‏ 

وریہ کی و نے ا پا ون انس جن رڈنا 
او جب د یکھا ھا ےن ےکمردہ ہک گی ےکر میرے تی ہآ یا :کیا 
نے کر کیا می رام ؟ دہ ولا : اے میرک مال کے جے !نہ پکمڑ می ری 
داڑشی اور شرصرء یش ڈرا کہ نو کے گا پچھوٹ ڈال دی نے نے بی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۸۲۹6 ۷ 


بائلںض سیت اص لات“ (ڑم:جالبیز) 

پاووداسی ک ےک تضرت م وی علیہ السام نے منرت پااروع علیہ السلام سے جو 
سلو ککیاء ایگ نیک اص رف یی اور نی فی اگ کی نہ کی ای و ینکر ےق اس بر جھ 
رو ہیں رر 
رتھاءاورا کا خٹا ماج یع :اس لئ ا نکا رٹل مرح وستائشی کے طور برق رآ نکر 
میں کرک یاگیا۔ ۱ 

ٹڑیک بی حیشیت ہت صحا ہکرام شی اہم کے ائن واقیات سے بھی 
جیا ہے جن نع ترات نے جوموقف انا رکیاءاگمر چ را کا طشاخلطی تھا نب بھی انہوں نے 
ج پچوکیا؛ لیس ولدنی ان رتھاءاس لئ ا نکا یل رزگل لاف یلع نیس پللیمو جب مدح و 
ستائش ہے .ین تھالی شاننے ان اکا رکش رف ما بیت کے سا تحرف فرمایا سے اوربخیر 
کسی مالغ کے ان اکا بر کے ماب یں جع ری حیثیت وی سے جوشججرادوں کے متقا لے 
یں ایک بی کی ہوکتی ہے ۔شیجرداو کیل ای میس 1گ ربصگ یک ایک پع کر نے بی جا نے 
فشترادو کی شا نکی کوئی فر یس ؟ جال تح نٹ یک رذاتشاضا ما 

یم :... ال سنت کے نز ویک حرت می شی ارند عنہغلیفہ راشد ےہ اولی 
این ای ےمان ڈوصرےاکابر پر لح تل چان ے اور مرا عکوخطحیت کے 
ساتھ ال با لکنا ہے ۔کیوکلہ.. جیما أ ویش کیامگی...ہرف ربق اپ اتاد کے 
مطاب انے نی سن پرجکھنے ہو ت ۓےعھس رضاے لی کے ےکوشاں نا ء ان تر م تح ارت 
نے اپے اناد ےت نکو پان ےک کش کی ۔او ھی مصیب ہہوتاہے او ری اس سے 
چوک ہو جالٹی سے کی صورت میں ا کور ہرا ا جر ا ےء اور وس کی عصورت میں دہ ایک 
ا رکاج ہوتا ے۔اس لئے زیادہ سے (یادہ ج با گی جاحقی سے دہ ےک تعفر ت گی 
نشی الد عنہ کے لے ہرا أجھ ےہ بلکہ ایک ردایت کے مطالی ود گنا اج ےء اور 
ڈوسرےتعفرا بھی اپے اجتجاد کے مطا بش معنرودد بجر ہیں ء ان یش سےکوگ یھی اج 
ےہھرو میں ۔ 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲٢۱۵۷۳۱٥٢۱۹۹ ۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


سے .. مخاترات کے دوران جا سو روؤفریکڑا ےتال 
لال لوس تےء ان وا تا تل ۷۸ نع ام ا سا٥‏ گن اورسنتک ول لوگو ں تل اوصرم 


بوتا ہے ؛ جن اکا ب کے سرسے بی وا تا گز رۓےء ان فیوش فرسیہ کے ٹر تاس فکاکیا 
عا حم ہوگ...؟ ا ظ ہما رتآسف کے الم ظا ”رت أغم الو مین دہ عجہیب الد( صلی ارڈ علیہ ظ ہما 
عم )ہی سے تقو لکہیں بل ہم رالھمؤوشنان ویکسوب الین موا ای شی فرع ےبھی 
9 ی۔ ۔ چنا می حافظ انج 2 "اابراےدال ہاے اس ء .. لال 
رخرت لی رشی ارڈ عمق لوں کے لا ٹوں سکم رے جھےکجعقرتطلی یی اڈرعدگی 
ای مارک دنکھی :1 پان کے چچرے سے نیاصا فک۷ر نے کے اورفرمارسے تے: 
”'رحمة اللہ علیک ابا محمد! یعز علیٗ أن 
راک مجدولا تحت نجوم السماء. ثم قال: الی اللہ 
ُشکو عجری وبجری واللہ! لوددت نی کنت مت قبل 
هٰذا الیوم بعشرین سخة.“ (اہرایراتباے نے ۴گ:مت٢۲)‏ 
7ت .' الما تم پر ال دکی رت وہ جھ پر یہ بات 
ہمایت شا یکذ ردجی ہےک بیس ےآ سا نکی جچھت کے یجول 
پڑا ہواد سر ہا ہوں ۔ کلف مایا :یش ای ےگم وم نکی اش کے سا خے 
شرکا یی کر ہوں .کرا! میسن اک رت ہو لیک می نآ رح کے دانع نے 
ٹیس سال یلم کیا ہوتا۔“ 
ان وا ےکڑ حا نے ” مد رک '(ج: ضص۶٢۳۴)‏ یس٤‏ حافاشس الد من 
الڑی ے ”سیر اعلام اللنبلاء“ (خ:ا صص:۳۷) یل اورحا فظماداللد ینگ نے یع 
الڑواکر '(رع:۹ :۱۵۰ می س بھی ذک کیا نی زع الف وانحد میس طرالٹی کے جوا نے سے 
فرمد ہایس لی ے 
"عن قیس بین عبّاد قال: شھدت علب یوم 
الجمل یقول لابنه حسن: یا حسن! وددت آئی مت منذ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۸۷۱۸۲6‎ ۷ 


عشرین سنة. رواہ الطبرانی واسنادہ جید.' 
سم ك:8 )٥۵۰:۴‏ 
ا بن عماد کت ہی سکہ: میں مصل کے دن 
رت لی رشی اڈ دعنہ کے پاش موجودتھا ہپ اپنے صا زاورے 
ححقرت تن دعھی اد عخفہ سےفر مار سے تھے :تن !یں تناکرتا ہوں 
ہآ نے شی سال ےم کیا ہوا 
الفرشل! اظہاراسف کےفلمات دونوں طرف سےمنقول ہیں, اس لئ أخم 
الھشئنغ کے من میں نو بہ کے الفاظ استعا لکنا سوع ادرب سے نال یں ہاں ! ال ںکو 
”حسنات الأہرار سینات المقربین“ یں شا کر ناج کۓۓ ۔ 
کے ..رتحرات شی : منرت امیر معادررنشی الڈدعش سے پگھز یادہ خی ناراٰش 
ہیں ء اورا نکا نام مر اٹی کے سا فک کر تے ہیںء حا لام ہاگمر وہ انصاف سےکام لیے تو 
بج سط رب دو دم رھار شی الف تہ مکا نا مکم ےکم رکی طور ینیم کے الطاظ سس ےک کر تے 
ہیں ای رح انیس جا ہے تھ اک حخرت امیرمواو ری شی ارڈرع کا نا مپھیمضلیصی الف ظط مین 
ذکرکرتے ؛کولل: 
ال ححفرت تن رشی ارشدعنہ نے محضرت معاد ررش القدعنہ نے سا جح رح 
کر کے فلا فقت ان کے جوام ے۷ردیاصی ء اور ضع رات نین شی ارہ نے اع کے پاتھ 
یت فر ماگ یی ء جیا کہ اس ےن لاخ لکر کا ہوں ۔ اگ رححضرت موا وی شی ا عنہ 
من صاخ نہوتے ون خلافت ان کے سپ ردکی جاقی اورنہ ماک ران کے ہاتجھ پ رمعت 
خر مات دوایات کے مطا نی ححضرت تےض نگ اع حضرت معاو نگ اش عتکواۓ 
شمیعوں ے |لل اورپبنزمسلرا ن بت تھے ؛کیون شید م مین یت !با کواں قزر 
ستای اک ہآپ نے تج کفآکرحجطرت معادبی شی اافرعضہ ےک جک کیہ اود اع کے بات یہ 
بج تکر بی :”اتاج طبر ی'مطبودامیانصف:۸| اٹل ے: 
”- ج: عن زید بن وھب الجھنیٰ قال: لمَا 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


شبح السدی بوعلی سیا لہا والمناان ا ا 
متوجُخعفقلت: ماتری یا ابن رسول الل! فان الناس 


متحیرٌون؟ فقال: اُری واللہ معاویة خیرًا لی من ھؤلاء: 
یزعمون أنھم لی شیعة ابتغوا قعلی وانتھبوا ثقلیء 
وأخذوا مالیء والل! لأن آخذ من معاویة عھدا أحقن بہ 
دمی وآمن بە فی اُھلی خیر من ان یقتلونی فتضیع أھل 
بیعی وأھلی. والل لو قاتلت معاویة لأمخذوا بعنقی حمّی 
یدفعونی اليیه سلمَا.“ ( بارالاٹوار :۲۴۳ ص:۰٢)‏ 
7رجمہ:. زیر ملع وہ بچئی ے رایت ےل جب 
امام تن ری الیدع کو مدان یس یرہ ماراگیا بی ان کے اس 
گیا ال وطفت ا نکو نٹ مکی نکی فگ ء یس ت ےکہا: نر زندرسول ! 
آ پک یکیارائۓ ہے؟ لوگ بہت تحی ور سے ہیں امام لن ےگا کہ 
ا دکی ایس معاو یکو این لے ان لوگوں سے کہ مکنا ہوںء جو 
اپ ےکومیرا شیع کے ہیںءانبوں نے می ر ےک ل کا اداد ہکیاءمیرا 
ساب لوٹااورمیرامالی لےلیاء ال دک یمم اش معاوب ےلولی معاہرہ 
کرلوں جس سے می ری جائنع اومی ےعلق نکی ات جہوجاۓ ء 
ا زاس نشی ویر کا شا 
ہوجامیں ۔والئر! گر میں معاہ ہے ےتا لو گی یبر 07 کر 
جھے معا و کے جوا لن کرد ہے 
ا روابیت ے خابہت ہوا کیو ںکو ا ہے ماموں اک یں وکقہرت 
ھی پان کک کا ال ساب لوٹ لیے تے اوران کے تک کے در ے بہوتے 
ھے_ بھی معلوم ہوا ١‏ امام کواپنےکمینوں کے نس نقیرت و ان یس او 
جار ونظر ہآ یا کہ باعمزت طور پر محاو ہی الد عنہ سے حا کریل اود بیچھی خابت ہوا 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


کت نہ کوکم سےکگخیہوں سے مہت مس مان بکعتے تھے ۔ 
ں!ا جب جھہوں کے ووعالی رر اماموں (خرات نین ری ارڈ شا ) 
پ دو ہر صرکی پر یع تفر مال اورظافت ان 
کے سپ ردکمردیی :نے اع کے تما ھمشیہوں برا نکی ہریت لا زم ہوگثئی ؛ اس لئ درا تی شی کو 
ازم ےکآ کی !قایس اپنے میس بیعتِ محاد یکا پا بن چھییں اوران اکا رکی محبت و 
رت تقاط سے مفق رت موا ون شی انل وکا ال ا مکنہحی اب بیشن نگ 
ات 6گ کہ پا پ نڈای کننن کے تھوٹیس ہاتزےء اور ٹا لف پڑٹا ا ںکگا ین کے 
مامیکنفش کے علق بیعت میں واخل ہو او گی ا سکوئ ہیں ۔ 
ماا....اگ رشع إماشن ہعامین اشن وائین دشنی اٹ نما گنیس مات کم 
ےکم اع کے یر ارگوا را سدر ارد الغا لاب امہ رالھمستو نی بن ای طا لب ریشی الد عشہ کے 
ارشماددی پرکان دع ری : 
اق ابلاغ یس ےک حعںینےانے چچ ین کے بدا ۓ شک کے پکتھ 
لو ںکو کرو واہل شا ممکونا شا تس الفاظ سے یاوکر تے ہیں تو نے ا نکو عفر مایا ءائل 
شیا کے لے کا گ ےتیک ےوائلمرف نا 
”انی آکرہ لکم ان تکونوا سبّابینء ولکنکم لو 
وصفتم أعمالھم وذکرتم حالھم؛ کان آصوب فی 
القولء وأبلغ فی العذرء وقلعم مکان سکم اباھم: اللّھم 
اُحقن دما ءِنا ودماءھم؛ وأاصلح ذات بینتا وبینھمء 
وأمدھم من ضلالتھمء حتی یعرف الحق من جھلەء 
ویرعوی عن الغی والعدوان من لھج بە.“ 
(ابلاز ص٦۳٣۳۲)‏ 
تی نے کیک فا تار لئ این آع لوا پٹر 
کرجا ہو ںک ینم مگالیاں کی وانے بجی جا ؤء اگ رم ان کے اعمال اور 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٥٠٥٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


گر کرت انا 22ا کرمعسلشایت --- 

تھی تما ہوجا لی ءاورم ان نت 7 کہے ہیا اع کے 

لے میڈ اکر ےکلہ :یا ایند اہمارےاوراانع کے وو ںک و سط رک ء 

اع کے اور ہمارے درمیان تحلقا کی اصلا رح ٹرماء اور ا کو ا 

گمرائی سے ہدایت رجش ان سے رہ دو نکو ان 

ابو یں سور سوہ 

۴.. مطرت امیر ائل شا کوک فرکییں کھت تہ لہ ا نکوا نے پھال ی کت 223 
اور یےکہانہوںل ے اطاعحعت سے جوصرتا لی سے ا کا شا ہے کول کی خون عخثان 
یل 2 کت ہیں ء ھا لانمہ جم اس سے نکی ہیں ال از ےک چک ئن کے بعد 
عترییےانے الا مار کے نام سکیف مان مار خر ابا٘نس یں اس قض کشر اف مائی: 

”وکان بدء أمرنا انا العقینا والقوم من أھل 

الشامء والظاھر أن ربٹا واحد ونییّنا واحد ودعوتنتا 

فی الاسلام واحدةء ولا نستزیدھم فی الایمان باللہ 

والتصدیق برسولە ولا یستزیدونناء الأمر واحد الا ما 

اختلفنا فیه من دم عثمان ونحن منە براء.“ 

( الا صض:۲۳۸٢)‏ 
ت7 جمہ:.. ہار ےق یک ابقالوں ہو یک مارااورائل 

شماممکا مق بکمہہواء حالمالکہ ظا ہر ےکہ ہما راخحداابیک ہے ہی ایک سے 

اوروکوت ٹی الاسلام ایک ہے جا کک ال دتھالی یہ یمان اور ای 

کے رسول لی اللہ علیہ مل کی تد یک اطق سے من پھم النع سے اس 

ارے می لکوگی زیر مطال کر تے تہ ندد دم ۵08ك۵8ە, و 

ایک ھا ءسوداۓ اس ک ےکم مرت عتان شی اق دععنہ کے خون کے 

محاٹے میں جمارابا لاف ہہوااو رکم اس سے کی ہیں 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


اس ا ہےکہا لی شا چھی اریے ہی جے 

ہے مسلران ہیں جاک خودضفرت امیر کے زرفقاءء ا شتلاف ہے صرف اس کت مم سک 

چون ححخرتعنا نع کےخلاف بلودکر نے والموں میس ے بقیۃ السیف نظرت امیر کے ساے 

عاطلفت میں بناوگز من تھے اورتضریٹن کوان کے خلا سی ماب یکا رروائی کا موٹعح مر 

کھیں؟ یا تھاءاس لئ ال شا رت امیر سے برکشنۃ ہو گے لکل ایل کک خیال ہواکہ 
خون نا عم حفر تک یکا بھی ا تجوےء وحاشا جنابه من ڈلک...! 

×× :اؤہ پش ین 0 0۲ .۷1ئ0( 

کہ:امارت معاو بے کویجھی نم امہ مجھوءکی ول دوج وقت ہوں گےئو تم مرو ںکوگررنوں 

ےمج ہن وو مک (مقامیا۔۔ :۳۰ء کوالگقیرمواطے. ص:۲۵۸) 

۴۳, عطرت ماد رر الع دخ ع َال کے قصا لک وج ےحخرت ایر 

ری الفدعنہ سے پر پیا ارہ ورنہ دو رت ُمیڑسےعلم کل کے ول وجان سے 

مرف تے۔عافظڈ انکر نے" برای والنہای لٴ لکیا ےک حضرت معاد ریرش انلہ 

ععلفا فرماتے ‏ ےک علن اھ ے ؟بخراورا فقل ہیں 'اور یک میرااورا نکا اختلاف 

صرفحضرتعان کے سک لے مس ےءاگمر دو شودخوان نع کا ماع نکی تو ال شام 
ٹس ان کے ماف وع کے والانسب سے پاش بن ہو ںا 

(ابرایرالماے ؿخّ ے ۵۹۰۴ء خ:۸ ص:۳۹٣)‏ 

۵.. جب حطرت معاوىہ ری اق عنہ کے با حضرت پلی رشی ایند عحنہکی 

شہاد تک ن رکچ نو ردنے گے اہلید نے لہ بچھاکہ:” آپ زندگی یس ان ےکر تے رےء 

اب روتے ہیں؟حضرت معاد یرش اڈدعنہ نے فر مایا:* غ میں جاضتی کہا نکی و ات 

ےکی فقاو رک اعلم و نیا ےزخصت ہوگیا_' (الہرایدالنہاے :۸ ض:۲۹) 

ایک مرح حعخرت معاویرشی انشدعنہ نے ضمرارصدائی کہا اک یر ے 

سا سن ےک کے اوصاف پیا نکرو !“اس پر انہوں نے خی رمعمولی الفاظ بیس حضرت مکی 

تی فک :حضرت معاور نے فر مایا:” ارڈ انا ان (می)رمکرے: مد ایام ووامے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳۱۱١۴۹ .۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


بی ے_ (الا حم بکت الاصا۔ مع:٣‏ ضص:۴۴۳۴٣)‏ 
ے:...آیصرزوم نے ملمانو کی ما بھی خماہجتلی سن فا دہ اک ران رھد آور 
ہو ن ےکا اراد ٥کیا‏ نظرت معاو بر الین دح کو اس اطزا رع ہو لی تو ا ہوں نے تصرژوم 


سنا م ایک خھمانکھا: 


2 اکر : نے اپنا! رادہ و راکرد ےکی مان لی نو می سب رکھا 
ہو ںکہ یس اثٹے سای (حفرت علغ) ےس کراوں گاء پچھر 
تمہارے خلاف ان کا جوفشحکر روانہ ہوگا اس کے لے سای کا نام 
معاوبہ ہوگا۔ اور ٹیس ضسطنطفہ کو جلا ہوا کونہ بنا ڈو ں گاء او رتہاری 
عکوم ںکوگا جرمو لب یکی ط رح ا کھھا کیو گا“ 
(جرح‌الھروں رؾ:ے ضص۳۰۸۷:۰.ز,:ضطفلیں ) 
۸مو وم نان نف لکیا ےکہ جنگ صطین وظیرہ کے موںع پر ون کے 
وپنتف لنشین یس جن ہدلاو زرا ت کے واقت ایا اکر کےلوک وو انگ رین اکر 
ان کےمتت یی نکی ٹون وٹین میں حص لیک رت تھ۔ _(اابرایدالھلے ؾ:د ص:٢۲)‏ 
الفرش! جب حطرت اأمیراوران کے فقاءء نظضرت معاو اوران کےزنقاء 
نیک ڈوسر ےکومسلمان جکھت ہیں نے جناب امیر کے نام لیوائو ںکو می لازم ےکہ ا نکو 
ہر رب ھکار طہوں سیب 
07 ائی اس پا نکوئرا ا کے کے با نے الع گے ےت فعا تئ شججزک یی ۔ 
مال .تفر تام رمعاوریرنھی الشعتہاوران کر فقاءکوشش رف سا مت حاصم۰ل 
ھا اور سک 8 . .ال ر۸7 رت مکی ارل عل یلم وا 
کرام کے فضائل ومنا قب ء ان کے زایا و تصوصیات اورالن کے اندرولی اوصاف و الات 
کو بیان فرمایاے اس ھ۶ ہوجا ےک ہآ حضرت صلی الد علیہ وملم انی أُصت 72 
مہ بات لا نا جا بے تےکر انیس عا ماف راداصت پر قیا لکن ےک نی نکی جاۓ + ان 
<فرا کال چوئکہ براد راس تآفحضرت مکی ارشدعلمیہ ول مکی ذاتگمراٹی سے سے ءال 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


کا اس یسل ہے٤‏ اوران 0 ا 


یش ادٹیٰ ا ب کشا تی نا تقائل معاٹی جرم ہے چنا غرارشادے: 


”اللّ! اللّ! فی اصحابی الل! الله! فی أصحابیء 
لا تتخذوھم ضرضا من بعدی, فمن أحبّھم فبحبّی 
احبّھم؛ ومن أبغضهم فییغضی أبفضھم؛ ومن آذاھم فقد 
آذانسیء ومن آذانی فقد آذی اللء ومن آذی الله 
فیورشک أن یأاحذہ “ (رزریل) 

تر جمہ:..: الد سے ڈرو! الد سے ڈ روا مر ےمص“ا کے 
موالل یں ہر رکہت ہہوں الد سے ڈ رو! الد سے ڈ روا مر ےجا 
کے مھا لے یل ال نکومیرے بعد بر ف تقید نہ بنا نا ٥کیونگ‏ بیس نے 
ان ےمحب کی تو مر محب تک ہنایر؛اوریٹس نے ان ےینس کھا 
ق یھ سےپننف کی با یجس نے ال نک یدگ اس نے بے ایا 
دگیءاودہنس نے مھ ای ادی ال ے ال لو ای ادگیءاور* 
ارک اب ادئی نے قریب ےک الڈداےپکڑ نے“ 


مس رسو لکا شُہہےءان ےت 


امم تکوااس بات ےئگ یآ گا:ف رما اگیاکغم یٹس سےا لی سے انل یف ردکی ہیی 


سے بڑئی گی سی ادلی سے ادٹی صعال یکی بی سے بچھوٹی ‏ یکا مق بی سکرسکی ۰اس 
لئے ان پرز با ناشن ددازکر ن ےکاخ مت کےکسیفردکو اص نجوس ء چناغجرارشادے: 


”لا تسبّوا أاصحابیء فلو ان اأحد کم أنفق مٹل 
اُحد ذھیًا ما بلغ مُذ احدھم ولا نصیفہ.“ (تاری+َم) 
ترجھہ:.. ”یر ےتارک برا جھطا نہکہوہ ( کیونگتہارا 
دزن اانع کے متا لے یل اما ھکیس بنا پہاڑ کے ما لے بیس اک 
ےکا کت ا زا ریس ےی کین آد ہا کے ما 
سوناچھی خر کھردےو ان کے ایک سے جولوکہی سپ سا ء اور ناس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ےک یو 
مقام صصحا کی زا لت | مس جا ےک أمص تکو ا ل یا کا 
پان دگیاگیا/ 0 0 چا مھییں بللہ برا ا ںکا 
ھارکرمس پر اہ 


”اذا رأیعم الذین یسبّون اأصحابی فقولوا: لعنة 
الله علی ش رکم.“ (رزری) 
ترج:..” جب تم ان لوگو ںکودیکھو جہ مر ےسا کو را 
بھلا کے اور ایل درف تقید ہناتے ہیں فو ان سےکہو :تم میں سے 
(سقی سھا ود اقم بین “حایس سے ) جو نا سے اس برا کی احنت 
( اہر ےک ھا کو مم ا چھا نے وا( بی رت ہہوگا ان 
ےکی سال پیل اس نا ارہ نے مو خرالکرحد بیث کے چندفو اد ماہنامہ 
بات ' محر الخرا م۱۳۹۰ ھی نکر ۓ تہ تنخم رف لی رن فو ادکو یہا نف لکرتا ہوں: 
ٰ ا...عدریث ٹل''سب'ے بازار گا گالیال ریا مادگلء بل ہراب اتنقری 
کہ مرادے جوا نع تنا ت کے ا ختخطاف مم کہا جا ۓے اس سے معلوم و الہ" سے 
او رنکن کی جا زی بل دو قائل کےبعون ومطرددہو ےکی دبیل ے۔ 
۴:..آحضربییصلی الط علیہ الم کےقل اط رواش سے ای اہول ےء(وقسد 
صرٌّح بە بقولہ: فمن آذاھم فقد آذانی سوہ بت 
د تن مل جح اتا لکاخظرہےءلقول تعالی: ”ان َخبط اَعَمَالْکم وَاْمْ لا 
تسشغْروْ“ ہداس صھا شش سلب !یما نکااند لیر ے۔ 
٣..رععا‏ ہکرام شی اٹ مکی عدا فص تکرنا اور نا فی نکو جواب و ینا لت 
الام کافرخل ےء(فان الأمر للوجوب)۔ 
۳... حضری مکی القد علیہ و نے بیکیں فر ما کیہ نا من صا اک الک 
با تکا خی جواب دیا جاۓ ینہ ای سے جواب ب اور جوا بپ ا لھا ا یا وھ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


روہ .۰پ 10 یں نک لاپ اما ے اود 
ے: لعنة اللہ علی شر کم...! 

شس ز کم کےافف ٹس دو اشمال ہیں :ایک یہ ”ضس ز' مصدرد ماف ہے 
اق لکی رن ام زرت رشن بیہوں گےکہ: تھہارے پیا ۓے ہو ےش ری الد 
کی لحنت او وس رااضال یرک ”شض کم ۷اک یل کاعحیضہ ےجو مشاکلت کےطور پر 
اتال ہوا ے :اس صورت میں مطلب ہے ہوا“ ین سے او ڈیا شی اڈ شی 
سے جویھی برق ہو اس پر او دی لنت !اس می ںآحض رت مکی الہ علیہ لم نے نا بین 
سحابہ کے لے الی ا کمنامیاستعال ف مایا ےک ہاگ وو اس رتو رکر سس و ہبیشہ کے لن جےتنقید 
تا سک وف کی کٹ جا ی ہے۔ تا صا یکا ید ےک رات بات پ ال لی ےل 
صحا کرام زشی ار شی میس بی ہو ںگگرتم سے2 ایکھے بی ہوں گے تم ہوا لو ہآ سان بر 
جا *س بارھرکر گی لوہگرتھم سے مھا نویس بناجا ےگا خرتم دوک کہا سے اک گے 
سی نے جبھالی جا ںآ راج( صلی الش علیہ ےلم )کا دیدارگیا؟د ہکا نکہاں ے لا٤‏ گے 
جولکمات نہوت سے شرف ہو ے ؟ ہاں اخ دوو لکہاں سے لاک گے جوا نایم با کی شی 
سے زندہ ہو ئے؟ وو وما جج کہاں سے لا کے جوا نوا فرش سے نو ہو ئے ؟ مم دہ ات ھکہاں 
سے لا گے جو ایک بد بش رة جھھگی ےس ہو اورسا رب یعرا انکی ہو ےکر یں ائ؟ 
حم دہ پا ؤ ںکہاں سے لا کے جو معبت مدکی می لآ بلمہ یا ہوئے؟ تم دہ ز ما نکہاں سے 
لا گے ج بآ سان ڑ مین مرأت رآ یاتھا؟ حم ود مکا نکہاں سے لا گے جچہا کو نی نکی سیادت 
جلو آرائشی؟ تم و شف لکہاں سے لا گے ہاں سعادتی دای نکی شراب پور کے چام 
ترک ر کے دپیے جاتے او رشن ہکا مال نعحبت ”نہھل من مزید“کالتر) متتا نہلگار سے تے؟ تر وہ 
منفظرکہماں ے لا ٤‏ گے جو ”کانی أری اللہ یا“ کا لیف پراک رتا تھا؟ تم 9وک سکہاں سے 
لا کے جہالں”کانسصاعلٰی رؤسنا الطیر“ کاسال بندھ جا تا تھا؟ نم ووصد رش نقنت 
ر سال تتکہاں ا کے گے جن سک طرف”ضذا الأبیض المتکی“ سےاشارے کے 
جات تے؟( صلی اوقدعلیہویعلم )تم دو کک کہا ںی سے ا گے جس کے ای کجچھو کے سے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


او نر ےگ یکو ے معطر ہوجاتے تھے؟ تم دہ محب تکہاں سے ا گے جو ویدارگھوب یں 
خواب نم شی یکوترا کرد بھی تر دہ ان نان ہے لا کس ری ا کر و اضضل 
کیا جات تھا؟ تم دہ اعما لکہاں سے لال کے جو پکا سن نات سے ناپ نا پک رآ دا گے جاتے 
جھے؟ تم دداغلا لکہاں سے لا گے جوا بین کی سام رک وک رسنوارے جاتے جے؟ تم وہ 
رن کفکہای سے ا٤‏ کے جو صرفتہ اللہ گی بھی می دیا جات تھا ؟ تم دہ اداعی ںکہاں سے 
لے ود یٹ والو کول جا یق تھی ں پاتھ دہ مھا لان ہے اجس کے ام 
یوں کے امام تے؟ تم مد ویو لکی دہ جاعع ت کیسے بن سکو گے نس کے مردار رسولوں 
کےسردار جے؟( صلی ال علی یلم ) رر سب کول روما کہودھ را گی رکا دام نک نھوڑ 
کر بنا 5!اگمر ان تام سعاونوں کے بحدکحی ...لھڈ باو۰د..ہمیہرے “اب نھ ے ہیں ت دکمیائم ان 
)الا ا ا لا سس رج 
ہو؟ اگرقم میں انصاف وج یا ک یکوکی ری بائی ےو ای گر یبان بیس چاو او رم رے “اہ 
اف ا 2-1 

لامش نے ای عد بی کی شر بی حظرت ضمان شی ایق دع ہکا ایک جیب 
شع لکیاے: 

اتھجرہ رلست لے بگفوء 
فشر کمالخیر کما فداء 
تجھہ:.. ”کیا تق آپ ( صلی الد علیہ یلم )کی تچ کرت 

ہے چیہ آپ ( صلی الطدعلیہ یلم کے براب رکا ٹیس ہے؟ لی نم 

دونوں می ںکا بد رتہار ے؟ ہر پشربان۔' 

حدربیٹ سے بیبھی معلوم ہوا نقی دحا کا فغا ناف مک نیا لی شراورجبٹ و 
جن چک نس وط زی ہرتقیرکرتے ہیں تو اا کا شا ہوتا ےکی 
صفت یی وآپ کے نز د یک خود پک انی ذات سے فروتہ اورکھٹیا ہے ۔ اب ج بکوئی 
تشھ سک نصھالی کے بارے میس ملا ہے کے گاکہ: اس نے عدل و اتصاف کے نا تو ںکو 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱٥٢٣ .۸۷۱۸۲6 ۷ 


جو جرح ہہ جچکھہ جوجھعہ-حجور ے٠8۰‏ 


7 
ضورع 


ما حقہ اد ای سکیا تھا فو اس کےسعی بہہوں ك۶ ل کالہ صا حب پ3 کو 
عرل و انصاف کے تقاضسو ںکوز یادہ مم را داکمرتے مگویا ان یل صصھالیٰ سے بڑہ ےک رعفت 
7707 - > ے ار 0 
آحضررت مکی ارڈ علیہ ایم ای شر کی ا صلا اس حدبیث ٹل فمانا جا ہیں۔ 

ے:...حدیث میں بت ومپاد لکا اد بھی بتا یا گے مڑی تص کو برا راصت 
خطا بک تے ہو می ہکا جات ےک :”' غحم برلحنت ا بللہ یو ںکما جات کہ :”م دونوں 
یش ج نم ابہوائس مراعنت !' ظا ہر ےکم رابک ایی نصفانہ بات ےجس برس بکوضن ہہونا 
جاہت ءا نی کنیا کے چرام ہد ےک یلاس دا زرا رض ہل مزاول دن برا 
کامصدا کون ے؟ خودنا فرء اہنس برد تق دکرتا ے؟ ا سکا فیص کو کی مکل نہیں دونوں 
ک ےکوی الا حکوسا لئے رک کر ہرمسلمول یع ل کا 1 دی ین سا لی سےأغ ذک رکا ےک 
آتحضرت سی ال علیہ ول مکاصما نُا ہوسکا سے ال کا خوش ام ناق.. ۴ 

۸ بعد یت میں :''فسقسولسوا“ کا خطا ب مت سے سے ؛گو یا ناف ین صا رک 
آححضرتعصلی اویل علیہ وملم انی مت یی وکتت ء اہی ں مت کے متقائل فر نکی سیت 
ےکھٹراکمرتے ہیں ۔ اود یناف بن کے لئ شمد ید وعید سے جیا جن ووصرے متاصی 
بر نفلیس ھا کی وحیدستائ یگئی ہے۔ 

۹ حر بیث سے بھی معلوم ہوا ک ہآححضرت صلی انشد علیہ اع مکوٹجس طرح 
نا موس ش ربج تکا ا جتمام ھا ء ای ط رح نا موس ھا بھی ازج مکی تخل تکابھی ا ہتمام تا ء 
یکم الن جا برسارے وی نکا عدار ہے عدیث سے بر یچھی معلوم ہو اکہ نا نسحا کی 
جنامعت کی ان' مارفین یں سے سے جن سے 'چہاد لمکمان اعم مم تکود گیا ےہ 
یھو نکئی احاد رٹ ٹیل صراحل بھی7 یا سے وارقد الم با لصواب ! 

را تا:.. جاک أویرعون سکیا میا طرت معاد رہ ری ارڈ عنم مک ن بھی ہیں اور 
صحا یھی ء او رق رآ نکمم میس ےک ارد تا لی امت کے دن ال ابا نکو ہ تصوصا صجاہہ 
رام بت ا نٹب کو امت کے دن وا یی ںکھر سی گے لہ تو کی برکت ے اور 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳٠۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


تی یکل اردے رک شوامت ھت 4 ریت سے ال نظ او ازس رز 
جا ۓگاء چنا غرارشادے: 
ھا الین موا نووا اِلی اللِتوبَة صرح 
غسلی رَتکُم ا بُکفَر عنم سَيَانِكُم وَبدِْلكمْ جب 
تَجِرِیٔمِنْنَحْبھَا اھر ملا ری اللٴالْبىٌ وَالَذِیْنَ 
امو مَعَةء َوْرُهُمْ يَسُعی بَيْن اْدِیْهمْ بِايمَاِهم َقولْوْنَ 
بَا امم لا نُوْرَنَ وَاغر لنا نک عَلی کا ل شیٰء قِیْر“ 
(اتھ ری:۸) 
تہ :.. اے ابمائن والو! تو گر وانث ری طرفءصاف 
و کی توب امیر ےۓتہا رات از ےا م پر کہا دییا ما ئیاں 
7ھ مکوپا ٠وں‏ میں جشین کے کی ہیں نی جس 
دا کہا ذ یل کر ےگا نچ یکو اوران لوگو ںکو جو یقن زا تے ہیں 
اس کے ات ۃاا نکی دوش دوڈکی سے ان کےآ گے اوز انی کے 
ا اےے لت مار ے اور یککردے کو ہما ری ری 
اورمحا فگ رھ رکوہ نے شر لو سب چک ر سا و و و" 
ان شاء ال خحخرت معاوے اور ای کے پڈات زی ال کے 90 آیت تم اہ کا 
مصداق ہہوں گے اس لے میرا مشورہ یہ ےکسا ہکرام بر نے مقصدتتقیدکر نے کے 
بجائۓ ہیں اپٹی عاقی کلک رکرنی جانے اورکییں ددی ڈعاک ری جا نے جو اتی نے 
یی لٰے: 
”بَا اغفِر لنا وَلاحْوَانت الَذِيَْ سََقونَابالَایْمان 
ا مَخِعَل فی قُلوَ علَا لین اما رت نُک رَءُوت 
َحِيْم" ش:۱۰) 
ریسفت ا بش جع رکوہ اور ہما رے پھا تو ںکو 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


جوم سے پبیل داقل ہو ئے ایمان میس او رنہ رکھ جھارے ولوں ش 
بایان دا لو لکاءاۓنرت !مو بی ےنرک والاہریان_“ 
(ڑعج:ّالند) 
خمامآ:..حرتت میراس برک بک اظہارفرماتے ےک ہز مان ےکی باٹی اور 
تم نی دیھوکہ ا نکا تقائل معاو کے سا کیا جاتا ہے۔ نس ال ہلان بش سےکہ 
تر نے می رمحاد یی کے نام ای گرا می نام موقر میا: 
”فیا عجباللدھر! اذ صرت یقرن بی من لم 
یسع بقدمیء ولم تکن لە کسابقتی.“(5ابلاز ص:٣٦۳)‏ 
رو ری لوا* 0) 
جاتا پر ول ا و ا 
ول ا سا می یج تی یں 
مطلب یک ایک طرف تقر تل کے فضائل وکماماتء ان کے سو ال الا می 
اور دی نکی نامرا نکی جال فر کی کے واقا تکورکھواورو وس کی طرف خر ت ام رمعاویے 
تے حا تک موا دونوں کے درمیا ننآسمان وز می نکا ففرقی نظ رآ گا حضرت امیر 
محاو ین کا نطر تل سےکیا منقا بلہ؟ بیالسایقون الاڈ ون کے ام یں سے ہل ء اور وہ 
راع کے لوکوں میں ےء باوج ڑوم گی صف کےآٴ دی ہیںء اور ا کا شا رانا ء شش 
ہوتا 007 ٰ.ے9ِھظ و۰ '--؛“ٔ“'ں- یی و و 
یت ھکیاہے؟ 
بی ناکار+ عم شک رتا ےکہ جس رح حظطرت ام رمعاوی کو نات خلا ئے 
027 ےکولی نس تکییںء ای طرخ بعد کے لوگو ںکو(خواو وہ کت ہی بر و بالا ہوں) 
خرت ام رمواد ری الڈرعشرےکوئی رہد ت کیل اگ رأمیرمواد ٹلا ئۓ راش دخ کے 
متقا لے بیس فروت نظ رآ تے ہیں :نو بعد کے لوک حضرت معاو یی کے ما لے بیس عصفرنظ رآ تے 
ہیں ءاگرو ہا لآ مان وز می نکافا صلہ ہے نے یہا ں عرش تحت ال کت ککافا صلہ ے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


فلم یکن من ملوک المسلمین خیر من 
معاویةء ولا کان الناس فی زمان ملک من الملوک 
خیرًا منھم فی زمن معاویةء اذا نسبت أيّامه الی أیّام من 
بعدہ وَأمًا اذا نسبت الٰی أيّام أبی بکر وعمر ظھر 


التفاضل “ ( باج التد ٣:‏ ص:۱۸۵) 
رو ا مم رت معاوں کے وو رکا بعر کے 
زمانوں سے منقا بل گر کے و یھو گے مب معلوم ہہوگا رسلا ین اسلام 
می سکوٹ یبھی معاد سے ایچخا یں فھاء کیا بادشاہ کے ز مانے میں 
لوک ا تۓ اجیھے تھےء خت کہ تحخرت معاو کے زمانے میں راں 
الع کے وو رکا را تر کے دو ے کرو وول او کا 
فرش اہ رگا“ 
الفرش! جس رح حطرت اَم رمعاو یہ رنشی الف دعنہکا منقاہلہ خلا ۓ راشد من 
ری الیم 1313ء0 ہے ای رب ناف بین محاد یکا ا نکو اہی أُو بیرق سکر نا بھی 
کم دوابھی ش مم فی یں اع نا بن شی پآ خ رکون جن نک لمت ا مان لز ارت 
نو یکاشرف حاصل ہواہوہ اور یچ ےآتحضررت لی الش علیہ ول مکی اق ایل نماز مس پٹ نکی 
سعادت میس رآکی ہو؟ ال کون ہے جس سک وآ تحضر صلی ایر خلیہ مھ کا کاب اود براد بی 
ہو ےکا تھرعاصصل ہو؟ ال اکون ےم کےکن می بادٹی وم دی دن ےکی ھا ہو؟ 
”عن عبدالر حمٰن بن أبی عمیرۃ عن النبی 
صلی اللہ عليه وسلم أنه قزل لمعاویة: اللَھم اجعل هادی 
ممڈيًا راد ںہ * (رواوالتر ری حکو؟ ص:۹ۓن) 
ت جہ:.. عپدالنکن بن ال یممیبرہ سے رواحیت ہ ےکی 
کی می ارشدعلی سکم نے ححضرت مھاد یش الڈعنہ کےےن میس ڈعا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۰۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


فمرمالی: اےاایند! ا نکو برای تکمر نے دالاء برایت یاف بنارعت ء اور 

اع کےذر لج لوکو ںکوہرایت و سے _ے' 

سلف صاشھین اس نر یکو دا طور سو ںکرتے تے اورنخرت معاو یش 
آحضرتت لی ار علیہ ےل مکی اس ڈُعا کا ہنکھوں سے مشاہ ہکرت تے۔ !ما فا دفرماتے 
ےک گرم لوک حعقرت موا وییٹییسک٠‏ لکر نے کون کل ہمیں مدکی بای _ 
اما مھا ہف مات ت ےک اگرخم لوک حضرت ماد کا ز ماش دک لت فا نکوم کی کھت _'' 
رام 1شح کیکیاس میں حعضرتعمرینعبدالتز یڑ کے عدرل وانصا فکا ت نکر ہآ یا تفر مانے 
ےک ” اکر مجاوی ودک لیے ق کیا ہوتا؟' مت کیا گیا :کیا ان کےعلم وئدبار یکو 
دک ےگر؟ فر مایا:” ڑیں! ایل دک یما انع کے عرل دانصا فکودککر۔ے امام ابو لاسما مکی 
فرماتۓ ہیں: ارم رت معاو یی کواوران کے ز مان کو د کچھ لے یہ کی کہ بیٹ ہدک 
ہیں امام ابو !سای بیٹھی فر ماتے تےکہ: نیس نے نحضرت معاو کے بعدان جیا آدئی 
از ات (ضا بات :۳ کك:۱۸۵) 

سر ۓ سرع رر ظز رفائل رض ڑم فرلظر جن سے یں 
تر تگمررشمی اش رنہ کے :دی یں ؛سھا راغ کے باارے ٹیل ا کا ارشادے: 

"مشھد رجل منھم مع رسول الله صلی ال 
عليه وسلم یغبر فیه وجھہ؛ خیر من عمل أحد کم غمرہء 
ولوعمرعمرنوح.“ (اورا ٤د‏ کاب ال ص:9۹٦٥)‏ 
ا لی 0 نے ایا لیا ایک مو کان 

رسول اوڈریصلی او حلسم کے سا تجھ ہہوناء نس میں ا کا چچرہغبار 

آ لود ہواءتھہمار ۓگ رج ر کے اعال سے مر تےء اہی اک مر وں 

مصیب ہو جا ۓے۔' 

قاضی خوال نل لکیا ےکہ امام محاقی بن حا سے عت کیا گیا کہ: 
ہخرت معادی کے متا لے می ں عم رن عمبدر الیکا دج کیا ہے؟کنکرخہابی تنحضضب ناک 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۵۷۳۱٥٢۱٣۹ ۰۸۷۸۲۹۹6۴ ۷ 


کہ ہیں کہ 
: ھا وھ 


بہو ۓ اورشرمایا: 


لا یقمقاس بأصحاب النبی صلی اللہ عليه وسلم 
اأحدء معاویة صاحبه؛ء و( صهھرۂہ؛ وچ کاتب۸؛ وأمینه علی ورحی 
اللہ ,.“ (نفمیرالہنان :ای نج رک ص:۱) 


ففف ییحی ال مل پیل کے اصوا می 
مال می لک یکو نکی سکیاجا تا محاوی تخحضرست لی ا علیہ سم 
کےجھالی یں اپ کے براد تی ہیں آپ کےکانتب ہیں ؛ اور الد 
تال یکی وی پآ پ کےاین ہیں ۔“ 


عبدالزیڈ بیس سےکون انل ہے؟ فمایا: 


”ولا ان الغیار الذی دخل فی آنف فرس 
معاویة مع رسول الله صلی الل عليه وسلم أفضل من 
عمر بالف مرّةء صلّی معاویة خلف رسول الله صلی اللہ 
علیےه وسلم؛ فقال رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم: 
”'سمع اللہ لمن حمدہ“ فقال معاویة رضی اللہ عنه: ربا 
لک الحمدا! فما بعد هٰذا الشرف الأاعظم؟“ (<ال۔اا) 
ترجہ:.. الیل دک یک ارسول ایی ارڈرحلی مل کی معیت 
یس چوغہارضفرت مواو یک ےکھوڑ ےکی ناک ٹیس دائل ہہواہ وی 
عمربین عبدالعزی سے ہزرار ورجہ انل ے۔ جعشرت خوااون تے 
آتحضرت صلی ای علیہ وع مکی ا رای نماز پھ یھی رسول انی 
الشعلیہ دلم نے کو سےا شتے ہوۓ ”مع اللٴلِمَنْ حَہدۂ“ 
کماء تی سے نطرت معاد ین کہا ”مسا لک الما“ ہیں 
انل شی تر شرف کے بعدکیاباتی ر+جااے..؟' 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


کچ کت 
شرف ححخرت معاد ری ارڈ دع رکومس رآ یا ءکیا بعد کے لوگو ںکواس دول تپ کوک یش ایب 
ہوسکتاے؟ ت دکیابچلرناغ بین معاد ری ایاز فک رخولیش شنا !“کا منور ہن دیاجاے..؟ 
ضریے مرا شی از اقززولات سز مرگے 
کا بفاری :باب ما قیل فی قتال الرُو ۱ میں تحضررت کی الع لمکا شا دم روگ ے: 
”ول جیش من ُمّتی یغزو البحر قد أوجبوا۔“ 
( ای ئ:ا ص:۰م) 
تزچھہ:.”'غیری أم تک پہلالشکر ہج مکی چا در ےگاء 
اننہوں نے( جن تکواہپنے لج )واج بگرلیا۔' 
الا جھما“غ اس ال بھیشی' کے می رتحخرت معاو شی اڈ دشر ء اس لئ الن 
کچل ہونا تق آسحضرت سی ارشعلیہ یلم کے ارشاد سے ابت سے ۔کیا نا بین یٹس ےبھی 
لیکو جن کی سن زعاصسل تے.. ۲ سس ر الس سر 
السُمُع وَهُوَ شْهِيْدٌ_ 
۵ وی ع زنک ئل ”الصحابة كلھم عدول “کی بجٹ: 
ایاپ تے سیل نیس ق ریا 
”رت شا ۃعبدالعز یز عحرث دلو نے فا وک عمزی کی 
ںا الص عحابة كلھم عدر ل" کےکتدومقامات پت 
ترجا تک ہیں دہ ال تقر کے تزدیک ورست ہیں :مین سے 
ہکرام کا یصو اور 'محدرو و ہونا شا بت ہوتا ہے" 
نخرت شاوصاح بن ”الصحابة کلھم عدول'“ گیا بجچٹ جم دو با یں کر 
مر مان ہیں: 
ای :... کہا کابرمحا ہکرام گمناہوں ےطوط تھے ما نمحصو ہیں تھے 
جھاڑییس سے پنفس پر حدودکا بھی ا جرا ہواءاس کے باو جو درف محا بر تکا خقتخذا بر ےک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۵۷۳۳۱۱٢٣. ۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


40 پر یز جس س خت اما ۓکر لی ال 
ر6 


السلام کے لات یمن 


د9٣‏ :... ےکک غھام مھا برک را رداحیت عد بیٹ می ل لت اور عادل ٠ں‏ شاو صاحب 


کی عبارت بف رعا جت درز رآ ے: 


مت کے متون میں جو مرکور ےک ھا یی شان 
میں فی بی کرنہ جیا ئۓ ء نو متون میں جولکھا ے وہ 7 پر کی 
26 رب ہکن سو وو : 06.02707 
صا بر کے بارے میں ہو ء لو اس رداحیت سے عققا ند کے اس سیک میس 
تر ج لا ز می لآ اء او دا صحاب مو نکی میم راو سکرس ب کاب 
موم ہیں اورکوئی وجہ وجو وین میں س ےکی صا لی می یں اس 
واکٹ ےک کی سای کے بارے میں شرب نمرخابت ہوا ہے۔ چنا نیہ 
مو ج میں ہے اور پا پا آحض رت صلی ای رتھالی علی لی لہ وسلم نے 
حروداان 77 سے اورصان جن شابیت ہر بن اما شڈ ے 
21 صادر ہونا شا بت ہواء ان بر حدشی چاری ہہوکی اود ماخ ای 
سے ز ناصادرہوااورو و رجم کے گئ _ 

اإ درا حا رام یت ماب ہونے کے واجب 
الاتتر ام ہیںء ال اسلا مکو جات ےک سھا یہ ری از تج مکی شمان یل 
لع نکی زبان دداز نک یں جا نہ ان انآ سلتق: 
۱ کو ررمعلوم نہ ہو شا ابوڈ رنفارشی الشعشہ کےتن یس 
جچ ار یک یٹ شنن داردرے؛: 

”انک امرء فیک جاھلیۃ“ 
جھہ...' و ایک الما آدکی ےک میں جاہلیت ے' 


واں سے لوگوں کے لے ےکنا جائ نین ےک ١رت‏ الو نم رد 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱۱٢٣۹ .۸۷۱۸۲6 ۷ 


جائل تھے اورا یما کی ام کے با رے میں ء جو مع رین صا یس 


سے خے ئا بخاری؟ لاعدیث ُل دایدے: 
”لا یضع عصاہ عن عاتقہ“' 

تر :ا ےکن سے سے اپٹیک وکسا رتا“ 
یکناریہ سے اس ےک آپ ہہت زدوکوب اورسیاست اٹ ئورل 
اورنمادکو لک یکرت تھے۔ اس سےلوکوں کے لے کہا جات یں 
کاپ ڑم ظا لم تتھے۔ بلک ہ ران ےأو ملظ کر ںو معلوم ہوتا 
ےک حقرات انان ۓک را مشہہم الال والسلا مکی شمان شل الہ 
تنا یکی جانب ےلفظظ حا بآ میزداردہواءو مت کے لئ جائز 
کی ںسکہان الفاظ کےلیاظا سے اخمیا لم السلا مکی شمان ” کلام 
کر میں۔ لا آ دم علیہ السلام کے با رے می سآ یا ے: 

"فی اکمزلا لق“ 
ترجمہ:..' اور دم نے س کن یکی ادرنافر مان ہوگیا'' 
حعااکک خر تآ مکی دنا وعلی الو والسلا مکو حا صی وبا و کہ ناکفر 
ہے۔اودمشل کلام اک میں ے: 
اِلٰه الا ات سُبُطنک !نی كُنْت مِنّ الظْلِمِیْنَ“ 

جو تاس سے متبود وم رسوا تر پا ےو 
اورٹیں ضا لموں یل ے ہوں_ 

اود کلام یا ک بی ے: 

”اذ اق إِلّی القُلکِ الْمَشْحُوْنء فُسَامَم فَگَانَ 
مِنَ المُذْحَضِیْنَء فَالْتقُمَةُ الحْوْتُ وَهُوٌ ا (ااصافات) 
رین شان یں حفرت ایس علیہ السلام کے میں ء عالائ گے خضرت 
پوس علیہ اصطو والسلا مکی شان مٹل' ہے ا 


۱۷۷۷۷۷۷ 56610۲١۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹66 ۷ 


تو سد سے سم کہ 


رعا یت دب کےمت کے أفراوکو جات ےک کی صھا کی شان ٹش 
سر سی :زی رٹیپ ےہ دد یا شیا وا گے کے 
ایی مقید دای سن ت کا ہے راو ہم ءا ورک ا صول جس 
خروم ےک 
”الصحابة کلَھم عدول“ 
یی اسب تحخرات ھا ییاول ہیں“ 

ق اس سے مراد یہ ےکرسب ماب آحضرت صلی الد علیہ لم سے 
یف زوآای تکرئے کے بارنے یس مچجریں۔ ہلص سۓ 
کنذذب دوایات حدبیث یل خابت شہ ہواء چنا نتر نی سے 
ٹا بت نو اک کا باارے می کی مھا ی نے پکندددوغ کہا ے نہ یہ 
کمن یل ےکی سے پھگنا ھی نہہواہو۔ چتانقریب بن 
ہوا ےکہان لوگوں میں ےنس تضور می ںآنحضرت صلی الیل علیہ 
یلم کے سہب انا ب تن سکیائزر کے مد ود ہہ ۓ ءال تھا ۔کپار 
ےد گناہ صادر نہ ہو ۓ و اس سے تقو ظا رے_' 

(ماوی ۶ز ىءاُررہ ض:٢۱٢٠٠۲۱)‏ 


11 ںا گل حفراے ت ال لج خرت شاہ صاح ب کی ان دونوں بانو ںکو لے 
باندھ لیت نو سارا کاٹ ہو ہاج 

١‏ دی ور او یر 
سماتقزیں کی می ںآ ناب نے مفتقی انلم پاکنتان جناب مولا نا مت یئ فی کے 


رسا لے متام صا “میس وک رک یگئی بھٹو ںکی تصویب فر مائی سے ۔ححضرتہطتی صاحب 
کے مسا لے کے میاحث او رضم آ گے ہیں :ناکم نوس مدالکزن اود :لا ہے غرت مفے 
ارشادا کا خلا صمے' کےکنوان سےحضرت تی صاحب نے الن مباح ث کا 7رغلا در 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ای وا ری میں 

”...ہر تعبدااڈد بن مسجوورصی الد عشہر نے بلا اسشزاء 
می صحفائ ارام نی یش فرمایا:” ”وہ یاک دل٠‏ عادات واخلاثی 
یس سب سے ؟بشرء الد نتھالیٰ ک ےجنپ بنندے ہیں ال نکی فی رکرنا 


ضا جے۔ے' 
ڈیا .۳ 


۳.. ,عقرب بدا بک نع ری الما کے سا جب 
ضرت عم نشی ری اڈ دعنہ بر تین الام لگائۓ گے ءے با جو دک 
ان ین الزاموں یس ایک جع بھی تھا ہک رحرت اہ عکڑنے یر قعت 
فك مائی اور اترام لگانے والو ںکوع زم رایا۔ 

٭... انل الا مین حضرتع مرن ععبدالھزی: رح الد 
نے لا ا تشظاء سب صا کرام کے تل فرما اک : ضصھا کا مت 
کےا ین اوران کے مقترا ہیں اورص رای تمہ ہیں۔ 

۴۳ منرت تن لعمرکی رحمہ اد سے قا ل صھا۔ہ کے 
متعلق در یاف تکیاعگیا تق ف مایا کہ یر معاططہاییا ےک رسول اش 
انشعلیہ لم ک ےسیا یں یں جا ضراورموچود جھے اور بھم جا تب وہ 
الات فا کی اشن جا ے ے۴ میں جاثۓ ؛ اس 
لئ جس پز پرو ہمجن ہو گے کم نے ان کا احجا عکیاء اورجٹس چز 
ا نک اشتاف ہوا اس می جم نےفذقف اورسکو تکیا۔ 

۵ اعفرت مھانسی رجہ الد نے رما کہ: بح مبھی وچی 
بات گے ہیں جو ححفرت تن رجمہ الشد نے فرمائ یک ان صحفرات 
ای نے کل اخضیا ریا اس میں وہ ہم سے زیاد یم ررکھئ وا لے 
تھے اس لئ ہما را ملک بی ےکس معا لے میس ا نکاا نات ہو 
حم ا ن کا اتا کر یں ء اورجنس بی اختاف ہو وہال وٹ اور 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


: وت ا رہوگ خی داز نے ای طرف سس ار رک را 
کمیونکہھم جا ہی ںک۔اضہوں نے جو ہھوکیادواپنے ا جتما دکی بنا کیا 

اور نکامقصوداوڈتالیٰ می کے مکیاقی لی یوک یعضرات و ۴ ڑا 
کا نعل من اب ہیں تھے۔ 

:.برت !نام شا فی راوید نے متا جترات صا نیس 
کوک نے کٹل ق ف رما اکن دہ خونع مین جن سے ال لی نے 
جمارے پاتھو ںکو پا اک رکھاے( کیو چم اس وقت مو جو دشر تھے )ء 
ای لے بی جات ےک انی زہانو ںکوبھی اس خون ےآ لودہ نہ 
کر یں ل یڑ یی صھالی برتر فگی ری شک یس اوزکوئی الام لگا یں 
لکوت اخیارکر یں )۔ 

لات ۳م 0 ے6 کین 
صحا گرا کی ہی سک آپ نے ق رآ نکیآیت:”وَالَذِنْنْ تَعَا“' 
سے "نظ بہم الف تک علادتف مائی او کہا ض رئش 
کے ول شی ںی صا کی طرف سے خی ہدوہ ا ںآی کی وش 
ےءذکرہ الخطیب ابوبکر ۔اورتخرت !مام ما لک نے ان 
لو کے پر یے یف مایا متخ گرا گی امنگ سکرتے ہی کس 
ولگ ہیں نج کا اصل مقصدرسول اوڈی٥کی‏ اوش علیہ ول مکی نخس 
ہے گرا کی جرأت نہ ہوگی فآ پ سی اایلدعلیہ وم کے ماب 
را یکر نے گے کرو کف بچھولی سںکہ..رمجاذ انذہ.. خودرسول انڈیی 
اشعلیہ عم ہر ے1 دی ےہ اگمر دو اجئھے ہوتے تو ان کے سا بکھی 
این ہوتے_ 

رر 0ے نے فرمایا :کی مسلمان 
کے لئ جائ نیو سک حا برکرا شی مرا یکا تک کرے با لن کا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


حور ۴923 0 2 0 
دیناواحجب ے۔ اورفر ماک :تم جس سکوکسی سیا یکا رای سے 
س اھ کرکرتے دویکھو اس کے اسسلام دیما نک وم مو بجھو_ 

اور ابرائیم بن مٹسرہ رحمہ الللد کت ہہ کہ مس نے 
وت بن عبرالعز ہک یھی یں و یھ 0-7 ینف 
22 نے ححضرت معاو ین" رسب نت مکی ءا سکوانہوں و- 
نوہ 

... امام الوز دع رای رم الیقہاستا لع نے فر مایا کہ: 

نکی ینیع سکرنے دیحو ط ولک دہ وق 
ہے جوف ران وسنت ےمم ت کا ادا لکنا جا تا ہے اس لئ 
ا کون لی او درا ہکہنا پہناتیاتن و ے۔ 

یت چند ا علاف امت کےحصویی ارشمادات ہیں ء اس 
کے علاوہ اور الصور روایات وعیارات ٹیس ا سک وا مر کا اھاگی 
قد لا یاے جس سے تراغ سی مسلمان کے لئ چان یں 

ما ججرات س٣ا‏ کے معا لے میں صیھا وا تع اور اج 
دی نکا حقیدہ اود فیصملہ ےکس خواہ ال وجہ ےک ہم ان پڑرے 
عالات سے واقف ئل جن بیس یتحفراتٹ سوا رے ہیں ماال 
ور ےک یش رآن وسنت شل ان اکی مس دشاءاور رضوان خداوندگیکی 
ارت ا لفن ےک ہم ان س بکواڈتعاٹی کے مقبول بندرے 
کچھیں, اوران ےکوی لغش بھی ہہوئی سے تو ا سکومحاف قرار 
ےک راع کا نمی ںکوگی ا ا خرف اع سے دای جشن 
0-880 یھ اکس رشان ہوٹی ہو یا جن کے لے 
بب اب ا وی ہے ؛کیونکہا نکی ای اء رسول ا٥ی‏ ا علیہ ؛سل مکی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


ایڑاے ووور ےو وسوس ہر کے 
اما گر اوران ین ےکی مک الام نے .'' 
(مقا جا :۱۹۵۱۷۱۹) 


ایا یرت یرت نیو یکا بجڑے: 

اس نا کیادہ کے ا ںنقررے کہ ساب سرت آحضررت صلی اللہ علیہ سکم 
گیا یبر تکا ایک حصہ ہے آ اب نے شد ید ا فا فرمایاء ےق بک یلقن فرماگی اور 
بلک ھا کہ: 

”ایا دجوکی ن کوئی ڑھ اککھ کی سک رسلا کیوئگہ اس طرح 

صسحا ہکرام کے سار گناہ اورلغ زی ںبھ یآ تحضر تت کی یرت کے 

کھاتے میں چپلی جا می گی 

اس مللے مم سگمز اش ےک ججھیذ ہہ ےو عز یں ؛ جوش بھی ان کنا رکون 
1 ینکر ۓ وا سک انسن ہے ہکا نآ نا بکی تقوجہ چندا مورک طرف ولا نا چابتاہوں: 

الا آ پ و اتی کلت یل مفت یف ت۰خ اح کے دا نے نام 
صحا بے ظا قکر گے ہیں :اور ییحتی صا حب کے الفاط ہیں جن پر ھب ران 
فرمار ہے ہیں:” ا نکی یرت رسول ا صلی الشعلیہ یل مکی سیر تکا ایک چڑوے۔'' 

(مقا محا۔ ص:۸) 

لا ئی]:.. آحض رت مل اللہ علیہ یلم کے مقدرس صا ہے جوخلطیال سر زدہہونیں 
ان رأو کک و1 بی ےک الو وومحروم ےم میں ڈیں۔ چھرالنع سے لو برو نات 
ثایت سے نک ےکنا وممٹ چا تا ےءاورا 2“ 
پیل ال سب اہم حست“ ۔آ پ ححفرات کے لے اراان نی کےعیوب مرے لے 
ےکر پیال نک رتا ایک لڈیڈ مشفلہ ےلین اس ناکارہ کے لئ الن الفما کا سنا بھی شر ید 
ماہدد ےآ س پکی نظ صفاگی اسیک کی طر بی شگندکی جکہوں پربی جالی ہے اوراس ناکارہ 
گوس نحوب( می العلہہ ینلم کے وا جن کی ںآ 3 اب ٹیل ا نظ را کیا اآروں؟اور 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


پکواٹ نظ کہاں ےت یکر لا ول...؟ 

ام ا:...ز بان جاور ےکی عدالت میں میرازیر پٹ فقرہ ٹٹ لکرد تھے ہک اکوئی 
داں اس سے دو مفہو مکشی رک ےگا جھآپ لت ےکشیدرکر نا جیا اے؟ بندٗ خدا! ”نیرت 
کالفا بو لک گناو اورلخ می سکون ھراول یکرت ہے؟ آپ نے نیرت کے لفط مم لکنا ہوں 
اور ائیوںکامفپوم ٹھوش سک رلفظ یرت یک ینمی پیدکرڈالی۔ 

رابعا:..اھافخ لکر مت ےک یلفن ائیو ںکویی شائل ہے یس لیے پچنقنا ہو ںیک 
صحا .گرا سے جولغیں سرزدہہوکویں اورححضرتت صلی ارڈ علی ےلم ےے ان پر جوخاب یا 
تا فیا کیا اضر تل ال علیہ ہل مک میرت کا ح نیل کیا ا ہکرام کاوکر 
سے فی سی رت نو یک ی کیل ہ سکتی ہے؟ الخ ا صھا کرام کےکملا تحضر تسلی الد 
علیہ عم کے تن ت ہبی تکا مرخ ہیں بی ء ان اکا رکی لغ نی بھ یآ حضرت لی ال علی لم 
کی سیرت کے جا دی پپہل وکوومابا کی جس ء اوران ےشن جعما لمحیوب ( صلی ان علیہ 
وم کی کا ظ کی ہے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


شیع اورٹ رآن 


اس ناکار نے ا ختاف مت می ای کرس نو لھا تھا جدتو ںکاق رن 
کر یہ یما نیش اورشہہوسکنا ےہ اہ کن میس در ذ یل کا تک طرف اش ر وکیا تھا: 

ا:: شیحوں کےعتقی) مامت او رش صحا کا لا زی او لی نیہ ےکا نکا 
ق رآ نکر بر ایمائن نہ۶ 

۴ جیتوں کےآ نحص و مل نکی دو ہنرار سے یادہ درو ایا تکتب شیع ہیل موجود 
ہی ںکہطالموں نے ق رآ نکر می ری فک۷ردگی۔ 

.8را لددابات کے پارے بی شیع علاء کے ٹین اف راد ہیں : 

ہلا إٹراد ےک بیردایات من ات یں- 

ڈوس را إقرار کہ بی ردایا تک پت رآ نک رم ضرا داالل کر رٹی ہیں اوران 
یسوی ںک یئ ہیں ۔ ٰ 

تی را اق ار ےک شی کان ددایات کے مطا ہی عتقید ھی کہ ہعارے پاتھ ٹیل 
وق رن ے وہ. نوز پابقد.. بجر یف شدہے۔ 

٣‏ .تحص کی صدب یم کتشیاہوں کے اخ پچ بین اورعلا ,اس رجف ج ےک اصصل 
قرآن امہ کے پاش ہے اورموجودوق رآ نتر یف شمدہ ہے ءالہتہ چڑگی اود پا نچ یں دی 
کفت کے جار دی ای تھےہوں نے عقی ہن ریف ق رآ نکاا نکادکیا۔ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۵۷۳۳۱٢٢٣ ۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


...می چا رآ شفائش اسنینے دک ےکی ت نائییر یی ا نمو می نک قو بیس جیی 

کسی ا ج۴ 

...من ھیہوں نے گی کا اکا رکییاء ایس نع را ت صا رضوانع ال مہم 
ای نکی ز ری وکلمت پر ایھان لان پڑا: شس سے شیع نج بک بے یدک رکررہ جال 
ہے اور شع کی ار غارت ز ۲ن الو ببوجائی ے۔ 

رھ موک پر ہوجاتا رج 6 ہے کو کنا 
مک نکی ءاىی طرح شی خقیدہہ ایمان پالرآن کے سا تج دیھی جع ننیں ہوسکتاء اگ رس یکو 
یمان بالقرآن ۶ز ہو ال لکول زم ہ ےک شیعہ مہب سے بر نےء او راگ رک یکوشیعہ 
ذپ ٹشتق اید تاداس کا حا ل ن انان سے 
زتقبردارہوچاۓے اگ رکوئ ینس شیع نہ بکا بھی مگھرتا ہے او رق رآن پر یا نکا دوک 
جج یکرتا ہف یا تو ود اپن نرہ بکی تفیقت سے ناوانف سے پا بجر ویدہ ودانت لوگو ںکی 
آنگوں می دقول بھنا ے٠‏ ادراپے نرہ بکو چان ےکی شش سے و کت 
رز ےم ےر کے کی وشن بجی مق لت یں یں 
تی کے ردریات یں سے ے: 

مین قرآن شدن پا رش روں 
ال خال اہت و ال اہت وجؤں 

تقر یک راگ رق رآن سا ہے نے شیتہ رہ بجھوٹا ےء او راگ رشیعہ رہب سا ےل 
ٍ۹ آ نگ .نمو ہالہ.. خلط کے ایرکوئی ار یں ۔ 

آ شاب نے ممیرے کرکردہ مخدرجہ الا نات ئل ئ0 
می ےی ٹھگ ےن خر ماب اس کے پا دچو در وق تج ین 

فرآن بد کے بارے می لپ نے شی نظ ریا تک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


02033ەه) وس کی ار ات نے کک ھلا یوین 3 

ہے جن یک مکی او علیہ وآلہ سم پرآ از اعشت سے نےکرجاوتت 

وفات وی الہ کے ذر یج نال بہوتار پا اور بلاگم وکاست جھمکتک 

لفظا لفلا پنیا ہے۔ جہا ںکک ا سکی تح بکانعلق سے تو دہز انی 

انپار سے مطا نزول شبعلماۓ ائل سنت مات ہیں اورعہبھم ؛ہنس 

رح ائل سن تکا حقیدہ ےکہ ان ںکی ترجیب مطا بی نزول یں 

تہ ن2 فی ضرور ےہ ای رح ہار نز دی ک بھی ا کی تیب 

تی ہے جوالل تھا لی سےعم سے می یبرم نے فر ماک یھی ء اور یہ 

ق رآ نی عال ہآحضرت سی اوشدعلیہ وملم کے ز مانے سآ جک 
بلاایرفتبدل چلاآر١ے۔'‏ 

جا بکا بی لزا مکہدائمالھروف نے شیع نظ ریا تک جج ت بما نو سک ء یا2 
ان لمرہب سن بے جج گیا نی ہج :یا آپ تے کک کے نے مج بکو چیا ےکی 
1 ہے۔ بجرعال مل نے جوأوپرسما تمہ وکر ٤ے‏ ہیں بعھیعو ںکی متتن دکابوں 
کےجوالوں سے ال نکی شر وخصیل ٢ئ‏ د یت ہوں ٣‏ اىی سے بھی معلوم ہو جات گا کہ 
رام الھروف نے شیع نظ ریا تک جج جمانی کاخ با آ ناب لیلا ےش سےنین 
چرےکوقیہکی سیا ہ ناب میس چچھپان ےک یکن بے سودف مار ہے ہیں٠‏ وَالظ'الْْرَفِیْ 
وَهُوَالمُسْتَعَانُ۔ 


می شی ہکا ق رن پیر ایمانئیں نہ ہوسا سے سیت ا سک یقن وہ: 
صلی اک أو برع لکیامگیا :نس یخس کے لئ شبعہ مہب پدرتے ہے !یمان 


اق رآ ن کن ہیڈیل ۰ا کی بہت کیا دجوہ ہیں ان جس سے یہاں صر فجن دجو ہپ اکنا 
کیاجاجاے۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


ہی وجہ: راد با لس ش رآن..لحوذ پانٹد..کھو نے تے: 

بی بات ہرخاص وعام بللہہ رسلم وکا فرجاضا ےک ج بآ حخحضم رتمک الطعلیہ 
کم ڈنیا ےرخصت ہوتے تقر سوا لک فا بی ہت کےکوا و کیھوڑ گئئ ین ک2 مھا ہر 
راع“ کہا جا تا ہےہ وین دا یما نکیا ایک ایک چم بحدکی أم کوصھا کرام ہ یکیاعل د 
روایت اوران ھی کے واستٹلے سےپپگی ہق رآ نکر مبھی انیس کے ر ہے سے پا 

شیع نمرج باپا۔ کیا گرا غ کی سای کی ارت جماعح نی شی ءکیوگل 
شھیہوں کے مطاب اس جماعت کے دوگردہ تء بی ہلاگردہ خلا ۓ خاااور ان کے جم 
نوا ںکاء سی بڑاھردوتھاء اور ار یا کے علادہ ہا تی تما سحا ڑا یگردہ ٹیس شاٴل جے_ 
ڈو اگردوخفرت یکا اوران کےا فقا کا ینس می فی کےکل جار ارچ دی شائل خے 
اورشں۔ چناخحہ بی یکزر ےکا ےک شبعہ نہب کے بقول مین جار کے سوا باتی تما صا 
ضرت الو کی برجم کر کے م رر ہو لئے تے۔ 

ہا ”استحارج ری کی ردای تکا ایک بھل ہم یلا حف رما تج : 

امن الأَة اد ایم مکرھاظیرعلیٌ 
وأریعتنا.“ (ا اح طری ص:۹٣)‏ 
.“وت نے ان خر شی ا انیس نا جشن 

ےے اتکی سے معثرت الوب کی بجع تکی ہو سوا ےئ تع رت کل کے 

اور ہما رے جا رآ شنائ کے 

ار مجنا سے مراد: لماع ء اپوڈ ر مقر اڈ او مار ہیں ۔ روای تک مطلب ہے 
ےلان پا ُشخائص کے علادہ لور مت نے ول وجاننع سےححضرت الوب کی بجع تکی 
تی صرف یہ پا آدکی تہ نیز با یوک کےسا موی کر لی سی اورطرف جے 
بہرحال تحخرت الوی مدکی ( جو بقول شب ”رس رگن تھے ) ہیعت الن با نب یکیا۔ 

شبعہ رہ بکتا سےکہ پر مت نے (سوائۓ ان یا اثراد ۓ )یل 
جان سے معظخرت الو گی بجع تک کے !رن ادونفا یکا راستہ اتا رکیاء اوران یا افراد 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


کر ےہ ہہ لئ صا کر کی 
پر کی بوری جماع تبھوٹ یگ ۔فرق بر ےک پیک روہ ک ےجو ٹکا نام" نفاقی ےءاور 
ا کے مو فکا ناھ' نید ےفوص رافرق بی ےکہ ,ویر رت 
نو ںبچھت تھاء اور ڈو اگمر دو تق کے نام یھو کو بہت بٹ کی عبادت مجکتنا تھا ؛ جیا 
٦ق‏ کی پٹ یی ان یھی لک رچچگی ے_ 
اب انصاف سے بتاپی ےک جب شیعہ مہہ بک و سے مھا کم راش کی سا رک کی 
سارگا سن لی یڑ جر رع 1 2 22ھ2۳صھءھء7ء7) ودای ے 
ذر بیج دی ام تکوپچیاء اس بیو ںکو یمان کی ہوسا سے؟ اور تصرف رآ کا نہ 
27 کی ڑکا شیع ںآ یط رع ابا یں ہو تا 1 ,و لہ 
ردایت بی ے بعد والو ںکو می ے٤‏ اور ظا ہر ےک جچھوٹوں او رجھوٹ پر ا نف قکمرنے 
والو ںکی نل وروایت ب ری ط رع لقن وا یمان ئیس ہوکتا۔ 
فیا ظلغا ئۓ لال کو برای شہ مان ےکا مہ بد مکی نت ےک ۔ 1 
با تکھی (الی اخنپارنییں رہتی۔ امام البند شاہ دی اللہ محرث دلو ”از الیۃ اھا “کے 
دای نت ہیں: 
ا جرم نور تو شی ای در دی الس بد ضجی مت را 
وی ا او یں نین ران ےش کہا شبات ظا 
اش بے رگواران | ی مت ار حول د ین او مکی این اصل رااحم 
1 2 0 .9ص 0 
(اژالداتقاء خ:١‏ ص٠١)‏ 
:”خی رقف وش کے لور مین لی نے ان بد 
ضیف کے ول میں ای علیم الشا نعل مکوکھولاء یہام عم انیس 
کے سا تی ہمعلوم ہوا نظ را مت خغلفا ۓ لا کی خلا ق تکا !خاہتء؛ 
اصول دن یش سے ایگ اہم تز بین اُصول سے ج بت کفکہال 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


رہ یا ؛ب سا شر گی نشی 
ا ہ تگیں وکیا“ 
ےپ رٹ الس یکند تقیقت مدم من 
ون وی خوایرے' (ایت]) 
ہیی پک کم ین | وڈ نے کاو 7ر 

ے ووو رف یقت تما لوم وین ہکومضہد م۷رد جنا حا ہنا ے۔ 
یعوں ‏ ج ر1 لغ برا یمان ضہ ون ےکی وسر وے: 

ی وشن مق مات سے م راب ہے: 

اڈل: شیعوں کے موی نکی روایات يا٢‏ ں رن نک یش رآ ن ‏ ید ھ 
ال وقت ناش موجودرےء جو بیشہ سے بڑھا بڑھایا جاجا ے اورجن کے پراروں 
لاکھوں حافظ ُا شس ببیشرر سے ہیں ء اور ان شاء الد قاص ت کک ر ہیں گے۔ الشرٹش ىہ 
ش رآن مجر جوسبینوں اورسخدنوں میس تقوب ے ضعفرات غانما ۓ ما کے ا نومام و امام 
ےئ ہوااور ایل کے ذ ر لیت پوریی نڈٹیایس بچھیلا۔ 

دوم:. شیعوں ک٤)‏ تیصو می نکی طرف سےا سق رآن می دک یکوئی قابل اعد 
یی وتد لت یبھیمنتو لکہیں۔ 

۶م .. غھلذاۓ ملا کے بارے میں صیحو کا عقیدہ بی تک دہ تصرف 
ہے دنع تمہ بکنہ دنن کے دنن ےہ وین کے خلاف سانش سکزنا ا کا تھا 
ای کے ماشو ایی مافاقی الففرت قت وطاقثت کے مارک نے جن نما نکڑنکن رعالقی 
تی۔ چنامچہ نراروں افراد ےںتلف المز اج او رخف الاغ اش عکوچھوٹی بات تق 
کم دنا اورایک الما واقعہ جو ہترارو ںآ دمیوں نے مرک یآنگموں سے د یھ ہو ء ان س بکواں 
وت کے نار متخ نک رانا عق لکن سے مان ہہ یئن ان کے لے ڑا آ سان تھا۔ 
جم سکی ایک شال ہی ےک جات شیعہ کے بقو لآخحض رت لی ارڈ علیہ ےلم نے ہت الوداع 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢٠۴۹۰۷۸۷۱۸۲۹6۴6 7۷ 


عو سپ رر نین ک ےئلیک کے یا ہن ای لوط یقظ انشاد 
فرما اننس میس حطرت لی کے فضائل وہنا قب بیا نک کے ا نکی خلافت دو ی ہر یکا 


اعلان فر مایا۔ خطے کے بعدقام حضرات نے حطرت لم کے تج پر ہیصت خلا ف تکی مین 
ون جک سکس بیع تکا سلسلہ جادیی ر ما بیہا لک ک؟ لہ ین لوک وہاں موچور تی نے 
بیج تکی۔ ( ڑج رجا ۓ القلوے ج٢‏ ص۸۲:۰) 
ین تھوڑے وٹوں بحعد ج بآ تحضرت صلی ایل علیہ یما وصال ہوا او رنظرت 
کی خلاق تکا وق تآ یا تو شبعہ ردایات کے مطا بی لا ۓ راشع رب نے الع بے شر 
انسانو ںکوا بات > صعف نکر رحظرے لیک وخلیف نا عوکر ن ‏ ککاکوکی واقعہہہواج یں ء 
اؤرضیب 8 و 0 نے فص کی عافیفیا نانوی اع نین 
فرماا تھا :رتا نے حضرت فا ڑکوکند تھے پرسوارکیا او رع او ری نکی انی چک کر 
ہاھ نو نصائڈٹش سے ایک ایک کے دروازے بر یئ ہر خداجانے خانا 0ا 
لوگوں ب کیا جادوکرد بات اک سوا جن جا رآ دمیول کےایک فردن بھی ا نکا سا تج تہدیا- 
(اخا ح‌طری ۶مہ) 
ا لکی وڈ وسریی شال بی ےک شید رات کے بقول رسول انی ار علیہ و سم 
نے اہ مر الوفات میس ١ظرت‏ الوب ری ارڈدحتہکو امام نما یش بنا تھا ہم را تئئے 
خلا نے خلاف واقع راس با تکوقماع صا سےمنوالیا امرف الوفات یں آ7 حضرت صلی ال 
علیہ لم نے جفرت اب کوماز پان ےکاعکم دا تھا کو اخ مملا نے اس کو فکو 
مقوات ہناد بااورس بکواس برض کردیا ۔ چنا یج ب کی یاصحالی کے سام سوا لآیا 1ع 
مر الوفات مم لآ 1ض رت لی ال علیہ ؟ملم نے ایم نماز یڑھائے کے لے ن ور 
رما یاتھا؟ تق ہرایک نے می جواب د اک ححضرت اہوب رو امسی ن ےبھی ابویک کے سواسی او رکا 
نا فاتا۔ 
الفرش !نی مات وا تے سے نا ھر ے؟میو ںوراد ینا اور جو واتندیھی بجی 
نآ یا وہ ا ںکومتوا ہناد یناء غلفما تۓ لاٹ کے لک ...بقول شیبع... رخہاجی تسا نککام تھا۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


تھے ہبہ حوومحوھہحور ‏ ریچ 
رید یں کہ نقرات پڑی پر شوکت سلطشت اورتاجع وقت کے ما نک تھ بشیتوں کے 
قشلری قرف زم ںآ ھا سر نمی کے اشن چزرکمنوالدناان کے 
لئ ھی شکئل رتھا۔ 

اع تین ا مورکوسما لیے رکھواور یر انا کفکر وک وق رن شیقوں کے بقول... 
لیے مکارہ و شمنان وین کے ذر یج پا ہوہ اورسی با وق ذر یج سے اس ق رآ نکی 
تیر سی بھی گی ہو ہکا نیا کو یعفل من رشع ا ےق رن 4 یمان رسک ے؟ 
ہرکڑئیں...! 
ام ال نت حضرت موا اعد الشکو ینوی کھت ہیں : 

ان یوں پانو ںکوفورکر نے کے بعد انصاف ے تتاٗ 
بش رآن ید کیا اختبادر +گیا؟ دی نکی اک بڑکی چچیرااس دین کے 
گن یی اھ یت مل او گاج نکی لات وہ گا اشن سے 
کاب وا گل ی ابو ہنی فمرے فور تج سے لئ نکی 
تقد یبھی نمو دکیادہ تالق اختبار ہی ہے؟ اورسس ع ریہ 
ینان ہہ وکنا ےک اس وشن نے اس میس یھ تصرف ت کیا ہوگا ؟ 
عاشلاشم جخاشاء ہرگ ڑڑیں..! 

دز مان الیک لآ انز الا مکا تھاء اس وقت پرلیش وغیبرہ 
یز رخ زع ل1رگی دی پا تن شا وک رٹ وغین 
کر ےڈ کوک مسلمان اس پر اخقبار نکر ےگاء ندال ںکوخر یلد ےگا ء 
جا یی محر حاف کو وکھطاکر یسیج نے سے ممقا بل ہک کے 
ینان شر نے بپیں معلوم ہو اک سی شی ہکا !ما نت رآ ن ریف 
یں ہو کیا 


(اقامة البرھان علیٰ انه الشیعة أعداء القرآنء متررج یازدہ گوم ض:۵٥)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 06٤0۲١۱۷۳٣٥٥٥۹ 66م۷۷۱۲۹.‎ ۷7 


شھوں کےکق رآ نپ !یمان ضہہو ےکی تحیس ری وج 

اس وجریس چند مور لال نوج ہؤں: 

:.. یہو ںکی نہایت مج رکتابویں میں جن پراانع کے نہ کی یادرے انس 
مصمو نکی دو ہرار ے اتد روائتتیں ان کے اہ محصومین سے مرویی ہج لک ...تو یالٹھ... 
قرآ نکریم کے ش کمرنے والوں نے ق رآا نکر یم می تج لی فکردی ے۱+ اور پت ریف باج 
مرکا 

ال:..ش رآ نک ری مکی بہتکی؟ نتتیں اورسورقیل ڈکال در یں۔ 

دوم:...ا نی ططرف سےعمبا ریس نا اکرق رن یں داخ لکرولں- 

سو :..ش رن کے الخھا ظط بدرل و گئے ۔ 

جارم:.. تخرد یلم کرد ئے۔ 

یم ...ال لکی ترحی ب ٹف بی فکزوگی۔ 

ق رآ نکرمم می تر جیب چا رک مکی ے: 

اال:عےورژ لی ڑیے۔ 

رو :..آ جو ںکی ترحیب۔ 

سو :...الفا کی تجیب۔ 

پاربہتوٌیتہے۔ 

ان چارو مکی جیب کے خراب کے جانے کا بیان شیعہ دوایات ٹش 
مو ہودے۔ 

۲ شتحہ ن ےہ لیف رآل نکیا ان ردایات کے بارے میں جن پان ںکا 
افرارکیاے: 

پہلا اشرار:... ےکیٹ لی فکی ددایات مت ات ہیں ء اورا نکی تحعدرادمت لئ امام کی 
رواات ےکی طر عکئیں ۔ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


ڈوسرا اق رار:... کہ مبددا ا تکھ لیف ق رآآان برعمرا لا د لال تک گا ہیں٠‏ ا نکی 
کوئی جا وی یں ہوتی۔ 
تسا الرار:... س ےک شیع الع ردایات کے مطا لف یکر یف خ رآ نی کا عقیدر +جھی 
رکھے ہیں ۔ 
یش اپے رسالے ھتہ جم ہفرمانٹلی برای کاظر میں کر یفخ رآ نکی روایا ت اور 
علماۓ شییعہ کے برجنوں اھر اخ لک کا ہوں۔ یہالں عزید اضافوں کے ساتھ با ضح مکی 
تر کی روا یات اورعلا ۓ شیع ہ کے تنوں اق اردو بارخ لکرتاہوں۔ 
ق رز نکریم می ںم گئئ جال ےکی روایات : 
: ا:..'٭أصو لکانی' 'شبعہ رہ بک سب سے زیادد مج مرکماب ےنس کے 
مصنف جنا ب من بٹتھو نی "یقة الا لام“ کے قب حطلقب ہیں ۔اوردہ میک 
واطلہ !مھ متص وع مغتز الطاعۃ امام تس ن سرک کے شاگکرد ہیں ےکتاب امام ام کی 
فزہغ عمفرگی کے زہانے می سک گی ۔کہا جانا ےک سفیبروں کے ود لیج بک ماپ امام 
اع بکی خدمت میں امو یف ء امام ناب نے ال سو طانظفغر ماکرائ ںکی تد لف مالی اور 
نرایا:”'ھطٰذا کاف لشیعتا' :لچ کاب ججار وڈیعون کے لال ےا لئے 
ا کا ناع الا ی' 'رکھاگیا_ (متقر۔م صو لکاٹی رخ:ا :۷ بمطوایان ) 
اُصولیکاٹی کاب الا مامت کے ایک با بکاعنوانع ے: 
”باب انەلمیجممع القرآن کله الا الأئمة 
علیھم السلام.“ (ع:ا ص:۸٢۲)‏ 
ال یا بک احاد یٹ شی خاب تک یاگیا کہ پودا تق رآن أ مہ کے سو ای نے شی 
:۸ ظاہر ےک جوش رآ ان ہمارے کسی سے دہ ات کا شع کیا ہایس ءلابفرا اس یکا 2 
ون خآیت ہآوا_۔ 
اناپ شانا ایک ا الع اباب ین تاقنت رع سن 
الغزیل فی الولایة“ مکی می باب ےاس جیان میس کہ امامت کے تح قق رن می نع و 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۵۷۳۱٥٢٠٣۹ ۰۷۸۷۵۸۲۹۹6۴ ۷ 


9-7 7 ا وو اسیو تس 
”۸ الحسین بن محمد عن معلی بن 
محمد عن علیٗ بن اأسباطء عن علیٗ بن أبی حمزةء عن 
وجل: ”ومن بط اللہ ورسلە (فی ولایة علی [وولایة] 
الأئمة من بعد٥)‏ فقد فاز فوزًا عظیما“ علکذائز لت,“ 


(اصرلانٰ خ:١‏ ص:۴٣٣)‏ 
رجر:...''ابو ایر امام تفر صارق علیہ العلام سے 
روابی تکرتا ےک الشمتعال یکاٹول :”ومن بطع الله ورسول فی 
ولایة علی وولایة الأئمة من بعد فقد فاز فوزا عظیما“ ای 
رع نازل ہوا تا“ 
اث رآن ید ''فی ولایة علی وولایة الأئمة من بعدہ“ کے الا ظط 
یں ان الغاا کے خی رآ ںی ٗ*‪ ‪ ە-صم,0 الٹدورسو لکی اطامح تک ےگا وہ 
کاب پگ گان الا کے شا نے کے ات ی تکا مطلب یہہ وگ کہ :کا میا یکا وعدہ 
صر کان انا ارت کنل ے جو تر تلع ور دج رآ کی مامت تلق رت ہیں۔ 
.ا کاب کے باب مرکو می رابنا ستالع سے رد امت ے' 
”عن أبی عبدالل عليه السلام فی قولہ: ”ولقد 
عھدنا الٰی آدم من قبل (کلمات فی محمد وعلیٰ 
وفاطمة والحسن والحسین والأئمة من ذریتھم) 
فنسی“ ھکذا واللہ أنزلت علٰی محمد صلی اللہ عليه 
وآلہ.“ (رع:ا ضص:۹۰٢۱٢)‏ 
ریں ام ارم ارق علیراسلام سے دوایت سے 
۲کاشقا لکال”ؤلقد عھدنا الٰی ١دم‏ من قبل کلمات فی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


محمد وعلیٗ وفاطمة والحسن والحسین والأئمة ھن 
ذریتھم فنسی“ کیم !ای حر مھ سی اش علیہ لہ برنانز لکیا 
یا تھا 
کن آئئڑ ف شس اق ماق محمد وی وقاطیا 
والحسن والحسین والائمة ھن ذریتھم“ کے الا ظڈیں ء اضیرالن الفاظہ کےا بی کا 
سے بر نے دم علی السلا کو پپیلے اھ یع دیا تھا گر بچھول گئے ۔ اورو جم وس ری 
بات سے فلوم 9نا ےک ایک درضشت کےا ےک یئات کی یی وک ازع الفاظ ‏ ے 
ساتجعد ۔ مطلب ہہ اگ ہآ لاملا مک لی وفاط نین 77 7 سی ۱۴۸ مم دی 
007 00) * ینزاور پہ کی ددایات یں ڈور ےک 
خر تآ و مکو ا تہ بر حصدکر لن نکی انح تک یگفیٹھی ہگرانہوں نے حص کیا اود اس یآ لاہ 
یش ججشت سے مکال دے لئ (مروایات متملی امام ت کی بی پٹ کےگمارہو مس نل 
کے یل می ںاخ لک ہکا ہوں ہ وہال ملاحظیف رما جج )۔ 
٣‏ ڑا کاب کے باب نمرکوزمیل روایت ے: 
”عن آبی جعفر عليه السلام قال: نزل جبریل 
بہٰذہ الأیة علٰی محمد صلى اللہ عليه وآله: بنسما 
اشتروا بە أنفسھم أن یکفروا بما أنزلنا فی علیٗ بغیا۔“ 
رخ:ا صی:عك٥)‏ 
تر جہ:.. امام مھ باظر علیہ السلام سے دوایعت ےک 
ہی ای کو شدیصلی الشر علیہ دآلہ بر اس رع لن ےک1 تے 
تے: بئسما اشتروا بە انفسھم أن یکفروا ہما أنزل اللہ (فی 
علی) بھیا۔' 
77 .سا ا کے الما ظئییسء خی راس لفظ کے اس 
آیت بی دا کی ہزرنانز لکا :نکی کے اکا رکی جع تیشی ہراس لو کے سا تم وضرف 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢١٠۴۹۰۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


93 


کش انار کضت +وی۔ 
۵:..ھ اگ کاب کے باب نمکور یں اما مھ ہار علبیرالسلام سے دوابیت ےک 
اننہوں ےے ٹر مایا: 
”نزل جبریل علیے السلام بھذہ الآیة علی 
محمد ھٰکذا: وان کنتم فی ریب ممّا نژّلنا علی عبدنا 
(فی علی) فاتوا بسورۃ من مثلھ.“ (ئ:ا :2ے۳) 
:”نی یی ا ںآ تکویھ لالح وم برای 
رح نےکر ۓ جے: ان کنعم فی ریب ممّا نولنا علی عیدنا 
(فی علی) فأتوا بسورۃ من مثله۔ٗ 
ف:. اپ ال پآ نت گان فی صلی“ کالفظگیں ہے ا لآ یت میں اج رآن 
2 یک کا ہج زہ ہوا یا ٹر ما بڑٰڑے 7,7 تی ےکی ےت ال کین بنا سکم "اقتتی 
صلی“ کے افظا سے معلوم ہواکیہ پوراٹ رآ ن یج ز کیل تھاء بلکہ ا گیا زصرف ا نآ ہجوں بش 
تی جوحضرتک ے ھی کین 2ر شیں کراب وہ1 ہیں رآن دی ہیں ر یا 
۹ ٹا کاب کے باب پور یش امام رضاعلیر الام سے روابمت ے: 
”قول الله عرٌ وجل ”کبر علی المشرکین 
(بولایة علیٔ) ما تدعوھم اليه یا محمد من ولایة علیٰ“ 
ھکذا فی الکتاب مخطوطة.“ (خ:ا ص:۴۸) 
زسبایفووڈ ل الال سو لی اض وت 
(بولایة علی) ماتدعوھم اليه (یا محمد من ولایة علی)' 
ای طرح قرآن شی ھا ہواے۔'' 
تمہ کے رن یس ای طر ہوگاہعر ہمار ےق ران بک ان لو اب "ولا 
اخ زا زین ول یی ہی یں بی کا نطب ٹڈ ےک ہنرگو ںکو ےکی 
ای ول مکی دکوت وین اگوار ے ران او گے الفا ظط کے ما نے سے مطلب یہ کہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


چے 


ححضرت یکی مامت ٹیش جولوک شر ککر تے ہیں صرف ال نکوآ پکی دگوت دن اوروہ 
بھی زی وما مت لی کے تحلق ناگوار ےہ باقی حصہآ پکی دکو تککامس یکو وا ریس ء نہ 
و حیداگوارےء نہ رسالت ء تاور ہے لا خوٴل وَلا قُوَة ال باللء...! 

از شیا لاب کے راب ان امام نفرصاری علیہ السلام ے روابہت 
2ھ 


لٹ 


”قول الل تعالٰی: ”سال سائل بعذاب واقع 
للکافرین ربولایة علی) لیس لە دافع“ ٹم قال: ھکذا 
واله نزل بھا جبرئیل عليه السلام علی محمد صلی الله 
عليه وآلہ,.“ (خ:ا ص:۲۲٣٣)‏ 
رارقا یل کا9ل:“سان سائل بعذاب واقع 
للکافرین ربولایة علی) لیس لہ دافع' ایط ال م! 
بی یل ہج یی او علیہ الہ پر لن ےکرناڑزل ہو ے تے۔' 
ف:.. اب ہلا یی“ کالفظاآیت می یں ۓے)آ یت میںمطحل کافروں کے 
عخزا بکا ڈوک تھا کہ ا ںکووئی ا لیس اراس لف کے مدانے سےآبیت میس صحرف 
امام تی کےکفرکر نے والو ںکاع اب بیان ہو اکا کوکویکییں ال سا 
۸ ' ا کاب کے باب نمرکورمیل !عام ہار علیرالسلام سے دوایت ےک 
”۷۲ اأحمد بن مھرانء عن عبدالعظیم بن 
عبداللہء عن محمد بن الفضیلء عن بی حمزةء عن ابی 
جعفر عليه السلام قال: نزل جبرئیل عليه السلام بھذہ 
الآیة علی محمد صلی اللہ عليه و آله ھکذا: فبڈل الذین 
ظلموا (آل محمد حقّھ) قولّا غیر الذی قیل لھم 
فائزلنا علی الّذین ظلموا (آل محمد حقھم) رجزًا من 
السماء بما کانوا یفسقون۔“ ز( :ا أص:۲۲۳ءردات:۵۸) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


تہں:. .”بی رم علی الام اج یی الخ وپ پ 
آ نت ا ل نظ ےک رفانزل اہو نے تج اففدل الذین ظلع' ا تل 
مسر گب اق لیلق الد ال 
ظلموا رآل محمد حقھم) رجزامن السماء بما کانوا 
یفسقون۔ 
ف:... اب رن ئجیدیل ا ںآ یت ُل ”آل محمد حقّھم“ کالفظادطدل 
ےڈ ہوا ےلان لف کےآیت یل بای کے زا کامان ےکن 
ہے نپازانےف رما ناکرا یی ین حائ ادس بین داشان وہو وش سط آہنا ہر 
اننہوں نے از اوشرارت اس لف ظاکو بل دیاءج٘ سکی بج ہے ان رخذرا بآ یا سکگراس لفظ 
کےا نے سےمعلوم ہو اک سآ یت میں ذکر بقی اس رام لکایں ء بل...لتوذ با بقد..بسھا پرگ را کا 
عال بیان ہود با ےکہانہوں ن آل یہ بیع کیا اورال کی وجہ سے الن ب رآ سمانع سے خخزاب 
آ یا لگ افو ںکہواقعات سے اس مطل بکی جا تیدنییں ہولی ۔ براوعنای تکوگی تد صا حب 
تاد ی یک حا کرام نے رسولی خداصلی اللہ علیہ یلم کے سان کون اض مآ لی مہ کیا ھا ؟ 
او رکون سماعذر اب ان پآ سمالئع ‏ ےآیا تھا...؟ 
باتک ددیا بفناائ لاب کے ماپ 1گودس کر ت غن۔ 
:.. ا یکتاب میں و کاب فضائل ال ران کے باب النوادر میں یا نظ 
صادث علےااساام وہہ 
”ان القرآن الذی جاء به جبریل عليه السلام 
الی محمد صلی اللہ عليه وآله سبعة عشر ألف آیة.“ 
٣: (‏ کی تے۳۷٦)‏ 
تز:..' جن جوق ران ج ملعلا ملا خی یسل الد 
...لے 
ہہت اس 5ر ان رقف جس لی اختلاف الروایات مھ ہٹرار جو سوسو ہآ یتیں 


۱۷۷۷۷۷۷ .506 10۲١۱۷۳٣٠٢٥٢١٣۹۰ ۸۷۸۱۸۲6 ۰۷ 


جس ءابڈرا و ھھے سے بہت ڑ یا دو رآ ن نک لگیا_ 


6 
ہے 


سے ھچ 


ا کیا ےش فو کی بای تاب نے :الین تی ف تا 
اتحدالی طالب طب ری نے دا تاب می سلکحدد یا ےکہ ا سکاب میس سوا اما سن کک ری 
کے اورینس فک رم کے اقوال ہیں ءان پر ماخ سے یادہنفل کے مواشی ہیں یا اس رر 
یروغ ر ہک یکتتاب یں ا نکیاشبرت ےک مخالف وموای سب کا ان پہ اناقی سے ۔ اس 
گناب ےق :1۹ا ہے بے لگ رضص:: ۴ اتک ایک و ا نز ےل تا 
منقول ےلیک زز نل لق نآ ناب کے سا نے باٹھ اعتزراخ سق رآ ن پہ ئء او آپ نے 
قرب قرب ہراخترائش کے جواب ٹیل ف رما لکیق رآن مل نیف ہوگئیاے۔اس روایت 
ےئ رآ ن شریف میں با یوں مھ مکی تحرف خابت ہوئی سے ۔کھی ےق رتا ان ئن 
زیت ئن نت ای ا رت ںیشن نف دق کے کات 
کیش رن مجیر٘ل :”فان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ما طاب لکم من 
لیس“ مشنی اگ رق مکوآ ند بی ہوک جیموں کے میں انصاف نیک رسلو گےلو ہج نکورتوں سے 
جا ہوثکا ںکرلو۔ ززن لی ن ےکہاکہ:شرط و جنز ای سکوئی رہیاکییں معلوم بہوتاء خیہوں کےقن 
انصاف شک سو عورنوں سے کا حکرلدہ ایک پالقل بے جھڑ بات ہے۔ جناب أمر 
عل السلا ماس اعترائ کے جو اب می فرماتے ہیں : 

”ما ظھورک علی تناکر قوله فان خفتم الا 
ثقسطوافی الیتمٰی فانکحوا ما طاب لکم من النساءء 

ولیس یشبے القسط فی الیتامی نکاح النساء ولا کل 

النساء أیتاما فھو مما قدمت ذ کرہ من اأسقاط المنافقین 

من القرآن وبین القول فی الیتامٰی وبین نکاح النساء من 

الخطاب والقصص اکثر من ٹلث القرآن وھٰذا وما أشبہ 

مما ظھرت حوادث المنافقین فیه لأھل النظر والتامل 

ووجد المعطلون وأھل الملل المخالفین للاسلام 


۱۷۷۷۷۷ 0ا‎ 610۲١٢۱۵۷۳٢٥٢٠٣۹ ۰۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


او تا 


جسظط اق القد ح فی القرآن.“ (ا اع چہ 

ترجہ:..' اورجھلوجواللد کے کول 'افسان خصفتے الا 

تقسطوا فی الیتامٰی فانکحوا ما طاب لکم من الِیساء“ 

ایند یرہ ہونے پر ا طلاغ ہوگی اود کہتا ےک یوں ےا ٹن 

انصا ف/رناءعورتوںل سے نا کر نے کے سماتھھ یا متا سب تککیں 

رکتا اورک ل مو ریس شی ہولی ہیں۔ ہل ال کی وجہ دوہی ہے جوریںس 

پل تھ سے بیا نکر ہکا ہو کہ منافقتوں نے ق رن سے بت چچجھ 

کال ڈالا:”فی الیتمطی“ اور ”فانکھوا“ کے درمیان ٹل بہت 

سےا ہکا م اور جیے تھے تھائی ق رن ( ]نی دس پارے ) سے زیادددہ 

سب نال ڈالے گُئء ای وجہ سے بے ری ہوگئی۔ ایب کی 

منافتو ںک یبا کی وجہ سے جوا لظ روا لکو ظا ہرہوجالی ہیں ء 

بے وبینوں اور الام کےمخاللفو ںکوق رہن بر اعترا شکر ن ےکا مو 

لگ" 

ناب ضرا ز"د نل یت اتزا شکا جواب نہ دے کے اس روای تکو 
دم کر صا فکہنا اتا ےک شھیہو ںکی ط رع ان کے جناب امیر بھی .. وذ بااقد.. اق رآن 
کے چینے سے ما نز وقاصصرتھےء ھا لا آ رع ائلی سنت کے ایک ادلی طالمبیعلم سے سو وہ 
بھی ا ںآ ی تکا ربا انی طر بیا نکردےگا۔آیت می ”بتائی'' سے مراد ٹنم لڑکیاں 
ہیں ہگن لوک شی مل ڑکیوں ہے گا خک۷رتے ججھے اوران کا عب ریگ یکم باندحت ےو وسرے 
تقو بھی اداشدکر تے تھے ؛کیونکہ ان جیمو ںکی طرف ےکوکیلڑ نے ھکر نے والا تو تھا بی 
یں ,لہا آیت میں عم درا گیا کہاگ ریم لڑکیوں سے نیا ںکرنے میس بے انصاثی کا 
انلد نہ ونو الع سے مکاح شک ردہ ہلاو رگورنوں سے بکا رک رلو۔ 

مس نے تر جہفر مان لی برای ک نظ می سککھا تھاکش رآ نکر یں ”'فسان 
خفتم“ کالفنڈاکیل بلگمہ ”ان خفم“ (وا کےساتھ )ےہ مدق و خر مد تما وہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


قر نکر مکو ۴ یوں سڑہتا اچب ےہ سن تالق جآ جن 
ان ؤاپ شا آ اوو زا ا وی سوے لا نو ور ج17 نع کےالفاظ 
ج یت ز دو نرک ک ےتکن ین یز کن ے1 کا لے 
یزاس دوایت یں ہ ےکمہ جا ب امیر نے انس زم یی سےئرمایا: 
”ولو شرحت لک ماأسقط وحرف وبڈل 
ممایجری ھذہ المجری لطال وظھر ما تخظر التقیة 
اظھارہ.“ (ایناً )٣۲۹:/‏ 
تب :”اگ یں ہچ ے ام د ویش با نگکمرڈوں جو 
رن پ0 بل یکین خ 
ای 17 کیک ررواعاںل ہوش ںو بہت طول ہوجاۓ اورتقہ ہس کو 
روکماے دوطا ہرہوجاۓ ' 
ف:. .نچب ہےکرق رآ نکورک کین ادد امن ق رآ نکومنا فی نے س ےہ 
ےن رڈنا :رز ہا ما تن رف ف حا نکر ےک روف وبا ء پک جانا یکر نون کے 
معلوم ہوجانے سے اش ق رن بکارآ ہو جا جا :کو ےک بگواراتھا..؟ 
رای ددایت میں ےکم جنا ب می نے اس زم لب ےکہا: 
”لو علم المنافقون لعنھم اللہ من ترک ھذہ 
الایات العی بیعت لک تاویلھا الا سقطوها مع ما 
أسفطوامنه.“ (ا حا طری )٢۴۹:۴‏ 
چا ”اگ رمنا فقو ںکو, را اہی ںلھڑ یکرے۔معلوم 
ہو جا کہا نآہوں کے پائی رکنے مم سکیا خرالی سے مج نکی تاویل 
ٹس نے بیا نکی تو ضردرووا نآ ہو ںکویھی کال ڈا لے نس طرح 
انترقل: شن :' 
ا .تفر یر پان اوكقیرصانی کے مقدے می اض رعیا تی سے منقول ےک ماخ 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٠٢٥٢٥٢١٠٥۹۰۷۷۵۸۲۹م6۴6‎ 7۷ 


”ان کے ای کثیرۃ.“ 


"' 
سرت البربان مترمغال ہ٣ل‏ ال ص٦ص:۰٣)‏ 


۳ ثرجھ..'' نی ف ران سے بہ تک یآختیس خکال ای 
زا ی کاب می امام باش علیہ السلام سے رایت ےگ 
”ولوقری القرآن کما أنزلنا لالفیتنا فی 
مسمئین۔.“ ۳2:7 
ترجھہ:..! اگ رق رآن ابی حر بڑھا جات لی اک نازل 
جم ان شی ہمارے نام پا گے 
یم ”یی“ جس سےمصف نل بن ابرا یی رض سیب 7 
اور بی ۳ کے اتاد ہیں بی مت رقاب سے اور ردایا تک۲ریف سے 
ہے کن لان کے ایک بی ےک 
”'وأما ما هو محذوف عله فھو قوله لکن الله 
یشھد بما أنزل الیک فی علیٗ کذا أنزلت رثم قال) 
ومثله کٹیر.“ (مقدمہ ج:ا گص:۱۰) 
ہی ہت ائشن بق ان کال فا کن 
ا نکی ایک شال ہے ے:"لکن الله یشھد بما انزل الیک فی 
عسلسی“ بآ یت ال طرں نازل ہوٹی( پھر چندشالوں کے اع رکا 
و 00 
ق رآ ن شرف یی بٹڑ ھا جا ن ےکی روانتیں : 
:. .تاب ا تارج ''مطبوب امیا نکی اس طو یل ردایت میل ‏ مم س کا ذزک رأو یر ہواء 
ال ز نب یکا ایک اختزائش بی ےک خدانے اپنے نیش مکی اللہ علیہ و مکی فضیلت تام 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ارتا 


یں ما کی :مالک بی مررں ےسیو سرد ۴ 
تین ترآن یل ہ کہا قد رت ین او رکا ن کت ران یمیس ہے۔ نم تی کے اس 
اعتراش کی جیہوں کے جنا با می رن سلی مکرلیااوس۱لی مک کےتسبب ہل جواب دی کہ: 
”والذی بدا فی الکتب من الاذراء علی النبی 
صلی اللہ عليه وآله من فریة الملحدین.“ (ضص۲٢۳٣)‏ 
ترہھ:.. ”کاب لی یق رن میں جو نر ائی: خ یمک الد 
علی وآ ل کی ےہ دو ںکی افزاکی ہولی (متنی ای نکی بڑھائی 
ہوی)ے۔“ 
یز ای روایت شی ہ ےک جنا پامیہرنے اس ز ند لی سےکہا: 
”أٹھم أثبتوافی الکتب ھا لم یقله الله لیلبسوا 
علی الخلیقة.“ (ص:۲٦٢۲)‏ 
ترج.:..” ان منافتوں نے ج رن مل وہ پاش در 
گر یں جوا تھالی نکی فرمائیگیں کو قکوف ریب دمیں۔““ 
یزاس ردایت میں ےلم جا با می رن ےکہا: 
”ولیس یسوغ مع عموم القیة التصریح 
باسماء المبدلین ولا الزیادۃ فی آیاته علی ما أثبتوہ من 
تلقائھم فی الکتاب لما فی ڈلک من تقویة حجج أھل 
التعطیل والکفر والملل المنحرفة عن ملّتنا وابطال ھٰذا 
العلم الظاھر الذی قد استکان لە الموافق والمخالف.“ 
(ص:١٢٣)‏ 
ترجھہ:.. ” تی کی ضرورت ال پر و وہ 
لوگوں کے نام ناکما بہوں ؛جنضھوں ن ق رآان می سک ری کی ء شہااس 
زیاد یکو جا سکتا ہوں جوانہوں نے ق رن میں درخ کی ء یٹس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۸۲6۴ ۷ 


9ج تح چہجووحوج۔ ہے ات 


ے)0رتقطیل وکفراو یراہ ناڈ راہب جا لشہاصلام ۷ مد ہوئی ے اوران 


عم فا ہرک بطال ہوتا ہے جس کےموافن الف سب تقال ہیں ۔ 
رای ددابیت شیل ےکمائس ند لی سے جناب امہ رر نے ہت فھ ران ناک ققصہ 
یوں میا نگیا: 


ئم دفعھم الاضطرار بورود المسائل عما لا 
یعملون تآأویله الی جمعە وتأویله وتضمینە من تلقائھم 
مایقیمون بە دغائم کفرھم فصرح: منادیھم من کان 
عندہ شیء من القرآن فلیأتنا به وو کلوا تألیفہ عظمه الی 
بعض من وافقھے الٰی معاداة اأولیاء الل فالفہ علی 
اختیارھم.“ (١۷ص:۱١۳۲۱۳٣)‏ 
ترج:..” بر جب ان منامتوں سے وو ممائل کو مھ 
جانے گے جن نکودو نہ جا ۓۓ تھا مجبور ہو ۓےک یق رآ نکوش کر میں ء 
ا سک ینغ کر یں اورق ران بیس دہ با ٹس بڈ اتی جن سے وہای 
کفر کے ستونو ںکوہاک مکمر یں لبخرا ان کے متا دگیاتے اعلال نک اک 
کی ا ے پا ںکوئی حصق رآ نک و دوجمارے پا 0-2۵ 
ان منافتوں نے ق رآ نکی مع وترتی بکاکام اس نس کے سپ ردکیا جو 
دوستازج خداکی شی می ا نکا ہم خیال تھءاوراس نے ا نکی بپند 
کےمموا ون ق را نکو کیا 
رای رایت شی بلگی وضاحت کے سا خھ نا بآم یکا تو لبئی سے 
”وزادوا فیه ما ظھر تناکرہ وتنافرہ.“(ص۳۲) 
ترج:... ”اور بذہادی انہویں نے ہرآن ٹل وہ 
عبارٹیس مج نکا خلاف فصاحت اورقا مل نفرت ہو نا ا ہرے_' 
ف:...استار جع بر یکی الن ردایات ےتسب ذ ٣لا‏ مورملوم ہو ۓ : 


۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۷۳۳۱۱٢٣۹.۷۸۷۵۸۲0 ۷ 


ا ی:... یگہاسی ف رآع یس ...نو بابل...ت کی تو نف رن کے مم حکمرنے 
وااوں نے بڑھائی ے۔ 

دو :... ےک یق رآن مہب باطلہ او اشن اسلا می جا می دکرتا ےش رج تکو 
منار پاےمکف ر کے ستوان اس سے اعم وت میں ۔ 

سو ...اس ق رن بیس ابی بارس بڑھادیگئی ہیں جوقاہ لنفرت اورخلاف 
ثصاحت یں- 

ارم :... یس معلو مکہیہ بڑھائی ہو کی عا رںلو نکون اورکہا ںکہاں آن؟ 

یکم :... اس ق رن کےش کرنے وانے منافن او رکف کے ستون اع مکر نے 
وانےاوردوستان دا کے ٠ن‏ تہ انہوں نے ای پہنعد وخواپل کے مطا بن تر نکو 
ایا 

۴ .فی ال پان او تی رصائی کے مقد ے میں می رای سےمنتقول ےک 


امام ہاش علیرالسلام نے فرمایا: 
”لو لا أنە زید فی القرآن ونقص ما خحفی حقنا 
علی ڈی جحی.“ زمقدغال شش ل اڑل م۳ 


ترجہ:..' اگ رق ران میں بڑھایا گیا ہوتا اورکھٹایا گیا 
ہوا و ارات یکل مند > شید ہن ہہوتا۔' 
ف:... تاور چچھ ہو با نہ ہوہگر اتال ان روایات سں ہواکہ بیع رآن 
شریف نہب شیعہ کے پالئل خلاف سے بت مکل امامت اور أئ کات بھی اس سے 
شبات یں ہوسکما ءاور یٹ رن سنیو ںکی تا یرک رتا ہے ء ان کے ستو نکوقائ مکرتا ہے ۔ 


رن شرف یئز فروف والفاظا سک نے ما ےکی رانا 


تی یل ہت 
”وأماما کان خلاف ما أنزل اللہ فھو قولہ 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲٢۱۵۷۳۱٥٢٠٣۹ ۰۸۷۸۲۹۹6۴ ۷ 


تعالٰی: ''کنتم خیر أمةأُخرجت للناس“ الیة. قال أبو 
عبداللہ عئلیه السلام لقاری ھلذہ اللآیة خیر أمة یقتلون 
أمیر المؤمنین والحسین بن علی فقیل لە فکیف نزلت 
یا ابن رسول اللہ فقال: انما أنزلت خیر أئمة اخرجت 
للنىاس.“ (ض:۱۰) 

ترجھہ:..' اوروہ زم جوف رآن یل مو جود ہیں خلاف ما 
ازل الل ہیں ۔ لی دہ( لا )یآ مت ے:کستم خیر أمة می 
”تم لوک تمام ان أمتوں 0 کے لئے اہ ری 
تا میں رق نے ین یت گے رن وارے ےکا 
کہ وا وکیا انی مت ےجس نے ام رالھ می نکواو رین بی نعل یکو 
ش٠‏ لکردیا؟ی چھامگیاکہ: بر یآ تکس طرح ات یھی اےفر زنر 
رسول؟ نو خر مایا: یآ یت ا سر أ ما ای کنتم خیر آئمة“ 
نی :ےئ ا شا عمش راتخم قمام ا ماموں سے رہوں 


ف:. معلوم ہوک یق رآن می ”خی رآرہ کلف لد ےئن بازل ہوا 
تھاءالفا اتد لکمردیۓ گُئ _ 


تا فی یس ےا 

”'ومٹلے آیة قرأت علٰی أبی عبدالل ”الذین 
یقولون رہنا ھب لنا من أزواجنا وذریاتنا قرة آعین 
واجعلنا للمتقین اماما“ عليه السلام: لقد سالوا الله 
عظیما أن یجعلھم للمتقین اماما فقیل لە: یا ابن رسول 
اللها! کیف نزلت؟ فقال: انمانزلت واجعل لنامن 
المتقین اماما۔“ رقیرق) 

تی:۳ء۳۴سائق' کے سان بی یت مع ای : 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳٠٥٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


الہ ین پقولونسڑی ودلوک ج کت ہو ںک ےہ اے رٹ ہمارے! 

شی دے گع مکو ہمارکی بیبیوں اور ہمارگی اولاد سے ٹیر ک1 گھوں 

گی ء اور بناوے جھ مکوتقیو ںکا امام“ و وما متخ رصادق “نے فرمایا 

انان ئے اق نے بڑگی نز ماگ کہ ا نکوضمتیوں کا امام 

بنادے۔ لو اگ اک اےفرز نی رسول اول ایی تم رح أت ری 

تی ؟ وف رما کہ :اسر أُت ای :”و اجتعل دا من المتقین“' 

لق وا رے لئے مسمبوں میں ےکوی امام مقر کے“ 

چوئلہ امام تکا ہرشیوں کے یہاں نت ےکی بڑھ) ہوا ہے٤‏ جیلی ا کیہ 
امامص کی بث می لگمز ر کا ہے اس لے امام ن ےآ بی تکوخل دکہرد کہا بی مامت کی 
درخواستغرا ےکی ئا یی روایعت مین ترو کید گی سے۔ 

.. أ و ککائی کاب انح ”ساب فی نکت ونعف من التتزیل فی 
الولایة“ مل ے: 

- اأحمدہ عن عبدالعظیمء عن الحسین 

بن هيّاحء عمّن أخبرہء قال: قرأ رجل عند أبی عبداللہ 

عليه السلام: ”قل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولهہ 

والمژؤسون*فقال: لیس مفگلذاعی: اتماھمی 

والمامونونء فنحن المأمونون.“ 

ترجہ:..' اھ نے اما شف رصا دق علیالسلام کے 

سان یآ یت بڑعھی : اٹل اکھلو ا“ مچنی' اے نی ا کہ د ونم لوک 

فک کہا راف ایل ٹیگ :اوران ا رسول اور ابھان وانیے' 

امام نے فرمایا: یآ یت ااسںطر میں نہ یں ہے :' وارا مونون'“ 

نی ما مونون لوک وکھیں کے اور ما مونون'ہمأ حا شماعش ہیں 

۴ کاب اص۱تحارنع گیا اکیا مکودہ جالا ددایت یل ےکہ نز لٹ نے ایک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٢٢٣ .۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


۶ کن 17 1ار شرشرو لقتنم ےی 7 ہے وگ 
منا فقو ںکی مت اشارات وکنایات میں ےہ ا نکا نا مکی لیا مگیاء کیا با ٠-٦.‏ 
جنا یمر جو اب دی اکہ: 
”ان الکنایة عن أسماء ذو الحرائر العظیمة من 
المنافقین لیست من فعله تعالی وانھا من فعل المغیّرین 
والمبدلین الذین جعلوا القرآن عضین واعتاضوا الدنیا 
من الدین.“ (ص:۷٢۳٢)‏ 
ضر سے بڑے جرم وا نے منافتوں کے نا کا 
نات بی ؤک کرنا الد تالی کا ٹ٠‏ ل نہیں سے الد تال نے تو 
صاف صاف نام 1کر سئۓ تےء بلکہ بل ان ری فک نے والوں : 
پر لگ وا لو ںکا ہے میں گور سیککڑ کو “::. اور 
ڈنیا کے عوٹش دی نکو یچ ڈالاء (اننہوں نے نا مو ںکو ڑکال ڈالا اور 
جائے الع ک ےکنا کے الٹا ظا رود ئۓے )_' 
اہی ردایت ٹل ےک جطاب ام ڑنے اس ززئل لٹ یکو ینس جوابات دے 
رق ا 


”فحسبک فی الجواب فی ھذہ المواضع ما 
سمعت فان شریعة التقیة تخطر التصریح باکٹر منه.“ 
(ض:٢٢٣)‏ 
ترجمہ:.. نیل الع مقامات مل جواب جج ےکائی ہیں جولو 
نے سے٤‏ اس سل ےک تق کی ربعت اس سے (یادہ صاف مبیان 
رن ےکورولقی سے 
ممونے کےطور تی فکی جا رقنمو ںکی روا یت تو یأف‌ لک یں :ا رکوئی 
تف کف کو تی کر ان زوا ظز ںا یا گا؛ جن سے ایک ڑا دشر جار 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ہو سام درس و یتس کر خرف 


شمدوفراردیاجا ۓ۔ 


اتی رجی ان رنی فک پا نچ یم ءسشی خرالی تی ب یا تک ءاور سیب سورت کی 


دوتذ اش ف رمشٹہور ےک حا ت لیا جوا ےکی یس ء علادہ از مس روا یا منقولہ پالا ےوہ 
بھی ابت و ری ے او رآ مد ھی اس ا1ے ا و لا ا ہا ہم دوجوا لے 


یہا ںچی پڑھ جج : 


علام ورگ طبری* فصمل الاب “یس چچڑھی وبیل ک ےکن می فر مات جو 

”کان لأمیر المؤمنین عليه السلام قرآنا 
مخصوصًا جمعہ بنفسه بعد وفاة النبی صلی اللہ عليه 
وآله وعرضہ علی القوم فاأعرضوا عنه فحجبه عن 
أعینھم رکان عند ولدہ عليه السلام یتوارثہ امام عن 
إمام کسائر خحصائص الامامة وحزائن النبوۃ وھو عند 
الحجة عجل اللہ ف رجہ یظھرہ للناس بعد ظھورہ 
ویامرھم بقراءته وھو مخالف لھٰذا القرآن الموجود من 
حیث التالیف وٹ رتیب السور والآیات بل الکلمات 
أیضا ومن جھة الزیادة والدقصة وجبت أن الحق مع 
علیٌ عليه السلام وعلّی مع الحق ففی القرآن الموجود 
تغیر من جھتین وھو المطلوب.“ 

ترجھ:.. ”ام رالھ وشن علیہ السلا مکا ای ک ف رآ خوش 
اہ سکوانہوں نے رسول خداصی ای دعلیہ الہ کے بد خو وخ 1 
تھااودا ںکوصا کے سان یی سکیا ہجھران لوگوں ن ےتوج کی ء ہنا 
ا ںکوانہوں نے لوگوں سے وش وکردیاء اود د وق رآآئن ا نکی اولاد 


کے پا کید با ء ایک امام سے دسرمے !ما موم راث یں مار ہل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


اورخصسائئ ا مامت ونخزائن ٹہت کے۔اوراب دوش رآ ان (ما م۲ ہدگی 
کے اس ے.. خداا نکی مشکل جل دسا نکرے...دہ ا ںق رآ نکو 
اپے ظاہرہونے کے بعد پکائیش کے ءلوگو ںکو اہ ںکی جا ور کیا عم 
درک گےءاورد وش رآن اس ق ران موجود کےخلاف ےم سورنوں اور 
آ ول بللیککما تک ترتیب می لپ ء اورھی می کےلیاط بھی ء 
چون ہتی لی علیہ السلام کے ساتھ سے اویل یفن کے سائٹھ ہیں :لزا 
ثابت ہگ یاککیش رآان موجود بی دونو ںسمینیتوں ےک ریف ہے اور 
یچی ((جھ ریت ںکا) نتقصورے۔ 
..علا رای عق ایی می کھت ہیں: 

نہیں ہت اندش رآ ان راءھھ ےک تن نعالی برخظضرت رسول 
اڈ یسکی اشرعلیہ وم نازل ساشن بآ ک رتغیر یافندشدہ وتبد بل یافہ 
پاشدہ چنا یرد دق رآ ہا دککرشد۔“ 

۱ (ضن لقن ص:۳۵۸مطووتبران ۱۳۵۳۲ھ) 

تر جمہ:.. ”یں امام مبہدری رآ نکوائس رخ بڑھییں کے 
ک بی تعالی نے حضرت رسول اوڈصکی اوشد علیہ سلم بس نافزل فرمایاء 
پیم راس ک ےک اس می کوک تیر وجپرل ہوا ہوء یسا کہ ڈوسرے 
ق مرآنوں ہیں خر دتپرل ہوکیاے' 


علما ۓ شیب کے منوں اھ رار: 


اب ملا ۓ شیعہ کے میوں اخ رارعلا تظیفر ما ؛ٹتی: 
پا ا ارت ولس انل بویا ٹلزااڑؤں۔ 


ووسرا اش رار:... مو ات روایا تن ریف ت رآن برصراحنادلال تک لی ہیں۔ 
یر اھ را....س ہکان دوایات کے مطابقی شی ریف ق رآ نکا عقییر کی 
رکھتے ہں۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


یل ٹیس ان و انھراروں کے جوا نے ملا تفر ما گے : 


اکنا ےن فھل انطا با مطبوع انان مج ن زی فب تر نکی گار ہو یی دب لکا 


آخما زان الفاظ ے ہہوجا ے: 


”الأخبار الکٹیرۃ المعتبرۃ الصریحة فی وقووع 
السقط ودخول النقصان فی الموجود من القرآن زیادة 
علی مامر فی ضمن الأدلة السابقة وأنه أقل من تمام ما 
نزل اعجازا علی قلب سیّد الانس والجان من غیر 
اختصاعھا بآیة او سورۃ وھو متفرقة فی الکتب المتفرقة 
العی علیھا المعول عند الأصحاب جمعت ما عثرت 
علیھا فی ھٰذا الباب,“ ل:۲۳۵) 

ترجھہ:..! ہہ کی حدنگیں جومتجمر ہیں اورش رن مو جود 
ی سکھی اورنتصان پر صا لال تک کی خی ءعلاد و ان اعادبیٹ کے 
جو ذااگں ناپ ک ےلکن یس مان دینش :او چمذاہا تاس بات 7 
وا کرک ی ں کہ میق رآن مقدارنزولی سے ہہ تک ے اور یھی نی 
آث 001 را ری ۴ برعدشُیں ا نب 
مر میس یی ہوگی ہیں من پے مارے رہ کا اعماداورائل 
مہ کا ا نکی طرف زج ہسے۔ ہیں نے وہ سب عدشیں جح 
کردگی ہیں جومی ری نظ رےگزر یں۔' 


اس کے بعد بکشر تکتابوں کے نا مکنا ہیں اور بردایا تن ریف کے اار 
ارۓ یں۔ 


...نج زا یکتاب شی محرث جنزائر یکا قو لف لکیا ےک : 
”قال السید محدث الجزائری فی الأنوار ما 
یعسا ان الأصحاب قد أطبقوا علٰی صحة الأخبار 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٥۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


رعحن 08023-48ہہ-.><ووے جھ' ۲۱۰ر 2ت 


الصحریف فی القرآن کلاما ومادۃ واعرابًا والتصدیق 
بھا.“ (ص۳۴۴) 

7 جہ:.. سیحرث جقزائ کین ےکماب انوا ری سککداے 
بیس ک ےسج می فی کہا صسحاب اما می نے انفا کیا ے ان روایات 
مستفبیدہ بل مت ات وک یمححت پر جوصرال ق رآ ن کےحرف ہو نے کہ 
لال ترک ہیں ریف قرآن ءکام بھی ےه اذہ مم بھی ء 
اعراب می لجھی ء اود انا یکیااہے ان ردایا تک مدق بر 
۳.. ابی لص نطاب ین خلا یر ہ”نزائای کے یضر ےعلاء سے 

بھی روایا تک ری فکا متواتز ہوناخل کیا چنا ۔ کنا 

”وھی کثیرۃ جذّا قال السید نعمت اللہ الجزائری 
فی بعض مؤلفاته کما حکی عنە أن الأخبار الدالة علی 
ذڈلک تزید علی ألفی حدیث وادعی استفاضتھا جماعة 
کالمفید والمحقق الداماد والعلامة المجلسی وغیرهھم 
بل الشیخ أَضا صرٌح فی التبیان بکٹرتھا بل ادعی 
تواترھا جماغة یأتی ذکرھم.“ (ض:۲۵۱) 

ت ...روا یا رف ف رآآن یقن بہت ہیں ءن کہ 
میلعت اود جتز ای نے اپٹی ینف الات می سککھا سے یہ اک 
ان ے٥‏ لک یا گیا ےک جوحد شی ٹج ریف پر لال تک کی ہیں ء٭٭دد 
بزازأحازمٹ سےڑیازہ ال باو رآ بقاخرع ان ے”ْضْ 
ہد نت ےکا دگوٹ یکیا ے تیے مفید اورنض داماداورعلا رای وخ رہم ۔ 
لن وی ن بھی تیان یش نض رر کی ےک بی روایا تجمثرت 


ں۱ بلہ ایک جماعحت محدششگن نے ان رواتوں کے مت ات ہو ےکا 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


کوٹ یکیاے :لن نکا کر گے؟ ‏ ےگا 
پچ بنا صلہ چنرسطورلھا ےک : 
”واعلم أن تلک الأحبار منقولة من الکتب 
المعتبرۃ التی علیھا معول اأُصحابنا فی اثبات الأحکام 
الشرعیة والاثار النبویة.“ (صضص٢۵٢)‏ 
تر جمہ:..' جانا جات ۓےکہ بعد شیک لی فگا ان مججر 
کتابوں ےک٦‏ لک یگئی ہیں ین پر ہار ےاصحا بکا اتاد ےآ ام 
کسر ناوات نان کر مزا 
۳ گرماخب" فحل ال ب نے اتے وععدےکو ود اکیا سے او رآ خ کسمااب 
می ان تما می تین کے نام کے ہیں ہجخھوں نے روایا تک لی فکومتو ات کہا ےء ان نا موں 
یش علا میلس یکا نام نام بھی ہے اور ا نکی عبار ت کاب ذی ل نرہ قائل' دید ے٠‏ وہ 
رماتے ہیں: 
”'وعندی أن الأخحبار فی ھٰذا الباب متواترۃ 
معنی وطرح جمیعھا یوجب رفع الاعتماد عن الأخبار 
رأاسابل ظنی أن الإأحبار فی ھٰذا الباب لا یقصر عن 
أخبار الامامة فکیف یٹبتو تھا بالخبر.“ (ص:۵۳٣)‏ 
ترج:..”بھرے نز دم کت نی فخ رآ نکی ردانتتیل معن 
متقواتر ہیںء اوران سب رداو لکوت ر کفکردیے سے جار ےتھام 
تن صد بی ث کا اخبارجاتا رےگاء گرا لم بد ےل ر ضف رآ نکی 
روایتیں مسنلیۂ امام کی روایوں سک منییس ہیں ءلہنرا اگ تم ریف 
رآ نکی روایوں کا إ عنم رن ہوو مل“ امامم ت بھی رواغروںل ے 
خابہت ث ہو ےگا 
۵:.. لامش نکاش خی رصائی کے د بات نی سج ری کی ( سر وایا تال 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


”المستفاد من مجموع ھذہ الأخبار وغیرہ من 
الروایات من طریق اھل البیت علیھم السلام ان القرآن 
الذی بینظھرنا لیس بتمامه کما أنزل علٰی محمد 
صلی اللہ عليه وآله بل منە ما هو خلاف ما أُنزل اللہ ومنه 
ما هو مغیر رمحرف وأنه قد حذف من أشیاء کثیرۃ منھا 
اسم علیٗ فی کثیر من المواضع ومنھا غیر ڈلک وأنه 
لیس أىضا علی الترتیب المرضی عند الله وعند رسوله 


وبه قال علی بن ابراھیم۔“ 
( تیر الال ءا قرمدالمادہبت بخ:ا ص:۹٣)‏ 
ترجمہ:..' ا ن تام حد یگ کا اوران کے علادہ سس پر 
یں ابلل بی تہ السلا مکی سد لکیاکئی ہیں ءا نکا مطلب 
ید ےک جوٹ رآن ہمارے درمیان شل ےوہ اور ص ان مک ال 
علیہ وآلہ پر نازل ہوا تھا یں سے پان مین پئاٹ گے نال 
یئ ہو کےخلاف ہے اور پٹھ مغ تحرف ہےء اور نیقی اس میس 
سے بہ تک جززی ال ڈال گنی ہیںء یسے ملی کا نام بہت سے 
مظامات سے علادہ اس کے ان روایات سے بیچھی معلوم ہو ہراس 
تق رآ نکی ترتی بھی خدااوداس کے رسو لکی بین دکی ہوکی ترجیب 
میں ے انیس سب باتوں کے انل ہیں بی ین ابا ڈیرٹ ۔' 


دورآخر کے پھچ )شع موا وبی ولمراریلی صاحب*' مادالاصلاع بش فرماتے 
ہیں( ہم ا نکی عارت ا سختقصا ءالاف ہام ےم لک تے ہیں ): 


”قال آیة اللہ فی العالمین أحله الله دار السلام 
فی عماد الاسلام بعد ذکر نبذ من أحادیث التحریف 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


الماثورۃ عن سادات الأنام علیھم آلاف التحیة والسلام: 

مقتضی تلک الأخبار أن العحریف فی الجملة فی ھٰذا 

القرآن الذی بین أیدینا بحسب زیادۃ بعض الحرورف 

ونقصانه بل بحسب بعض الألفاظ وبحسب الترتیب 

فی بعض المواضع قد وقع بحیث لا یشک فيه مع 

تسلیم تلک الأحبار .“ 

تڑجھہ:..” آینے الد فی ااحاان میٹ مولوی ولدار: 9و 

ماد الا سلاع میس چند آھاد یشک رلی فکیء جو سردارا ن خلق می 

ئ اش کہم السلام سے ردئی میں ہف لک کے فر مایا ےکہ: ان 

امادی کا خقضنا لو ہیں ا میںء جو 

ہکارےسا سے ہے :ضمرور ہوگئی ہہ ملھا طز یادد اورک ہوچا نین 

روف کےء لمج الفاظ کے اور ملاظ تزتیب کےکبھ ی لمح 

مقامات شی ۱ ان اعادییث ک ےی مکر لیے کے بداس میں باج کیک 

کی ںکیاجاستا۔' 

عبارتمنقولہ کے ابد ریف ق رآ نکی پچ وصورتی بھی مولوبی دلدارکی صاحب 
نے بیا نر بای یں من جملران کےای کس بات اٹل واد ھی ےک یخودرسول ار ڈشلی 
انشعلی لم نے پنکم خداوندیی پورا رآ ن ام تک ریا ھی یں صا 'ڑ کے توف ہے ہہ تکیا 
آ تی ںآ پ نے پچھ پا ڈائی :ینس ف رق رآ نکا نا رک رن 1 پکمصلوت معلوم ہواءاسی قّرر 
آپ نے صحاب کو دیاہ بائی سب تق ہکی نذر ہوگیا۔ اصل عبارت ''عماد الاسلاع“ گی ہم 
”ازالة الغین“ ےم لکرتے ہں: 

”ومنھا أنه معلوم من حال النبی کما لا یخفی 
علی المتفحص الذ کی ذی الحدس الصائب أنە مع 
کمال رغبته علی تخلیفه علیّا کان فی غایة التقیة من 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


قومے لهٰذا عندی دلائل وأمارات لا یسع المقام 
ذکرھاء فیمحتمل عند العقل أن النبی حفظا لبیضة 
الاسلام الظاھری أودع القرآن النازل المشتمل علی 
نصوص أسما الأئمة وأسماء المنافقین مٹلا عند 
محارم أسرارہ کعلی بأمر اللء لثلا یرتد القوم بأسرھم 
لما علم من حالھم عدم احتمال ڈلک, وأظھرھم بقدر 
ماعلم المصلحة فی اظھارہء ولما کانوا ھو الباعثین 
للنبی علی ڈلک کان الاسناد الیھم فی محله.“ 
(اقامة البرهان علیٰ ان الشیعة اعدآء القرآنء ئەرردٍ 
ازدہ نوم از امام ال سنت موا عبدالشکورکحنوق ص:۸٢)‏ 
تر :تع چھلہ رای کی صصورنوں کے ایک بر ےک 
بی کا حعال معلوم ہے او رج دار ذ فی نآ دی جوتطلاض لںکمرے انس یہ یہ 
بات پپشید ہکا لک ہآپ باد جود مہا یت رقبت اس بام کی رک 
ےکی لکوا بنا خلیفہبنا میں مرا نیو مکی طرف سے بہت تقیرکرتے 
تھے ء اس جات کے لے میہرے پا س داال وعلابات 01-7 
ال قری نیل ہ ےکہ ھی نے الام ظا ہر یکی طفاطت کے لئے 
کم نا ای نع سن یس تمہ کے نام اورمنافنتوں کے نا کی 
یی میں :ا گر م راز لاگ لف" ال وداجت رنوادیا مال 
تام لوک مرف ضہوجاخیں کی وآ کا نک حال لوم تی الہوہەان 
آُما تی پروا وی کرای گے اورآپ نےصرفا یرٹ رآن 
ان پر اہ رکیا جن سکا ظا ہرکرنا آپ کے نز دیق رین مملجت تھاء اور 
چنکہ ال یق ران کے چا ڈا لن کا خیب بنا ےئن لے کون اکلہ 
انہوں نے قرآن مم کی فکردیء لکل بے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ے:...مامالخیحہ مولوکی عامجا نانوی نے اٹ یکتاب' 'استقصا الا فمامجلد 
اّگی میس جا با اقرا کیا ےکہف رکف ق رآ نکی ردایا تکتب حیعہ ٹل بہت ہیں اور وہ 
تحرف قرآن بصرا لالم تکری ہیں چا کے 
الف:. ضصف: مین گنت ہں: 
”ور ددروایاتیگر یف پت رآن بط ربق اب لتق ۔'' 
تر ج:..:نشھیحو ںک یکمابوں میس روایا تن ریف ہق رآن 
کاوایرہونا۔ے' 
رب :ز اف ایی ن لکل ں: 
اکر بے جار شی بنقتضاۓے احاد بی کی رہ ابل ببیت 
طا ہر بین مصرحہ بوقوغ نقصمالن درش رآ ن 7ر فک ریف ونتصان برذ بان 
آ رد جرف س ہام من وطام ومورد سپ زا گر 
تر جمہ:..' اگمر بے جار ہکوئی شیع ال ممیت طاہ ری نکی 
بہ تکی احادبیث کے موا ء جوق رآن کے نافئصس ہون ےکی تص رع 
گزپی خی مرف ولقتما نکا لت بن سے وکا نت لن وعامرٹ 
کے تیرو کا نشا نین جا جا ہے 
:فی۴ می لین ہیں: 
“راہ لتق از حا فان اسرارال گی وعاطا نآ ار جناب 
رسالت پناہ یکہ بدا ۃاسلام ات انام اندروای تکننداحاد ین راک 
ال است رآ تل درف رآ شریف یں وائل ضلا ل تر یف نمودند 
شش ہت لیک ور وند واصل ش رآ نکا امزل نزد حا فظان شر اعت 
مو دس تک ددم یصورت اف لآ بر جناب رسالل ت با بے مکی ال علیہ 
یک نقصے و لن عا دی خووفریادوفقا ںآ زکنزد _' 
(اقامة البرھان علیٰ ان الشیعة أعداء القرآن گ:۲۹) 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۷۳۳٠٢١٣۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


ترجہ:..! اگمرای لج (مینتی شیع ) حا فظاان سرار ای 

اورحاطال نآ ماد جناب رسالت پنانکی ے٤‏ ج وک الام کے پادیی او 

لوگوں کے امام ہیں ء امک احاد بیث روایی تکمر تے ہیں جوا بات 

برق لات کی ہی ںکیج رآ ن ریف میں پضل بست اورائل لال 

(یڑنی غلذاۓ ملا لی فکردیی اوراس کے الفاظا می سگمڑ پٹ 

کروی اور یلق رن جلی کہ ای دای نے نا لکیاخھاء حا فظالن 

شریعت ( مہ !ناش م) کے اس موجود ‏ ےکہ اس صمورت میں 

جناب رسالت ]اب مصلی اللعلی وم پر ہرک کوئ ینس او رن عائد 

یس ہوا لوک شوروداد یااشجرو کرو تۓ ہیں 

ارات منقولہ پالا ےتسب ذ مل أ ممورمعلوم ہہو ۓ : 

ا:.. دوایا تک لیف ق ران شیحو ںکی ان اعلی تین معتی رکمایوں بیس ہیں ءنشن پر 
ہب شیع بیادے۔ 

۴.. روایا یکر فکش رو س٣ض‏ بللمواڑیں۔ 

8.۳روا نت لیف کردگی جا نیس فو تو کاش٠ن‏ حد یث بیکاراور نے اطظتبار 
ہو جا فۓے۔ 

و ہش اع رر شال سار زاون 

۵ .ریف ق رآ نکی روایتیں مل امام تکی روایات سےگ میں ہیں ۔معلوم 
ہو اہ نمی ہب شیبعہ میں جس در ضمرورکی مستل یا مامت ےءا 7 ورجگز یف رآ نکا مقر 
پھی ضروری سے ۔حطرت کل ادرڈ وص ر ےا کی ا مامت کاماننا جیما فرش ہےء ای در ہب ےکا 
فرش ف رآ نکوتحرف ماخ ا بھی سے جو ا نک حرف نہ مانے وہ از وۓ رہب شیعہ 
وبیماء یکنا روب دن اور مھ ہب شیحہ سے نما رج ہہوگا ہما آئمہ اش خیش کی امام تکامفگر_ 

۹ بددایاتءق رآلن کے حرف ہونے اور بانچ ں مکیتھ ریف سے ملویث 
ہونے پرا لی صاف اود داع داال تک کی ہی ںکہاس میس شک میں ہوسکتا اور ہا نک یکول 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٥۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


مقول و جیوتاونل موق ے۔ 


ان عپارات یں دو اق ارت الیل داع ہیں ؛ھڑتی روایات ک ےک رومنواتر ہونے 


کا اوران ددایات کےت لیف پرص رت د لالم کر ن ےکا یس را اھر اتی متنق لیف ہو نے 


کاء اس ددجردا یں ےءلہنراااسل کے لے اورچمپار٘یس در ذ یل ہیں: 


:.. علا یکن کا شال ی نی رضائی کےمترم سا دم ںککعت ں: 
”وأما اعتقاد مشائختا رحمھم الله فی الک 
فالظاھر من ثقة الاسلام محمد بن یعقوب الکلینی طاب 
ٹراہ أنه کان یعتقد التحریف والنقصان فی القر آنء لأنہ 
روی روایات فی ھٰذا المعنی فی کتابه الکافیء ولم 
یتعرض لقدح فیھاء مع أنه ذکر فی أول الکتب أنه کان 
یشق بما رواہ فیەء وکذلک أستاذہ علی بن ابراھیم 
القمی فان تفسیرہ مملوء من ولو غلو فیهء ‏ وکڈلک 
الشیخ احمد بن أبی طالب الطبرسی قدس سرہ فانه 
نج علی منوالھما فی کتاب الاحتجاج۔' 
ئل تارب ۲۵:۴ علخ سر پر جردت ) 
تر جمہ:..' نر اہمارے بے رگو ںکااخنقاداس پارے میں ء 
سو ظا ریہ سےک مخت الاسلام ھن معقو بین ق رآ نک نیف و 
نتصان کے مقر تھے 1کیونل انہوں نے ال مو نکی بببت روایتیں 
اپ تاب کان !را۱ لکی ہیں ء اوران رداتوں پرکوئی جر نی کی ء 
پاوجو دبا انہوں نےآ نما کاب می سلکددیا ےک تی روا یں ا 
کتاب شی ہیں ان ہے وٹو تی ہے۔اوراسی رع ان کے استا کل 
وا ینک رد حرف ےه ہاور 
رف نے ادا رع او الا ری 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٢١٣ ۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


ہو ہدج یکناب اصتارنع یش یں او و 

”فی بیان خلاصة أقوال علمائا فی تغییر 
القشرآن وعدمه وتزییف استدلال من أنکر التغییر اعلم 
أن الذی یظھسر من ثقة الاسلام محمد بن یعقوب 
الکلینی طاب ٹراہ أنه کان یعتقد التحریف والنقصان 
فی القرآن لأنه روی روایات کثیرۃ فی ھٰذا المعنی فی 
کتاب الکافی الذی صرح فی أولە بأنه کان یثق فیما 
رواہ فیه ولم یتعرض لقدح فیھا ولا ذکر معارض لھا 
ورکڈلک شیخہ على بن ابراھیم القمی فان تفسیرہ 
مملوء منه ولە غلوٌ فیەء قال رضی الہ عنه فی تفسیرہ أما 
ما کان من القرآن خلاف ما أنزل اللہ فھو قولہ تعالٰی 
9 ٹم ذکر من تفسیر القمی بعض امثلة أنواغ 
الدحریف .., الی أن قال: ووافق القمی والکلیٹنی 
جماعة من اأُصحابنا المفسرینء کالعیاشیء والنعمانیء 
وفرات بن ابراھیم؛ غیرھم وھو مذھب اکٹر محققی 
محدثی المتأاخرین, وقول الشبخ الأجل اأحمد بن أبی 
طالب الطبرسی گماینادی بە کتابہ الاحتجاج وقد 
نصرہ شیخنا العلامة باقر علوم أھل البیت وخادم 
اأ٘خبارهم فی کتابہ بحار الأنوارء وبسط الکلام فیه بما 
لا مزید عليه وعندی فی وضوح صحة ھٰذا القول بعد 
تتبع الأخحبار وتفحص الاآثار بحیث یمکن الحکم بکونہ 
من ضروریات مذھب التشیّع ؤأنه من اکثر مفاسد 
غصب الخلافة“' 


مل ففی ال مان ہقرف ریغ أفل ال راع 7ظ۳) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٢٣۹ .۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


ا چپ فصل اس منلہ میں“ لف رن یس کوئی 
بد ٹی ہوئی ماک ں؟ ہمارے ایا ۓ شی کے اثوا لکا غلاصہ اور 
محر میک نیف کے امنند لا ليکی تر دید۔ 

جانا جا ےک مظن الا لا مھ بن تقوب گلیٹی کےکام 
سے جو بکھ اہ رہہوتا سے دہ بیس ےک د دق رآن میں نیف ونتصماا کا 
عقیدرہ رکھتے تہ اس لے انہوں نے اس مممو نکی بہت کی 
روایا تکناب''الائی یش زوالی کیا ھیں۔ جک ال لاب کے 
روغ میں انہوں نے كص کی ےکمانہوں نے ا سکاب میں جو 
یواتتیل وک کی ہیںء ان پر وق رک ہیں اور موصوف نے تل 
اع ردایا تکو وک رک کے ان کوئی جرح کی سے اور نہ ال کے 
معارت لکوکی ردابیت ذک کی ے ای رم ان کےشن یبن ابراۃ یم 
ھی بھ یی فکاعقیدرو رک ہیں ؛کیونکہا نشی راس سے ری 
پڑگی ہے اورا نیکوائل عقیرے میں غلَ ےہ چناغچ دہ انیقی ریس 
ئن ین: تن یی یما ال فلا گے خلاف یں ء بین دوب 

ہیں....'“'(یہا نی ٹھی سے انواع واقسا مک یت رنی کی شال ذکر 
سیر و 00 
شی مفس رین نے یس عیاشی ونھمالی ‏ رات ہکن ابر ا کیم دیرم ۔اور 
بی سے ایآ ہق :جح شی نلفاء او مکی قول ہے تن 
ایل اجھ ین الی طالب طبر یکاء جیما کہا نکی کتاب' الاجا 
ا سکااعلا ن۔گر دی ہے ءاورا کی تا ری ے ہمارے چنا علامہ ہار 
تیرجا کاب“ بھار الانوار'شیل اوراکں می کل اک رکا مکھا 
سے مس یہ اضائ ےک ماس یں۔ مود نے نزک کی 
اعادبیٹث کے تق ولا اور ری پچھان ٹین کے بععدراں تو یکا 3 


۱۷۷۷۷۷ 0ا‎ 610۲١۱۷۳۱٥۵٢۰۹ ۸۷۱۸۲۹6۴ ۷ 


ہن بیہا کک دا ےکہ یکنا الک لج ہوگا کید تحریف 


رہب حشیعہ کے ضروریات میں سے اورخححصب خلاق تکا سب ے 
رت ین شر یفیفرآن ے۔'' 
٣‏ رعلامیٹو رگیطبرسی'””فصل النظطا ب می س کی ہیں: 

”الأول وقوع التغیر والنقصان فیه وھر مذھب 
الشیخ الجلیل علی بن ابراھیم القمی شیخ الکلینی فی 
تفسیرہ صرح بذڈلک فی اولە وملاء کتابہ من أخبارہ 
مع العزامه فی أوّله بان لا یذ کر الا ما رواہ مشائخہ 
وثقاته ومذھب ثقة الاسلام الکلینی رحمہ اللہ علی ما 
نسبه اليه جماعة لنقله الأخبار الکٹیرۃ الصریحة فی ھٰذا 
المعنی فی کتابه الحجة محصو صا فی باب النکت 
والنتف من التنزیل وفی الروضة من غیر تعرض لردھا 
ار تأویلھا واستظھر المحقق السید محسن الکاظمی 
فی شرح الوافیة مذھبه من الباب الذی عقدہ فیه وسمّاہ 
باب انە لم یجمع القرآن کلە الا الأئمة علیھم السلام 
فان الظاھر من طریقة أنه انما یعقد الباب لما یرتضیه 
قلت وھو کما ذکرہ فان مذاہھب القدماء تعلم غالبا من 
عناوین أبوابھم وبە صرح أیضا العلامة المجلسی فی 
مرآة العقول.“ (نل اب ۳ص۰:٢٣)‏ 

رو آر ول هے یف ران می ںلقیر ونتصان 
00777 0اا ال ا مر 
انہوں نے اپنینخی کے روغ یں ا سک فص کی ہے اودا ئن یاغیر 
روا یا تیگ لیف ےک ردگی ے اورسا تج بی ای اتب روغ ان 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


وں 0 .- ا جندگی اہ ری ےک وی رواکیںی وگ رکرو گا جو 


میرے اسا سنہ اورست یب لوٗگوں ے رفا تک یں ۔اور بی نم ہب 
سے مت اسم یی کاء یداہ ایک جماعت نے ا نکی رف 
مو بکیا ےکبوکمہ انہوں نے اس مو نکی ببب ت کی ص را 
روانتی کا یک یکتاب ا تصوص]”بساب الشکت والنتف سن 
اللسزیل“ میس اورروض ہی لن لکی ہژں۔اوران روایا تکوشر ڈگیاء 
را نکی پیتاوی لکی ۔اونفق یرس ن کانھی نے شر وافی می کین 
کان مب اکس باب سے ٹاہ تکیا سے جوا نہوں ن ےکا ٹی میں منعقدکیا 
ہےاو را کا نام رکھا ے: ”باب ائە لم یجمع القران کلە الا 
الأئمة علیھم السلام“' کیولکہاان کے رت سے ظاہ رب ےک 
وواکیمصکمون کے لج باب تقا مکرتے ہیں جو صکمون ا نکو پت دہہوتا 
سے۔ می سکپتا ہو ںک ین کاٹ یکا ہنا حھیک سے متنفف می نکا رہب 
ان تن رن 7ز کی سا 
کین رع علا تسین بھی“ م رہ تقو لی بج کی ہے 


ال ے إورمنصف' ھ2 2ں سو فو نواڈ 
کے نا مکنا ہیں رق ن کا عقیدور کھج ہں_ 
شیتوں کےمشا رچیف کےمکرہیں: 
انیان نہب شی ہکا اصسل مق دق را نک ری مکومفکوک بنا تماء چنا غچہ جب وہ 


کرو دحدراوتیش رآ نکا جم اد اکر گے ء راد یا ن ق رن مت تفراتصھا کرام ری الف یں 
ھی خوب جر حکر لی اورا نکو..لہوذبااق... مرن اود منا فی قراردہیۓے شی سکو یکس یں 
چھوڑبیء اس پربھی صب رنہ ہوا و ح نیف رآ نکی دو ہترار سے زیادہ رواتتیں تفر تاور 
رہہ کے نام تی فک۷ر کےمھیوں میس پچھیلا دمیں۔ دہ بچھے تھے لو کق رآ نک رم مکی 
طرف سے شیک شب یس بے جانمیں کے اور اسلا مکی جخیادمضہدہم ہوکردہ جات ےکی یکن یہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


جوچھہجھٴ >- وب 


انی ول تھی :ںا انداز و ئیں تھا 27 1 نووا ےگگرارہے ہیں اور کال 


تاب مقر نکیا شان ”لا ریب فی ہے اس سےکھیلنے والوں کے ایے مر با پاش 
انی ےہ دو ا یآ ٹپئی نوا ول سيتئن ك یس ےلاو فک :کین 
کیہ بلنہد پت ڈٹیاتک نے کے لآ کی ہے ؛ اود راس کے با رے میس پیل دن سے الات 
کرد یاگیاے: 
"ان الّذِیْنْ کفَرُوا بال اکر لما جَءَمْم وَنه 
کب عَریْز لا یه لَاطل ِ'يَْيٍ یه وا ِْ عَيہ 
نز ُلَ مَنْ حَکِیٔم حَمِیْدِ“ (حم السجدة:ا۳۴۳) 
ڑیں: ” جولوں مر ہو ےفحت سے نے بی ان 
کے پا اودد ہکتاب ہے ناددہ اس پرکچھو کا دن٠‏ ل کی ں7 کے سے 
اور نہ کیہ سے أاری ہوئی ہے عمتوں والےء سب تر لقوں 
زا نکی" ررے نہ 
انان مہب شدع کی ان تھا روہ ھکتوں کے پاوجودو نیا نے دک ےل اک تن 
تزالی شا کےگضل وکرم سے تن اسلا مکا پجیگکراء ن سیا برک راک یقرت دحبتمسلرانوں 
ین ےک گی :اد دی رآ نکآ رای کے پازے ہو فی کے نول نشین یف دش رکا 
کوکی کا نما چچھا۔ جب حعھدتو ںکونھ ریف ق رآ ن کا ڈہنڈورا پے ہو مین جار صمدیاں 
گنن اود نہ ہواء بلہ اکنا لیے کے دی پٹ گئے اورمیہو کوک ری فِق رآ ن کا عقیرہ 
رکنےکی وجہ ہے کال قراردیا جانے لگا تو شی اکا برک بد یکر اط ہولی بک رت کا ہتمیار 
موجودقھاءاس لئے جار مزرنگوں نے از اوئیگ لیف قرآن کےمقیردے سے ا کا رکردیا۔ 
یہ ووریی پٹ ! مام ایل سنت ضطرت مولا نا عبدرالشکو نو کے رسمال تبیہ لیئر بین سے 
٣ی‏ ہو عو کیا قرو ول ودای کر _ےامسو تاروت 
ق رن کے جواب می کک ایا تھا حر کھت ہیں : 
سس ہہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ا عقیقت می ےکلشڑہوں کےتمام مح جن اور بڑے بڈے اکا بلح ہب شیحہ 
کےس بکھر یف ق رن کے قائل ہیں ء نکوٹی شید تر یف ق رآ نکا مگ رہواء نہ ہوسکتا سےء ان 


کے مہہ بک جیاددی عداوتیٹ رآن رے۔ 

شیعوں کتتی کےصرف چا رآ دی از اونیٹر یف ف٢‏ رن کے“ رہہو گئ ہیں: ٰ 
شریف تی ۴.. جن صدوق: ٭.. ا قفرطیء ۴...ش اہیلی طبری مصیف 
تی رشع ا بیان۔ جب علاۓ شی کوسنوں کے مقا لے یس ضرورت یی کی سے یا بے 
کوسلمان شاب تک رن ےکی ہوک غام پیداہولی سےا یش حا ریٹش ےکی نرک یکا قوال بی 
کمردپتے ہیں اور بڑی صفائی ےکھد نے ہی ںک ہمارےأو پر ہلل بے الام ہے ہمت 
تحرف قرآن کے تقائل ہ ینوس ہیں۔ چنا نہ عائزکی صاحب نے بھی اپینے رسا لے 
”مو عن نج لیف ق نیش مج ی کاردا یی ب 62 نے گنک ا کازددالیٰ 
سے وج وکا کھا جا جا ے مگر جولوگ نہب شیع سے واقف ہیں ء الع کے سام یکا رروائی 
نھیں لی تی 

اب بتونہ تقواٹی ان چارو ںتفصوں کے اقوال اورا نکی تقیقت و اصلیت کا 
ا ظہارگیا جات ے۔ وا ٥‏ کہ جب باخیالن ہب شیع عداوت ظ رآ نکاع اداکر گے اور 
راو ان ق رآن شی صا کوچھی نال خودخوب ہجو ںکرلیاء ب بھی محبرنہآیا اور ریف 
رآ نکی 7 نار نےزیادو روائیں حر تل د امام بات ر” کے :امم ےکی کر کے ای 
کمابوں بی در عکردییں۔ جھے ت ےک ہاب دینج الام مٹ چکاءملمان ق رآآن بجی دکی 
رف سے ضرور ہک میں یڑ جانفیں گے مر دا کی قد رت !نہ اسلام ھٹا اور تق رآن مجید 
یسکس یکو کرک پیدا ہہوا :ملین تو مسلان یہ رسکسوں بھی ان روایا تن ری فکوگو شر 
سے بدن مُچھا اددا نکی یق رن شر یف کےےحرف ہو ےکا وک نہ پیدا ہوا خلا سرد میورء 
چوصو یرہ کے لیفائن کور خ, اوج تحضب خفسالی ہئے کے اور پاد چو ذائش ک ےک 
مسلمانو ںکی طرف سے ا نکی جیلو ںکوحر فکہا جا جا ےہ بھی دوق ہآ نکوخرف تن ہکہہ 
کےاورای 7 ا 0 ا و 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢١٠٢۹۰۷۸۷۸۲۹6۴6 ۷ 


مر ایج او رکال ش رن ہے اودااس میں 

ایک تر فک یھ ینمی فیس ہوثیء ہم ایک بڑی مضبوط بنا یر دکوگی 

کر سے ہی کی رآ نکی ہرآیت نما لف اورخی رضخ رصورت میں سے 

اورآخ رکا رہم اپٹی بح ٹکوون ڈیم صاحب کے شیہ مت مکمرتے ہیں 

دہ فیصلہ یر ےکہہمارے باسسل جوش رآ ان ےی مککائل ور برا مشیں 

ہرنففاش ( صلی اش علیہ وسلم) کا کے ہیں :لی اک یسللمان اس کے 

ہف ظاکوخداک لف ا خیا لکمرتے ہیں _'' 

چیہ ہواکہجا روں‌طرف سے لف رم مع وطلام تکی او بچھا ٹر ہو نے کی اور واتتی 
ال سے بڑددکرن کت ائ کیا ہوک کرش دی نک نام لیے ےہا کی جڑکا شاشرو عکیا۔ 
اسلامکوکیامناتے خودبی اسلام ارت اکھد کی ای کی رتا 
ہے ا سکو می پیل متا سے : 

جراۓے را کے اید پر ٹروزر 
ہرآ ںکوہف زندرشش بسوزد 

الا خرشریف منشھی کے ول مس برخیال پدا ہوا رکی رح یلت کک ٹکامٹان 
ان :اذا نہوں نے تقکر کے ریف رآ نکا ا کارکرد الگ افو سکہانہوں نے ایک 
اس ےکا کا ارادہکیا نس می کا میا لی ما ل می وہ اپنے قو لک یکوئی وبیل مذہب شیعہ کے 
اصول کے مطاب یل نکر کے نہاپٹی تا حیرمی سکوٹی روابیت آئء مو شی نکی لا کہ نہ 
زوا ریت ا گی اب رے یکن کالفا گی دیصنع یی س:×د پاش نل نے ون کے 
نہب کے ل ےم تقا میس ء اور وہ ای اکر نے پرتجبور تھے رآ ن پر اما نکا دوگ لخیر 
موب شی کی نکی کے من بی نتھا۔ 

سجلائش وخ 0 ور بر ما شیبعہ میں ہیں نتھوں 
نے از ا وق رن ش ری کرای فکا انا رکیاء اود ہ رک مکیت!رلیف سے اس کو اک بتلایا- 
ول شریف منشیء دومث صدوق:سوم ایٹتفرلوصیء چہارم تچ اتی طری مصن فنفیر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


”'ٌ الیان“ ا حا دا شی میں یز ک1 یھ خر تن 


انکارکن لکیا۔ 


فی اپ تن ای ےج 

الشانی عدم وقوع التغیر والنقصان فی وجمیع 
ما نزل علٰی رسول اللہ صلی اللہ عليه وآلە هو الموجود 
فی أیدی الناس فیما بین الدفتین والیه ذھب الصدروق 
فی عقائدہ والسید المرتضی وشیخ الطائفة فی التبیان 
ولم یعرف من القدماء موافق لھم.“ 

تزجہ:..' ڈوم راقول نہ ہےک یف رن نیف او کی 
یں ہہوگی اود کہ جس فد رق ران رسولی حداص٥کی‏ اللعلی وآلہ > 
غازل ہوا دولووں کے اتھوں ٹیں اوردفتوں کے ٹچ میں موجور 
ہے اودانی طمرف گے یں صدروق اپ کاب عظاد یہ اورسر 
می اورشعاطا ئن( نف وی )مان می +او رین می سکوئی 
ا نک مواشن معلو میں ہوا“ 
یا یلاب ک :۴ض مین رت 

”والی طبقة (رای المرتضی) لم یعرف 
الخلاف صریخا الا من هٰذہ المشائخ الأربعة.“ 

ا ری رن 3 لے جک مل بر یف 
ق رآ نکی صراحل عخالت سوا ان جار ہز رگواروں کے او ری سے 
مو یں ہوئی ' 


بیرجاروں اُشفاص ال و از رر او ہگ ریف کاانکارکیرد ہے ہیں ءالن کےا کر کے 
از اوہ ون کی رشن دی ل جن ہیں: 


اؤل: .. ہرود ابی سن می لکوئی حد یٹ اما ھمتضوم یی یی لکرتے ‏ نیش 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳٣٠۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6۴ ۷ 


جھ دح چم جوھہ دوچ دو -یأے 


مر کے تھے اور نان ڑاکداڑ وو ما رأعاد را نف ان جواب و تۓے مس را موم ہوا یس 
نکار انکاگل عقیروےتھا- 
دو :... کہ دو قا شی تج ری فکوکاف کیا مع رگا وبھ ینڑیں سکیتے ہ مر واقلی ان 
727 صلی عقیر می ہوتا جو وہ زبان سے کپ رج یں لو 7 0و ایھان رھ 
ضمرور یات و گن یل دکعت او رفا لک بی کو ہما 007 فر بل ا کفرما ہت 
سلش: کہ بی جیاروں صاحبا نہ رآ نشریف کے تفو ظط ہو ےکوسھا بک را مکی 
ما گی جیلاورا نکی ممیت د بی اورتت ابھا نی سے ںای تکمرتے ہیں ۔ بھلا اگمرانیہوں نے 
ال کیا ہو جا لو صم 9 برا کے ان اوصا کا اھر اکر تے ؟ کیا اگ رک وی مر زائی س ےک ہ میں 
مرز الام ات رکون نی مامتا ہہوں ‏ شیمچرد ءا کا سقولب مھا حا لھا ہے کوک نارگی سے 
کہ میس حضر تی سے سن ن اکن وحبت کت ہوں نوا سکی بات قائل اختبار کی ے...؟ 
رکیف !خوادان جا رأشنائ کا !ہکا راز ر او نیہ ہو یا نہ ہو گ رہز امدازدوجرار 
حا یٹ اتےتصومی نکی ان کےقول کے لاف ہیں اوران کے موائین اٹول پھوی 
رواٍت* یں اود چھرالء جن ا اکا نکی دل ما نکی ضائے ور نشی نا جات 
سالفا ا نکا نے | لا اود ےن ش یتال زان نا و کی جار 
یتو ںکونکفج ری فکہناکسی ط رح جج ہوسکنا ہے۔اب ان ار تنصوں کے اقوال اوران 
کے ذااکی لے اور اتصاک با 
یت لان“ لکن اص ن یی ے: 
”ومن ذلک الکلام فی زیادة القرآن ونقصانه 
فانه لا یلیق بالتفسیر؛ فما الزیادۃ فمجمع علی بطلانہ: 
وأما النقصان فقد روی فیه جماعة من أصحابنا وقوم من 
حشویة العامة ان فی القرآن تغییرا ونقصانا والصحیح 
من مذھب أصحابنا خلافہ وھو الذی نصرہ المرتضی 


رحمۂہ الله واستوفی الکلامِ فيه غایة الاستیفاء فی جواب 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


المسائل الطرابلسیات وذ کر فی مواضع ان العلم 
بصحۃة نقل القرآن کالعلم بالبلدان والحوادث الکبار 
والوقائع العظام والکتب المشھورۃ وأشعار العرب 
المسطورۃ فان العنایة اشتدت والدرواعی توفرت علی 
نقله وحراستہ وبلغت حذدًا لم تبلغه فیما ذ کرناہ لأن 
القرآن معجزۃ النبوۃ ومأخذ العلوم الشرعیة والأحکام 
الدینیةء وعلماء المسلمین قد بلغوا فی حفظہ وحمایتہ 
الغایة حتی عرفوا کل شیء اختلف فی من اعرابہ 
وقراءته وحروفهء فکیف یجوز ان یکون مغیرا ومنقوضا 
مع العنایة الصادقة والضبط الشدیدء وقال أیضا قدس 
الله روحه ان العلم بتفصیل القرآن وأبعاضه فی صحة 
نقلہ کالعلم بجملتہء وجری ڈلک مجری ما علم 
ضرورہة من الکتب المصنفة ککتاب سیبویە والمز نی 
فان أُھل العنایة بھذا الشان یعلمون من تفصیلھا ما 
یعلمون من جملتھا حتی لو ان مدخلا ادخل فی کتاب 
سیبویە بابا فی النحو لیس من الکتاب یعرف ومیز وعلم 
ائه ملحق لیس من أصل الکتاب ‏ وکذڈلک القول فی 
کتاب المزنیء ومعلوم ان العنایة بنقل القرآن وضبطه 
اصدق من العنایة بضبط کتاب سیبویه ودرارین 
الشعراءء وذ کر أَیضٔا رضی اللہ عنه ان القرآن کان علی 
عھد رسول اللہ صلی الله عليه و آله مجموعا مؤلفا علی 
ما هو علیے الآن واستدل علی ڈلک بأن القرآن کان 
یدرس ویحفظ جمیعه فی ڈذلک الزمان حتی عین علی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠٥٢١٣۹.۸۷۱۸۲6۴ ۷ 


جماعة من الصحابة فی حفظھم لە وانه کان یعرض 
علی النبی صلى اللہ عليه وآله ویتلی عليه ان من 
الصحبة مٹل عبدالل بن مسعود وأبیٗ بن کعب 
وغیرھما ختموا القرآن علی النبی صلی اللہ عليه و آله 
عدىة ختمات وکل ڈلک یدل ادنی تأمل علی انه کان 
مجموعامرتبا غیر مبتور ولاھبٹوٹ,: وذ کر ان من 
خالفو فی ذڈذلک من الامامیة والحشویة لا بعتعد 
بخلافھم فان الخلاف فی ڈلک مضاف الی قوم من 
اصحاب الحدیث نقلوا اخبارًا ضعیفة ظنوا صجتھا لا 
یرجع بمٹلھاعن المعلوم المقطوع علی صحته. 
اتل“ (ع:ا ص:۱۵) 
ترجہ:.. ‏ اورین بحملہاس کے ح رن جس فمادگی آودکی 

کی چٹ ےھر سے پ شی رک کابوں میں وک رکر نے کے دای 
نیس کیوف یق رآن یس زیادکی نہ ہونے بن س بکا !ہما ےرہ 
گ کی فو اس کنل جعارے اضحا بک ایک بجماخعت نے اور 
فو ما م ہک ایک قوم نے بیدوای کی 9-2 
تدل اور با کی ہوئی سے ہر ہمارے اصحا بکا ج مہب ا کے 
خلاف ہے اورائ کی جائیدشریف منعی ن ےکی ہےء اور انہوں 
نے مسمائل طرابلمیہ کے جواب میں اس کےشحلق بپوریی بج کی 
ےء اوران ہوں نت ےگئی مظامات پر فک کیا ےکیش رن کے نت کے 
ساتیرمنقول ہن کیا لم زن تلق ےنت اظروں نت وظداور 
بڑے بڑے عادٹوں اورواقعات اورشپو رکا بوں اورعحرب کےکے 
ہوۓے اشعارکاعلم ؛کیونک ق رن کال وتفاظت کے اسباب بہت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


تھے اورا لکثزت کے ساتجھ ‏ ےک مکورہ بالا چزوں میں شہ تےء 


کیونک یٹ رن اہ نت سے اور عو مم شر عیہ دا ہکا ٤‏ یکا ما ا 
او ریما ۓے مین ق رآ نکی تفاطت میس اننام کہ نے ہیں ء یہاں 
کک ہش رن کے جس مقام نشیس اعراب ادرظراءت او رتو کا 
اختلاف ےسب انہوں نے معلو مکرلیا ےہ میں باوجودامیکی ہی 
قجراو رت ققجہ ک ےکیوگرمکن ہ ےق رن مج تقر وجبرل اورکی 
ہوجائے۔ نیزشریف عرنصی کہا ےک رآ نکی ہر ہرآیت اور 
اس سکگروں کے جج اتل ہون ےکا عل ھی دیما تی ہی اکم 
رک ا ا 

اور یم اس در پچ میں ہے بس در ہے می سکتب مصتفہ 
اعم جی ابد بیباددز یک یکنا بکمہال لفن کے لوک الس کے ہ رہ 
ےکو ای رع جات ہیں چشس طط رع اس کے ہکوہ یہ تک 
مع راک یفن ا یرکشان الک ا بف او داز تن صلی 
تاب میں نہ ہونو نیقی پان لیا جا ۓگا اود !یا زکرلیا جا ےگا اور 
معلوم ہو جا ۓگ اکہدہ ا لیاقی ےء اص لکنا بکامیں ےہ بی ال 
کاب مز لی کابھی ہےءاورس بکومعلوم ےکن وتفاخطتق رآن 
کی توجہ بذیدس تکمابسیبو یہ کے اورشعراء کے وواوں سے بہت 
فالیگی۔ 

نیزشریف نشی نےککھا ےب یق ران رسول ارڈ٥ی‏ الہ 
علیہ دآلہ کے زمانے می مو وعرتب تھاء یی اکردد اب ہے ۔اور 
ا کی دییل یہ جیا نکیا ہےکبق رن اس زمانے یل پوراپڑھایاچاتا 
تھا اور حذ اکرایا جا جا خھاء یبہاں مت کک مھا کی ایک ججماعت حفظ 
ق مان یش ناعزدک یگئی سے اورق ہکن نی اکر می اش علیہ وآ لہ کے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


سا ےی ںکیا جا ما تھا ۵10ە8۹هھ۹/ٗ تاتھاء اور نیقدنا صا 

بج مت سر 8 

علیہ وآ لک یکئی صمخم ق رن کے سنائۓ تہ اور برسب با تل ایک 

کھوڑ ےکور کے سا تج بمارکیا می ںکہ بے ان ک ق رآ ن مموعح وصرتب 

تا کک ےگکڑے اور یرگنہ تہ تھا ۔اورشریف مکور نے بک یککیھا 

ےک جولوک امامیاورتو ہیل اس کے مخخالف ہیں ا کا غلاف 

لاق اخقپا نیل کیوکہ اس م لے یس ایک جماعت رین نے 

الا فکیاےءانہوں نے چندضعیف روا یت ںاخ لکر کےا نکو 

مجنولیاءھالائکہارسی رواقو کی بنا لی ینس بچھوڑبی اس 

فی شع البیان“ کی ای عبار تکو جناب عائرکی صاحب نے درمیان سے 
تلع وب یکر کا لکیاےاورناواتفو ںکوف ریب دبا ےکیٹ تر یت ران ک٤‏ وا لکگیںن۔ 

الین ھی قائل تھا شا ےک جناب عائرکی صاج بکا دوگ ہے ےک ”شیع 
مدان ةط ا تر یق رآن کے ا ل ہیں ارگو از مو ےنہر ری صخ:۵۷۹ ہگ ر؟ کے 
چی لک :۹ھ می ںآپ اھر ارکرتے ہیں نہ اکٹ اضیارکی شی ریہ رن کے تال ہیں 
اوراخبارگی کےسمن یآ پ ا عد بیٹ غیرمقلد بین بیا نکر تے ہیں ۔ پچ انیل تقا ینب لیف 
اہۓ شغ الاسلام یی اوران کےاُستاوشھی اورطبری مصنف احتا عکوبھی شا رکرتے 
ہسں۔ رکھطا ہوا مان کہ سکیا ے؟کوکی ان سے لہ میجھےکہ یہ بن روا رج نکوآپ خودقائل 
خرف مان رے ہیں شیعہ تج ےک ںکیں؟ اگ ر جے اور رق تےل آ پ کا یکہن اک شیہم 
ما تی یں : خودآپ کےقول سے فلط ہوگیا۔ ایی خزائ,ض اور ےشھ کی پا ٹیس اس 
رما لے میں بببت مہیں۔ 

البیان' کے علاوہ تج نکتابو ںکی خپارقس حائرکی صاحب نے اوخ لکی 
ہیں ء ان عپارتوں می بھی انیس مر ینک ری فکاقول سے ملا ن' اش البیان جس پورے 
بط ونحیبل کےس اتمم داائل ےء اوران می یی لیس ےءلہنا م انی عبارت شی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


ابیان' یر انا ار ریف می کے دا لا حال اوران کا ری ٠‏ 
را ٹریں ۸ی17 0 مز ادل شی ؟ھوے سا ار بارے 
یں یہ الیم ان تجھوٹ ےک ۷ اشیون ک ےی بس کا الما فے دروخ نزو کی 
رات کی ںکر سا ۔ ا ں کا پھوٹ ہوناردایا تا تاج وغیرہ کے علاددہ جوأو منقول ہومیں, 
تو دحا یی صا کا دادعا ین الاصول سے ظا ہرہے ٤‏ د+عبالرت ہیر : 
فعن اکٹر الأخباریین انه وقع فیه التحریف 
والزیادۃ والنقصان وھو الظاھر من الکلینی وشیخہ علی 
بن اب9راھیم القمی والشیخ احمد بن أبی طالب 
الطبرسی صاحب الاختجاج۔“ 
تر .”اگج رین ے ختول سے ا شش 

ار مک ٹاکس کک کے ظا رک بی اوران 

کے تنا دی جن ابرازیرٹی ے از ات بین ا ی طالب طری 

مصنف اتا نج سے 

ہیں جب اکم زین اور ا بڑے بڑ ۵ .و و 
جال ےکا قا لآ پ ود مان ر ہے ہیں نشیف علض یکا یکہناکیق رآئن یں نی نر ہو نے پر 
سب نمیو کا ا جماحغ سے کوٹ ہوا لیکئیں..؟ 

۳ ریف نشی ق رآن بی سلگ کی رواتو لکاوجوداپنے یہاں ما نگ کے ہیں 
گل جمارا ہب ا سس کےخلاف سے گی فلڑ ےج ہو ےک کیا مطلب۔؟ ‏ ووبی ول 
ہ یسل ےس سکیا تا مو مکی طر بث .) ہو کل ووثول جو زان راز دوہرارأحادیٹ 
موم کے غلاف ہو...! 

۳ ش ریف عنشی انی ردایاتت ری فک کھت ہی سک ضحف ہیں حدشین نے 
ا نکی خا لک کے ان کے موافی حقیدہ بالیا۔ ریقو لچھ کس قد ُفرجب ہے ان 
رواوں کےیضسعیف ون ےک یکوئی دج میا نک نی جا ہے ء با قاعدہ راو یوں پر ج حکرتے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٥٢٣ .۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


ا زوس جنائۓ تیر ا 2 رو بی تکوتمع کید خناصسی کے 7 0 بل 
قولکایں ہوتا۔ اچچ پالڈرنش ابی رواتتیں جوددہٹرار سے اد ہیں س بط ہیں نو شریف 
من یکوئی جع ردایت ایی شی کرد ے کہ فلاں امام موم نے فر مایا ے ہق ھن یں 
تی فکیں ہوئی۔ جج نہ ھا وی یف ىی روایت الں ”مرن 1 یا کمابوں یی 
7 ۸-0/0 

*.شریف منصھی کے ہی ںکیق رآ نکی تفاطت کے اسراب بت ےق رآن 
مجزء نہّت اور مخ دن تھا مسا یڈ ےمحافظہ وین تھے رآ نکی تفاخلت میس ےے انا اور 
و 6ل تھے بہت سے ما مزاول جن ڈور اک لور رآ نع کے 
حافظد تےءاورآحض رت سلی ارشرعلیہدآ کوک یکئی بارخ سناگے تھے اورپ کے ز مانے میس 
لوکو ںاو درس ران دیج تھے ۔ صا کے اس بے مکح ا خیام اورنت کے سا ھ رآ ن 
یکم ریف ہوجاناعحالی ے۔ 

م ارت شی ےتضوب]) عازل صاحب !مان ہے ازنشائغ عفن ت2ا واڑی 
شیع ںکاخقید ھا رک راغ ک تلق مکی سے جوش ریف نشی نے جیا نکیا ؟ آ یا مہب شیع 
صحا گرا مکوالیمادیی د مین داراور دی ن کا محافظ ہش رآ نکاشہبان ماضاے..؟ 

یق شرریف مض یک یت رر رہب شیعہ کے پالئل خلاف سے :شیعہ نہب ت 
صا کرام کو..بمواذای.... نع دہ نکتا ے او رکہتا ےکہ پور ےق رآ نکا حا فظا سوا َء 
کے درکوئی تھاا ودنہ وکنا ہے۔او کنا ےک یما برکرا ہرک ق ران ک ےگ بائنع نہ تھے ء او رکہتا 
کروی خدائصلی ال علیہ عم یادفات کے دق رن کےحرف ہوجانے کے اسیاب 
زیادہ تہ نے تفخو ظا ر تی کے کیو تھا میا نو گن جے اورصا ض ےلت وش وت جے 
موم نصرف جار یابا تھے اوردہہرط رح سے عاجتزاورکرورہ بے دست پا تے- 

شرنیف من یکی پیک رم پالئل خ ہب ال سطنت کے مطابقی ہے :مھا ہکرام کے 
رفضائل ائل سن تکاعقید ہ ہیں نہک شڑحو ںکا۔ ای وجہ سے خودعاماۓ شیعہ ن بھی ش ریف 
موصصوف کےگو لور کیا سے۔عا تی صاح بکوا زم تھا را7 کویگ یف لکرتے اوران 


۱۷۷۷۷۷۷ 5610۲١۱۷۳۳٠۱۱٢٣۹. ۸۷۱۸۲6 ۷ 


سے 


کاجواب زتٹے ہلک یمان دارگی ا نکی و کے خلا می ء یراب شی ا سکولکتا ون 
عائ ری صاح بگورفر ماک را حظبگر گی 
علا مھ بن شس نکاہیفظی رم صا لی یں ریف مصوف کے قو لکو اس طرب ر5 


ےون 


”أقول لقائل ان یقول کما أن الدواعی کانت 
متوفرۃ علی نقل القرآن وحراسته من الموٴمنین کذدلک 
کانت متوفرہة علیٰ تغییرہ من المنافقین المبدلین 
للوصیة المغیرین للخلافة لتعضمنہ ما یضاد رأیھم 
والتغییر فیە ان وقع فانما وقع قبل انتشارہ فی البلدان 
واستقرارہ علی ما ھو عليه الآن والضبط الشدید انما 
کان بعد الک فلا تنافی بیٹھما بل لقائل انە ما تغیر فی 
نفسے وانما التغیر فی کتاہتھم ایاہ وتلفظھم بە فانھم ما 
حرفوا الا عند نسخھم من الأصل وبقی الأصل علی ما 
هو عليه عند العلماء لیس بمحرف وانما المحرف ما 
اظھروہ لأتباعھم واما کونە مجموعا فی عھد النبی 
صلی اللہ عليه وآله علٰی ما ھو عليه الآن فلم یلبت 
وکیف کان مجموعا وانما کان یٹزل نجومًا وکان لا 
یتم الا ہتمام عمرہ صلی اللہ عليه وآله وأما درسہ 
وختمہ فانما کانوایدرسون ویختمون ما کان عندھم 
لاتمامهہ,“ 

لد اکا ہو ںک ایک کین وا لاک سا نے 
سط رح ق رآ نکی فائظت کے اسباب ایمان والو ںکی طرف سے 
زیادہ تھے ای طرع منافقو ںکی طرف سے ہجکھوں نے دعیت 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610٥۲١۷۳٣٥٠۱٢٥۹ ۸۷۵۸۲۴ ۷ 


ہوک خداکو برل دیاءخلاف تکوڑصت کرد یا ظ رآن کےتحرف ہو جانے 
کے ساب تیادہ تھے لوف رآ ان ال کی رائۓے کے قلاف تھاء اور 
ق رن میس اگرت ریف ہوگی ےن ول اس کےک دو شہروں شس لے 
اورحعاللت مو جودہپرشرارینڑےء اور پیقت فاظت بعداس کے ہوئی 
ے۔ یں ال حخت تفاخطت اورک یب ق رآلن یل نحدمنا فا ت کیل ء 
01ھ ےک ائل خرن کمری ک یں ہوٹیء 
تر بیف صرف ان ک ےکن او رط مس ہہ وی کیوئکاخنہوں نے اصل 
ے لیے وخ تک ری فکی اور ال ش رآن انی عالت پر اپۓ 
اس میی ملا ٤ح‏ رن 2( انھمہائل یت )کے پا موججود سے میں جو 
مان امہ کے اکنا سے دہ نر ہیں کے رر 7 سے ںیک کو 
عون ق رن نے اپنے بر وئوں کے لے ظا رکیا۔ بای ربا می کہ 
ق رآن نی صلی الف علیہ دہ کے وفت میں جح ہو کا تھاء جیساک ہاب 
سے مہ بات ناب ت کی +اورال ز مانے میں یح ہوسا تھا یوک 
تھوڑاتھوڑ زازل ہوتا تھا اورا سکاإخا مآ حضرتیصکی ال علیہ وآلیہ 
یرگ انام برموتوف تھا۔ر پا ق رآ نکادرس اورتم تو جس فرر 
ان کے پا تھا ا یکادری ‏ تخمکرتے تھے نہ پیر ےکا 


لے ریف دش یکا قول ت3 ہدگیاء ود لال انہوں نے بچڑگی یئ تھے دد نہب 
شی کی 3ح )لفاغ ات جو .ا 
لا شی لقزدبٹی ن بھی صائی شر کاٹی بی ش ریف ع نشی کے اس قو لکو کہ 
کاو ھا ےک 


نفگوکی ا چمکیش رآنن یی اس تک درمصر اح تہورداست 
ای از ا شکال غیست و استدلال بر نس اجتنمام اصحاب وائل اسلام 
بفس بی ق رآن بضابیت رکلیک است لھداطلا رع بل ا یبکر ور وعنان _' 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠۱٢٣ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


تر ...اس جات کا ذگوگ یکنا ہف رآن می سے جو 
مصاحف وروش سے 2 ہے اوراس برا پاورائل| اعلام 
کے اہتممامم سے چوانہوں نے ماق تج رآ 707001۴ ۴ 
نہای تترور سر سو ام لگ نعل مکز کن ک ےک الویر مرو 
اع ن ےک اک یا کا مگ ے۳" 


رمسرآرلٰظىے۷ںفوبے' عو کے سا من مین ک ریف 


کےتو کون کیا سے اوران جنے ان لو ھ۶ صدو ق9 ہت پریاں 
نی ہیں ءاورآ خریں‌صا فلودیاے رف ھ انکارٹں خی ںی عایٰ ےوہ 


رہب شیع کے لن ےک اتل ےو کے ہیں: 


”'قلت انە لشذّة حرصہ علی اثبات مذھبه یتعلق 
بکل ما یحتمل فیه تأبید لمذھبه ولا یلتفت ال لوازمہ 
الفاسدة التی لا یمکنە الالتزام بە فان ما ذکرہ من الشبھة 
ھی الشبھة التی ذ کرھا المخالفون بعینھا وأوردھا علی 
أصحابنا المدعین لثبوت النص الجلی علی امامة مولینا 
علیٌ عليه السلام وأجابوا عنھا بما لا ییقی معه ریب وقد 
احیاھا بعد طول المدة غفلة أو تناسیا عما هو مذکور 
فی کتاب الامامیة.“ س٦‏ ل۰:ء۵٣)‏ 

ترججمہ:... ”می سکہتا ہو ںککہ صدوقی ان رہب کے 
اب کر ن کا اتا خت ھ بیع سےکہ جس بات میں ذراسا بھی 
اشمال اپنے نمہم بکی تا میک پا ا ہے ا کو نے یڑا ہے اور الس کے 
تا فا سد ہی رف فجن سکر ماکان نا حکإیلی مک رنا اس کے 
امکان می یں ۔ جو اعترائ اس نےگر ایق رن پےکیا ہے بیض مہ 
وئی اک اس ہے جہویخاخان ہما رےاصحاب پر حضرت کی اماصت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 7 


7 پلی ہوتے کےے حا نک ارت نے اواب بے - 

ان کے اعتراش کا جواب ای ےعمدہد لال سے دیا ےک پچ رک گی شب 

ائ ینید بتا کر صدوق دن نے ایک زمازیدراز کے بعد راس 

ھترائ کو زند ہکردیا اود چھ ا ےکنتب امام می لککھا ہے اس سے 

خلت اف رام گی اخفتیا ری 

ای علا ٹورئی نے پائکل چ ھا ےک ہاگ رمک یت ری کی دیکل پچ ہو اور 
صحا ای ےکائلء !یمان دارادرمحافظط دن مان لے جا ٗی سکہا نکی وین دارکی اورحاظت 
وین کےبھرو سے برق رآلن می لت رای فکا ہہونا عحال ہونے پچ رغلافت کے ما لے می بھی مانتا 
پڑ ےگاک۔اگرسول الڈ کی ارشعل لم نے حضر تک کوخلیفہ بتایا ہوجا تو نائمکن تک امے 
وین داراود وی کے ہاں شارعم رسول یکا فعض کو خایفہ پا لی طڑا 
”فک“ ءاگرعخرت فاع تا عق ہوتافق ملگیا می بن داز جماعت زعو لک ہج کات فی ن 
لی رن مھا کے تام مظالم کے افسانے بے بذیاد و جا یں گے۔ 

خلاصہ یہہ اک ہ9 جا 5 س نیو گی رح حا رگ را مکی د بین دارکی او رن ںکا 
یرہ رکھوہ اورشحیحو ںکی تام روایا تکودرو بتان مجھوے ق رآآن پر !یمان ہوسا 2 
درد کر ۱ 

من ران دن پا رن ووں 
21 خال اہت وحال ات وجچؤں 

دشرا کہ بت ورک ہویچگی ا وی طور ریا بت وگ یاکہاصلی رہ بمیوں 
کا سی سے یش رن ش ری نحرف ےگ نمی خی وتبدرل الغفا ظط وو کفکاءاورآیات وسور 
بلکما تک ترتی کا خراب ہونا خرن ہک مک یف ریف اس میس ے٤‏ جو شی تی لی کا ا نکار 
کرتا ہے ودتقیکرد ہا ہے۔ عائزرکی صاحب اگ رشیعو ںکی بای سے اس دا کومٹانا جا تے 
ہیں ذ ہا ری ال کت رمک جواباگحھیس اوراپناوعدہ اراس اور جواب می ا نک وت کا مکرنا 
رودیی ہیں: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


اؤلي:... کہ ڑائداُڑ دہ ترار ردایا تک ریف ف رآ نکی جا نک یکابوں میں 
ہیں مج نکوع تین شی متو ظز وس خی کے ہیں ءان کے خی مت ہو ےک یکوکی ای م ول 
بج بیا نکر سس جوان کےا صصوگی عد بیث کے مطا لی ہواوران ردایات کے غرم رہونے 
ےکوی اث الن کے نحد بیث پتصوصاأ رداجیت مامت پ نہ نے ہا ۔ 

دوم:... کہ اپ یمکمایوں سے لمحت رحدہشیں ان محصو می نکی یی یکر یں جن 
می اس مو نکی نص رج ہوک یق رن تھی فیس ہوکی ۔ اگ رکوکی 2 روا یت “اب 
ہو کوئی ضیف بی روایت وکھلا دی - 

س:.. ایک فی تیارکری ںکہجون ت ریف ق رآ نکا قال ہودوکافرے اور 
اطمادا ٌ٤ا‏ سام ےخارن ےء او راع عاماء دا کا یرش کو؛ جنر ایق رآ ن 72 جج 
من میں آصحاپ امہ وسفراے امام ان فی نوس رنکافر پیش یگ او نو کھ نء اوزائی 
تڑے پا نی مرک ر کے شا 00.97 ےجنچ بن شی تن وغیردے 
بھی ا نے برنمد بی ہہ ری فکرادمیی۔ 

بی ران می نکیا مموں کے ٤ئ‏ ؛صرف بس کہدد ین اک اھ ریف کے تال نہیں ہیں, 
سی طط رح لاک ماع ت ناس ہ وکنا ء بلہ بر یمیا تکاا کا رک نااور بے حیائ یکی ,سس 


( تنا فا زین ۷ص۵۴۸۳۰) 
٭۔۔ ہے .یھ 


ان شی اکا رکا نار ریف پت ںیہ پڑنی ے: 
دی رآپ بڑھ گے ہی کہ اکابر شیع ٹل سے من جار برکوں نی جج 
صدروق :ریف عرفضی ‏ چ الطا نف لوی اور نکی طبری صاح ب ہئ البیان )نٹ ری فکا 
انا رکیا ےء دوج از آر اوہ تھاءخودعلماۓے شیعہ نے بھی ان کے تی لی مکریا سے ہ 
- چنا یہقف اط ربز ائزکی' ا وا نما یی یسلت ہیں: 
زالظاھر أن ھٰذا القول انما صدر منھم لأجل 
مصالح کثیرة ..... کیف وھؤلاء الأعلام رووا فی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


وق نت 


فی القرآن وانما الایة ھکذا أنزلت ٹم غیرت الی ھٰذا,“ 
(انوارتمام مے ۳۵ شع جدیر ۳۸۹ات رز 
ت7 جہ:..” اہر ےکہا نع حعففرا تکا یہ إ ڈکارنخل چیر 
ممکمتوں ٹن ے ووت مرا ت ش رآ نک رتحم 1 لا 
کا عقییدہ کے رک کت ہیں؟ لہ ان حضرات نے اٹ یکتابوں بیس 
بہ تک اعاد بی ٹاش لکی ہیں ج بتالی ہی ںنکیق رن ٹ یہ بیف ات 
ہوئی ہیں اورفلا ںآ یت اس طر نازل ہوئ ن٦ی‏ ء پچ را سکو یں 
برل دیاگیا۔'“ 
محر نت از ائ ریا نے جو با تکپی ےنہایت ممقول ہے کی ےلکن سے 
ک ہآ دٹی ایک ردای تکوغلیاجھی چجھے او ربچ را سکو ا تد لال بی جی لک کے اس پراۓ عتقائد 
کیا چیا قیرکرے۔ 
یڑا شا شی !یس حعفرت شا صاح" ئے ماع جن ن مسر یک ایک ردایت 
سوق ون ےکی ہے جوالن الفاظ سے ش روغ ہو لی ے٠‏ 
وذ باللہ من قوم حذفوا محکمات الکتاب 
ونسوا رب الأرباب.“ 
ا و چاو! ای ایح نے تال یح 
کناٹ الد کےگحکما تکوعذر فکمرد یا اور کٹ الاد جا بکوکیھول گے 
(ب رات ای ہا و و ظا ,98 ہیں اجوالاخل 
یکا ہوں )' 
شاو صاخ بلشت ہژں: 
تزجہ:..” تچ صدوقی ےںجب ےک انبوں نے اتی 
کاب الانقادات یس أ یمان مففظہ ذک کی ہیں او رت یں 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٥٢٣ ۰۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


ل سے سس سر ار ہیں رج اش 
روف کے اوراس میں سے سورٹوں او رآ یچوں کے اٹ اد یئ جانے 
کے ال کیں۔ائس کے باوجودانہوں نے یگھوٹی رو ایت :جن کے 
شرد می مج نیف ق رآ ن کا مضیمون ہہ اپن کاب می اتل 
کمردگیء ہا بھی ان حعفرا کی طرف سے وبی لے شمدہ عفر می 
کنا جا ےک : 
زور ور جع اش 5 


نا نافشن ص:۲٦٥)‏ 
علامیڈدرگی ان بز رگواروں کےنقیہ بت ہکرت ہو ۓ اکھت ہیں: 
”'قلت: قدعدھو فی الشافی والشیخ فی 
تلخیصہه من مطاعن عثمان ومن عظیم ما أقدم عليه 
جمع الناس علی قراءته وزید واحراقه المصاحف 
وابطاله ما شک انه من القرآنء ولو لا جواز کون بعض 
ما اأبطله أو جمیعه من القرآن لما کان الک طعنا,“ 
(فصل انطاب ۳۳ 
تز: نمی کا ہو ںآ ریف ملتی نے” ان" 
نی اور ااطا نشی نے سی خخیص ٹیس حضرت عما نع کے 
مطائن اوران کے شی تر مین ادا مکو کرک تے ہو ریکھا ےک 
حفرت عثانغ نے لوگو ںکواپٹی اور رت ز کی قراءدت برح 
کردیاء دنگ رما ج فکوجلا ڈالاءاورجنن الفاظطے کےق رن ہونے میں 
جک نھاء ا نکنخمکردیا اب حطرتعثا نع نے جن نزو ںکویف 
کزدیاءاگ مز دوس بکیا سب اا نککا چححض یق رآ نین تھا,ٹو مرن 
عثا مع مرک سان ہوا؟“' 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٥٠۱٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


مطلب علامہلو رگ یکا یو ےکلہ لیف عمنضی اورچ الطا غ زا یطر غررھشے 
اکا بھی ) رت معثاان رشی اڈدعتکو بدنام مک نے کے لے میداو یلاک یکم تے ہی سکہاننہوں 
نے ام تک مصحف (ماع پر کردا اوردجگرمصاج فاوط فکردیا۔ وال می ےکہالن 
مصانف میں رج نول فک امیا صحفب اماعم کے علاد ہچھی پلئوش رآ تھا ای ؟ اگ ریس 
ھت ححظرت عثمان شی اش رعحنہ برک پان ہوا؟ اورا نکو با وجہ بد نا مر نے سک ےکیاصعقی؟ اور 
ران مصاحنف می پچ زائ دق رآ نبھی ھا تق حفرت عثاغ ران ن و با ر ہار اس کے 
باو ود .دوگ یکرن اق رآ نکاکوئی ٣ص‏ ضا ہیں ہواء افش مجھوٹ اور یل نو او رکیا 
ے؟ جوکنس رت عثااغ جامع لقن رطع نکرتا سے دہ ایماان پا لتق رآ کا دکوگ یکیوگر 
کرت ے؟ اور جوش این باقن کے دو ے می سیا ہواس کے لے حضرت اع یپ 
نک یکیاکنیا .- ۱ 

وجر وٴىٌ بادہ اے زا کاف نشی اس 
مر حے بودون وم رک متان زششن 

علامہفدریی گلھت ہی ںک عالطا فہک کاب اتدیان“ تقیہ وفر یب ب یکا شا کر 
ہے بی س کا ا عتراف ان کے نما دانع کے اکا بر ن بھی کی صفاٹی سکیا ے٠‏ 

”ٹم لا یخفی علی المتامل فی کتاب التبیان ان 
طریقہ فیه علٰی نھایة المداراۃ والمماشاۃ مع 
المخالفین ....۔۔ وھمایؤید کون وضع ھذا الکتاب 
علی التقیة ما ذکر السید الجلیل علی بن طاؤس فی 
بعد السعود“ ورھطذالفظہ: ونحن نذ کر ما حکاہ 
جدی أبو جعفر محمد بن الحسن الطوسی فی کتاب 
التبیانء و حمله التقیة علی الاقتصار عليه ہے 

(نصل الاب ض:۳۵) 
جتز ”نچ زاب الیانع فی نو رکر وا ےب 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳٣٠۱٢٥۹ .۸۷۵۸۲ ۷ 


چ8 یی سرن ھی 
رج کا یق ا سکاب میں ماخن ×۴۴ 
ایناکی نی پیھی ے......اوددا سکتا بکی بنیادی نیہ ہے اس 
رخ توق وٹ یجن سے 
''دالسعو ڈ رای ۓء ان کے الفاظ می ہیں: 
اور بم کک گے بی اش پا کو اروام تن 
اطا تفہ ابوقتفرطوی نے اپ یکناب اتمیان مم راخ لکی ہےءاورش کو 
ین ہجو رکی اک د دای پر اکنا یی 
خلاصہ کان ارول بز رگواروں نے جودگوٹ یکیا ےکبق رآ نکر ہ رب مکی 
ریف فو ہے مال نکا اسینے د بین وخ مہب کےخلا ف تق ےء ورن ا صول شی پر 
ہہ دگوگی اننکن ہے چنا ٹیہ خود عما ۓ ش شیع ہک ھی ان کے قول کےبنی ر تق ہو نے کیا 
اکٹ رافودے۔ 
اک و ہن کے شی اکا برکا خقیرو: 
ینس طط رع شیوہوں کے مندرجہ پالا جا رآ کاب نے اپینے عقییرے کے خلا فنقیہ 
آز ےج ہہو ےگیدوٹ مو کہدہدیا تھ اک ہب ملیف ق کن کان ین :از تک نے 
شی علاءنے پیر یش تعل طور برا پنالی اور ج کک ایناۓ ہوئے ہیں ۔ چنا مجر جب مو 
لھا سے پرملااپنےمقیر ےکا نہارکر تے ہیں ء اور جب ال سشنت ےنگ کا موںع 1ج سے 
تق کا لبادہ اوڑی لیت یں اوراۓ کل عقیرے پر کا ن'' کا دہ ڈا لک رعقیر 
تریف سے براعء تکا اظہارکردینے ہیں باک د ہن دکی نماض فضا اور ماحول می ںعقیر٤‏ 
تم رنی کا ا ظہار ےسا نین ۱اس لئ یہاں کے شیع ”را تگمو ]نا یی ژ و ٹپل 
رج ہیں اس کے باوجودشیع علا ءکو جج ب بھی مو پا ہے اپنے دو لکا یر ظا ہرکرد نے 
ہیں :ا لے اک وہند کے اکا بر شی ہک یچھی چن دن رحجات در حکرتا ہوں ۔ 


۱۷۷۷۷۷۸۷ .065]0۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢١٠٢٥۹۰۸۷۱۸۲۹6۴6 (۷ 


جھے تح 29<.48٭> سس ست 
ڑے مل ال مہا - 

شھیحو کا تر جم 2٣۱۳ح‏ می سک ا گیا ھاء اود جب سے ا ب کک جراج اک و 
ہند یں شا ہور ہے میرے سام اف کیک ڈیو ہکرش یگگرہ لا ہورء کان کا اح 
کرد و یھنا ینیشن ف0 جھھوِِئبجگگ 9 ل؛ہہم" 7- 
کی نقریطات اور یجخخط موجود ہی ںکہ بہت ج نضیرابئل بیت کے پالصئل مطا بی ےہ اور 
موم نکاکوئ یگ راس سے فالی ضدد ہناجاتے ۔ و وعلا ء مل ین شیع درخ ذ مل ہیں : 
ا آبیت ایند اطم احصرسی را برع یمضق عو لی ۱۳۸۸ھ 
ظ. ا را ترل۱۴۹۲د 
7 تحص سی رفک ب نماٹو ترفی۱۳۸۳ھ 
7.. رکا رشرزجزت برا نت الحض تج رشن کو لی ء۱۳۵د 
۵:. أستنا لق تحضر تنک رن سو مل كد۱۳۵د 
]کے بج امعلوم ہت امتصرسیر ارسف مین امردہوکی ء ہند ی۳۵۳د 


ے... ‏ ف٭ھ اما تارئتدسنیدس ای نوگا دی موی ۱۳۵2ھ 
۸ فتترابل بی ت بد ٹج پا ق عو ۱۳۴۷م 


۹ آ ا ے ریش مادیی تو گیع۱۳۵ھ 
و سن ین رعش سینا ص رین ھن سے 
اا...۔ تو العدما گت سیآ تن بکھنو ول ۱۳۴۸ھ 
۳:... ناصھرالشیعہ بد تاب ستدنگی الا گی لا ہور مل ۰٣۳۷م‏ 

اس تر تھے کے جو انی میں مندررجہ پا لا مج بن شی ہکی تد لی ونو جن کے سا تہ 
ہہت را تک گن ہی نک رق رآ نک ریم می تر ای فکردیگئیء بیہاں بط رنمونہ پا 
ترجا تأخ لکرتا ہوں: 

ا..بسور پآ ل مرا نک یآ یت:٣٣‏ "ا الله اصطٔقی ادَمَ وَُوَحَا زَالَ ابْرمِیْمَ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


وَال عِمْرَانَ عَلَی العلمیْنَ 


8 تقیٹی یل واید ےک بیآیت ال رر ھی :”ان الله 
اصطفی ادم ونوخًا وال ابراھیم وال عمران وال محمد 
علی العللمین' ٹولوگوں نے اص ل تاب ےلفظ'' ہل گر “کو 
گرادیا خی رعیاشی بیل جناب امام _تفرصادقی علیہ الام سے 
متول ےک لف ال مم“ ال آیت یں موجود تھاء لوگوں نے 
مٹادیا۔ ایک اور ردایت میں ےک اگل آت یی ںگی: ال 
ابسراہیم وال صحمد“ با ۓلفظ حجھ کے عم ران ہناد ایا 
(تخیرٹی ص:1+۵)۔' 


×: ورس فکآیت:۳۹ "مان ' ند دک عم لیمِاٹ 


لاس وی ِ>صر ون“ کاتھ جم کیا ےگ ہ: 


نلاس کے بعد ایک اما بر ںآ گا جنس میس لوک 
راب ووجا نشین گے اورجشن بشین دہ سی سج (پسف:۲۹) 
راس برع ش اکا ےک 

فیرش میس جناب !ما شف رصادقی علیہ السلام سے 
منقول ےکہ جناب امیر الم ومن علیہ السلام کے سا ایک 
ےپ یت لو ںاو گی :”ٹم یاتی من بعد ڈلک عام فی 
یغاث الناس وفیه بعصرون“ ”َٴ”یُعصرون“ کومحروف پڑھا 
جیما ک ہآپ موجود دق رآن شریف یل یھت ہیں ۔ حخرت نے 
را واۓ وھ پا کیا چوڑیی کے؟ 7ی خ نی گے؟ اس 
فیس نے عم لکی: یا ام رالھ مین ! پچلریں ا ےکیوگکر ڑوں؟ 
فرمایا:خدانے نو لال ناز ل فربایاے:”'ثم یاتی من بعد ڈلک عام 
فیه یغاث الناس وفیه یُعصَرون“ جتی”یفضرون “کوئہول تتایاء 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۵۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ینس کےصعف مم مہف ما اکہ: ا نکو بادلوں سے یا لی بمتثرت دیا 

جا تۓےگاادد دحل ال أم ربخ داکاىیقول لا ۓے:”'وانسزلسا من 

...۹ (اودملوکگوں نے پرلیوں ے 

موسلادحار پا یٰ أُجار١)۔'‏ 

آ گے مم اونشی مقبول ام دالوئی''قول م تم کا عنوان اخ مک کےلکستاے: 
”معلوم ہوا ےکہ جب رآان ٹیل اعراب لگا ئۓ سے 

ہی ںوشراب خورغلغاءکی خاطرمعضرو نکمعصرون ے بد ل/ 

معن یکوزمیوز بکیایاے۔ باہو لکومتروف سے بد لکرلوگوں کے 

لئ اع کےکرقو کی مرف تآ سما ننکمردگی۔ پم ایے امام یم 

سے یور ہی ںک وی لو ککرد یتم ا ںکواسی عال پرر ۓ وواور 

لق کر ے وا ےکا ا یت نک رود انی ہا ںم کممکن ہولوگو ںکو 

مل عال سےمٹ عکردو۔ق رآن یی دکوا کی اص٥کی‏ عالت پرلا ا 

جناب صاحب امت رعلیرالسلا مات ہے اوران بی کے وقت ٹیل وہ 

حصبتتریل خداۓ تتھالکی بڑھاجا ےگا (ص:۹عم) 

..۳٣‏ وہ٤‏ أ ا بک یآ خ کی آیت کے؟ خر لمات :”وكگسان اللهٴغَغُورا 

ریما“ کے٤عا‏ شمی سکیس سے 87 

”زاب الاعمال] میس جناب امام جمفرصادٹی سے 

متول ےک سور تاب سورہٗ لقرہ ےی زیادوطوی ھی گر 

چوکہ اس یں عرب کے مردوں اورعو رتو ں کی عم و اور می کی 

عوصآ بدا ھالیاں ظا ہرک یکفئیںءاس لئ ا ےگ مکردیاگیااوداں 

یھ بی فک ردب یگئی ہے“ (ص۸۵۳) 

×. وروالش نکی ت۳۹ "مل یسل عْ لہس زلا جا“ 

کے یل میلعت ں: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


”ینار 2 عالشومین مرا سس :ٹ'6 ص٣س‏ 
جناب امام رضاعلیراللطا مکو پیفر مات من اکہ :نم شی سے دویھی .لم 
می شہ دکھالی دم کے یس واالدا بل ای کب یی ۔ بیں نےعوش 
کیاکہ: یہ بام کاب دای لچھ یں ہے؟ ہیں تحخرت نے ایک 
سال یک جواب تہ دیا رہ سکیتے ہی ںکہ: سا لی گجھرکے بعد ایک دن 
آ میں رت کے ساجح طواف میس نما کہ یکا یک پر مایا: اےمفسرد! 
بے تیرے فلاں سوال کے جواب وت کی اجازتآيً لٰٰ ات 
ٹس نے عی سکی: اما تضورا دہ مقا مق رآن مجید می شسکہاں ے؟ 
و اما: سور ری من ےءاوروہغداتعا کال ے:”فیو مئذ لا 
یسشل عن ڈنیہ منکم انس ولا جآن“ ان ےعوف کیک :ال 
کہ امس کے “و یں ہے اف مایا کا یآ یت جس میس اب اروئی 
(عمان من عفان )نکی رکیا یی سے“ (ض:١۱۰۷۳)‏ 
۵ .بورہ جح لآمت:۹”ذلک بَالهُمْ كَِرِمُوٴامَا انزل اللفََغبَط 
اَْمَالْهْمْ“ کےؤیل می سککعت ہں: 
”ڈلک بانھم کرھوا مآ انزل اللہ .ا تھیٹی 
ٹس جناب اما ممحج باھر سے منقولی ہ ےک جج نل ان نے جناب 
رسول فداکو بآ یت ول پھاکی ی:”'ڈلک باٹھم کرھواما 
انسزل اللہ ۴ علي“ رمع بن نے نام اٹڑ اد یا یں ال کا مضہ 
ھی گے ڑا گے پیا نک رما بے :فاحبط اعمالھم (۴ك:١١۱)‏ 
ان افو انی ہخوات کےیخ لکر نے سےلقصود یہ وکھانا ےک اک د ہن کے 
شی ہچ نک رلیف تق رآن کے ققائل ہیں او راگ رکوکی شیبتہ حا لم می دوگ یکرتا ےک دوک رای فکا 
فا ل یں ماود ازر اون وٹ اولیا ےءالہت یہاں چنا مو زا نوج ہیں: 
اول:.. رمولویی مقبول ے ریف کے جوجوال ےل گے ہیں دہ اپے اج کی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


او تام 


نکھت ردایات کے توانے ا کے ہیں۔ار 7ا 7و 7 
کیا! ا ماف لئ لک کہ ریف رآلننھریف سے پاک دے۔ 

دوم: .. مولوی مّول ہے آورکیا ارت ے ے الفاظ استعال گے میں 
رآن میتی فکردییکئی'؛ عثان بن عفان ن ےت رکیا ”شراب خورغاغا ےم 
بمعضرون“ گ ”فی ہصسرون“ے بد لگ سج یکوز موز ب کرد ایا“ ع رین نے نام 
آڑا این ںاھت رچھکتیں مل ا سیت فیس فان فو لوگوں نے و سکوگ راو ا: 
مٹادیا اور اس کے بجاۓ فلاں لفظا ہناد یا کیا ان تمار تآ می ز نت رجات کے بعد کہا 
‌ ےک مولوئی مقبول اتمر د ہیی اور ا کے تر ج ےکی تح ربق وی یکر نے وا لے 
قد بین ہق رآ نک رب پر !یمان رسکی میں اوردد ریف ت رآآن کے تا لکیل..؟ 

سو :.. متدرجہ پالاوالوں یس ایک حوال فو اب الا عھا لی کا مھ یآیا ےء 
ہم پدورا اس یتوں کے دق کی لیف ہے :یش کےا رےے اع ان کہ 
وہنریف کے منکر ہیں اس جوان کو استقد لال کے طود پر یی کر نے کے بحعد و ٹیا کون 
مل مندہوگا جو جات ما نۓ کے لئ تار ہوک یتو ں کا جن نظ ' حا صدوق ق رن 
مر پر ا یمان رکتتا سے اورال ںکو ریف سے پاک اورمن رہ مھت ے..؟ 
تھ جم نیف مان یی 

جناب تفر ما نعل صاح بکا یتر جمہ ہندویاک مشش بار بارش اض ہواےء اور 
ای پر مند رج ذ یل اکا بر شیع کی تد یقات ہیں 


ا ناب السش مان بمچھ رأاے۳۵٣د‏ 


۲- ناب السرنھ با رم ول ۱۳۴۷ھ 
یجاب ال گنی نکچ رط 
٣ی‏ چخاپنرل ب ”اوت تل ۱۳۸۳ھ 
۵... جنابسیناص رین بجر ساتھ۔ 


میرے سا" رھ ابرائیم ٹرسٹ,: ۱۳۹۔-فاران و سک سوس ای ٠‏ ضیدریی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٢٣۹ ۰۷۸۷۵۱۸۲6 ۷ 


روڈ مکمرا یر۵ کامطپورڑے. ا نکی تید لی کے ساتھ اخرار 
۶ لیف کےکھو نے لا حنظ ہش رما چیے : 
اہ ای مر ؤں: 
سور الا ا بکا چوتھا روغ ( آ ات :۲۲۸ ۳۴) بر ےکا پورا آحضرت سی 
اٹرعلیہ وع مکی از واج مطیپراں سے تلق ہے اس ذ ہل می ںآبیت :۳۳ کا ہہ جم یھی سے 
طز آی می کے نام سے موسوم ے: 
”اِنمَ بيْرِیْڈ اللٴلِیْڈُمبَ عَکُمْ الرْجُس آفل 
ایت َبْطھْرَكُمْ تطهیْرًا“ (الا7اب:۴۳) 
تھے آامق کےا اال وت ادا تو نپ 
پابتا ےک یق مکو(ہرط رع کان اکی سے درد کے اور ج پاک و 
اکیتزہ رک کان آە565٭-۳۰8 زر مر ان اض 
ال آ یکر یہ ٹیل از وارج مطمبرا ےگ ال یزیت سے خطا بک کے ال نکی 
تھی رکام لکااعلا نف ما اگکیاے ۔ت رآ نک ریم کی اٹ خی ہے ثابت ہوتا ےک ہآز واج 
راغ ”اب جبیت'' ھی ہیں اور فیصلۂ داد نکی کے مطا شی اک اورمطہربھی - 
میم اوران کے بھمعقییدولوگو کے ائل ببیت' سے عراوت او زا تھا لی کے ال 
تی تیلہ سے راف ہے: دہ ا ںی تک یکوئی ایگی جو یبن نی کر کٹ نیشن سے 
ال ردےش نا زوارج مطبرات رشی ال شخن نۓ ناک نی اورک طرف 
یراج گے۔اس مل ۓےکہ اش و مابعد یش خطاب از واج مطجرا تی سے چلا آر ہے 
اور نیہ نامع ےک درمیا نکاھڑ ای اور ےعلق قراردے دیا جا ۔ جتاب مت جم نے 
امش لکائعل یٹلا ےکہ بیہاں ق رآن می تی فکرویگئی ےہآی ت کا بای اور 
یکا تماء صے.. وذ بائل... خو فرش یکا وج سے یہاں جتڑدماگمیاے؛ مت ریم کے الغا ظط میں : 
اح نآ تد ان ےنا ل آداد ال اعد اکر 
باہو کوئی خرال یکییس ہولیء بکمہ ربا اود بڑھ جانا ے+ جس سے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳٠٥٢٣. ۸۷۵۸۲6 ۷ 


صاکخارت ہ وت 9 ٴلےکتٌھ07ت“) انی 

فا فرش رت اف کن دک کی نقاسہ (:۵۹ے) 

مت رت مکی ا عبارت سے دو ا قیل وا ہیں ء ایک کہاگ رق ہی نکریم جج 
ہے !نی سے اورکخی ردتبرل ‏ ےتفوب 0 ت0 امحالہ از واج مطہرات ری اللہ 
صن کےےتن میس ہے؛اورو یق رآ نی خطاب بل ابی“ کامصداق ہیں ۔دوم بے کمترتم 
اوران کے ہم یرہ لوگوں کے نز د یک ق رآ نکر تھریف شدہ ہے ؛ اس می لی زاس 
فص ' کی وجہ تلق وتپد لکرد امیا سے بلھوز بادآ ستففراوڈ....| 
۴..آ یت رکمت دب کات میلک ریف : 

مت مکی بد ”فی ےق رآ نک ریم یس دس بی بھی بل البیت' کاخطاب تی 
کی وی کے لئ بی استعال ہہوا ے مسور٤ٗ‏ ہودآ یت :سے می ل منرت اہرا ریم علیرالسلام 
کی اہا یرمق دس کے سا تھفشت کا مکالرہ مرک ور ےجنس میں فرشتتوں نے ا نک ابل ا لیے 
کے لفظ سے خطا بکیا: 

”فَالوْا اَنعْجَبیْنَ مِنْ مر اللر رَخمَتُ اللِوَبَرَكانہه 
عَلَيْکم اُهُل ایت لن حَمِيْد مُجِيْد “ (ہور:٣ے)‏ 
ترجہ:..”نوو فرش ہونے(پا میں )تم خداکی فذررت 

سےکجج بکرکی ہو؟ اے الکل یت ( مہوت ) تم بر خدا کی رحمت اور 

بجی ازل و 0 لا نہ دہ قائل بھ (وا)بزرک 

یں (ترچ:فرماں‌گل) 

چوکہ ا سآ بیت یکر یہ میس ”نہ یکی ہبی کوفرشتقوں نے زائل لیت کے افنا 
سے خطا بکیا ہے جس سے ہرقا رق رآ کا ذ ہل ن فو رأائ طف ٹفل ہوک نکی بیو 
بھی اس گے ال ببیت می شائل ہے اور م کہ جب حعقررت ابرا تیم علیہ السلا مکی زوجہ 
مطبرہ ان کے ال بیت یں شال ہے ل2 جس سک یگوادی ال توالی کے میس فذرشتے رے 
رے ہیں ) نو رت مھ رسول او صلی ادش علیہ مل مکی از وا مطبرات رشی اڈ شش نآپ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


صلی او علیہ یلم کے ائل یت می سکیوں شائل مہو ںکی؟ آیت ش ریف کا یلوم اور یہ 
ال اکھا بہوا اور بی ےک کسی موم یل وم کے دی یلوچھی اس کے کتنے ٹیس روا ری 
پان آنکق:ود دن یی از جو کا ے. حداے انی من کی 
جا ۓےکہ.. لوڈ باہ..بق رآ گرب مکی سیآ یت غلط ہے۔ چنا یرم ربمم نے ار ہیی نوک 
کی عداوت سےگجبو رہ وک مکی راستہ خی رکیا مت رم صا حب 1ت پچ 
”اس مقام پر شی نہ ہوک ننخرت ابرا ڈیم علیہ السلا مکی 

یوئ یکو ران ائل جیت یں داق لکیا ہے کیونکہائس سی ات 

ٹس( فی لکیآیت م یہ پیا یآیت کے پپیلے جم م.. :اتل ) 

تنا خطاب ضرت سار" کی رف ےء واحدم وٹ کے صین میں : 

درا ںآ یت میتی کم“ کر ھا کی ہے :ای سے 

صاف معلوم ہہونا کہ اس کےمخاطب پئھد اور لوک ہیں اور یآ یہت 

ہا ں وا ا دداشح لک روک یگئی سے ضص:۳۱) 

گو با مصت فکوصاف صاف اق راد ےک اگ رق رآ نکریم یچ ہے اود ہت رکٹ 
ریف سے ب اک سے و اس می لکوٹی شیک سکیت رآ نکی س ُظلل زرۓ''آزداب ٹا“ 
فی تک وشیہ کے ال جیت می شال ہیں ء اود اگ راتعقیر انل کیا جائ تو اس 
کے واکوکی ری ںکیش رآ نکمم مکوغا طکہاعاےء تَُوْةباللرمِن الف وَالیقَاق..! 

موصو فکی عبارت سے جچہاں یمعلوم ہوا کہ دو جھس ماک کےلقیب اور 
ترجمان ہیں ووڈ ک کی ٹوٹ برق رآ نک ری مکوغلط ادرر یف شدوقرارد تا ہےءوہاں بینگی 
معلوم ہوا نف ق رہ نکریم پہ ا یمان رتا ہو اسے بھی ائمان رکھنا ہواک ہز وات 
مطہ رات ریش اد نون اگل بیت می شال ہیں بق نک رمیا نے انج یکل ایل :یت کا نا دیا 
ہے۔ ال یت (أز واج مطبرا ٹک یکرامت دیکھوکان سےکٹو وعداوت کے مرلیشوں 
کوااس کے سوا حا رون رک ںآ کک وہ ق را نکر مکوخلط اور ریف شمد ٥کہ‏ کم وین و یمان 
سے خمارنج ہوں اورای ےکف کا صاف صاف اعلا نکر نے پرجبور ہو ۔گو یا حدا ئۓےعمز یڑ و 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٢٥٢٥٢١٠٢٠۹۰۷۷۷۵۸۲۹م6‎ 7۷7 


ماد پر و نان ہے - 
چھے تح ہ-۔جچھہ۔جھععہ۔جو * 


ود ےل ےس ےے ال ہت ( از واج معلبرار رت بضی ال 0 ا |۱","۷ئ) 
و یع من کوہی ںکمردیا ٤‏ لوہ اض ہنی دیوار ےگ انگ راکر ما تسا ہو ریف 
ہس .سور) شرب م ہج رف٠‏ 
ور ٤ال‏ نر کیا یت :”اذا فرغت فانصّب“ مل لفظا”فَالصَّث“ صارے 


شر کے سا تح ہے کا تر جم شا وعبد الا درمیرت و ہلوگئی ساس :97 ھ2 


3 ." 
ہو و حم کر _ 
ہش ںا 0 ک7 ہے اس جا کم 
بینم مم انس و فا مسب صادے مرہو ےسا در ارد یج ہو ئۓ انس 
تچ لو ںکرزے ہیں : 


ق اب چک تم ( یق کے اکٹ ناسوں سے ) ا رخ 

ہو یلوا بنا جات مت رر رت“ 

اورعاشیرٹیں ا کا مطلب ‏ لکیتت ہیں 

خمدراۓ ووسراا!ضانع 2 پر جو وت اوراحکام 

خدا ان ےکا بو جھ ہہت بڈا ءا ںکوکی دن لی طال کی خلا فت و 

ذزراونتر ہے اکا ردیا۔ اور کہ اس عم ىر یی منرت کل ی کی 

خلایفت کےاظہارکونطرتد رسول ہن شک کا م مھت تہ اس بنا مر 

خمدرانے فرب ڈوسرے مقام بر و وسرے الفاظ زس ات کی 

ہے ای رع ہا ںچھی لیوں فر با یاکہ: ہرمشکل کے ساتھآ سای ہے٠‏ 

پچ روقت متفررفر ماد اک ج ب تم آخریی سی ے فارح ہو خلیفمقفرر 

لاجم -, , 7 ار لت و یا تر 

ا (۵:۶ء۰٥)‏ 

بیٹ جحد پش راس مڑئی ےک رافظط فسازنصسب“ کوصاد کے زم کے سا تد پڑ ھا 
جا ء ال امک یق رآل کرک بیس ”افسانضعس ب “کا لفظ زم کے سا توصرے سے سے ی کی : 
تا نک کی اف تضیب*' کے و ک ٤ات‏ ہے جا بھ اش گرا وی نے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۵۷۳۳٠٢١٣. ۸۷۵۸۲6 ۷ 


( ہج نکی نظ شی کے بععد تر جھ شائع ہوا سے )اس بر ایک لو یں نو کید سے جوطو ریہ 
آ خی تی ہے اس یی انہوں نے بنا ےکی لقت فائصعب! عیا د ک ےکسج کے س اخ 
سے کہ ےت ات ون نز ہے اور بر یف مان 0 سس فنتققی نے انی 
مرا روگی یھت ہیں : 
ید ظاہر ےک ہف رآن مجید پہ اع راب حا جن ابسف 
نی ےے لوا ۓ تھے من س کا لح اظ معن اننس ے) بروایت 
مک 2اس نے پاریچ کو اضسا نن لکراۓ تھے نار یس ےک 
غیعان لی کا سی قومتے وپ ان ٹیس شزائل تھا اھ رن 
یھ کہ اعراب لگا نے میں بھی مہ جن کا فرما فھاء خعرات مہ ال 
بت ےآ ءت'”'فاذا فرغت فانص ب “کون سرصا زفراردیڑے۔' 
زیر ۶ن:۴) 
تق رآن ید کے الطا یت بی فک اخ ائل ویبت'' کی رف مضسو بک کراروگی 
صاحے اوران کے مکح رو لوگ ںکا ماس زا ہے ای وجہ سے علامہ رگ صاحب 
کشا فکواے رافضر ‏ ںکی برعت و اف راع فرارد ینا مڑاء چیا کہگراروئی صاحب نے 
نشی یکی عبار تا لکی ہے 
”ومن البد ع ما روی عن بعض الرافضة انە قرا 
فانصب بکسر الصاد أی فانصب علًّا للامامة. “ 
زضیر ص,:۴) 
تر ...؟ اورننع بل بروحات کے سے وو بات ہوینخٗش 
راففوں 2ئ0 عو صرصاہ ضوارے 
مطل بک ی لیکو ا مامت کے لا مقر رکروو۔' 
گرا روگی صا ضب علا مہ ز شر یکی تد یکرت ہو ےکھت ہیں 
تچب ےکر انپن تے فلا کی با نے اخراب 


7( م۷۷۱۲ ۹>٠٥٥٣۱۷۳١0۲ا]6‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


لگانے وانے مکوئیا ادا 6ے ں نے فاصب ؟ سا 

مفت ںکر کے مود بار یکو برل دیاء اورااس پر احتزا‌ سکمرتے ہیں 

یں نے نے جلمو ارد ےک ز ۲فز مارقی من متطالقی ان نا 

مطلب میا نکیا و 

تیم کےت سے دش او رکراروئی صاحب کےطو مل کی سے پیا موراگرنشرح 


ہو ےک 

اللف:.جشیہوں کے نز دیک نفا سب بر صادفاید ےی دراص٥‏ لس رص تھا 
اھ و لا ا ا 

ب:... بیگ ریف تا نع بن لوس کک یکا رستالی ے۔ 

:...اورا ریف ےم دور با یکو دیاگیاءاورآی تکا مطلب بیج کا 
وب نگیا۔ 

یہاؤں میا ففضودکراروگی صاحب کےلظر یتر یفخ رآ نکو فک کر کے مرن یہ 
وکھا نا ےک شعہق رآ ا نگ رم مکوغخلطاورریف شد ہ سککتے ہیں جا چم منا سب ہوا کک راروگی 
ساب نے لزا م تھی کا جواب خحودالنع بی کے ایک "ھم ملک 6,7 سے 
ہیں ئگ کی کر ازم و از ساس نے نیت الد نی س " 
دی خطاب سے پادکیاے )فی 'ایاشثتف ممرےساحے سے و ا سآ یت کے یل 
ین لات ون: 

”وتجد الاشارۃ الی أن بعض المأجورین للفتنة 

وربث التنعرات بین أُھل المذاھب الاسلامیة قد نسب 

الی الشیعة الامامیة انھم یفسرون کلمة فانصب فی 

الآیة الکریمة بالنصب علّا للخلافة ویکفی فی الرد 

علیٰ ھٰذا الافتراء ما قاله صاحب مجمع البیان وھو من 

شیوخ المفسرین عند الشیعة الامامیة قال عند تفسیر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱٥٢٣ .۷۸۷۱۸۲۹۴66 7۷7 


مذہ الأایة ما نصه بالحروف: ومعنی انصب من النصب 
وھو التعب لا تشتغل بالراحة.“' 
(اؤاغف ؾ:٣‏ ص۵۸۳۰ تبرت ) 
ٹن ”جہاں ایس طر فحگی اشا 1ر زین خاحب 
ےک یبن ضکرائۓ کےٹٹ نیس فتن رای کی اور اسسلائی راہب کے 
درمیا نتنشوییش پچھیاا نے کے لے استعا لکیا جا جا ےءانہوں نے 
شیعہ امام کی ططرف یہ بات مو بک ےک و ا ںآ یکر مہ 
کے لفظ فا نصب؟“ کی تفر کرت ہی ںک یی یکو غخلاقت کے لئے 
مقررکردو.اوراس إفزاکی تر دید کے لج صاحب مع ایا نکاء ج 
شیعہ امام کےنزدیک شور مفس رین مس سے سےبول نف لکرد ینا 
کاٹ ے٤‏ وہ اا ںآ ی تکانفی میس فرماتۓے ہِں:””الصب' کا لفظ 
”فصب سے سے ہس کےمصتی تخب ومشلقت کے ہیں ء مجن 
رادرں می ںشقول ہو 


وف رما ےکررکرزدگی اح ب لے نفا پر صادکونلیاٹراردۓ پر جار 


ا سن سیاوکرتے ہیں ء اسے تجارن بن اوس کی کارستانی بت ات ریف شدہ ماب تر تے 
ہیں اوراش کے جا فا نصب' بس رصادکوجخ تاتے ہیں ان اع کے ؟م سیک 
ڈو سر ےصا جب ا نکیا اس با تکو اف اومہتان کت ہیں اور جو لوک ابی با تگر مس ایل 
”نفقندانھیز اور کراۓ کےٹٹ' کیچ ہیں ۔کو یا بھی ق رآ نکر مکاجھزہ ے اورتخرات 
ال می تک کرات ہک جولڑگ پددۂ تی ےگ لکراپے عقید ریف یق رآ نکا ہبہ 
ا ظہارکرد تن ہیں خودائسی کے ہھ کک لوک ( از اوتتیہ )ا نک" و ل ظا زج 
کے ہک را نکی باتک ء نان اور ضز ار ارد نے ہل ء وکفٔی اللٴالْمُوْمِيیْنَ َال 


وانڑی اس کک کے بندرکیں نے فرایا اہ 


سے علیٰ بسن ابراھیوء عن اأبیةء عن ابن ابی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


عقمیر: عن ولس ہو اق رر متونا ان خالد قال: 
قال أبو عبدالله عليه السلام: یا سلیمان! انکم علی دین 
من کتمە أعزٴہ اللہ ومن اأذاعه أُذ‌له اللہ“ 


(اصو کان ء ہاب اسان خ٠٢‏ ضص۳۰٣٣)‏ 
ترجضہ:..” تق تم اریے وین پر وک جوا کو ھا ےگا 
انل راکذت ںاہ اوج وشن ات کو نا کر گان ا نک 
وہ کس 
اْسوں ےک یقرت ”امام“ کی شوبحت پر ل کی کر تے ء اور ہے اصل 
اص دک ایارک کے یہ تک ذ یل ہو تے ہی ںکہاپنے بی جھ مس پک لوگو کی ز بان سے 
”و یر اور گرا کے تکاخطاب جات ہیں۔ 
تخیہ:.. بج جواد مخت صاحب' کش کے اسیو کے بای دم 
شیعہ اما می پر إفٹراے ڑ7 سو اہ 
ام مفسر مکی یناہ ئا خی ۳۷۱۹ی ےمان فک کی ے: 
'قال: اذا فرغت من حجة الوداغ فانصب 
أمیر الممنین علی بن أبی طالب.“ 
) سم :۳ شص:۲۳۹ یلع نجف اشرف ھی کراردی ص:٠)‏ 
... اے رسدل! حم اب ملہچ الوداغ سے 
جو یچس دو 
خی مفسریی مش این ابرا ہیی صعدی کے ہیں: اور علا نی مصنف 
”الگا ی کے اأستتاد ہس 7 تع لان“ کے معن نف من جن ب ننضل طری 
(متوکی ۵۰۸ھ ) فی صمدکی کے ہیں۔اس لئ ری کے جوانے سے مکنا تو حلط ‏ ےک 


آ دی 2 ۱ نے 5 کو ہے 
بیشدعہ !مامیہ پر ٹر اےءال متا گرم صوف ‏ ےکہددی کہ بی طبعہ امام یکا آنمہ بر از اےل 


وا ت کیج تر بمالیشی.. 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳٠٥٢٣ ۹.۸۷۱۸۲6۴ ۷ 


8۵٦ے‎ 


۴ .بجر یف شد وت رآ 2-7 
00۰٤‏ ھ سج ایک رف لو ” وا لصب ا صادوقال 
اورگر بف شدہ ہاب تکمرنے پر اوراز ونم ضر فگ/ردیا ۹ تس 
یار بای صفیات میاوک رڈ آنے ہیں مان ہن کےآ خرین ریچ یلد یا کہ 
ف72 امام کے خعطائشی ای طرح 725 
ضروری یھت ہیں جن سر موجود وٹ رآن یس هرقوم سے (ص:۵) 
مك سم ےم وو فکاا اار؛صولکائٰ گی درجہذ یگل روابی تک طرف ے: 
۲۳٣‏ محمد بن یحیلیء عن محمد بن 
الحسینء عن عبدالرحمٰن بن أبی ھاشم؛ عن سالم بن 
سلمة قال: قرأ رجل علی أبی عبداللہ عليه السلام وأنا 
استمع حروفًا من القرآن لیس علیٰ ما یقرژھا الناس؛ 
فقال أبو عبدالل عليه السلام: کفٌ عن ھذہ القرا ءة اقراً 
کمایقراأالٹاس حتی یقوم القائم فاذا قام القائم عليه 
السلام قرأً کتاب اللہ عرٌ وجل علٰی حذہ واخرج 
المصحف الَذی كتبه علی عليه السلام وقال: أآخرجہ 
علی عليه السلام الی الّاس حین فرغ منہ وکتبه فقال 
لھم:ھٰذا کتاب الله عرٌ وجل کما أنزل اللہ علی 
محمد صلی اللہ علیه وآله وقد جمعته من اللوحین 
فقالوا: هو ذاعندنا مصحف جامع فیە القرآن لا حاجة 
لا فيهء فقال أما والله ماترونہ بعد یرمکم ھٰذا أبداء انما 
کان علیٗ ان أخبر کم حین جمعتہ لتقرؤوہ.“ 
(اصولکای جم ص٣۳۳٦‏ مو متبران ۱۳۸۸و) 
یی تام ون سمل کات جن کے میا اک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳٠٥٢١٣ .۸۷۵۱۸۲6 7 


گئۓ ے. جج 


یو اد مکی شدمت میق رآ نکری پ اشن ک٤الفاظ‏ 
ان ےا ںآ رن میں کس ٠‏ صے لوک پڑت ہیں۔ ایام نے 
فرمایا: ای الس اف رآن کے پڑ نے سے پازرہوہ برای طرح بڑھو 
نس طرب لوگ پڑت ہیںہ یہا لت ککہ امام مبہدی کا ظ ور ہوہ 
جب !ما دی یکا ظمبور ہکا تو وہ ات اکوا اعد پیر میس و 
اور امام نے وو صحخف پڑکالا جم سکوححض رت کی ن ےکک تھاء 
زورف نان حلترت ٹفل خب ام نکی نان ےڈا راغ ہو ےتا سے 
صعخا کے ہیاس شی لگ ر کے رما اک :کناٹ اڈ ہے چ ”مسا ال 
الله“ کے مطابقی ےء میں نے ا سکودددقتھ ں کے درمیا نہ عکردیا 
ہے۔۔ ان لوگوں 0 بب ا * ادرے پان 
ا سححفموجودہے :جس میں ترآنکھاہواے رحعرتڈلانے 
فرمااک:سفو! ال کشم ! آ جع کے بحوبق ا ںکواھی نردکھو گے , جب 
شس نے ا کو کی تھا می رافرٹ تھا یغمکوا کی خج کرد تا تاکتم 
ا وی لو( سو یں نے ففر اذ اگ رذیا)۔“ 
کمراروگی صاحب کےا ں_قرے ے چند ہا تی معلوم ہ وہیں: 


ھل ہے سا 
8.-دوع8ہ-جھوہ جع ۱ھب 


اڑل:.ان 8 رر دو ہں؛ ایک مو جود وٹ رآن'' 22 4را نک 


!یما نیہ بلنہ وہ ا ےتاگل اما مکی بنا نیف شمدہ یھن ہیں ۔ ڈوسرا ا صلی ق رن جوان 
کے نذدیککریف سے اک ہے ور امام شاخب کےسا جح یھی ٹنیا سے نطاحب سے ہگوہا 
جو رآن و می مو جود ہے اس پرا نکا اما نیش اور ست رآآن برا نکا !یمان ہے د٥1‏ نا 


ہھئون۔ 
دوم:...ان کے امام کے یقول موجود وق رآان خحلط اورٗ لیف شدہ ہے اس کے 


ا جو دا کا بڑھنا فرش ہے اس ل کہ !مام نے الن کہا ےکہ غملط ادرف لیف شدہ 


7 نع لوس ای طر بڑ ھت ٢ے‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١م۹.۸۷۸۲6‎ ۷ 


...رہظا ہر ےکم ریف شدہ الف کا م !لی یس ہت ء ا سکوکلا م لی 
کہا او کلام اپ یکی حیثیت سے بڑھنا افتزاعلی الد سے۔گ رک راروگی صاحب کے بقول 
امام نےیشیحو کا ا ںکاعحم دیاہے۔ ہمارے خیال یس امام نے ایام ہبی ددیا ہوگاءبہ 
ق رآ نکر یکو ریف شدہ ماب تکرنے کے لےشھیہوں کے مقرس راولیوں نے امام بر اڑا 
کیا ورنہاگ رماع “ا سکوفریف شمدہ یھت اس کے بٹڑ ‏ کانعکم ہنرو تے۔ 

چمارم:...کراروگی صاح بک یک ریہ سے ب بھی معلوم ہو اک وو ماع“ کی طرف 
مسوب روابات پرکتقا مضبوط !یمان ر کھت ہی ںکرائن ددایات پر اع اوک کےق رن متو ات کو 
.أہوذبائق... خلط اورفریف شدہ مان لے ہیں ءادرا نی روایا تک بای دو امام“ کے ا لے 
من وف ماں بردار ہی ںکہ !ما مکی طرف خواوکیصی دی مل اورخلافپنٹل وش رع بات سوب 
گا ئی دۃددنے جن جوا سی رج یں ۔اگمرروایات کے مطا بی اما عم د ےک 
ق رآ نکوٹلیکہو.. صرح اکقفرے.. نو ال 0 کے لے ماضر!اورا گر امام کے 
رآ نکوغلط عو ...جھ افتزاعی انشرے.. و ال کے ل بھی ہرطرح تیار ہیں !شید 
راویوں نے جو روایا تگنرکر نا ماع“ کی طر فمفسو بک۷ردگی ہی ںسکرار وی صاحب اوران 
کےگردوکوان راویوں پر اور ا نکیا ردایات پ ایا !یمان ہ کان کےگھرو سے سے وہ 
رآ نکوغلط اورکریف شمد و خرارز یناواجب یگھت ہیں٠‏ ان رداتول سے راف الع کے 
ند یک چا ئزکیں...! 

چیم ...ا تی روایات نے ”ا“ کی جوتھموم ین کی سے ءسوال ید ےکدہ 
”مہ مدکی کی ہے؟ ی. وذ بااڈد..” ات طلالت گی ؟ ق رآ نکری مکوغلط اورف ریف شدہ 
کہناء تحرف رآ نکوپڑ ہکا عم و ینا امام ری کا کام نیس ہوسلم مر شی روابات 
بئی ہی ںکی امام ق رآ کری مکوغلطاگھی کے تھے اوراس کے بڑ ہن کا بھ یحم د ہے ےہ 
هو باللر وَلا حَوْلَ وَلا قوََّ الا بالل...! 
۵..آءے'”'ڑانا لَحفْظْرنَ“ کرف: 

رآ نک رم میس او الین ےق رآ نک ری مکی فا تکا وعد وف ما یڑے: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠٥٢٣۹ ۰۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


تر ...بے پیک کم نے یلو رن نانز لکیاے اور 

بحم جی فو اس کے بان ہیں ۔' ( رجہ :فرمانیگی) 

بآ تک بممتریم (سرفر ما نمی ) کے عقید ءج ریف ق رآ نکی جڑ کاٹ دب 
کر وہ ا نکوش رآ کیم کے با !ما مکی طرف مطسوب دوایا تک ریف پر !یمان 
ہے اس لج مرجم نے ا سی تک امیکی جوم لک رڈ الی ننس سے النع کے امام کےحقی٤‏ 
تر یف پرکوک یآ ضا ء چنا غج لآ بیت کے عاشی میس کھت ہیں: 

ذکر سےایک وہ رآن مرادے پچ سکو میں نے تر حے 

یش انا رکیا ےہ تب ا کیم ہبالی کا مطلب مہ ےک ہم ان ںکو 

یائح وب بادہونے شود گے بی اگ رقام ڈخیاییس ای کن یھی 

ق ران ہی رکا ابی اصکی حالت پ باقی ہوتبگگ یکنا جن ہ اوہ 

محفوظط ہے۔ا کا مطلب ہرکنیس ہوسکتاکراس می سم یا مکاکوئی 

تم و بد ل ہی ںک رس و02 مظاہر ے 2 ھ2“.,02 قٍ“ را0 

یی سک یاکیاتقیرات ہو گے ہکم ےکم اس بی فذ کیک ب یی سک 

ر تیب پالپلی برل 7 اآئی۔ اور بی مطل ببجھ یی ںکہ ہر رخ ظا وتفوظا 

7 گے ؛کیوککہ ال ز مانے میں تچھا نما نو ںکی طرف سے روزاشہ 

سو تراروں اورا تی ف رآ ن گے ماد کت جا ںو وسرے 

کر سے عراد جناب رسال تاب صلی اللعلیہ یلیم ہیں رجب مطلب 

یہو گاکےکفار کےشرے خداآ پکوتفوظا ر ےگا ' (حاشیرص:ہ۴۷) 

متریم ( سنیرف مان یی )کی اس ںول سے وو ہا تا معلوم ہوٗیں: 

ای :... کان کے نز دیک تطائظتبق رآ نکاریمطل بجی نک ریف ہآن جمشر و 
رپا مسلرائوں کے ہاتھوں میس سے اورجنس کے (اکھوں حافظہ ہرذ مانے یں در ہے ہیں > نیہ 
ہر کت ریف سے پاک ہے بک یطاظط تکامطلب پر ےکیق رآ نکر بی کا ایک جن 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610٥۲١۷۳۳۱٢۱٢٥۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


ڈنیا یل موجودر ےگا 
ظ1 یکن ' سے ال نکی ھراد دک ینہ ہے جو امام اتب کے پا سے جیما 
کے اصو ل بای ' کے جانے سے بی کر کا ےکہ جب دہ اہ ہوا ں ک ےو رو نک 
رس ات سا مھ لا میں کے اورا سے لوگوں کے سا من رھ تی 
شبیعدروایات کے مطال نے کین“ تٹ رت ٹل زننی ال رعنرنے مر سک رے 
لووں کے سا سے چچی نکیا تھا ری 7۰۸۹ ری و 
درے !ما موں کے پا پیل ہوتارپاء ا آ کہ امام خطیاحب کےسا تج د بھی ما تب ہمیاء 
جی اک أصو کا“ کے توانے ےابھ یز ےبمل پا قرماس یککی ہیں 
نس مو ائرٹ رآ ‌را سیت 
انڈیصکی اودعلیہ وعلم نازل ساشتد بک تخیر یافنۃ باشد۔ چنا نچ 
دش رآ نع ہاۓ و شور ۔'(زج لقن ص:۳۵۸ طبومترا ۱۳۵۳ھ ) 
7ر ھی ا مم مہدی مآ نکواطر یں 2 
جیما کہ ارد تما ی نے رت رسول اوڈرصلی اود علیہ وعلم بی نازل 
فرمایاء یراس ک ےک اس می کول یق روتپرل ہوا ہہ جہ وصرے 
ثرنوں میں تی تتتپرل ہے“ 
دوم:.. میم صاف صا ف لکھت ہی ںک: 
اس بتک بیمطل بک اکنہاسس (خ رن مجیر) شش 
کول ی تقر بد لجا ںک رسلا ءکیوگہ مہ اہر سےکہ ال ز مان کک 
ران مچی می سکیاک ین رات ہو یئ ہیں 
ملمانو ںکاعتقیدہ ہی ےک یق رآن می ہآححضرت صلی ارقد علیہ عم کے ز مانے 
8 و 0 تو بط چا آ١‏ تا ے٤‏ اور الع شا ء اق فاعم ت یک 
انآ اض ھا ناف نی سی مان ریو ہیں۔ بڑ 9 


ساب ایند یسک سیل کیک ے ڑہ ماب لق سر یمان یک یں را یروف رن 


سس سے ہے ددں-- 


موہ دہ دد>د:-ممو نے عو “موجہ دہ سے 


۱۷۷۷۷۷۷ .065100۲٢۱۷٣٥٢٥٢١٠۴۹۰۷۸۷۱۸۲۹6۴6 7۷ 


ری ری نکریم کا تارف ھا ےئل 
: ینا سلا مک کی جات ۷ چنانح أُصو ای ےکی ھا ری اک خفا ری نکی + ں: 
”لانە لو کان تطرق الصحریف والتغییر فی 

أالفاظ القرآن لم یبق لنا اعتماد علی ش٠ء‏ منەء اذ علی 

ھذا یحتمل کل آیة منە ان تگون محرفة ومغیرۃ وتکون 

علٰی خلاف ما أنزلہ الل فلایکون القرآن حجة لناء 

تنتفی فائدتہء وفائدة الأمر باتباعه والوصیة به ورعرض 

الأخبار المتعارضة عليه “ 

(حاشیأصول۷نیٰ عج:٣‏ ص:۷۳۱ ہ ض+ومتبران ۱۳۸۸ھ) ‏ 
یٹ وك اگ رق رن کے الفاظ یی تر یف اور 

تل فرت شکرلیا جا نے ہمارے لے ال ک ےکی ھف بربھی اعد 

یں رہ چا جا ہکوہ اس تصورت میں اق رآ اکر مکی ہرآیت میں یہ 

اشمال وکا کہ و حرف ومپرل اور ما نال ایلحد کے خلاف ہو ہیں 

اندر یں صورت ٹرآ ن ہمارے لئے جج ت کی رہ جاجا۔ ال کا ارہ 

یتم ہوجا تا ے اورق رآ نکی پیردئیکی کید دوصیت اور متوارنل 

روایا تکو رآن بر یٹ لکرنے کا اُصول بر سب ہاطل اور بکار 

ہو جائے ہیں۔" 

جن میم کے نز کق رآ نکریم میں تصرف یکنتق دتچدل کنا ے لہ 
بہت ےتقبرات ہو کے ہیں... عو پانقر.بن‌ لکف ہکرت باش...! 

متریم نے ینفحعیل ہیں بتاک یکہان کےعنقیرے کے مطا بی ق رن می سکیا کیا 
خیرات ہو گے ہیں :صرف بیکبا ےکہ: 

لم ازک اس میسو شی کی سک ت رحب پائئل بل د یک 
موضوی کے اس عقیر ےکی نش رع دوضاحت ان گے سو فک ی اون کے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۰۷ 


7 م) ری 
فی ہیں: 
ا:.. ھ رآ کم کا بہت سا تسا قطاکرد یاگیا- 
..پہتکی با ٹیل انل میں اپٹی طرف سے ملا دی یں ۔ 
:. .اک کے الفاظ بدل ديئ گئے ۔ 
نپ تو یکرت ےا شون 
۵ ہھورٹال ؛آنتوںء بل یککما تک تر جیب بدل دگئی۔ 
۷٦‏ .آیت”هذًا صِرَاط عَلَیٗ مُسَْقِیْمُ ےئ یں 
سو را 2 ےر 22 یں ا 
سایطفلحستتت ‏ زززم 
ا لآ یت کر ہم لفظط لی“ (مییلنء لام اور یاۓ مشمددجٹوں کے فے کے 
مات ہے۔ مرف ما مکی صاحب نے ا لکا تر جم وکیا ہے :”می راوسیایگی ےک بج 
بک (جین ہے )“اس کے حاشیہ میں ق رآ ٗ نک ریم کے الن الا کو .. لوڈ پاڈد... غلطء 
ون ےاورخرالپی کے عاعل تقر ارد نے ہو ۓ لکھھتے ہیں: 
”نت چھق رآن کے نا ہرکی الفاظہ کے مطابی سے ان 
اس میں علادہ جھونڑ ۓشصعممی ہودنے کے ایک بٹ کی خرالی مہ اذ مکی 
کال صمورت مجیل ایک تیا جم یحزدف ما ناپ ےگا“ 
ق زکرم کے نظ ہبی الفا وغل طاقر ار دی کے لے مت جم ایک دوس کی اق رات 
ار توتیں: 
سے ۲۳ 1۳۶ صراط علیٰ مستقیم“ تڑھاے۔' 
میم کے ند یک پیٹ را ء مت پگھی طط ے؛ کول : 
اس ناب لی“ فعیلی کے وزان بر ند کے می میس 
ہوگا اور ی تکا مطلب یہ وگ اکہ يہ بلندداستہ ہے عا لالہ بی ج یج 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢۱۷۳۳٠٢٥٢٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 7۷7 


2 یس کون رات کی تو لاسرا ہونا ےے شہ جنر ہوا" 
ق رن مدکی ان دونوں متو ات فرا نو ںکوغاع ٹر ارد ےگمرمت جم انی طرف سے 
ای کن افرا تتصنی فک کے اس کے ذذ ری ےق رآ نک رم مکی ا صطاح کنا جات ہی ء 
صراط علیٰ مستقی کات می لکولی شبہ بائیکیں 
ر نا اس ٹل وی یی خرای لا زم سے شمصتنوبیء او را کا مطلب 
بی ہگ کی 2گ کی راوسینگی ہے ادداس ۴یس خدا کی طرف سے 
ضر تل کے نا مکی لص رح اور ا علان عام ےک نخر تک یکا بین 
کی ہے او رای کے پچررو ہت میں میس کے اور کا 
رف رج اود مکی نا سیب را ہبی ت کا ھی شا ے' 
(۴ضص:۰۳۰۳۳٥)‏ 
وا جار ۓگ ”ضراطظ صلی“ ترآانکرئم 20 نے سب لفظ 
توولصی کر کے ہیں 7 نک ریم یس وا کمن ےکی وش کی ص--23270 
نے دو تج ات مکا ا رکا بکیاے : 
:.. یھ رآ نگرکھ کے الا کو لق راد یناءاوراس کے لئ سوقیا نہ الذاط استعال 
مرخ ٤‏ ور ضر سے۔ 
انت تزی فکرون الفا کو ق مآ نک ریم بیں واش ليکر ک ےت دی لنٹ ی کا 
و لیا 
مت کی ریگ نیف ان کے ا لعقیرے فی ےک.... وذ بانذد. ق رآ انکر میں 
تر بی فکمردیکٹی بت رآن کےاصمل الفاظ ”صسراطہ علمین'' ہونے چا نمی فکر نے 
دالوں ےا کی ئل صراط علیٗ“للودیا۔ 
تفر ما نی کے اقتیاسار تکا غلاصہ: 
ران کک او زان کےجواٹی کے جو ا قتبا مات أدپردیے گے ہیں الن سے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳٠٥٢٣ .۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


حم کے کا 


میررجڈ 0-2 اہ رہیں: 
:.. میم اوران کےگردہ کےنز دیک بیق رآ نک ریم جو جمارے پاتھوں یل ےہ 
ایض ٹین جو ایل تھالی نے نل فر ماما تھاء راس یس بہتکی تب مایا ںگمزدکیگئی ہیں ۔ 
آ:...رنجھ مل یاں خودنف رئش لوکوں نے نی خماع رش کی بفا رک ٹیؤں۔ 
٠‏ **.. زان دیون سے مراد ال یکو بل دا گیاءاور. نحو بد ::مچنونڈر نے الفاظ 
خرن میں یس داش لک۷ردہجے گئۓ ۔ 
۳...الُدنا بی ان جفاخظتش رآ نکا جووعروفر مایا ےء اس کا مطلب یکن ن لہ 
قرآن می ںکوئ یت وتبد ل نمی ںکرسکتاء پہ ایس کا مطلب سر ےکیق رآ ن کا ایک مض 
مود 
یراول ہم و رر رتپ نے ص ریت بکیا تھا کے بعد دجرےاعنہ کے 
می گنن ٹر نٹ 
۹ زس ٹچ نی 0 لور ای 7 
موجو یس ء چنا خی میم کے مند رجہ چالا تا ات یی ںق رآ نکمم کے تما موجود ومخو کی 
علطیا ں اونب یایاں تار ین طاحظفرماجیے ہیں۔ 
کیا ان تا تخیبلا کو بد ھن کے بح دکو یم سک کا ےکم جودودور کے 
شی پت نع اورعلا رکا تق رآ نکر یر یمان ے؟ ہرگ ...ا !ا 
ق زکرم میں شید کی باصئی او یالات اور لیف متنوگی: 
شیع مہ بکا تما ت مداران روایات بے جو شیع راووں نے اما ہار کے 
ام سےتخنی کی ہیں ان روایات می جہاں خی ٹیک کےق رآ ری نیف 
لف یک وا اعطبا رکی طرف مضسو بکیا گیا سے ( جن سکامتق رن اگ ز شتمباحت مہ لآپ 
لاتظفر ماگ ے ہیں وہاں بے شارروایاتا تالییھما ئک طرف ضسو بکگئی ہیں جن یش 
کلام ال یکو غیرمراد بر ڈھالاگمیا ےء اور چییف مجر رق رآا نک ری کیفھ نی کیا گئی ہے اس 
تر بی کو لن ق رہ ن“'اورا جا وی لق ران کا نام دیا گیا ءا تا و لق رن“ کے ذر بیج 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٢٥٢٥٢١٠٢٥۹۰۷۷۷۵۸۸م۲۴‎ ۲۵ 


سر ےہ کے ج ےت 
ایاپ ڈھال دیاگیاء اور چہا لی ںکغا رڈش کی نکی جرمت ڈگواشض بیا نک سگنئی :ا نک 
الف نلفاۓ راشھ بن اود اکا ب اریہ سیا ںگردیاگیا۔ 
چنا نقیدۃ امام کی تس کی بجھٹث کے تسرے مقیرے کے ذمل یجس 
لا یک یلاب ھھارالا نوا کاب الا مامت سے باب :ا کا نوا نپ لکر چک ہوں: 
'الباب الواحد والعشرون 
تأویل المؤمنین والایمان والمسلمین والاسلام 
بھم وبولایتھم علیھم الصلاة والسلام, والکفار 
ورالمشر کین والکفر والشرک والجبت والطاغوت 
واللات والعڑٌی والأصنام باعدائھم ومخالفھیم 
وفیة:+٭ ۱۶ حدیٹ“ (ہیارالٹوار ۲۳٢:٣‏ ۷۴ص۵۲۴٣)‏ 
یی:... ” قرآ یکریم جس جہاں ایمان و اسلام اور 
مومین لین کا لف آ یا ہے اس سے راد مہ او ا مکی ولا ہت 
ے اور جا ںکنا رز کس ا زان یت و طاتحوتء لات و 
عم زی اود اعنا مکا وک رآیا ہے اس سے مراد ہے مہ کے من اور 
این ( ین خلغائۓ رانشدربن او زض9 2)۔' 
علامگا ہی کےا منوان بی سے دا وج ا ہ ےک یت ا کم میس ہا ہیں 
لاک سار یق ینان ےمرازائیتائ اھت ایت ہی 
در چا یکن کافروں اورسئرگوں کاءمنافتوں اورمری و ںکاء ایس دشیطا نکاءفرون و 
اما نکاءحبت دطافحو تکاء لات وع زگ یکا ادر صا مکا فک رآ یا ےہ اس سے مراد ہیں غلغا ئے 
راشد ین اور اکا برا ڑگ یا بوود اق رآن ہس عقید ٤‏ مامم تک مصح ادرسھا مرا مکی مت 
مس ےدک را 


علا مہ با ورای کے ایک نا مو رش ا مردجنا ب ا ابوائن شر لیف ہیں انہوں نے 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠٥٢١٣۹ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ان و شس سے 72 7ار مکل الامرار“'- 
تاب تالیف ف ماکی ے جوسید اعم برای کاو ”البر ان کے مقد ےکی حیثیت سے 
شمائح ہو گی ےا کی ابقدا بی یی فر مات ہیں 


”مقدمة الکتاب: 


أما بعد یقول العبد الضعیف الراجی لطف رب 
اللطیف: خادم کلام الله ابو الحسن الشریف حشر الله 
مع موالیهە وجعل مستقبله خیرٌا من ماضیہء ان من أبیٔن 
الأشیاء وأاظھرھا وأوضح الأمور وأشھرھا ان لکل آیة 
من کلام اللہ المجید و کل فقرة من کتاب الله الحمید 
ظھرٌا وبطنا وتفسیرًا وتاویلاہ بل لکل واحدة مٹھا کما 
یظھر من الأخبار المستفیضة سبعة بطون وسبعون بطناء 
ورقد دلت اأحادیث متکاٹثرۃ کادت أن تکون متواترۃ 
علی أن بطونھا وتأویلھا بل کثیرٌا من تنزیلھا وتفسیرھا 
فی فضل شان السادة الأطھارء واظھار جلالة حال 
القادة الأخیار أعنی النبی المختار وآله الأئمة الأبرارء 
علیھم صذرات الل الملک الغفارء بل الحق المتین 
والصدق المبین کما لا یخفی علی البصیر الخبیر؛ 
باسرار کلام العلیم القدیرء المرتوی من عیون علوم 
أمناء ال حکیم الکبیر ان اکٹر آیات الفضل والانعام 
والمدح والاکرام بل کلھا فیھم وفی أولیائھم نزلت 
وان جل فقرات التوبیخ والتشنیع والتھدید والتفظیع 
بل جملتھا فی مخالفیھم وأعدائھم وردت, با ل التحقیق 
الحقیق کما سیظھر عن قریب ان تمام القرآن انما انزل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠٢٢١٣۹.۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


کاخ زس انف سو 


اس سا 
والأمر باطاعتھم وترک مخالفتھم وان الله عرٌ وجل 
جعل جملة بطن القرآن فی دعوۃ الامامة والولایة کما 
جعل جل ظھرہ فی دعوۃ التوحید والنبوۃ والرسالة.“ 
( ضیرم5 انوار ص:۳) 

اس عو یل عبار تکا خلا صت مطلب ہہ ےکہ: 

می ظا ہر ےک یش رآل نک رم مک ہرآیت کے لے بلکمہاس 
کے ہرنقرے کے لئ ایک ظاہرسے اور ایک اگج الا رن 
اورایک جا وی ۔ بللہ اشہارمتفیضہ سے خظاہرہوتا ےکبف ھن کے 
ایک ایک تقر ےکی مت بطترح ون یس ہیس ء اور ہبہ تکی احادیثء ج 
قرو ب تب مت ات ہیں :اس پردلالل کر ہی ںکیق رآ نکی اویل ء 
بللہ ٹیش یل شی بھی دماموں ایا شان شس واردہوئی ہے بلکہتن 
بے ۶ ا مم اورمر و کرام مکی 7 ات بل تا مکی تمام 
آیات ضرف أئاودان کے اولیاء کے بارے میں نازل ہوٹی ہیں۔ 
رق دش رر رضخ کی پیش بن ام بات ان کے 
اشن اور آحعداء کے پارے شس وارد ہوگی ہیں۱ پل کا ل خی 
ےک پا ےکا پوداق رآنصرف ا کی رف رہنمائ یککرے ءا نکا 
پا بتانےء ان کے علوم وکا مکو بیا نگم نے ء ال نکی اطاعح تکا مم 
دنن آزرنغ کے نفالف نک یکزد ہے کے پا نے من اترگ ڑا 
ہے۔ ای ای نے ما مک خھام مع نق رن اماممت وو ا ی کی دگوت 
ین رکا ہے جیما کہ ظاہ رح ہآ ن کا بیشن حصہ نو حید اور وت و 
سال کی دکوت یں رکھا سے 
ا کاب کےمقرب)أ ذلی بی ںلکفت ہیں: 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


ان الأاصل فی تنزیل القرآن بتاویلھا انما هو 
الارشاد الی ولایة النبی والأئمة صلوات اللہ علیھمء 
واعلام عز شانھمء وذل حال شانئھم؛ بحثٹ لا خیر خبر 
بە الا وھو فیھم وفی أتباعھمء ولا سوء ذکر فیه الا وھو 
صادق علی أعدائھم وفی مخالفیھم.“ (ضصم) 
ت جمہ:..: جو لکی ردینی می یلق رآ نکااصل مقصید 
صرف نی اور صلوات الب مکی طرف رجنما ‏ یک نہ اوداا نکی 
شی نت ا زان زشننو نکی تح ح از تک انا سے اورہیی۔ 
نخس سے ب ابر تکر نا مقصود ےک ای تال ی نے جس خی کچھ خجر 
دگی سے ووصصرف اأئمہ میں اوران کے پپیروئوں میس باگی جائی ہے 
ورس ُر ائی کا بھی ت رآنن میس ذک رآیا سے دہ ان کے وشمتوں اور 
ان (زیننی خاذا ۓ را شد بین اورسھا را )رصاد قآلی ے۔' 
گو یا ق رآ نکری مکی ان اضف یناو لات سے صرف ایک بی مدعا ے: اودد٥‏ کہ 
مآ کرحم کے 0 پل لا وک اکنہ پچارا ش رن ...مانشد ین سپا 
کے ایا دکرد.. عحقیر) !مامت وو ای تکا دای اوركقیب می جاۓ ء اراس کے ربج 
رات خلفما ۓ راخ گی اورا کا یا شی الڈ دج مکوخوب پیٹ گھرسب 7 کیا جااۓ اور 
ڈنیا رک یوب الن اکا ب پر سیا ں سے جا یں ۔ 
را کر ق رآ نکر مکی اس باضفی جو لکی ضردر تکیوں لان وی ؟ ا س کا 
خواب ذپے ہوتے علامدابوا نشیف نے بک ولپسپ اورشس بات ںی ہیں : چناج 
''اعلم ان الحق الذی لا محیص عنه بحسب 
الأخبار المتواترۃ التیة وغیرھا ان ھٰذا القرآن الٰذی فی 
أیدینا قد وقع فیه بعد رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢ ۹.۷۸۷۱۸۲۱م۵۷۳۳۳۵‎ 7۷ 


شسيیء من الصغییسرات واسقط الذین جمعوہ بعدہ کٹیرّا 
من الکلمات والآیات وان القرآن المحفوظ عما ذ کر 
۔الموافق ما انزلہ الله تعالیٰ ما جمعہ علیٌ عليه السلام 
وحفظہ الیٗ ان وصل الیٰ ابده الحسن عليه السلام 
وھکنذا الیٰ ان انتھی الی القائم عليه السلام وھو الیوم 
عندہ صلوات اللہ عليهء ولھٰذا کما قد ورد صریخَا فی 
حدیث سنذ کرہ لما ان کان اللہ عرٌ وجل قد سبق فی 
علمے الکامل صدور تلک الأفعال الشنیعة من 
المفسدین فی الدین وانھم بحیث کلما اطلعوا علی 
تصریح بما یضرھم ویزید فی شان علیٰ عليه السلام 
وذریته الطاھرین حاولوا اسقاط الک راسا أو تغییرہ 
محرفین وکان فی مشیته الکاملة ومن الطاقة الشاملة 
محافظة أوامر الامامة والولایة ورمحارسة مظاھر فضائل 
البی صلی اللہ عليه وسلم والأئمة بحیث تسلم عن 
تغییر اھل التضییع والتحریف ویبقی لأھل الحق مفادھا 
مع بقاء التکلیف لم یکتف ہما کان مصرحا بە منھا فی 
کتابه الشریف بل جعل جل بیانھا بحسب البطون 
وعلی نھج التأویل.“ (م51اانوار ص:١۳)‏ 

تر ج:..! جانا جا ےک وو تقیقت ء یٹس سے احاد ہش 
مقواتر کی رو سے میا یي افکا رک٠‏ ىہ ےک برق رآن جو ہمارے 
اتھوں ٹیل ےاس می رسول اوڈدیص”لی الش علیہ دآلہ یلم کے بعد یھ 
تر یلیاں کرو یککیںءاورجن لووں نےآپ کے بحدف رآ نکوڑح 
کیاءانہول نے اس می سے بہت سےکمات وآ یات کا د میں ء 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


اور جوش رآ نکاس رو ہدل سے تفوظار ما روش رآن تھاجونطر تک 
نے شش کیا تھا ءآپ نے اسے ات با س تفو رکھا شی اد 
یرش کو ا لکی ہواکتک لے نددیی) یہا ںک کک آآپ کے بحدآپ 
کے صاحب زادے حطرت ‏ تک پاچیاء ای طرح کے بعد 
دیکرے اما مو ںکوڑتل بہوتا ہوا مام ا پت ک پیا ء اورپ دوان 
کے وائ ہے ورمع مد جےیورت ار 
کمریں گے ( جس میں بتا ا گیا ےک ) چوکہ الد تالی کے مکائل 
س چیہ سے تھ اکم دبین کے بگا نے ولموں ( جا می نت رن سے 
ای افعالل شنیعہسرزد ہوں گے اور م کہ یہ مفمد بین شمنالن وین 
جچہاں اڑسی نر دنگھیں کے جوان کےخلاف ‏ وی ودنا ورا نکی 
ڈلزحیت طاہرہکی شان شس اضا کر ےگا ءا لکیقظ رن ےنال 
دی گے با ا میں :تب یکر ک ےت ری فکردمیں گے اور چون الہ 
تا ی کی مطید تکاعلہ اور طاقت شاعلہ شی تھا !مامت وولایت کے 
آواع رک و تفوطا رکھناء اور نچ یکر اور ا نہ کے فضائل کے ہا ہ کی 
تا تکر ناء ایی طور ب کیہ وہ اہ لت لی فکی دست بد ےمفوظط 
رہیںء اور اگ لت کے گے ان کا ءفادشع بتاے یف کے اڈ 
رسے اس لے الد تھا ی نے اپت کاب ریف میں ان امو رکی 
تر بپرکفا یت کیل فرمالی ء لہا لک بیشت نمو ن ق رآآن کے پیٹ 
یس رکودیاءا درا سکوڑکا لے کے لئ جا وم کا راستہم تر رکروی...... 

مصو فک رعبارت بڑے وپیٹ فان شقل ے. 


اؤل:. حضرت نے جوق رآ نج عکیا ھا: او رواخ رن یڑڈویرل کے ا امنل 


اد کے مطائ خھاءدوڈنیائمل بھی متظرعام نی ںآ یا قر تی ےکی رہ سس اما مکک وہ 
پییشہان کے با ںتفوظ ربا -۔ ماما کاخ زع وت فر ما تے ہو ںتذ معلوم یں : ور یک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


او ینان 


ا شدعدکی ا کک رسائی نہ ہوگی۔ بار ہو ری امام جب فاریش ژ داش ہو نواس ق رن 
تی کوٹھی ابے ساتھ لمت گئ ء چناخحجراب دو ان کے پاس خر می لوط ے اور ایا 
تفون کی یہ وم اکوا سکی ہوا گے نہ ا ںکو نا کی ہوا گے...! 

دوم:.. معرات خلفداۓ راشر ِْ نے قش را نک۷ رکا جوم رحب فرمایا تھاء وہ 
جب سےا بک ناش ایمامشھہور ےک جار اتک عا لم مم ا یکا شبرد سے کلام ال یکی 
حثیت سے پیش اک کی لاد تک جائی ریہ ہرذ مانے بیش لاکھوں او رکروڑوں ای کے 
حافظ رے دہ بھیشہ لیدگی و نیا کے ساحئے در ہاء عام نماض ای سے اسطفاد ہکرت رےء 
اکی کےالفاظط ومعا ٰی کی خدمت میں اب علم نے عمریں مر فکرو ی۱ اور ببیشراسی سے 
مان وکا مکا ا ضنباط ہوار باء خلاصہ کہ توق رآا نکہ ما غزل الیل کے مطا نی تھا موصوف 
کے بقولء دوہی دیو شود برجلو وگ ری ںنہواء او ری ڈٹیاکوا کی ایک جھنک سینا بھی 
عیب نہ ہوئی۔ اور جوق ران جامتون قرآن نے مراج بکیا تھاء ورس می اپٹی خواہٹل 
کے مطا ای پیٹ گھ رک7 وہد لگردیا تھاء حداکی شان د وآ تک ڈ ای ا یکا سلہ 
جارلٰے...! 

سو ...ا ںق رآنن یس امامت وولابیت نا مک یکوٹی یں سے کیوکہ ا تھی 
نے اماصت وول یت اور کی شان شی می آیات :از لک یں ما ام نظ رآن ے ٹین 
نکر ال نکوق رآن سے کال دیاء یا ان ٹیل الما ت7 ڈو بد لک رڈ ا اق رآ نگ رم سےعقید) 
اما ہ تک نام ونشا ن تک م ٹ گیا( شای دی رہااجحرسلل از گکوورڈائتٹ 
ککوئ ین بھی عق امامت دولای تک نام نی لت تھا ٠سب‏ سے پہل خی ںعبدال جن 
سباییودی تھا جم سک وا لحمقی ےکا شاف ہواءاورال نے یر ےکی ین رو کی 
لفن ! ق رآ زنک ری مکی سیآ یت می کقی دک ولا یت داماص تکو اش لک نا کا رحیث ے۔ 

مار :... ریا ظاہرےکہ جب : موصوف کے بتقول ء جا مین رآن ن ےق رن 
ٹیں7 و بد لکر کے.. وذ باوق... ال می لکخمر ری مضمائشا نکجمرد ہے اود مامت او رت رے 
متعلقہ مضاشن اس میس ےبکال د یذ ا ریف او کت بیونت کے بعد یکتتاب ‏ کاب 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٥۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6۴ ۷ 


7 .لت وڑپاللد. 0 ۳ی ۔ عالاگہالتدتالٰ :۷۰کک700) 
کاب ہدابیت کےطور پر نان ل فر مایا تھاء اود اس سکوررہتی اتک دائم وقائم اور با ئی رک ےکا 
وعد لی فر مایانتھاہگرافسو ںک: موصوف کے ببقولء نے اڈدتھالی نے اٹ یکماب ہدابی تکی 
ات فرمایء اور نہ اینے دوٹوک وعر ےکا ایا فرمایاء نے حطرت کلم کےمحصوم اورمقدیل 
اتھوں ای وٹ ی کاب دای تکوڈ نیش زا کر نے کا اکا خر مایا تحت کنا 
ا ۓ دورخلافت می بھی ال سکومنظرعام رنہ لا کے 

موصوف, ات کی طرفمضسو بک یگئی متوزٹز (گھر مال ستھوٹی ) اعادی ٹک 
روکنی یس جونترلوکوں کےسا نے یی ںک۷رر سے ہیں اس پر بش رطاٹوم وا نصا تو کیا جا ہے 
ا پان و انت نشی کر ےا ےل اک :ضز یکو 
شش رآ نو _۔کیی حم ری ےک کاب دای کون ا وراو اچک سے پاتھوں ڈیا 
ہے اراتا جچاۓےء اورمنانتو ں کی جح کی ہو ی تاب طلالتے ری ڈنیا مٹش را 
بہوجاۓ ‏ بیہا لیک کک حر تعن اور ام ا طہارجھی ا یتر یف شد کاب طلال تکی 
”اوت 'رہجبور ہوں ءعلا ۓ شیعہ ا یکی زا میں ء اور شیع م سی نبھی ا یکتاب 
کے پڑ نے پڑہانے پرچھبورہوۓ کیا پاکوٹی ا وڈیااتقل رکا این جوالڈتھائی برادداس کے 
سولس٥لی‏ احیسم پر ایمان رکتا ے اس شید نظ رب ےکوقبو لک رسک ہے؟ بااییانظریہ 
ری والو ںکومسلران لی رک رسکتا ے..؟ گلا وَرّبَ الْكْيّة..! 

تیم ...رق پیل معلوم ہو کا ےک ححفرت کل سے لن ےک رآ خ رک اما مت ک تام 
مہ پمیشہ دا ۓلقیہ ٹیس نر و لوٹ ر سے مت ک ہآ خرکی !ما تو شمزمت کی وجہ سے رو ے 
نشین ھی سے غاب ہو گئ۔ ویر مولوی ولمدا رگ کی عبارت سے معلوم بہو کا ےکن نو 
تحضر صلی اللہ علیہ ول بھی حعرات الوب کرد عناع اور دنگ رصسحاىہکباڑ سے پبہ تتقیہ 
کرتے ‏ ے :نی کہ جوف رآا ن لن جاخب اللہ ناز ل ہوت تماد دیج یتتقیہ کے مارے اعت رات 
کےسا نہیں ڑج زورب نابعش ا یھر یر لفارتیے 
معلوم ہوا خو داد تال یھی ان تحقرات سے بہ ت قیفر ماتے تھے کی ون ارڈ الکو معلوم 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳٠٥٢٣ .۸۷۱۸۲6 ۷ 


تک ہاگ رق آ انکر میم کے ظا ہرک انا ٹس مامت دو لا ی کو با نکر نے پر تناک یاگیا نو 
بی تعقرات الیے الفاظ قرف للاکی ط رح مٹاڈ ایس گے اس لئ اللہ لی نے ون ق رن 
(ش رآنع کے پیٹ ) یل !مامت ووڑا بی تکوگجلرد باء اور ہا دنتھال یی کالفا ۓ راش لم اور 
اکا مار ےق تھا ءگو اہ تھا لی نےبھی امامو ںکی ط رح تقیرکیا۔ یہاں سے یھی معلوم 
ہوا تعفرات غلفما ۓ راشمد بین کا انشداتھالیٰ نمیو کے ول می الیمارعب ڈالا ےکلہ 
اع کے خیال میمش رخ دابھی ان سے ڈرتے جےء بحدد کے انز مو بی نبھی 1 حضرت 
صلی الل علیہ مل بھی ءاور۔ تو زپار.. .الد تھا یمگیء لا خول وَلا قُرَه الا باللہ...! 
... جتاب علامر لوان شرف چا ےون کن جچوکہ اللہ تھا یکاختیر) 
مامت ودلا یت اوزشان أُئ کی حطاطظت نمور اور وت ادلدتعا یکوفد رت کت رن 
کے پیٹ نیش ال نع مضما ئا وگول رکر اماممت ودای تک تو کرد ۓ؛ اس لئ الس نے مو کیا 
ئا یکن اف ف رکز اکرش او اشن شرف کے نزدیک اجکی 
ولا یت د مامت ء اللہ تھا یکوق رآ نکر سے بڑ ھک رز گی کہ اتکی ق رآ کر مکو 
ُشمنان وی نکی دست رد ےتفوظا رک کا و ا تام شکمر کا ما ناش کی ولا یتو امامت 
کوظر نے مو پ وب زی 
امم :.. ناب آزواشن ش لی کی مت زایغہ پالا ارت سے ھی نعل ہوا 
شمیعو ںکی انی جو یا بھی درتقیقت ان کےعقید خر یف ق رآن پیینی ہیں ءکیون اگ راڈ 
تعالی نے فرآن اص وی7 اوت یس مھا اون یسمتلن 
اور رڈوپرلی سے تفوظا رک کا ا ظا ف مایا ہوتا فو مامت کے مضا می نکوف رآن کے پیٹ 
( ین ) می بھرن ےکی ضرور تکیوں شی لی ؟ وہ ادڈدتھالی نے پیل ھی اس خر ےکو 
مو ںکرلیا تھاکہشمنان وین ا لک یکتاب مق لکا علیہ گاڑ دی گے ابا اس نے 
مضماشین وا ی کو ران کے پبیف( ان )می سرد ہی کا ا تنطامف ماد یاءاو رشح راو لو ںکو 
تھی چٹی د ےد کہ اما موں کے نام پ وٹ روایا تتصنی فک کےق رن کے پییف یش 
سے اعم مایا نکو.. جوا لح سکفروڑ خدقہ ہیں.. آغ گر سْبُخنک ھذا بُهمَانٌ عَظیْمَ! 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


۳ 
1ئ جو پوال ہي نہ 
2 ا سال سر 
۱ 8 یتتات ا 


مندرجہ الا فو اد سے معلوم ہو اک ان پاشنی روایات کےتصفی فکمرنے وا لے 
ورتقیقت باطی زم لی تہ جو خدا یر یمان رکھتے تہ نآ تحضرت مکی او علیہ مل مکی 
رساالت ون ّت کی تھے ن اکیں حعرتت لی رشھی ان عنہاو رآ تا طہمار سےعقیرت و 
حبتاگیء ضردد دیع اسلا مکو بین مھت تے ولایت واماصت کےکھر ےکی آڑ یں ا نکا 
ایک ہی مفقصدتھاء مجن وین اسلا مکی بیادد ںکومتد مک ناءاس کے لئ انہوں نے عی٤‏ 
مامت ووڑا بی تصفی فکیاء او ربچ رآ ئا ہار کے نام پ رح رات صھا کر ا حم کو بنا مکمر نے 
کے لے انمہوں نے ہنراروں روایا تگزکر جامم نق مان کے کا فر ومنا فی اور و شمناان اەل 
خیفے ہے مو اقا ا گت فرح ان دا لات انی م٠حخو‏ نکی کن می نف رن 
ٹس ان نان د بین نت لی فک رڈ الی ء اور جب انہوں نے دپیکھاکمرال نکی ا ن تام مسا گیا 
فرمومہ کے پاوجووییمسلمانوں کے مان پالش رآآن میس تڑلز لآ یاء اور نہ اکا برسھا سے ان 
کی ععبت دعقیرت می سکوٹی فر قآیاء لگ رملمانوں نے ان کے خووتراشیدہ اضماتو ںکو 
گوزش اجب انہوں نے قرآ نکی انی یی اراس ابا اود اس کے لئے 
روایات کے وفا تن فکرڈانے لو یا ” جاویل فی ےکھی درتحیقت عراوتیٹ رآ ن 
کا ا ہا رتصودتھاءکیونکہ جب ق رآ نکی باضی وی کے ذر یچ سی مھایا جات ےک تین 
تر نکاف رت :مزا فی ےم رم تھے داد ول ےشن ےلان کے زرنے جوق رن 
مس کو ہہیا سکاکریاا پا رر با...؟ نحوز پا سغفْ ار ! 

اب بلوررمشال شیتو ںکی اس' انی جأو یگ کے چننھونے یی ںکرتا ہوں ‏ 
جن سے وا ع ہوگا کی الع سکفرییعقا رکوس ط رح ق رآ نکریم می ٹھو نی کی جمارت 
یگ ے۔ 
مض رآ الا نوا رز کے ایا ول کے چتنھوے : 

لی اک أو یر نک رکر چا و ںی خام شع شی یا٣‏ مرج آلوواز“ 
یلو رنزاصی” طنی جاویلی' کے موصسوخ اھ یکئی ے ‏ اورموصوف نے عون کی ان اضٹی 
جو یلا تکااصاذ تجرہ اس یلم عکردیا ہے۔اس کے مطا لے سے انداز ہبہوتا ےک شا ید 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١٢۱۷۳۱٥٢۱۹۹ .۸۷۸۲۹۹6۴ ۷ 


گا یا ہوء اراس سے ہاش یمن ضہنکا نے گئ ہوں _ 
موصصو فلکت ہیں: 


احعادیث سے ظاہرہوتا ےک تعددمقامات میں لن 
رآ نکی زو سے الد تھالی کے ماک نام اللہ کاء الک اور رٹ کا 
لف امام پر ول گیا ے' (ص:ء۵) 
جن ق رآ پک ریم می ںکئی آیات یس جہاں ”ال مد“ اور زی الف آیا 
اس سے قعفرتتگلیاھ راد ہیں ؛اوراس کے ذ یل یں موصوف نے ا کی ببہتکی مثالیش 
ذکرکی یں ءان ٹیس سے چندمشایس ملا حرف رما یے: 
ا:.. ”وَقَال الا تَسَخَدُوا الهَيْنِ الین اِنمَا هُوَإِلٰۂ 
وَاحڈ “ (ال:۵) 
تر جمہ:..' او رکا ار نے مت پکمڑمتموددوہ وو مت ود ایک 
نود رتو :جانر) 
ا ںآ یت کا مطلب بی ےک دو !ماع نہ بنا اما تو یل ایک کی ے- 
(م71الاوار :عۓ۵) 
گو با ا ںآ یت میں متبوڑے اما مرادے..لھوپابٹہ...! 
*... ”ال مُع ایل اَكُثْرّھُمْ لا يَعلمُوْن“ (اتمل:٦)‏ 
تی کی وی اوح ام ہے انف کے اتد وی 
یپ کان ان" (تف ان 
آیت سے مراد ہہ ےک کیا ایک وفت یل امام مرایت کے سا تھ امام ضلاللت 
ہوسلم ے٤‏ ۱ ( م1 5اا وار ے۵) 
گوباالندے (ما ھرادے۔ 
٣ی ٣‏ و الاس مَنْ يمَخَذُمِنْ دُرْن اللِاَندَادا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱٥٢٣ ۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


حِبُوْنَهُمْ کب اللو “ (ات۵:8٦))‏ 
ترجھ.:...” اور لقضے لوک دہ ہیں ج جناتے ہیں الد کے 
برابراورو لکو ءا نکی محبت ابی رت ہی ںجمیحبت اون کی ے' 
(تم خ لن 
الآیت میس ان لوگو ںکا کر جھوں نے امام بر نکوگھو ڑکرفلاں اورظلال 
20 کو امام بنالیا۔ ۱ (م71الاوار ی:۵۸) 
و یں الگ سے راد ہیں ء' اندا سے ھراد الویکرڑ ور ہںء اور 
”لزا سے مرادصھا کرام ہیں ہجخھوں نے حطر تک کے با نضرت ارز وک کو 
خلیف بنالیا.. لوڈ پاللہ...! 
".. "”شالک الوَلَايَهُلله الْحَقٌ “ (الیف:٢٥)‏ 
ت7 چجم:..!نوہال سب افقیار ہے ا ےکا 
بہثبت 
آمت ٹل 'ولامت'ے :اتا ارے_ (م81الاوار ص:۵۸) 
یآ یت میں اللہ برتقیحفرت کوک اگیاے.. تو پالڈد...! 
۵:... ”ولا یٔشْرِ کب عَاذو رَبَةَاخذا“ (ائکیں:٭۱) 
مت خرف تل تا کی :گی می 
یئ (ڑھ:جالنر) 
نی ولا یتآ جج کےسا جو وسرو لک امام نہ ہنا ۔ (مآ ڈالانوار ص:۵۸) 
گویا ”اپنے رٹ سے مرا ماع سے عبادت سے مراد ے ال نکیا ولا یت ہ 
اور بندگی ٹیش ری کک رن ےکا مطلب ےکی اورگو امام ءنانا۔ 
ای ”وَسَقَاهُم رَلْهُمْ شرَابًا طِھُوُرًا“ (الدہر:۱٢)‏ 
تر جمہ:..' اود لا ےگا ا نکوا نکا تٹِ :شراب جو باک 
کرے و لو“ (تف تح انر) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۵۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


پیال'ان ٤تت“‏ 'سطیوللی رو اہج گگ۔ -- 
(م51الثوار ص:۵۹) 
ے:... ”کان الْگافرُ غلی رَبَّہ ظھیْڑا“ (افرمآن:۵ہ٥)‏ 
.”او رکا ےآ ز نکی طرف سے ہپ ہے 
سے (7ر:َّالنر) 
آ یت میل' ات تر سے ححضرر کی مرا ر990 ےوران 
ہیں خھوں نے کے ہیا ۓ رت اوک کوخلیفہ بنایا۔ ( م1 الانوار :۵۹) 
۸.. ”فقال اَمّامَیْ ظَلم فَسَوْف نَعِبَه تُميْرَڈ الی رَبَّہ 
فَيْعَذَبَة عَذَاب گرا“ (اکہگ:ء۸2) 
ترج.:..'پولا (شننی ڈوال رین ) جوکوٹی ہہوگا ےانصاف ! 
سو نم ا سکوسزادیل گےء پچلرلوٹ جات ےگا اپینے رٹ کے پاسا ٤وہ‏ 
عقراب د ےگا ا سکوبڑاعزاب' ( ترجہ :جح ان) 
”اپ رت سے مرا ایل ہیں... أحوذباق... ج یع سکوع اب د یں گے۔ 
(م77الاٹوار )۵۹:١‏ 
۹... ”'وَإنا لَمَا سَمِغَا الْھُدی اما به فمَنْ يُومِنْ'برَبَه 
فلا يَخَاف بَحَسَا ولا رَهَقَا.“ (ان:۱۳) 
ترجہ:..' اود کہ جب جم ن ےکن لی را ہدکی جات و بم 
ےے ال کو مان لیا سو جوکوی یقن لا ےگا اپنے رٹ رسود ہن ڈرے 
کما فقصانع سے شز بر دکی سے" ( تج جم النر) 
آیت کے سی مہ ہی نک ہم مو لا علیہ یمان الا ے ‏ سو جوکوگی نے موا کی 
دلا یت پر ہمان لا ےا ںکوکیاننقصان اورز بر کا اند یٹننں- (مرآ5الاوار ض:۹۸) 
گویا ا لآبیت یی لبھی ان تی“ سے معخرت لی راد ہیں ء اور جم اینے 
رٹپ ایھان‫ لاۓ “ےم ار ےجعقرتکلنا زان لان.. تو پلہ..| 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


*:... ”وَآَقَ الْمَسجدَلِل فلا نَڈغرا مَم اشْراَخَدًا“' 
ڈائن:۱۸) 
ترحہہ:..' اود یہک سر ال' گی یاد کے داع ہیں سو 
مت پکاروائش کے سا تکس یکو“ (تھ :ابر 
آیت کا مطلب ىر ےک !مام؟آل ‏ جھھ سے سے ءلہ ای اورکو ما م نہ بنا 


( ما اانوار آكض:١ع١)‏ 


گیا یہاں' ال سے مرا امام ے.. لوذپاللہ...! 
اا:... ”اِنَهُمْ اتخْذُوا الشیاطِیْن اَوَلِيَاءَ مِنْ دُون اللہ“ 
(ال۶راف:۳۰) 
ترج:..”انہوں نے نایا غحیطا نو ںکور شی ء الل دک پچھوڑ 
2 ( زی تانر) 
جن انہوں نے امام بر عکویچمو رک رو وسرو ںکو امام ینالی-۔(ع رآ الانوار ص٣٢)‏ 
گویا آیت شریفہمیل' ال“ سے مراد ہے امام بین ءاورشیاطین سے مراد ہیں 
یورخا .عو پاب...! ۱ 
۴۳ ”لْدِیْنَ يَخملوْنَ الَْرْش وَمَنْ خَوٰلة“(لمون:ے) 
ت7 جم...' جولوگ انٹھارے ہی ںع ری لکواورجواس کےگرد 
ایا (ترف:تالنر) 
عرش سے رام ابی ہے؛ اون کےانھانے والے امام ہیں ۔ 
( م1 الانوار ص:۳٢)‏ 
۳ ”اذا قیل لهمم ارکھھوا لا يَ رکون“ (المرسلات:۸) 
جہ:..' اور جب لئے ا نلوگ جک جا وس کت 
( ترجہ اابنر) 
می جب الن ا ےہاجاے یکو امام ینان میں بناتے۔(م رآ و الانوار ۷ضص:۳۱٢)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


۳.. ”الما طغا المَاۃ عَمَلَكُم فی الْجَاريَة“ 
(ااد )١:‏ 
تجہ:.. !ہم نے ؛یس وقت پای أبلاء لاول یا مک یجلتی 
یں یہ ری انز 
یی سے میرالم و تن اوران کےا صحابعرادہیں۔(م رآ والانوار ص:۱۱۹) 
۵ ”فْکَایْنْ مَنْ فَریَة اَمْلگُنھا رَهیٗ طَالِمَة فُھی 
عَاوِيَة عَلٰی غُرُوهِھا وَبئر مُعََلّة وَقضْرِ مَذِيْدِ“ (ا٤ٌ:۳م)‏ 
ت:. ”وی ہیں بایان چم نے نذا تکرڈ لی 
اور وگنگ رکیل ء اب وو ری کی ہیں ابی پنوس پر ؛او رسک ےکنومسی 
کرت :اور کل پک کی سی (ری 6اد 
یہال ”بٹر معطلۃ“ ( سکت ےکنو سی گے پڑے )سے مرا دتحضر تی ہیں ۔ 
(م51الانوار ص:٤۹٦)‏ 
حر تل سے نادا نکی د تق یکاکیاابچھا مظاہردے...| 
”رق ُمُوَالِهمْ حَق لَلسَائل َالْمَحْرُوْمْ“ 
(الزاریات:۱١)‏ 
ترجھ.:..' اوران کے مال میس حص تماما گے والو ںکا اور 
بارے ہو ک ےکگا۔" (تع تج اانر) 


7 سے ھراد ن یکرمم صلی الد علیہ یلم ہیں٠‏ او محردم حضرت ملغ ہیں 


اہ (م۶1الانوار ضص۰:١۱۳)‏ 


ےا:..۔ ”اذا وٌقع الْقَوْلَ عَلَيْهِمْ اَخْرَجُنا لَهُمْ دَابَمَنَ 
رض“ (امل:۸۵) 

ت7جمہ:.. اود جب پڑ گے کی ان پ جبات:ٹالیٹس گے ہم 
ان کے آ کے ایک چانورز ین ے_' (تر :انز 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


یہاں' 'زعین اور جا ٹور سے م اوت ر بل ہیس عو پازلدہ مخ رارڈہ...! 
(مآ 8ال نوار ص:١٣٤)‏ 
۸ ”'َانوَلًَا اِلَیْكُم نوْرْا مَُيْنا“ ‏ (۱۶۷۸اف:۵۸) 
وو انور تا کی پھر نے تبرش دا 1 
(ترف:بابن) 
آیت یل فو رین سے م راد ہیں٠‏ ابی طط رع جن جش نآ بات میس 2نو“ کا 
لف ظط یا ہے اس سے امام یا ولا یت امام مرادے ز]: 
الفت؛ت ”وَيَجَعَل لکُم ور تَمْشوْنَ ە“' (ریر:۸) 
رجمہ: اود رکود ےگا مسر دی کو لئ پر . 
رم7 الد 
شنتہارے لے امام ہناد ےگا جم سک یتم ایق اکمروگے۔ 
7 وَمَنْ لم يَجْعَلِ اللٴلَه نُورَا فَمَالَهُمِنْ نُور“ 
(الور:م) 
رس اور کوائش ےت دی زی اشن گے اط 
یں و (ڑرج:٘لز) 
ینیج سک اکوٹی اما کییں: اس کے لے قیا مت کے دا نکوکی اما مکییں ہہوگا بس 
کیاکی مس چے۔ 
- ”نورهُمْيسعٰی بنا یه ایانم“ (اترم:۸) 
ور ا 7 روڑلی ےان 0 
کر ہے رج انت 
یہاں' او سے راد آغم ہیںء و وامتت کے دع ض ین ٤‏ کون زا کی 
ہیں کے 
نان ”وَاتبعُوا ال الَّذیٰ ال مَعَةه'' (الا۶راف:ے۵) 


۷( 6م۹.۷۸۷۱۲۹۴>٥٥٣۱۷۳١0۲ا651‏ 0ا ۱۷۷۷۷۷۷ 


وس سس انت 
7ئ ٹس ے اطم رای یک 
سما تح اتا" رر ات 
ہا ںجھی نو رھ مراال ہیں - 
الف ای قھا مآ بات جن میں فور کا لف طآیا ےس سے امام اور وا بیت 
ام عراوتج۔ (م۶1اٹوار ص:۳۱۵) 
۹.... ”فيهَ انرم ماع غَيْر این وَأَھز مَنْليي لم 
غَسّل مُصَفیٴ (ئر:۵ا) 
ت .اس یں نہریں ہیں پا یکی جو وی سک رگیاءاور 
ری ہیں ڈو دح گی جن کا عزر ہیس را ء او رض ری نیں شا بک ء 
ننس میس مرہ سے ہفے والوں کے وا مہ اورشہری ہیں شہ دکیء 


چا گا جاراہوا۔ رر نر 
ال نع تماممبروں ے امام عرادہیں۔ (م51الانوار ص:۵٣۳)‏ 


... ”وم جَعلَا اَصحب النار الا مَليْكْة' (ا/رث:۳۷) 

ترجہ:. !او رپھم نے پلک مککا جک پان تو یس فرشتو ںکو بنایا 

بھی ( ترجہ فرمان گی ) 
ہال”'النار'(چمحم) سے مراد امام مقائم ہے؛' صحاب انار سے مرادشیعہ 
ہیں ءاورفرشخوں سے ماد ولوک ہیں جڑ مآ ٹھ کے ما کنک میں ۔(ع آ2 الانوار ضص:٣٣۳)‏ 
ینتا لی شھیہو کی ماضفی ات کے در یا ماع ٹیس نے اک فلارے 
کی حیشیتارعتی ہیں :جن سے انداز وکیا جاسکا ےکیق رآ نکریمکوکس بے دردگی کے ساتھ 
موم عقاککد رڈ ھا ےک یکو لک کی ء او رآ ات عغ۔ے سےا جہظرے 

رعطرئ قرآن ک ےی تجن ورک یاکیاے۔ 

شمیعو ںکی 'طنی ما وب“ کی تقسوم نال رہ ےکی ٠اگ‏ میہنہ وکھایا جا ۓےکہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


سرچ وٹ سڈنا مشچ سا 

کےخلا فم ط رز برا گلاگیا ہے؟ اس لے چنیھونے اس کےبھی یں کے جات ہیں۔ 

:الہ نگ آبیت:* می نآفا روشک نک کر ہے جن ک بی ال نک 

سز الریة“ (برتر ینیطال )فرما گیا ہے شوہو لک باشفی جا وی می سکہاگیا ےکا 

آیتکا مصداق اعد ۓے کاو این خلافت ہیں (متنی رگم شیع غلنغاۓ راشد بن اور 

رات مہا تر ىك و لصا ءمراد ہیں ) کیوقکہ بر سب مرن ہوگئے تہ اور ا ن کا بل 

(حضرتتکل وخلیضہنہ جنانا) تا مکفار وش ران کے اعمال داقعالی سے بت تھا اس لئ ىہ 

تا تکذر میں تما مکفار سے برتر جے .. أ۱وز پادڈرہأ ستغفرارڈر...! (مر ڈالاوار ضص:۱۹۸) 

۴..بق رآ نک ریم یس ہا ں مرخ راورٗ مرکا ذک ریا سے باشفی نویل کےلھاظا 

00ھ8۳0 .تو ابقہ... تعرات خلا تے راغ در ٴي اور 

مات وانصارً۔ (م۶1الاوار ضص:۱۳۸) 

.:٣‏ بقل نک ریم یس جچہاں شیطاانء شس ؛فرحونء باما نکا وک رآ یا ےہ اتی 

جو یک نر و سے اس سے مم رادغ لفاۓ رانش مخ ہس تصوص] خلخا ی؟ رش ھعقیرے 
کے مطا لی وو اپیس الا ال اورفرعون الفراعنہ تھ..لھوز بارل....! 

(مآ تال وار ی:۱۰۲۳۰۲۳۰۰۰۹۸٣۳)‏ 

۳ جآ کر میں جہا ںگہیں زٹاء فا حشہ:فو اص رمگر ای ماس ا قصاب: 

ا ام ءاوٹا نا ضہصت وطاوتء میدہ 2م اور کا لف آیا سے ال سے راد ا تم ور ہیں ء 

نی خلفاۓ راشد .عو بالل...! (مآڈالانوار ی:۲۵۸) 

۵... رآ نکرمیم ٹیل ججہاںل رات کے مھا جان کا کر سے ؛ اس سے راد ےھر 

صلی الل ما ےل مکاتیخ کیا جانا اوررشمنو کا خلافت پرمسلط ہوجانا۔(عرآ انار ص:۲۹۵) 

زنک نین چا ںع لز تک کر ےا ,- 0 

]شی خاطا ےۓ راشد بن( الو رورٌ)اورمعاوی :یراورتو'أُمے_ (مآ5الانوار ص:۸٢۲)‏ 

ےے:.. بق رآ نکریم مرتحم اور امو ںکا وک رآ یا ےه پاضفی جا وی کی رو سے اس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


پر مسا 


سے مراد سےخلیقہاقول خلیقہ ابی ہ ہنوأمیراورقاضلین سجن اوران سے سرزدہونے وا لے 
آقالی۔ (م1ڑالوار ی:۲۲۸) 
۸ٹ رآا ن۷ ری می جہا ںکفراورکافرو کا ذک رآ یا ہے ا کی اویل ہےر ساء 
ناشن :تو انا خلا کی وکا ن کردا کا رسب سے بڑ دک رتھا۔ ا وأ مھ سا بقہ کے 
کک جو زک رق رآن می ںآ پا د یھی ا ز رو ےتا وی اکا ارول بث تکی وجہ سے تھا_ 
(مرآ الانوار :ے۸٦)‏ 
۹ٹ رآا نکر بیس جہاں' اناو“ کا زک رآ یا ےلج نکوکا فمروں نے اردتا یکا 
ش یک نایا اس سے مرادخلیضاقول والی ہیں ء اور نکوخلیشہ بتا ے وا 0 اٹ 
(ممآ5الانوار ص:۰٣۳)‏ 
٭: ہہ رآ نکریم سی جچہاں نفاقی اور نان نک نزک رآیا سے اس سے ماد ے 
الین اوران ےسا و( لی جات خاغانۓ راد من شی اڈ نشم )۔ 
(م رآ 8ال وار ص:۶٣٣۳۱)‏ 
اا:.. ہش رآ نک رم یس ججہاں مر ی نکا نزک ریا ے اس سے مراد ےفلاں اورفلاں 
اورفااں ( ]شی نا ۓ راشد )جو رسول ارڈیکی اوشدعا ےلم کے بعحدوڑا تک کا !ار 
یفالت ھا سگئوں (مرآڈالاوار ص:۱۵۸) 
۴ر نک ریم می س٣ع‏ ہوسا لہ عنام رگ یکا وکر ےھ سکی نو صرائل 
نے برنتت کیعھیہ باتی جا وی لکی رو گیل (مگوسالہ )سے راد ہیں : مضرت ابر 
ایی سے ع راد میں :جعضر گر او رگوساللہ کے پپار یں سے ممراو ہیں :ھعتزا تک ہا جمھ بن 
و صا رزہشنھوں نے منرت الوکڑ سے بج تکی. لو پالک...! (م رآ ال نوار ضص:۹١۲۳)‏ 
۴۳ ہق رک کک ریم کی ای٤‏ کآآ یت یی ا عور تکی ال ان تل توسوت 
از کرگف کڑس ےکر کے ٹوٹ ال یتی_(اخل :۳ ۹) اس ے را وخضرت کا یش شی اللہ 
نا ہیں نتھوں نے ہے یما نکوکڑ یڑ ےکر کےا ڑ ڈالا... نعوذ باللہ من الھفرات 
ورالھذیان! (م ال وار ص:۳۱۸) 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳٣٠٥٢١٣۹. ۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ان چرثالوں سے داش ہوا ہوا حول پاطتی کی وی س کی ی گنی خرافات 
وکفریا تکوق را نکریم می ٹھو نی ےک یکوشٹت لک یکئی ہے اور سکس ط رح جات خلا تے 
راشد ین اود مہا جھ گن دانصار.. .شی الل دشھ..کوکا خر ٹے !یما نکہک ران کے ذر یج لن 
دا لے ق رن اور وین اسلا مکی ایک ایک یز کےخلاف ز ہر گیا سے ۔ یہو ںکی قمام 
تاس (زہٹ تی رٹی بی یا شی مض رالہ پان وغیرہ ال اھ کی ددایا تکی گج را یا ہیں: 
ان نز نے فی ارتا اظہار ببہ کم ہہوتا سے کہ عام ال سن تکوشیہوں کے 
اشن پا طلاع نہہوہا ہم اُردوتر ام ٠‏ بھی یتو یلات کےمونے ات ےآ جاتے 
ٰ ہیں۔منا سب ہوگاکہ چندمنا لیس ترجہ مقبولی ےی ہت یی ںکمردیی جا سا 
تر جمتبول لی ےا ول پاطن یکی چن دا٠‏ 

ا...سور) فا تمےآیت:۹:... ایک روایت میں آیا ہے 'الص رط شی سے م 
( ئ٥‏ ) مراو ہیں .تول من رج م'' لص الا تشم بظاہرتعدادمٹش چودومروف ہیں جس سے 
بیعراد کہ چودہکا جو راستہ ے وی صرا یمم ے۔ (ص٢)‏ 

٢‏ ہور؟ابظ ر8 آ یت:ا:...”ڈلک الکعب اف رعھائی یل ے :چناپ انا یام 
تمتخرصاوق علیرالسلام سے روایت ےکہاس سے عرادیلی بن الی طالب ہیں او رکا کا 
ا طلاقی ا نسا نکائل برک ناابل انقدادرخواصص اولیاء کےبحاورے می داشحل ہے۔ (ص:٣)‏ 

٣‏ سور الف ر؟ ا یت:۸:... ”ومن الناس“ اسں ےے ماد ہیں امن ای اورالں 
کے اصحاب یا اول دای اورمنانشین یس سے جوان کے ہم مر ہیں (شیعہ ا صطاع یش 
ول وغالی سے مرادتفراتب پور پھررٛی اڈٹنہھا ہو ارت ہیں )۔ (ص:م) 

۴ سور السا مآیت:ا۵ا:. ”لس لک فرین “فی رٹی ٹیل ےکہ ہا ںکا ف رین 
سے مرادوولوک ہیں جنخھوں نے رسول الل کا اق رارکیاادد جنا ب آمرالھ کا کار۔ 

۵.. ور آ گرا نآ یت:ے۱۵:. :”کی کیل الد معالی الا شمار وغی عیاش 
ٹس جناب ما تج بات علیہ الام سےا لی تک یف ری واوز ےک مجن الڈےے مرا 
لی او اولادیگی ہیںء 2 وس ا نکی دوتی ای ہوجاے دو راو خدا می گی ہوا ءاورجھ 


۱۷۷۷۷۷۷ .06510۲٢۱۷٣٥٢٥٢١٠٢۹۰۷۸۷۵۸۲۹م66‎ 7۷ 


دن ا رق مار عم رایت اڈ نکر )2ے :خولں: ص:۳۸٣)‏ 

۹ مور التو بت1 یت:۳۰:... ”لا تحزن ان اللہ معتا* کائی “یں جحاب 
امام شر باشر علیہ السلام سے منقول ےک جناب دوگ دا غارس جناب الوکھر سے فرما 
رر تھے :'' حب اد ےقرف ادخ رن او نی اھ ےب (ص۳۸۶۳:۰) 

یز سور الو ہا یت :۰:...''کلماة الذین کفروا السفالی *مفمیرخاشی میں 
جناب امام مھ با ھر علیہالسلام سےمقول ےک اس سے مرادد کلام سے جو ہے میا 
کرت بے نی لی ی سی می ےت ”نے میاں سے مزا ہیں... نو3 پا .. الوگر 
ربق ل)ز (ص:۸۵) 

ے:. صورةا عرآعیت:۱۸:...”الذین امٹنوا وتطمئن قلوبھم بذ کر الله“ 
فیس ےک ا لآیت ٹل ”النذيسن امسوا“ شیع ٹل)ءاور”ذ کر الله“ 
امیر الم مین اور نحص می نپ ہم السلام ہیں - (ص۵۰۴) 

۸ بھور ا براؤیمآیت:۳۲:.. ”و قسال الشسطظن'لفیرٹی اوننی عیاش یں 
ےکلہ جناب اما م تج بالھر علیہ السلام سےمنقول ےکیٹ رن میس جہاں جہاں ”و قسال 
الشیطن“ آیاہہدں ال مرادہے۔(او مال سےمراوہیں. و ذاش جخرتکڑ 
ایا (7ص۲٤۵)‏ 

۹ سور۶اٗ ا یت:۸۳:... ”یعرفون نعمت للھ کاٹ میں امام تخرصادق 
سے بردایت اہی نآ باءوأجداد کے تقول ےلج بآییت”انما ولیکم الله ورسولہ 
والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ ویؤتون ال زکوۃ وھم رکعون“ (الاکر۵۵:5) 
نانزل ہوثی تو اب رسول فخذابین سے چپ لوک ممچد پربینہ یس جح ہو ئۓے اوز ای 
ڈوسرے سے بی کین گ کہ ا لآیت کے بارے می لکیا کے ہو؟ اس بر انی میں سے 
ایک ہو اکہ: ام ا ںآ بی تکا ہم !نکارکرتے ہیں نو سارے بی ق مرن کے عم رکھہرتے 
ہیں او راگ !یمان ماتے شی ںتے ىہ ذات ےک اس عالت مل ابوطال بکا بڑٹا ھم برمساط 
ہوگا۔ال پراوروں ‏ کہ اکہ :بی پم یقن جات ہی ںاکول میں سیا سے مین نام 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


یں ےووست دار بتتان ج سوں ہسوسو پا تن تقو اون 
میں ب رکوپجہ یگ د اکر میں ۔حظرت اما تتفرصاوقی علیہ السلا فر مات نی کہ بآ یت ای 
وات پرنازل ہوئی۔ (ن )۵٥۹:۰۷‏ 
٭ا:.. سور8اٗ كع۸۸۷ی۔'التی یھر زار ضرا بل اللہ یر 
ھی یس ےک بآ یت ان تحخرا تک شان شش سے جو بعد جناب رسوگی دا کا خر ہو گگئے 
تےءاورراو دا ےججمی رت امہ رالھ و نو نی این ای طالل کی اطا ععت سے خودیھی باز 
ر سے ھےاورڈوسرو ںکشھی رکا انیج ۔ (ض:۵۵۰) 
ا:.. و رآ یت:٢۳ا:...‏ ”صن اعرض عن ذکری“ کاٹ ئٹل سے دا تھا ی 
کےا قو لک یی یں منقول ‏ ےکہ کی سے مراددلا ہیی ئن لی طااب ے۔ 

)٦۳:ض(‎ 

.اب ایک حو انف رٹی کا بھی ططاحظفرم ہے : 
سور 8 ار آ ییت:٦۲:...‏ ”ان اللہ لا یستحی ان یضرب ملا ما بعوضة 
فما فوقھا“ امام اإوگپر الد( متفمرصا دق )سے موی ےک بیعثاال ارتا لی نے 
امیرالم نیشن کے لئے بیان فرماکی ےہ نو تچعسرے سے عراد..أحوذ بابقد... اھ رالھ ومن 
) مضرتک )اںءاور”ما فوقھا“ ( یچ ہےکوا اتی سب سے ھرادورسول الد اللہ 
علی دم ہیں۔ ْ (فیری ع١١ )٣۵:‏ 
ان چپرٹالوں سے اندازز ور مات ےکم بمففراتء امہ کے ہام ے روایاٹ 

تزی کر ےق رآ نکر ری رفس رج ے۔؟ 
یں لین ےلپ نی موی لکی تھام خاندساذ یوایات غیع رادلوں نے 
تزی فک ر کےا ا ہار کے نا فسو بکمردی ہیں :جس سے قوف رآ ن۷ رمیم کے مین 
سس کمن تھا۔ ان مقبولا نل یکا دا من ال ن خرافائی ردایات سےمم یا ارس من 
رات ان خرافالی روایا تک 'علوم تاور علوم اب بیت' کا نام دیے ہیں ء اور 
27 کرت ہی ںکبق رن کر مکی ج تی روج ہے جو ان روایا تک رچشنی م شک 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٥۱۱١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


جع تتہ جم جچعہ<و8ے. 


ا ے اتی تاب ٹم ان کاو راروی 7 7  -:‏ 200 
حنوان ےلکن ہیں : 


ہھارے ا صمول کے مطا انی ہ رن مجی رکا نج محظرات 
مو ل مکی یب راو ران کے ارشمادات کے اع ہوا ہےء با رے 
مزدیل وہ نڑجھم ھ ارشادات وت ضیجات بات متصومی نطتہہم 
السلا مکی ری یس نہک یمیا ہوو یم بالراۓ کے مت او ف مھا جانا 
ہے :حضرت رو لکریم مق رفرماتے ہیں:”'من فسّر برأیہ آیة من 
کصاب اللہ فقد کففر“ جک نے اپنی را ےق رآان مجیدکی ایک 
ا بی تک اتی رکی دوکاف ‏ ہوگیا۔' 
(وس ئل الشیع مص :۳2۷۷ء والیتنی ای :تج فر مان علی ص:١)‏ 
اع کک پریمواے ”ایلوا ولیہ رجخزئ“ ہڑ نے کےکیاع نشکیا جا سک 
ہے..؟ 
جناب اہچتتتمادکی صاحب کے چنر اط ا نف: 
شیجوں کےکقید ہت بی کی نٹ خاصی طول بہوگئی نا ہم بے انصاٹی لوگ اگمر 
آ جا بک ارب کے چند اطا یف“ سے ہم لطف اندوز ضہ ہو ء اس لے یی ےآ نا بکی 
ری عپارت ور خ کرت 0 یر آزاں ان کے اطا نف وک رگرول گا ا ہج 
مھا ائے ہیں : 
”یق ہآ ن لی عال ہآ حضریتے کے ز مانے ےآ ج کک بلا 
تیر دتبدل چلاآر ا ءالہبتہ ای کآدت مقام ‏ ےکناہ تک یلع علماۓے 
کی سن بھی لی مکرتے ہیں اور ب بھی ۔ بلنہ ہھارا عقیدہ تو اس 
ارے شی بی ےک خودرسول الل نے بی اپینے زمانے بیس اس پہ 
اعراب اور لقطہ وخ وھ یداد ہے تھے ا رس جح ق رہن جس حد 
تک علیاۓ اسلام نےکیھھی سے انس ے لو ش لوک وش مات مر 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610٥۲١۷۳۳٠۱۱١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


ہوتے ہیں شا" ”الانتان' یوما 
تھر یف تر ان برد لالم تکر ے وا ی روایات ء9 77 آپ تیے عا م 
لی یس ہوگاکی الا تقان اور ال ان دخیرہ میس انی کہ تی 
روایاات موچود سی شیع ہکمابوں ۲ں بھی ای بہ تکی 
روایات مو ججود ہیں ۔مشن من صرطرح خلا ۓ ایل سنت کے نز دیک 
رن می سج ری ف کا او خار جا از الام ہے٤‏ اکی رع ہمارے 
نزو یک بھی ایی مکحون ار ع از وین ہے ہم ایق رآن میرک اص٥لی‏ 
اور إ ہا بی اق رآ نسلی مکرتے ہیں جواس وقت مسلمانوں کے ہانتھوں 
ٹس سے اور سکی حلاو تکی 7 ھا کا کر 
ک رآ ج مت ککوئی شی عا ریف پی الق رآ نکا تقائ لیس ہہواء ال کا 
سب سے اوت ہیر ےکہ چچود مع اوں مل عاماۓ اما می نے چھ 
ناس لکھی ہیں مج نکی تحار ہراروں شی سے سب ا فآ نکی 
تخاس ہیں ء اوران تھاسی می جن نق ری موجود ہے دہ وجی سے جچھ 
ہگارے یہاں ا وم تکیا جااٛ٤ے۔‏ 2.21 یھ آن کے نواس 
ڈوسرے رآ نکو مات تو اس ق رآ نکی تفاسی رک میں عمریسی 
کییوں یس کرد ء مج نکو وہ ما تج ہیں تیے؟ ای ط رع ف رآن 
ید کے أُردواورانگری: کی تر جھو ں کا عاللی ےآ پکوگی بھی ترجہ 
نٹ کر دج لیس مت نت ری ود ی فظ رآ ےگا جوحلاد تکیا جا جا ے۔اگر 
عٔیم۔آپ کے گوے کے مطاب کی وسر ےت را نکو مات ہیں تو 
ا سکی ناس رجھی موجود ہو اورت جےبھی :مج ہ ایک سط بھی ایی 
نی وکھائی جاسکت ء جو اس بات پچ لالم تک نی ےکق رآن مجید 
کے بارے میں ہمارا وی عمقیارہ سے جو علمائئے ایل سن تکا رقاب 
ایک ام کی طر فآ پک نوج اورمبز و لگروادول ۔ دہ ےا حافظ 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳۱٥٢۱۹۹ .۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


لق مان 
جلال الد گن سٹون ےالدر المنٹور ٹشااسورتو ںکی بجاۓ۷ا 

سور لک ین ردی سے :لین دو ضا سورس در گی ہیں جلی 

ہول یت ریف ہے جک علاۓ شیعہ کے مصتفات یی الیک یکوگی چھز 

یں دوکھاگی چاسکتیء الد تھی أ پکو ہدایت دے اور ہدایت پ> 

نر تے۔“' 

اب مندرجہ بالاعبارت کے اطا نف ا تفر ما ۓ : 

ہلا لطیفہ:... ”یق ران می عال ہآ فحضرت کے ز مانے سےآ7 رع کک اتی رو 
تل چلاآراے۔“ 

گزشمباحف سے عیاں ‏ ےک ہآ تنا بکا دوگ الع ہاو رکتان ے۔ 
کیا آپ اپنے انس دکڑے پرکوئ یھی وبیل أ صمول شیع کے مطا بی خی لکر سکتے ہیں کمیااس 
رم خوم* کاکوکی صرح قول یی کر سن ہیں؟ کیا آپ ا کی دو ہرار سے زاند 
رواات متواتر و وم تی ہک کوک وی لکر کت ہیں؟ جن یس صعرا لا امیا ےک طالموں 
نے ران ٠‏ لک لی فک کے اسے پبرل ڈالا۔ 

وس رالطیی"ہ:..'بللہہماراعقید وف اس جاب شل ىر ےک خودرسول ال نے ہی 
اپنے ز مانے ٹیس اس پر اعراب او رلقط وغی رہجھ یلو اد ہے جے_' 

بحائن الل....اماشاءالل...ا ہے یروگ نازل ہہوکی ہوکی من نکیا آ اب پر 
بھی و یکا نزول ہوتا ے؟ اگ کی نآ نجنا بکابیقید ہکس عد بیث مج سآ یاے؟ اور 
امام نے امیر ےکی نتھ رر فر ماک ے؟ أ و کراووٹی صاح بکاقو لفئ‌ لکر چکاہو ںک 
اع اب لگا نا تما جن وس ککیککارستاٹی ےہا سکوشھی ملا حظدف رم مج ۔ 

تیسرا لطیضہ:..'””ال مت ای کفآد“ مقام کاب تک لی علاۓ ابل سن تبھی 
مکی کرت ہیں او جھ یھی“ 

دیشر !ایل سنت تو قرآن می سکاب تکیع نیس مات ء بک خ یق رآ نکوکھی 
شی مات ہیں اورق رآ نکر کے رکم الف اکو بدلنا بھی جائ زی بی ۔ الخرق ‏ ق رآ نکرمم 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


پچ اس ہے رھت مر ںی سے 
روابیت مرویی ہوپو ق رآ نکمم مکوغلط 0007 روای تکونملط اور راوگ یکا ہم 
لہ ناد ہک یتیل سازی یھت ہیں ۔ال ہت رآ نکی غخلطیاں بڈکالزااورق رآ نک ریم کے حامین و 
ای نکی عدرالم کو پچ و ںکرنا تحت شیب کاعحبوب مشخلرے اوراس کے لے انہوں 
تے دوایات ککدفا فا یف لیے ہیں جن ایل ارک ری ے۔ 

إاں...! ائیھی نے آ ناب نے لطیفہ ددم ٹیں فر مایا تھاکسق رآ نع کے اعراب اور 
نت بھ یآتفضرت سی ارڈ علیہ ےلم نے ابنے ز مانے بی سوا ئۓ تھےءااس کے باوجودق رن 
کریم می سکاب تک انل یبھ لی رف ر اتے ہیں ۔کیا ا لکامطلب یہن ہواک نود تحضرت 
صصی اش علیہ ملم جیان ےق رآ ن. لوق پالٹر 2000 ہے ۴ے 

چوھا لطیفہ:. ”ارجم جع قرآن یش جنس حدکک علماۓے اسلام نے اھھی سے 
اس ےش کوک شبات پیدراہوتے ہیں 

اشاءال...!امحوم اما مو ںکی دو جراررواماات) ہجوعلا ے سیاص نے تھی فک 
ہیںءاورجن شی کھ لک کہا گیا ےکہ یق رن خلط ے+النغ ےآ نجنا بکوشلوک وبا تن 
007ب 

مد للا جار جع ق رآن ے ایک سلیعم الفطر تکوکوئی شبہ پیرانییں ہوتاء اگر 
.ہو پالش... جا رم شع قرآن سے لوک وشہات پیدا ہون ےک یگنائش ہولی تو منصف 
پل عتحقب نی سللمبھی اس اقرار پرمجبورنہ ہو کہ یق رآ نآحضرت صلی الد علیہ سکم 
کے وقت سے جو ںکا و ںتفوظط چلا ا سے (ائ ںکا حوالہ یز ر چکا ہے )ان مجن 
لوگوں ے یل مس نفا یکا روک بے سے مو تورہوا نگو”فَرَافَھُمْ اللهٴمَرَ صا“ کے سوااور 
کیا حاصل ہوگا؟اچماء جلاف کر می ےک علاۓ اسلا مکی ما رہ ق کن سے تو شکوک 
دشمبات پیا ہوتے ہیں ءآ تاب اس کے مفا لے میں ان یوین سے جا رن جح 
ق رن“ کیا ہوالہردے د تج جس ے اولی ےاولی وو ھی پیا نکیا آپ نے الا 
کیا ہے؟ی اکر کت ہیں..؟ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱۱٢٣۹ .۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


ا چواں اط ریف خرن ووالت س 2 وا لات لان اور 
الہ پان وغم رہ ش۲ بھی برت ہیں ء ایر شید ہکماوں می ںبھی ہہ تکی روایات موججود ہیں ے 
پیلےمزر کا ےک 


ا:.. شیع ہکسمابوں ٹیل دوبرار ے اد ت9ا روایات ہیں - 


۳.. یددایات ٠‏ دداات اماممت ہے : بر شیع نہ بکا مدارے می طرح 
میں 

۳... پدفایا ری طور 02 یف رن برد(الت ری ہیں اورا نکامضجوم ایا 
و ۲ گت کہا نکاکولی ڈوسرامطلب ہبی کی ں سا 

۳× ,پچ را کاب رتا ئے امامییران ددایات پر دجن دا یمان ر کے ہو تق رآ زنک رم 
کی طور تریف شدہ مات ہیں ء جب غلمائۓ امام چاروں حطرف سے راس بند پاتے 
ہیں تو خحفت مٹانے کے لے مہ إلفرام اب سن تک یکتابوں بھی جڑد ار تے ہیں عا لالہ 
امکیاردایات نیھائ میش ہیں ء نکی متسو کا قول ہیں ء ہی ربیف پرص رت داال تک کی ہیں٠‏ 
ندال سنت الع روایا تک ہنا مق لیف ق رآ کا عقیدر و رھت ہیں ۔ اس لے علماۓ امام کا 
عیبر وداج یگواہی دا ےک دوائل سن تکو مہ الام دینے کے سل ےھ خر ی بک نا بک 
رے ہیں۔ چنا مآ تنا بکوگھی معلوم ‏ ےکآ پ ال سن تک من روایا تک طرف اشارہ 
آمرر سے ہیں بش باسحت ا نکاصلف یت ریف ےئیل بکمہ را علادت یاا خلا فی ق اوت سے 
ے۔اس لآ تنا بکاا نک ”تح ریف پر واال کر نے والی روایات “ہنا ما لع تہ اور 
نان ہے؛ چوک ہآپ ن ےک اص دوایتکانا می میا اس لئ مم بھی اسی ہل بیان 
پر اِکتقاک رت ہوں۔ 

ھٹا لطیفہ:...” جس ط رع ایل سطت کے نز د یک ق رآن می سن ریف کا قائل 
مار ج از اسلام ے ایر ہمارے نز دی ک بھی الیسامکحون خخار نج از وین ے۔' 

شابال...! 1ف رین...! آرج کیک نمی شیع عال مکواا سکی جرات رجوگ یگ اک 
ریف ق رآ نکا خقیرہ رک والوں رکف رکا فتے کی صادرکہرےء ورت ام اد ب رشب کوک خر 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۵۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


قرارد یناپ جاء چیہ ابلسنت بیشہ سے خرف ق رن کےمقید ےکوکفرق ار دینے ر سے 
ہیں۔ سے ! صروست الس تکا بک وارخل کے وت ہو تح رنیب جوا نا قال 
ارچ از الام کے حافظ امن تن نے لصا رک یکا بی ال اھ ع٠‏ لکیا ےک : 
”وأیىضا فان ال ررافض یزعمرن أن أصحاب 
نیکم بڈلوا القرآن واسقطوا منە وزادوا فیه.“ 
(حتاب افصل ج۳ ۴گ:۵دے) 
ڑی: اض رشن ڈلوگ یکر شی ںکییتھھارے تن 
کےا صعحاب نے ق رآ نکو بر دیااوراس می لکی یہ یکردیی_' 
اس کے جواب بی امن تن مکھے ہیں : 
”وأما قولھم فی دعوی الروافض تبدیل 
القراءاتء فان الروافض لیسوا من المسلمین انما ھی 
فرّق حدث أوّلھا بعد موت النبی صلی اللہ عليه وسلم 
بخمس وعشرین سنة: وکان مبدأھا اجابة ممن خذله 
الله تعالیٰ لدعوۃ من کاد الاسلامء وھی طائفة تجری 
تجرئ الھردرانضاریقی الخذب الف * 
ا رم:۳ ص:۸ءے) 
ترجہ:. .”نر پافصارگ کا یکہن اک روائض دلو ڈ کرت ہیں 
ک مھا نے فھراءفو ںکوتبد ی لکردیا تھا۔ ال کا جواب بی ےک 
انف ککاش نل رائوں می نئین_ن د3 ٹر ہین ج رہل ی 
انشد علیہ دع مکی ونات یمان تل پیارا و ے ۔ اور ال کا 
آغا نز ننفی شون ابی )گی فقو تک قو لکر نے کے تج یس 
ہواء جس سکوا اد تال نے اسلام سن راو زا 
7 ےئ ,بر و 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


جو عدآ 8ہ جوھعہ حووہ جع .3ہ 
ہک سا نممٹتیرھاو نت 
ادا کہ اب سن تک فے کی نو اتا دامع ےک ہخودعلا ۓ شیع بھی ال کول 
کرنے پمجبودر ہیں٠‏ چنا جج ےآ تجناب نے خود حتاف فر مایا کہ ال سطفت کے نز دیک 
ران میں تم ری فکا انل ار از الام ے' اور آپ سے پپییلے امام الشیحہ مولانا عامھ 
سن ن بھی مکی اخترا فکیا ےہ چناغیردہ اٹ یکاب' ا ستتصا ءالافمام 'جلداڑلی کے 
صفی:۹ کک ہیں: 


مصحف عنام یقککہابل سن تآ زا ق رآ نککائل اخننقادکنند 
وم نظ نقصا نآ را نان الا ان ء بغار نج از اسلام پندارن_' 
ڑج :..  ”‏ صحف عثالی کہ من سکو ایل سشت ”نف رن 
کان انا وکرتے ہی اور ہنس اس کےنقصا نک تقائل ہوا سکو 
ال٦‏ الا یمان مہ نار از ! سلام یگنت ہیں ۔' 
ال عبات ٹل جناب م ولا نا حا سن صاحب نے دہ اق لکا صاف صاف 
ائرارکیاے۔ ایک م کہ ال سطنت کے عقیرے می پیش رآ نکائل ےء اور ہ رک مکینھریف 
سے پاک ہے۔ دو مرک جو لو کک ریف کی ال رآن کے قائل ہیں وو ال سنت کے نز دک 
خرن أز اسلام ہیں۔ 
اک راب اپنے دگوے یس ہج ہیں ت2 آ پبھی اپ متنفف ان عاۓے امام کا 
ف اف ل کرد ہچ ےک جولوکن ریف ق رآن کے انل ہیں ء دوس بکاظ راودا ئ٤‏ اسلام سے 
ارم ہیں ۔٦أ‏ ویر ذکرکر کا ہو ںکہآپ کے جار جرگ از او ہجرف ق من کے مگر 
ہوئے ہیں ےم نآر کک ان جا روں سیت کسی شینعہ عال مکو بین ینیل ہوک یکتجریف 
قرآن کے ہین کے خلاف فنے یکر جار یکر ن ےکی جر کرمے؟ اگ رآ خجتاب ان 
مخمو ن کا ایک فی کی جارٹ٣کرد‏ مس اور دنر لد بن ز مان ہی تحمد با تھی اس بر جبت 
راد ی ںکہ:” نوہ تام لوگ چوتخریف فی القرآن کے تقائل ہہوئے ہیں ءس بکا فر وھ رم 
اور زھ لی تے فذ آ اب شیع نہب پر بڑاا تسا نکر می گے پچلر بھی دماھییں کے 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٥٢٣ ۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


ا نے کے ود نپ پکیاباق ا جا کو نا پاپا و کرش 
از ما وخ شکز ار شکروںٹا کرت جچوڈکرا نہب ےت 
یج َال الْمُوَْا 

سانوالں لطیشہ:...”ابتداۓ اسلام سےآ رع ک ککوگی شیعہ عال تحریف ںی 
721 نا مان یس ہوا“ 

ابخائن الڈد... از شنن أححاث یں شس نج بکی متتفدکنابوں کے جوا نے سے 
ای اچ ا یں 
شکو ہکرت ےآ ۓ ہی ںک ظا وں اور نماععہوں ن ےق ران یی ں تر نی فکمردگی ء اوھ رعب راید بین 
سباسے ےکآ ن تک کے بڑے بڑے شیبع مج بی بھی غاغائے داش بی کے مطاعکن 
ریف فی ارآ نکوفمایاں طود پر ذک کرت ےآ ئے ہیں۔ ان تما شیعو ںکاتخمریف نی 
اق رآ ن کا قائل ہون خودا نکی اپ یمکماہوں ٹل در نع ےء اس کے پاو چو وآ تنا بکا کہا 
کوئی شی تر یف نی اث1 نک تقایل بی کی ہہواء دو پہ رکے وق تآ فا بک و ٹا 20 
ری سےا اگ رکوئ ین مھ یکہککھو ں1۷ اپ نھد کا إ فا کدف نو ام نکوکنن دگل رسۓ 
قا لکیاجائے؟ ہہ رعا لگزشنزماحث بی اکا برشمیعہ کے نا مچھی ذکرکر چا ہوں جو کے 
کی چوٹ پت ریفق ران کے قائل تے اورا نکی غیا رج بھی لکر چک ہوں ۰ا نکوپڑ ھکر 
ال بصیرت خوددی فیص کر گ ےکآ تنا بکا نف روکس فک رخلاف واقراو کیسا شا ندار 
یہ ہے جوشیعہ رہب مس ائلی درب ےکی عبادت ہے اورآمتصو شن نے جم سکوا نا وین 
دایان تاڑ٘ے۔ 

آ ٹوا ںلطوٴ:..”'یروصروں سے نا ۓ شببعہ ای اف رآ نکو پڑھر سے ہیں 
اوراا کاخ ری ںلکور سے ہیں ہاگ رشیبحہ ال ق ران کے علاو ہی اورق رآ نک مات تو اس 
خر نکیغی ری کیو ںکک ؟ اص لق رآ نکی حلاوت وی کیوں کر ۓ ؟'“ 

اشاءاد...اشھیتوں کے ایمان پالت رآ نک کیا ز بردست دیل ٹیل فر ماگ ی ؟ 
جان ”کن !یتو ںکا ”' رن موجر“ یعاد تکرنا اودال سک خیرم لکھنا ان کے ابیمان 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲٢١۱۵۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


الش رآ نکی ولٰیل یں پا 7 5 ہے کیا ۳ھ 

ا2لا::..ان گے امام فا حب نے ان پہ یلم ڈھا اک خود تر کے مارے ار 
ٹیش ٹر ویو ہو بھی تھے؛ جاتے ججاتے اص لق رآ نکوچھی نا مم بکم لئے اس ون نے 
اس ال ق رآ ن ےکہا لک بۓے چاردے ا لک لاو تکیاککر بس اود ا لک فی ر سی 
اکر یں ؟ نا جار ا نکو ای ت رآ ا نکی طلاوت؟ ارنا پیج س لو ا ا ا ےج 
ہیں ۔ شیعہ صا حبان لوگو ںکو جتاتے تےکہ ہمارے ہہ بکا عدار تین یہ ےہ ایک 
ق رن صامتء وس اق رن ناطقی ءلڑی امام لکن یتو ںکی بر تی کہ بی دووںعف ہت 
ہے نا پل میں ۔ائنع کے پاھھ میں نٹ ران نا ہےء نظ رآان صاممت۔ اب بے حچارے 
رع کے نام سے اکی رآ نکوء جوخلفا ۓ را شع او را کرام کے ذ رر اعم کو 
طاےءٹ بڑڑھس لو ۳ لی کم یں؟ اکا تھا لی ن ہم ولصییرت عط فرماگی ہو کی تو ان اُمور ی 
مورک کےا مب ہوما تے پر شئّل یسل 

ایں سعادت مور پازوٹیست 
ثر و تیر وررے بر 

ج2 ای ا نکو پڑت ضرور ہی گرا سکوخل ا کر ھت ہیں ۔جی اک 
مولوبی متقبول اج اورشتھم اش نکراروی کے جوانے سے وبا کاقو لن لکر چا ہوں| س6 
کونماط بی پڑ ۶و !جب شیع اپنے امام کےقول سے“ مجبور ہوک رق رآ نکو خلط یک ہیں نو 
انصا فکیا جا ۓکہا نکاق رآ نکو پڑھنااودرائ سک ایر می ںلکھناکیاان کے ایمان بات رن 
کی دئیل ہو سک ے..؟ 

7 ہیں نے رن ن کم کی وی یی کی ہیں اکرا نی رکا ہا 
۔ .دہ خوداس با تکا من بولتا وت ےک ان کےلکینے دلو کا رآ نکمر یم پر ا یمان نکی 
ہو دق رآن کےکر یف شدہ ہو ن ےکا اعطان و اق راکرد سے ہیں .تی رٹی بی رحھا خی پیر 
صا بی رال پان ءت جمتبول اودتر ج یف ما نع یکا عا لپ ابھی ےھ کے ہیں مکی اور 
فی رکانام مین ورڈکر رت خداوف کی اکرش و گسئ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


تس 
ظ 


راب حا:.. شی رین 0ر2 کی ” جرف معنوی ٹس یس جرا تک 
منظاہ ر ٥کیا‏ ۓ, ا سک بھی نرسا نقشہ شی ںکر ہکا ہوں بس ران ہو جات ےکا کا 
ق نکر مک کی رم سککھن ق رآ نکرمم سے حقیرت دعحب تک نما ط رکیل بکنہ اپ نموم 
ا موق مآ نک رم می ںتھ و سے کی لج ےئن کت ریغ ان کے ابمان بقرآن' 
کی دی یں ینہ ''من قال فی القران برأیہ فلیتبوٌا مقعدہ من النَار“ کامصدات ۂںء 
نی جن سق رن میں ابی را ےتھو ےہ وو دو زرخعکواپناٹھکاا نا ےا“ 

اسان ود واصارگی اور کر 7- کے لوہوں نے بھی مرکا کم ریم کی 
تی یں بھی ہیں .گرا نکی رکا نام دینا بج ہو.. .کیا ان کے اس ط رز لکو ان کے 
یمان پالق ران“ کی وہل قر اردیا جاسکتا ے؟ نی ء ہرک نیں....! می عال شی فص ری نکا 
بھی ولا جا ۔ 

نواں لطیشہ:... حافط سیون نے ” ورمخٹو ریس ۱ا سورتوں کے بججاۓ ۱١‏ 
سرن ںک ینف دی سے چم 7 ضا سوریں ور گیا ہہ جونصلی ہہوٹیتحریف ے 
علا ۓ شی ہک یکابوں یس ہہ نیس کوکھائی اق 

آ نا کا طف نگم شنت تام لطانف سے بڑھا ہوا وس 97 چثر 
گار شا تک یکا رکرتاہوںن: 

الڈل:...ٴ اب نے عافطسیعطڈ کی“ الانقان “کے جوالنے زی نم فرماہے 
ہیں ٤ای‏ الاتقا نکی وی فو ق رآ نکر کے :اع ومفسوغ “کے ری میں بیعبارت 
نظرسا بی ےکم ری ہوگی: 

”قال الحسین بن المناری فی کتابه النىاسخ 

والمنسوخ: ومما رفع رسمه من القرآن ولم یرفع من 

القلوب حفظہ سورتا القنوت فی الوترء وتسمی سورتی 

الخلع والحفد.“ (الاثان ي۰٣‏ ضصض:٢۲)‏ 

زی ”تین مین النارگی ای کاب ”الا 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢١٠٢۹۰۷۷۵۸۲۹م6‎ 7(7 


ہہ س ا ا بی بزوں ے۔ کی ممابہت و 

جا وت ق رن سےا ھا یگئی لکن سےال کی یادداش ت کیل 

ھا یگئی ء دع تو تکی دوسورٹیں یں جوو مر میں یس یی جالی م یں 

اوروم وع ؛ 'او'ر ”سو رةالخؤر'' آپڑا اھ 2 

مطلب بک وت گی جا ۓے فقوت دوسورتؤں یشک نیس جا جو یگ ءاوز 
شر وت ہوق موا کے نام سے مصیا نف می سکاھا پھ یگیا ھا کان بعد 
شن یت طاز ۓ و خغآرر لکل اززا رفا حزے ےا فال .گیا 

درمنشور کے نما تھے میں عافظاسبددٹی نے ابی دو مضسورخ شمدہ سورتوں کے 
ارے یں ریگنوان قامکیاے:'ذ کر ما ورد فی سورۃ الخلع وسورة الحفد* سی 

”ان روایا کا کر زان دو فورح شدہ ورٹڑل کے پارے شل واررهوثی ۴ ای 

زی یش ان دوسو رت لکی فی ریس دکیء لہا یی ردایات وک کی ہیں جن یس ان ھا کو ںکا 
مز وتر ونیر شش بڑھن نمکور ہے اب مم ںآ خجناب کی کہم و انصا فکومنصف بنا 7ا 
ہو ںک کیا ا سکاناع ”تح لیک 'رکھنا شرعا دقلاً و۶ فا خلا تاج ات ے..؟ 

سآ ناب کے پا سچو یں لیے کے یل میں عخ کر ہکا ہو یک تع رات شید کو 
جب ای خفت مان کے لے ابلسنت بترلیفکا الام لگا ن ےکا شوقی راتا دو یا 
اض قرا و تکی روایا ت نف لک کے اپناول خو شکیاکرتے !یں۔ چنا نآ ناب نے بھی 
یکیاکہ حا ذیطس یہی ان دوسورتوں کےمفسورغ ال ریم والنلا وت ہو ےکی تر کر ر سے 
ہیں ارآ تاب ان برک رای کک الام لگا ر سے ہیں انصاف تج ہک ہکیاد بین ددیاخت ا یکا 


ا 


نام ے1 

دو :... یکشون اس عصورت میں ہے چان روایا کی صحت دقلحی تکوسلیم 
کرلیا جاۓ ء حا لالہ مب دوایات اق ل و اخبارآعاد ہیں ء بچگران مل سے اکر وشن زع رسلء 
تر حر کپ من نان نے رت لی اپ کات بین چنا کی ون 
لو رق رآن ناز ل بھی ہہوئیگحیں ؛ج نکی حااوت بعد می مو کرد یگئی ۔ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳٠٢٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


چنا اف طط نے ڈرکو و ال خر رت سر۳ لے 

بی خگی القاطض یر نو فی الافتضاز طن 
قوم انکار ھٰذا الضرب, لأن الأخبار فيه اأخبار آحادء ولا 
یجوز القطع علی انزال القرآن ونسخہ بأخبار آحادء لا 


حجة فیھا.'“ (الاثان ت٣٣‏ ضص۰:٦۲)‏ 


ا 8آ گا وکمرن ‏ ےکی ایک جات ہر ےک فاص ا ویر 
نے اٹ اب نپا نین گی نآ تا ہن تک این 
ا ڈارف ے7 نہ رداختقیں اس بارے شں أخارآجاد 
ہیں :اور جا ئمزگییں سے لا نکر نا ق رن کے نال ہو : پچ رمضسوخ 
بھو جا ےکا اخمارا عادکی بنا بر جسی ط رح سن درا کین ےا 
حافظط سٹو کی | عبار تکو پٹ گر ایےعھہر سے داد انصاف طلب جج کہ 
آ نا بکاان پیر بے الام دوش میں 1۱۹سورتو ںکیافی گیورے ہیں نل بن 
کی مان م لکتاوزن رکتاے..؟ 
یٹ .ہآ تاب فر مات ہی سکی ا علاۓ شبضہ کےممحتنفات ٹیل الک گوگی پچ 
یں دکھوائی اتی اما ۱ آ تا بکوغیا ۓ شر تہ کے دفا نز کے مطا نے ےکا مو یس ملا ء ورنہ 
وٹآ نا کی ز بال ناکم سے ضز و وت ں یآ تنا بکوکی طوی کاب کے بے سن ےکی 
نت پیش فو ںگا لا ڈنتاانی ک ےاج کے سے( نے کے سک ا ےکی 
اتی ضر ورآروںگا ےئ جیژن ا گنا پا سور انور ین 'اور ”سور ٭الو لاعت 'روسورلوں 
کا اورامشن لگا قش بے ےش ان انی ےک نحضرت عأاع نے ال نک و صحف 
امام سے سا ق اک ردیا تھا۔ ای شی عیارم تھی ےن امیرالمو مین اورائل بی کی 
فیس ل6س اترتا و رت فا نکی ا ضر ا ے وف 
امام سے کال دس نی ےکسورٗ فرققا نک یآ یت  ':‏ َتخذً قَُلانا علیہ درائگل یں 
تی:''لم اصسخنذ ابابکر خلا جخرتعناغ نے پاب کےائ کو فدا جا یس بپدل 


۱۷۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳۱٥٢۱۹۹ .۷۸۷۱۸۲۹۹6۴ ۹۷ 


ج- 


کے کہ رہ ہہ ہش ہو 
ى یں حطرت اما صاردل کایوںل' ان لک یا ےکم سودت ا از اب بٹڑکی و یل 


ھا۔!ا 


- 
ا 


٠-7‏ اوراں 00 کے لئوں کے اج خھے:' شا ں کر ریف و 8 ار 
)) جا مھ نف رآ نے امس پر7 رد اورا 1 ٦‏ گے 

اس پٹ کے نما تھ بر می ںآ نا بکی اس و امہ بعد اغلائ و ا اح آ می نکہتا 
ہو ںک:' 'ابتدتا یآ پا ثرایت درے اور ہدایت پر ہائی رج ےک رمآ ان س ےسا 


0 مج سی 
ار ےک و وا ںخلصا ڑم رت تو ہد 


_م___م_- _ ۔_ہہحےٹپسپےتکسکتکتشمسصسصس١8ہ‏ 6۔ص مم۱ے ۔۔۔ں۔سمس-_ست‌ٔ 


۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۵۷۳۳٠٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


1 سی سو ]یھ ٛ (گائی 1 تر 
اکس ماب میلا! ناب کے مر سوالات وما فشا ‏ ت کا وا تا ہوں - 


ا:..,عرےث”اصحابیٰ کالنجوُو“' 

ناب نے حافظ ابع تزغم گی کاب ” الا اعم کے جوانے ے حدیتٹ 
”صضعابیٔ کَالنْجُوْم کر تر لی ے۔ جوا پگ زار ےکا حد یٹ کاضمممون 
حاورا دیون کے علاددائ ہش کی ممتن دکزابوں می لبھی ریحد یے موجود 
ہے اط حا لا بھارالانواز“ کی کاب اعلم کے ابمل اختلاف الا پا کے 
زم میس کے ہیں: 

7- قسال الشیخ الطبرسی فی کتعاب 

الاحتجاجات: روی عن الصادق عليه السلام: ان 

رمسول اللہ صلی ال عليه وآله قال: ما وجدتم فی کتاب 

الله عرٌ وجل فالعمل بە لازم ولا عذر لکم فی تر کہ؛ وما 

لم یکن فی کتاب اللہ عرّ وجل وکان فی سُنَة منی فلا 

عذر لکم فی ترک سنتی وما لم یکن فیه سنة منی فما 

قال اصحابی فقو لوا بە فانما مٹل أصحابی فیکم کمٹل 

النجوم بأَيَھا اخذ اھتدی وبأیَ أقاویل اصحابی اُخذتم 

اھتدیتمء واختلاف أصحابی لکم رحمة. 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۷۳۳۱۱٢١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷ 


. آقول: روی الصدوق فی کتاب معانی الآخیارہ -- 
عن ابن الولیدء عن الصفار: عن الخشاب؛ء عن اپن 
کلّوب؛: عن اسحاق بن عمًار؛ عن الصادقء عن آبائہ 
علیھم السلام الٰی آخر ما نقل ورواہ الصفّار فی 
البضائ“ ( ہمارالاوار ريع:٣‏ ضص:٢٢٣)‏ 

سیا وا ناب الاجا جات میں لیت ہی ںک: 
رت امام صاوش علیہ السلامم سے مرو ےکہ: رسول ارڈ یی اللہ 
علیہ وآ لرنے فرمایا: ”چو جگوقم تھا یک یکتاب میس یا وہ ائس بل 
ازم ےء اور ی7 نے ار قرارے نارق بر کیل واور 
کاب اٹیل لہ ہو او رم گی سنت مل بء اس کے کیوڑ نے میں 
بھی تمہارے لل ےکوکی ع ریس ء اور جوم ری ی نت می بھی نہ ہو جو 
فی رن با نے فرمایاہدائ مر ل کرد ہکیوکیخم یل ےچ فا 
ستتارو ںکی مائند ہیں :یس سکویھی یج برا جا راعتیٹل جا ۓگاء ٤ای‏ 
طرعو ا بن کے مسا جس کےقو للویھی اخ رکرلوگے رایت 
بالوگے او رم ر ےسا کا اشلا مه ہارے لج رت ضا 

شی ندوقی نے ابی تاب معالی الا اخپار )یل ای سد 
0 0 0 لے 
اورال عد بی ٹکو نج بن صن الصغار ن بھی اب ی۶ تا سار 
الدرعات اشمل رواسی ت کے“ 
ھا نگانتی ئے وا را(او از ک تاب اع عم ”باب ٹواب الھدایة والتعلیم 

وفضلھما وفضل العلماعء“ کے مل میس ”غیة المزید“ کے جوا نے سے اس مصع مو نکی 
ایک اورعد یٹ نیوک یا کی ے: 
”۔ وقال صلی ال عليه وآلە: ان مٹل 


۷۷۷۷۷۷ .50610۲١٢١۱۷۳۳٠۱٥٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


العلماء فی الأارض کمٹل النجوم فی السماء یھتدی 
بھا فی ظلمات البرٌ والبحرء فاذا طمست أو شک أن 
تضل الھداۃ.“ (ہجارالاٹوار رج:٢‏ ك:۵٤)‏ 
ت:,,”نفم آپا تحت صلی لعل لم ے: ین 
ٹیس ملا ءکی مثال ایی ے جیس ے1 سان یل ستزارے ننن سے بر ور 
یش راہ پائی جال یٰ ہےہ جب ستارے ب ےنور ہو جا نہیں تو راہ پانے 
ہیمست 


..:٢‏ حر مث '”اختلافٹ فقتی رحمة“ 

یس نے ”ا ختلاک انی رھ۔“ لوان نواٹ 
کی طف تج ا تحضرت کی ادش حا لم ہےثا یت نیائیں کمسا 
ال ازس ضا گا 

وا اگمز اش ےک جہاں ہآ تجناب نے ماد کی ریعبار تل لک شیا ء و ہیں 
جس 

نصر المقدسی فی الحجة والبیھقی فی 

الرسالة لاس بغیر سندء وأرودہ الحلیمی والقاضی 

حسین رامام اف سرمین رغیرھوم راع خرج کی مض 

کتب الحفاظ التی لم تصل الینا.“ (مٴل القررِ رع:ا ص:۰۹٥)‏ 

ترجمہ:..,”'اس حدری ثکونص رمقری نے ”یں اور 

اہٹی نے ”2 رسال اشعر “یس ای رسند کے ڈک کیا ےءاورمیھی :تا ۲ 

ین امام الھ مین اور دن رات ن بھی ال سکوا پٹ مک بوں یس 

وک رکیا ہے شایدٹجنف فا کی کتابوں میس ا لک ینف جک یگئی ہوکی 

ہپ یک یں میں“ 

الفرٹش علامہ نا وق نے اس حد یٹ کےمعصمموا نک وسلی میا سے اور اس ساسلے بیس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


متنعددد ا کا بر کے نام کر گے ہیں ۔علاہاز یل أُوی'اُصحابی کالنجوم“ کے زین 
شھیتو ںکی مت کماڑوں سے جو رواٹ لکر یکا ہوں ءا سکا ای ککگڑا'إخصلاث اصحابی 
لکم رحمة“ بھی ےج سک ون بت شی ے۔ 

امام غزالی ےا جیا العلوم یں اس حعد بی ثکون٦ل‏ کیا ے اودرحافظاعرائی نے 
خی ا ضیاء ٹیش اس کے ل تابلی کی می٠‏ لکا حول رد یا ے: 

”ذکرہ البيھقی فی رسالتہ الأشعریة تعلیفا: 
وراسندہ فی المدخل من حدیث ابن عباس اسنادہ 
ضعیف.' (عائیاحاء رع:١‏ گل:ءے٢)‏ 
تر جھ:..' ال حد یی گنی نے رسالہاشعریہشیل اخیرسند 

کے وک رکا اودانہوں نے' ال لیس این ع با کی حد مث 

سےا لکوسند کے سا تحدرواحی تکیا ہے ء اورال ںکی سن دکرور ہے“ 

عافلڈسس الد بن سخاوق نے" 'النقا مدان“ یی قائظی کی سندبھیخ لکردئی سے 
اور اوراصع٠‏ نگھی جوصب ز یل ے٠‏ 

”حدینث)؛ اخلاف اَمٌمی رحمة: البیھاقی فی 
المدخل من حدیث سلیمان بن أبی کریمة عن جویبر 
عن الضحاک عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی 
الله عليه وسلم: ”مھما أرتیتم من کتاب اللہ فالعمل بە لا 
عذر لأحد فی تر کہ فان لم یکن فی کتاب اللہ فسْنة 
منّی ماضیةء فان لم تکن سُنَة مسّی فما قال اصحابی ان 
اصحابی بمنئزلة النجوم فی السماءء فأیما أخذتم بہ 
اسر رتساات اصعابی لگ رسما وم یھٹا 
ال وجه آخرجه الطبرانی والدیلمی فی مسندہ بلفظه 
سواءء وجویبر ضعیف جڈا والضحاک عن ابن عباس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢٣۹ .۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


سط وقد عزاہ الزرکشی الیٰ کتاب الحجة لنصر 

المقدسی مرفوعًا من غیر بیان سندہ ولا صحایيه ‏ وکذا 

عزاہ العراقی لآدم بن أبی أیاس فی کتاب العلم والحکم 

بدون بیان بلفظ: اختلاف أصحابی رحمة لأمتیء قال 

وھو مرسل ضعیف, وبھٰذا اللفظ ذکرہ البیھقی فی 

رسالە الأشعریة بغیر اسناد,.“ 

چیک حدیث کے الفاظاشر یبآ وہی ہیں جو أو شی ہکتالوں ,022م 0 
ْ کر کا ہوںء اس لج تر ت کی ضرور تکییں ۔ ح رشن ئل سنت نے فے اس ححد یر ٹکوسند 
ضم فک 8 0 ”ار الانوا'' ان ا سے را رن اپ 
طلب ام عم وا جا و اتال 2زو دای کال ےغاضتہ 

”7- مع جء ع: الدقاقء عن الأسدی عن 

صالح پٰ آبی حمادء عن اأُحمد ابن ھلالء عن ابن أبی 

عمیر عن عبدالمؤمن الأنصاریء قال: قلت لأبی 

عبداللہ عليه السلام: ان قومًّا یروون أنٌ رسول اللہ صلی 

الله علیے وآلے قال: اختلاف امّتی رحمةء فقال: 

صدقوا.“ ( بھارالانوار :ا :ںك٢۲)‏ 

07ں ا معالی الاخمار ش٠‏ طظطری نے 

کاب الا حانج مل اورصرو نعل الش راع یں ابی سند سے 

زا وشن اننارٹی ےا گرا دہ کے ہی ںکہ: یس نے امام 

صادقی علیہ السلام سےعرن ضکیانکہ: پچھولو گآ تحضررت صلی اڈ علیہ 

ولک بی ارشاوف کرت ہی ںیک ہآب نے فرمایا:” اختلاف می 

جم" امام صادقی" نف مابا: یلو نیک ردای تک تے ہیں“ 

اس کے بحد امام سے ان ولف لکی ے مگ اس سے فو ےک 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۷۳۳٠٥٢١٣ .۸۷۱۸۲6 ۷ 


۳ مام نا سھیسو جج وس وج سو رر ان 
سا ای وخیر: خلا اہل سفن کی جس ا سکو ےس کہ دیا گرا ہے ا ممتصو مکی 
ممتق دج ونقح دق نک یکوئی دای لک ءا هٰذَالَشیءُ عُعَابٌ! ربا آ پ کا ای نام کے 
×زااتج لزان 
”لو کان الاختلاف رحمةڈلکان الاتفاق 
سخطء وهھٰذاما لا یقولہ مسلمء لأنه لیس اتفاق أو 
اختلاف “ (اا امن ا“ول الا حام :۵ ضص:۳٠)‏ 
ترجہ:...' ار اختلاف رعمت ہہولو انثا نی غحضب ہوگا؛ 
او رکوگی مسلمان ا سکا تقا لیس ہوسکتا کیوکگہ دوجی صصورتل ہیں ء یا 
انفاقی ہوگاء ما اختلاف ہہوگاء اذا گر اشتلاف رحمت ہونو انفاقی 
غحضب ہوگا۔' 
عافظا این کا بیشہا نکی حقلیت دذکیاد تکا شا ہکار ےء ان ہوں نے عد بمٹ 
کے ہوم حخالف سے استند لا لکیاء اق لن ہار ے نز د یک موم الف جج ت یں ؛علاوہ 
از یں ممبوم خخالف کے جانین کے نز ویک یھی ہ رخوم خخاللف سے ا ستدلال جائۂ 
یں ۔حافظ ابی نام اگ رو روحائل سےکام لیت و ای ںکظ رآ ات کہ ہا ں مہو خخالف سے 
اتندلا لک ی تیاکش نا کیونکہ حدیث می أمرت ھرجو کی فضیل کا اہ رتقضود ےک 
اس امم تکاا تھا ق تو اتقاقی ےا کا ا تا ف جح رمت ےاوراس می ںچھیسحکمت ال ہے 
کارفراے۔ امام دارئی نے''باب اختلاف الفقہا ؛ یں حر تع رب نعبدالز بقل 
کیا ےکمران سرت لک یالگیاکہ کا لآ پلوکوںگو ایک بات پش کرد ہی ءجواب شیل 
حضرت نف رمایا: 
”مایسرئی أنھم لم یختلفواء ٹم کتب الی 
الآفاق أو الی الأمصار لیقض کل قومبما اجتمع عليه 
فقھاء ہم“ (نداری :ا ص۰٢۲‏ :مل نش ان مان ) 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


ا ںی رو ے 
ادرمان اختلاف ز ہو پھرشہروں می سکیف مان جیاری ف ماناک برقم 
کواس کے مطای فیصم لک رن جا نے جس پردہالں کےنقہاءشع ہہویں ‏ 
اش الد بن سنا وی متا صیدرض ےی سککھت ہژں: 
”وفی المدخل لە من حدیث سفیان عن أفلح 
عن حمید عن القاسم بن محمد قال: اختلاف أاصحاب 
محمد صلی اللہ علیے وسلم رحمة لعباد اللء ومن 
حدیث قتادۃ ان عمر بن عبدالعزیز کان یقول: ما سرنی 
در أن أاصحاب محمد صلی اللہ عليه وسلم لم یختلفوا 
لأنھم لو لم یختلفوا لم یکن رخصة.“(متقاصراك. ۴۶ص:۲۹) 
ترجہ:..:” تلپٹی گ ی کاب الدنٹل یس امام تام من ح کا 
تقو لک ل کیا ےکن صلی انل علیہ وم ے ا حا ب کا اخلاف 
بناروں کے لے رحمت ہے۔ نی زعررب نع بد لی کاقو لاف لکیا سے 
کہ: اگ رسکی او ھا لم کےا صحاب میں اختلاف ن ہوا نے 
فوڑگی وین کی انی عوررت جن مت نے ان رشح تک 
گنائنشی رہہتی ا 
آپ دکیورے ہی ںکیتخرت ق اعم م نئاو رض رم نک رج نعبد لت زی اکا پر 
اخطلاف مم تکورمت رر اردے رے ہیں پعلم وم ءطہارت وق کی اورژ و ز دو گی رے 
واقیت میس ان اکب رکا جومرحبہ سے وہ ابل نر ےی یں نحورفرمای ےکراان کے متقا لے 
شی حافظدائ ن مم کےٹول می سکنتاوزن رہ جا تاڑے.. 
انس من شی مل ہاوگ تے' مقاضرح ےش | ا کیب بات یل 1 
”ذکرہ الخطابی فی غریب الحدیث مستطردا 
فقال: اعترض ھذا الحدیث رجلان: اأحدھما ماجن, 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١ ۱۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


والآخر ملحد: نما اسحاق قافسیان وعمرر بن 
بحر الجاحظ,ء وقالا: لو کان الاختلاف رحمة لکان 
الاتفاق عذاباء ٹم تشاغل الخطابی برد کلامیھماء ولم 
یشف فی عزو الحدیث, لکةە اأشعر بأن لە اصلا 


سہست (نتاصرحدِ ۴ص:۵۰) 

خناین حزی کو اخ ای نے فرب 
۰ اپہریے سے طاص 
اع اخ کیا۔ بیکش یکو ہے اور و وسرا گر اور ہے دووں احال 
یی از حاجا اضق سا با گ :ال راخلاف رقت ہو 
انفاقی عخذاب ہوگا۔اس کے بعد امام خطاٹی ان دوفو کی بات کے 
7 کے درہے ہو ئۓ ممکرحد بیٹ ۱ 0 ۰ 
شفا نشی با می سکب ۰ہ ہم ررمعلوم ہواکہ امام خطالی کے نز دک 
0 


نے ال ککھاے نت ےت کنا ےکہائ حدی ٹکولتن شف کا 
نان انا قش کے لوکو ںکا مشغلہر ہا ہے؟ بہرحال ‏ نے دوٹوں پل ھآپ 


ا رک میں یں طر تک ایرھرضالوں ماق زام ساد ق” اارڈادے 
آتحضرت لی ال علیہ لمکا ارشاد ہے؛ا ورڈ سرک طرف ا عدیت پہ مان اور رسم کے 
7 و مم ساب پیا نجنا بکی صصوابد ید ےکم !ما صادتی یں 


فرمات ہیں )ا ا ا 
۳ لظم رای اخلاف: 
یس نے” ا تل ف أعمت اورع ای تیم ”می سکیھا تک یآ خض رت کی اب علیہ 


لیم اورسشغ کے با رکت دور میں مت میں نظیالی ا ختلا فکاکوٹی وجود نتھاء ا کی 
ابتراحضرتخان کے ددرخلافت کےآخ بی ہولی ۔آ ناب نے ا سک ”تائل عار فا تہ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٥٢٣ ۹.۰۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


شمرارد ہی ہو لکھا ےک 
”نیس لی می سک رسک اک مل خطابشت سحبیت جح سک 
کاررواکی یڈہ جس ارہ شی ہوگیہ خی مین رنضی ارڈعن فا 0 
کی اورنظ یاقی اخ فات بآ پ لع نہ ہوں ' 
اور بر الع ا ختلا فا تکوثاب تک نے کے لآ تجناب نے چن دکنمابو ںکا حوالہ 


ڈیا ےی 
بے افسوں ےک ہپ نظریالی اختاف' کا مطلب ہیکئی سے اس لئے 
سی اختلا فا تکو” نظ یا ی اشاات' کے سا تح ھگکڈڑ ب فک۷ردیاء عالاقمہ ٹل نے ری 
وضاحت اورصفاگی ےآکھا تا : 
و وسریی جات مس س کا بجھ دنا ضردریی سے وہہ ےک 
مت می ددم کے اضنلا بات ہوۓ ہیں ءآ تحضر مکی اللہ علیہ 
یل مکوان دوٹوںھم کے اختلا فات سےمعلع بھ یک یامگیا اورپ صلی 
ال علیہ وملم نے ان دونوں کے پارے بی لام تکو ہدا یا تبھی خطا 
فرما می ء و یک مکا اتلاف دہ سے جو چا وی مال می صعابہو 
: مع اور مجر کے درمیان ‏ ونما ہوااور جو آ رج طض ی ءشافی, 
کی اور صلی اخلاف کے نام سے مور ے) رہ اختلاف خود 
آخحضرتمصلی اللہ علیہ یلم تک ضایف دو نکی بھی پھنی زوٹنا 
بھوجا جا تھا" 
آ گے اس ا خلا فکی شر کرت ہو میس نے ا یکورحم تر ارد یاتھا۔ انس 
کے بعد ڈو ام کے اختلا فکوؤکرکرتے ہو ۓ میس ن ےککھا تھا: 
ڈوسر یک کا اختلاف ”نظ مائی اختلا فک “کملاجاے, 
(اور بی إخلا فآپ کےسوا یکا موضمورع ے) آحخضرتملی 
الد علیہ دعھم نے اس اختلا فکی بھی ٹپی ںیگوئی فرماکی اور اس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


اتلاف تق دباع لکوجا جۓکاسیا یھی مرف چنائیارشٹاز 
وی ےج ئ 
ابی ڈوسر کم کے اختلاف کے بارے میں :یں ےککھا کی ان ںا ود در 
7-ھ+ہ7. ٹس کئیں تھاء بلکہ یہ عثانی کے؟ خری میس پیداہوا۔خلاصہ شی 
اشنا بات و صا کے دورمیں بھی تھے مان خقائدوننظریات اور برعات داُہواءکا ا خلاف 
انی یں تھا ؛ا لکا آغاز1 تررورظأا یٹ ہزا۔ 
تغ الاسلام حا فظط این ت یر مضارج اتی لیت ہژں: 
”لم یحدث فی خلافة عثمان رضی اللہ عنه 
بدعة ظاھرةء فلما قتل وتفرٴق الناس حدثت بدعتان 
متقابلعانء بدعة الخوارج المکفرین لعلیء وبدعة 
الرفضة المدعین لامامتہ وعصمتہ أو نبوٌته أو الأھیعه.“ 
۱ (ضا‌الثت :۳ ص۱۸۴۳۴:۰) 
توج:..” حضرت عثان شی اللدعنہ کے دو رخلافت ٹل 
کوی بدعت ظاہرہ پیراکیں بہوٹیء ا نکی شبادت کے بعد جب 
لگوں میس افتراقی ہوا تو دو ہیں جھ ایم متنقائ لگھیںء پر 
ہوئیں۔ای ک وا عکی بزعت:ج... لو بالڈ.. تخت لی رشی اللہ 
عش ہک وکافر خر ار وتے ےه وس ری راف ںکی ب ھت ؛ جوا نکی 
مات وصعست یا نات با الوہیت کے انل ىے_' 
الاسلائ مکی عبارت می تر ےک نحضرت عثان ری الد عشد کے دور 
خلافت یل بدعت نظاجرہ پیدرانیش ہوگی ‏ مطلب سک بدعت مل شکی خظ ترک عب در انی 
کےاواتخ یں شر ورع ہو یگ یھی بین ا کا اعلا* ہو یں ہو تھا کاو رانک شہادت 
کے عدہوا۔ 
۳.. حضرت الوبکرصد لی ”لق تھے 
نے شبعہ کےنظھ ری امام کی نر دی کرت ہو ککھا تھا شیعہ رہ کا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱٥٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


٠‏ حطرت کل یکم الندوچجہہ ئل ہآحضر تم الد علیہ 
لم کے زنو وق ریب ہیں :اس لک وٹآ پک خلاقت و جال 
سج ہیں۔ بینظریہ بظاہرسادہ اور خوش نما ہہوئے کے 
پاوجود الا مکی زکوت او رآحضرت مکی ال علیہ ول مکی کس سال 
نعلیم کےغلاف تھا۔ اس ل ےک الام نےنلی یا اور ندال 
خمرور کے سمارے تتو ںکو با پان کر کے عزت دشرافقت اور 
سیادت و ز گی کا پرار””لقویٰ' پررکھا تواء اورنقو کی کی عصفت ین 
حرت ا وب ری اد حعنہ نہ میا تھا برا ش مکی ری جا عت 
میس سب ے ال اور سب کے سرجا نج تے ( چنا غیج رآن مجی دکی 
سور وائیل میں اٹ یکو" فی“ یجن سب سے یاد یف ما گیا 
اک ا ا 
2س (شتلا فی امت اورصرایسئم )٥۹:۹‏ 
آ ناب نے اس پتتقدکر تے ہو ےک داے : 

آ پک کرت( ص:۱۹) سے پا لا ےکآ پ نے 
ہنا دی ےک یکو کی ےک صا ہکرام نے نعفطرت ابویک ڑ کو 
بی یت خلیفہ کے اما بکمرتے وقشت صغمت نف بوجو ظا رکھ تھماء اور 
لی اتیاز اور ححضریمں سےقر بکوظ ادا زکرد یا تھا۔ حالاحک جار تا 
وحد بیٹکا ہرطال عم اس اُمرے واقف ےک تحضر تگھردرصی الد 
عنہ نے نعفرت الو ری صقیضہ بی سماعدہ یل بج کرت وقت 
صرف دو دی ٹن لک یگعیںہ ایک ے ق ری لکیعموی عمزت او لی 
اغاز سے قمام قباليعر ب صلی مکرتے تہ اور وس ۓآ تحضر 
سےقربت ود پییٹتلقی۔ دہا لک یک یکوئی بج ٹم لی ء اورضردی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


ہے ورڈ ودج پیوس رر 
ہونے می ںکاام ہیں ران ”اق ؛ کی جج ٹپ نے اُٹھاکی سے 
اورپییت ا صول کے جس ط رع آپ نے اسے بیا نکیا ؛ دہتل 
نظ ہونے کےسا تھسا تھ نا قائل ا شبات سے جتنی سیف بی ساعدہ 
می ”ضف ین دا رخلا فت' کی بجٹ نہپٹریاعی اور ناس اُصول پر 
حضرت ابویک ڑکا ٥‏ تخابہمل می ںآ یا تھاء مہا تاب اکیں ا صول بل 
ںآ باج نکیآپ نٹ یکی ہے“ 
ہاں دو مقام ہیں۱ ایک مک رسحا کرام شی اٹہ مکی جماعت میں ححضرت 
کرصد بی رشی اطع " لی“ تق رآ کریم می" لی“ اضی کے می فیا 
گیاےءاورسھا برک را بھی اا نکو ”خیسر ہہلذہ الائمة“ جھتے تھے۔دوم کان کے ا خاف 
کےموح برا نکی انعلی تکڑٹو ظا رکھا مکی تھا 
متام اول:..بسورۂوائی لک ی1ی تکرب ”يف الاتتی'' جن 
”لاق٣‏ اٹ یکوف رما اگیاےء اس مرقریا تام نف ری نکا اجار ے: 
ا:.. .حافظاجلال الد بین یڑ بے رسا ے ”الحبل الوثیق فی نصرة 
الصدیق“ میں کھت ہژں: 
”وقد تواردت خلائق من المفسرین لا 
یحصون علٰی أنھا نزلت فی حق أبی بکر رضی الله عنه: 
وکذا أصحاب الکتب المؤلفة فی المبھمات.“ 
(ایادی للغعارئی ص:۳۲۸) 
ترجمہ:..' بے شا ریف رین نے انس پ ا تفا قکیا ےک یہ 
آیت حظرت الو شی الشدعنہ کےجقن میں ناززل ہوثی ای طرح 
بن نطرات نے ” مات ' کی ںنکھی ہیں انہوں نے اس بہ 
!تھا کیا کا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢١۷۳۳٠۱٢٣ .۷۸۷۵۸۲6 ۷ 


”لاتفاق المفسرین علی أن الیة نزلت فی أبی 
بکر الصدیق فالغرض منە توصیف الصدیق بکونە اتقی 
الناس اأجمعین غیر الأبیاء:“ ( فیرظ رم رح:+١‏ ص:۹ء٤)‏ 

ترجمہ:.. کی ون ری نکا ا نفاقی ےک یآ یت نضرت 
اوگ رصع لی رشی الد ععنہ کے باارے شی ناڑزل ہوٹیء بیو ںآ بی ت کا 
“.7 ےکہ انھیا ۓےکراع یمم السلا مکوچچمو کر دہ بای تام 
انمانوں میں سب ےڑیادہ ال ہیں۔' 
یب ا نک ربیل ہے 

”وقد ذکر غیر واحد من المفسرین ان ھٰذہ 
الآیات نزلت فی أبی بکر الصدیق رضی اللہ عنه حتی اُن 
9-0 .تم 

(نی رای کٹ ر ح٣‏ ص:۵۲۱) 

شیج تی ےےل رن نے کم کیا ےکا 
جثرت الو رصید لی رش اڈ عضہ کے بارے ٹیس نالزل ہوشیںء 
یہاںت ککرپتتضلحعقرات نے اس پیفس ری نکاا جا ٠‏ کیا سے“ 
نس زاواحسے 8 

”زالأقی) یعنی: أبابکر الصدیق فی قول 
جمیع المفسرین.“ ( خی رزارحسر .خ:۹ ض:۵۲٥)‏ 

:سے اق وی کے وی ان عثریت 
ارد لی رنشی ال عنمراد ہیں 
د۵ فی رف ری یس ہج: 

”والکٹر أن السورۃ نزلت فی أبی بکر رضی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳٠٥٢٣ .۸۷۵۸۲6۴ ۷ 


الله عنےء وروی ڈلک عن ابن مسعود وابن عباس 
وعبداللہ بن الزبیر وغیرھو۔' نی ررض رو ای 

7 و سس رر ثول 9ت وق بب 
ا رشن الد عنہ کے بارے یں نال کی ء اور ۔ بات صا کراپ 
نے این مس ھوڈءا بن عپا مخ او برای جن ڑ یناور دم رتعظرارت 
لے 9 
۹ یراول تو ریس ے: 

”والایات نزلت فی حق أبی بکر الصدیق 
رضی اللہ عنه حین اشتری بلاّٰا فی جماعة کان یژذیھم 
السغشر کن فاعتقھم.“ ( فی او عو ر ر: ۷ص:۸٦٦)‏ 

تچجمہ:. .یآ ات "حضرت الو ربق رڑی ال عنہ کےتن 
یس ناززلی ہوشیں: جب انہوں نے ححخرت پلا لی اور ایک ماع ٹکو 
خر یک راوج ارآ زاوکردیا:ش نکش کان ای انیس نے تھے 
دہز لولٰان ے: 

'وهٰذہ الایات علی ما سمعثٌ نزلت فی أبی 
بکر رضی ال عنه ..... فقد أخر ج ابن أبی حاتم عن 
عروۃ أن أبا بکر الصدیق رضی اللہ عنه اعتق سبعة کلھم 
یعذب فی اللہ عرٌ وجل: بلال وعامر بن فھیرۃ والنھدیة 
وابنتھا وزنیرۃ وأم عبیس وأمة بی المؤمل وفیه نزلت 
”وَمَيجيِھا الأتفی“' الی آخر السورةۃ رانتدل:یڈلٹ 
الامام علی أنه رضی الله عنه أفضل الأمَة “ 

(لیرزں‌العالٰ ج:۳۰ ص۵۲۰٥)‏ 
7ے اوھ یں گے ہو حضرت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


سا تھے۔_ے سے 4 ہی .. رابنا 

عاتم نے عردہ سے رواب ت نف لک ےک ےحفظرت الیک رصید بی رٹی 
خرن عیات ان راگ چنیسن کی راو ٹیش چنا ٤‏ تا ب کیا 
جار ا :خر یدک رآ زاوکردیاء نی حضرت بلالء عام ٠‏ نفمی و :ند یہ 
ا نکی صاحب زادگیءڑ یرہ ا میس اور ہوم لکی ایک لونٹ ری _۔ 
اورنخرت ابویگررصی ابد حقہ ای کے با رر ے مم ”وَسَیْجَنْبُھَا 
سی“ سے خ رسود تک نال ول ی ء اود اما رانک تے انس 
1 یت ے؟ بب کیا ےک مخرت الوب رزشھی الڈدعن امت بل سب 


'>:ھ(ما از نے ال ںآ یت شر لیضہ سے منرت ابو دی اع کا ”افضل 
الخسق بعد اللانبیاء“ بہونا ماب تکیا ے ال نکی انق رب طول ہےء انس لئ صصرف اس کے 
جوا نے بر تا اکا ہوںءاب عم صل ء0 
اس آبیت شر یف میں ححفرت ابوکرصد لی زشی اوح تک ا(اقی فرمایا 
ہے ا سآ 0۶ھ424( ڈھص و کی ررہکی میں حعضرا رت صیا کرام ,مطرت صد لق 
اک رک وسب نے 3 تج چنا نیہ اخ الاصول میں ے: 
۴۲- رخ دت: عبدالله بن عمر رضی اللہ 
عنھما) قال: کنا نخیر بین الناس فی زمان رسول اللہ 
صلی الله عليه وسلمء نخیر أُبابکر؛ ٹم عمرء ٹم عثمان. 
(آخرجه البخاری) 
وله فی روایة قال: کنا زمن النبی صلی الہ عليه 
وسلم لا نعدل بأبی بکر أَحذًاء ٹم عمرء ثم عثمانء ٹم 
نرک أُصحاب رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم لا 
نفاضل بینھم. وأحرج أبو داوّد الثانیة ولأبی داوٴد: کنا 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳۱٥٢۱۹۹ .۸۷۸۲۹۹6۴ ۹ 


نول ورسو الله صلی الل عليه وسلم حیٔ: أفضل أُمَة 
النبی صلی ال عليه وسلم بعدہ: أبوبکر؛ ٹم عمر ٹم 
عشمان. وفی روایة المرمذی: کنا نقول ورسول اللہ 
صلی اللہ عليه وسلم حیٔ: أبوبکر؛ وعمرہ وعثمان.“ 
(جائ الاصول رع:۸ ۹:۴ء۵) 


ججھہ... ‏ بھاردگی اود ادن نی میں تفر تگپدالن رین 
عم یھی این ہما سے مردگی ےکہ: جم زرسول اںڈیلی الد علیہ لم کے 
زمانے میں صعھاک راع کے درمیان نز یا د اکر تے تچ چنا مسب 
بت پیل حطرت ابویک کو تر بی دینج تھ) پیل رنطرت گ رکوہ پر 
ہر تعنثا کو ۔ بے بفار یک روامت ے۔ 

اود بارگ یگ ایک اورددایت یل م الفاظا ہی ںگ.: ہم 
لو گآحضرت مکی الشرعلیہ وملم کے زمانے میں حضرت ابویک کے 
بارس یکوئیں بکھت تےء پل رر تع کے پل رحضرت عاغ کے 
رز اٹ صحا میک یکو ووسرے رفضیل ت ہیں رتے یہ آیا7 
و وو قوف زفای تا 11 یں 

اورابودا دی ایک روابیت میں بر الا ہی سکہ: چم رعول 
ایی ائلدعای مل مکی حیات میس کہ اکر تے سج ےکہ: ٹیک رم مکی 
اڈ رعلیہ عم کے بعد پک مت میں سب 0.7 
کر پچ راخ اور تر دک یکی ددایت بم بیوں ےک جم لوک 
رسول انل صلی الد علیہ مل کی حیات بی (صھا کی تعیب جیان 
تر کے ہے گا کرک ےکم (اول ) الوی رہ (ریم) مس 
(م) عا نع“ 


را ڈوسرا مقام ! شی صا کرام شی ال رتنم نے منرت ابوبکمر رشی ای حح ہکا 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


اتخاب ای فحضی تک بنا کیا تھا ءا لک دبل بر ےک جب ححخرت اپ وبگررشی ارد عنہ نے 
حقرآت انصا رف ماناک یف می کے دوبز ر کہا ررےسا سنےموجود ہیں (متی حطر ت گر 
اورتحخرت الوحبیدرٗ بن جراج )ان ے بب تک رلو :نو ضرم عم ری اذ دعنہ تن ےکہا: 
”بل نبایعک انت فاأنت سیّدنا وخیرنا وأحبنا 
الی رسول اللہ صلی الله عليه وسلم.“ 


(ج بای نا ۷ضش:۵۱۸) 


و کلاپ ےجھارھون 
کین آپ جمارےسردا ہیں ءہم سب سے ال ہیں :اود ہم سے 
ز ینوی ایی حا 6لم وب ہیں“ 
ارب بای یس ڈوسریی تحضر ت عم رش اللدع کی زندگی کا آخرکی خلبہ 
نول ےم بس میں حرت اپ وگ ری ارڈ عشہ کے خلا کا واق نل جیان فرایا۔ای 
۳- ےک جب ححقضرت اونگ شی اش دعنہ نے اُنصار سےفر ماکان دہ ا این نے 
من سی جیا ہو بجر تکرلو تر زگنک جاک عفن 
”'فلم آکرہ مما قال غیرھهاء کان والل! ان أقدم 
فتحضرب عنقی لا یقربنی ڈألک من اثم أحب الی من ان 
دائر علٰی قوم فیھم أبوبکر اللھم ال ان تسول لی 
نفسی عند الموت, لا اأجدہ الآن.“ 
( جج ہخاری :۳ ضص:٭٠۰٤)‏ 
ترج:..” حضرت ایوبلرز ینف رس یش میس بچی ایک بات 
بے مم یکیء را ! کے بڑھا اک می ری یگردن اڈ ادئی جاپی بش لہ 
چٹ یکنا ذ ک ےکر یب تک کی ہن جن ای سے زار کو ٹب اگ 
ٹس ایک الیی تو مکا امیر ہنوں مجن میس اوک ڑم وجود ہول,ء الا ےک 
جراظررے ا'ُن ضوت کے وقت بے (الولڑے افضلیت ) کا 


۱۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٣۳٥٢٥٢٠۴۹۰۷۸۷۷۵۲۹6۴6 7 


-+ 

5 
5۲ 
1 

3 


شال ول نے وا بک مور ےو زاین ے۔'' 
مصتف ا۱ نا الا ش شش ےکہ جب رت اور شی اننرعنہ سر 
2 تن رھ رکا کان ےئن ےب کر ےکاخ دا ما و تظر تجھر 
شی انشعنفر مات ہیں: 
”'فواللہ!ما بھی شیء کنت أحب أن اقوله الا 
وقد قاله یومئذ غیر ھذہ الکلمةء فوالل! لأن أوقتل ٹم 
احیا (ثم أقتل ٹم أحیا) فی غیر معصیة احبّ الیٗ من ان 
کون أمیرٗا عتے توظوماوقطازط للسس 
معشر الأنصار! یا معشر المسلمین! ان أولی الناس بأمر 
رسول اللہ صلی الله عليه وسلم من بعدہ ٹانی اثنین اذ 
ھمافی الغار أبوبکر السباق المبینء ثم أخذت بیدہ 
وبادرنی رجل من الأنصار فضرب علی یدہ قبل ان 
اضرب علی یدہ: ٹم ضربت علی یدہ وتتابع الىاس 
(مصنف این ای کے رع:۱۴ ص۷۹:۵٦۵۹)‏ 
تزرں:. یں پندااچفی با یں بیس اس مو برکہنا جا بتا 
تھا وو مب خفثزت اپویگ ری الف ےبڈ افیشن نوا نے ان 
آ تیا مات کے ہوں دا اج لکمردیا جا جا پچ رذن ٥کیا‏ جا جاء پر 
فیا جا ا پکازز وکیا جاجاء اق گناو کے٠‏ نے ما وٹ ھا 
اکس بات ےک میس ایک ا راقو مکا امیر ہنوں جن ٹیل ابوی رو جوو 
77 ...72 اکہ:اے باعخت اُتصار! رعول ال٣‏ ال 
علیہ یلم کے ببحدآ پک چان یکا سب سےزیاد ہشن دنس ہے 
جآ پکار تی مارتھاءاوروو الوم ںہ جوواسع طور برسقتکمر نے 
دالے ہیں۔ ریش نے بجعت کے لئ الوی مرکا با تج پڑااو را نصار 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳٠٥٢٣. ۸۷۵۸۲6 ۷ 


تا ساس کاکر ےج کت ا بل 
ز ٹف اہین تک یجان ازع کے پاش شن پاتد ڈو “' 


نیزفمائیءمصحف اع لی شیب ہمتت رک ام 52 کی او رطفبقّات ان سعدر 
میس تعفر تکبدالق دن جو درشی الع نہکی روامت ے : 


”قال: لما قبض رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم 
فائث الأنصار: ھا أمیر ومنکم آمیرء قال: فاناخم عمر 
فقال: یا معاشر الأنصار! الستم تعلمون ان رسول اللہ 
صلی اللہ عليه وسلم أمر أبابکر ان یصلی بالناس؟ قالوا: 
بلئ!قال: فأیکم تطیب نفسە ان یعقدم أبابکر ء فقالوا: 
نعوذ باللہ أن نتقدم ایا یگ 
(نائی رج :ا ص:۲۷۹اء مصنف این ال ی کم .ع:ا ص:ے٦۵ء‏ 
متدرک ماگ رع:۳ ض:٦٦ء‏ طلیقات ام ن‌سعر ٣:‏ ص:۸ء١)‏ 

ترج:.. ” حضرر تعبدارند بن مسعودرشی الد حع نف ماتے 
یں کہ :جب رسول الڈریصکی الشرعلیہ یل مکاوصال ہوا تو أنصار نے کہا 
کہ :ایک امیر جمارا ہوگاء او رای کتھممارارنحخر تعمررشحی الد عنہ نے 
اانئ سے فرمایا: اے ججماعتِ انصار! کیا اپ جع را کول مکی ں کہ 
رسول ایی اویل علیے لم نے حضرت ابویک رکون خر ماا ھک ہلوگ ںکو 
نماز یڑ ھا یں؟انہوں تن ےکہا: بے ںیک اف مایا: چرم یس سے سکا 
بی جیا ےگاکرد و جطرت اور ےآ کے ہو؟ نے گے : جم اس سے 
ان دک ناوات ہی ںکراویڑ کے؟ گے ہوں۔'“ 


یز مصنف امن الی شاو رطبقات امن سحد شی اما عمج بک نر نکی اروامت ے: 


”قال: لماتوفی النبی صلی اللہ عليه وسلم أتوا 
ابا عبیدةء فقال: أتاتونی وفیکم ثالٹ ثلاٹة؟ قال ابو 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١ ۱۷۳۳٥۱٥٢١٣۹.۸۷۵۸۲6 ۷ 


عون: ا : ما ٹالٹ ثلاثة؟ قال : ألمتر الی 
تلک الآیة: إِذٛ مُمَا فی الْغْارِ اذ یَقُولَ لِصَاحبه لا تَحَْرنْ 


ان الله مَعَنَا,“ (مصف این الیگ ع۳ا ص:ئ۵ء 
طقات اہ سجر ٣:‏ ۴۰ص۱۸۱۰ واللفْٹا لہ ) 
زج :تخب کرک صلی انش حا ول نوا خصال زا 
لیک بیعت کے لئ ابوحبیرٹ؟ کے با ںآ ئے ءاننہوں نے نر مایا :تم 
میرے پا آتے ہو ھالائک نم بیس ”مین میس سے تسا موجور 
ہے؟ الوکون سکتچے ہی ںکہ: یل نے مھ بن سی بین ےہاک :”نین 
میں سے نیس را کاکیا مطلب؟ فر مایا :تم نے ا لآ بی تکوئیں دیکھا: 
ج بک دہ دونوں ار یل ےجب تی پٹ زمیگ سےفر ما رے 
تھے رم طیکزد ےیک اال ہما رے اتد ہے“ 
مطلب کہ ما رٹل دوفو ں ترات ے ‏ یس رااان کے سا تج اڈ ھا ء لہ ا اوس 
”جال ملا “شقن میں ےتیسرے ہو ۱ئ ۔ 
ان تام روابات سے وا ہوجاتا ےک ححفرات صا نے حارت ابوبکر نشی 
اٹ نکی افلیت سے ان کے ات با ناف ہو نے پر اتد لا لکیاءاورا نکا ا تخلاف ا نکی 
اتخلیت او زسوالق امملا می وش مار جلیلہ کے پپٹ نل می ںآیا ھا رجح سی ق راب تکی 
یں 
۵ مر تی کا ارشار:”خیر هٰذہ لئة بعد ٹا ُبوبکر ٹم عمر“: 
آ جن ابک یف ماتے ہیں : 
” :۹ای برآپ نے عطرتکلی کے مس ضط ےکا حوالہ 
درا ےا سک کوکی” من“ آپ نے جیا نکی ںسکیاء جہا کک بہار 
تین سےمعفر تل سے بیالفاظ می مت رکناب می نو لکڑیں ہیں 
اک رآ پکا بکا حوالہادراستنادیشی د نے تو بات صاف ہوا ی ۔' 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲٢١۱۷۳۳۱۱١۴ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


.. تر دس ا افسرے3 /یرضئل۔ص ظا بلاظام 
کے لئ چندجوا ئل کے وبا ہوں ۔حافظائ نکڑ ال رای دوالن ان /ئی سککھتے ہیں: 
”'وقد ثبت عنہ بالتواتر أنه خطب بالکوفة فی 
َيّام خلافته ودور امارتهء فقال: أیھا الناس! ان خیر هٰذہ 
الأمَة بعد نیّھا أبوبکرء ٹم عمرء ولو شنت ان اسمّی 
الشالٹ سمّیت: وعلده أنه قال وھو نازل من المنبر: ٹم 
عثمان ثم عثٹمان.“ (اپرایوال ھا :۸ )٣۳:۰۷‏ 
ترج.:..' او تحف ریت یی رشھی ارعش ےو ات کے س ماج 
بت ےل آپ نے اۓ دو رغلاقت مل اوراۓ وا ا فلا وہ 
یس خطبددیاءجنس میں فریا ای : لوگوا ہے فی کآخحضررتمسلی ال علیہ 
لم کے بدا أممت می سب سے الأل اویمڑہیںء پچ او گر 
متسر ےکا نام لین جیا ہوں تو نے سا ہوں اورپ ےگا 
روک کیہ رسےاأترتے ہو رمیا :کچ راع ء بج ران 
الاسلام حافظ این ہے مضہاح الے“ ای تی ال گن الٰدَا 
''المنتقی' میںککیت ہیں: 
”وقد تواتر عن أمیر المژمنین علی بن ابی 
طالب رضی الله عه انه قال: خیر ھذہ الامّة بعد نبیّھا 
ُبوبکرء ٹم عمرء وقد روی ھٰذا عنه من طرق کثیرة: 
قییل انھا تبلغ ثمانین طریقّاء وقد روی البخاری عنه فی 
صحیحہ ....., عن محمد بن الحنفیة قال: قلت لأبی: 
یا أبت! من خیر الساس بعد رسول اللہ صلی اللہ عليه 
وسلے؟ فقال: یا بنی! آو ماتعرف؟ فقلت: لا! قال: 
أبوبکر! فقلت: ثم من؟ قال: عمر! وھٰذا یقوله لابنه بینە 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١۱۷۳۱٥٢۱۹۹ .۸۷۵۸۲۹6۴ ۷ 


وبینەء لیس ھو مما یجوز ان یقوله تقیةء ویرویه عن أبیە 
خواصےذ وقاله علی المنبر.“ 


(ضماؿ‌الت٭ يج:٣‏ :٦٦ء‏ المتقی )۳٦۱:‏ 
ترچھہ:.. ”ارت می الم وستین لی مین الی طااب ری 
الٹرعنہ سے ات کے ماج ہمنقول ےک ہآپ نے فر مایا آنحضرت 
صلی او علی یلم .-"'" ,- ,ەء,_ 02۰۰ 
عح ہآ کا یرارشماد کہ تکی اسماخید کے سا تجح مدکی ہے ۔کہ ا گیا سے 
کہ ىہ اساخید أ یکی ندرا دو پپنی + ہیں اور امام جار نے اتی 
دومث میں پک یہارشمادآپ کے صا حب راد ےمج بن نیہ کے 
نمی 2-2-۵ ہے دوفرماتے ہی ںکہ اش نے اپ والد 
72 نشکیا :ابا چان ارسول الیک الل علیہ ویلم کے بد وگوں میں 
سب سے اض کون ہے؟ فربایا: ٹا نیس جا نے ؟اجیئ ن ےکہا: 
نی اف مایا :سب سےانفل ابوجمن ہیں ء ٤ی‏ ن ےکہا: ران کے بعد 
کون ؟ف مایا :حر 

اور ہے بات آپ اتٌۓے صاحب زادرے سے فرہا رچے 
ہیں :ینس می ںیک یکنا کی ء اورصاحب زادرے ہی ام نکولطور 
حایس اپنے والر سے روابی تک رے ہیں :اور می إت آنپاتے 
پر منج یھی اررشاوفرمائی ‏ 
شا وولی ارڈ محرث د لوک از ال انم می ں کلت ہیں: 

ا مان افشایت چیخنن ا اڑدرے ٣اش‏ ڈیا 
ویو فاء ہر چندایی مل رہب ہو ا لی است :انا ازسماہآں 
را مصرع تر نتر چو ںعلی مض تیاور '(ا زا اخ ٢‏ ۹۹۳) 

ترجمہ:.” رما ٢خ‏ نکی اشخلی تکو جیا نکزنہ لی ںآ پ* 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢۱۷۳۳۱٢٣۹. ۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


سے ون نو ات کے سا تجھ وارد ےم فو اورموقو ا شھیء ہرچند 
کہ رم نت لقا ما لق ین کانخرجب سے :تاپ ممفاینٹیس ےی نے اس 
کو اتی تر کےسات اور ایی کامم انلداز مل بی نکیل فر مایا جیما 
کی ححخرتلی نی رشی او عنہنے بیان فرمایاے_“ 
اور چن زسط کے بح لے ہیں : 

''ومن موقوفہ ”خیر طذہ الَأمّة أبوبکر ٹم عمر“ 
ول رایت عکہ روا گرووانرے 

ترجمہ:..” اور تفر ت گی کا ارشا دک ہ:” اس أُحت یں 
رن ہے الفل اپوکاتا وس ا2آ ا سکیف بت بای اعت 


"٤ 20‏ 
ےے رواب کیا ے۔ 


اس لے میں ححضرت شاہ صاحب نے اس حدیث کے متوطر کی طرف 
اشارہکیاے, یزاس سطسلے میں ؟ کے ہچ لک کت ہیں : 


”اما تدلال برخلافت صصھ گنی از جہ تکقو یٹ امامت 
صلوۃاو: 

فاخرج أبو عمر فی الاشتیعاب عن الحسن 
البصری عن قیس بن عباد قال: قال لی علی بن أبی 
طالب رضی اللہ عنه: ان رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم 
مصرض لیالی وَأيامًا ینادی بالصلوۃ فیقول: مروا ابا بکر 
یصلى بالسّاسء فلما قب رسول اللہ صلی اللہ علیہ 
وسلم نظرت فاذا الصلوۃعلم الاسلام وقرام الدینء 
فرضینا لدنیانا من رضی رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم 
لدینٹاء فبایعنا أہا بکر .“ (ازالۃ انا رخ:ا )٦۸:/‏ 

ترج:.. ”رپا تضرتک کا حضرت صربق کی خلافت 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠٢٥٢٣ .۸۷۵۸۲6 ۷ 


رایشں سے !ند لا لکرن اک یآ تحض تم اڈ علے : ےفرک 
بات نع کےس نظ ما ایا زاین الہ نے الاحتعاب ' 
یں تسن بعر سے) ان بوں ت ےنیس جن عباد سے ددای کیا ےک 
ححقرت کی بن ای طالب دی الد ععنہ نے رما ا کہ: رسول الڈصکی 
ای علیہ ول مکئی دن پیاررےنماز کے گے بجلایا جات فو فر مات ےگ ہ: 
”ابویک رکواہوکزلوگو ںکونمائز ڑا نہیں میں جب رسول اوڈیصکی اللہ 
علیہ وع مکاوصال ہواءٹذ میں نے نو رکیا نو رکر نے سے معلوم ہو اہ 
مازہ الا مکاشعارادر دی نکا مدار ے میں جم نے ای و ا کے لے 
سک پن درا بج سکورسول اوڈرصی ایل علی دم ےفارتے 
وین کے لے بین دکیا تھا۔' 
خر تشاوصا بب نے الاستیحاب گی جن حد یی ےکا حوالہدیاے؛ اس کے 
لئ لامعا بزح اشی الا صا بج:٣‏ :ا کیم شع تکی با ے۔حافظ انکر 
حسقاا لی نے“ 'الطالب العالی* امس بعد ینف لتق لکی ےہ ہچوککہ ہت سےٹو اد 
مل ےاس لئے طو بل بہونے کے باوجودییہاں ۷و رق دث درب ]گرتاہوں: 
44/۸۷۳ الحسن یقول: لمحاقدم علیٰ 
البصرۃ فی أمر طلحة وأصحابہ قام عبداللہ بن الکواء 
وابن عباد فقالا: یا أمیر الم ؤمنین! أخبرنا عن مسیرک 
ھٰذاء أُرصیة اُرصاک بھا رسول اللہ صلی اللہ عليه 
وسلم أم عھدًا عھدہ عندک, ء أم رأیا رأیته حین تفرقت 
الات راختلافت گلمتیۃ فقال ا آکزن اڑل ػکاذب 
عليهء واللہ! ما مات رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم موت 
فجا۔ةء ولاقعل قتلاء ولقد مکٹ فی مرضه کل ڈلک 
یىأتیە المؤوذنء فیژذنە بالصلاۃء فیقول: مروا أبابکر؛ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۷۳۳۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


الیٔ شیا لقمت بەء حتی عارضت فی ذڈلک امرأة من 
نسائهء فقالت: ان أبابگر رجل رقیق اذا قام مقامک لم 
لھا: انکن صواحب یوسف! فلما قبض رسول اللہ صلی 
الله صلی اللہ عليه وسلم قد ولّی أبابکر أمر دینھمء فولوہ 
أمر دئیاھو فبایعہ المسلمون وبایعته معھمء فکنت 
أغزو اذا أغزانیء وآخذ اذا أعطانیء وکنت سوطا بین 
یدیه فی اقامة الحدودء فلو کانت محاباۃ عند حضور 
موتہء لجعلھا فی ولدہء فأشار بعمرء ولم یأل فبایعه 
المسلمون وبایعتۂ معھو فکنت اغزرا اذا اغزانیء 
ورآخذ اذا أعطانیء وکنت سوطا بین یدیه فی اقامة 
الحدودء فلو کانت محاباۃ عند حضور موته لجعلھا فی 
ورلدہ؛ رو کرہ أن یتخبر منا معشر قریش,: فیر ليه أمر 
ز 

الامّةء فلا تکون اساءۃ من بعدہ الا لحقت عمر فی 
قبہرہء فاختار منّا سََة أنا فیھم لنختار للاِمّة رجلاء فلما 
مھا علی ان نعطيه مواثیقنا علی أن یختار من الجماعة 

: 
رجلاء فیولیے أمر الامّةء فأاعطیناہ مواثیقناء فاخذ بید 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١٢ ۱۵۷۳۳۱٥٢١٣۹.۷۸۷۵۱۸۲۹6 ۷ 


ویڈو سے پر مرکو و 
عشٹمانء نظرت فی أمری, فاذا الموثقة العی کانت فی 
عنقی لأبی بکر وعمر قد انحلت,؛ واذا العھد لعثمان قد 
وفیت بے وآنا رجل من المسلمین لیس لأحد عندی 
دعوی, ولا طلبةء فوٹئب فیھا من لیس مثلی (یعنی 
معاویة) لا قرابته قرابتیء ولا علمہ کعلمی؛ ولا سابقتہ 
کسابقتیء وکنت اأحق بھا منە. قالا: صدقت! فاخبرنا 
عن مالک مذین ال رر جلین (یعنی طلحة والزبیر) 
صاحباک فی الھجرۃء وصاحباک فی بیعة الرضوانء 
وصحباک فی المشورۃء فقال: بایعانی بالمدینة 
وخالفانی بالبصرةء ولو أن رجلا ممن بایع أبابکر خلعه 
لقتسداہ؛ ولو ان رجلاممن بایع عمر خلقہ لقتلناہ 
(لاسحاق).“ (الطاپالعالٰی, ٣:‏ ص:۲۹۳) 

.0ق رب بصرکی کے ہ سک ہ :جب حر ت گیا 
حطر ت اوران کے رفقاء کے معا نے میں بھ رو پش ریف لا ےپ 
پر الند من لوا او رٹیںس کن عیاو 6 ۰٘ “ءھ0 لۓ 
امرالھ سن ! آ پ می ایت لی فآ ورک کے بارے مس بتا ےا 
کیا آنحضرت کی الشعکی ےلم ےآ پکو ا کی وصی تفر ای 0 
آپ سے اس ہاارے م۴ لکولی تاکیغر ماق یگیا؟ یا یآ پکا ایگ 
راۓ سے چوآپ نے امت کے ا خطلاف اوراس کے متا لے کے 
تفرق ہوجانے کے وقت انقیار فرمالی؟ پٌ نے فرمایا: مل 
٦ض‏ رت مل اللہ علیہ دم رہپ سے رت ہولۓ والا تہ 


بنوںگاء ایض ! تحضرتسکی او علیہ وم مکی وفات ات کیل 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۵۷۳۳۱۱١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲6 ۷ 


ہوئ یی ء یج و کیاممیاء جآ مییم٥کی‏ الشعلیہ 
کرای بیارتی نی دن رے۔ ا رسے من پا 
علیہ عم کے پا سآ ا ہآ پ صلی ادف علیہ ول مکونما کی اطلارع دیتاء 
نی ار خی لم ما ےک ااوگر ےللز کو نیو قراز 
پڑاتمیں ۔آحفحضر مکی اللہ علیہ ویلم میریی موجودگ یکو د کیہ رے 
جن اس کے با دجود اپ می انل علیہ وم نے یھ مو دا (اور 
حفرت الوب کو اما متقرزرفر مایا ءاگ رآ تحضر تصکی او علیہ لم نے 
کے وی عبد نایا ہوتا تو میں اس کا وک رتا۔ او رآ پک ازواج 
مرا سےایک ہپ لی ن ےآ پ سک اب علیہڑیعلم سے یمزال 
ارول الو ضہ اپ لامنامموں 
نے لیکو ںکتک اپٹ یآ وازنڑیں پ یں گےء اگ رب ححضرر تع رکو 
ممازپڑھان کا عفر مادینے ن2 کپ تھا ۔آ پ مکی ایل علیہ لم نے 
اع مےف رما اک مان ز نان مصرکی ط رح ہوہہنخھوں نے لوسف علیہ 
امعلام سز لا کی سغار شکی۔ 

چھر جب رسول ایڈڑ٥٥لی‏ ال علیہ وع م کا وصال ہہوگیا نو 
ملمانوں نے انۓ معا لے می ںو رکیاءاننہوں و09 
اڈصلی امش رعلیہ وم حطرت ابو رکوان کے دی نکا کا م سی ردکر کے 
ہیںءلپرا اننہوں نے اہۓ ژنیا کے أمموربھی اع کس ردکروۓےء 
پیںمسلمانوں نے ان کے پا تج پر بیع ت کرٹ اوران کے سا تھ بیس 
نے بھی ہبی تک ٹی ء یں جب نطرت الوی رر بے ججہاد کے لے کیج 
فیس جہادجش جاہاءادر جب جج مال نئ مس ے عطا کر ےپ 
ہیں ان کے عطط۔کوقجو لکرتاء او ریس ان کےسا من دو نع مکر نے 
کے لن ےکوٹر ان جاتا۔ 


۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۸۷۵۸۲۹66 ۷ 


راگ را نوا کی وفا ت کے وفقت خومیس بر ورگ یکر ی ہولی 
تآخلافت اپٹی اولاد کے جوا لن ےکر جات نین انہوں نے حر تک 
کوغلیشہ بنا ےکا ٹ ےکمردیاء اورانہوں نے مم کی خیرخوابی یں 
کوٹ یکوتا: ا ہار چنا نم سلرالوں نے منرت عر سے ببیعت 
کمرپیء اوران کے ساتھ یں نے بھی بیجم تک میں جب وہ بے 
تماد پیج فو بس جاجااور جب تی عط اکر تے نو میس ان کے عطل کو 
تو لکرتاء اوران کے ساٹ عدود کےتقائ کر نے بی کوٹ ابع جا جا ۔ 
اب اگ رنخرت ع کو مورت کے وفقت خومیش برورگ یکر ی ہوی ٍِ 
خلافت انی اولاد کے کپ ردکر جات ران ہوں نے تو اس با تکودجھی 
پندرکا ف رما اکردہ ہ کرو ریش یں سے ای فآ دٹ یکونا دک ر کے 
مت کا معا للہا کے جوا نےکر جا نیس تا اک الما_ہلہالن کے بعد 
کو ینم ای ہوق ا کاو با ل ضر تک رکوا نکی قب میس یی ۔حضرت 
نے ہم میں سے جآ میو ںکوہ جن میں سے ایک میں بھی خھاء 
م کیا کن جم یناشن سحے ای کک امت کے لے خی جب 
کی پھر جب ہم ا تاب غلیشہ کے لئے شع وپ رر 
خی زایان :من خخوپت نے ماق لک رز ہجو ۓگ اک نو پیٹ نان 
سےایناحص کیل دی کے لے تار ہیں ال شرطا کیم ان سے میہ 
وی ُمکضووسفورملل ہے اگ زھرامی 
معا ہداس کے کپبردکردیسں گے چنا یم نے النع سے مار وہک رلیاء 
انہوں نے حطر ت عنا نع کا بات چک ران سے بیجم تک کی ؛ اس وقت 
میرے ول میس چو خیال سا پیداہوا کن میس نےفورکیا ند یھ کہ 
مرا محاہرہ میرک ہیععت سے سوقم تک کا ہے لہذر امیس نے عیجمت 
کپ اوراا نک وخلیفسلکی مک رلیاء چنا یر جب دہ تھے جہادیرکیجنے ویش 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۱۷۳۳۱۱٢١٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹6 ۷ 


جات اور جب بے عطا کر تے تو میں تو لکرتاء اور الع کے سا سے 
رود کے اک مکمر نے می ںکوڑ این جاجا۔ 

پچھر جب حطرت عنام شہسیر ہو گ١‏ تو ہیں ے ایت 
مال میں تو رکیا تو ویک ھا کم ححطرت ابویک وع گی بیس تکا عہد و 
پان جومیرییگمردن می تھا ال سک یکر وکتل ھی ے٤‏ اور نحضرت مان 
کے جک امیا عہدد پا بھی پودا ہو ڑکا ہےءاوری۳ بھی مسلرانوں 
کا ایک فردہوں :یکا نہ یھ پرکوگی دوک سے اور شدکوگی مطالبہ۔ اب 
ان میں دوش ود ڑا ہے جنو یی انی (لش حازت مواو )نہ 
ا ںکی تقرابت میررکی قراب تھی سے تہ ا ںکاعلم می ر ےمم ر2 
راب ےء شہااس کےکارناے میر ےکا رناموں جیسے ہیں اس لئے 
ٹیس ا خلاف تکاا ےزیادہ 2 ہوں- 

ان دوفوں نے عرخ سکیاکہ :میڈ آپ نے بارش ادف مایاء 
مین یں ان دوصا عہوں کے پارے میں بتا جئے ( تی تضرستتطلو 
او رنخرت ز ىٌ) وہ دونوں ٥رت‏ ین آپ نے ای ہیں ء 
بیعت رضوان مم بھی آپ کے ساتجھ تے اورشو ری ش۲ ل بھی آپ 
رق سر 

ترہایا: ان دولوں صاجوں ےئ بت تی سے انز 
نی ور حر نال ود جن درو یفن جشن 
نے معقرت ا ویک سے بیج کنیا ہآ بکوخلافقت سے مرو لکرنا 
اتا ق جم ان ہے لا تر کے او کول چرم 
عم تکمر کے1 پکویمحنزو لکر نا جا نات ہم اس سے بچھیا فا لکمر تے ۔ 
بی منداححاق بن راو کی روایت ے_ 


ای روایت پا ش میں کیم ے: 


۱۷۷۷۷۷ ۰.۴1٤۷۲ ٢۸۱۷۵۵۵ ۴۹.۷۸۰۱۲6۷ 


”امام بوصی ری فر مات ہیس وقبہ وا 
اور ای کو بج تکیاےاوراإودا ودنا ھ84 
تفر ررای تگیاے_' 
1 0-7 
یں نے پش ریف می ںپشھیہو ںکی پوندکا ریکی شکا بی تکر تے ہو تق ےککھا تھا: 


او 


آپ نے سنا ہوگا لہ حشیعہ ہب الام جک 

راص یک ؛ ہیس میس لی ومی اشہ ھی رسول ار وفلیزی 

اع کی ون کر کرتا ہے۔ بتا ہے ! جب اسلا مککا کیہ اور 

ق رآ ن بھی شمیعوں کے:: دکیک ال قتلیم نہ ہو تکس چیک یکس باتی 

رجا ی ے..؟ 

آ تاب ا کے بارے می سکیل ہیں : 

سب ےآ خر یں اس با تک ی تقر رضاح تکرڑوں 

کرعلاہۓ شیعہ کے نز یک اک رکوکی کافرمسلیان بنا جا ہے تو انی 

کے لجککمہ بڑ نا ضرورکی ےء جو بی ے: لا اللہ الا ار رسول 

لاوش :ان شا لاو یکین زوین مل لئ پا کر 

کاشف الفطا گ یکنا بکشف الفطا :باب الا چا و ص :۳۹۸ کا 

حوالہ نے کے بحدآ پ کھت ہیں ) آپ نے نو ہما راک الام جی 

هم سے ئن لیاء می تتقیقت بی ےک می وونکمہ سے جو الام لا نے 

کے لئ میڈ ہنا ضروری ہے 

اول:.. شا ضف رکا شف الفطا کی تص رع کے مطابن اسلام می داش ہہونے کے 
لئ صرفکلہہ یب لا لہ ال ٹرش رسول اللہ کا قرارکاٹی سے من نآ پ حقرات کے 
نز دیک شحیعہ رہب میں دائل ہونے کے لئ 2 علی دمی الدہ یھی رسول ارہ وخلیذیھ 
اص کی پونکارلازم ہے۔ چنا نآ پ رات نے پاکستان کے اسکولو ںکی نو بی 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲۹١۱۷۳۳۱۱٢٣ ۹.۷۸۷۱۸۲۹66 ۷ 


یم 77ر لور ار اکہتبعہ نہب اسلام 
سے ماوراگوگی وین ہے :جس میس دائل ہو نے کے لئ صر کہ اسلا مکاثیکییس بیز صلی 
ول ال بی رسول اہو خلیفی بنصھل کی وندکار لازم‌ے..؟ 

تصوب]اس مل ےکوی ل نظ رک ےک مرات !مامیہ کے نز دیک جن س طرع ”مج 
رسول او کے مٹکر یرکف رکا فقکی ہے؛ ای طرح ای وی ال کا مگ ربھ یکیافر ہے متلہہ 
مامت گے مل مین ای گت ےک ولف زا ار ےگ ل از چا 07 
نہب ,مسلمان ہہونے کے مل !سا مکوکا کھت و ”ولا بت أَئۂ' کےمکمروں رکف رکا 
نگ یکیوں ریا..؟ 

افو ! 7پ عفرا ت کا پاصرار وگ راڑعلی وی رکوس رکارئی طور برک ش ریف 
داش لکرانا اورا س یہی کے کےمکمروں رکف رکا فتوکی جا رگ یکنا ءکیا ال اکا صاف 
صاف اعلا نکی سک یآ پ تعقرا تکاک بھی مسلرافوں سے الگ ے..؟ 

دوم:...آپ حفرات مپی اضاٹی کرات ”لعل دی الل ...ا“ آذان می بھی 
لانیک ربہر تے یں ٠‏ عالائ آپ کے تی صمدوق اب ذٹمفرٹی نے "سن لا بؤےحضرہ 
الفقيہ“ میس اس !ضا ےکیھتون مفو کیم نگھزت بدعت تر ارد یاہےء چنا نچ آذان کے 
کات از وق لکرنے کے ب رد و اکھت ں: 

”وقال مصلف ھذا الکتاب: ھٰذا هو الأذان 

الصحیح لائیزاد فیه ولا ینقص منہ والمفوضۃة لعنھم الله 

قد وضعوا أخبارًا وزادوا فی الأذان محم' رآل محمد 

خیر البریة مرتین؛ وفی بعض روایاتھم بعد اشھد ان 

محمدًا رسول اللہ اشھد ان علیّٔا ولی الله مرتینء ومنھم 

من روی بدل ڈذلک اشھد أن علیًا امیر المژمنین حفًا 

مسرتین, ولا شک فی أن علیٔاولی اللہ وانے أمیر 


۱۷۷۷۷۷ 0610۲١٢۱۷۳۳۱٥٢۱۹ ۹ ۸۷۵۸۲۹۹6۴ ۷ 


البریة؛ ھ04 لیس 92 فی أصل تی رائما 
ذکرت ڈلک لیعرف بھذہ الزیادۃ المتھمون بالتفویض 
المدلسون أنفسع و حملسسا' 


و 


رومیت وف کراپ زوا ون کن می ان 
ےء اننس میں اض ینک نکیا جا ن ےگا دنس می لک کی جات ۓےکی۔اوز 
فرق مغوشہ نے..بان پراا کی لعنت ہو... چو رواعشی ںیگھٹکی ہیں ء 
اوراننبوں نے ا زان بیل'' ھھ ول تج رالہرں کے الفاظط دوم رہ 
بڑھاۓ ہیں ء اورا نکی ینف روایات میں اشہدا نٹ ھآرسول ال'ہٗ 
کے بعد" اشہدان علیا و بی اللہ (دوھرحتہ)) کے الفاظا ہیس ء اورج٢نحس‏ 
نے الن الفاطہ کے ہہیا ئے” اش ہد ان علیا اھ رالھ سن (دوھ رہہ ) 
کے الفاظا ردایت گئے ہٴں ۔ 

مر شیا یی ںی لی ول الد ہإںء اور ےگ وہ واٹی 
امرالم من ہیں ء اود کاو رآ یم تیر ال ریہ یں مان برالفاظا 
صلی نع یی یٹیب مین ےب انی لاک کیا تال ان 
زیادی کے ذرہیے دہ لوک بپھانے جانیں جن بر ٹویٹ کی 
رت ےا جواپ تقد ےو چک ”ای جات 081 


ھ) کر ان بی 


اہفئ روا پ‌ سے تی وق مرش زی دفر زت ‏ و ں کہ آڈان کے 


انور ہکات می ںکی می نکی جاۓ اور میک اشہدان علیا ولی ال“ ک ےرا تکا اضائہ 
بد بت اورطعون مفوض کی ابی اوک ردوبرعت و20 کھل؟ پان عمتولو لاٹ 4 
بھی تی کرت چک ں ای ےکانوں سے سا ہو ںیک ہآپ ثرات آڈان مل ہے 
ں:”شھد ان أمیر المژمنین وامام المتقینء علبّا ولی اللہ وصی 


ت بڑ تھا ج/ 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١ ۱۷۳۳٠٢٢١٣۹۰۸۷۱۸۲6 ۷ 


رسول اللہ وخلیفتہ بلا فصل“ اورفریب من اکا سینا ان ا ود 2 
کپ جا ءاوراس و یں بی عار تو در نے کے لے ا چ9 .0 و 
سے ۔جب تغ ضددل گت راے شا ادا نع علیا وی ال" ے الفاظ برعت او 
مصوجب نت تھے نو انصاف رما ےکہ ان لو گل الفاظ کے بڑھانے ے بے بدعت اور 
لعنت کت گناب کئی ہوگی ؟ کیا پکی جخاعت یی سکوگی دالئش مدان انییں جواس گور 
رے؟ ایس مِنگمَرَجْل ردِیْڈ.؟ 

...میں متلیہ امام تکی نف ین جیا نشی" او راز الاڈ سے 
ہوانے سے بتاچنکا ہو لک ولا یی کےمقیر ےکا اظہبارسب سے بی ےعبد اد جن سیا 
عون تن کیا ھا ء رس سے وا مغ ہوتا ےکآ تحضررت لی زرل ما پل موی ات من 
اورغلفاۓ داش ین کے بابرکت ز مانے میں ' لی دی ال کے الما ”ھی ا سبڑاع “میں 
شال بیس تھے ای طرح شیع ہآذان یش جوککمات و جرائے جاتے ہیں (اور جن نکوڑ 
7 وی ا جا ما سا ا 
ی لزان میں شال تھے اورنہتحخرمتہی رشی ارڈدعنہ کے ز مان مک خلافت راشدہ کے دور 
ء مجح صیدوق کےز ما ےتک جو شھاہو ںکی اذ ان می ںگھ یکیس ےا ب نود اتصاف 
فرما ےک کیہ اوراذ ان شی ان الف کا !ضا فک ناء وین کی کے علادہ ایک تن وی نکی 
تی فکیں و اورکیاے...؟ اس پر اگ یں شلکا یہ تکرتا ہو ںکمشیعہ ہرہب اسلام کے کے 
بھی راشی یں ہآ ناب انی ا صلا کر نے کے بجائے اما یھ برا ہو تے ہیں انا للھ 
ان اليْه رحعُوْنَا 

آ ناب ا یمن میں عز کے ہیں: 

”فی ہا ”کی دو الش نو یبای بات ےی سکوعا ے٠‏ 

شار ان ہیں کیوککہ بحقیدرہ ا ںآیت سے بوڈ ے: 

”انما ولیکم ال ورسول..... وھم راکعون“ جھ با نفانی 

مفسرین حضرت گ کی شان مج نازل ہوئی ۔مفتی مھ سن ن بھی 


۱۷۷۷۷۷۷ .065]0۲٢۱۷٢٥٢٥٢١٠٥۹۰۷۷۷۵۸۲۹6۴6 7۷7 


کس 
سہ یی 


ال مو اھ وس ۰ کا رو 


٣٤ پا٣‎ 


وپ بی عبارت چنددر چترمفالطوں ممشقلٰے: 
اول:... یک 'علی و ال کوائیسنت گی مات ہیں۔ یسل مفالط سے انس 
لل ۓےکرشھیعوں کے تھے اور اذ ارہ نع یش ئگ ولا لق کے ایک اع یی عراد ہیں ہش سک ی 
لئے یی رسول اللہ ضایف پان لٗ ) کےالفاظ کی جا ی ہیں۔ا نا کو معلوم ےی 
ال ست 2 لی ول اللہ ایس جاست ‏ و1 
برعت راد دی ہیں اود ال خنقیر ےکو برح اسلا مکی سمازش یھت ہیں اس کے پاوچود 
آ نا ب کا بیغر ما اک لی دولی اد کے سای مہو مکو ال سن بھی ما تن ہیں رگ مغ لطہ 
میس تو او رکیاے؟ اوراگرڑعی ولی ال سے ربعراد ےک تفر تا تھی کےجوب اور 
پیارے ہیں جب بھی ایل سنت کے نوف نظ ر سے نرہ غفلط ے؛کیونکہ امت م یہ( علی 
صاجمہا الف الف لو ةونسلعبات ) می سکروڑوں افراؤ ”اولیاء ہہس ءاس میں ححضر تی 
کیک ریس۴ اورک وآ ان می ان الفاظطا کے سگنے کےےکیا مع ؟ جا ب نلم ےکرائل 
سنت کے نز دی کأامت کے اولیاء قد ٹلپ ے انل صی .کرام ہیں او رجا ےرام 
یس جار بزرکوارعكی التب اأفل مت ہیں :صطرت اپوبگر :خظر کر رت مان اور 
تر تی ری لڈم ۔لہنذرا مت کے اولیاء ایس ححضر تک یکرنم ارشدو جہہ چو جےفہ رپ 
ہیں, یں علی ولی لٹ کافقرہ اس مف ہو می بھی عقیدٗ ال سنت کےخلاف ے۔ مج 
معلوم ‏ ےکآ تاب ان بانقول سے بے ٹیس ران بے بے حوتتجب ہ ےکآ خجناب جیما 
او رد دارآ دئیپھی مقالطد ں سےکام چلانے پرمجبورے_ 
دو :... یک ہآ تنا بکائول' یکقیردآیتٹ ریہ ”انما ولیکم اللہ ورسوله 
.. وم راکعصون“ سے وذ ےہا یت خلط ےا سآیت سےکوگی حا لشھڑو ںکا 
عقرب ”ولا ینعی “ کی کال سکتاء نہآیت کے الفاظط سے بیخقید ہوکش کیا جاسکتاے اور 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۹١ ۱۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


نرسیاقی وسباقی بی ا کی تا نکر تے یں نآ اب ان لکومی نے ما مخ اى ظ رح 
کرد ہے ہی ںکگومامیرے نز دیک ایک تمسکمہ یز ہے یس می اختاف را ےکی 
بھیکنائشی نرہو فا ہے !ایک نا لص واھی چیرکو :جن سککاواینٹس الام می سکوکی وجوددی نہ 
ہوہ ایک سکم چچزکی سیت سے یی لک نا نرامفا لی لاو رکیاے..؟ 

ا بکا بارش دکہ :”بآ یت ہا نا قی مض رین تقر ت٦‏ کی شان ٹیش 
نال ہو درو بٹیفر و سے حافظ ان تی ” مضرہاع لت ' نٹ سککھت ہیں: 

''قولہ: قد اجمعوا آنھا نزلت فی علیٗ من اعظم 
الدعاری الکاذبةء بل أجمع أھل العلم بالنقل علی أنھا 
لمتنزل فی علیٌ بخصوصۂ ران علیّا لم یتصدق 
بخائمہ فی الصلوةء وأجمع أھل العلم بالحدیث علی 
ان القصة المرویة فی ذلک من الکذب الموضوع.“ 

(باال خ٣‏ 7ضص٣)‏ 

یس ات یکا و ات ا نین 
رت مکی شان مس ناززلی ہوک سب سے ڑا مچھوٹ ہے اس 
کے یکس ایل لم لتق ل کا اس پیر ہماع ہ ےک یآ یت لو رماع 
ضر تک ےی یٹ نانز لکیں ہوثیء اور ےک حعطرت نے نماز 
0 حعاات بیس انی صد ق نی سکی ء اود ال علم بالید بی ٹکا اما 
ےک ال مل یش ہویش لکیا جا جا ہے ود نکھشی تکھوٹ سے 
عافڈشس الد بن ای ”اللددتقی “ می ںککت پں: 

”والجواب أن قولک اأجمعوا انھا نزلت فی 
علیٔ من اأعظم الدعاوی الکاذبةء بل أجمعوا علی أٹھا 
لم تنزل فی عليٍ بخصوصہ وأن الخبر کاذبء وفی 
تفسیر الشعلبی من الموضوعات ما لا یخفیء وکان 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲٢۱۷۳۳٠۱۱٢١٣۹.۷۸۷۵۸۲۹6 ۷ 


٠ /20‏ وکذا 711011 “ (المتقی ص:۹٥)‏ 
ترججمہ:...”۷جواب ہہ ےگ ارامہ دوگ یک مع رین کا 
انھائی ے؟ لہا آی ضف وگ شاچ از جول سے 
بڑا ھوٹ انی ےناگ 7ں ول مس 
خائص ۰فرتتکی کے ایس نازل ہبوکی جو روا یتم ناخ لکی 
وٹ سے اورخی تی یس ای ےگھوے افسمانے مم جود ہیں 
جو الم پٹ ینیںء اور ٹن جاطب لیل تفاء ای رح ان کا 

ش زورت ا _“' 
حافظا امن راس ای 9 تی ےکوطبرا ی اور ابع عس اکر گی جا نے .9 


”وھٰذا لا یبصح بوجےه من الوجوہ لضعف 
أسانیدہءولمینزل فی علیٗ شیء من القرآن 
بخصوصتہ۔' (اپرایواتھاے ت:ے ۷۴٠:ءے۳۵)‏ 

و کک 31ا انی کن ےش یکین :یگ 
ا کی ق ام اسان دکنزور ہیںء اور تحضر تک کےج میں تصوصییت 
ےق رآ نک یکو یآ یت نازلکیں ہولی۔' 
اما مالہنرشا ود ال رمحرث د ہلوگ از از لٹا“ یس لکیھتے ہژں: 

7 سب نزول وماصد ق1 یت صد لق اگہراست .0,۰ 
چنا شیع لان برونر وق یٹ وضو رواہی تگنٹز '' 

(ازالۃ اغا رج:ا ص٣)‏ 

ترچھہ:. ا سآ یی ت کا سب نزول ومصدائی نحخرتص رگ 
اکیڑہیں ۱ے اق ا شی فا نکی تعن اون ای متا کت 
ا ا اس 


۱۷۷۷۷۷۷ 50610۲١۷۳۳٠۱٢١٣ ۹.۸۷۱۸۲6 ۷ 


مار ...1 ناب نے دیوٹ یکیا کہ : ھی مع ن بھی انی فی یں ای 
کو اخا رکیا ہے ' عالالکہ بی دگوکی صرح مخالط ےہ جن سک یاخفحیل ىہ ےک حضرتمفحی 


صا ضب نے اس دوای تکو‌ لک۷ر نے کے بد رف مایے: 


”اس روا کی سند میس عل و ومحھ می نیک ام سے ئن 
روایت کہ ٹراردیا جا و ا کا حاصل یہ ہہوگا تک مسلما و نکی 
گہرکی دذتی کے لال نماز و کو کے پابند ھا مان ہیں۔ اوران 
میں تصوصییت کے سا تح مضرتت کل یکرشم اڈد دالس دی کے ز یادہ 
تعن ہیں ۔ی اکہ ایک ڈوسرکی جن حد یٹ می رو کر بی لی الد 
علی وع مکاارشادے ”سن کنت مولاہ فعلیٰ مولاہ“ (رواوات ازمتشریی) 
جنی لیس ہن س کا دوست ہوں :مگ بھی اس کے دوست ہیں 

ایک ادرحد یٹ می رسول يکمرم صلی ان علیہ وم کا ارشاد 
ے:”'اللھم وال من والاہ وعاد من غاداہ“ شی یااللدا آپ 
2 ای ا نی کوبت رکتا گی نشی رے: اور من تار 
زس فو سک یکر نی دی ۓ ٠‏ 

حضرتک یکرقم ارشد وچ ۔کواس نما شرف کےس ات خ الما 
اس لے نوا زایا ےک رسو لکرب صلی اللہ علیہ وعھم بآ دہ یی 
آنے والا فی شف ہو گیا تھا ؛کہ پچ لوک حطر ک٢‏ یکم الد وچ 
ے عراوت زی رن کے اور الع کی 3س2 بذاوت 
آغ ض ”ہجو +ارح ک ضا ظورفزاز 

بہرعا لیت مرکور ہکانز ول خواداسی وا تے کے شحلق ہوا 
ہوہگگرأُلفاظطآیت کے ام ہیں ء جوقماع مھا کر ا او رسب مسلرانوں 
کوشائل ہیں :ٹزو عم /ٗسی فر دک ینوی تکس ء ابی لج جب 
تھی نے حضرت دمام بات سے لو پچھاکہ اس آیت میس الین 


۱۷۷۷۷۷۷ .ٌا06]ا0۲١۱۷۳٣٥٥>۹.۷۸۷۱۲۱6‎ (7 


آ موا ےکا حر تل یکر ادوچ ماد ڈآ7777۳م] 
کہ: ددجھی م مجن میں دائل ہو ن ےکی حیثیت سے ال ںآ یت کے 
مصرائ ہیں۔' 

اس قباس سے وا مع ےک ال قو مفتی صاح ناس ق لی ہیی سکرتے ۔ 

مایا :... پش سلی مآ بی کو عام ائل ایھان کے بارے مھ ںقراد دی ہیں اور 
مضرتگلی ریی ادنرع کی پک تحصوصیرت گے خوارن ان ےعرادث وی کھت 
ہیںء بلکہا نیکیفی رک کےاپنا نیل سیا کر تے ہیں ءاس لئے ابل ایا نکوان کے متا لے 
مس حضری تل سے افش دوقی رھنی ہے یں ' وی کے “مفیحہوب اوردوست کے 
ہیں :کہ مگ شی ”مت کی ام رخلافت کے 

ار عقل ب رق خآرج یں 1ی کا عم تمام صا کو اور سب 
مسلانو ںکوشائل ہے مسی فردکی تصوی تئیں _ 

زازر فی ملق اد ام ار ۓ اش کے خ سک سآ یت رنہ 
تھا ائل ایمان کے بارے میں سے نر تم یاچھی یزیت ومن ہہونے کے ا ںآ یت 
مس شامل ہیں ءبطو رخائص ان ک ےق می نان میس ہوک ۔ 

کیا اان نر جات کے بحدبھی ب کی ےک یکٹوائش دو چالی ےک حضرت مفقی 
صا ںیھ یٹھییہوں کےک یع دی اف“ کی تا دکررے ہیں..؟ 
سُبْحانک الْهُمْ وَبحَعْدِک اَشْهَة ان لا ال لا انَ 

اَسْتَغْفِرُک وَاتوْبُ اِلَیْک 
سُبْحِنَ رَيَک رَبَ العزَّة عَمًا يَصِفَوْنَ وَمَلمْ عَلَى 
الْرْسَلِيْنَ وَالْحمْه للِرَبَ الْعلَمِیْنَ 


(محارف الہ آن رؾق:٣‏ ۴۷ص:۹ء١)‏ 


۱۷۷۷۷۷۷ .50610۲١۱۷۳۳٠۱٢١م۹.۷۸۷۱۸۲۹6‎ ۷